جنگ کیا ہوتی ہے؟ — عطا محمد تبسم

0

ہائی اسکول میں ہمارا پہلا ہی سال تھا کہ 1965 کی جنگ چھڑ گئی۔ جنگ کیا ہوتی ہے؟ اس وقت تک پتہ نہ تھا۔ اس دن گھر میں ٹرانسسٹر کے گر د سب گھیرا ڈال کر بیٹھے تھے۔ ایوب خان کی سخت اور ٹہری ٹہری بھاری آواز میں پاکستان پر بھارت کے حملے کی تقریر سننے کے بعد، عوام میں زبردست جوش و جذبہ بھر گیا۔ اسکول میں بھی ہر طرف ایک نیا پن تھا۔ پی ٹی کے استاد اور جونیئر کیڈٹ جے سی سی کے نویں دسویں کے لڑکے فوجی وردیوں میں تھے۔ گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد کے ایک جانب پریس کلب، دوسری جانب ریڈیو پاکستان کی نئی عمارت، اور تیسری جانب کمشنر ہاؤس ہے۔ کینٹ کے قریب اس علاقے کی اہمیت بہت تھی۔ جنگ میں ہوئی حملے سے بچنے کے لیے بچوں کو مشق کرائی گئی۔ پہلے میدان میں خندق کھودی گئی، پھر پٹ سن کی بوریوں میں ریت بھر کر خندق کے اردگر لگائی گئی۔ خطرہ کا سائرن ہمارے اسکول پر لگا ہوا تھا، اس بجتے ہی ہم تمام بچے قطاروں میں دوڑتے ہوئے، ان خندقوں میں اکڑوں بیٹھ جاتے اور کاپی پر لکھائی مٹانے والے ربڑ اپنے دانتوں میں بھینچ لیتے۔ کانوں میں انگلیاں دے لیتے۔ ان دنوں اسکول میں ایک بند اور دودھ بھی دیا جاتا تھا۔ خشک دودھ پانی میں کھول کر ایک ٹنکی رکھ دی جاتی اور باری باری گلاس سے طلبہ دودھ پی لیتے۔ اس علاقے کے حساس ہونے کی وجہ سے یہاں جنگ کے ذکر کچھ زیادہ ہی تھا، رات کو بلیک آوٹ ہوتا تو لوگ گھروں سے باہر نکل آتے، ہر جانب روشنی پر کڑی نگرانی ہوتی۔ گاڑیوں کی بتیاں آدھے کالے رنگ سے رنگی ہوتی۔ کہیں غلطی سے کوئی روشنی نظر آجاتی تو محلہ جمع ہوجاتا، کسی جاسوس کے ہونے یا نہ ہونے پر بحث ہوتی۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے نغمے، اور پروگرام لوگ رات کی تاریکی میں سنتے، رشید انور کا نغمہ ان دنوں بہت مقبول تھا۔

اج ہندیاں جنگ دی گل چھیڑیں
اکھ ہوئی حیران حیرانیاں دی
مہاراج اے کھیڈ تلوار دی اے
جنگ کھیڈ نئیں ہوندی زنانیاں دی
اسیں سندھی بنگالی بلوچ پٹھے
اسیں پت پنجاب دے پانیاں دے
اسین نسل محمودؒ دے غازیاں دے
دودھ پیتے نیں ماواں پٹھانیاں دے
سانوں چھیڑ کے ہن دے نسدے او
سٹ سہوتے پاکستانیاں دے
مہاراج اے کھیڈ تلوار دی اے، خطہ لاہور تیرے جانثاروں کو سلام، جیسے نغمے زبان زر عام تھے۔

بابو جی(والد محترم)نے 1965 کی جنگ میں اسلام کوٹ اور تھرپار کر میں محاذ جنگ پر خدمات انجام دیں۔ 1965 کی جنگ شروع ہونے کے اگلے دن ایک شام سندھ رینجرز کے کیپٹن ظہیرالدین کے گھر پر میں صحن میں کھڑا تھا۔ انھوں نے مجھے کہا، ، عطا محمد تمارا ابا محاذ پر جارہا ہیں، اب گھر کی ذمہ داری تمھاری ہے، جنگ میں شہادت بھی ہوتی ہے، اس لیے اپنے ابا کو گلے مل کر اچھی طرح رخصت کرو، ، میری عمر اس وقت گیارہ سال تھی۔ بابوجی مہینوں اسلام کوٹ، نگرپارکر، میں سندھ رینجرز اور حر مجاہدین کے ہمراہ محاذ پر رہے۔ شام سے ہی بلیک آوٹ ہوجاتا۔ گاڑیوں کی بتیوں پر آدھی لائٹ پر سیاہی پھیر دی گئی تھی۔ مدہم روشنیاں، یوں بھی ان دنوں شہر میں بجلی سب گھروں میں نہ تھی، اکثر گھروں میں لاٹین اور چراغ جلاکرتے تھے۔ بابو جی نے جب آکر میدان جنگ کے قصے سنائے، لاشوں، اور انسانی اعضاء کے کٹے پھٹے ٹکڑوں اور ان کے جمع شدہ ہتھیاروں کا ذکر کیا تو میں نے کہا کہ آپ ایک پستول لے آتے۔ انھوں نے کہا میدان جنگ میں ملنے والی ساری چیزیں امانت ہوتی ہیں اور وہ سب سرکاری خزانے میں جمع کردی جاتی ہیں۔ بابو جی نے ساری عمر ملیشیاء کے کپڑے پہننے، سائیکل پر سفر کیا، سپید کپڑے کا جوڑا عید بقر عید کے لیے تھا، اور اس پر دادا کی ایک کالی شیروانی جسے ساری عمر انھوں نے سیند سیند کر رکھا، بس عید کی نماز کے لیے ہی پہنتے تھے۔ تمغہ حرب انھیں ان جنگی خدمات پر تمغہ حرب ملا تھا۔ جو ان کی ایک نشانی کے طور پر محفوظ ہے۔

مجھے کہانی پڑھنے کا شوق تھا۔ محلہ کی لائیبریری سے تعلیم و تربیت یا بچوں کی دنیا لے کر پڑھ لیتا تھا۔ اسکول میں ایک دوست نے بتایا کہ ایک جگہ کہانی کی کتاب مفت پڑھنے کے لیے ملتی ہیں۔ شام کو وہ مجھے صرافہ بازار کی تنگ گلیوں سے گزارتا ایک دکان پر لے گیا۔ یہ ایک چھوٹی سے دکان تھی، جس میں ایک ادھیڑ عمر کے داڑھی والے بزرگ بیٹھے سونے کو اجالنے کا کام کررہے تھے۔ انھوں نے محبت سے ہمارا نام پوچھا اور ایک کاپی اٹھا کر اس میں نام لکھ لیا، اور ہمیں ہاتھیوں والے، غار والے، دو کتابیں تھما دی۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتاب پڑھ کر واپس لاؤگے تو دوسری کتاب مل جائے گی۔ یوں ہم ان سے رسالہ نور اور اسلامی کہانیوں کی کتابوں سے متعارف ہوگئے۔ ان کتابوں نے میری ذہن سازی میں یہ کارنامہ انجام دیا کہ میں اسلامی جمعیت طلبہ سے متعارف ہوگیا۔ گو اس زمانے میں جمعیت کے پاس چھوٹی کلاسوں کے بچوں کے لیے کوئی پروگرام نہ تھا۔ جمعیت کا ایک چھوٹا سا دفتر اسٹیشن روڈ کے نزدیک محمود جراح کی دکان سے آگے ایک گلی میں تھا۔ جس میں ایک الماری اور ایک میز کرسی رکھی ہوتی تھی۔ بعد میں یہ دفتر گول بلڈنگ میں منتقل ہوگیا۔ 23 گول بلڈنگ اب بھی اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد کا مرکزی دفتر ہے۔ جو آنے والے دنوں میں میرا مستقل ٹھکا نہ بن گیا۔

جنگ کے دنوں میں خوراک کی بھی قلت ہوئی، اور راشننگ کا نظام شروع ہوگیا، ہر گھر کے بالغ افراد اور بچوں کے نام ایک راشن کارڈ پر لکھ کر جاری کردیا گیا۔ ہر محلے میں راشن شاپ تھی، جہاں راشن کارڈ دکھا کر چینی چاول اور آٹا ملتا تھا، اس راشن کے نظام میں بھی بدعنوانیاں ہوئیں، اور بہت سے لوگ اس سے فیض پانے لگے۔ رینجرز کے سپاہیوں کو راشن کی جگہ تنخواہ میں ایک الاونس دیا جاتا تھا۔ جانے کیا ہوا، یہ الاونس بند ہوگیا اور ہر سپاہی کو راشن دیا جانے لگا۔ ہر روز کبھی انڈے، کبھی سبزی، اور کبھی گوشت، آتا لیکن اس کی مقدار بہت کم ہوتی۔ گوشت کی چند بوٹیاں ہوتی، اور چار چھ انڈے ہوتے۔

جنگ کے دنوں میں امدادی کیمپ بھی کھل گئے، لوگ گھروں سے اپنے کپڑے، بستر، خوراک کے پیکٹ بناکر بناکر امدادی کیمپوں میں پہنچاتے، بچے اپنی جمع شدہ رقوم کا چندہ دیتے، لوگوں میں اپنے ملک سے محبت اور جنگ میں سپاہیوں اور فوج سے والہانہ لگاؤ کا ایسا مظاہرہ چشم فلک نے دوبارہ نہیں دیکھا۔ ریڈیو پر جنگی نغمے، اور فوجی بھائیوں کے لیے پروگرام بھی بہت دلچسپی سے سنے جاتے، محلوں میں پان کی دکانیں اور ہوٹل ہوتے تھے، جہاں ہر وقت ریڈیو اونچی آواز سے بج رہے ہوتے تھے، ان پر جب، ، اے وطن کے سجیلے جوانوں کا نغمہ گونجتا تو دل جوش سے بھر جاتے۔ اخبارات میں جنگ کے خبریں تفصیل سے آتی۔ جسے ہوٹل پر بیٹھے لوگ بلند آواز سے پڑھتے اور اس پر تبصرے ہوتے۔ اس زمانے میں ہر ہوٹل، اور نائی کے دکان پر ایک اخبار ضرور آتا تھا، جسے دن بھر لوگ پڑھتے رہتے، اور اس انتظار میں رہتے کہ اخبار کب فارغ ہو، تو وہ اسے پڑھیں، میں بھی شام کو محلے کے ہوٹل کے کسی کونے میں جا بیٹھتا اور جوں ہی اخبار مجھے ملتا، میں اس میں سب سے پہلے ٹارزن کی کہانی پڑھتا۔ اور پھر دوچار خبروں کی سرخیاں دیکھ لیتا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

اس سلسلہ “شب و روز مرے” کی پچھلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

اگلی قسط اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply