“خَلط مَلط ” زندگی کی کہانی — از ڈاکٹر کامران شہزاد

0

قاسم یعقوب عصر حاضر کے با صلاحیت نقاد، شاعر اور کتابی سلسلہ ” نقاط ” کے مدیر کی حیثیت سے مستحکم شناخت رکھتے ہیں۔ لیکن اس بار انھوں نے فکشن میں اپنے تخلیقی جوہر دکھانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ “خَلط مَلط ” ان کا پہلا ناول ہے۔ 256 صفحات پر مشتعمل ناول کو تین عنوانات، صبح، دوپہر اور شام میں منقسم کیا ہے۔ ناول کا سرورق اور عنوان ہی قاری کے باطن میں ایک ایسا تجسس پیدا کر دیتا ہے کہ قاری جس کی کھوج میں ناول کے بیانیے کے ساتھ بہتا ہوا موجودہ دور کی انسانی زندگی کی بظاہر نہ نظر آنے والی الجھنوں کو کریدتا ہوا آخری صفحہ پر پنچ کر ہی دم لیتا ہے۔ ناول نگار نے بیانیہ کی تخلیقی جہات کو موضوع کی سطح پر اتنی وسعت دی کہ مطالعہ کے دوران کہیں قاری بوجھل نہیں ہوتا ہے۔ ناول میں موجودہ بنکاری اور مالیاتی نظام، روایتی عشق کی داستان، دو خاندانوں کے درمیان مسلکی اختلافات، سماجی اور خانگی زندگی میں مُلا کا کردار، کچی عمر میں جنسی لذت سے کشید ہونے والے کئی کرداروں کی سفاکی اور ایک فرد کے راہ فرار اور نفسیاتی کیفیت کو بڑی فنکاری سے بیانیے کے قالب میں ڈھالا ہے ناول کے مطالعہ سے قاری کو اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اردگرد گلی محلوں میں کیسے کیسے سفاک کردار موجود ہیں، جو ہماری نظروں کے سامنے عیاں ہونے کے باوجود اوجھل ہوتےہیں۔

ناول کے پہلے حصے میں کہانی رئیس، اس کے بھائی وقاص اور بھابی نورین کے گرد گھومتی ہے، جس میں شادی سے قبل وقاص اور نورین کی عشق کی داستان اور شادی کے بعد مسلکی اختلاف کے سبب میاں بیوی کے رشتے میں خلا کو بڑی چکبدستی سے بیانیہ خلق کیا ہے، جیسے ہی قاری دوسرے حصے میں پہنچتا ہے تو چند نئے کرداروں، راجہ، قادر اور خالدہ سے متعارف ہوتا ہے۔ یہاں میں بیانیے میں بوجھل پن محسوس ہوا لیکن کہانی میں دلچسپی کے سبب بیانیے کے ساتھ بہتا چلا جاتا ہے یکدم متن کے ایسے مقام پر سانسیں اکھٹرتی محسوس کرتا ہو ں جب خالدہ کے کلینک، جہاں شادی شدہ عورتوں کے ڈی این سی کے کیس کے ذریعے ان کے گھر بچانے کے جتن کیے جاتے ہیں۔ وہاں وقاص کی بیوی نورین اپنا ٹیسٹ کروانے کے لیے آتی ہے لیکن خالدہ کی عدم موجودگی میں راجہ کی جنسی ہوس کا نشانہ بنتی ہے۔ یہاں قاری جہاں جنسی سفاکی بھنیٹ چڑھنے والی نورین سے ہمدردی محسوس کرتا ہے وہاں ہی بطور انسان ندام ہوتا ہوں کہ کس ہوس پرست معاشرے میں زیست گزار رہے ہیں۔ یہاں ناول نگار کا متن میں بنیادی کہانی سے انسلاک کرنا اور فنی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے۔

ناول نگار نے رئیس کے کردار کی تشکیل اتنی عمدگی سے کی ہے۔ اس کردار کے ذریعے موجودہ ترقی یا فتہ عہد میں عالمی مالیاتی نظام کی تباہی اور اس کے اثرات پر بھی قلم فرسائی کی ہے اور ایک عام قاری سامنے سادہ بیانیے میں بینکنگ کی سفاک پالیسویں کی قلعی بھی کھولی ہے کیسے آج کا انسان سرمایہ دار بھی ہے اور صارف بھی بن چکا ہے۔

میرے نزدیک اس ناول کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آج جدید تکنیک اور جدیدیت کے دور میں سادہ بیانیے میں انسانی زندگی کے مسائل کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کامیاب کوشش ہے۔ ناول میں کرداروں کا تعارف کے ساتھ ان کی تشکیل اتنی عمدگی سے کی ہے کہ کوئی کردار اضافی معلوم نہیں ہوتا۔ ناول کا اسلوب رواں اور سادہ ہے لیکن کہیں کہیں جنسی پہلوؤں کو تشہباتی و استعاراتی جملوں میں یوں پرودیا ہے کہ جس سے بیانیے کو سمجھنے میں ناصرف آسانی ہوتی ہے بلکہ وہ لفظوں کی کرواٹ کو محسوس کرنے سے بھی بچ جاتا ہے۔ ناول کا اختتام سے ایک سبق بھی ملتا ہے کہ میاں بیوی میں چاہیے جتنا بھی خلا ہو اس کو اولاد آکر یوں پر کرتی ہے کہ یوں لگتا ہے کہ زندگی کا آغاز ہی یہاں سے ہوا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply