مغرب کا دائمی غلبہ اور حضرت انور شاہ کشمیری ؒ: جاوید غامدی اور عمار ناصر کا موقف — کاشف شیروانی

2

جاوید غامدی وقتاً فوقتاً جو بلا تحقیق دعوے کرتے رہتے ہیں، ان میں ایک یہ ہے کہ دینی تعلیمات کی رُو سے اب اہل مغرب کا غلبہ تاقیامت قائم رہے گا، لہذا مسلمانوں کا غلبۂ دین کی جدوجہد کرنا عبث ہے اور اس کوشش کی کوئی دینی بنیاد نہیں(۱)۔ عمار خان ناصر صاحب نے جاوید غامدی کے موقف کے حق میں اپنا ایک مضمون پیش کیا ہے (۲)۔  اس بحث کا پس منظر یہ ہے کہ جب جاوید غامدی نے یہ اجتہاد پیش کیا، اور خورشید ندیم نے اس پر ایک کالم لکھا (۳)، تو ڈاکٹر غلام شبیر نے دونوں حضرات کے خیالات پر گرفت کی۔ ڈاکٹر غلام شبیر اپنی نظریاتی ساخت میں علانیہ ڈاکٹر فضل الرحمن مرحوم کے افکار سے مطابقت رکھتے ہیں (۴)۔ اس پر عمار خان ناصر نے، جنہوں نے دیوبند کو چھوڑ کر المورد میں پڑاؤ ڈالا ہے، اپنا ایک پرانا مضمون دوبارہ پیش کر کے غامدی صاحب کے حق میں آواز بلند کی۔ یعنی ایک متجدد کی تائید میں دوسرے متجدد صحافی نے کالم لکھا، اُس کالم پر تیسرے نے تنقید کی، اور چوتھے نے پہلے متجدد کے حق میں مضمون لکھا۔ یہ متجددین کا داخلی تنازعہ ہے۔ متجددین پہلے بھی باہم لڑتے رہے ہیں: مرزا غلام احمد قادیانی پر مولوی عبداللہ چکڑالوی کی تنقید، یا غلام احمدپرویز پر ڈاکٹر فضل الرحمن کی تنقید۔ متجددین کی اس خانہ جنگی سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔ ہمارے پیش نظر چند دینی اور علمی سوالات ہیں:

کیا محدث العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کا موقف بعینہ وہی تھا جو جاوید غامدی کا ہے؟
کیا دینی نصوص سے ثابت ہوتا ہے کہ نزولِ مسیح بن مریم علیہما السلام کے بعد مسلمانوں کا غلبہ فقط شام اور اس کے نواح ہی میں قائم ہو گا، عالَمی نہیں
ہوگا؟
کیا عمارخان ناصر کا یہ اجتہاد درست ہے کہ “سفید فام مغربی اقوام” کا تا قیامت عالمی غلبہ مُقدّر ہے؟
کیا جاوید غامدی اور عمارخان ناصر کا نزول مسیح علیہ السلام پر ایک ہی موقف ہے؟
قرب قیامت میں جن فتن اور آزمائشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے وہ اِخبار ہیں یا انشاء؟

عمارخان ناصر کے مطابق مولانا کشمیری ؒ کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے غلبے کا دور گزر چکا ہے، اور قرب قیامت کے موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول تو ہو گا لیکن ان کا سیاسی اقتدار شام اور اس سے ملحقہ علاقوں تک ہی محدود ہو گا، اور اُن کے خیال میں اس اعتبار سے حضرت کشمیری ؒ کی تحقیق جاوید غامدی صاحب کے موقف کی پیش بینی کرتی ہے۔

عمار خان ناصر کی اس تحریر کی علمی کمزوری واضح ہے، ہم چند پہلؤوں کی نشان دہی کیے دیتے ہیں:

فیض الباری کا درجۂ استناد

عمار خان ناصر لکھتے ہیں کہ جاوید غامدی کے موقف کا “اصل ماخذ” حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی تشریحات ہیں۔ اور اس ضمن میں مولانا کشمیری ؒکے موقف کو “فیض الباری شرح صحیح بخاری” سے نقل کیا گیا ہے۔ یہ عمار خان ناصر کا تساہل ہے۔ یہ کتاب مولانا کشمیریؒ کی باقاعدہ تصنیف نہیں ہے، بلکہ اُن کے ایک شاگرد مولانا بدر عالم میرٹھیؒ کی تالیف ہے، جس میں انہوں نے مولانا کشمیری ؒؒ کے درسی افادات جمع کر دیے ہیں۔ یہ تالیف مولانا کشمیری ؒ کی نظرثانی کے بغیر شائع ہوئی۔ فاضل مولفؒ اورمولانا یوسف بنوریؒ، جنہوں نے کتاب کی طباعت کا اہتمام کیا اور اس کا مقدمہ لکھا، کتاب میں سہو و خطا اور اغلاط کی موجودگی کو تسلیم کرتےہیں، بلکہ مولانا بنوریؒ لکھتے ہیں کہ مولف مولانا میرٹھیؒ کو اس کا دعویٰ نہ تھا کہ یہ تالیف اغلاط سے محفوظ ہے، نہ یہ کہ انہوں نے ضبط میں کوئی غلطی نہیں کی، نہ یہ دعوی ہے کہ حضرت کشمیریؒ کی بات کا فہم ہر جگہ درست ہے۔ (فیض الباری، جلد۱، ص: ۲۵-۲۶)۔

 سب سے قاطع دلیل یہ ہے کہ خود مولف مولانا میرٹھیؒ کو اس کمزوری کا اعتراف ہے۔ کہتے ہیں کہ اگر اس میں اختلاف و تضاد نظر آئے تو وہ شیخ کشمیریؒ کی طرف نہ منسوب کا جائے کیونکہ وہ اِس سے بری ہیں (انہ بریء کما بری الذئب من دم ابن یعقوبؑ۔ اعتراف کرتے ہیں کہ اس میں خطائے عقل و قلم دونوں ہی۔ فرماتے ہیں: “بعض مواقع پر سقمِ مسودہ کی وجہ سے میرا (یعنی خود بدر عالم میرٹھی کا) کلام شیخ العصر حضرت کشمیریؒ کے کلام سے خلط ملط ہو گیا ہے”۔ قد دخل کلامی فی کلام الشیخ فی بعض المواضع و ذلک لسقم المسودہ (دیکھیے فیض الباری، جلد:ٍ۱، ص: ۶۷-۶۸)۔

محمد منظور نعمانی بھی اس کتاب کے مندرجات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک مقالے میں تفصیل سے واضح کیا ہے کہ اس کتاب میں جہاں مولانا میرٹھیؒ “فائدہ” کا عنوان باندھتے ہیں وہاں ضروری نہیں کہ وہ مولانا کشمیریؒ ہی کی تقریر نقل کر رہے ہوں، بلکہ عین ممکن ہے کہ وہ اپنے استاذ کی آزاد ترجمانی کر رہے ہوں، یا اُستاد کے درس سے کشید کردہ اپنی تعبیر یا “افادہ” پیش کر رہے ہوں۔ منظور نعمانی کی اس تحقیق کا موقع یہ ہے کہ “فیض الباری” میں نجدی داعی محمد بن عبدالوہاب اور تحریک مجاہدین کے شاہ اسمٰعیل کے بارے میں چند سخت جملے حضرت انور شاہ کشمیریؒ کی جانب منسوب کیے گئے ہیں، جو “فائدہ” کے زیر عنوان لکھے گئے ہیں۔  منظور نعمانی کے خیال میں یہ الفاظ حضرت شاہؒ صاحب کے نہیں ہو سکتے، اور انہوں نے اس ضمن میں “فیض الباری” کے مندرجات کو علی الاطلاق قبول کرنے پر تنقید کی ہے(۵)۔  علمی اعتبار سے سخت مضحکہ خیز رویہ ہو گا کہ جب”فیض الباری” میں محمد بن عبد الوہاب اور شاہ اسمٰعیل کے بارے میں سخت جملے آجائیں، تو وہ پایۂ استناد سے گِر جائے، لیکن جب اُس سے کسی مبتدع فرقے کی رائے کے حق میں بعید سے بعید ترین اشارہ بھی مل جائے تو “فیض الباری” یکایک مستند و مُقدّس قرار پائے!

مولانا انور شاہ کشمیریؒ کے مایہ ناز تلمیذ مولانا احمد رضا بجنوریؒ لکھتے ہیں کہ “فیض الباری” میں “ضبط املاء” اور “مراجعت کتب” میں احتیاط نہیں کی گئی اور ایسی غلطیاں “بکثرت” ہیں (انوار الباری، جلد ۱۴، ص:۹۴)۔ پھر “فیض الباری” میں ایسے مقامات بھی ہیں کہ جہاں حضرت شاہؒ صاحب کی بات بالکل “اُلٹی” منسوب ہو گئی ہے (انوار الباری، جلد ۱۹، ص: ۳۴۸)۔ ایسی ہی ایک مثال کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا بجنوریؒ فرماتے ہیں:

“مولفؒ سے ضبط میں چُوک ہوئی، اور پھر مراجعتِ اصول بھی نہ کی۔ نہ دوسرے ایڈیشن کے حواشی میں تنبہ ہوا۔ ۔ ۔ حضرت مولاناسید محمد بدر عالم صاحب نے پہلے ایڈیشن (مطبوعہ مصر) کے بعد بہت سالوں تک مراجعت اصول اور تصحیح کی بھی سعی فرمائی تھی، مگر جیسی کوشش ہونی چاہیے تھی، وہ اپنے دوسرے مشاغل، پریشانیوں اورخرابی صحت کی وجہ سےبھی نہ کر سکے تھے” (انوار الباری، جلد ۱۹، ۳۴۸ تا ۳۴۹ )۔

 ان دلائل سے واضح ہوجاتا ہے کہ “فیض الباری” کو کسی معاملے میں بطور تائید یا بطور تصدیقِ مزید پیش کرنا تو شاید درست ہو مگر حضرت انور شاہ کشمیریؒ کی دیگر کتب کو نظر انداز کرتے ہوئے محض اسی کتاب کی بنیاد پر حضرت شاہ صاحبؒ کا موقف طے کرنا سنگین علمی غلطی ہے۔ چنانچہ اس کتاب کی بنیاد پر مولانا کشمیری ؒ کے بارے میں یہ گمان کرنا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور اُن کے غلبے کے معاملے میں اُمت کے مجموعی موقف سے جُدا موقف رکھتے تھے، سخت محل نظر ہے۔ اس قرینۂ ضعف کے ہوتے ہوئے، اس کمزور بنیاد پر شاید عمار خان ناصرکو یہ قصر تعمیر نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اگر ایسے کمزور مصادر کی بنا پر سنسنی خیز دعوے ہی کرنے ہیں، تو عمار خان ناصر اور خورشید ندیم کی صحافیانہ تحریروں میں کیا فرق ہے؟

حضرت کشمیریؒ کی جانب اس موقف کا انتساب اس لیے بھی مشکوک ہے کہ حضرتؒ نےاپنی کتاب التصریح فی نزول المسیح میں یہ بات بیان نہیں کی، بلکہ اس کے خلاف وہ روایات نقل فرمائی ہیں جن سے اس موقف پر زد پڑتی ہے۔ فیهلک الله فی زمانه الملل کلها و یهلک الله فی زمانه المسیح الدجال (اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دَور میں تمام مذاہب کو اور مسیح دجال کو ہلاک کر دے گا) و تقع الامنة علی الارض (اور زمین میں امن قائم ہو جائے گا) (ابودأد)۔ و تکون السجدة واحدۃ لله رب العلمین (اور سجدہ تمام جہانوں کے رب، اللہ تعالیٰ کے لئے خاص ہو جائے گا) (ابن مردویہ)۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں آیا ہے کہ دجال کو قتل کرنے کے بعد، اور کفار پر فتح پانے کے بعد: یضع الجزىة۔ یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام جزیے کو موقوف کر دیں گے۔ یہ سب روایات خود علامہ کشمیری علیہ الرحمہ نےمرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف پیش کی ہیں۔ اِ ن کی روشنی میں مولانا کشمیریؒ کی طرف اُس موقف کا انتساب مزید کمزورہو جاتا ہے، جو مولفِ “فیض الباری” نے بیان کیا ہے۔ ویسے بھی اگر دجال کو شکست دینے کے بعد، حضر ت مسیح بن مریم علیہما السلام کی قلمرو صرف شام اور اس کے نواح پر مشتمل ہو گی جیسا کہ عمار خان ناصر کا گمان ہے، فقط اُسی علاقے میں سب لوگ مشرف بہ اسلام ہوں گے، اور دیگر علاقوں میں کفار کا غلبہ بدستورقائم رہے گا، تو تمام ملل کا خاتمہ کیسے ہو جائے گا، اور جزیے کو موقوف کرنا کیونکر جائز ہو گا، جس کی تصریح متفق علیہ روایات میں کی گئی ہے؟

محدث العصر علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے موقف کا زیادہ درست اندازہ اُن کے ایک اور تلمیذ کے درسی افادات سے ہوتا ہے۔ علامہ شیخ محمد صدیق نجیب آبادی نے علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ، شیخ الہندمحمود حسنؒ، مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ، اور علامہ شبیر احمد عثمانیؒ کے درسی افادات یک جا کر دیے ہیں۔ علامہ نجیب آبادی لکھتے ہیں کہ آیات الکبریٰ کی دو اقسام ہیں، جن میں وجہِ امتیاز غلبۂ اسلام کا مسئلہ ہے۔ لکھتے ہیں:

کان بعدھا [ای: آیات الساعۃ] للاسلام شوکۃ او لم یکن۔ و ظاھر ان الدجال اولھا۔۔۔ اذا الساعۃ فی الحقیقۃ انعدام الاسلام و ذویہ و لیس بعد الدجال ذلک۔ بل الاسلام بعدہ احسن۔ ۔ ۔ لان الکفار یسلمون فی زمانِ عیسیؑ حتیٰ تکون الدعوۃ واحدۃ۔۔۔ و یقتلہ عیسیٰؑ صلی اللہ علیہ وسلم و یثبت اللہ الذین آمنوا۔ ھذا مذھب اھل السنۃ و جمیع المحدثین و الفقھاء و النظار خلافاً لمن انکروا و ابطل امرہ من الخوارج والجہمیۃ و بعض المعتزلۃ۔

“یعنی علاماتِ قیامت میں ایک وہ ہیں جن کے بعد اسلام کو شوکت حاصل ہو گی، اور دوسری وہ ہیں جن کے بعد اسلام کا شوکت و غلبے میں کوئی حصہ نہ ہو گا۔ ظاہر ہے کہ دجال کا ظہور ان میں اول الذکر قسم سے ہے (یعنی دجال کے قتل کے بعد اسلام کو شوکت حاصل ہو گی)۔۔۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قیامت فی الحقیقت انعدامِ اسلام ہے (جب دُنیا ہی لپیٹ دی جائے گی اور انسان سمیت تمام ذی روح فنا ہو جائیں گے، تو اسلام کے، یا کسی کے غلبے کا کیا موقع رہ جائے گا)۔ لیکن دجال کے ظہور و قتل کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ دجال کی شکست کے بعد اسلام کا حال پہلے سے بھی بہتر (احسن) ہو جائے گا۔۔۔ کیونکہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے زمانے میں کفار اسلام قبول کر لیں گے، یہاں تک کہ ایک ہی دین باقی رہ جائے گا۔۔۔ حضرت عیسی علیہ السلام دجال کو قتل کر دیں گے اور اللہ مومنین کو ثبات عطا فرمائے گا۔ یہ اہل سنت، جمیع محدثین، فقہاء اور اصولیین کا موقف ہے – اُن خوارج، جہمیہ اور بعض معتزلہ کے برخلاف جو اس کا انکار کرتے ہیں!” (علامہ شیخ محمد صدیق نجیب آبادی، انوار المحمود علیٰ سنن ابی داؤد، جلد دوم، صفحات: ۴۷۱ تا ۴۷۲)۔

دیکھ لیجیے یہاں سب اکابر اساتذہ کے فہم کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ حضرت علامہ کشمیری رحمہ اللہ سمیت کسی نے خلافتِ مسیح بن مریم علیہما السلام پر کسی نوعیت کی جغرافیائی حدود عائد ہونے کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ شوکتِ اسلام کو مطلقاً بیان کیا ہے، اور خاص دجال کے فتنے کے بعد ایک ہی دین باقی رہ جانے کو بیان کیا ہے۔ ہمارا استدلال یہ ہے کہ اگر مولانا انور شاہ کشمیریؒ کی یہی رائے ہوتی تو یہ رائے اپنے تفرد کی وجہ سے تلامذہ کو یاد رہتی، کیونکہ تفردات حافظے میں جلد نقش ہو جاتے ہیں اور بہ مشکل محو ہوتے ہیں۔ اس لیے مستبعد ہے کہ ایک کے سوا دیگر تمام تلامذہ کو خاص اس معاملے میں نسیاں لاحق ہو جائے۔

اِس نکتے کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کی جانب اس منفرد موقف کا انتساب تصدیق طلب ہے، کیونکہ منظور نعمانی، مولانا یوسف بنوریؒ، اور مولانا احمد رضا بجنوریؒ کی تصریحات کی روشنی میں، “فیض الباری” کی عبارات میں ضعفِ ضبط اور عدم احتیاط کے سبب حضرت کشمیریؒ اور مولف بدر عالم میرٹھیؒ کے افادات ملتبس ہو گئے ہیں۔ علامہ علیہ الرحمہ کی اپنی تصانیف بھی اس کی تائید نہیں کرتیں۔ علامہؒ کے دیگر تلامذہ کے ضبطِ افادات سے بھی اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ اس صورت حال میں “فیض الباری” کی عبارات کو حضرتؒ کی جانب علی الاطلاق منسوب نہیں کیا جا سکتا، دیگر مصادر سے تصدیق کی ضرورت رہتی ہے۔

اس پس منظر میں یہ امر حیرت انگیز ہے کہ عمارخان ناصر اس نازک معاملے میں کلام کرتے ہوئے اس بحث سے یکسر بے خبر ہیں، یا گُریز کر رہے ہیں۔ نتیجہ ایک ہی ہے: قاری کو درست صورتِ حال کا اندازہ نہیں ہو پاتا اور غلط فہمی کا شکار ہو جاتا ہے۔ علمی تحقیق میں ازبس ضروری ہے کہ ایسے مواقع پر قاری کو اس کی اطلاع دی جائے، کہ جس ماخذ پر استدلال کا انحصار ہے وہ کمزور ہے۔ اگر عمار خان ناصر “فیض الباری” کے بارے میں اس بحث سے قلتِ مطالعہ کے سبب بے خبر ہیں تو یہ افسوس ناک ہے، اُنہیں دینی موضوعات پر کلام کرنے سے پہلے مزید مطالعے کی ضرورت ہے۔ اور اگر اُنہیں یہ بحث معلوم تھی، تو اس کا اخفاء علمی بددیانتی بھی ہے۔ ہم احتیاطاً اس پر رائے دینے میں توقف کر رہے ہیں۔ اس کی حتمی وضاحت وہ خود ہی کر سکتے ہیں۔

یاجوج ماجوج

دوسرے، معلوم ہے کہ بہ اتفاق، یاجوج ماجوج کا فتنہ مقامی نہیں بلکہ عالَمی ہوگا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام یاجوج ماجوج کا بھی سامنا کریں گے۔ روایاتِ صحیحہ کے مطابق یاجوج ماجوج آپؑ کی بد دُعا سے ہلاک ہوں گے۔ کسی کا بھی یہ خیال نہیں، نہ انور شاہ کشمیریؒ کی تحریروں میں اس کا کوئی اشارہ ہے کہ یاجوج ماجوج کا فتنہ فقط شامیوں کو لاحق ہو گا۔ نہ کسی کا یہ خیال ہے کہ سد ذوالقرنین (جس نے یاجوج ماجوج کے خروج کو روکا ہوا ہے) دمشق کے نواح میں واقع ہے۔ لہذا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کسی ایک علاقےسے نہیں، بلکہ دُنیا بھر سے معاملہ کریں گے، اور فقط “شام اور اُس کے نواح” تک اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھیں گے۔ یہی وسعت آپؑ کے اقتدار کی ہو گی۔ یاجوج ماجوج کی روایتوں میں بھی بعض اوقات عربوں کا حوالہ ملتا ہے، جس سے کسی کو غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ شاید یہ فتنہ بھی عرب دُنیا سے متعلق ہو۔ اس غلط فہمی کے ازالے کے لیے مولانا تقی عثمانی لکھتے ہیں: ان النبی خص العرب بذلک لانھم کانوا حینئذ معظم من اسلم (تکملہ فتح الملہم، جلد۶، صفحہ ۲۰۲)۔ یعنی اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت مسلمانوں کی اکثریت عربوں پر مشتمل تھی۔ سو یہ غلط فہمی نہ ہونی چاہیے کہ یاجوج ماجوج کا فتنہ فقط عربوں کے لیے ہو گا۔

ضمناً عرض ہے کہ یاجوج ماجوج کا خروج اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کا نزول فقط اسلامی ماٰخذ ہی میں مذکور نہیں، بلکہ اناجیل اور یوحنا کے مکاشفے میں بھی منقول ہے۔ یہاں بائبل کے حوالے سے بحث کی گنجائش نہیں ہے۔ تحریف کے سبب بائبل سے استفادے میں کمال احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے، اور اختصار سے بات کرنے سے اس حساس دینی مسئلے کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ ورنہ ہم واضح کرتے کہ یہودیوں اور مسیحیوں کے ہاں بھی مسیحِ موعودؑ کا غلبہ عالمی سطح پر ہی واقع ہو گا۔

نصوصِ مقدسہ مسلمانوں کے دوبارہ عروج کی نفی نہیں کرتیں

تیسری بات یہ ہے کہ “فیض الباری” کی محولہ عبارت کے مطابق، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ اقدس ہے کہ مسلمانوں کا غلبہ نصف یوم یا ایک یوم تک رہے گا، جس کی تعبیر علی الترتیب پانچ سو اور ایک ہزار بر س کی گئی ہے۔ اول تو یہ خیال کہ یہ دن ایک ہزار برس کے برابر ہو گا، شارحین کی تعبیر ہے، ہو سکتا ہے کہ پچاس ہزار برس ہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک دن پچاس ہزار برس کا بھی ہوتا ہے۔ دوسرے، اُس سے یہ نتیجہ کیسے نکلا کہ اس کے بعد پھر کبھی غلبہ نہیں ہو گا؟ کیا آپﷺ نے اس کی کوئی تصریح فرمائی ہے؟ اور دُنیا کی کُل عمر دو دن کی ہو گی، اس کی سند کیا ہے؟ تاریخ کا عمل بھی ہمارے متجددین کے موقف کی تائید میں نہیں ہے۔ استعمار کے بعد مسلم جمعیتوں کی آزادی، بعض مسلم اقوام کا اپنے سیاسی انتظام پر اسلام کو حاکم بنانے کا فیصلہ، اور اب اُن کی بڑھتی ہوئی سیاسی اور معاشی قوت تو کچھ اور اشارہ کر رہی ہے! اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کے ارشادات میں مسلمانوں کے بارے میں دائمی مغلوبیت کی تصریح کب اور کہاں کی گئی ہے؟

علامہ کشمیریؒ احیاء کی جدوجہد کے مخالف نہیں

چوتھی بات یہ ہے کہ جاوید غامدی اس بحث سے مسلمانوں کو یہ باورکرانا چاہتے ہیں کہ ان پیش گوئیوں کے نتیجے میں اب احیائے دین اور غلبۂ اسلام کی کوشش ہی بے سُود ہو گئی ہے، اور عمارخان ناصر یہ کہہ رہے ہیں کہ جاوید غامدی کی رائے کا “اصل ماخذ” حضرت علامہ کشمیریؒ کی تحقیق ہے۔ یہ دونوں دعوےبے بنیاد ہے۔ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کے محولہ عبارات میں اس بات کا کوئی اشارہ موجود نہیں۔ عمار خان ناصر کا مضمون یہ تاثر دے رہا ہے کہ علامہ انور شاہ کشمیریؒ بھی استغفراللہ مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کی بحالی کی کوشش کے مخالف تھے۔ یہ افسوس ناک ہے۔  عمار خان ناصر نے “فیض الباری” کے جو اقتباسات پیش کئے ہیں ان سے غلبہ دین کی جدوجہد کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ یہ اجتہاد جاوید غامدی اور اُن کے ہم خیال کر رہے ہیں۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ اس سے بری ہیں۔

“رومیوں” کی کثرت سے غلط استدلال

پانچویں بات یہ ہے کہ اس ضمن میں عمار خان ناصر نے حضرت انور شاہ کشمیریؒ سے بزعمِ خود آگے بڑھ کر ایک دلیل خاص اپنے اجتہاد سے بھی پیش کی ہے۔ اُن کے اس “اجتہاد” کی بنیاد نبیﷺ کی ایک اور پیش گوئی ہے۔ اس پیش گوئی کے مطابق قیامت کے قریب رومیوں کی تعداد تمام اقوام سے بڑھ جائے گی۔ عمار صاحب نے “رومیوں” سے تمام سفید فام اقوام مراد لی ہیں۔ رومیوں سے کون مراد ہیں، اور اُن کی اکثریت کا کیا مطلب ہے؟ یہاں بھی عمار خان ناصرکی بات درست نہیں ہے۔ مولانا تقی عثمانی صاحب نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے: لعل المراد من الروم النصاریٰ لان اھل الروم یومئذ کان النصاریٰ و قد تحقق ذلک باتساع دینھم بالآفاق۔ ویکثرون بقرب من القیامۃ۔ (تکملہ فتح الملہم، جلد ۶، صفحہ:۲۳۶) یعنی رومیوں سے مراد عیسائی ہیں، اور ان کی اکثریت ہو جانے سے آفاق میں اُن کاپھیل جانا اور قیامت سے پہلے کثرت میں ہونا مُراد ہے۔ یعنی نہ رومیوں سے مراد سفید فام لوگ ہیں جیسے عمار خان ناصر کا وہم ہے، نہ اس سے مراد اُن کا برسر اقتدار ہو جانا ہے (کیونکہ کثرتِ تعداد سے سیاسی اقتدار لازم نہیں آتا)۔ اگر رومیوں سے عیسائی مراد ہیں، تو اُنیسویں صدی میں، اور بیسویں صدی کے نصفِ اول تک وہ تقریباً تمام دُنیا پر عملاً حکمران تھے۔ لیکن بیسویں صدی کے نصفِ ثانی سے ڈی کالونائزیشن کا دور شروع ہوا۔ یہ دُنیا میں مسیحی اقوام کے اقتدار کے سُکڑنے کا دور ہے، اور اُن کی قوت کمزور پڑ جانے کا عمل جاری ہے۔ بین الاقوامی قوت کے نظام اور معاشی غلبے کے بارے میں یہ امر بالعموم متفق علیہ سمجھا جاتا ہے کہ رواں صدی مغرب کی نہیں، بلکہ مشرق کے غلبے کی ہو گی۔ تیسری بات یہ ہے کہ جس طرح عمار خان ناصر اور جاوید غامدی ہر دینی نص کو عرب، مشرق وسطیٰ، یا شام کے ساتھ خاص کردینے کی تگ و دو کرتے رہتے ہیں، مخاصم اِنہیں بنیادوں پر یہ کیوں نہیں کہہ سکتا ہے کہ رومیوں کی اکثریت کے بارے میں یہ خبر بھی مطلق نہیں، بلکہ یہ اکثریت عالمی نہیں، فقط شام کے علاقوں کے ساتھ خاص ہو گی، یعنی شام میں “رومی” اکثریت میں ہو جائیں گے؟ نیز، یہ کیوں نہیں ہو سکتا کہ رومیوں سے اناطولیا اور ایشیائے کوچک کے لوگ مراد ہوں جو اُن کا اصل وطن تھا؟ جس قسم کی تخصیصات سے منکرینِ حدیث دینی احکام کو معطل کرتے رہتے ہیں، اُسی قسم کی تخصیص یہاں کیوں نہیں ہو سکتی؟ چوتھی بات یہ کہ “قربِ قیامت” سے قیامت کے معاً قبل کا دن اور گھنٹہ مُراد نہیں ہوتا، بلکہ قیامت کی علامات شروع ہو جانے کے وقت پر اتساعاً بولا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے آپ ﷺ بھی قربِ قیامت کی علامت ہیں۔ خود حضرت علامہ انور شاہ کشمیریؒ یاجوج ماجوج کے خروج کو صدیوں پر پھیلا ہوا عمل قرار دیتے ہیں۔ اس سے جاوید غامدی جیسے منکرینِ حدیث کا وہ موقف ثابت نہیں ہوتا جسے ثابت کرنے کے لیے اُنکے پیروکار احادیث کو بے محل پیش کر رہے ہیں (۶)۔ علاماتِ قیامت کے ظہور کا دورانیہ طویل ہے، اس کی کوئی مدت متعین نہیں، اور اس میں نشیب و فراز آئیں گے۔ یعنی مختلف ادوار اور مختلف علاقوں میں کبھی کسی کا اور کبھی کسی کا پلڑا بھاری ہوتا رہے گا۔ فاضل مصنف اور جاوید غامدی کا یہ دعویٰ محتاجِ دلیل ہے کہ گویا اب مسلمانوں کی شوکت کا ظہور محال ہو چکا ہےاور اب اُن کی غلامی و ذلت دائمی ہے، لہذا اب شوکت کی بحالی کی کوشش بھی نامعقول ہیں! استغفراللہ۔

جاوید غامدی نزولِ مسیح علیہ السلام کے منکر ہیں

چھٹی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو دُنیا میں دوبارہ غلبہ نہ ملنے کی بدشگونی کے مرتکب یہ استعماری متجددین، حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول، اور ظہورِ دجال کے واقعات سے استشہاد کرتےہوئے قارئین سے ایک اور حقیقت کو بھی چُھپا رہے ہیں۔ وہ یہ کہ جاوید غامدی تو نزولِ مسیح علیہ السلام ہی کے منکرہیں (۷)۔ اگر حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول ہی نہیں ہو گا، تو اُن کے بعد کسی قسم کے علاقائی غلبے کے بارے میں قیاس آرائی کا سوال کیسے پیدا ہو گیا! جاوید غامدی تو نزولِ مسیحؑ ہی کے منکر ہیں، اُن کا “ماخذ اصلی” یہ بحث کیونکہ ہو سکتی ہے جو نزولِ مسیحؑ کے بعد مسلمانوں کے غلبے سے بحث کر رہی ہے؟ طُرفہ تماشہ ہے کہ جب چاہیں نزولِ مسیحؑ کی روایات کو افسانہ قرار دے دیں، مگر جب ضرورت آن پڑے تو اِنہی “مردُود” روایات سے مسلمانوں پر حجت قائم کرنے کے لیے مضمون نگاری شروع کر دیں۔ اولوا الالباب کے لیے اس میں عبرت کی بہت نشانیاں ہیں!

زوال وفتن کی احادیث حق ہیں، لیکن ہم اُنہیں سچ کر دکھانے پر مامور نہیں

اور ساتویں، اور آخری بات یہ ہے کہ بالفرض اس بے بنیاد افسانے کو مان بھی لیا جائے کہ نصوص میں اشارے پائے جاتے ہیں کہ مسلمان مغلوب ہو جائیں گے اور تاقیامت کفار کے زیر دست رہیں گے، تو بھی، عمار خان ناصر اس امر کا انکار نہیں کر سکتے کہ یہ کوئی شرعی حکم نہیں بلکہ خبر ہے۔ یعنی قیامت سے پہلے مسلمانوں پر گزرنے والے احوال کا بیان ہے، اور پیش گوئی ہے کہ مسلمانوں کی حالت اس حد تک ابتر ہو جائے گی۔ اس سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ غلبۂ اسلام کے لیے جدوجہد ہی ممنوع ہو گئی ہے؟ یہ پیش گوئیاں مسلمانوں کی تنبیہ کے لیے ہیں تاکہ وہ دجال اور یاجوج ماجوج کے فتنوں سے متنبہ رہیں، اور مقاومت کے لیے تیار رہیں۔ جاوید غامدی وغیرہ یہ کہہ رہے ہیں کہ چونکہ پیش گوئی یہ ہے کہ مسلمان مغلوب ہو جائیں گے لہذا اس مغلوبیت کے خلاف جدوجہد کرنا بھی ممنوع ہے! احادیث میں واردہ پیش گوئیاں حق ہیں۔ چاہیے کہ ہم ان سے عبرت پکڑیں، نہ یہ کہ ہم اُنہیں وقوع میں لانے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں، مصائب کو بخوشی گلے لگا کر فتنے کو خوش آمدید کہیں، اور شر کے غلبے کے لیے باقاعدہ راہ ہموار کرنے کی کوشش کریں! آپ ﷺ کی پیش گوئیوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے مسلمان اُن کے امتثال کے مکلف نہیں۔ مثلاً، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ہے کہ قربِ قیامت میں بد کاری پھیل جائے گی، اور لوگ گدھوں کے طرح (یعنی علانیہ ) بدکاری کریں گے۔ اِس پر عمار خان ناصر اور اُن کے استاذ مسلمانوں کو کیا مشورہ دیتے ہیں؟

حاصلِ کلام

حاصل کلام یہ ہے کہ عمار خان ناصر نے اپنے اُستاد کی تقلید کرتے ہوئے، جس موقف کی تائید میں حضرت مولانا کشمیری ؒ کو بھرتی کرنے کی سعیٔ غیر محمود کی ہے، وہ خود بے بنیاد ہے، کیونکہ حضرت کشمیریؒ کی طرف اس کا انتساب مُستند نہیں، یہ موقف حضرت کشمیریؒ کی دیگر تحریروں سے مصدق نہیں ہوتا، اور اگر ہوتا بھی ہو، تو اُن کا تفرد ہے اور مختار نہیں، کیونکہ نصوص واضح ہیں۔ نیز، اگر یہ موقف حضرت کشمیریؒ کی طرف ثابت بھی ہو جائے، تو اُس سے مبتدعہ کے اِس موقف کی تائید نہیں ہوتی کہ شوکتِ اسلام کی کوشش بھی ممنوع ہے۔ اور جو دلائل عمارخان ناصر نے اپنی طرف سے پیش کیے ہیں وہ لغو ہیں، جیسا کہ اُوپر پیش کیے گئے دلائل سے اور مولانا تقی عثمانی صاحب کے حوالے سے ظاہر ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح ہوا کہ جاوید غامدی جیسے منکرینِ حدیث اور متجددین اس معاملے میں کس کس طرح سے علمی و دینی غلطیوں کا شکار ہوئے ہیں۔ نیز، عمار خان ناصر کو مغالطہ ہوا ہے کہ زوال و فتن کی پیش گوئیاں شاید “شرعی احکام” ہیں جن پر عمل کرنے کے ہم پابند ہیں۔  بالخصوص، عمار خان ناصر کی “فیض الباری” کے استناد کے بارے میں بے خبری (یا تدلیس) اُن کے پورے مقدمے کی کمزوری پر دلالت کرتی ہے، کیونکہ اُن کا تمام تر استدلال اسی ایک مصدر پر منحصر ہے، جس کی سند ہی مخدوش ہے۔ اللہ ہمیں صحیح بات کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وما علینا الا البلاغ۔

حواشی

(۱)۔ جاوید احمد غامدی، “مسلمان دُنیا پر کب حکومت کریں گے؟”، یوٹیوب چینل، لنک:

ویڈیو میں پیش کئے گئے موقف کی خام خیالی مفصل اور مستقل تنقید کا تقاضا کرتی ہے، جو اس مضمون کا موضوع نہیں ہے۔

(۲)۔ عمار خان ناصر، “قرب قیامت میں غلبۂ اسلام کی پیش گوئی: علامہ انور شاہ کشمیری کا نقطہ نظر” آن لائن “مکالمہ”، مورخہ۲۵؍مئی، سنہ ۲۰۱۸ء،  جسے اُنہوں نے ۲۷؍ جون، سنہ ۲۰۲۱ء کو اپنے فیس بک صفحے پر جاوید غامدی کے حق میں، اور غلام شبیر صاحب کی تردید میں، اس دعوے کے ساتھ پیش کیا ہے کہ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کا موقف جاوید غامدی کی رائے کا “اصل ماخذ” ہے۔

(۳)۔ چونکہ یہاں خالص علمی مباحث پیشِ نظر ہیں، لہذا خورشید ندیم کے صحافیانہ استدلالات سے تعرض غیر ضروری ہے۔

(۴)۔ ڈاکٹر غلام شبیر، “مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار: جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی علمی دریافت؟“، دانش آن لائن، مورخہ: ۲۶؍جون، سنہ ۲۰۲۱ء۔ یہ مضمون بھی مستقل تنقیدی محاکمے کا مستحق ہے۔ فی الحال اُن کے ایک دعوے ہی کو دیکھ لیتے ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹر فضل الرحمان کے علمی کام کو اسلامی روایت سے منسلک دکھانے کی کوشش کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ڈاکٹر فضل الرحمن “کے ہاں زکوٰۃ کی شاہ ولی اللہی تعبیر ملتی ہے”۔ موصوف کو شاید علم نہیں ہے کہ خاص زکوٰۃ کے مسئلے پر ڈاکٹر فضل الرحمن نے شاہ ولی اللہ کی تعبیر سے نہ صرف اختلاف کیا ہے بلکہ اُن کے موقف پر کڑی تنقید کی ہے۔ ملاحظہ فرمایئے:

Fazlur Rahman, Revival and Reform in Islam (Oxford: Oneworld Publications, 2000), 186-187.

یہ ایک مثال ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کو جدیدیت سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ڈاکٹر فضل الرحمن نے اسلامی عقیدہ، عبادات، اور احکام و فرائض سب کو مسخ کر دیا ہے۔ زکوٰۃ کے نصاب و شروح میں تبدیلی اس کی نمایاں مثال ہے۔ جدیدیت اور اسلام کے تعلق کے سوال پر ڈاکٹر فضل الرحمان اور جاوید غامدی میں جزوی اختلافات ضرور تلاش کئے جا سکتے ہیں مگر اصولاً دونوں کا پراجیکٹ ایک ہی ہے، یعنی اسلام کو جدیدیت سے ہم آہنگ کرنا، خواہ اس کے نتیجے میں اسلامی احکام بلکہ ضروریاتِ دین ہی کا انکار کیوں نہ کرنا پڑے۔

(۵)۔ “فیض الباری” کے مندرجات کی صحتِ انتساب کے علاوہ، محمد منظور نعمانی کے دیگر دلائل کا خلاصہ یہ ہے: اولاً اس “فیض الباری” میں شاہ اسمٰعیل شہید کی کتاب تقویۃ الایمان کے بارے میں شاہ صاحب کی طرف ایسا موقف منسوب کیا گیا ہے جو ان کی دیگر کتب میں موجود اُن کے موقف سے صریحاً ٹکراتا ہے (محمد منظور نعمانی، شیخ محمد بن عبدالوہاب اور ہندوستان کے علمائے حق، صفحات ۱۱۳تا۱۱۸ )۔ ثانیاً اس کتاب میں محمد ابن عبدالوہاب کے بارے میں ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ نعمانی صاحب کا خیال ہے کہ ایسی سخت زبان حضرت انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ نہیں ہے(صفحہ ۱۲۱تا۱۲۲)۔

(۶)۔ جاوید غامدی کے انکار حدیث کے دلائل کے سلسلے میں دیکھیے: نادر عقیل انصاری، ” جاوید غامدی کے متجددانہ شطحات: انکارِ حدیث کا مسئلہ” “، مورخہ ۹ /دسمبر، سنہ ۲۰۱۷ ء (https://www.facebook.com/harfeneemguftah/posts/1621640371232399)؛ نادر عقیل انصاری، ” جاوید غامدی کا استدلال: جو آبِ چاہ کا قطرہ ہے وہ گوہر نہیں ہوتا! ” مورخہ ۱/جنوری، سنہ ۲۰۱۸ء (https://www.facebook.com/harfeneemguftah/posts/1644035728992863)؛ کاشف علی خان شیروانی، “عمار خان ناصر صاحب اور منکرین حدیث کا موقف” مورخہ۳۱/اگست، سنہ۲۰۲۰ء (https://www.facebook.com/harfeneemguftah/posts/3327441607318925)۔

(۷)۔ علامہ کشمیریؒ کے نزدیک نزول مسیح ؑ کا شمار ضروریات دین میں ہوتا ہے اور اس کا انکار کرنے والے کی تکفیر واجب ہے۔ جاوید غامدی نے اپنی ایک تقریر میں نزولِ مسیح بن مریم علیہما السلام کے بارے میں روایات صحیحہ کو “افسانہ” قرار دیا ہے۔ یار رہے کہ حدیث کے واجب العمل ہونے کا انکار اور حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کا انکار فکری اعتبار سے باہم مربوط ہیں، چنانچہ استعماری منکرین حدیث جن میں جاوید غامدی شامل ہیں، ان دونوں – حجیتِ حدیث اور نزولِ مسیحؑ –کا انکار کرتے ہیں۔ دیکھیے: نادر عقیل انصاری، “عہد رسالتﷺ میں بائبل کا عربی ترجمہ”، سہ ماہی جی، جلد۵/۶، صفحہ ۷۳-۷۵۔ نیز، متجدّدانہ تحریک دراصل اسلام اور کفر کے درمیان صلح اور ہم آہنگی پیدا کرنے کا نام ہے۔ چنانچہ کفر کے موجودہ عالمی نظام کی شکست کے ہر امکان کی نفی کرنا اس احساس کم تری کا تقاضا ہے اور یہی جذبہ انکار نزولِ مسیح علیہ اسلام کی طرف لے جاتا ہے۔ سامنے کی بات ہےکہ عالمی ریاست کی صورت میں کفر نے عالمی سطح پر اپنے پنجے گاڑ دیئے ہیں۔ اس تناظر میں غامدی صاحب جیسے متجددین نزول مسیح علیہ السلام کا انکار کر کے اور عمار خان ناصر جیسے متجددین نزول مسیح علیہ السلام کی دینی اہمیت کو گھٹا نے کی جدوجہد میں اسی تجدّد کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔ دجال، مغربی گمراہی، اور یاجوج ماجوج وغیرہ کے فتنوں کے بارے میں،  نادر عقیل انصاری صاحب کے اس معنی خیز سوال پر ہمارے متجددین کم ہی غور کرتے ہیں: ” کیا یہ وہی فساد الارض ہے جس کی اصلاح کو فقط ہم جیسوں پر منحصر نہیں چھوڑا گیا اور نزول مسیح بن مریم علیہما السلام پر موقوف کر دیا گیا؟” نادر عقیل انصاری، “‘ریاست’ کا معاصر بیانیہ!”، سہ ماہی جی، جلد۱۱/۱۲، صفحہ ۱۸۴۔

کاشف علی خان شیروانی
PhD Scholar École des hautes études en sciences sociales, Paris

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. ڈاکٹر عبدالستار آزاد on

    اگر بالفرض ہم یہ مان بھی لیں کہ یہ علامہ انور شاہ کشمیری کی تصنیف نہیں بلکہ مولا نا میرٹھی کی تحریر کردہ ہے تو کیا مولانا میرٹھی کہیں اور سے آئے تھے؟
    وہ بھی تو ہمارے اکابر علمائے دیوبند میں سے ہیں۔
    اور کیا کسی کو اس سے پہلے اس پر تنقید کی جرات نہیں ہوئی؟

Leave A Reply