سرے گھاٹ کے بازار حسن سے گورنمنٹ ہائی اسکول تک — عطا محمد تبسم

0

ہمارے پرائمری اسکول کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ یہ سرے گھاٹ پر اس جگہ پر تھا، جس کے قریب ہی بازار حسن تھا۔ یہ بازار حسن لاہور کے بعد سب سے زیادہ مشہور تھا۔ ہماری کلاس میں کچھ لڑکے اس محلے سے پڑھنے آتے تھے۔ کلاس کے بڑے لڑکے انھیں اکثر چھیڑتے تھے۔ ان کا مذاق بھی اڑاتے۔ اور ان سے ایسی باتیں کرتے جو ہمارے سمجھ میں نہیں آتی تھیں، لیکن آہستہ آہستہ ہمیں پتہ چلا کہ کچھ لڑکے ہاف ٹائم میں اس محلے میں جاتے ہیں۔ ہمیں بھی شوق چرایا کہ یہاں جاکر دیکھا جائے، لیکن صبح کے وقت یہاں کے مناظر اس رنگینی سے بہت دور تھے، جس کے ہم قصے سنتے تھے۔ اکثر بغیر منہ دھلے، کھلے بالوں اور سو کر اٹھنے والی حالت میں خواتین نظر آتیں، جن کے چہروں پر نحوست برس رہی ہوتی تھی۔ ایسے میں نائیکہ اور خرانٹ چہرے والی بوڑھی عورتیں، ہم لڑکوں کو ادھر تاکتے جھانکتے دیکھ کر، بری طرح لتاڑتیں، اور اکثر کی زبان پر تو گالیاں بھی بہت موٹی موٹی ہوتیں جنہیں سن کر ہم دوڑ جاتے۔ صبح کے ان مناظر میں کوٹھوں سے آتی آوازیں “او شیدے چاء لادے” حلوہ پوری کے ناشتہ پر لگی لائن، چائے والے لڑکے، لسی اور دودھ والے ان کوٹھوں پر سامان پہنچاتے، ان گھروں کی ضرورت بھی، عام گھر گرہستی جیسی تھی۔ ہاں رات کی بات اور تھی۔ رات کو ہر گلی میں روشنی، خوشبو، پھول، اور گانے کی آوزیں اس کے سحر کو دوبالا کردیتی تھیں، اس زمانے میں گیس کے ہنڈولے ہوتے تھے، گلیوں میں پھول اور چنبیلی کے ہار لئے لوگ گھومتے، عطر فروش بھی ایک پیٹی لیئے گھومتے نظر آتے، جس میں رنگ برنگی بوتلوں اور شیشیوں میں خوشبو بھری ہوتی۔ مختلیف عطریات ہوتے، روئی کے پھوئے میں عطر کی پھریری بناکر کان میں لگا دیتے، اکثر کوٹھوں سے راگ رنگ اور گانے کی آواز آتی، اکثر میں ناچ اور گانے کی محفلیں آراستہ ہوتی، ہمیں یہ سب دیکھنے اور کسی کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھنے کی حسرت ہی رہی، کبھی کبھی ان گلیوں سے شام میں گذر ہوجاتا تو دل بری طرح دھڑک رہا ہوتا۔ ڈر لگا رہتا کہ کوئی جاننے والا مل گیا تو خوب ٹھکائی ہوگی۔ اس زمانے میں محلے کے سارے لوگ ہمارے چاچا، ماموں تھے، جو اپنے اس حق کا بے دریغ استعمال موقع پر ہی کرلیتے، اور تھپٹر مارنے اور پٹائی سے بھی دریغ نہ کرتے۔ سرے گھاٹ اور بازار حسن اب بھی موجود ہے، لیکن اب یہاں کی گلیاں تنگ، اجاڑ، کچرے کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہیں، جہاں کہیں کہیں کسی تازہ گلاب کی مہک تماش بینوں کو کھینچ لاتی ہے۔ یہاں کے تعزیہ، علم، مجالس اور ماتمی جلوس اب بھی شہرت اور کشش رکھتے ہیں۔

پانچویں میں پاس ہوگیا۔ اس زمانے میں پاس ہونے پر ایک مٹھائی کا ڈبہ اسکول میں ماسٹر صاحب کو ضرور دیا جاتا تھا۔ ہائی اسکول داخلے کے لیے گورنمنٹ ہائی اسکول کو چنا گیا۔ گورنمنٹ ہائی اسکول میں چھٹی کلاس میں داخلے کے لیے ٹیسٹ ہوتا تھا۔ سینکڑوں بچے ٹیسٹ میں بیٹھتے، اور داخلہ پانے والے کامیاب طلبہ کے نام کی لسٹ آویزاں کی جاتی۔ ہم نے بھی ٹیسٹ دیا اور کامیاب ہوگئے، گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد شہر کے قلب میں تھا۔ شہر کا یہ سب سے بڑا اسکول فوجداری روڈ اور رسالہ روڈ پر واقع تھا۔ تقسیم سے قبل یہ اسکول ایک معاشرتی اصلاح کار سادھو نیول رائے شوکیرام اڈوانی (پیدائش 10 جولائی 1893۔ انتقال 2 نومبر 1943) نے قائم کیا تھا۔ حیدرآبادمیں تعلیم کے فروغ میں ان کی اور ان کے بھائی سدھو ہیرانند کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ میٹرک کے بعد، انہوں نے محکمہ ریونیو میں کلرک کی حیثیت سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر ترقی کی۔ انہوں نے اسپتال کھولے اور لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لئے کام کیا۔ انہوں نے حیدرآباد میں یونین اکیڈمی کی بنیاد رکھی جو حیدرآباد کے بہترین تعلیمی اداروں میں سے ایک تھی۔ موجودہ گورنمنٹ ہائی اسکول کی عمارت اس اکیڈمی نے قائم کی تھی جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد 2 نومبر 1948 کو اکیڈمی کی یہ عمارت حکومت پاکستان کے حوالے کی گئی۔ اس تاریخی اسکول کو گورنمنٹ ہائی اسکول نمبر 1 کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ جب ہم یہاں پڑھ رہے تھے، تو اسکول کے سامنے گول بلڈنگ تعمیر ہورہی تھی۔ یہ شہر کا سب سے بڑا بس اسٹاپ بھی تھا، کوٹری اور مختلف دیہاتوں سےسرکاری بسیں یہاں آکر رکتی۔ لوگوں کی ایک بھیڑ یہاں ہر وقت ہوتی۔

اسکول کا معیار تعلیم بہت اچھا تھا، اسکول میں ٹیکنیکل تعلیم بھی دی جاتی تھی، جس میں بجلی، لکڑی اور لوہے کی ورکشاپ قائم تھیں، جہاں باقاعدہ پریکٹیکل کراکے تعلیم دی جاتی تھی۔ اسکول میں اسپورٹس کی سہولیات بہت اچھی تھیں۔ کلاسوں کے بعد آپ ہاکی، فٹبال، کرکٹ کا سامان، جو چاہیں ایشو کراسکتے تھے۔ جانسن چوکیدار اس سامان کا نگران تھا، ہم جانسن سے جب چاہتے کھیل کا سامان نکلوالیتے اور گراونڈ میں مزے سے کھیلتے۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر حبیب اللہ تھے، گورے چٹے حبیب اللہ اسکول ہی میں ایک حصے میں رہائش پذیر تھے، ان کے لڑکے بھی ہمارے ساتھ پڑھتے تھے۔ ہمارے اسکول کا بینڈ بھی بہت مشہور اور شان و شوکت والا تھا، اکثر تقریبات کے موقع پر یہ بینڈ سب سے آگے ہوتا، اسکول میں پی ٹی ماسٹر اسحاق صاحب تھے، وہ بہت لمبے قد والے تھے، اور اکثر لڑکے انھیں ڈبل ٹیکر کے نام سے پکارتے تھے، اس زمانے میں ڈبل ڈیکر بسیں حیدرآباد سے لطیف آباد نئی نئی چلی تھیں۔ جے سی سی (جونئیر کیڈٹ) یہ بھی ہمارے اسکول کا امتیاز تھا۔ نویں دسویں کے طلبہ کو منتخب کیا جاتا اور دوران تعلیم انھیں فوجی تربیت دی جاتی تھی۔ فوجی وردی دی جاتی تھی، فائرینگ کی تربیت بھی دی جاتی تھی۔ ایک بار ہم بھی فائرینگ کی تربیت کے لیے گئے۔ تھری ناٹ تھری کی بھاری رائیفل سے فائر کی مشق کرائی جاتی تھی۔ گولی چلنے پر رائفل ایک جھٹکا لیتی تھی۔ اس لیے کندھے پر گدی رکھ کر فائر کرایا جاتا تھا۔ انسٹرکٹر ساتھ ہوتا تھا جو مضبوطی سے رائفل کو تھامے رکھتا۔ ورنہ جھٹکا اتنا شدید ہوتا تھا کہ کندھے میں تکلیف ہوجاتی۔ جے سی سی میں ہمارے استاد سمیع اللہ تھے۔ بہت اچھے استاد تھے۔ اللہ غریق رحمت فرمائے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply