بابو جی —– عطا محمد تبسم

0

مجھے والد صاحب کے بستر پر سونے کی بڑی خواہش رہتی تھی۔ لیکن وہ اکثر و بیش رینجرز ہیڈ کواٹر میں ڈیوٹی پر ہوتے، لیکن جب وہ گھر پر ہوتےتو میری آنکھ ان کی تلاوت سے کھلتی۔ وہ نماز فجر کے بعد بستر پر بیٹھے تلاوت کلام پاک کرتے۔ تکیہ پر لکڑی کی رحل میں قران مجید کا اشرف علی تھانوی کا اردو ترجمہ والا رنگین چھپائی والا قران مجید رکھا ہوتا۔ جو برسوں ہمارے گھر میں رہا، اس کے اوراق بوسید ہوگئے تھے۔ مجھے اس کی اردو عبارت سمجھ نہیں آتی تھی۔ لیکن اسے پڑھنے کی کوشش کرتا تھا۔ بابو سحر خیز تھے، صبح چار بجے اٹھ جاتے۔ ان دنوں پورے محلے میں میونسپل کمیٹی کے دو نلکے تھے۔ ایک ہمارے محلے میں تھا، دوسرا اگلے محلے میں تھا، جسے بڑا نل کہتے تھے۔ یہاں پانی تیز آتا تھا، اور بہشتی یہاں سے چمڑے کی مشک میں پانی بھرتے اور گھروں کو پہنچاتے۔ محلے کے سرکاری نل پر اندھیرے ہی سے برتنوں، کنستر، بالٹی، بگھونے، لائین سے لگا دیئے جاتے تھے۔ پانی آنے پر باری باری لوگ اپنا پانی بھرتے، بابو صبح سویرے ہی گھر کی ضرورت کا پانی بھر لیتے اور سخت سردیوں میں بھی ٹھنڈے پانی سے صبح سویرے غسل کرتے، ان کی یہ عادت آخری عمر تک رہی۔ ان کے پاس ایک سائیکل تھی، جس پر وہ رینجرز ہیڈ کواٹر ڈیوٹی پر جاتے، جو ان دنوں کالی روڈ پر وزیر علی انڈسٹریز کے برابر تھا۔ ان کی سائیکل پر میں نے بہت سفر کیا۔ سائیکل کے ڈنڈے پر آگے بیٹھنا بہت مشکل ہوتا تھا، میری شکایت پر وہ ڈنڈے پر کپڑا باندھ کر ایک گدی سی بنا دیتے۔ سائیکل کے اس سفر میں وہ مجھے قرانی دعائیں، اور سورتیں یاد کراتے۔ اور راستے بھر یہ سبق بلند آواز سے دہرانے اور سننے کا عمل جاری رہتا۔ ہمارے رشتہ کے ایک نانا ٹی بی کے مرض میں مبتلا ہو گئے تھے، وہ کوٹری میں ٹی بی سینیٹوریم میں داخل تھے۔ بابوکے ساتھ میں نے بھی جانے کی ضد کی، اور ہم دونوں سائیکل پر سوار ہوکر وہاں گئے، راستے میں کوٹری کا لوہے کا برج آیا، اس زمانے میں ہوا بہت تیز چلتی تھی، سائیکل ہوا سے بار بار آگے پیچھے ہورہی تھی، پھر والد صاحب سائیکل سے اتر گئے، مجھے کہا کہ سائیکل کو مضبوطی سے پکڑ رکھو، اور انھوں نے پل کی ریلنگ کر پکڑ کو یہ پل پار کیا، آج حیدرآباد سے کوٹری سینیٹوریم کے فاصلے کو دیکھتا ہوں، تو ان کی ہمت کی داد دیتا ہوں کہ وہ کس طرح لمبے لمبے فاصلے طے کر لیتے تھے۔ انھیں میری تعلیم سے بہت دلچسپی تھی۔ لیکن وسائل بہت محدود تھے۔ ٹیوشن کی فیس نہیں دے سکتے تھے۔ میں پانچویں جماعت میں تھا۔ ہمارا اسکول رئیس غلام محمد بھرگڑی پرائمری اسکول تھا۔ سرے گھاٹ پر مدینہ مسجد کے پاس ایک بوسیدہ عمارت میں یہ اسکول تھا۔ اس کے ہیڈ ماسٹر قاضی فیاض الدین تھے۔ قاضی فیاض الدین برطانوی فوج میں بھی رہے، اور علاقہ غیر میں انھوں نے بہت اہم خدمات انجام دیں، حیدرآباد میں تعلیم کے میدان میں انھوں نے ابتدائی دور میں بہت کام کیا، وہ سنئیر موسٹ ہیڈ ماسٹر رہے۔ ان کے صاحب زادے قاضی مرتاض الدین حیدرآباد میں ڈائریکٹر اسکولز اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن رہے۔ وہ الور کے تھے۔ لمبا قد سرمہ سے بھری سیاہ آنکھیں، سفید لمبی داڑھی، کرتا پائیجامہ، سلیم شاہی جوتے، سر پر رنگین صافہ، راجھستانی پگڑی اور صافے بہت خوش رنگ ہوتے ہیں، ان کے رنگین صافے بدلتے رہتے تھے۔ پانچویں کی دینیات کی کلاس وہ پڑھاتے تھے، اور اکثر و بیشتر وہ عذاب آخرت کا ذکر کرتے، خوف سے خود بھی روتے، داڑھی آنسووں سے تر ہوجاتی، اور کلاس میں بچے بھی روتے، خوف آخرت پر انہوں نے بچپن میں جو سبق دیا، وہ زندگی بھر یاد رہا۔ خاص طور پر عذاب دینے والے فرشتوں کے گرز مارنے اور پسلیاں توڑدینے کا ذکر تو ہمارے ذہنوں میں بیٹھ گیا۔ اسکول میں پڑھانے والے اساتذہ بھی یا تو نوعمر تھے، جو شام کو سٹی کالج میں پڑھتے تھے، ان میں رضوان صدیقی اور ظہور قائم خانی جیسے اساتذہ شامل تھے۔ رضوان صدیقی ممتاز افسانہ نگار بہترین صدار کار، اداکار، کمپیئر ہیں۔ اس وقت وہ بہت اہم موضوع پر کام کر رہے ہیں، ظہور قائم خانی ادبی شخصیت، افسانہ اور ریڈیو کے لکھنے والے، سٹی کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر رہے۔ ان کی زندگی نے وفا نہ کی۔

بابو (والد صاحب) کے کاغذات میں 1964 کی ایک رسید ملی۔ یہ الفاروق ہائی اسکول نائٹ میں داخلے کی رسید ہے۔ الفاروق پرائمری اسکول کھائی روڈ پر تھا۔ پرائیوٹ اسکول تھا۔ لیکن اس کا معیار تعلیم اچھا تھا۔ پرائمری کے بعد الفاروق ہائی اسکول ریشم گلی نیا نیا بنا تھا۔ مشتاق صاحب ہیڈ ماسٹر تھے ان دنوں شام کی کلاسوں کا نائٹ اسکول کاآغاز کیا تھا۔ میں پانچویں کلاس کا دن میں طالب علم تھا۔ تو والد صاحب نے مشتاق صاحب سے بات کرکے مجھے الفاروق ہائی اسکول نائٹ میں چھٹی کلاس میں داخل کرادیا۔ رات میں چھٹی کلاس کی پڑھائی نو بجے تک ہوا کرتی۔ افتخار صاحب انگریزی پڑھاتے تھے۔ میں کلاس کا سب سے کم عمر طالب علم تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب ہم نے پرائمری میں اے بی سی ڈی بھی نہیں پڑھی تھی، الفاروق اسکول کے باہر دودھ کی دکان، ہوٹل تھی۔ باہر کی دکانوں پر ریکاڈنگ ہوتی، اور ریڈیو پر بلند آہنگ گانے سنائی دیتے۔ ، ، ستارو تم تو سوجاﺅ پریشان رات ساری ہے، ، سنتے سنتے میں اکثر ڈیسک پر سوجاتا۔ مسٹر جمیل اور نسیمہ والی انگریزی کی کتاب پڑھائی جاتی تھی اور اسپیلنگ پر زور دیا جاتا۔ اس زمانے میں اورینٹ ہوٹل اور سلطان ہوٹل کے درمیان والی اورنگ زیب مسجد کاقضیہ شروع ہوگیا۔ مسجد نیچے تھی اورینٹ ہوٹل کی عمارت بلند تھی۔ اورینٹ ہوٹل جدید ایئر کنڈیشنڈ ہوٹل تھا۔ قاضی برادراں اس کے مالک تھے، قاضی محمد اکبر سیاست میں بھی تھے، وہ مسلم لیگی تھے۔ اس تنازعے میں کچھ سیاست کا بھی دخل تھا۔ اس لیے روز جلوس نکلتے اور کوہ نور چوک میدان جنگ بن جاتا۔ شیلنگ ہوتی۔ آنسو گیس سے آنکھیں جلنے لگتی، ریشم گلی کے دکاندار جلوس کے شرکاء کے لیے پانی کے ڈرم بھر کر رکھ دیتے، لوگ رومال پانی میں بھگو کر آنکھیں دھوتے، جلوس سٹی کالج سے نکلتے تھے۔ عثمان کینڈی، رضوان صدیقی رحمت ہٹلر جیسے طالب علم رہنما تھے۔ جو جلوس کی قیادت کرتے تھے۔ الفاروق ہائی اسکول نائٹ کی ماہانہ فیس پانچ روپے فیس تھی۔ بابو کے لئے تو شائد بہت ہوگی۔ ان کی ماہانہ تنخواہ ہی 64 روپے تھی۔ لیکن اس وقت سونا بھی 64 روپے تولہ تھا۔ ریشم گلی سے پہلے سنار گلی سے نکلتے تو ہر دکان پر لٹکی سلیٹ پر چاک سے بڑا بڑا نرخنامہ لکھا ہوتا۔ سونے کا آج کا بھاؤ۔ بابو اور آپا نجانے کیسے پیٹ پر پتھر باندھ کر یہ خرچے برداشت کرتے۔ اسکول کے زمانے میں کالے بوٹ سفید قمیض خاکی پینٹ اسکول ڈریس تھا۔ ابا نے پرانے فوجی بوٹ کی جوڑی ایک موچی کو دی۔ اور اس سے کہا کہ اس کے بدلے میں میرے لیے جوتے بنادے۔ موچی کی دکان ہوپ فل اسکول کے نزدیک مزار کے برابر میں تھی۔ یہ موچی جوتا بنانے کے فن میں ماہر تھا۔ میں روزانہ اسکول سے آتے ہوئے اس کی دکان پر جاتا اور پوچھتا میرا جوتا بن گیا . ایک ماہ کے بعد اس نے بہت اچھے اور مضبوط جوتے بناکر دیئے جو بہت عرصے تک چلے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply