دبستان روایت: حالیہ بحث اور میرا موقف — سجاد میر‎‎

1

معروف ویب سائٹ دانش ڈاٹ پی کے پر “دبستان روایت“ کی مناسبت سے چلنے والی ایک حالیہ بحث (نومسلم رینے گینوں، مکتب روایت اور وحدت ادیان کے تصور پر اہم سوالات — ادریس آزاد) تقاضا کرتی کہ، کہ چند معروضات پیش کروں۔ مذکورہ بحث میں میرے عزیز ترین بھائی احمد جاوید (مکتب روایت، وحدت ادیان اور میرا موقف —- احمد جاوید) اور ملک کے نامور سکالر سہیل عمر (سوال زندہ، کھٹک باقی— مکتب روایت پہ اعتراضات اور سہیل عمر کی گذارشات) جو مجھے کئی حوالوں سے عزیز ہیں، شامل ہیں۔

خاکسار ساری عمر اس دبستان کے دفاع میں لڑتا رہا، کیونکہ یہ ہم تک حسن عسکری اور سلیم احمد کے ذریعے پہنچا تھا مگر مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس مکتب فکر پر اسلامی نقطہ نظر سے پہلی بار اعتراض اس خاکسار ہی نے اٹھایا تھا۔ اس وقت سلیم بھائی زندہ تھے جس کا مطلب ہے یہ لازمی 73کی بات ہے۔ یہ مضامین جھلکیاں کے نام سے نوائے وقت کے ادبی ایڈیشن میں شائع ہوئے تھے جس پر سلیم بھائی سے میری تفصیلی گفتگو ہوتی تھی۔ ان کی رائے بھی البتہ یہ تھی کہ اسلامی نقطہ نظر سے پہلی بار کسی نے کلام کیا ہے وگرنہ مار کسٹوں نے ساری بحث کا ستیا ناس کر دیا تھا۔ میں نے وضاحت کی تھی کہ مرے یہ اعتراضات ویسے ہی ہیں جیسے ایک نقشبندی کو چشتی پر یا ایک حنبلی کو ایک حنفی پر ہو سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ نہیں۔ مجھ میں اتنی جرات نہ تب تھی نہ اب ہے کہ میں انہیں گمراہ کہوں۔

برصغیر میں حسن عسکری وہ پہلے شخص تھے، جنہوں نے رینے گینوں (استاد عبدالوحد یحییٰ) کا تعارف کرایا۔ انہی کے حوالے سے دبستان روایت کا چرچا ہوا اور شواں مارٹن لنگز وغیرہ ہماری فکری بصیرتوں کا حصہ بنے۔ اس فکر کے خلاف پورے برصغیر میں بزعم خود “ترقی پسندوں“ نے جنگ شروع کردی۔

عسکری صاحب پر الزام تھا کہ وہ رینے گینوں کے حوالے سے اسلام کو ادب سے گھسیٹ لاتے ہیں۔ ظاہر ہے ان کے لیے صدمے کی بات تھی کہ جو شخص فرانسیسی ادب کا دلدادہ تھا‘وہ اسلام کا نام جپ رہا ہے۔ مولانا اشرف علی تھانوی کے تراجم کر رہا ہے اور ابن عربی کا تقابل کر رہا ہے۔ ان کے لیے بہت صدمے کی بات تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ دین سے محبت رکھنے والے جم کر حسن عسکری کے کیمپ میں ڈٹے رہے۔ ترقی پسندوں کے اعتراضات بڑے دلچسپ تھے۔ مثال کے طور پر ساقی فاروقی پاکستان میں ان کے اعزاز میں ایک شب ایک طرح کی الوداعی تقریب ان کی بہن شاہدہ کے گھر پر تھی۔ ظاہر ہے گفتگو چھڑ گئی‘ مشہور ترقی پسند نقاد محمد علی صدیقی نے موقع غنیمت جان کر رینے گینوں پر بحث چھیڑ دی۔ لبرل طبقے کو متاثر کرنے کے لیے انہوں نے یہ سطحی سا اعتراض کیا کہ رینے گینوں جمہوریت کے خلاف تھے۔ میں نے تڑپ کر جواب دیا‘ وہ تو آپ ترقی پسند اس جمہوریت کو بورژوا جمہوریت کہتے ہیں، اس پر عزیز حامد مدنی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں جی کہا اور ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ اب جواب دیجئے۔ مدنی صاحب ترقی پسند تو تھے مگر شاعرانہ بصیرت بھی رکھتے تھے۔

 انہوں نے دوسرا اعتراض کیا کہ وہ ترقی (progress) کے خلاف تھے۔ عرض کیا کہ اس سے ان کی مراد کیا ہے۔ وہ اس ترقی کے خلاف تھے، جس کا تصور نشاۃ ثانیہ کے بعد پیدا ہوا اور جو مادی ترقی ہے۔ اس سے پہلے ترقی کا مطلب روحانی ترقی تھی۔ غرض ہماری زندگیاں انہی ترقی پسندوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے گزر رہی تھیں اور بڑا مزہ آ رہا تھا۔ عسکری کے بازو شمشیر زن سلیم احمد تھے اور ہم گویا اس لشکر کے سپاہی جمال پانی پتی‘ سراج منیر اس زمانے میں عملی طور پر میدان میں تھے اور سہیل عمر گویا اس سلسلہ شازلیہ میں بیعت ہو چکے تھے اور وہ مارٹن لنگز کے پاکستان میں مقدم تھے۔ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ مقدم خلیفہ سے پہلے کی ایک منزل ہے۔ انہی دنوں مجھے بھی اس دبستان کی کتابیں پڑھنے کا موقع ملا۔ یہ دراصل سلسلہ شازلیہ کے متاثرین تھے جنہوں نے اسلام قبول کرکے مغرب کے اہل فکر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ان کی بات کا اپنا انداز تھا۔ مجھے سلسلہ شازلیہ کی عظمتوں پر اب اعتراضات ہے نہ تب اعتراض تھا۔ جس طرح برصغیر میں چشتی سلسلے کا چلن ہے اس طرح شمالی افریقہ (المغرب) میں شازلیہ سلسلہ سب سے زیادہ مروج ہے۔ اگرچہ ہمارے ہاں کے چاروں سلسلوں میں اس کا ذکر نہیں آتا مگر ابن عربی کی طرح ان پر بھی قادری فیوض و برکات کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ ابوالحسن شازلی بلاشبہ بلا کے صاحب عرفان صوفی تھے۔ جب رینے گینوں وغیرہ علم و حکمت کے متلاشی تھے تو اس سلسلے کا احیا ہو چکا تھا۔ وہ لوگ اس سے متاثر ہوئے، پھر عجیب عجیب نازک نکات نکالے۔ ظاہر ہے ہر مذہبی روایت نئی تہذیبوں میں جا کر نئے پہلو نکالتی ہے۔ اندلس کی سرزمین سے اٹھنے والی اسلام کی فکری تحریکوں کی اپنی شان ہے۔

 میں یہاں یہ عرض کرتا چلوں‘ یہ دعویٰ نہیں بلکہ ازراہ انکسار اعتراف ہے کہ میں پہلا شخص تھا جس نے مذہبی نقطہ نظر سے اس دبستان کا مداح ہونے کے باوجود اس پر چند اعتراضات اٹھائے۔ یہ اعتراضات طبع شدہ ہیں۔ یقینا 83ء سے پہلے کے ہیں۔ غالباً انہی دنوں میں نے نوائے وقت میں جھلکیاں کے نام سے ایک کالم یہ کہہ کر شروع کیا کہ استاد کا مال ہے‘ مجھ پر حلال ہے۔ یہ میں نے اس تناظر میں کہاتھا کہ اس نام سے عسکری صاحب لکھا کرتے تھے‘ ان کے انتقال کے بعد جب سلیم احمد نے اسی نام سے لکھنا شروع کیا تو یہی بات کی۔ میں نے گویا یہ عرض کیا تھا کہ میں اپنے استادوں کی روایت ہی کو آگے بڑھا رہا ہوں چونکہ ان اعتراضات پر میری سلیم احمد سے مفصل گفتگو ہوتی تھی‘ اس لیے مجھے یقین ہے کہ ان کی زندگی میں یعنی یکم ستمبر 1983ء سے پہلے لکھا گیا تھا۔ اس پر جمال پانی پتی سے بحث بھی چھڑ گئی تھی۔ مجھ میں اتنی ہمت نہ تب تھی نہ اب ہے کہ میں حسن عسکری یا یورپ کے ان نو مسلم مفکرین کو گمراہ قرار دوں۔ میں نے وضاحت کردی تھی میرا اعتراض ایسا ہی ہے جیسا ایک نقشسندی کو ایک چشتی پر یا ایک حنبلی کو ایک حنفی پر ہو سکتے ہیں۔ معاذ اللہ کسی کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کی مجھ میں جرأت نہیں۔ آج بھی میرا یہی موقف ہے اور اس پر بقائمی ہوش و حواس قائم ہوں۔

مجھے یاد ہے میرا پہلا اعتراض اس پر یہ تھا کہ ان کے ہاں روایت مذہب سے Prior پہلے ہے۔ گویا اصل چیز روایت ہے اور مذہب اس میں سے نکلا ہوا ہے۔ سلیم احمد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پہلی بار کسی نے اس پر دینی تناظر میں اعتراض اٹھائے ہیں۔ پھر انہوں نے وضاحت کی کہ آپ روایت کو عسکری صاحب کے معنوں میں لیں۔ برسوں بعد بلکہ حال ہی میں برادرم سہیل عمر نے اس پر مجھے عسکری صاحب کی بعض تحریروں کی نقل بھیجی جو میری نظر سے گزر چکی تھی۔ میں نے سلیم بھائی کو جواباً عرضا کیا کہ نہیں میں روایت کے وہ معنی سمجھتا ہوں جو آپ نے بیان کئے ہیں۔

سلیم احمد نے چار طرح کی تقسیم کی ہے۔ 1۔ مذہبی روایت‘ 2۔ غیر مذہبی روایت۔ ‘ 3۔ روایتی مذہب اور غیر روایتی مذہب۔ اس کے معنی یہ نکلتے ہیں کہ سلیم احمد روایت کو تصوف کے معنی میں لیتے ہیں۔ دبستان روایت کے مطالعے سے جو بات مجھ پر واضح ہوئی ہے۔ وہ یہ ہے کہ سلیم احمد درست کہتے ہیں۔ یہاں مابعد الطبیعات ایک ہونے کی بحث شروع ہوئی ہے۔ ادیان عالم کا معاملہ آتا ہے اور رسالت کا معاملہ بھی آتا ہے۔ یہ بحثیں یہ خاکسار کر چکا ہے۔

اگر روایت کے معنی ایک طرح کی روحانیت یا تصوف کے لے لئے جائیں تو مطلب یہ نکلتاہے کہ اب اس کو سمجھا جائے کہ اس سے کیا مراد ہے۔ سلیم احمد نے جو بحث کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی نظر میں یہ تصوف یہ روحانیت دراصل اس بات سے پھوٹتی ہے کہ التوحید واحد، یعنی توحید ایک ہی ہے۔ جہاں بھی توحیدنظر آئے اسے حق پر سمجھو۔ وہ لوگ تو مابعد الطبیات میں ایک نکتہ نکالتے ہیں‘ وہ یہ کہ میٹا فزکس کے آخر میں ایس (s) کو بھی خارج کر کے میٹا فزک کا لفظ پڑھتے ہیں۔ مرا مسئلہ یہ ہے کہ میں اس معاملے میں بھی ایک نازک سا اعتراض رکھتا ہوں۔ اپنے 83کے مضمون میں اسے میں نے یوں بیان کیا تھا کہ میں وحدت الوجود کا پابند نہیں۔ توحید پر ایمان رکھنے کا مکلف ہوں۔ کیا مطلب‘ کیا میں نے توحید سے انکار کر دیا تھا۔ نہیں بھائی نہیں۔ اصل سلسلہ شازلیہ کی ساری بحث توحید کے اس تصور پر ہے جسے صوفیا وحدت الوجود کہتے ہیں۔

ہمارے ایک صوفی بزرگ عبدالرحمن لکھنوی ہوئے ہیں آپ چاہیں تو فرنگی بھی کہہ لیں۔ انہوں نے کلمہ طیبہ کے ذریعے وحدت الوجود کو ثابت کیا تھا۔ اس پر پیر مہر علی شاہ نے ایک بڑا شاندار رسالہ لکھا جس میں کہا گیا کہ کلمہ طیبہ سے وحدت الوجود ثابت کرنے کا مطلب ہو گا کہ ہر مسلمان کا اس پر ایمان لانا ضروری ہو جائے۔ انہوں نے قرآنی آیات اور حدیث کے ذریعے اس وحدت الوجودی ذکر کی حدود کا تعین کیا۔ وہ خود واحد الوجود مسلک کے تھے‘ مگر انہوں نے کیا خوبصورت تعریف کی۔ میں نے اس پر لکھا تھا کہ میں وحدت الوجود کی اس تعبیر کو مانتا ہوں جو عہد جدید میں پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور مولانا اشرف علی تھانوی نے کی ہے۔ اس پس منظر میں جب میں یہ کہتا ہوں کہ وہ توحید کو ماننے کا پابند ہوں۔ وحدت الوجود کا نہیں۔ میں علامہ اقبال کے مقام پر تو فائز نہیں ہوں کہ ابن عربی پر زندیقی کا بہتان لگا دوں، ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں کہ حضرت شیخ اکبر ابن عربی اور شہاب الدین سہروردی ایک دوسرے کے نظریات کے مخالف تھے۔ خانہ کعبہ میں دونوں کا آمنا سامنا ہو گیا۔ وہ خاموشی سے ایک دوسرے کے پاس سے گزرے۔ بعد میں دونوں بزرگوں سے جب ایک دوسرے کے حوالے سے پوچھا گیا تو دونوں نے ایک دوسرے کی تعریف کی۔ روحانیت کی دنیا میں یہی ہوتا ہے۔ ہم جانے کتنے اکابر صوفیا کے مکاشفات اور سطحیات کی تاویلیں کرتے رہتے ہیں۔

 سو مجھے تو کسی کو گمراہ کہنے یا اس کی تکفیر کرنے سے معزور سمجھیے۔ وہ سب بڑے لوگ تھے میں ان کے پائوں کی خاک بھی نہیں۔ میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ مجدد الف ثانیؒ نے جو موقف اختیار کیا اس کے بعد کم ہی لوگوں کی وحدت الوجود کے حوالے سے کوئی انتہا پسندانہ موقف اختیار کرنے کی گنجائش ہوئی۔ شاہ ولی اللہ تک اس نزاع لفظی کہہ کر اس باب کو بند کیا۔ ہمارے زمانے میں کراچی میں ذہین شاہ ناجی اللہ ذرا اپنا موقف رکھتے تھے۔ ان کا دربار بھی ویسے خوب دربار تھا۔ ان دو نکات کے علاوہ ایک تیسرا نکتہ بھی تھا اور وہ یہ کہ اگر ادیان عالم کی اصطلاح کوئی اصطلاح ہے۔ (یہاں اگر کو نظر انداز نہ کیا جائے) تو میں اس کی صرف اس شاخ کا پابند ہوں، جسے دین ابراہیمی کہا جاتا ہے۔ ویسے دین ایک ہی ہے۔ یہی ہمیں قرآن اور اسلام نے سکھایا ہے۔ یہ بات اس لئے کہی کہ رینے گینوں نے اپنی بات کی وضاحت میں ہندو مت کے حوالوں کو بنیاد بنایا ہے۔ میں نے سلیم احمد سے کہا کہ “آخر یہ رینے گینوں ہندو کیوں ہو گئے۔ یہ بات غور کرنے کی ہے کہ انہوں نے عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کیا۔ کیوں؟حوالے تو وہ ہندو مت کے دیتے ہیں۔ اور اگر وہ دین ابراہیمی کے اس طرح قائل تھے جس طرح رسالت کا سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عیسائیت چھوڑ کر اسلام قبول کیا۔ اس نکتہ کو اہم سمجھا جائے۔ شاید ہندو مت کا حوالہ انہوں نے اس لئے دیا کہ ان کے خیال میں یورپ کا صلیبی ذہن اسلام کے حوالے قبول نہیں کرے گا۔ اس لئے اسلامی نام اختیار کرنے کے بجائے وہ اپنا فرانسیسی نام استعمال کرتے رہے۔ میں اسے منافقت نہیں کہہ سکتا۔ مصلحت کہہ لوں گی اور اگر آپ ناراض نہ ہوں تو مصلحت دینی بھی کہہ سکتا ہوں؟”

اس زمانے میں ایک اعتراض میں نے اور کیا تھا‘ مگر اسے محض تحریر میں نہیں لایا تھا۔ صرف اتنا لکھا تھا یہ کہ توحید پر حد سے بڑھا اصرار رسالت کی نفی ہے۔ زبانی یہ بھی عرض کیا تھا کہ اس گروہ کی فکر میں رسالت کا تصور نہیں ملتا۔ (مارٹن لنگز نے تو ’’محمد نام سے شاندار کتاب لکھی) اس پر جمال پانی پتی بہت بھنائے۔ سراج منیر کراچی آئے تو ان کے پاس عرضداشت لے کر پہنچے انہوں نے دھیرے سے کہا کہ میر ٹھیک کہتا ہے۔ جمال پانی پتی شاید یہ بات لکھ بھی چکے ہیں۔ سچ پوچھیے کہ میں تو شرک فی الرسالت کو بھی گناہ سمجھتا ہوں۔ اس گروہ کے جنونی اسلام کی وجہ سے میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ سب نظری بحیثیں کرتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ماشااللہ،
    روایت کے سفر پاکستان کے بزرگ گواہ
    جناب سجاد میر کی اس تحریر میں
    جلی اور خفی سطح پر بہت سے مفید اشارات مطالعے کی
    غرض سے سامنے آئے ہیں۔
    اس طرح زیر بحث موضوع پر مکالمہ نئی منزلوں کی طرف رواں ہوا ہے۔
    شکریہ محترم سجاد میر صاحب، شکریہ!

Leave A Reply