باغبان اورنندیا چور: نوبل انعام یافتہ ٹیگورکی نظمیں اورعظیم گلزارکے تراجم — نعیم الرحمٰن

0

’’باغبان اور نندیا چور‘‘ صریر پبلشرزکی تازہ کتاب ہے۔ کتاب برصغیر کے واحد اور اپنی بے مثال نظم ’’گیتا نجلی‘‘ پر نوبل پرائز حاصل کرنے والے رابندر ناتھ ٹیگور کے تراجم پر مشتمل ہے۔ یہ تراجم بھارت کے نامور مصنف، ہدایتکار، کہانی و مکالمہ نویس، افسانہ، ناول و خاکہ نگار اور دانشور سمپورن سنگھ گلزار نے کیے ہیں۔ ٹیگور کے کلام اور گلزار کے تراجم نے کتاب کو دوآتشہ بنا دیا ہے۔

شاعر، فلسفی، افسانہ، ناول وڈرامہ نگار، نغمہ نگار، مکالمہ و انشانیہ نگار اور مصور رابندر ناتھ ٹیگور کا اصل نام رویندرناتھ ٹھاکر تھا۔ وہ اپنے والدین دیوبندر ناتھ ٹیگور اور شاردادیوی کی چودہویں اولاد تھے۔ اور7مئی 1861ء کو بنگال میں پیدا ہو ئے۔ ابتدائی تعلیم کللتہ میں حاصل کی۔ 1878ء میں انہیں قانون یاسول سروس کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ بھیجا گیا۔ لیکن وہ ڈیڑھ سال بعد ڈگری لیے بغیر وطن لوٹ آئے۔ آٹھ سال کی عمر میں انہوں نے پہلی نظم لکھی۔ سترہ سال کی عمر میں ٹیگورکی نظموں کی پہلی کتاب ’’سندھیا سنگیت‘‘ شائع ہوئی۔ 1877ء میں پہلی کہانی ’’بھکارنی‘‘ شائع ہوئی۔ ساٹھ سال کی عمر میں مصوری کا آغاز کیا اور آٹھ سال میں تین ہزار پینٹنگ بنا ڈالیں۔ جن کی نمائش نیویارک میں ہوئی۔ ان کی یہ پیٹنگ آج بھی ٹیگور کی یادگارہیں۔ 1883 ء میں میرینا لینی دیوی سے تئیس سال کی عمرمیں رابندر ناتھ ٹیگورکی شادی ہوئی۔ 1901ء میں رابندرناتھ ٹیگور نے بولپور بنگال میں شانتی نکیتن کے نام سے مشرقی اور مغربی فلسفہ پر نئے ڈھنگ کے مدرسہ کی بنیادڈالی، جہاں بچوں کوان کی صلاحیتوں کے مطابق اپنی مرضی کی تعلیم حاصل کرنے کی آزادی حاصل تھی۔ ٹیگور خود بھی شانتی نکیتن میں مقیم ہوگئے۔ یہیں ان کی بیوی اوردوبچوں کی وفات ہوئی۔ ان کا مدرسہ 1921ء میں یونیورسٹی بن گیا۔ شانتی نکیتن میں ہی انہوں نے اپنی بنگالی تحریروں کا انگریزی ترجمہ شروع کردیا۔ جس سے ان کی مقبولیت دنیابھر میں پھیل گئی۔ 1913ء میں رابندر ناتھ ٹیگور کو ان کی بے مثال طویل نظم ’’گیتانجلی‘‘ پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔ وہ نوبل پرائزحاصل کرنے والے دنیا کے پہلے نظم نگار تھے، برصغیر میں وہ پہلے اور اب تک واحد نوبل انعام یافتہ ادیب و شاعر ہیں۔ 1915ء میں شاہ انگلستان جارج پنجم نے انہیں اپنے ہاتھ سے نائٹ ہڈ کو خطاب دیا۔ انہوں نے جارج پنجم کے اعزازمیں مشہور نظم ’’جن من گن‘‘ لکھی، جوبعدمیں بھارت کا قومی ترانہ قراردیا گیا۔ تاہم 1919ء میں سانحہ جلیا نوالہ باغ میں بے شماربے گناہ افراد کی ہلاکت پر رابندر ناتھ ٹیگور نے بطور احتجاج ’سر‘ کا خطاب واپس کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیگور کی شاعری تین ممالک بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے قومی ترانہ میں استعمال کی گئی ہے۔ رابندرناتھ ٹیگور نے یورپ، جاپان، چین، روس اورامریکا کے کئی مرتبہ سفرکیے۔ انیس سو تیس کی دہائی میں انہوں نے یورپ اور امریکا میں’’انسان کا مذہب‘‘ کے عنوان سے کئی لیکچربھی دیے۔ بھارت کی کئی جامعات کے علاوہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے ٹیگور کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ ٹیگور کو بنگالی کا شیکسپیئر بھی کہاجاتاہے۔ 7اگست 1941ء کو یہ عظیم شاعر، ادیب، فلسفی دنیائے فانی سے کوچ کرگیا۔

رابندرناتھ ٹیگور نے تین ہزار گیت مختلف دھنوں پر ترتیب دیے۔ بے شمار نظمیں لکھیں۔ مختصر افسانے، ناول اور ڈرامے تحریر کیے۔ ان کے ڈراموں میں ڈاک گھر، راجا، گورا، وسرجن(چڑھاوا)، اچلیاتان (بے حرکت، ساکن)، مکتادھارا (آبشار)، رکتاکاوری (سرخ کنیز)، والمیکی پرتیبھا (والمیکی کی ذہانت) شامل ہیں۔ جبکہ نسترنرتھ (ٹوٹاگھونسلہ) گورا، گھر دیالو (گھر اور دنیا)، یوگا یوگ (عمل ردعمل) ناول ہیں۔ بے شمار افسانے اور کہانیوں کے علاوہ ٹیگور اپنی یادیں جیون سمرتی(میری یادیں) اور چھلبیلا (میرے لڑکپن کے دن) کے نام سے تحریر کیں۔ ’’اکیس کہانیاں‘‘ کے عنوان سے ٹیگور کی کہانیاں کئی زبانوں میں ترجمہ کی گئیں۔ ان کے افسانے ’’کابلی والا‘‘ پرایک سے زیادہ فلمیں بنائی گئیں۔ جبکہ ان کی کئی اورکہانیاں اورناول بھی فلمائے گئے۔

’’باغبان اور نندیا چور‘‘ کے مترجم سمپورن سنگھ کالرا عرف گلزار18اگست 1934ء کوضلع جہلم کے قصبے دینہ میں پیدا ہوئے۔ وہ اردو کے بہت مشہور نغمہ نگار، فلم ساز، ہدایت کار، کہانی نویس، مکالمہ نگار، شاعر، افسانہ، ناول وخاکہ نگار ہیں۔ ان کی ٹی وی سیریل ’’مرزا غالب‘‘ نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ غالب کے پرستاروں نے نصیرالدین شاہ کی صورت جیتا جاگتا غالب دیکھ لیا۔ جگجیت سنگھ کی موسیقی اور آواز نے سیریل کو چار چاند لگا دیے۔ گلزار دینہ جہلم کی یادوں کو کبھی بھلا نہ سکے۔ پاکستان میں بھی وہ بہت مقبول اور جانے پہچانے ہیں۔ وہ ہندی مکالموں کے ساتھ زیادہ تر اردو اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ پاکستان میں ان کی شاعری اور مختصر کہانیوں کے کئی مجموعے، ناول اور خاکوں اور مضامین کی کتب شائع ہوئی ہیں۔ انہوں نے بھارتی نیشنل فلم ایوارڈ، فلم فیئر ایوارڈ، اردو ادب کے لیے ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ اور پدما بھوشن اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈحاصل کیے۔ اس کے علاوہ فلم ’’سلم ڈاگ ملینئر‘‘ میں ان کے تحریر کردہ گیت ’’جے ہو‘‘ پر گلزار کو آسکر ایوارڈ بھی دیاگیا۔

گلزارنے ’’باغبان اور نندیاچور‘‘ میں رابندرناتھ ٹیگورکی نظموں کے ترجمے کے بارے میں بہت دلچسپ کہانی بیان کی ہے۔ ’’میں جب اسکول میں پڑھتا تھاتو خاندان کے انتظام کے مطابق مجھے اسٹور روم میں رہنا اور رات کو وہیں سونا پڑتا تھا۔ وہاں بجلی بھی نہیں تھی۔ میرے پاس روشنی کے لیے چمنی والالیمپ ہوتا تھا۔ وقت گزاری کے لیے میں کتابیں پڑھتا تھا، جو میں ایک قریبی کھوکھا لائبریری سے حاصل کرتا تھا، جو پاکستان سے آئے ایک مہاجرنے قائم کی تھی۔ وہ کتابوں کاہفتہ وار کرایہ چار آنے لیتا تھا، قطع نظراس کے ہفتے میں کتنی کتابیں پڑھی گئیں۔ میں ہررات ایک کتاب ختم کرلیتا اور اگلے دن دوسری کتاب کے لیے پہنچ جاتا۔ لائبریرین مجھ سے عاجز تھا اور کہتا کہ چار آنہ ہفتہ میں کتنی کتابیں پڑھوگے۔ تاہم مجھے ایک اورکتاب دے دیتا۔ ایک روز اس نے مجھے ایک کتاب دی۔ یہ ٹیگورکی نظموں کے اردو تراجم تھے۔ جس کی پہلی نظم ’مالی‘ مجھے آج بھی یاد ہے۔ اس کتاب نے میرے دل کو چھو لیا، میں اس کے عشق میں مبتلا ہوگیا۔ اس نے میرے مطالعے کے ذوق اورکتابو ں کے انتخاب کو یکسر تبدیل کردیا۔ میں نے کسی نہ کسی بہانے کتاب واپس نہیں کی یہاں تک لائبریرین اسے بھول گیا۔ یہ میری کتاب کی پہلی چوری تھی۔ ستر سال بعدمیں اسے اوریجنل بنگالی ’باغبان‘ سے ترجمہ کر رہا ہوں۔ ‘‘

رابندرناتھ ٹیگوراورگلزارکے مقام سے ہرصاحب ذوق قاری بخوبی آشناہے اورسمجھ سکتاہے کہ دولی جنڈزکی یکجائی سے کیسے شاہکار نے جنم لیا ہے۔ صریرپبلشرزنے بہترین آفسٹ پیپرپرشاندارطباعت وکتابت کے ساتھ شائع کیاہے۔ جس کے سرورق پرنوبل انعام یافتہ ٹیگور اور اس کے پس منظرمیں گلزارکی تصاویرہیں۔ ایک سوساٹھ صفحات کی کتاب کی قیمت سات سواسی روپے ہے۔

کتاب میں رابندرناتھ ٹیگورکی دوکتب’’باغبان‘‘ اور’’نندیاچور‘‘ کی نظموں کے تراجم کیے ہیں۔ باغبان کی اکتیس اورنندیاچورکی تیس نظموں کے تراجم کتاب میں شامل ہیں۔ کتاب کی پہلی نظم ’’باغبان‘‘ ایک مکالماتی نظم ہے۔ ابتدائی مکالمے کچھ یوں ہیں۔

خادم: مہارانی کی جے ہو!
رحم کھاؤ مہارانی، میں خادم ہوں!
ملکہ : مِرادربار برخواست ہوچُکاہے،
مِرے درباری سارے جاچکے ہیں
جہاں بھرکے مقاموں پر، مِراآدیش لے کر
تم اب آئے ہو؟ خادم، آخرِ شب کے اُترتے چاندکی مانند!
خادم: مِری باری ہی آخرمیں ہے جب سب کچھ نپٹ جائے
مہان ہیں آپ تو، اورمیں بہت ناچیزخادم ہوں
سبھی اپنی تمناپوری کرکے جب چلے جائیں،
تبھی ہوتاہوںحاضر
اکیلی بیٹھی ہوں دربارمیں جب آپ !
سب اپناحصہ لے کرجاچکے ہوتے ہیں، جب میں آپ کے
قدموں میں آکرمانگ لیتاہوں انعام اپنا!
ملکہ:تمہیں بے وقت آنے پربھلااب کیاملے گا؟
خادم: میں بس دیدارکرلوں گا، چلاجاؤں گا، ملکہ!
مگرکچھ اوربھی ہے،
جوبچ گیاہے!
بہت درباریوں نے مانگ کرعہدے لیے ہیں
کسی نے اِک جگہ مانگی نہیں، وہ مہرباںہوکرمجھے دیدیں
مجھے گرباغ ہی میں باغباں رکھ لیں!
طویل نظم میں کافی مکالموں کے بعدملکہ، خادم کی خواہش پراسے باغبان رکھنامنظورکرلیتی ہے، اورکہتی ہے۔
ملکہ:کہوپھرکیاانعام ہوگاتمہارا؟
خادم:بس اتناہی کہ ہرصبح۔۔۔۔
کنول کے پتے پرلاؤں گاجب میں پھولوںکے گجرے بناکر
کنول کی پتی سے نازُک،
پکڑکے ہاتھ میں پہناؤںگجراخودکلائی میں،
بس اتناہی۔۔۔
ہمیشہ شام کومیں تازہ پتوںسے اشوک کے ہاربُن کر
اشوک کے تازہ پتوں ہی سے رنگ دُوں تلوے پیروں کے
اگرکوئی گردکاذرہ بچاہوااُنگلیوںپر، چُوم کے اُس کوہٹادوں گا
وہی میراانعام ہوگا
ملکہ: ہمیں منظورہے خواہش تمہاری
بہت سے سنتری، سیناپتی، سینک ہمارے
اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہتے ہیں
مگرتم، اپنی مرضی سے، بناشہرت، بناعہدہ، سداحاضر رہوگے
تمہاراگھرمحل کے باہرہوگا!
ہمارے باغ کے تم باغباں ہوگے!!

اس طویل نظم میں ٹیگورنے کس خوبصورتی سے عشق حقیقی اور مجازی کا تصور پیش کیاہے۔ اللہ، محبوب یاحاکم کی قربت ہی معشوق یا خدمت گارکے لیے اصل اعزازہے۔ اس کا پیرچوم کرگردکاذرہ ہٹاناکسی ایوارڈسے بڑھ کرہے۔ بڑے بڑے عہدے محبوب ہستی کی قربت کے سامنے ہیچ ہیں۔ محبوب حقیقی یامجازی کی قربت اوراس کے احکام کی پاسداری سے بڑھ کرکچھ نہیں ہے۔
میں رابندرناتھ ٹیگورکی فکرانگیز شاعری اورگلزارکے بے مثال تراجم پرناقدانہ نظرڈالنے کاخود کو اہل نہیں پاتا۔ ادب کے ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے دونوں کی نظم ونثرکا عاشق ہوں، اورایک عاشق اپنے ممدوح کے صرف محاسن پرنظررکھتاہے اورانہیں کوبیان کرتاہے۔ ’’باغبان اور نندیاچور‘‘ میں ٹیگور نے اپنی شاعری میں کیفیات ذات کے منطقے روشن کیے ہیں۔ جسے سمپورن سنگھ گلزارنے اردو کا جامع پہناتے ہوئے اس نظم میں اپنامکالمہ نگاری کاہنرکمال مہارت سے پیش کیاہے۔ ان کی لفظیات، زبان وبیان اورمصرعے اتنے بھرپور اور خوبصورت ہیں کہ ان پرترجمہ کے بجائے اصل کا گمان ہوتاہے اورکتاب کی پہلی ہی نظم قاری کواس طرح مسحورکرلیتی ہے کہ وہ اگلی اور پھر اگلی نظم میں کھوکررہ جاتاہے۔ جن کے متنوع موضوعات پڑھنے والے کوحیران کردیتے ہیں۔ ایک نظم’’عاقبت‘‘ میں شاعر سے سوال کیا جاتاہے۔ ’’او شاعر، شام سر پرآگئی ہے/ تمہار ے بال پکنے لگ گئے ہیں/ کبھی تنہائی میں جب بیٹھتے ہو/ صداآتی نہیں کیاعاقبت کی؟‘‘

یہاں شاعرسے پرلوک یا اگلے جہان کی فکرکاپوچھاجاتاہے۔ جس کاوہ جواب دیتاہے۔ ’’ میرے پکنے لگے ہیں بال، پراُن پرنظرکیوں ہے؟ / محلے کے جوانوں اوربزرگوں میں/ سبھی کی عمرکا، ہم عمرہوں میں!/ کسی کے چہرے پرمعصوم سادہ سی ہنسی ہے/ کوئی ہنستاہے آنکھوں کی کنکھیوں سے /کہیں آنسو چھلک جاتے ہیں آنکھوں سے، /کوئی آنسوسُکھادیتاہے مَن ہی میں!/ سبھی اب تک مجھے آوازدیتے ہیں/ مجھے فرصت کہاں میں عاقبت سوچوں!/ میں ہرایک عمرمیں، ہم عمرہوں سب کا/ اگرپکنے لگے ہیں بال، / میرے بال پکنے دو؟

کس عمدگی سے اچھی شاعری کی تعریف کی گئی ہے۔ جوزمان ومکان سے ماورا، ہردور اورہرعمرکے لیے ہوتی ہے۔ شاعرکی عمر کا تعلق اس کی شاعر ی سے نہیں ہوتا۔ کتاب کی تمام نظمیں ایسی دل کوچھولینے والی ہیں، جنہوں نے نوعمرگلزارکے دل پرایسا اثر کیا کہ انہوں نے کتاب چرانے سے بھی گریزنہیں کیا، اورسترسال بعداس کاترجمہ کرنے پرمجبورہوگئے۔ ’’شُبھ گھڑی‘‘ اور’’تیاگ‘‘ میں راج کمارکے دروازے سے گزرنے پرگوری کی تیاری اوراس کی آمدپرمالاتوڑکرراج کمارکے رتھ پراچھالنے کاذکرہے۔ جبکہ ایک لمحے میں گزرنے والے راج کمار کو نہ اس کی تیاریوں کاعلم ہے اورنہ اس کی بے قیمت مالاکی کوئی پروا۔ اس تمام صورت حال کوآج کی سیاست پر منطبق کریں تو علم ہوتا ہے کہ عام سیاسی کارکن سارادن قائدکی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کیاکیاجتن کرتاہے۔ جلسہ ہوتواسے کامیاب بنانے کے لیے دن رات قربان کر دیتاہے۔ لیکن لیڈرکواس کے کسی اقدام کی خبربھی نہیں ہوتی۔ دیگرنظمیں’’لگن‘‘، ’’وصل‘‘، ’’ مہمان‘‘، ’’سنگار‘‘، ’’پیاسی‘‘، ’’ کستوری ہرن‘‘، ’’کرونا(سراب)‘‘، ’’جوگی‘‘، ’’پنچھی‘‘، ’’میلہ‘‘اور’’بیراگ‘‘ بھی ایسی ہی ذومعنی اورپراثر ہیں۔

ایک دلچسپ نظم ’’پونٹو‘‘ ملاحظہ کریں۔ ’’مہینہ چیت کاتھااوردوپہری، ختم ہونے میں نہ آتی تھی۔۔ / زمیں بھی پیاس سے پھٹنے لگی تھی/ ندی جانب سے اک آوازآئی تب/ پکاراتھاکسی نے۔۔ / ’’پونٹورانی،۔۔ اِدھرآؤ!‘‘ / تپی دوپہر، ندیاکے کنارے، / مجھے حیرت ہوئی وہ سنیہہ بھر ی آوازسن کر/ کتابیں بندکرکے میں اٹھا، کھڑکی سے جھانکا/ بڑی سی بھینس اِک کیچڑمیں لت پت، / ندی کے پاس رُک کر، مند مند آنکھوں سے اُس کو دیکھتی تھی/جوگھٹنوں گھٹنوں پانی میں کھڑا۔۔۔ / نہانے کے لیے آوازدیتاتھا۔۔ / مٹھاس اِک گھُل گئی دل میں، ہنسامیں!

نظم کی منظر نگاری کسی افسانے سے بڑھ کرہے اوراس کے اختتام پرایک اچھی کہانی کی مانندتحیرکاعنصربھی موجود ہے۔ ’’باغبان اور نندیا چور‘‘ کی ہرنظم ہرپڑھت پرایک نیالطف دیتی ہے اورہربات کے ایک نئے معنی قاری پرآشکارکرتی ہے۔ ٹیگوراورگلزارکی زبان وبیان اورحرف ومعنی پردسترس توبے مثال ہے ہی، لیکن بنگالی اوراردوکے ان دوعظیم شعراء کی یکجائی نے ایک انوکھالطف فراہم کیاہے۔ اکثر نظمیں متحرک تصاویرکی صورت قاری کواپنی اندرجذب کرلیتی ہیں۔ قاری وقت کی قیدسے آزادہوکرشاعرکے دکھائے مناظر میں گم ہو جاتاہے اوریہ مناظرقاری سے باتیں بھی کرتے ہیں۔ ہرنظم کاایک الگ تاثرہے۔ زندگی کی متنوع جہات اوراس کے تمام ذائقے ہم آہنگ ہو کر پڑھنے والے کے دل میں سماجاتے ہیں۔ کبھی کبھی بچپن میں دیکھابائیسکوپ کاجادوئی ڈبہ یادآتاہے۔ جس کے سوراخ سے دیکھنے پر ہر تصویر آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے اوریہ شاعری ایک عالمی زبان بن کرہرحساس دل پردستک دیتی ہے۔ ٹیگورنے جس خوبصورتی سے شعری جمالیات کوالفاظ کے پیکرمیں ڈھالاہے۔ گلزارنے اسی حسن ونزاکت سے انہیں اردوکاجامع پہنایاہے۔ ٹیگورنے انسانی احساسات کو زبان دی ہے اورموضوعات کے ایسے گوشے بھی پیش کیے ہیں، جنہیں عام انسانی آنکھ دکھانے سے قاصر ہے۔ چونکادینے والے مناظر، شدت احساس ان دیکھے واقعات کا کولاژاس کے دل گدازمصرعوں میں پیش کیے گئے ہیں۔ ٹیگورایسے کُل کاشاعرہے، جس کاہرجُز قابل تحسین اورلائق احترام ہے۔ اس نے چھوٹے چھوٹے مصرعوں میں عظیم بیانیہ پیش کیاہے۔ جن میں تخلیقی اورجمالیاتی توانائی حیران کن ہے اور گلزارنے اس بے مثال شاعری کا گلزاراسی تخلیقی وفورسے ترجمہ کیاہے کہ ان تراجم کوتخلیق کاروپ دے دیاہے اورپون صدی سے زیادہ پرانی یہ بنگالی شاعری آج کے حقائق پر مبنی نظر آتی ہے۔

نظم ’’نندیا چور‘‘ میں ماں کمرپرگاگررکھ کے، پاس کے گاؤں پانی لانے ہی توگئی تھی۔ تب اس کابچہ جاگ گیا۔ ماں واپس آکریہی دیکھتی ہے کہ کس نے میرے بچے کی نندیاچرائی۔ پھریہ آخری چارمصرعے دیکھیں۔ ’’شام کی بازاری جب نپٹے، بچے ماں کی گودمیں لوٹیں، / رات کے سارے پنچھی اُس کے کان مروڑیں گے/ ’’کس کی نیندچُراؤگے اب؟/ کس کی نیند چُراؤگے؟‘‘

ماں کے ہوتے بچے کی نیند کون چراسکتاہے۔ یعنی ماں کی موجودگی میں بچہ محفوظ ہوتاہے۔ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتا۔ شاعر، مصنف، گیت نگار، فلم ساز، اسکرین پلے اورمکالمہ نگارگلزاربھارتی فلم انڈسٹری اورادب وثقافت کی بلندقامت شخصیت ہیں۔ دینہ میں پیداہونے والے گلزاراپنے فلمی کیریئرکاآغازنامورفلم سازبمل رائے کے اسسٹنٹ کی حیثیت سے کیا۔ گزاربھارتی ادب کاایک بڑانام ہیں اور اردو اورہندوستانی زبان کے بہترین شاعروں میں شمارکیے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری اورافسانوں کے کئی مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ایک ناول اورخاکوں کامجموعہ بھی اشاعت پذیرہوچکاہے۔ انھوں نے رابندرناتھ ٹیگورکی نظموں کے دومجموعوں’’باغبان‘‘ اور’’نندیا چور‘‘ کے نام سے شاندارترجمہ کیاہے اوراردوقارئین کوٹیگورکی شاعری متعارف کرایاہے۔ ٹیگورکی نثرکے توکئی تراجم ہوئے ہیں۔ لیکن اردوداں طبقہ ان کی شاعری سے کچھ زیادہ آشنانہیں ہیں۔ ’’باغبان اورنندیاچور‘‘ نے اس کمی کاعمدگی سے ازالہ کیاہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply