زندگی سے پہلے: عامر حسین کے ساتھ آصف فرخی اور شیراز دستی کی گفتگو

0

یہ گفتگو یکم فروری ۲۰۲۰ء کو پاکستان ادب فیسٹیول میں عامر حسین کی کتاب زندگی سے پہلے کی تقریبِ رونمائی کےموقعے پر ریکارڈ کی گئی۔اس میں آصف فرخی اور شیراز دستی کے علاوہ شہریار شیخ، پیرزادہ سلمان، بدر شیخ اور بیلا رضا جمیل کے سوالات بھی شامل ہیں۔

شیراز دستی: عامر حسین کراچی میں پیدا ہوئے۔ تیرہ برس کی عمر میں جنوبی ہندستان گئے اور پھر پندرہ سال کی عمر میں لندن چلے گئےاور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ اگرچہ اب بھی وہ لندن ہی میں مقیم ہیں مگر اپنا ادبی سرگرمی کا اکثر وقت اسلام آباد، لندن اور کراچی میں تقریباً برابر تقسیم کرتے ہیں۔ پاکستان کی جامعات کو وقت دینے کے معاملے میں بہت فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ کئی ایک طالبِ علموں کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جن کے ساتھ برقی خط و کتابت کے ذریعے رابطہ رکھتے ہیں اور ان کی پڑھنے لکھنے میں رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔

فرانسیسی،اطالوی، ہسپانوی، فارسی، ہندی، اردو، انگریزی زبانوں میں لکھنے پڑھنے اور بول چال میں مہارت رکھتے ہیں۔ انگریزی میں ان کے اب تک دو ناول اور کہانیوں کے چھ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ روئل سوسائٹی آف لٹریچر (Royal Society of Literature) کے فیلو ہیں۔ وسیع المطالعہ شخصیت ہیں۔ تصویری یادداشت کے مالک ہیں۔انگریزی ناولوں کی نام ور مصنفہ عظمٰی اسلم خان کے الفاظ میں عامر ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔

زندگی سے پہلےان کی اردو میں پہلی کتاب ہے۔ اس کے پیش لفظ میں آصف فرخی صاحب نے افسانوی لگنے والی اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ عامر حسین صاحب سے اردو میں لکھنے کی فرمائش سب سے پہلے قراۃ العین حیدر نے کی تھی اور ان کی اردو میں پہلی اشاعت پر دعا اور مبارک باد انتظار حسین نے دی تھی۔ ایک اور حسین اتفاق یہ ہے کہ ان کا پہلا انگریزی سے اردو ترجمہ فہمیدہ ریاض نے کیا تھااور اردو میں ان کا پہلا انٹرویو آصف فرخی نے کیا تھا۔

پاکستان ادب فیسٹیول ۲۰۲۰ء کے ہی ایک اور پروگرام میں محترمہ عارفہ سیدہ زہرا نے عامر حسین کے بارے میں بہت مسرت سے کہا کہ ان کا کمال یہ ہے کہ یہ انگریزی کے گلی کوچوں میں گھومنے کے بعد اردو کی وادیوں میں آئے ہیں۔

تو آصف فرخی صاحب کی اجازت سے میرا پہلا سوال بھی عامر صاحب آپ سے یہی ہے کہ یہ انگریزی سے اردو تک کا سفر، جلاوطنی سے گھر تک کا سفر،یا یوں کہیں کہ زندگی سے پہلے تک کا سفر کیسے ممکن ہوا؟

عامر حسین : سفر لکھنے کاتو شروع ہوا ہے آٹھ سال ہوئے یا نو سال ہوئےاور کافی دنوں خواہش تو تھی کہ اردو میں لکھوں مگر۲۰۱۱ء میں یہاں کراچی میں سارا سلیری (Sara Suleri)کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کے۔ ایل۔ ایف۔ [کراچی لٹریچر فیسٹیول] میں اردو کی بات ہو رہی تھی۔ ہم لوگ کہ رہے تھے کہ ہمیں اردو میں لکھنا ہے، مگرمیں نے کہا کہ افسوس ہے کہ کبھی میں شا ید اردو میں لکھ نہیں پاؤں گا، وقت کم ہے۔ پھر ایک دن بس قلم اٹھایا اور لکھا اور فاطمہ حسن آئی ہوئی تھیں لندن میں۔ انہوں نے مجھے کتاب دی جس میں ایک لفظ پڑھا افسانچہ اور میں نے کہا چلو ایک چھوٹی سی کہانی لکھ لوں ایک کہانی سے دو ہو گئیں۔ آصف کو تو میں سب کچھ دکھاتا ہوں تو ان کو میں نے دو کہانیاں بھیج دیں۔ تو انہوں نے کہا چلو اب تمہیں پانچ کہانیاں اس طرح کی لکھنی  ہوں گی۔ ایک ہی راوی کے نام سے میں نے وہ پانچ کہانیاں لکھ ڈالیں پانچ ہفتوں میں۔تو یہ لندن آئے بھی، خوب ہم نے باتیں بھی کیں۔ انہوں نے کچھ بدلا بھی نہیں ان کہانیوں میں۔ مجھے تو لگتا ہے آصف کہ آپ نے شاید ایک کوما کا اضافہ کیا تھا کہیں۔ اس کے بعد میں نے سوچا کہ اور لکھوں۔پھر دو سال ہو گئے پھر ایک اور کہانی لکھی۔ بیچ میں دو اور کتابیں بھی آ گئیں انگریزی میں۔ پھر آخر اس سال یا لگتا ہے پچھلے سال ایک سال ہوا ہے ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی تو شاہ بانو نے، جنہوں نے میری انگریزی کی ایک کتاب ہرمِٹاج (Hermitage)یہاں پر چھاپی تھی،انہوں نے کہا بچوں کے لیے دو کہانیاں لکھو۔ میں نے کہا بچوں کے لیےمیں نہ انگریزی میں لکھتا ہوں،نہ اردو میں لکھتا ہوں تو کیا لکھوا رہی ہیں آپ؟ تو کہنے لگیں نہیں نہیں تم بچوں کے بارے میں لکھو۔ بچوں کی طرح مت لکھو۔ تو دو تین اس طرح سے کہانیاں ہو گئیں۔ تو پھر انہوں نے کہا چلو کتاب چھاپ لیتے ہیں تمہاری اردو کہانیوں کی۔ تو میں نے دیکھا اور کہا اتنی ساری تو ہیں نہیں کہ کتاب چھاپوں۔ تو انہو ں نے جواب دیا کہ کچھ ترجمے بھی شامل کر دیتے ہیں۔ آصف کے بھی تو تین تھے۔ فہمیدہ ریاض کا بھی بہت خوبصورت ترجمہ تھا” چھوٹی چھوٹی کہانیاں”جو میری پرانی کہانی “Little Tales” کا ترجمہ ہے۔ وہ کہانی میں نے ان کو دے دی تھی کہ یہ تو آپ کی ہو گئی، میری نہیں ہے اب۔ مگر اس کہانی کو کہیں تو شامل کرنا تھا۔ تو اس طرح سے شاہ بانو نے دو تین اور ترجمے کیے۔تو آدھی میری کتاب اردو کہانیوں کی ہےاور آدھی کتاب میں ترجمے ہیں جو دوستوں نے کیے اور چاہنے والوں نے کیے۔ مگر اب کچھ ایسا ہوا کہ دل چاہتا ہے کہ اردو میں لکھوں۔ آپ سب لوگ مانگتے رہتے ہیں اردو کی کہانیاں تو دیکھتے ہیں شاید اور بھی آئیں۔

 شیرازدستی : ایک گزارش میں نے آپ سے کی تھی کہ اسلام آباد کے حوالے سے بھی ایک کہانی آپ کو لکھنی چاہیے۔

عامر حسین: ایک ہے۔ حالانکہ میں نے وہ انگریزی میں لکھی تھی، لیکن اس کا ترجمہ اس کتاب میں شامل ہے۔ اس کا نام ہے “جھیل “۔ مگر شاید آپ پہچانے نہیں ہیں۔ پھر سے پڑھیے آپ کو پتہ چل جائے گا۔

 شیرازدستی : آصف فرخی صاحب آپ کا عامر صاحب سے اور ان کے کام سے پہلا تعارف کیسے ہوا؟پھر آپ نے ان کے کام ترجمہ کرنے کا فیصلہ کیسے کیا؟

آصف فرخی: آپ کے اس سوال کا جواب دینے سے پہلے میں شہروں کی بات صاف کرنا چاہتا ہوں کہ یہ اپنی زندگی کن شہروں میں گزارتے ہیں۔ تو آپ نے کہا اسلام آباد، لندن اور کراچی۔ تو میں تو کہنا چاہوں گا کراچی، لندن اور اسلام آباد۔ اس لیے کہ یہ لندن میں بھی رہتے ہیں تو یہ شاید دن میں لندن میں رہتے ہیں اور رات کو یہ کراچی میں سو جاتے ہیں۔ اور خواب کراچی کے بارے میں دیکھتے ہیں۔

عامر حسین: رات کو کراچی میں سو جاتا ہوں اور علی الصبح جاگ کے آپ لوگ جب مجھے خط لکھنا شروع کرتے ہیں جب میرے یہاں لند ن میں صبح کے 4اور 5 بجے ہوتے ہیں تو اْٹھ کر بیٹھ جاتا ہوں۔ تومیں کام بھی کراچی کے وقت کے مطابق کرتا ہوں۔

آصف فرخی: تو شہر بدلتے رہتے ہیں۔ اور کراچی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔ مجھے ان کا حوالہ سب سے پہلے ملا فہمیدہ ریاض کے ذریعے۔ فہمیدہ ریاض واپس آئیں اور مجھے انہوں نے کتاب دی جو اب تک میں نے سنبھال کے رکھی ہے۔ جس میں عامر کے دستخط تھے۔اور وہ کتاب انہوں نے فہمیدہ کو دی تھی۔فہمیدہ نے مجھے کہا یہ لے جاؤ اور اس کو پڑھو۔ عامر نے بڑے خوبصورت الفاظ میں فہمیدہ کا ذکر اس نوٹ میں کیا تھا۔ میں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا۔ اس سے پہلے میں عامر کی تحریریں نہیں جانتا تھا۔ اس کتاب کے پڑھنے کے بعد جب یہ کراچی آئے تو پہلی بار ملاقات ہوئی۔ تو عامر سے کراچی میں لندن میں اور لاہور میں ملاقات ہوئی۔ مجھے یہ اندازہ ہوا کہ چاہے عامر اردو میں نہ بھی لکھیں پر اردو افسانے سے ان کی واقفیت زیادہ تھی۔ یہ اردو کے بعض ایسے پہلوؤں سے واقف تھے جن کو آج کے نقاد یا افسانہ نگار زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ لکھنے میں آپ[عامر] نے ان پر خاصی توجہ دی ہے۔ آپ نے کچھ کہانیوں کے بارے میں بات کی تو مجھے بار بار احساس ہوتا تھا کہ آپ اردو کہانیوں میں جو الفاظ کا تسلسل ہے اس پر خاص توجہ اور دھیان دیتے ہیں۔ تو یہ جی چاہا کہ آپ کی تحریر کو اردو میں پڑھا جائے۔ پھر قرۃ العین حیدر نے آپ سے کہا: ” میاں تم اردو میں کیوں نہیں لکھتے؟”تو یہ ساری باتیں ہیں۔جن کی وجہ سے شیراز صاحب یہ تعارف ہوا۔ اور ایک اور بات مزید کہوں گا کہ ان کی کہانیاں کچھ انگریزی میں پڑھیں جو مجھے بہت پسند آئیں۔ ایک کہانی کا ترجمہ کرنے کی کوشش کی اور ایک صفحے کے بعد چھوڑ دیاکیوں کہ وہ بہت مشکل لگا۔ وہ اس لیے کہ انگریزی ان کی اتنی خوبصورت اور مرصع تھی۔ لیکن ان کی ایک کہانی نے میرے پاؤں پکڑ لیے۔وہ کہانی” کریمہ” ہے۔ وہ کہانی شاید عامر حسین کی سب سے زیادہ دل خراشتہ ہے۔ ایک عورت کا دکھ، جلاوطنی،بے وطنی،بار بار وطن تبدیل ہونا۔ زندگی اس کے ساتھ جو سلوک کرتی۔ تو مجھے لگا کہ جب تک میں اس کہانی کا ترجمہ نہیں کر لوں گا تب تک یہ کہانی میرا پیچھا نہیں چھوڑے گی۔ اور اس طرح عامر حسین کی کہانیوں سے میری انوالمینٹ کی نوعیت بڑھتی بھی رہی اور بدلتی بھی رہی۔

شیرازدستی: عامر صاحب آپ نے کہیں اپنے کرداروں کے حوالے سے یہ کہا بھی ہے کہ آپ ان کے کرب کے گواہ ہیں۔ مجھے یہ لگتا ہے کہ آپ کے کردار -شمس خانم ہو، زہرہ ہو، کریمہ ہو، سارا ہو یا مایا، درد کی شدت اپنے ساتھ لیے پھرتے ہیں۔اور آپ نہ صرف ان کے کرب کے گواہ ہیں بل کہ نوحہ خواں بھی ہیں۔اور آپ کے افسانے کی بُنت نرم ہے تو مجھے ایسے لگتا ہے کہ جب ہم ان کہانیوں کو پڑھتے ہیں تو وہ شدت تھوڑی بہت کم سی ہو جاتی ہے،یعنی اس کا اظہا ر ہو جانے کے بعد لیکن لکھنے کے عمل میں تو آپ یقیناً اس کرب کو محسوس کرتے ہوں گے؟

عامر حسین: اس لیے افسانہ لکھنا مجھے بہت مشکل لگتا ہے کیوں کہ جب تک وہ کرب حد سے نہیں بڑھتا تو میں لکھتا نہیں ہوں۔ یا میں اس وقت لکھتا ہوں جب کوئی مجھے زور ڈالتا ہے لکھنے کا۔ مگر پھر وہ جمی ہوئی چیزیں آجاتی ہیں کہانی میں۔ایڈٹ کرتے وقت میرے خیال سے کچھ سکون سا محسوس ہوتا ہے۔ٹھنڈک پہنچ جاتی ہے دل کو۔مگر لکھتے وقت میں بہت زیادہ مبتلا ہو جاتا ہوں ان کرداروں کے احساس میں۔ یہ تو ہے۔ مگر میرے خیال میں وقت کے ساتھ ساتھ عادت سی ہو جاتی ہے۔ کبھی ہنس رہے ہیں کبھی رو رہے ہیں۔

شیرازدستی: آپ کی بہت سی کہانیاں تعلق داری کے حوالے سے ہیں۔ ہنس کا استعارہ، اور اصل کردار آپ کی تین چار کہانیوں میں آتے ہیں۔جس سے مجھے عباس تابش کا وہ شعر بھی یاد آتا ہےکہ :

ہم ہیں سوکھے ہوئے تالاب پہ بیٹھے ہوئے ہنس
جو تعلق کو نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں

تعلق داری کا جو شعور آپ قاری کو دیتے ہیں کیا وہ شعور ی ہے؟ اور یہ حقیقی کتنا ہوتا ہے اور استعاراتی کتنا ہوتاہے؟

عامر حسین: دیکھیں میں نے مایا اور ہنس میں جو کہا ہے وہ سچ ہے۔ ہمارے گھر کے ساتھ ایک تالاب ہے جہاں میں اپنی دوست کے ساتھ گھوما کرتا تھا۔ وہ ایک ہنس پہ عاشق ہوگئیں اور پھر ایک شام کو بہت سردی تھی، برف جمی ہوئی تھی۔ تو اس پہ وہ چلنے کی کوشش کر رہی تھیں، ہنس کو کھلانے کے لیے۔ میں بار بار اس جھیل پہ جاتا ہوں ہنسوں کی تصویریں لیتا ہوں۔ پھر اسی وجہ سے جب میں کوئی دیومالائی کہانی یا کوئی تمثیل پڑھتا تھا (جو خاص طورپر بدھسٹ کے ہاں ہوتی ہیں۔ یہاں راجہ رسالو میں بھی بہت سی ہنسوں کی کہانیاں ہیں)، تو وہ مجھے بہت متاثر کرتی تھی۔ کافی اثر ہوتا تھا ان کا۔پھر میں نے لے لے کے کہانیاں یوں تو پھر سے سنائی ہیں۔الگ زاویے سے یا پھر اپنی لمبی کہانیوں میں شامل کردی ہیں۔مگر ہنس پرندہ مجھے خوبصورت بہت لگتا ہے۔اور میرے گھر کے ساتھ جو تالاب ہے اس میں سے ایک ہنس آ کے میرے ساتھ کھیلا کرتا ہے۔وہ کبھی کبھی مردہ ہونے کا ڈھونگ بھی کرتا ہے۔اور جب کوئی اور لوگ آتے ہیں اس کے پاس وہ مردہ جیسا ہو جاتا ہے۔میں آتا ہوں تو ناچنا شروع کردیتا ہے۔تیرنا شروع کردیتا ہے۔مجھے پتہ نہیں کہاں کہاں تک لے جاتا ہے۔ابھی آٹھ نو مہینوں سے میں اس کے ساتھ مل نہیں سکا ہوں۔ کیوں کہ ٹانگ ٹوٹی تھی تو میں وہاں جاتا نہیں تھا۔ابھی میں جب گیا۔مئی یا جون کے مہینے میں۔تو وہ وہاں نہیں تھا یا مجھے پہچانا نہیں، تو یہ حقیقت بھی ہے اور استعارہ بھی ہے۔

شیرازدستی: مایا میں ریشم کون ہے ؟ اس میں خیال کیا ہے ؟حقیقت کیا ہے ؟ کہانی کے آخر میں وہ ریشم کو پکار رہی ہوتی ہے یا راوی کو؟

عامر حسین: نہیں وہ راوی کو پکار رہی ہوتی ہے۔ وہ ٹوٹی ہوئی چیزیں ہیں۔ ان کا رشتہ بھی ٹوٹ گیا۔ہنس کو بھی وہ اس طرح سے دیکھتی ہے۔ اس کا پر بھی شاید ٹوٹ گیا تھا کسی وقت۔پھر اپنے شاید دوست کو بھی سمجھتی ہے کہ کسی طرح شاید ٹوٹ گیا ہوگا۔اس کو چھوڑ گئی شاید۔تو یہ سب چیزیں ساتھ آ جاتی ہیں۔مگر لکھتے وقت لاشعوری طور پہ یہ ساری چیزیں ہوتی ہیں۔سوچ کے تھوڑی لکھتے ہیں کہ ہم کچھ ایکس پلین کرنا چاہتے ہیں۔یہ تو آ جاتی ہیں باتیں۔ اس کی آواز کی بازگشت آئی۔ جو کچھ زندگی میں ہوا تھا-تو یہ کہانی حقیقی ہے۔ اس کو نچوڑ کر کہانی میں ڈالنا مجھے یہی صحیح لگا کہ اس طرح سے راوی اس کی آواز سنےاور اس کو بیان کرے۔ اس طرح کےنیم خواب ہیں۔

He is dreaming. He is partly dreaming.

بہت ہی مشکل تھا کہانی کا وہ حصہ، جب میں نے اس کہانی کو انگریزی میں لکھنے کی کوشش کی تو اس “پیسیج” کوبالکل ہی نظر انداز کر دیا۔اور بہت ہی روکھے جملے سے اس کہانی کو ختم کردیا۔

شیرازدستی: آصف فرخی صاحب آپ کو عامر صاحب کی کہانیوں میں کسی خاص موضوع پر زیادہ فوکس نظر آتا ہے؟کیوں کہ آپ نے زندگی سے پہلےمیں شامل انٹرویو کے آغاز میں لکھا بھی ہےکہ جلاوطنی، دربدری، ہجرت کے موضوعات ان کی کہانیوں میں زیادہ نمایاں ہیں۔

آصف فرخی: ایک بات تو یہ ہے کہ وہ انٹرویو کچھ پرانا بھی ہو گیا ہے۔تقریباً 24 سال پہلےریکارڈ کیا گیا تھا اور وہ نیوزلائن میں غالباً شائع ہوا تھا۔ مگر میں ایک بات کہوں گاشیراز صاحب کہ عامر حسین کی کہانیوں میں نہ مجھے ایک موضوع ملتا ہےاور نہ میں موضوع کی تلاش کرتاہوں۔کیوں کہ ہر کہانی میں ان کے ہاں ایک کیفیت ہوتی ہے۔تو میں تو اس کیفیت سے اپنا رابطہ جوڑنے کی کوشش کرتا ہوں۔ایک دلچسپ بات جو اس کتاب میں محسوس ہوتی ہے جب میں اسں کو دوبارہ پڑھتا ہوں کہ عامر کی جو انگریزی کی کتابیں ہیں یہ ان سے کافی مختلف ہے۔دیکھیے، انگریزی کے ان کےجو 6 مجموعے ہیں۔ان میں ایک خاص دور،خاص زمانے کی لکھی ہوئی کہانیوں کو جمع کردیاہے۔ اس کتاب میں جو کہانیاں ہیں یہ ان کی زندگی بھر کا سرمایہ ہیں۔اوریہ مختلف مراحل سے گزری ہیں۔ کچھ کہانیاں ایسی ہیں جو بڑی حقیقت پسندانہ اور جس کو ہم سوشل ریئل ازم کہہ لیں۔ اور کچھ آپ بیتیاں بھی ہیں۔ بعض کہانیاں بہت ہی شاعرانہ ہیں۔ اب ان کے ہاں ایک نئی جہت یہ آئی ہے کہ کہانی کو انہوں نے بہت سمیٹ کے مختصر کر کے جامع بنا کے حکایتوں کی طرح لکھا ہے۔ تو کہیں رومی سے کہیں عطار سے کہیں لیلیٰ مجنوں کے واقعے سے، کہانیاں بہت ہی سمٹی ہوئی شکل میں حکایت کی فارم میں نظر آتی ہیں۔ تو عامر کے ہاں موضوع اور موضوع کو ٹریٹ کرنے کا طریقہ، موضوع کے ساتھ جو برتاؤ ہے وہ بدلتا رہتا ہے۔ یہ سارے بدلتے ہوئے رنگ اس کتاب میں نظر آتے ہیں۔ عامر کے ہاں جو چیز بہت ہی کھل کے نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ عامر اردو میں بہت مسکراتے ہیں۔ مثلاً ان کی ایک کہانی ہے “حوصلہ مند”۔ اس میں ایک خاتون ہے جو تھوڑی بہت گڑ بڑ بھی کرتی ہے، کھانا پکانے کے نام پہ آتی ہے۔اماں سے پیسے لے جاتی ہے کہ حلیم پکاؤں گی، فلاں چیز پکاؤں گی اور لوٹ کر واپس نہیں آتی۔ پھر ان کے ساتھ ایک صاحب ہیں جو ساتھ ہیں بھی نہیں بھی ہیں۔قالین بھی صاف کر لیتے ہیں، بریانی بھی بنا لیتے ہیں۔ اس کہانی میں ایک ہیومر(humour) ہے۔ یعنی وہ خاتون کہیں خراب کردار یا مضحکہ خیز کردار نہیں بنتی۔ پر جینٹل طریقے سے آپ اس کے بارے میں پڑھ کر لطف لیتے ہیں۔

عامرحسین: ہاں کیوں کہ کہانی میں جو بیگم صاحب ہیں جن کو اماں کہا جاتا ہے،وہ بہت ہمدرد ہیں۔اور اس کو کہتی ہیں کہ میں کوئی خدائی فوجدار تو نہیں کہ میں اس کی تنقید کروں۔تو کرنے دیتی ہیں وہ جو کرتی ہے۔اور برداشت کر لیتی ہیں۔ یہ تو ہوتا ہے لندن میں۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں۔ابھی تک بھی ہیں بہت سے۔اور جو جو میں نے نہیں لکھا۔ وہ تو شاید اور بھی زیادہ دلچسپ ہے۔

آصف فرخی: ہاں، دلچسپ تو ہوگا یقینا مگر جو آپ نے نہیں لکھا اس کی طرف بھی اشارہ ضرور کیا ہے۔ اور خاص طور پہ کہانی کا جوآخری ٹکڑاہے۔ جب وہ قاشیں کھائی جا رہی ہیں۔تو ایسا لگتا ہے کہ زندگی کی بھی قاشیں کھل رہی ہیں۔اور بہت سی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔بڑا پویٹک ٹچ(poetic touch) ہے اس میں۔

عامر حسین: دیکھیے ایسی کہانی انگریزی میں پہلے نہیں لکھی جا سکتی تھی۔ بعد میں میری والدہ نے ترجمہ کیا اس کا کافی بدل کے۔ کیوں کہ وہاں پہ اگر ایسی کوئی کہانی لکھے تو کہیں گے دیکھو آپ باہر سے آنے والے لوگوں کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اور ان کو برا بتا رہے ہیں۔ اپنی زبان میں بتا کے اپنے ہی لوگوں کے ساتھ پھر ہنس بھی سکتے ہیں نا۔

آصف فرخی: دیکھیں عامر آپ نے اس کردار کا مذاق نہیں اڑایا۔ اور نہ ہی باہر سے آنے والوں کا مذاق اڑایا ہے۔ بلکہ خاصی ہمدردی کے ساتھ ان کے بارے میں لکھا ہے۔ تو وہ اگر مذاق ہے تو وہ لطف ہے۔ اس مذاق کی بات کو میں چاہوں گا کہ اگر آپ اس کی کچھ وضاحت کریں۔

عامر حسین: کیوں کہ ہنسی تو آتی ہے۔ اپنے آپ پہ ہنسی آتی ہے نا۔ کہ ہم لوگ با ر بار بدھو بنتے ہیں۔ کہ کوئی کہے کہ ہم لوگ بریانی لے کر آ رہے ہیں۔ ہم قالین ڈال رہے ہیں۔ پیسے زیادہ لے لیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم آئیں گے پھر نہیں آتے۔یا پھر ایک دم سے ڈیل کو دگنا کر دیتے ہیں۔ اور اگر کسی کے پاس اکاؤنٹ نہیں ہوتا تو کھلے پیسے دینے پڑتے ہیں، تو اگر ہنسیں نہیں تو کیا کریں ہم؟ روئیں ؟

آصف فرخی: روئیں تو نہیں۔ لیکن اس کہانی میں مجبور کون ہیں؟ شاید بیگم صاحبہ بھی مجبور ہیں اور وہ جو خاتون یہ سب کہ رہی ہیں دونوں ہی مجبور ہیں۔

عامر حسین: مگر جس کے ہاتھ میں پیسہ ہےوہ تو اپنے آپ کو کم مجبور سمجھے گا نا!

آصف فرخی: لیکن بریانی بھی تو کھانی ہے۔

عامر حسین:مگر جس کے ہاتھ میں پیسہ ہے وہ تو خود کو کم مجبور سمجھتا ہے نا۔بریانی کھانا تو عیش پسندی ہوئی۔ خاص طور پر لندن میں اچھی بریانی کھانا توعیش پسندی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

آصف فرخی: یہ عیش پسندی تو ہے لیکن ایک دلچسپ تضاد بھی ہے کہ رہیں گے بھی لندن میں اور بریانی بھی اچھی چاہیں گے۔

شیرازدستی: آصف صاحب آپ نے عامر حسین صاحب کی کہانیوں میں جو شاعرانہ رنگ کی بات کی ہے، میں اس کی طرف آ ؤں گا اوراس کی میں چھوٹی سی مثال دینا چاہوں گا۔ ان کی ایک کہانی ہے “37 پُل”۔ جس میں لیلیٰ کے افسانوں کی تعریف میں یہ لکھتے ہیں:”بھائی بہنوں کے جدا ہونے کے افسانے، بچوں کے کسی ٹوٹے کھلونے کی وجہ سے ٹوٹی ہوئی دوستی کے افسانے، سیاسی جلوس کی ہلچل میں پیدا ہوتی ہوئی محبتوں کے افسانے۔ مختصرخفیف کبھی کسی ہوا کےآنچل میں دم توڑنے والے پرندے کی سانس کی طرح، کبھی کسی رقاصہ کےگھنگھرو کی جھنکار کی طرح، کبھی زخمی خرگوش کے خون کی ہری گھاس پرگری ہوئی لال بوند کی طرح، کبھی شام کے آخری انگاروں کی طرح دہکتے ہوئے افسانے۔ “

یہ جو افسانوں کی تعریف کرتے ہوئے زبان کے اندر جو شاعرانہ رنگ ہےجو آپ کی نثر میں کچھ اور جگہوں پر بھی آتا ہے، کیا یہ ماحول کے مطابق ہوتا ہے،ضرورتاً آتا ہے ؟ کیوں کہ اس رنگ کی کوئی بھر مار بھی نہیں ہے۔

عامر حسین: میں اس کا سیدھا سادا جواب ہی دے سکتا ہوں کہ یہ میں نے جن کے بارے میں لکھا تھا وہ ترکی میں لکھ رہی ہیں۔اصل میں جو ریئل کریکٹر(real character) ہے وہ عربی میں لکھتی ہیں۔ اور اردو میں، عربی میں، فارسی میں،اٹالین تک میں شاعرانہ انداز قبول کیا جاتا ہے۔ انگریزی میں ذرا کم قبول کیا جاتا ہے۔ تو اسی وجہ سے ہے۔ اور میں شاعری بہت پڑھتا ہوں۔نظمیں بہت پڑھتا ہوں، عربی کے ترجمے اور فارسی میں تو اوریجنل متن پڑھتا ہوں، شاید کسی حد تک اردو سے بہتر فارسی پڑھتا ہوں۔ توشاعرانہ رنگ آ جاتا ہے کسی نہ کسی طرح۔ شاید اِسی وجہ سے میں اردو کی طرف گیا فاطمہ حسن نےکہا تھا کہ آپ اردو اچھی خاصی بول لیتے ہیں تو جیسے بولتے ہیں ویسے لکھیے۔ اور جب میں بیٹھا لکھنے کو تو “شمس خانم” لکھی تو بالکل ویسے نہیں لکھ پایا جیسے بولتا ہوں۔اور میں تو عام روزمرہ کی ہندوستانی اردو بولتا ہوں۔ اور میں نے وہ شاید 11 سال کی عمر میں سیکھی تھی اور اس سے پہلے اردو آتی نہیں تھی یہاں پہ۔ انگریزی سکول میں گیا تھا تو انگریزی بولتے تھے۔اور اگر منہ بھی کھولا اردو بولنے کے لیے گھر میں تو والدہ کہتی تھیں غلط بول رہے ہو، چپ رہو۔ تو بولی ہی نہیں۔ پھر بعد میں جاکر اِندور میں سیکھی تو جیسی ہے ویسی ہے۔تو اس زبان میں تو نہیں لکھ پایا۔ اس کہانی میں فارسی کا اتنا اثر ہے۔جب کہ شمس خانم تو تھی ہی ایرانی تو اس کہانی میں شاید اسی وجہ سے رنگ آ گیا۔تاہم میں روزمرہ میں ایسے تو نہیں کہوں گا کہ ان کو سپرد آتش کر دیا گیا، سپرد خاک نہیں۔ ایسی زبان تھوڑی میں بولتا ہوں۔ تو شاعرانہ رنگ تو آیا مگر پہلی کہانیوں میں زیادہ آیا۔ اب شاید جا کے کم آتا ہے۔ اب جو چار پانچ لکھی ہیں کہانیاں ان میں شاید مبالغہ اُس طرح کا نہیں ہے۔ ایک عربی میں لفظ ہے زخرفة،ornamentation، یہ اب نہیں کرتا میں، کم کرتا ہوں۔

شیرازدستی: آپ نے اس کتاب میں تخلیقی قرأت (creative reading)کا تجربہ بھی کیا ہے۔ خاص طور پر آپ نے عطار اور رومی سےجو کچھ چیزیں لی ہیں ان کا انتخاب کیسے کیا؟

عامر حسین: سچ پوچھیں تو کوئی پر یا کوئی ایسی ہی چیز لے کے کتاب میں رکھتا ہوں اور جو بھی کہانی کھلتی ہے میں اس کو پڑھتا ہوں۔مجھے پسند آئے تو پھر اس کا ترجمہ کرلیتا ہوں۔پہلے میں وہ فارسی میں پڑھ کے پھر اس کا فرینچ میں ترجمہ پڑھتا ہوں، اس سے میں دیکھ لیتا ہوں کہ مجھے صحیح سمجھ آئی۔کیوں کہ فرینچ میں میری بہت ہی پسندیدہ ٹرانسلیٹر ہیں، ایوادی وترائے۔ وہ خود بہت ہی پہنچی ہوئی صوفی تھیں۔جن کا اب مقبرہ رومی کے پاس ہی ہے۔ حوا خانم۔ ان کے فرینچ میں نثری ترجمےہوتے ہیں۔ بہت ہی زیادہ اچھے ہوتے ہیں۔تو میں پہلے فارسی میں نظم پڑھ کےمثنوی پڑھ کے پھرفرینچ میں ترجمہ پڑھ کےانگریزی میں لکھتا ہوں تا کہ کسی انگریزی لفظ کا اثر نہ ہو اس پہ کسی اور کالکھا ہوا۔ مگر سات اور آٹھ چُن کے ان میں سے پانچ ترجمے کرتا ہوں پھر تھک جاتا ہوں۔اور ایسے خود بخود مجھے معلوم ہو جاتا ہے کہ اب چھوڑ دو اسے۔تو آپ اس کو ٹیکنیک کہہ دیں یا کچھ اور کہیں یہ آپ کی مرضی۔کل ایک صاحب مجھے کہہ رہے تھے کہ عمرکے ساتھ ساتھ آپ بہت ہی زیادہ اسپریچوئل (spiritual)ہو رہے ہیں۔میں نے کہا میں ہمیشہ سے تھا۔اس میں کوئی نئی بات تھوڑی ہے۔مگر کوئی اعلان تھوڑی کرتا ہے کیوں کہ ان باتوں کا اعلان کرنا ضروری نہیں ہوتا۔کہانیاں خود اعلان کر دیتی ہیں۔

شہریار شیخ :عامر صاحب آپ ابھی کہہ رہے تھے اور پریزنٹ ٹینس (present tense)میں کہہ رہے تھے کہ یہ کرتا ہوں میں، یہ کرتا ہوں۔ لیکن آپ کی زندگی تو ٹائیم بیسڈ (time based)ہےیعنی فیزز (phases)آئے ہیں۔ تو کچھ بتائیں گے کہ آپ کی زندگی میں اسٹوری ٹیلنگ(story telling) کے مراحل گزرے ہیں جن میں ڈفرنسز (differences)،پہلے اور بعد کے فیزز میں ؟ یا ابھی بھی اور آگے بھی کوئی فیز نظر آ رہا ہے کہ ابھی بھی چینج ہوگا کچھ؟

عامر حسین: میرے خیال سے جب میں نے لکھنا شروع کیا۔ تب میں تیس سال کا تھا۔ اسی وقت ننھیال سے واپس آیا تھا۔ ہندوستان کے خاندان سے مل کے تو وہاں مجھے گھر کی بڑی طلب ہو رہی تھی اور مجھے پتا نہیں چل رہا تھا کہ گھر کہاں ہے۔کبھی کراچی لگتا تھا، کبھی ننھیال اِندور، کبھی بمبئی تو کبھی کوئی اور شہر۔ تو اس کی تلاش میں نکلا۔ پہلی پہلی کہانیاں میں نے اپنی چھوٹی بہن کے بارے میں، اپنے بارے میں لکھیں۔ اپنے آپ کو تبدیل کر کے، سب کوتبدیل کر کے۔ مگر وہ پہلی پہلی کہانیاں تھیں۔ ان میں سے دو تین میں نے رد کر دیں۔ پھر میں نے اپنے آس پاس دیکھا اور کہا کے یہاں کے بارے میں لکھوں، لندن کے بارے میں لکھوں۔مگر انگریزوں کے بارے میں نہیں بلکہ جو لوگ میرے دوست تھے۔ یعنی انگریز بھی شامل ہیں ان میں مگر زیادہ تر عرب،کوئی کوریئن، کوئی ایرانی،ان کے بارے میں لکھا۔ مگر مجھے فطور تھا کہ حقیقت پسندی ہونی چاہیے۔ مجھے تفصیل لکھنی تھی مگر میں نے لکھی حقیقت پسند کہانیاں۔ اور ان میں کوئی سیاسی پیغام تو تھا نہیں۔ تو میں اس کو ڈھونڈتا تھا تلاش کرتا تھا۔ پھر میں نے سمجھا کہ نہیں۔ جو نہیں آتا مجھے تو کیوں کروں۔ اس کا ترجمہ کیوں کروں۔ شاید اس انٹرویو میں بھی آپ سے [آصف فرخی سے] بات کی ہے۔ اگر کچھ ہو تو جیسےپہلی خلیجی جنگ کے بعد 1991ءمیں۔اس وقت کچھ جلنے لگا پھر اس وقت میں نے لکھا اس پہ۔ مگرکچھ اور ہی چیز آ گئی اس میں۔ ریسیزم (racism)کے بارے میں لکھا کہ انڈونییشئن لڑکا مظاہرے میں نکلتا ہے تو اس کو بدمعاش مار دیتے ہیں۔ بوتلوں سے۔ پھر د و تین بہاری خواتین تھیں، ایک بنگالی خاتون تھی جو کام کرنے آتی تھیں وہ بھاگ گئیں۔ ایک اِللیگل مائگرینٹ (illegal migrant)بن گئی تا کہ وہ کچھ پیسہ کما کے گھر بھیج سکے۔ تو ان کی کہانیاں سنیں۔ اور پھر کریمہ لکھی جس کا آپ نے ذکر کیا۔ یہ کہانی شامل ہے زندگی سے پہلے میں۔ اور آصف کی ترجمہ شدہ ہے وہ۔تو اس کو جوڑ کے کہانی جب بنائی تو اس پہ مجھے ذراگلٹ (guilt) محسوس ہوا کہ کسی اور کی کہانی لے لی۔ تو وہ سارے پیسے میں نے خیرات میں وِمین ریفیوج(women refuge) کو دے دیے۔ تو یہ کبھی کبھی ہوتا تھا،اس زمانے میں کچھ خراش سی ہوتی تھی کہ سماجی باتوں پہ بھی کچھ لکھوں۔ پھر اس کے بعد دوسری کتاب آئی، تب تک میں بہت سی اردو کی کہانیاں پڑھ چکا تھا۔ تو شاید تھوڑا سا رنگ ہے۔جیسے ایک کہانی ہے کچھ گمشدہ ہو گئی ہے”دا لاسٹ کینٹوس اوو دا سلکن ٹائیگر (The Lost Cantos of the Silken Tiger)” وہ منیزہ شمسی کی اینتھالوجی (anthology)میں آئی تھی، اس میں اردو افسانے کا بہت رنگ ہے۔اس کو بہت ہی دیو مالائی انداز میں لکھا تھا۔تو وہ تھی تیسری کتاب۔ جب تک چوتھی لکھی تب تک یہ جو آپ [شیرازدستی]نرم انداز کی بات کر رہے ہیں تو میں نے کہا یہ میرا انداز ہے اسی انداز میں لکھوں گا۔ آس پاس کی چیزیں، پرانی یادیں کبھی کبھی کوئی تفسیر۔ بس اسی طرح سے چلتا رہا۔ پھر آپ کہہ رہے ہیں آصف کہ اردو میں رنگ بدلے کہانیوں کا۔ تو شاید کچھ ایسی زبان کی تلاش تھی جو انگریزی میں ظاہر نہیں ہوئی تھی۔ اور جو بچہ اپنی زبان سے بچپن سے محروم رہتا ہےتو ایک طرح کا خلا ہوتا ہے اس کے دماغ میں۔ یہ جو عربی میں نہیں لکھتے اور فرانسیسی میں لکھتے ہیں یہ شمالی افریقہ کے لکھنے والے یا مثلاً آسیا جبار (Assia Djebar)کا بہت اثر تھا مجھ پہ۔ اور وہ ہمیشہ یہ نوحہ دہرا یا کرتی تھیں کہ میں نے عربی نہیں سیکھی، میں عربی میں نہیں لکھ پائی۔ پھر طاھر بن جلون (Tahar Ben Jelloun)ہے مشہور ادیب۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ فرانسیسی میں عربی لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو یہ سارے تجر بوں سے گزر کے پھر میں نے کہا، نہیں میں اپنی زبان میں لکھوں گا۔ یہی تو ہے میری اپنی زبان۔ اور دیکھا کہ کچھ ایسی باتیں ہیں جو انگریزی میں نہیں آتی تھیں۔ حالانکہ میری اردو کبھی بھی اتنی اچھی نہیں ہوئی کہ جتنی میری انگریزی ہے، ووکیبلری (vocabulary)اتنی بڑی ہے ہی نہیں۔ کم الفاظ ہیں۔ اور پھر کم الفاظ میں میں گھوم پھر کے کہانی کو لکھتا ہوں جو چھوٹی سی ہوتی ہے اور مختصر سی۔

شیرازدستی: عامر صاحب،آپ اپنے کام میں مخلوط زبان استعمال نہیں کرتے۔ انگریزی لکھتے ہیں تو بالکل خالص، اردو لکھتے ہیں تو بھی خالص۔ آج کل تو کثیراللسانیاتی اور کثیر الثقافتیاتی زمانہ ہےاور آپ تو لندن میں رہتے ہیں جوکہ بہت متنوع ہے، ملٹائیکلچرل(multi-cultural) ہے۔ تو یہ پھر آپ کیوں اپنی کہانی کولسانی لحاظ سے خالص رکھنا چاہتے ہیں؟

Aamer Hussein: Well, I think the narrative prose should be pure. I think we should respect any language we write in. And try to keep the narrative pure. Dialogue can do all kinds of things. It can move from one register to another. It can use vocabulary from another language. But there should be some standard we maintain to keep a language pure. And unfortunately, Urdu is going to be more affected by English words we don’t really use at all.

جیسے میں نے بک ریڈ کی تھی اور میں نے روڈ کراس کیا۔ یہ کیوں کہہ رہے ہیں ہم؟ روڈ ہمارے لیے کوئی اجنبی چیز تھوڑی ہے۔ اور کتاب تو ہمارے پاس بہت عرصے سے ہے۔ ہم نے کتاب کو بک کیوں بنا دیا ہے؟ اردو میں بدصورت لگتا ہے یہ لفظ۔جیسے بُک بُک یا بَک بَک۔ اس لیے کہ میری تعلیم موسیقی میں ہے بچپن سے۔میری والدہ موسیقی سیکھا کرتی تھیں۔

Perhaps my ears are very sharp and sensitive to nuances of any language.

 تو اگر میں پورا جملہ کہوں گا تو وہ انگریزی میں کہوں گا اور پورا جملہ کہوں گا تو اردو میں مگر آدھا آدھا نہیں۔ اسی طرح لکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اردو میں الفاظ بہت خوبصورت ہیں۔ مجھے اردو بھی آتی ہے،ہندی بھی کافی آتی ہے اور فارسی بھی آتی ہے۔ تو تین زبانیں ہیں تو انگریزی میں کیوں کوئی لفظ لوں۔ تو جب تک کوئی اجنبی چیز نہیں ہو، جس کا نام ہماری زبانوں میں نہ ہو جیسے کمپوٹر تو وہ تو استعمال کرلوں گا۔مجھے صرف ایک بار مشکل ہوئی تھی “ڈیپارٹمنٹ آف آرکیٹیکچر”(Department of Architecture)وہ مجھے ڈھونڈنا پڑا میں صحیح لکھ رہا ہوں یا نہیں۔ نہیں تو میں کبھی بھی اردو کی لغت میں کچھ بھی نہیں ڈھونڈتا۔ جو الفاظ مجھے آتے ہیں وہی لکھتا ہوں۔

پیرزادہ سلیمان: عامر صاحب یہ بتائیے گا کہ کسی بھی زبان پہ عبور حاصل کرنے کے لیے اس کے محاورے پہ عبور ضروری ہے اور آپ کا انگریزی کا محاورہ بڑا مضبوط ہے۔ لیکن اردو میں جو آپ نے زبان استعمال کی ہے وہ بہت سادہ ہے۔ اس میں کہیں کہیں پہ محاورہ بھی آتا ہے۔ تو آپ ذرا سی اس پہ روشنی ڈالیں کہ محاورہ کتنا ضروری ہےکسی بھی زبان کو بیان کرنے کے لیے؟

عامر حسین: ضروری تو ہے۔مگر وہ کلیشے بھی بن سکتا ہے۔ کہ اگر میں گھسے پٹے محاورے استعمال کروں تو لگے گا کہ بس کسی اور سے لے لیا ہے۔ کرائے کی لی ہوئی زبان۔ یہ تو میں نہیں چاہتا۔ تو جتنی میں صاف زبان لکھ سکوں جتنی سلیس زبان لکھ سکوں تو یہ کوشش کرتا ہوں۔ اور انگریزی میں بھی “I don’t use colloquial expressions.”۔ کم ہی استعمال کرتا ہوں۔افسانے کی زبان میرے لیے ذرا روزمرہ کی زبان سے تھوڑی الگ ہونی چاہیے۔ اگر آپ روزمرہ کی زبان اچھی طرح لکھ سکیں تو آفرین۔ مگر مجھے نہیں لکھنی۔

Badar Sheikh: My question is that all accomplished authors in fact, all authors are normally influenced by what they read in other authors. For instance, if I was to speak for myself, I am heavily influenced by Ernest Hemingway and George Orwell and so on and so forth. In your case which are the authors or novelists or story tellers you were really influenced by?

Aamer Hussein: I think every book of mine has different influences. The first one began by all the writers I had loved as a youngster. The young writers or the amateur writers particularly the writers of the American South. Eudora Welty, Tennessee Williams. Then it moves on and towards the end, a couple of stories are actually influenced by Qurratulain Hyder. If I wouldn’t have read her stories پت جھڑ کی آواز, for example, I wouldn’t have written “Karima”. Look at the differences and look at the similarities. Also, one بن لکھی رزمیہ of Intizar Hussain has an influence on “Karima”. So, that Urdu influence had come in. In the second book, I deliberately wanted to pay tribute to Ismat Chugtai and Tennessee Williams, the two short story writers I loved. Both of them also were playwrights. So, whether you see them or not, those influences are there. In the third one, I had discarded the influences of literary texts. And it was more based on what was around me: stories people told me, stories of my own life and we might call the historical or philosophical influence of Qurratulain Hyder is very powerful in that book. Because there is a story called “Angelic Disposition” which is about refugees who were stranded in Delhi who couldn’t make it to Pakistan and a woman who does find a way to Pakistan and makes a new home there. That entirely came from the conversations with Qurratulain Hyder. After that I would say that I’ve completely gone on my own way except my novella Another Gulmohar Tree which is influenced by the stories of Ghulam Abbas. There has been a mistake made by a PhD Scholar who said Aamer Hussein’s novella is based upon the life of Ghulam Abbas. I knew nothing about their lives.  There was a short story called “رحم دل لڑکی” about a blond girl. It has a boy who meets a girl at a dance and they get married and come to Karachi and open a dance school. That story made me write Another Gulmohar Tree. Because I said I am sure there is more that a couple could do than open a dance school. So, there was a kind of dialogue with Ghulam Abbas. But definitely, I wanted that quiet restraint and a lot of it is about Urdu writers who are dealing with lack of fame and lack of success and so on and so forth. And I would say that Ghulam Abbas certainly has a role in that novella. After that, I mean in Urdu stories, do you sense any Urdu influence apart from Qurratulain Hyder’s philosophical influence? I don’t think so. Oh yes, Intizar Sahab is there. “Maya Aur Hans” could not have been written without his love of mythologies, Buddhist mythologies particularly. That was an open tribute to him, and I would like to say he is the only one who came up to me when the stories were published in your [Asif Farrukhi’s] magazine. Everyone was coming up to me and saying:

“وہ مایا اور ہنس بڑی اچھی کہانی ہے۔ اور سب تو ٹھیک ہیں”۔اور انتظار صاحب میرے پاس آئے اور کہتے ہیں۔ “بکواس! سب کہانیاں اچھی ہیں۔ کسی کی بات مت سنو، یہ ساری کہانیاں اچھی ہیں۔”

And I was delighted.

کیونکہ آپ [آصف فرخی] کو تو “حوصلہ مند” پسند تھی نا ہمیشہ سے۔

But he never said that the story was influenced by him. Never hinted at all.

بیلا رضا جمیل: آپ نے ہیما رضا جمیل کی چند نظموں کا ترجمہ کیاہے۔ میں چاہوں گی کہ اگر آپ کچھ پڑھ کر سنا دیں۔بہت شکریہ۔

عامر حسین: وہ ترجمہ تو نہیں ہے لیکن ایک کہانی ہے جس میں ان کی ساری نظموں کی باز گشت ہے۔ شیراز آپ پڑھ دیں گے؟

شیراز دستی: جی،میں درمیان میں سے پڑھ دیتا ہوں۔

“ایک سال یوں ہی گزر گیا۔ پھر وہ جنگ آئی جس کے عذاب میں ہم سب گھر گئے۔ اورزُہرانے کہا، میں گھر جاؤں گی۔ گھر جا کر کچھ کرنا ہے۔ یہاں تو زبان بند سی ہو جاتی ہے۔ ویسے بھی ہمیں ان حرام زادوں نے کب کا بے زبان بنا کر چھوڑ دیا تھا۔ اب نکمّا اور نہتا بھی چھوڑ دیں گے۔ اب بولا ہی نہیں جاتا۔ اب اپنی زبان میں نظم لکھنے کا دل چاہتا ہے۔

زُہرا واپس گئی۔ وطن سے خط بھیجتی رہی اور نظمیں۔

ایک سال اور گزر گیا۔اور پھر ایک دن زُہرا اس شہر کو واپس آئی۔ کہتی تھی وہاں تو ہر آواز حلق میں اٹک جاتی ہے۔ گانا تو چھوڑو، چیخا بھی نہیں جاتا۔ اب میں کچھ دن گھر اور وطن سے دور ہی رہوں تو اچھا ہے۔ بس نوکری مل جائے۔

کچھ تحفے لائی تھی جس میں وینا اور سرود کے راگوں کی سی ڈی بھی تھی۔ وہ گئی تو میں رات بھر ان کی دُھنوں کو سنتا رہا۔

ایک دن وہ میرے ساتھ لمبے سے بس کے سفر پر نکلی۔ دور ایک شہر میں ادبی محفل کے بعد کسی نے جنگ کی حمایت میں کچھ کہا تو وہ بگڑی۔ واپسی کے سفر پر وہ تھک کر میرے کاندھے پر سر رکھ کر سو گئی۔ جاگی تو باہر اندھیرا تھا۔۔۔ نہ چاند نہ تارے۔ اس نے کہا، یہاں پھر وہی بات۔۔۔ زبان کی گرہ۔ اور وہاں ہر آواز حلق میں اٹک گئی۔ نظم کہنا تو چھوڑو بولا بھی نہیں جاتا۔۔۔بس نوکر ی مل جائے۔۔۔اٹھائیس کی ہونے والی ہوں اس سال۔۔۔مادری زبان سے تو محروم ہو رہی ہوں۔ خانہ بدوش ہوں۔ چلو اب ان غیروں کی زبان کو چھڑی بنا کر انہیں کو لفظوں سے ماروں گی۔”

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply