پلانٹڈ نیوز اور بڑے صحافی — اےوسیم خٹک

0


صحافت پر بہت لکھا ہے اور بہت پڑھایا ہے۔ اب صحافت میں نئی نئی جہتیں آئی ہیں۔ اخبار میں بہت کچھ روزانہ چھپتا ہے۔ جس میں ذرائع کی نیوز، کرائم، کورٹ، پولیس، ایجوکیشن وغیرہ ہوتی ہیں۔ صحافیوں کی پریس کلب میں ممبرشپ ہوتی ہے۔ اگر کوئی سرکاری نوکری کرتا ہے تو وہ صحافی نہیں کہلایا جاسکتا۔ یا اگر کوئی صحافت کرکے سرکاری ملازمت کرلیتا ہے تو وہ جو صحافیوں کی مراعات ہوتے ہیں اُس سے محروم ہوجاتا ہے اُسکی ممبرشپ ختم کردی جاتی ہے۔ اب صحافت میں یوٹیوبر، سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ بھی آگئے جو خود کو صحافی سمجھتے ہیں۔ جس پر ایک بحث چل رہی ہے کہ کیا یہ صحافی ہیں یا نہیں؟ کچھ بڑے صحافی انہیں جرنلسٹ کی کیٹگری میں ڈال لیتے ہیں مگر کچھ انہیں صحافی ماننے سے انکاری ہیں۔ بعض یوٹیوبر اتنے فالوورز رکھتے ہیں جن سے ملک کے بڑے بڑے صحافی خوفزدہ ہیں۔ کچھ روز قبل ایک واقعہ رونما ہوا جس میں گوادر میں صحافیوں اور کچھ بڑے نامور یوٹیوبرز کو بلایا گیا تھا۔ جب بڑے صحافیوں کا یوٹیوبرز سے سامنا ہوا تو انہیں اپنی ہتک محسوس ہوئی کہ ہم سب کو حکومت نے ایک ہی کیٹگری میں ڈالاہے۔ اور یوں بدمزگی پیدا ہوگئی۔

گوادر میں مین اسٹریم میڈیا پر بیٹھ کر پوری قوم کو اخلاقیات اور برداشت کے لیکچر دینے والے صحافیوں نے ایک نوجوان یوٹیوبر کو مار

No description available.

کر اپنی دھونس جمانے کی کوشش کی۔ .یہ وہ صحافی ہیں جو خود کو بڑا صحافی سمجھتے ہیں۔ اور ان سیاست دانوں اور حکمرانوں کی گود میں بیٹھے ہوتے ہیں یہ سب ان کی بولی بولتے ہیں اور حکومتی پالیسیوں کو آگے لانے میں ان کا بڑا کردار ہوتا ہے کیونکہ یہ صحافی ہوکر اپنا اُلو سیدھا کرنے میں ماہر ہوتے ہیں یہ سیاست دانوں، حکمرانوں سے اپنے کام نکلوانے میں ماہرہوتے ہیں۔

یوں تو بہت سی خبریں اخبارت کی زینت بنتی ہیں مگر کچھ خبروں کے بارے میں شاید بہت سے لوگ نہیں جانتے ہوں گے کہ ان خبروں کا ماخذ کیا ہے اور یہ کیوں کر چلائی جاتی ہیں اور یہ کون لوگ ہوتے ہیں جو یہ خبریں چلاتے ہیں اور یہ کن کے ذریعے چلائی جاتی ہیں۔ ان خبروں کو پلانٹڈ نیوز کہا جاتا ہے۔ جس کے بارے میں حکومتی ادارے ایک رائے عامہ بنانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے انہیں میڈیا کی ضرورت ہوتی ہے تو حکومتی عہدیدار اپنے ہرکاروں کو ٹاسک دے دیتے ہیں کہ ہم نے ایک فیصلہ کرنا ہے اس کے لئے کچھ نیوز اخبارات میں چلانے مقصود ہے۔ یعنی ایک ایجنڈہ سیٹ کرنا ہے۔ جس کے لئے پھر بڑے صحافیوں کو ظہرانے پر مدعو کردیا جاتا ہے اور انہیں تھوڑا بریف کرکے کچھ لائن اور کاغذات دیئے جاتے ہیں کہ اس پر خبر چاہیئے وہ بھی چار کالمی یا تین کالمی۔ اور ہمارے صحافی بھائی خوشی خوشی وہ کام کر لیتے ہیں۔ یہ صحافی شاید کچھ مراعات کے لئے ان کی بات مان لیتے ہیں اور ساتھ میں ایک تصویر بھی نکال لیتے ہیں کہ فلاں کے ساتھ میٹنگ، تاکہ بعد میں سند رہے۔ پھر دوسرے دن نیوز اخبار کی زینت ہوتی ہے۔ یہ صحافی جتنے بھی بڑے ہوں لوگ انہیں جانتے ہوں یہ صحافت کی تعریف پر پورے نہیں اترتے کیونکہ پلانٹڈ نیوز نیوز نہیں ہوتی۔ نیوز تو وہ ہوتی ہے جو رپورٹر خود بنائے اور سب لوازمات دیکھ کر ادارے کو دے۔ اب بات یہ آتی ہے کہ پلانٹڈ نیوز کو کیسے پہچانا جائے۔ تو آسان کئے دیتے ہیں۔ یہاں میں مثال دے سکتا ہوں مگر پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں تو چھوڑ ہی دیں۔ وہ نیوز جو گنے چنے بڑے اخبارات میں بڑی سرخیوں اور بڑے تین چار کالمی لگیں وہ پلانٹڈ نیوز کہلاتی ہے جو ہر روز تو نہیں ہوتی مگر مہینے میں ایک آدھ بار چھپ جاتی ہے۔ جس کے کچھ عرصہ بعد کوئی قانون بن جاتا ہے یا اس کے مطابق کوئی فیصلہ آجاتا ہے۔ جیسے آج کل جو یونیورسٹیوں کے حوالے سے جو خبریں آرہی ہیں یہ سب پلانٹڈ نیوز ہیں۔ یونیورسٹیوں میں مسائل ہیں مگر اتنے بھی نہیں جتنی یہ حکومت یونیورسٹیوں کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہیں۔ آئے روز کسی نا کسی یونیورسٹی کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے پھر اس کے خلاف خبریں مختلف ذرائع سے چلائی جاتی ہیں کہ ایک رائے عامہ ہموار ہو اور پھر ان یونیورسٹیوں کے خلاف کاروائی کردی جائے۔


آپ ذرا پشاور سے چھپنے ولے ایک دو مہینے پہلے کے اخبارات اٹھا کر دیکھیں جن میں یونیورسٹیوں کے حوالے سے خبریں چھپی ہیں اور یہ ایک خاص ایجنڈے کے تحت لاگئی گئی ہیں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ سب پلانٹڈڈ نیوز کی کارستانیاں ہیں اسی طرح ریپ کے کیسز، مولویوں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم، سیکورٹی فورسسز کے حوالے سے نیوز، اب افغانستان کے امور کے حوالے سے مختلف قسم کے آرٹیکلز اور خبریں جس تواتر سے شائع کیے جارہے ہیں یہ سب ایجنڈا پلانٹڈ ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply