بیلنس — حسن غزالی کا افسانہ

0

اقرا سانولے رنگ کی محض قبول صورت لڑکی تھی، لیکن اس کے کردار کی دل کشی اور فکر کی رعنائی اس کی شخصیت میں گُھلی ہوئی تھیں۔ اس کی ذات میں ذرا سی مقناطیسیت پائی جاتی تھی جو کچھ بڑھ جاتی تھی جب وہ باتیں کرتی تھی۔ زندگی اس پر زیادہ مہربان نہیں تھی مگر وہ زندگی پر بڑی مہربان تھی۔ ایک باریک سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیلی رہتی تھی، اور اس کے جسم میں ہلکی سے برقی رو بڑے سکون سے رواں رہتی تھی۔ لوگ اس ملتے تھے تو انھیں اپنائیت محسوس ہوتی تھی اور وہ خاموشی سے اپنے دل کے دروازے کی کنڈی اس کے لیے کھول دیتے تھے۔

والدین کے بعد، اقرا کے لیے سب سے زیادہ اہم کتاب تھی۔ کتاب اس کی سہیلی اور ہم راز تھی۔ بچوں کی کہانیوں سے شروع کرکے وہ افسانےاور ناول تک پہنچ گئی تھی، اور سخن فہمی نے اس کی ذہانت کو دو آتشہ کردیا تھا۔ ادب کے ساتھ ساتھ اسے علمی کتابیں بھی اپنی طرف کھینچتی تھیں، اور کتابوں کی رفاقت نے اس کے خوابوں کو سنوارا بھی تھا اور اسے عزت سے جینے کے تقاضوں کا شعور بھی دیا تھا۔ گھر کے حالات دیکھتے ہوئے اس نے آٹھویں سے ہی ٹیوشن پڑھانا شروع کردیا تھا۔ ٹیوشن کی فیس وہ خود نہیں لیتی تھی بلکہ طلبہ اس کی ماں صغریٰ بیگم کو دیتے تھے جس میں سے کچھ رقم ماں اسے تھما دیتی تھی۔ میٹرک تک ٹیوشن سے اتنا ملنے لگا کہ گھر میں تینوں وقت کھانا باقاعدگی سے ملنے لگا، چھوٹے بہن بھائیوں کی اسکول کی فیس بھی وقت پر ادا ہونے لگی، اور اقرا کے ادبی و علمی اخراجات بھی آسانی سے پورے ہو جاتے تھے۔

پڑھنے اور پڑھانے سے اسے ایسا لطف ملتا تھا جیسا بچپن میں اسے گڑیوں کے ساتھ کھیلنے اور ان کے لیے مِٹّی کا گھر بنانے میں ملتا تھا۔ محلّے میں آہستہ آہستہ اس کے گھر کی عزت بڑھنے لگی، اور انٹر تک وہ اپنے ماں باپ سے زیادہ عزت کما چکی تھی۔ بہت سے لوگ شرافت حسین کو مس اقرا کے ابو کی حیثیت سے جانتے تھے۔ اقرا کا خواب تھا کہ وہ اپنا ایک اسکول کھولے، اس لیے وہ خاص طور پر یونی ورسٹی جانا چاہتی تھی۔ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ وہ یونی ورسٹی کے ماحول اور اساتذہ کا براہِ راست مشاہدہ کرنا چاہتی تھی، لیکن یونی ورسٹی کی طرف جانے والا راستہ اس کے باپ نے بند کردیا تھا۔ شرافت حسین نے زندگی، عزت کو سینے سے چِمٹائے ہوئے گزاری تھی، اور وہ بگڑے ہوئے ماحول سے ڈرا ڈرا سا رہتا تھا۔ اس کا موم کا باپ پتھر کا بن گیا تھا، اور یونی ورسٹی کے راستے کی چٹان بن گیا تھا، مگر اس کی عاجزانہ نمی سے چٹان کے نیچے کی مِٹّی نرم ہوگئی، اور والدہ کی کوششوں نے اسے اِتنا سرکا دیا کہ وہ جھک کر اور سِمٹ کر گزر سکے۔

اقرا یونی ورسٹی کے لیے گھر سے نکلی تو اس کے ذہن میں اپنی ماں کی ایک بات تھی جو اس نے اقرا کی وکالت کرتے ہوئے بڑے زور و شور سے کئی بار کہی تھی، “اسے یونی ورسٹی جانے دیں؛ آپ کی بیٹی آج کل کے بہت سے زنانے لڑکوں سے زیادہ مضبوط ہے۔ “

اقرا ایک جامہ زیب لڑکی تھی، مگر کلاس میں وہ اپنے سادہ عبایہ، اور باپردہ لباس کی وجہ سے عام سی لڑکی نظر آتی تھی۔ وہ کلاس میں بھی چہرے پر حجاب لگائے رکھتی تھی، لیکن اس کی رنگت، چہرے کے قدرے کُھلے حصے، اور زمانے کی دھوپ دیکھے ہوئے ہاتھوں سے اندازہ ہوجاتا تھا کہ وہ خوب صورت تو نہیں ہے۔ اسے دیکھ کر لوگوں کے چہرے بےتاثر رہتے، لیکن آنکھوں میں ابھرتی ہوئی مایوسی اقرا کو نظر آتی تھی، مگر وہ ایک بچے کی طرح بےپروا تھی، اور خود میں مگن رہتی تھی۔

کلاس میں آہستہ آہستہ اس کا شمار لائق اور محنتی طلبہ میں ہونے لگا تھا۔ ادب سے فطری لگاؤ اور اردو سے محبت کی وجہ سے اس نے ایم اے اردو کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بھاری نصابی کتابیں پڑھنا اس کے لیے تفریح تھا اس لیے ٹیسٹ کی ٹینشن اسے کبھی نہیں ہوتی تھی۔

کلاس میں کبھی کبھی یہ واضح نظر آتا تھا کہ اس کا مطالعہ اپنے کئی اساتذہ سے زیادہ ہے۔ وہ خوش مزاج اور خوش فکر بھی تھی اور ایک غزل کی طرح مختلف موضوعات پر بھرپور گفتگو کرسکتی تھی، لیکن وہ تعلقات بڑھانے میں احتیاط کرتی تھی۔ کلاس، کیفےٹیریا، یا لان میں جو قہقہے لگتے تھے اس میں اس کا تعاون زیادہ تر مسکراہٹوں تک تھا۔ پھر بھی کافی لڑکیاں اس کے قریب آگئیں اور کئی سہیلیاں بن گئیں۔ ان میں فاطمہ صِدّیقی بھی تھی جس کے والد میجر تھے۔ فاطمہ کچھ موڈ تھی مگر اپنی خاندانی روایات کی امین بھی تھی، اور یہی وجہ تھی کہ وہ اقرا کی طرف کھنچی چلی آئی تھی، اور پھر اتنی قریب ہوگئی کہ کبھی کبھی یہ محسوس ہوتا تھا کہ دونوں سانس بھی ساتھ لیتی ہیں۔ لڑکیوں کے علاوہ کبھی کبھی لڑکے بھی اپنی اسٹڈی میں اس سے مشورہ کر لیتے تھے، اور آہستہ آہستہ کلاس میں اس کی شخصیت مستحکم ہونے لگی۔ دوچار برگر لڑکیوں نے اس کی مقبولیت کو دل پر لے لیا تھا۔ ان کے ملازموں سے بھی گئے گزرے گھرانے کی اس لڑکی کا پورے قد سے چلنا انھیں سُلگا دیتا تھا، اور اس معمولی شکل والی لڑکی کا مضبوط لہجہ سن کر وہ دل ہی دل میں کھولتی تھیں۔ انھوں نے اقرا کو اپنی ڈریسنگ اور اسٹائل دکھانا شروع کیا اور اس کی ڈریسنگ کو سو سال پرانا قرار دیا۔ ان کی خواہش تھی کہ اقرا اپنی حیثیت کے مطابق دبی دبی سے رہے۔ نازش اس پر فقرے بھی اچھالتی تھی۔ ایک دن اقرا کوریڈور میں “Behind the times” سن کر رکی، مُڑی اور اپنے گروپ کے ساتھ کِھلکھلاتی ہوئی نازش کے پاس آئی، “تعلیم میں دیکھو کہ میں وقت سے پیچھے ہوں یا آگے”، پھر اس کے گروپ کو دیکھتی ہوئی بولی، “اسے وقت کے ساتھ چلنے دو!” یہ کہنے کے بعد، وہ نازش کا جواب سننے کے لیے رکی نہیں اور سر ذرا سا اٹھائے مضبوط قدموں سے آگے بڑھ گئی۔ اقرا کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ وہ بلندی پر نظر آئی، جس سے نازش اور اس کے گروپ کی لڑکیاں تلملا کے رہ گئیں۔

نازش مرکری کے بلب کی سی ایک اسٹائلش لڑکی تھی، اور یہ اسی کی ہمت تھی کہ وہ اقرا کا مذاق اڑا لیا کرتی تھی۔ اقرا کی شخصیت سے توانائی کا اظہار ہوتا تھا اور اس کا ڈیفینس بہت مضبوط تھا۔ وہ عام طور پر اس طرح نظر انداز کر دیتی تھی جیسے اس کے سامنے کوئی ہے ہی نہیں، لیکن جب وہ بولتی تھی تو اسے پتا ہوتا تھا کہ کیا بولنا ہے، کیسے بولنا ہے، اور کیا تاثر دینا ہے۔ اس سے بات کرتے ہوئے کبھی کبھی تو ہیرو ٹائپ پروفیسروں کی زبان بھی لڑکھڑا جاتی تھی۔

اقرا کی سادہ اور مضبوط شخصیت کی وجہ سے لڑکوں نے اس سے کبھی چھیڑچھاڑ کرنے کی کوشش نہیں کی، لیکن اس کے حلقے کی دو تین لڑکیوں کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ اقرا ان کی ڈھال بن گئی اور ان لڑکوں کو طبیعت سے جھاڑا۔ فاطمہ صدیقی کیوں پیچھے رہتی؛ اس نے بھی پتھریلے جملے تاک تاک کر مارے۔ ایک چوٹی رکھنے والے لڑکے کی جھاڑ سے تسلّی نہیں ہوئی تو اقرا نے ایک تھپڑ جڑ دیا، مگر یہ دو تھپڑ تھے__دوسرا فاطمہ صدیقی نے لگایا تھا۔ یہ دونوں جسمانی طور پر بھی اتنی طاقتور تھیں کہ اس کی مزے سے پٹائی کرسکتی تھیں۔ پھر ان کے گروپ کی دوسری لڑکیاں بھی تھیں جو حسبِ توفیق لڑکے پر چبھتے ہوئے اور زہریلے جملے پھینک رہی تھیں۔ لڑکا خوف زدہ ہوگیا اور ہاتھ جوڑ لیے۔

ان واقعات سے اقرا کا گروپ مانا جانے لگا۔ مخالفین کے دل و دماغ میں کبھی کبھی کیڑے کُلبُلاتے مگر کچھ وقت میں اپنی موت آپ مرجاتے۔

اشعر ایم اے کے پہلے سال اس کی کلاس میں آیا تھا، اور چند ہی مہینوں میں اس کا شمار کلاس کے ان دو تین لڑکوں میں ہونے لگا جنھیں بڑی اہمیت دی جاتی تھی۔ اہمیت دینے والوں میں لڑکیاں بھی تھیں، اور یہ بھی ممکن تھا کہ ان میں سے کئی لڑکیاں اس کے خواب بھی دیکھتی ہوں۔ اشعر کی مردانہ وجاہت متاثر کرتی تھی، لیکن اس کی امتیازی صفت یہ تھی کہ اس میں سطحی پن نہیں تھا۔ کبھی کبھی وہ سماجی موضوعات پر بڑی سنجیدگی سے گفتگو کرتا تھا جس کی وجہ سے اس کے کچھ دوست اسے اسکالر بھی کہتے تھے۔ اپر کلاس سے تعلق رکھنے کے باوجود، وہ کبھی کبھی اپنی باتوں اور خیالات سے لوئر کلاس کا لگتا تھا۔ اقرا کی اپنی دنیا تھی اور اس کا خواب اپنا اسکول قائم کرنا تھا۔ وہ ایسی لڑکی تھی کہ اس نے کبھی اشعر یا اس جیسے کسی لڑکے کا خواب دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔

پھر ایک عجیب سی بات ہوئی۔ اشعر اس پر توجہ دینے لگا۔ اقرا نے پہلے اسے اپنا وہم سمجھا، مگر جب اشعر کی اس میں دل چسپی کا دو تین لڑکیوں نے مضحکہ خیز انداز میں ذکر کیا تو وہ محتاط ہوگئی۔

اسے یہ خیال بھی آیا کہ شاید اشعر سنجیدہ ہے، لیکن اس خیال کو اس نے ذہن سے جھٹک دیا، مگر اشعر مسلسل اس کے دل میں جگہ بنانے کی کوشش کرتا رہا، اور وہ سنجیدہ نظر آتا تھا۔ فاطمہ صدّیقی کا بھی خیال تھا کہ وہ سنجیدہ ہے۔ محبت کے بیج اقرا کی مِٹّی میں شامل تھے۔ اس کے وجود میں کونپل پھوٹی تھی اور پھر پودے کی شکل میں سر اٹھایا تھا مگر اقرا کی غفلت کی وجہ سے مرجھایا سا رہتا تھا مگر کسی طرح اپنے وجود کو قائم رکھا تھا۔ اب اشعر نے اس پودے کو پانی دینا شروع کیا تھا تو اس پر نکھار آنے لگا تھا۔ اقرا نے اشعر کی محبت کے بارے میں بار بار سوچا اور کئی پہلوؤں سے غور کیا۔ پھر آہستہ آہستہ اسے اشعر کے جذبے کی صداقت کا یقین آنے لگا۔ اسے نے محسوس کیا کہ وہ فیشن زدہ اور اسٹائل کی ماری ہوئی لڑکیوں سے بیزار ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ ایسی لڑکیاں گھر کا بوجھ نہیں اٹھا سکتیں۔

فاطمہ صدیقی کا status ہائی تھا اس لیے وہ اپر کلاس کے لڑکوں کو بہتر سمجھتی تھی۔ اس نے اشعر کے بارے میں معلومات بھی کیں اور اس کے حق میں رائے دی۔

اس سے اقرا کو بڑا اطمینان ہوا۔ پھر وہ اور اشعر کبھی کبھی لان میں بیٹھے نظر آنے لگے، دو تین بار وہ کیفےٹیریا میں بھی ساتھ نظر آئے۔ اشعر کا کبھی کبھی جی چاہتا تھا کہ اقرا سے کہے کہ وہ اس کی صورت دیکھنا چاہتا ہے مگر اقرا کے مزاج کو دیکھتے ہوئے کہہ نہ سکا۔ اقرا جانتی تھی کہ لڑکوں کو حسین چہرے کھینچتے ہیں۔ وہ قبول صورت تو تھی مگر ایسی نہیں تھی کہ کوئی اس کے پیچھے آتا اور اسے دیکھنے کے لیے بےتاب رہتا۔ کبھی کبھی اس کے دل میں ایک کانٹا کھٹکتا تھا کہ کہیں اشعر اسے دیکھ کر مایوس نہ ہوجائے۔ اس نے اس پر سوچا اور پھر یہ کانٹا نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اقرا کسی بہانے سے اپنا چہرہ دکھا سکتی تھی مگر اس نے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔

“آپ جانتے ہیں؟ میری شکل عام سی ہے!”

“میں اسے اہمیت نہیں دیتا۔ تمھاری سیرت بہت اچھی ہے اور تمھاری شخصیت بڑی خاص ہے۔ “

اقرا کے دل میں گھنٹیاں بجنے لگیں مگر اس نے خود پر قابو پایا اور چہرے سے حجاب ہٹا دیا۔

اشعر کا ردعمل شبنم کی طرح اس کے گلاب دل سے آکر ملا: اس کی آنکھوں میں ہلکی سے چمک نظر آئی اور چہرے پر نرمی پھیل گئی، “ہم دونوں کا کپل پرفیکٹ رہے گا۔ ” وہ مسکرا کر بولا۔ اشعر کے اطمینان کی وجہ یہ تھی کہ اس کے ذہن میں اقرا کی جو تصویر تھی وہ اس سے بہتر نکلی تھی۔

اقرا کے چہرے پر روشنی بکھر گئی اور پھر اس روشنی کو اس نے اپنی چادر میں لپیٹ لیا۔

وہ اس کے ساتھ باہر کبھی نہیں گئی تھی۔ اشعر کی چمچماتی اسپورٹس کار کو اس نے اس طرح نظر انداز کیا تھا جیسے اس کا وجود ہی نہیں ہے، اور اشعر کے اصرار کو اس کے مضبوط انکار نے پسپا کردیا تھا۔ مگر ایک دن اشعر نے بڑا زور دے کر کہا کہ وہ اس کے ساتھ باہر چلے۔

اقرا جواب دیے بغیر آگے بڑھ گئی۔ اشعر اس کے پیچھے گیا اور پھر سامنے آکر بڑے دکھی لہجے میں بولا، “کیا تمھیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے؟”

“بات اعتبار کی نہیں ہے__حق کی ہے۔ آپ کے پاس ابھی یہ حق نہیں ہے!”

“صرف ایک بار، میرا دل رکھنے کے لیے۔ “

“آپ کا دل میں نے بہت اچھی جگہ پر رکھا ہوا ہے۔ ” اقرا مسکرا کر بولی۔ “اب سامنے سے ہٹیے اور مجھے جانے دیجیے۔ “

اقرا نے اشعر کی بکھرتی ہوئی کیفیت دیکھ کر پہلی بار اتنی واضح کوئی رومانی بات کہی تھی۔ اس سے اشعر کے اندر اٹھتا ہوا دھواں آہستہ آہستہ تحلیل ہوگیا۔ اقرا ہمیشہ اسے آپ کہہ کر مخاطب ہوتی تھی۔ شروع شروع میں اشعر بھی اسے آپ کہتا تھا، مگر اسے یہ بڑا عجیب لگتا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے “آپ کا بوجھ” اتار دیا۔ اقرا مگر اس سے “آپ” ہی کہہ کر بات کرتی تھی۔ اس نے اشعر کو ایک بار بھی “تم” نہیں کہا تھا۔ اقرا کا “آپ” کہنا محض شائستگی نہیں تھی بلکہ ایک حدبندی بھی تھی جو اشعر کو سمجھاتی تھی کہ اسے کچھ فاصلے پر رہنا چاہیے۔ اشعر کے رویّے اور گفتگو سے بھی ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اس حدبندی کو پسند کرتا ہے۔

اقرا نے اشعر کے بارے میں اپنی ماں کو بتا دیا تھا۔ ماں کو جھٹکا لگا اور وہ کچھ ڈر گئی۔ اقرا نے موبائل میں اشعر کی تصویر دکھائی مگر وہ گم صم رہی۔ ماں کی حالت دیکھ کر اقرا نے پھر ایک ہی بات کہی، “آپ سوچ لیجیے، اگر آپ کہیں گی تو میں اشعر کو منع کر دوں گی۔ ” ماں کچھ نہیں بولی__وہ الجھ گئی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی کے اچھے نصیب کی بڑی دعائیں مانگی تھیں، مگر اس کی بیٹی کو کوئی شہزادہ بھی مل سکتا ہے، یہ تو اس نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اس کا جسم کانپنے لگا، اور وہ اقرا کے کندھے پر سر رکھ کر رو دی۔

دوتین اساتذہ اقرا کو ناپسند کرتے تھے۔ ان میں ایک سر کامران بھی تھے۔ سر کامران کوشش کرتے تھے کہ جوان لگیں۔ ان کی ڈریسنگ سے کہتی تھی کہ ڈریس پینٹ ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے، اور ان کے چہرے سے لگتا تھا کہ وہ اس کی بڑی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ ان کی آواز بھاری اور لہجہ کچھ طنزیہ تھا۔ یہ فائنل ایئر میں آئے تھے۔

کلاس میں، ایک دن لیکچر دیتے ہوئے اچانک انھوں نے اقرا کی طرف دیکھا اور ایک ٹیڑھا سوال تیزی سے پوچھا۔ اقرا چونک کر متوجہ ہوئی، “جی سر!”

سر کامران حقارت سے کھانسنے والے انداز میں ہنسے۔ “مس اقرا، آپ کا لیکچر کی طرف دھیان کم ہوتا ہے۔ شاید آپ پیپر میں فیل ہوجائیں۔ ” پیپر میں ناکامی کی بات کلاس میں کہنا مناسب نہیں تھا مگر سرکامران اپنی شخصیت اور مرتبے کے خمار میں کہہ گئے۔

کلاس میں دوتین لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔ نازش اور کئی لڑکیوں کے چہرے کِھل گئے۔

اقرا چند سیکنڈ تک سر کامران کو دیکھتی رہی جو فاتحانہ انداز سے مسکرا رہے تھے، پھر اس نے اپنی کتاب اٹھائی اور سر کامران کی طرف بڑھی۔ ساری کلاس اسے دیکھ رہی تھی۔ اس نے سرکامران کے ہاتھ میں کتاب تھمائی اور سرد لہجے میں بولی، ” آپ ابھی میرا ٹیسٹ لیجیے!”

سرکامران ایک لمحے کے لیے گربڑا گئے۔ پھر چیخ کر بولے، “یہ کیا بےہودگی ہے؟”

“میں نے یہ کہا ہے سر، میرا ابھی ٹیسٹ لیجیے!”

میں ضرور لوں گا تمھارا ٹیسٹ” سر کامران دانت پیستے ہوئے بولے، “جاؤ، ابھی سیٹ پر جاکر بیٹھو!”

اشعر اپنی سیٹ سے کھڑا ہوا، مگر فاطمہ صدّیقی نے اسے اشارے سے بیٹھنے کا کہا۔

کلاس کے بعد، فاطمہ صدّیقی نے اقرا اور چند سہیلیوں کو لیا اور چیئرمین سے ملی اور سر کامران کے رویے کے بارے میں بڑی شائستگی مگر پوری قوت سے بتایا۔ چیرمین صاحب کو سر کامران کی خو پسندی کا بہ خوبی پتا تھا، اور وہ اقرا کو بھی ایک غیر معمولی طالبہ کی حیثیت سے جانتے تھے۔

انھوں نے توجہ سے ان کی بات سنی اور کہا، “میں کل آپ کو بلاؤں گا۔ “

اگلے دن چیئرمین نے انھیں بلایا تو سرکامران بھی ان کے آفس میں بیٹھے ہوئے تھے۔

“کیا بات ہے؟ کیا چاہتے ہو تم لوگ؟” سرکامران تیز لہجے میں بولے۔

“آپ اقرا کا ابھی ٹیسٹ لیجیے!” فاطمہ صدّیقی دو ٹوک لہجے مں بولی۔

“سر!” اقرا چیئرمین سے بولی، “آپ میرا اور سرکامران کا دونوں کا ٹیسٹ لیجیے۔ “

چیئرمین صاحب ذرا چونکے پھر بےاختیار مسکرا دیے مگر فوراً ہی سنبھل کر بولے، “اقرا، پلیز بدتمیزی نہیں کیجیے۔ “

سرکامران کو اقرا کی علمی استعداد کا اندازہ تو تھا مگر یہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چیئرمین صاحب سے ان کا ٹیسٹ لینے کا کہے گی۔

“تم ہوش میں تو ہو؟ جانتی ہو کیا کہہ رہی ہو تم؟”

“سر کامران! میں تیار ہوں ڈگری لیے بغیر یونی ورسٹی سے جانے کے لیے، لیکن اس سے پہلے میں اپنے حق کے لیے اپنی پوری توانائی سے لڑوں گی!”

سر کامران کے اندر غصے کی ایک لہر اٹھی مگر اگلے ہی لمحے بیٹھ گئی۔ اقرا کا ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہا گیا جملہ سو کلومیٹر کی رفتار سے ان سے ٹکرایا اور ان کی وکٹیں اکھاڑ پھینکیں۔ انھیں آج اقرا کی طاقت کا بھی پتا چل رہا تھا، انھیں یہ بات سمجھ میں آرہی تھی کہ اقرا اور اس کے ہم درد یونی ورسٹی میں ان کی ساکھ کو فٹبال بنا سکتے ہیں، اور اگر فاطمہ صدیقی کے والد میجر اشفاق احمد صدّیقی نے اس معاملے میں دل چسپی لے لی تو ان کے لیے کافی مشکل ہوسکتی ہے۔

انھوں نے رحم طلب نگاہوں سے چیئرمین صاحب کی طرف دیکھا۔ سر کامران کو ٹوٹتے دیکھ کر انھوں نے اقرا اور فاطمہ سے بڑے میٹھے لہجے میں کہا، “آپ کو اب کوئی شکایت نہیں ہوگی؛ میں ذمےداری لیتا ہوں؛ یہ معاملہ ختم کردیجیے۔ “

اس واقعے کے بعد، اقرا کی دھاک بیٹھ گئی، مگر اس کے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہ پہلے کی طرح سرجھکائے آتی جاتی اور نرمی سے بات کرتی نظر آتی تھی۔ سر کامران نے البتہ کلاس چھوڑ دی تھی۔

اشعر سے اس کا تعلق اور گہرا ہوگیا تھا لیکن “آپ” کی شیشے کی دیوار حائل رہتی تھی۔ ایک دن وہ لان میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ اشعر نے اس سے موبائل مانگا کیونکہ بیلنس ختم ہوگیا تھا۔ اقرا نے کھردرے لہجے میں انکار کردیا۔ “کِک کیا مطلب، تم مجھے موبائل دینے سے منع کر رہی ہو؟”

“ہاں۔ ” اقرا دو ٹوک لہجے میں بولی۔ اشعر کو ایک جھٹکا لگا اور وہ اٹھ کر چلا گیا۔ اس کا خیال تھا کہ اقرا اس کے پیچھے آئے گی، اور اپنے رویے کی معذرت کرے گی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ وہ اقرا سے دور رہنے لگا، لیکن اقرا نے اس کی ناراضگی کو اہمیت نہیں دی اور نہ ہی اسے منانے کی کوشش کی۔

اس واقعے کو دو ہفتے گزر گئے۔ ایک دن وہ فاطمہ کے ساتھ سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی تھی کہ اشعر آتا نظر آیا مگر انھیں دیکھ کر راستہ بدل لیا۔ فاطمہ صدّیقی نے یہ دیکھا تو اسے اقرا پر غصہ آیا مگر اس نے خود پر قابو پاکر اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ وہ یہ سمجھتی تھی کہ اقرا کو اشعر کو منا لینا چاہیے۔ اقرا نے حیرانی سے اسے دیکھا مگر کچھ نہیں بولی۔ فاطمہ نے کوشش جاری رکھی، مگر وہ اداسی سے سر جھکائے بیٹھی رہی۔

“تمھیں اشعر جیسا لڑکا زندگی میں پھر کبھی نہیں ملے گا۔ ” فاطمہ نے اس کی خاموشی سے زِچ آکر کہا۔

اقرا نے چونک کر اسے دیکھا۔ چند سیکنڈ خالی خالی نگاہوں سے دیکھتی رہی، پھر ایک جھٹکے سے اٹھی، اور سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ فاطمہ نے اسے آواز دی مگر وہ تیز قدموں سے بڑھتی رہی۔ فاطمہ جلدی سے اٹھی اور تیزی سے اس کے پیچھے گئی۔

“اقرا، اقرا! تم مجھ سے کیسے ناراض ہو سکتی ہو؟” اس نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا۔

اقرا مڑی__اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ فاطمہ تڑپ گئی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اور وہ روتے ہوئے اقرا سے لپٹ گئی۔

“میری جان، مجھے معاف کردو!”

وہ ڈیپارٹمنٹ کی وسیع اور کشادہ سیڑھیوں پر تھے، وہ دوسروں سے کافی دور تھے، مگر فاطمہ کی جذباتی حالت انھیں ان کی طرف متوجہ کرسکتی تھی۔ ایک دو تو ان کی طرف دیکھنے بھی لگے تھے۔ اقرا نے آہستگی سے فاطمہ کو الگ کیا، اس کے آنسو پونچھے، مگر خاموش رہی۔

“مجھے معاف کردو! اقرا، میں نے بڑی غلط بات کہی ہے؛ تمھارے دل پر ہتھوڑا مار دیا ہے۔ مجھے یاد آگیا ہے کہ ایک مرتبہ تم نے کہا تھا، “مرد گھر کا میٹیریل دیتا ہے، اور کچھ مدد بھی کر دیتا ہے، مگر گھر کی تعمیر کا بوجھ تو عورت ہی اٹھاتی ہے۔ ” فاطمہ کے لہجے میں توانائی بڑھنے لگی۔

“مجھے یقین ہے کہ تم کسی جھونپڑی میں بھی جاؤ گی تو اسے محل بنادو گی۔ ” وہ زور دے کر بولی۔

“چلو، اب ہنس دو، سویٹ ہوم بِلڈر۔ ” اس نے اقرا کو گدگدایا اور اقرا ہنس دی۔

اشعر کچھ دن اور کِھنچا کِھنچا رہا، مگر پھر دور رہ نہ سکا، اور ایک دن اقرا کے پاس بےاختیار آگیا۔ ایک دو دن کے بعد، اشعر نے اس کے رویے اور ایک کال کے لیے موبائل نہ دینے کی شکایت بھی کی۔

اقرا نے صرف اتنا کہا، “میں اپنا موبائل کسی لڑکے کو نہیں دے سکتی، چاہے وہ آپ ہی کیوں نہ ہوں۔ “

اشعر کو برا تو لگا مگر اس نے برداشت کیا لیکن ایک بات کہے بغیر نہیں رہ سکا۔ ” لیکن تم نے مجھے منایا بھی نہیں!”

“میری غلطی ہوتی تو میں آپ کو منا لیتی۔ اگر نہ بھی ہوتی تب بھی منالیتی، مگر موبائل مانگنے والی بات بالکل غلط ہے۔ میں اس پر آپ کو نہیں منا سکتی تھی۔ آپ کو موبائل میں بیلنس رکھنا چاہیے۔ “

اشعر کے موبائل میں بیلنس پہلی مرتبہ ختم نہیں ہوا تھا، ایسا کافی مرتبہ ہوچکا تھا۔ وہ چاہتا تو آن لائن بھی بیلنس لوڈ کروا سکتا تھا مگر کئی کئی دن گزر جاتے اس کا موبائل بیلنس سے محروم رہتا تھا۔ اقرا کو اس کی یہ لاپروائی بڑی گراں گزرتی تھی، کیونکہ وہ یہ سمجھتی تھی کہ کوئی شخص اگر موبائل میں ذمےداری سے بیلنس نہیں رکھتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تیزرفتار دور کے تقاضوں کو زیادہ نہیں سمجھتا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس میں تعلقات نبھانے کی اہلیت کم ہے__ یہ بات درست بھی نظر آتی تھی۔ اشعر کا حلقہءاحباب وسیع تھا، اور اس کے لیے مشکل تھا کہ سب سے رابطے میں رہ سکے۔ اس لیے کبھی کوئی اس سے کال نہ کرنے کی شکایت کرتا تو وہ بیلنس ختم ہوجانے کا بہانہ کر دیا کرتا تھا۔ اس بہانےبازی پر اقرا کا کبھی کبھی خون کھولنے لگتا تھا۔ وہ سوچتی تھی کہ اشعر جب اپنے احباب کا ہی سامنا نہیں کر پاتا تو زندگی کے مسائل کا سامنا کیسے کرے گا۔ اس نے کئی مرتبہ اشعر کی توجہ اس غیرذمےداری کی طرف دلائی تھی، اور اس سے کہا تھا کہ جن سے وہ تعلقات نہیں نبھا سکتا ان سے معقولیت سے دوری اختیار کرلے__بہانےبازی نہیں کیا کرے۔ اس پر ان دونوں میں ایک دو بار تکرار بھی ہوگئی تھی، لیکن عام طور پر وہ دونوں ایک دوسرے سے خوش نظر آتے تھے۔

کلاس میں ان کی محبت کو ایک حقیقت کے طور پر مان لیا گیا۔ چند لڑکیاں حسد کرتی تھیں اور کبھی کبھی اپنی زبان یا رویے سے اس کا اظہار کردیتی تھیں، مگر اقرا اس پر توجہ نہیں دیتی تھی۔ یہ بات یقینی نظر آتی تھی کہ ان کی شادی ہوجائے گی۔

اشعر نے اپنے والدین سے بات کی تھی۔ اقرا کا سماجی پس منظر سن کر اس کے پاپا افتخار حسین اس کی ماما کو دیکھ کر حقارت سے ہنسے تھے۔

“تم شہزادوں کی طرح ہو اور تمھارے لیے کوئی شہزادی ہی ہونی چاہیے؛ میں اس شادی کے لیے کبھی تیار نہیں ہوں گی!” راشدہ افتخار سختی سے بولیں۔

“میری شہزادی یہی ہے!”

اشعر کے والدین کو کچھ دن تو لگے، مگر بات ان کی سمجھ میں آگئی۔

والدین کے رضامند ہوتےہی اس نے اقرا کو باقاعدہ پروپوز کردیا، مگر اقرا چپ رہی۔ اصرار کرنے پر اس نے صرف اتنا کہا، “مجھے کچھ وقت دیں۔ “

اشعر سنّاٹے میں آگیا۔ اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ اقرا کو کچھ تحفظات بھی ہوں گے۔

اس نے دو تین بار اقرا سے بات کی۔

“مجھ پر احسان کیجیے؛ مجھے کچھ وقت دیجیے۔ ” اقرا بڑی عاجزی سے بولی۔

ایک دن اشعر نے بڑا زور دیا کیونکہ وہ اپنے والدین کو اس کے گھر بھیجنا چاہتا تھا۔

اقرا نے ایک ہفتہ مانگا اور پھر انکار کردیا۔

اشعر کو چند لمحے کے لیے گویا سکتہ ہوگیا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اقرا انکار کردے گی۔

پھر جب وہ سنبھلا تو اس کے منہ سے ایک ہی لفظ نکلا، “کیوں؟”

اقرا نے اداسی سے اسے دیکھا اور کہا، “آپ ایک غیر ذمےدار شخص ہیں۔ “

“میں، غیر ذمےدار! کیسے؟”

اقرا ذرا دیر شکستگی سے اسے دیکھتی رہی پھر دھیمی مگر صاف آواز میں بولی۔

“نکاح کے وقت ایک شخص سیکڑوں لوگوں کی موجودگی میں ایک لڑکی کی ذمےداری قبول کرتا ہے، اور یہ ذمےداری محض زبانی نہیں ہوتی بلکہ تحریری ہوتی ہے۔ وہ گواہوں کی موجودگی میں ایک معاہدے پر دستخط کرتا ہے۔ “

“ہاں، تو پھر۔ کیا کہنا چاہتی ہو؟”

“بات بالکل واضح ہے۔ ایک مرد کو ذمےدار ہونا چاہیے۔ “

“مجھ میں کیا غیرذمےداری دیکھی ہے؟” وہ جھنجھلا گیا۔

“آج کے دور میں موبائل ایک ضروری چیز ہے، مگر آپ کے موبائل میں اکثر بیلنس نہیں ہوتا۔ “

“کیا!! تم بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے انکار کر رہی ہو؛ تمھارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا ہے!”

اقرا کی آنکھوں میں نمی اتر آئی جسے اشعر نہیں دیکھ سکا۔ اقرا یہ خوب سمجھ گئی تھی کہ اس کے اور اشعر کے درمیان مزاجی اور فکری ہم آہنگی نہیں ہے، اور وہ دونوں ایک ساتھ خوش نہیں رہ سکتے_نہ وہ خود اور نہ ہی اشعر_مگر یہ بات وہ آسانی سے اسے سمجھا نہیں سکتی تھی، اس لیے اس نے کھل کر ایک بات کہی۔ اس نے کوشش کی کہ اشعر مرد کی حیثیت سے اپنی ذمےداری سمجھ سکے، وہ خود کو سنبھال کر بولی۔

“کیا آپ اپنے والد کی مدد کے بغیر اپنے طور پر اتنا کما سکتے ہیں کہ ایک گھر کا بوجھ اٹھا سکیں؟”

“کیا! تمھیں اتنا زیادہ کمپلیکس ہے؟ بےفکر رہو، میں ذمےداری لیتا ہوں؛ میرے گھر میں تمھیں عزت ملے گی۔ ” اشعر کا لہجہ طنزیہ ہوگیا۔

اقرا کےاندر ایک طوفانی لہر اٹھی۔ وہ ذرا رکی پھر سوچ سمجھ کر بولی۔ “تمھاری میرے ساتھ یہ بدتمیزی واضح کرتی ہے کہ تمھیں احساس ہی نہیں ہے کہ موبائل میں بیلنس نہ ہونا کتنی زیادہ غیرذمےداری ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تمھیں شعور ہی نہیں ہے کہ ایک مرد کو کمانے کا اہل ہونا چاہیے!”

اقرا کا اسے “تم” کہنا اشعر کو کوڑے کی طرح لگا۔ وہ ذرا دیر غصے سے اقرا کو دیکھتا رہا پھر حقارت سے بولا، “تم میری محبت کے قابل ہی نہیں تھیں! اور یہ بھی سن لو، تم جیسی عام سی شکل والی لڑکی کو میری جتنی اہمیت کوئی نہیں دے گا۔ “

اقرا کا چہرہ سرخ ہوگیا اور وہ غصے سے بےقابو ہوتے ہوئے بولی، “تم کیا اپنی محبت کو احسان سمجھتے ہو!!”

یہ دیکھ کر کہ ایک معمولی لڑکی اس پر چلّا رہی ہے، اشعر بھڑک گیا اور نفرت سے چیخ کر بولا، “جہنم میں جاؤ! میرا دماغ خراب ہوگیا تھا جو تم سے محبت کی۔ “

اقرا نے خاموشی سے اپنا ہینڈ بیگ اٹھایا اور آہستگی سے اپنی جگہ سے اٹھی۔ اس نے یونی ورسٹی کے وسیع لان کی سائے سے محروم ہوتی ہوئی اُس جگہ کو الوداعی نگاہوں سے دیکھا جہاں وہ اور اشعر کبھی کبھی بیٹھا کرتے تھے۔ سورج اوپر جا رہا تھا، اور اس کا رویہ بدل رہا تھا، اسی وجہ سے یہ جگہ گرم ہونے لگی تھی۔

اقرا دو قدم چلی، پھر مڑی، اور جسم و جاں میں آسودگی محسوس کرتے ہوئے ہم دردی سے اشعر کو دیکھا__پھر پورے یقین سے بولی، “میں جہنم سے دور جا رہی ہوں!”

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply