آپا —– عطا محمد تبسم

0


گھر میں لاٹین کا گلاس سر شام صاف کرکے جلادی جاتی آپا (والدہ جنہیں سب آپا کہتے تھے) رات کو نیند کے جھونٹے کھاتی جاتی اور عزیز بیڑی کے بنڈل باندھتی جاتی ایک ہزار بیڑی پر لیبل لگانے کی اجرت پچیس پیسے ہوتی تھی۔ ہم سب بہن بھائی مل کر چار پانچ ہزار بیڑی کے لیبل لگاتے۔ پھر آپا ان کے بنڈل بناتی ایک بنڈل 25 بیڑی کا ہوتا۔ پھر یہ بیڑی کے بنڈل ایک ٹوکرے میں رکھ کر، بھانڈے میں پہنچائی جاتی۔ اس زمانے میں سگریٹ کا اتنا رواج نہ تھا۔ عموما بیڑی پی جاتی تھی۔ حیدرآباد میں بیڑیاں بنانے کے کئی کارخانے جنہیں بھانڈے کہا جاتا تھا، قائم تھے۔ جہاں بہت سارے گاریگر بیڑیاں بناتے تھے۔ بیڑی کے کٹے ہوئے پتے پر تمباکو رکھ کر اسے بل دیئے جاتے، پھر ایک دھاگے سے اسے نیچے کی طرف باندھ دیا جاتا اور اس کے اوپر کے سرے کو چھوٹے سے چاکو کی مدد سے بند کردیا جاتا تھا۔ خاصا مینا کاری کا کام تھا۔ منشی اس کا حساب کتاب رکھتے۔ پھر ہمارے گھر بجلی لگ گئی دو بلب لگے 25 واٹ والے بجلی کابل دو ڈھائی روپے ماہانہ ہوتا۔ رات 9 بجے بتی بند کردی جاتی مجھے اس زمانے میں بچوں کی دنیا اور کہانی کی کتابیں پڑھنے کا شوق ہوگیا۔ بتی بند ہوجاتی گلی میں اسٹریٹ لائٹ کا بلب جلتا تھا۔ یہ پول ہماری چھت کے قریب تھا۔ میں چھت پر چلا جاتا اور رات تک کہانی پڑھنے کی عیاشی کرتا۔

آپا سب کی آپا تھیں۔ وہ پانچ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں۔ یہ نام انہیں ان کے بھائیوں نے دیا تھا۔ اور ہم سب بھی انہیں آپا کہتے تھے۔ ماں یا امی کبھی ہم بہن بھائیوں نے انہیں اس نام سے نہیں پکارا۔ آپا بہت زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں۔ لیکن انہیں تعلیم کا شعور تھا۔ میرے نانا نے انہیں نصیحت کی تھی کہ اس نئے دیس میں بچوں کو پڑھانا ورنہ یہ کہیں کے نہ رہیں گے۔ آپا نے یہ بات گرہ میں باندھ لی۔ حالات ایسے سازگار نہ تھے۔ تنگ دستی کا زمانہ تھا۔ لیکن انہوں نے ہمت اور محنت کو اپنا شعار بنایا، کیسی کیسی مزدوری کی، بیڑیوں اور مٹھائی کے ریپر باندھنے کے کام سے اتنی یافت ہوجاتی تھی کہ دال روٹی کا خرچ ہوجاتا، وہ بلا کی کفایت شعار تھیں۔ گھر کی کوئی چیز ضائع نہ ہونے دیتیں۔ وہ زمانہ گھروں میں چکی کا زمانہ تھا۔ صبح سویرے چکی لے کر آٹا پیسنے بیٹھ جاتیں۔ راجھستانی گیت انہیں بہت یاد تھے۔ چکی پیستے ہوئے وہ گیت گاتی جاتی تھیں۔ سادہ زمانہ تھا۔ گھروں میں بجلی نہ تھی۔ لالٹین اور چراغ کی روشنی میں کام ہوتا تھا، گھر کے کام کاج مغرب سے پہلے نمٹ جاتے تھے۔ گھروں میں دوپہر کے کھانے کا باقاعدہ رواج نہ تھا۔ مغرب کے بعد کھانا کھا لیا جاتا تھا۔ گیس نہ تھی۔ مٹی کے چولہے تھے۔ جن میں لکڑی جلائی جاتی۔ محلے میں لکڑی کی دو تین ٹال تھیں، ڈھائی سیر، یا پانچ سیر لکٹریاں لے کر آتے، لکڑیاں بڑے ترازو پر تولی جاتی، ہم اپنی دو نوں بانہیں آگے کر دیتے جس پر لکڑیاں رکھ دیتے، گھر آتے تو لکڑیوں کے نشانات کلائیوں پر ابھر آتے۔ کبھی گیلی لکڑیاں آجاتی تو گھر دھوئیں سے بھر جاتا۔ سب کی آنکھیں دھوئیں سے جلنے لگتیں۔ آپا پھونکنی سے پھونکیں مارتی جاتیں، ان کی آنکھوں سے آنسو نکلتے رہتے جسے وہ دوپٹے کے پلو سے پونچتی جاتی اور چولہے پر روٹیاں پکاتی جاتیں۔ شکر کا قحط پڑا تو گڑ کی چائے بننا شروع ہوئی۔ اس زمانے میں ان چیزوں میں لذت بہت تھی۔ گوشت ہفتے میں ایک بار ہی بنتا تھا، جس میں شوربہ زیادہ ہوتا تھا۔ آپا سردیوں میں باجرہ کی کچھڑی بناتیں، کڑھی ان کو مرغوب تھی۔ روٹیاں جو بچ جاتی انھیں سکھا لیا جاتا تھا، پھر ہفتے میں ایک دن میٹھے ٹکڑے ان روٹیوں کو کوٹ کر بنائے جاتے، کبھی کبھی یہ ٹکڑے نمکین بھی ہوتے، بچے کچھے سالن اور نمک مرچ ڈال کر ایک حلیم نما ڈش ہوتی تھی۔ ہماری نانی رابڑی بھی بناتی، مکھن نکلی لسی چھاچ میں مکئی کا آٹا ڈال کر چولہے پر مٹی کی ہانڈی میں پکائی جاتی تھی۔ پھر اسے ٹھنڈا کرکے چھاچ ڈال کر پی لیتے۔ یہ راجھستان کی ایک سادی اور مزے کی ڈش تھی۔ سوئیاں گھر پر بنائی جاتی تھی، ایک مشین چارپائی کی پٹی پر کس دی جاتی اور میدے کے آٹے کو گوندھ کر مشین چلا کر سوئیاں بنائی جاتی اور انھیں توڑ کر رسیوں پر ڈال کر سکھایا جاتا۔ پھر انھیں گھر پر یا بیکری سے پکوا لیا جاتا۔ آپا سردیوں کی آمد ہوتی تو وہ اس کی تیاریاں شروع کردیتیں۔ لحاف سیتیں روئی بھرانے کے بعد خود ہی ان میں ڈورے ڈالتیں۔ ان کے پاس فرصت کے لمحات نہ ہوتے ایک کے بعد ایک کام قطار بنائے ان کے سامنے کھڑے رہتے۔ اور وہ ایک کے بعد ایک کام خوش اسلوبی سے نمٹاتی رہتیں۔ انہوں نے اپنی عسرت اور تنگ دستی میں کسی سے کوئی قرض بھی نہیں لیا۔ کسی سے کبھی ادھار لیا بھی تو اسے ادا کرنے کی انہیں بے چینی رہتی۔ اکثر کمیٹیاں ڈالی جاتی اور اس سے ضرورت کو پورا کیا جاتا۔ اسی عسرت اور تنگ دستی میں انہوں نے اپنے پانچ بیٹوں اور تین بیٹیوں کو تعلیم دلائی اور ان کی شادی کی۔ اور پھر بھی دنیا بھر کے کام کرتی رہتیں۔ ان کی ملنسار طبعیت کی وجہ سے ان کے بہناپے بھی بہت تھے۔ وہ اپنے بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں۔ لیکن ان کی دوپٹہ بدل بہنوں کی تعداد بہت سی تھی۔ وہ من موجی تھیں۔ دل چاہتا تو باتیں کرتی، اور خوب کرتی دنیا جہاں کے قصے سناتیں۔ پھر انہیں اس سے غرض نہ ہوتی کہ کون سن رہا ہے اور کون نہیں سن رہا۔ وہ اپنے قصے سناتی رہتیں۔ تقسیم کے قصے کیسے گاﺅں والوں نے مسلمانوں کو قتل کرنے کی سازش کی عید کی نماز پڑھنے کے لئے جب سارے مسلمان چلے جاتے تو ہندو گاﺅں پر حملہ کرتے۔ مسلمانوں کو اس سازش کی خبر ہوگئی تو راتوں رات گاﺅں چھوڑنے کا فیصلہ ہوا۔ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی، تایا فوج میں صوبیدار تھے۔ رات کو فوجی ٹرک لے آئے۔ اور خاموشی سے بھرے پرے گھر مال مویشی، ساز و سامان چھوڑ کر پاکستان آگئے۔ کھوکھرا پار کی سرحد پار کر کے حیدرآباد اسٹیشن کے سامنے مکھی کے باغ میں مہاجرین کے کیمپ لگے تھے۔ لیکن انہیں کیمپ میں رہنا پسند نہ تھا۔ جلد ہی ایک مکان میں منتقل ہوئیں۔ جس میں بہت سی کوٹھریاں تھیں۔ بہت جلد یہ کوٹھریاں ان کے دور پرے کے جاننے والوں سے بھر گئیں۔ خود کے رہنے کے لئے ایک چھوٹی سی کوٹھری چالیس پنتالیس گز کی، ان کے حصے میں آئی اور اسی میں انہوں نے زندگی گزاری۔ آپا آپریشن سے بہت ڈرتی تھیں۔ ان کے پیٹ میں رسولی تھی۔ جس کا درد انہیں اکثر بے چین کر دیتا۔

رات کے کسی لمحے درد کی شدت سے کراہتی ہوئی آپا کہتی۔ ، ، مجھے لال بتی لے چلو، ، اور ہم انھیں لال بتی لے جاتے، ڈیوٹی پر موجود اسٹاف انھیں اسٹریچر پر ڈالتا، اور تیزی سے ڈیوٹی ڈاکٹر ان کے درد کی شدت کو کم ہونے کی دوائیں اور انجیکشن دیتا، صبح تک ان کی طبعیت بحال ہوجاتی اور اگلے دن ہم انھیں گھر لے آتے، والدہ آپریشن سے گھبراتی تھیں، اور ان کے درد کا مداوا سرجری میں تھا۔ ان دنوں حیدرآباد کا سول اسپتال لال بتی کے نام سے پہچانا جاتا تھا، اسپتال میں صفائی کی صورتحال قابل رشک تھی، اسٹاف اور ڈاکٹر مستعد، قابل، اور بے لوث تھے۔ اسپتال میں مریضوں کو تین وقت خوراک دی جاتی تھی، ناشتے میں ابلے ہوئے انڈے، مکھن لگے توس، دودھ، دوپہر میں سالن روٹی اور سوئٹ ڈش کھانے کا معیار بہت اچھا اور صفائی ستھرائی بہت زیادہ تھی۔

80 اور 70 کی دہائی تک سول اسپتال حیدرآباد اپنے معیار اور علاج کی سہولیات کے سبب بہت نامور تھا، اندرون سندھ سے آنے والے مریضوں کی بڑی تعداد یہاں شفایاب ہوتی تھی۔ دوائیں اسپتال سے فراہم کی جاتی تھیں، آج کی طرح ہر بات کے لئے مریضوں پرچی نہیں تھما دی جاتی تھی کہ یہ دوا اسٹور سے منگا لیں، اسپتال میں آپریشن با قاعدگی سے ہوتے تھے، حیدرآباد کی آبادی اتنی زیادہ نہیں تھی، سرکاری اسکولوں میں بچوں کو دودھ اور فروٹ بن دئیے جاتے تھے۔ ان پیلے اسکولوں کی تعلیم کا معیار بہت اچھا تھا۔ گورنمنٹ ہائی اسکول حیدرآباد میں داخلے کے لئے ٹیسٹ ہوتے تھے اور میرٹ پر داخلے دئیے جاتے تھے۔ حیدرآباد میں تارا چند اسپتال بھی مشہور تھا۔ یہاں او پی ڈی کی سہولت تھی۔ اور ایک آنہ پرچی پر دوائیں اور علاج کیا جاتا تھا۔ آج یہ اسپتال حافظ مبارک علی شاہ اسپتال کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جو بے ہنگم کمرشل دکانوں میں گھر کر اپنی شناخت کھو بیٹھا ہے۔ پرائیوٹ اور چیر ٹیبل اسپتال کے نام سے میمن انجمن ہسپتال موجود تھا، جو آج بھی گران قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔

سول اسپتال حیدرآباد 1881 میں بمبئی فیکلٹی آف میڈیسن کے اشتراک سے حیدرآباد اور اندرون سندھ کے لوگوں کو میڈیکل سہولیات کی فراہمی کے لئے قائم کیا گیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد 1953 میں اس کا نام بدل کر سول اسپتال کردیا گیا تھا۔ بعد میں لیاقت میڈیکل کالج جامشورہ کے قیام کے بعد اس کا نام بھی لیاقت میڈیکل کالج کردیا گیا۔ اور اسے کالج سے منسلک کر کے ٹیچنگ اسکول کی حیثیت دے دی گئی، 1980 کی دہائی تک سول اسپتال کی صورتحال بہت اچھی تھی، اس کا نظم نسبق بہتر تھا، یہاں کراچی کے بعد سب سے اچھی آپریشن، سرجری کی سہولیات موجود تھیں، ایمرجنسی میں بھی یہاں اندرون سندھ سے آنے والوں کے لئے اچھے انتظامات تھے۔ حال ہی میں لیاقت میڈیکل کو یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔

ان دنوں کا سول اسپتال درختوں اور پھولوں سے ہرا بھرا تھا، سرخ اور نارنجی رنگ کے پھول پیڑوں پر بہت بہار دیتے۔ آپا کے آئے دن اسپتال آنے سے ہم اس سے مانوس ہوگئے تھے۔

ڈاکٹر انہیں آپریشن کا مشورہ دیتے۔ لیکن خوف کے سبب وہ آپریشن پر تیار نہ ہوتیں۔ بیٹیوں کی شادی اور بچوں کے بڑے ہوجانے پر انہوں نے آپریشن کرالیا۔ لیکن ان کی بیماریوں میں شوگر اور بلڈ پریشر شامل ہوگئے، شوگر کی موذی بیماری سے وہ بہت تنگ تھیں۔ اس کی دواﺅں کے بارے میں وہ کہا کرتی تھیں کہ نہ جانے ان سے کب پیچھا چھوٹے گا۔ انہیں محتاجی اور معذوری کی زندگی پسند نہ تھی۔ آنکھوں کی بینائی کے بارے میں وہ بے حد فکر مند رہتی تھیں، اس کے لئے جس کسی ڈاکٹر کا سنتی اس کے پاس چل دیتیں۔ اپنی بیماریوں کا مقابلہ انہوں نے بڑی پامردی سے کیا۔ لیکن پرہیز سے ان کا سدا کا بیر تھا۔ جو چاہتی وہ کھاتیں۔ جس سے ڈاکٹر اور حکیم منع کرتے۔ اس کی بہت زیادہ پابندی نہ کرتیں۔ رمضان کے پورے روزے بیماری میں بھی رکھتیں۔ ذکر وہ کرتی رہتیں، تسبیح پڑھتی رہتیں۔ اپنی تکلیف کو اس وقت تک ضبط کئے رہتیں جب تک برداشت ہوتی۔ کئی بار شدید بیمار ہوئیں۔ شوگر لیول گر جاتا، یا بہت بڑھ جاتا ایسے لمحوں میں انہیں اسپتال لے جاتے اور وہ ٹھیک ہوکر گھر آجاتیں۔ الیکشن میں ووٹ ڈالنے جاتیں۔ قلعہ آپریشن کے موقع پر خود عورتوں کے جلوس میں چلی گئیں۔ اور پولیس آپریشن پر کئی دن تک پولیس والوں کو برا بھلا کہتی رہیں۔ زمانہ طالب علمی میں تحریک نظام مصطفےٰ میں، جلسے جلوسوں میں میری شرکت پر کبھی نہ روکا، ان دنوں جلوسوں پر گولیاں چلتی تھیں۔ لیکن وہ ہماری سلامتی کے لئے دعائیں کرتی رہتیں۔ طالب علمی کا وہ دور تحریکوں، جلسے جلوسوں سے بھرپور تھا۔ تحریک تحفظ نبوت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں میری گرفتاری پر بھی ثابت قدم رہیں۔ تحریک کے جلسے جلوسوں اور اسلامی جمعیت طلبہ کی تحریکوں میں حصہ لینے کے سبب، میں رات گئے گھر آتا۔ ان دنوں میں سیڑھیوں کے نیچے بیٹھک میں سویا کرتا تھا۔ رات بھر وہ میری آمد کے انتظار میں چکر لگاتی رہتیں۔ رات کے کسی حصے میں جب میں آکر سوجاتا تو انہیں چین آتا، سردیوں میں کئی بار میرا لحاف ٹھیک کرتیں۔ صبح پوچھتی کب آیا تھا۔ میں کہتا فلاں وقت آیا تھا۔ وہ مجھے بتا دیتیں کہ کب آیا تھا۔ آپا نے حج ان دنوں کیا جب میرا چھوٹا بھائی سعودی عرب میں تھا۔ سفر حج کے واقعات اب ان کی بات چیت کا حصہ تھے۔ وہ وہاں کے قصے سنایا کرتی تھیں۔ ایک ہفتہ قبل ان کی طبعیت زیادہ خراب ہوئی۔ میں کراچی پریس کلب کی الیکشن کمیٹی کی میٹنگ میں بیٹھا تھا۔ دیوان مشتاق میں ان کی دل کی بیماری بڑھ گئی تھی۔ کہنے لگیں۔ کیوں بار بار چکر لگاتا ہے۔ اب میں ٹھیک ہونے کی نہیں۔ لیکن چند دن میں ٹھیک ہوگئی۔ ان کی طبیعت ایسی ہی تھی ۔ پل میں تولہ پل میں ماشا۔ لیکن وہ اس پر بھی شاکر تھیں۔ انہیں معذوری کا خوف تھا۔ وہ اس بات سے بہت ڈرتی تھیں کہ کہیں چلنے پھرنے سے محتاج نہ ہوجائیں، ۔ میں نے ایک بار وہیئل چیر لانے کا کہا۔ تو منع کردیا۔ اور کہا، ، لو اب میں کرسی پر بیٹھ کر چلوں گی۔ ، ،

آپا کو دس تک گنتی آتی تھی۔ باقی کام وہ دس، دس کو جوڑ کر چلاتی تھیں۔ انہیں نوٹ کی بھی زیادہ پہچان نہ تھی۔ پہلے رنگوں سے پہچان جاتی تھیں۔ اب نئے نوٹ ان کی سمجھ میں نہ آتے تھے۔ پیسے انہوں نے کبھی جمع نہیں کیے ۔ جو آتے خرچ کر دیتیں۔ وہ معصوم اور بھولی تھیں۔ اسپتال میں ڈاکٹر نے راؤنڈ پر آنے پر معمول کے مطابق پوچھا۔ کوئی شکایت تو نہیں ہے۔ شام کو کہنے لگیں لو میں دو دن کے لئے اسپتال آئی ہوں۔ میں کسی کی شکایت کیوں کروں۔ ہم نے کہا ڈاکٹر آپ سے بیماری کے بارے میں پوچھ رہا تھا کہ آپ کو کیا شکایت ہے۔ اچھا میں سمجھی وہ ماسیوں اور صفائی کرنے والوں کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ ڈیڑھ سال قبل والد صاحب کے انتقال کے بعد وہ اکثر ان کے قصے سنانے بیٹھ جاتیں۔ ان دنوں ہر وقت وہ کوئی ہدایات دیتی رہتی تھیں۔ مختلف ٹیسٹ کرانے کے لئے گھر سے نہا دھو کر تیاری کر کے آئیں۔ اس بار اسپتال میں وہ بار بار یہ کہتی رہیں کہ اب میں گھر نہ جاﺅں گی۔ اپنی میت کو غسل دینے کے بارے میں تمام ہدایات دیں۔ بچوں کے خیال رکھنے کا کہا۔ ایک ایک بات کی تفصیل بتائی۔ لیکن ہم اس وقت یہی خیال کرتے رہے کہ آپا کو کوئی ایسی سیریس تکلیف نہیں ہے۔ یہ ایسی باتیں یونہی کہہ رہی ہیں، نویں محرم ہوچکی تھی۔ ساتویں محرم کو ملیدہ پر نیاز ہوتی ہے۔ ملیدہ کھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ شوگر کے ڈر سے تھوڑا سا چکھا۔ چھوٹے بھائی ایاز سے مچھلی کی فرمائش کی۔ مغرب کے وقت ان کی طبعیت اچانک بگڑ گئی۔ کلمہ شریف کا ورد کرنے لگیں۔ میں نے کہا آپا جلد ٹھیک ہوجاﺅ گی۔ پھر گھر چلیں گے۔ کہنے لگیں۔ ، ، تجھے کیا پتہ مجھے کیا نظر آرہا ہے، ، ۔ پھر زور زور سے کلمہ شریف کا ورد کرنے لگیں اور توبہ کرنے لگیں۔ اللہ سے معافی کی درخواست کرنے لگیں۔ اور خواب غفلت میں زور زور سے السلام وعلیکم، السلام علیکم کہتی رہیں۔

میں اور میرا چھوٹا بھائی دلشاد ان کے پاس موجود تھے۔ درد کی شدت میں اضافہ ہوگیا تو ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ انہوں نے دوا دی۔ انجیکشن لگایا۔ تو پرسکون ہوگئیں۔ رات کو ایک بج گیا تھا۔ میرا دوسرا بھائی شمشاد اپنے بچوں کو لے کر آگیا۔ پھر وہ بچوں کو چھوڑنے چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ اپنی بیگم کے ساتھ آگیا۔ انہوں نے کہا کہ رات ہم یہاں رک جاتے ہیں۔ گھر جانے کی طبعیت نہیں تھی۔ بھائی کے ضد کرنے پر میں اٹھا۔ جانے سے پہلے میں ایک لمحے کے لئے اٹھ کر ان کے چہرے کی طرف بڑھا۔ میں نے نرمی سے اپنا ہاتھ ان کی پیشانی پر رکھا۔ مجھے ان کا چہرہ ٹھنڈا لگا۔ میں نے اپنے بھائی کو آواز دی۔ ہم نے انہیں ہلایا آواز دی۔ لیکن ان کی روح پرواز کرچکی تھی۔ ڈاکٹر نے آکر ان کا معائنہ کیا۔ اور ان کے رخصت ہونے کی تصدیق کر دی۔ عمر بھر کی بے قراری کو قرار آگیا۔ بے شک سب کو آخر ایک دن اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ اور ان کے روح بھی اپنے پروردگار کے حضور پرواز کر گئی تھی۔ آپا میری ماں تھیں ۔ جو ۹ محرم 28 دسمبر 2009کی شب سوا ایک بجے اس جہان فانی سے روانہ ہوگئیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply