موسمی آفتیں: ہم بجلی کیسے پیدا کرتے ہیں؟ (چوتھا باب) — بل گیٹس

0

ترجمہ: ناصر فاروق

ہم بجلی کی محبت میں مبتلا ہیں، مگرہم میں سے اکثر اسے نہیں جانتے۔ بجلی کا بہاؤ مسلسل ہمارے ساتھ ہے، اس سے ہماری گلیاں روشن ہیں، ائیر کنڈیشنر چل رہے ہیں، کمپیوٹر کام کررہے ہیں، اور ٹی وی تفریح مہیا کررہے ہیں۔ یہ ساری دنیا کی وہ وہ صنعتیں چلا رہی ہے، جن کے بارے میں ہم سوچتے بھی نہیں۔ یہ عام طور پر ہماری زندگی میں ہوتا ہے کہ جب تک کوئی چیز غائب نہ ہو، اُس کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا۔ جیسے امریکہ میں بجلی شاذو نادر ہی غائب ہوتی ہے۔ لوگ یاد کرتے ہیں کہ دس سال پہلے جب کچھ دیر کے لیے بجلی غائب ہوئی تھی اور وہ لفٹ میں پھنس گئے تھے۔

مجھے خبر نہ تھی کہ ہم بجلی پر کس قدر انحصار کرتے رہے ہیں، مگر چند سال سے مجھ پر یہ حقیقت کھلی ہے کہ بجلی کس قدر ضروری ہے، اور اس کی ترسیل واقعی قابلِ تحسین ہے۔ درحقیقت وہ سارا نظام بہت حیران کن ہے، جو سستی بجلی پیدا کرتا ہے، مہیا کرتا ہے۔

یہ بڑا جادوئی ہے کہ آپ کسی بھی خوشحال ملک میں کہیں بھی ایک سوئچ آن کرتے ہیں، اور کمرہ روشن ہوجاتا ہے، اور اس پرفقط چند پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ امریکہ میں چالیس واٹ کا بلب ایک گھنٹہ روشنی کا صرف آدھا سینٹ وصول کرتا ہے۔ یہ صرف میرا احساس نہیں، میرا بیٹا روئے، جو میرے ساتھ بجلی کے پلانٹس کے دورے کرتا رہا ہے، گہری دلچسپی لیتا رہا ہے کہ یہ کس طرح کام کرتے ہیں۔

مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنا بہت سا وقت اور سرمایہ بجلی کی تعلیم پرصرف کیا۔ اس کی ایک وجہ باپ بیٹے کی مشترکہ سرگرمی بھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ جاننے کی جستجو رہی کہ کس طرح بغیر کاربن خارج کیے کم سے کم لاگت میں زیادہ سے زیادہ بجلی کے فوائد سمیٹے جائیں، اور موسمی آفت سے بچا جاسکے۔ بدلتے موسم میں بجلی کی پیداوار کا خاص حصہ ہے۔ اگر ہم ’’صفر کاربن‘‘ بجلی پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، یہ ہمارے لیے دیگر بہت ساری چیزوں کو کاربن سے پاک کرنے میں مددگار ہوجائے گی۔ جب ہم کوئلے، قدرتی گیس، اور تیل سے توانائی کا حصول ترک کریں گے تو کہیں نہ کہیں سے ہمیں متبادل توانائی حاصل کرنی ہوگی، اور یہ بیشتر صاف ستھری بجلی سے حاصل ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ میں سب سے پہلے بجلی کی پیداوار پر توجہ دے رہا ہوں۔ صنعتی شعبہ بہت زیادہ کاربن اخراج کا ذمہ دار ہے۔ زیادہ سے زیادہ لوگ بھی بجلی استعمال کررہے ہیں، یہاں تک کہ صحرائے افریقا میں بھی آدھی سے کم آبادی کے لیے گھر پر پائیدار بجلی میسر ہے۔ ترقی پذیر ملکوں میں بھی اگر تمہارے پاس موبائل ری چارجنگ کے لیے بجلی میسر نہیں ہے تو تم کسی دکان پرجاکر پچیس سینٹ میں اسے ری چارج کروا سکتے ہو، اور بے شمار لوگ یہ کررہے ہیں۔

دنیا بھر میں 86 کروڑ لوگوں تک پائیدار بجلی نہیں پہنچتی، لیکن اس کے باوجود صحرائے افریقا میں نصف سے کم آبادی تک گرڈ سے بجلی ترسیل کی سہولت موجود ہے۔ غرض، ہم میں سے کوئی بھی بجلی کی موجودہ سہولت ترک نہیں کرنا چاہے گا۔ اس لیے ’’صفر کاربن‘‘ تک پہنچنے کے جوطریقے ہم اختیار کریں، انہیں قابلِ انحصار اور قابلِ استطاعت بنانا ہوگا، جیسا کہ یہ ہمارے لیے آج ہیں۔

یہاں میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں بجلی کی موجودہ سہولت قائم رکھنے کے لیے کیا کچھ کرنا ہوگا۔ سستی توانائی کا ایسا ذریعہ جوہمیشہ دستیاب ہو، جسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جاسکے۔ یہ ساری بجلی کاربن اخراج کے بغیر پیدا کی جائے گی۔ کہانی اس طرح شروع ہوتی ہے کہ ہم یہاں تک کس طرح پہنچے، اور آگے کیسے بڑھیں گے۔

ذرا غور فرمائیے، آج جو بجلی ہرجگہ موجود ہے، اور بیسویں صدی کی کئی دہائیوں سے یہ اسی طرح جاری ہے، اور اب سب اس کی اہمیت جیسے بھول ہی گئے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بجلی کی پیداوار کا ابتدائی ذریعہ وہ نہیں تھا جیسا کہ شاید آج ہمارے ذہنوں میں ہے۔ شروع میں بجلی کوئلے، تیل، اور قدرتی گیس سے پیدا نہیں کی جاتی تھی، بلکہ یہ پانی تھا جو بجلی پیدا کررہا تھا، یہ ہائیڈروپاور کی صورت میں تھا۔

ہائیڈروپاور بہت مفید اور سستا ہے، مگراس کے چند تاریک پہلو ہیں۔ ذخیرۂ آب مقامی آبادیوں اور جنگلات کا صفایا کردیتا ہے۔ جب آپ پانی ذخیرہ کرنے کے لیے زمین حاصل کرتے ہیں، اور اس کی مٹی میں بہت سی کاربن جو موجود ہوتی ہے، وہ میتھین بن جاتی ہے، اور پھر ماحولیات میں شامل ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کی ذخیرہ اندوزی کے لیے اراضی کا مطالعہ کیا جاتا ہے کہ آیا وہ ذخیرۂ آب کے قابل ہے یا نہیں، کیونکہ اس معاملے میں ایک ڈیم کوئلے سے بدتر ثابت ہوسکتا ہے۔ مزید یہ کہ ڈیم سے بجلی کی پیداوار کا انحصار موسم پر ہوتا ہے، یہ بارشیں اور دریاؤں کی روانی ہے جوبجلی کی روانی قائم رکھتی ہے۔ اور یقیناً ہائیڈرو پاور ساکن ہے۔ ڈیم وہیں تعمیر کیے جاتے ہیں جہاں دریا بہتے ہوں۔

قدرتی ایندھن کی کوئی حد نہیں۔ تم کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس زمین سے نکال کر پاور پلانٹ منتقل کردیتے ہو، جہاں تم اسے جلاتے ہو، اس کی حرارت سے پانی ابالتے ہو، اور اس کی بھاپ سے ٹربائن گھما دیتے ہو، اور بجلی پیدا ہوجاتی ہے۔ بجلی کی مانگ جوں جوں بڑھی، قدرتی ایندھن کی سہولتوں نے زندگی کا احاطہ کرلیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد، بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں قدرتی ایندھن ماحول پر چھا گیا تھا۔ سات سو گیگا واٹس یعنی عالمی جنگ سے پہلے کی نسبت قدرتی ایندھن کا استعمال 60 گنا بڑھ چکا تھا۔

دنیا بھر کے لیے صاف ستھری بجلی مہیا کرنا آسان نہ ہوگا۔ آج قدرتی ایندھن دنیا بھر کی دو تہائی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ بجلی غیر معمولی طور پر سستی ہوئی ہے۔ ایک تحقیق کہتی ہے کہ 2000ء میں بجلی 1900ء کی نسبت دو سو گنا سستی ہوچکی تھی۔ آج امریکہ اپنی جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد بجلی کی پیداوار پر صرف کرتا ہے۔ اگر بجلی پر روزمرہ زندگی کے انحصارکا جائزہ لیا جائے تو یہ لاگت حیران کن ہے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ قدرتی ایندھن بہت سستا پڑتا ہے، اور آسانی سے ہرجگہ دستیاب ہے۔ مزید یہ کہ ہم نے قدرتی ایندھن کے استعمال کے لیے زیادہ جدید اور مؤثر طریقے اختیار کیے ہیں۔

حکومتوں نے بھی قدرتی ایندھن کی قیمتیں کم سے کم رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں اور ان کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی نے تخمینہ لگایا ہے کہ سال 2018ء میں قدرتی ایندھن کے استعمال پر حکومتی سبسڈیز400 ارب ڈالر تک گئیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ بجلی ہماری قومی پیداوار میں کس قدر اہم سمجھی جاتی ہے۔ مسلسل تیس سال سے بجلی کی عالمی پیداوار میں جلتے ہوئے کوئلے کا حصہ 40فیصد ہے۔ تیل اور قدرتی گیس تین دہائیوں سے دنیا بھر کی 26 فیصد بجلی پیدا کررہے ہیں۔ جبکہ سورج اور ہوا سے پیدا کی جانے والی بجلی صرف 7 فیصد ہے۔

سال 2019ء کے وسط میں دنیا بھرمیں236گیگا واٹس پیداوار کے قابل کوئلے اور قدرتی گیس کے نئے پلانٹ تعمیر کیے گئے۔ چند دہائیوں میں ترقی پذیر ملکوں میں قدرتی ایندھن سے پیدا کی جانے والی بجلی کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ 2000ء اور 2018ء کے درمیان چین نے کوئلے سے بجلی کی پیداوار تین گنا بڑھائی۔ یہ امریکہ، میکسیکو، اور کینیڈا کی مجموعی پیداوار سے بھی بڑھ کر ہے۔

کیا کسی طرح ہم اس سارے عمل کا رخ موڑ سکتے ہیں؟ اور جتنی بجلی ہمیں چاہیے، بغیر کاربن خارج کیے پیدا کرسکتے ہیں؟

اس کا انحصار اس پر ہے کہ تم ’’ہم‘‘ سے کیا مراد لیتے ہو؟ امریکہ سورج اور ہوا سے بجلی کی پیداوار کے بارے میں درست پالیسیاں اور جدید طریقے اپناکر پیش رفت کرسکتا ہے۔ مگر کیا ساری دنیا ’’صفر کاربن‘‘ بجلی حاصل کرسکے گی؟ یہ بہت زیادہ مشکل ہوگا۔

چلیے، امریکا میں بجلی کے لیے پریمئم سے شروع کرتے ہیں۔ یہ درحقیقت اچھی خبر ہے: ہم کاربن اخراج سادہ سے گرین پریمئم کے ذریعہ مٹاسکتے ہیں۔ بجلی کے معاملہ میں، کاربن سے پاک ذرائع کے حصول میں پریمئم کا مطلب اضافی لاگت ہے۔ یہ ذرائع ہوا، سورج، نیوکلئیر پاور، اورکوئلے، قدرتی گیس کے وہ پلانٹس ہیں جہاں کاربن جذب کرنے والے آلات موجود ہوں۔ یہ پریمئم کتنا ہوگا؟ بدلتے امریکا کا سارا بجلی نظام اگر صفرکاربن ذرائع میں منتقل کیا جائے، اضافی لاگت فی کلو واٹ پر گھنٹہ 1.3 سے 1.7سینٹس بنے گی، یعنی موجودہ قیمت سے پندرہ فیصد زیادہ ادائیگی کرنی پڑے گی۔ یہ ایک گھرانے کے لیے اٹھارہ ڈالر ماہانہ اضافی خرچہ ہوگا۔ یہ اکثرلوگوں کے لیے مشکل نہ ہوگا۔ لیکن کم آمدنی والے امریکیوں کے لیے آسان بھی نہ ہوگا۔

یہ اچھی بات ہے کہ امریکیوں کے لیے گرین پریمئم سستا ہوگا۔ یہی کچھ یورپ کے لیے بھی کہا جاسکتا ہے۔ یورپین ٹریڈ ایسو سی ایشن کے مطابق یورپ میں گرڈ کی بجلی کا نوے سے پچانوے فیصد اگر کاربن فری کردیا جائے، فی گھر لاگت 20فیصد بڑھ جائے گی۔

ؓبدقسمتی سے، چنداور ہی ریاستیں ہیں، جوامریکا جتنی خوش نصیب ہیں۔ امریکا کے پاس قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی ترسیل وافرہے، شمال مغرب سے بحر الکاہل ہائیڈرو پاورکی ترسیل ہے، وسط مغرب میں تیز ہوائیں چلتی ہیں، اور جنوب مغرب میں سال بھر کی شمسی توانائی دستیاب ہوتی ہے۔ دیگر ملکوں میں شاید کچھ شمسی توانائی پہنچتی ہو مگر ہوائیں نہیں چلتیں، اور کہیں تھوڑی بہت ہوا چلتی ہے مگر سورج نہیں نکلتا، اورکہیں دونوں ہی کی کمی ہے۔

ٖٓافریقا اور ایشیا سب سے مشکل صورتحال میں ہیں۔ چند دہائیوں سے، چین نے تاریخ کی ایک عظیم کامیابی حاصل کی ہے، کروڑوں انسانوں کو غربت سے نکال دیا ہے، اور اس میں کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کی سستی بجلی کا کردار کلیدی ہے۔ چینی فرموں نے کوئلہ کے پلانٹ کی لاگت 75فیصدکم کی۔ اور آج انہیں زیادہ سے زیادہ صارفین چاہیئں۔ اس لیے اب وہ ترقی پذیر ملکوں تک اس کام کا دائرہ بڑھارہے ہیں: بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، پاکستان، اور پورے افریقا میں۔

یہ نئے صارفین کیا کریں گے؟ کیا یہ کوئلے کے پلانٹس تعمیر کریں گے یا کاربن فری پالیسی اپنائیں گے؟ سوچیے ان کے اہداف اور انتخاب کیا ہوگا۔ چھوٹے پیمانے پر شمسی توانائی ان غریب ملکوں کے لیے ایک صورت ہوسکتی ہے، دیہاتی علاقے جہاں سیل فون چارج کرنے کے لیے بجلی درکار ہوگی، یا راتوں میں روشنی کی ضرورت ہوگی۔ مگر اس قسم کاحل بڑے پیمانے پر سستی اور ہر وقت دستیاب صاف بجلی کا متبادل نہیں ہوسکتا۔ جبکہ ان ملکوں کواپنی معیشتوں کی ترقی کے لیے بجلی کی وافر مقدار درکار ہوگی۔ چنانچہ یہ وہ ہی کچھ کرنا چاہتے ہیں جوچین نے کیا: یہ اپنی معیشتوں کوزیادہ سے زیادہ صنعت سازی اور کال سینٹرز کے ذریعہ ترقی دینا چاہتے ہیں، ایسے کاروبارکوفروغ دینا چاہتے ہیں جوقابل تجدید توانائی کے بجائے رائج ذرائع سے حاصل بجلی پرانحصار کرتے ہیں۔ اگر یہ ملک کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کا انتخاب کرتے ہیں، جیسا کہ چین اور ہر امیر ملک نے کیا، تویہ موسم کے لیے تباہ کُن ثابت ہوگا۔ مگر فی الوقت یہی سب سے کم خرچ انتخاب انہیں میسر ہے۔
پہلی بات، یہ ابھی واضح نہیں کہ گرین پریمئم کی گنجائش ہرجگہ کیسے پیدا کی جائے۔ جب تک قدرتی گیس پلانٹس چل رہے ہیں، تیل

خریدتے رہیں گے۔ ایک اور بات یہ کہ جب کوئی ٹیکنالوجی بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہے، اُس کی لاگت کم ہوجاتی ہے۔ پھرصاف ستھری توانائی کیوں اضافی لاگت مانگتی ہے؟ ایک سادہ وجہ یہ ہے کہ قدرتی ایندھن بہت سستا ہے۔ ہم نے دہائیوں تک قدرتی ایندھن کے حصول اور ترسیل پربڑی محنت کی ہے، جس کی وجہ سے یہ آج اتنی سستی ہے۔
ایک وجہ وہ بھی ہے کہ جس کا ذکر میں پہلے کرچکا ہوں، دنیا کے بہت سے خطے قابل تجدید توانائی کے مناسب ذرائع نہیں رکھتے۔ سو

فیصد سے قریب تر ہونا ہے، تواس کے لیے بہت زیادہ کلین انرجی حاصل کرنی ہوگی۔ اس کے لیے اُن مقامات پرنظر مرکوز کرنی ہوگی جہاں سورج کی کرنیں زیادہ سے زیادہ پڑتی ہوں اور تیز ہواؤں کا گزر ہوتا ہو، اور اُن مقامات تک اس توانائی کو منتقل کرنا ہوگا جہاں موسم ابر آلود رہتا ہو اور ہوائیں نہ چلتی ہوں۔ نئی ٹرانسمیشن لائنیں تعمیر کرنی ہوں گی۔ یہ ایک مہنگا اور وقت طلب کام ہے۔ خاص طورپر اُس وقت کے جب یہ قومی سرحدوں سے پار جارہی ہوں۔ جوں جوں ہم لائنیں بچھائیں گے یا نصب کریں گے، زیادہ سے زیادہ لاگت بجلی کی پیداوار پر آئے گی۔ درحقیقت، بجلی کی ترسیل اور تقسیم لاگت میں ایک تہائی سے زائد کے حصہ دار ہوں گے۔ اکثر ملک یہ نہیں چاہتے کہ بجلی کے لیے دوسرے ملکوں پر انحصار کریں۔

(جاری ہے)

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply