حسینی لائبریری اور ابن صفی کے ناول —- عطا محمد تبسم

1

مکتی گلی حیدرآباد میں چلتے ہوئے جانے کیوں مجھے حسینی لائیبریری کی یاد آگئی۔ پھر اس جانب میرے قدم اٹھ گئے۔ لیکن اب وہاں حسینی لائیبریری کی جگہ کھلونوں کی دکان ہے۔ جو حسینی بھائی کی اولاد چلا رہی ہے۔ حسینی لائیبریری حیدرآباد کی مشہور لائیبریری تھی۔ آنہ لائیبریری جس کے کھلنے سے پہلے لوگ آکر بیٹھ جاتے تھے اور رات گئے تک یہ کھلی رہتی تھی۔ یہاں ہر طرح کی کتابیں تھیں۔ جاسوسی، ادبی، رومانی، ڈائجسٹ، رسالے اور اس زمانے میں پڑھنے والے بھی بہت تھے۔ حیدرآباد کی رونق ان لائیبریریوں سے قائم تھی۔ جو گلی گلی میں کھلی ہوئی تھیں، لیکن حسینی بھائی اور ان کی اس لائیبریری کی بات ہی اور تھی۔ ہم لائیبریری کو کوئی کونہ پکڑ کر کھڑے کھڑے ہی پوری کتاب پڑھ ڈالتے۔ پھر ایک ساتھ ۵، ۵، کتابیں لے جاتے۔ ہماری صبح ان کتابوں سے ہوتی، جو ہم آنکھیں ملتے ہوئے بلا منہ دھوئے، بستر پر آنکھ کھلتے ہی پڑھنا شروع کردیتے۔ حسینی بھائی کی لائیبریری سے حیدرآباد کی کئی نسلوں نے علم وادب سے شناوری حاصل کی۔ اس زمانے میں شہر میں گلی گلی آنہ لائیبریری ہوا کرتی تھے۔ گاڑی کھاتہ میں المشرق لائیبریری کا بڑا شہرہ تھا۔ ہر محلے میں یونین کونسل کے دارلمطالعہ اور لائیبریری بھی ہوا کرتی تھیں۔ نیشنل سینٹر کی لائیبریری، امریکن سنٹر، اور برٹش لائیبریری بھی پڑھنے والوں کے شوق کی تکمیل کیا کرتی تھیں۔

جاسوسی ناولوں کے شوق ہی نے آگے تعلیم کے شوق کو پروان چڑھایا۔ ان جاسوسی ناولوں میں سب سے بڑا کمال ابن صفی کے ناولوں کا تھا۔ جس کے بارے میں دنیا کے معروف ناول نگا ر اگاتھا کرسٹی نے کہا تھا کہ، اگرچہ میں اردو نہیں جانتی لیکن مجھے برِ صغیر کے جاسوسی ناولوں کے بارے میں معلومات ہیں۔ وہاں صرف ایک ہی اصل ناول نگار تھا، ابنِ صفی: اردو کے جغادری نقادوں کی نظر میں جاسوسی ادب کی جو بھی اہمیت ہو، اس بات سے انکار ممکن نہیں ہے کہ آج تک اردو کے کم ہی کسی دوسرے ادیب کو پڑھا گیا ہو گا۔ جس قدر ابن صفی کو پڑھا گیا۔ ان کی کتاب آنے سے پہلے پڑھنے والے ایڈوانس کاپی بک کرایا کرتے تھے۔ ہمارے دوست افتخار جمیل جعفری کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے ابن صفی سے نہ صرف ملاقات کی بلکہ انھیں نواب شاھ میں شکار بھی کھلایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ابن صفی نے الااعظم اسکوئر میں ایک فلیٹ لے رکھا تھا جہاں وہ خاموشی سے لکھنے پڑھنے کا کام کرتے تھے۔ ابن صفی کی پیدائش 26 جولائی سنہ 1928ءکو الہ آباد ضلع یو پی کے چھوٹے سے شہر نارا میں ہوئی تھی۔ ان کا اصل نام اسرار احمد تھا۔ نارا سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر نوح ناروی ان کی والدہ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ اس لیے ابن صفی کا خاندان بھی ادبی تھا۔ انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں ”طلسمِ ہوش ربا“ کا مطالعہ کر لیا تھا۔ اس داستان نے جہاں ان کے ذہن میں تخلیقی اور تخیلاتی عناصر کی بنیاد ڈالی، وہیں اس کتاب کے محاورات اور تراکیب سے بھر پور زبان نے بھی ان کے ذہن کی تشکیل میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ اپنے گھر میں انہوں نے اردو کی دیگر کلاسیکی کتابوں کے علاوہ ادب کی دوسری اصناف کی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا۔ ایک روز انہیں عذرا اور عذرا کی واپسی جیسی دو کتابیں مل گئیں۔ یہ رائڈر ہیگرڈ کے ناول”شی“ کا ترجمہ تھی۔ ابن صفی نے اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور انہیں محسوس ہوا کہ اس طرح کی چیزیں تو وہ بھی لکھ سکتے ہیں اور اس کے بعد انہوں نے اسرار ناروی کے نام سے لکھنا شروع کر دیا۔ جب وہ ساتویں جماعت میں تھے تو انہوں نے ایک افسانہ”ناکام آرزو “کے نام سے لکھا، جو ممبئی کے ہفت روزہ رسالہ ” شاہد “ میں شائع ہوا، جس کے مدیر عادل رشید تھے۔ ابن صفی نے شاعری بھی کی وہ جگر مراد آبادی کے طرزِ کلام سے متاثر تھے۔ انہوں نے اپنا شعری مجموعہ ”باز گشت “ کے عنوان سے ترتیب دیا تھا جو ان کی زندگی میں شائع نہ ہو سکا۔

آگرہ یونیورسٹی سے بی اے پاس کرنے کے بعد ابنِ صفی ایک اسکول میں استاد مقرر ہو گئے اور اپنا ذاتی ماہنامہ ”نکہت“ الہ آباد سے جاری کیا۔ اس کی اشاعت میں انہیں اپنے دوست عباس حسینی کا تعاون حاصل ہوا۔ نکہت کی شکل میں ابن صفی کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں اور فطری حس مزاح کے اظہا رکا موقع ملا۔

انہوں نے نکہت میں ڈیڑھ سو سے زائد طنزیہ مضامین لکھے جن میں کچھ پیروڈیاں بھی تھیں۔ ان میں سے مضامین کا انتخاب کتابی شکل میں شائع ہوا جس کا عنوان ہے ”ڈپلومٹ مرغا“ اسے پڑھنے سے اندازہ ہو تا ہے کہ ابن صفی میں طنز و مزاح کی بے پناہ صلاحیتیں تھیں۔ لیکن آگے چل کر ابن صفی کو جاسوسی ناول نگار کی حیثیت سے شہرتِ جاوداں حاصل ہونے والی تھی اس لیے انہوں نے چند انگریزی جاسوسی ناولوں کا ترجمہ کرنے کے بعد خود ناول لکھنے شروع کیے اور مارچ سنہ 1952ءمیں جب ابن صفی کاپہلا ناول ” فریدی اورحمید“ کے بنیادی کرداروں پر مشتمل ”دلیر مجرم“ کے نام سے الہ آباد سے شائع ہوا تو پھر انہوں نے کبھی پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ ”فریدی اور حمید“ کے کردار پر مشتمل تقریباً 45ناولوں کی زبردست کامیابی کے بعد سنہ 1955 میں انہوں نے عمران کا اچھوتا کردار تخلیق کیا۔ عمران، حمید، کرنل فریدی اور قاسم جیسے کرداروں کو انہوں نے زندہ جاوید بنا دیا۔ جاسوسی ناولوں کی تشکیل کا خیال ان کے ذہن میں یوں آیا کہ اس زمانے میں گھٹیا قسم کے رومانی اور جنسی ناولوں کا بازار میں سیلاب سا آگیا تھا اور اس زمانے کی نو جوان نسل تباہ ہو رہی تھی۔ اس وقت ابن صفی نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے جاسوسی ناول لکھنے شروع کیے کہ وہ نوجوان نسل کو فحش ادب کی طرف جانے سے روک دیں گے۔ انہوں نے جاسوسی دنیا میں ناول لکھنے شروع کیے تو اس نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔

سنہ1952ء میں ابن صفی پاکستان چلے گئے۔ یہاں انھوں نے”عمران سیریز“ اور جاسوسی دنیا کے علاوہ ہر ماہ ایک ناول شائع کرنا شروع کر دیا۔ جلد ہی وہ وقت آگیا کہ وہ اردو کے چند سب سے زیادہ مقبول اور سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ادیبوں میں شامل ہو گئے لوگ ان کے ناولوں کا بے چینی سے انتظار کرتے تھے۔ 1960ءمیں ابن صفی شدید طور پر علیل ہو گئے اور تین برسوں تک وہ کچھ نہ لکھ سکے۔ صحت یابی کے بعد ان کا پہلا ناول ”ڈیڑھ متوالے“ شائع ہوا اور اس کی اتنی زبردست پذیرائی ہوئی کہ پندرہ ہی دنوں کے بعد اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا۔ ابن صفی کے ناول جب ہندی میں ترجمہ ہو کر شائع ہوئے تو اس زبان میں بھی انھیں زبردست مقبولیت حاصل ہوئی پھر ان کے ناول بنگلہ، گجراتی، تامل اور تیلگو مںو بھی چھپے اور اس زبان کے بھی قارئین نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اشاعتی دنیا میں شاید سرقہ کی اتنی بدترین مثال دوسری نہیں ملے گی جتنی ابن صفی کے ناولوں کے سلسلہ میں ملتی ہے۔ ابن صفی کے ناولوں کی مقبولیت دیکھتے ہوئے کچھ اور اصحاب نے اسی طرح کے ملتے جلتے ناموں سے ناول شائع کرنے شروع کر دئے۔ کسی نے این صفی نام رکھا تو کسی نے اببن صفی اور ان اصحاب کے بھی سیکڑوں ناول شائع ہو گئے یہاں تک کہ کانپور کے ایک دیدہ دلیر پبلشر نے تو ابن صفی کے نام سے ہی ناول شائع کر نا شروع کر دئے۔ ابن صفی لاکھ تردید کرتے رہے کہ یہ ناول ان کے لکھے ہوئے نہیں ہیں لیکن کون سنتا تھا۔ ابن صفی نے ڈھائی سو سے بھی زائد جاسوسی ناول لکھے اور صرف 52سال کی عمر میں 26جولائی 1980ء کو ان کا کراچی میں انتقال ہو گیا۔ اب بھی میں جب کبھی ابن صفی کا ناول ہاتھ میں لیتا ہوں تو پھر میں اپنی لڑکپن کی یادوں میں کھو جاتا ہوں۔ جہاں حسینی بھائی پان کھاتے ہوئے اپنی لائیبریری میں بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. محترم ابنِ صفی کو ادیبوں نے اہمیت نہیں دی جسے ابنِ صفی نے اہمیت نہیں دی۔ وہ کہتے تھے کہ میری کتابیں الماریوں میں نہیں تکیوں کے نیچے ملیں گی۔
    اب کئی ادیب ہیں جنھوں نے ان کے قلم کی عظمت کو مانا ہے اور ابنِ صفی پر کچھ لکھا یا کہا بھی ہے۔

Leave A Reply