افتخار عارف کے شعری امتیازات — معراج رعنا

0

 کسی بھی شاعر کی انفرادی شناخت اس کے اسلوب سے متعین ہوتی ہے۔ اگر ہم اردو شاعری کو زمانی حدود میں تقسیم کر کے دیکھیں تو ہر عہد کی شاعری کے تخلیقی میلانات تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ کم و بیش ایک سے نظر آتے ہیں۔ لیکن جب یہ بات کہی جاتی ہے تو اس سے یہ مراد ہرگز نہیں لی جانی چاہئیے کہ ہر عہد کے شاعروں کا طرز اظہار بھی ایک سا ہے۔ بلکہ یہاں یہ سمجھانا مقصود ہے کہ تخلیقی میلانات کو پیش کرنے کی ہنرمندی ہر شاعروں کے یہاں مختلف نوعیت کی حامل ٹھرتی ہے۔ اس بات کو غالب اور داغ کے شعروں کے حوالے سے زیادہ بہتر طریقے سے سمجھا جاسکتا ہے:

غنچئہ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا کہ یوں
بوسے کو پوچھتا ہوں میں منہ سے مجھے بتا کہ یوں
غالب

لے لیے ہم نے لپٹ کر بوسے
وہ تو کہتے رہے ہر بار یہ کیا
(داغ)

غالب اور داغ دونوں کے شعروں کی بنیاد “بوسہ” کے مضمون پر قائم ہے لیکن دونوں کا طرز اظہار بہت مختلف ہے۔ داغ کے یہاں صرف ایک کیفیت کا اظہار نمایاں جو معشوق کے بوسے سے پیدا ہوتی ہے۔ داغ کے مذکورہ شعر میں معاملہ بندی کے علاوہ کوئی اور خوبی نہیں۔ اس لیے اس میں کسی نوع کے معنی تلاش کرنا کار بے سود ہے۔ جب کہ غالب کے شعر میں “بوسہ” کے مضمون کو مختلف استعاروں اور تلازموں کی مدد سے بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے اس میں مختلف پیکر(معنی) اپنے مختلف رنگوں کے ساتھ جگمگاتے نظر آتے ہیں۔ یہاں “غنچئہ ناشگفتہ” معشوق کے بند ہونٹ کا استعارہ ہے اور اسی استعارے پر پورے شعر کی بنیاد قائم ہے۔ عاشق بوسے کا طلب گار ہے جو کسی اعتبار سے ممکن العمل نہیں ہوتا۔ کیوں کہ عاشق و معشوق کے درمیان ایک مناسب دوری ہے۔ اسی دوری کی وجہ سے “غنچئہ ناشگفتہ”(بند ہونٹ) “پھول” (کھلے ہونٹ) میں تبدیل ہونے سے قاصر ہے۔ اور ہم یہ بات جانتے ہیں کہ بوسے کے عمل میں ہونٹوں کا کھلنا ایک فطری امر ہوتا ہے۔ اس شعر کے ایک معنی غالب کی شخصی فضیلت سے تعلق رکھتا ہے۔ مطب یہ کہ غنچئہ ناشگفتہ کو غنچئہ شگفتہ میں تبدیل کرنے کا عمل خود شاعر کی طلب سے ممکن ہوسکتا ہے۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ شعری طرز اظہار ہی سے کسی شاعر کی انفرادیت متعین ہوتی ہے۔ افتخار عارف اپنے معاصرین میں کئی اعتبار سے ممتاز و منفرد شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ ان کے شاعرانہ امتیازات جن نکتوں پر استوار ہیں ان میں “ہجرت” کا نکتہ سب سے زیادہ نمایاں رہا ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ہجرت کے تخلیقی میلان کے حوالے ہی سے دوسرے نکات مثلا سفر مسلسل، مکان، رزق، عذاب، دشت وغیرہ کی نموپذیری ممکن ہوتی نظر آتی ہے۔ لہذا کہا جاسکتا ہے افتخارعارف کی شاعری ہجرت اور اس کے تمام ذیلی تلازمات کو پیش کرنے کی ہنرمندی سے عبارت معلوم ہوتی ہے جو اس اعتبار سے تو بالکل درست ہے کہ ان کی ابتدائی شاعری میں ہجرت کا میلان ایک بڑی قوت محرکہ کے طور پر موجود رہا ہے۔ لیکن اختلاف کی صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہجرت کے میلان کو ان کی شاعری کی کل کائنات سمجھنے پرہم جیسے قاری کو مائل بہ اقرار کیا جاتا ہے۔

 اردو تنقید کا ایک بڑا مسئلہ تکرار لفظ کی بنیاد پر استناد قائم کرنا رہا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر کسی شاعر کی شاعری میں تنہائی یا خواب کے الفاظ کئی بار استعمال ہوجائیں تو نقاد حضرات فورا ان الفاظ کو استعارہ تسلیم کر کے متعلقہ شاعر کی پوری شاعری کو تنہائی اور خواب کے استعارے میں قید کر دیتے ہیں۔ افتخار عارف کی شاعری بھی تنقید کے اس غیر مستحسن استنادی رویے سے آزاد نظر نہیں آتی۔ جب کہ سچائی یہ ہے کہ اگر ہم “مہردونیم” اور”حرف باریاب” کی شاعری پڑھیں تو ہجرت کے میلان سے کہیں زیادہ وہ میلانات ہماری توجہ کا مرکز بنتے ہیں جو جو ذات و کائنات کی ہم آہنگی سے پیدا ہوتے ہیں۔ انگریزی کے مشہور رومانی شاعر ورڈس ورتھ کی کتاب “لیریکل بیلڈز” کے تنقیدی مباحث سے شعری زبان والی بحث اگر منہا کردی جائے تو شاعر کے بارے میں اس کے خیالات آج بھی انقلاب آفریں معلوم ہوتے ہیں۔ ورڈس ورتھ اپنی کتاب مذکور کے دیباچے میں ایک جگہ لکھتا ہے کہ شاعر انسانی جذبات کی روح میں اتر کر سوچتا اور محسوس کرتا ہے۔ دوسری جگہ اس نے یہ اہم نکتہ بھی پیش کیا ہےکہ شاعر انسانی معاشرے کی وسیع سلطنت کو جذبے اور آگہی سے جوڑتا ہے۔ افتخار عارف کی شاعری سے اگر ہم تھوڑی دیر کے لہے ہجرت کا میلان منہا کر دیں تو اس میں جگہ جگہ ایک ایسے فرد سے ہمارا سامنا ہوتا ہے جو شاعر کی ذات مقدس کا محافظ ہے اور جس کے وسیلے سے ہم ذات کے نہاں خانوں اور اس کے اسرا ر کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افتخار عارف کا یہ فرد بالکل تنہا ہے لیکن اس کی تنہائی میں ایک انجمن ناز کی سی ہنگامہ آرائی پائی جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں ایک پراسرار سرگوشی کے ساتھ ساتھ ایک بلند آہنگ انکشاف کا خبریہ لہجہ بھی نظر آتا ہے۔ اس خبریہ لہجہ سے صرف شاعر ہی اپنی وجودی حقیقت تک نہیں پہنچتا بلکہ ہمیں بھی اپنی وجودی حقیقت کا معارف بناتا ہے۔ اس لیے بعض اوقات افتخار عارف کی شاعری کا فرد انفراد سے اجتماع اور اجتماع سے انفراد کی طرف مائل بہ سفر نظر آتا ہے۔ ورڈس ورتھ کے یہاں شاعر کے اسی عمل سے معاشرے کی وسیع سلطنت جذبہ و آگہی سے مربوط ہوتی ہے۔ افتخار عارف کی شاعری کا ایک بڑا حصہ انسانی جذبہ وآگہی کی تشکیل سے عبارت ہے۔

بولتی آنکھیں چپ دریا میں ڈوب گئیں
کیسے کیسے تہمت گر خاموش ہوئے

وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی
اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی مجھ سے

افتخار عارف کے یہ تمام اشعار “باغ گل سرخ” سے پہلے کے ہیں۔ ان اشعارکو ہم قرات کے کسی بھی مرحلے سے گزاریں ان کی فکری صورت حال تبدیل نہیں ہوتی۔ یہاں ہر جگہ آگہی کی آماجگاہ وہی فرد ہے جو ذات و کائنات کے اتصال سے پیدا ہوتا ہے۔

پہلے شعر میں بولتی آنکھوں کا دریا میں ڈوب جانا محض فنا کا استعارہ نہیں بلکہ جبر کی خارجی صورت حال کا کربناک اشارہ بھی ہے جسے لفظ “تہمت گر” کے وسیلے سے متشکل کیا گیا ہے۔ یہاں لفظ “تہمت گر” کو معاشرتی قبح کے معنی سے سرفراز کیا گیا ہے جس سے اخلاقی قدروں پر ضرب لگائی جاتی ہے۔ شعر میں موت بالجبر کے حوالے سے در اصل ایک فرد کے احتجاج کو جائز قرار دیا گیا ہے جس کی تصدیق تہمت گروں کی خاموشی سے ہوتی۔ وہ خاموشی جو ایک نوع کی ندامت یا شرمندگی کی مظہر ہے۔ دوسرے شعر میں بھی کم و بیش زوال کا المیہ بیان کیا گیا ہے۔ مطلب یہ کہ پہلے شعر ہی کی طرح اس شعر میں بھی فنا بالجبر کی جاں سوز کیفیت موجود ہے۔ یہاں “چراغ” اور “شجر” دو بنیادی استعارے ہیں۔ مطلب یہ کہ یہاں”چراغ” کے کئی حوالہ جاتی پیکر قائم ہوتے یا ہو سکتے ہیں جنہیں ہم ایک شاندار تہذیب، ایک یا کئی روشن دماغ شخص یا حسن معشوق سے منسلک کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ جب کہ “شجر” کے استعارے سے فیض، سایہ، شفقت اور بزرگی کے معنی پیدا ہوتے ہیں۔ شجر کا ایک مضبوط مذہبی حوالہ بھی قدیم آریائی اور اسلامی تاریخ بھی موجود ہےجس سے پم اپنی مذہبی روایات تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ یعنی یہ کہ “پیپل” اور “زیتون” کے حوالے سے عہد گذشتہ کی طبیعیاتی فکر عہد موجود سے عدم ہم آہنگی کے نتیجے میں ایک المیے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ اس شعر کے دونوں مصرعوں میں بظاہر کوئی ربط نظر نہیں آتا کیوں مناسبت لفظ پوری طرح عیاں نہیں ہے۔ یہ افتخار عارف کی فنی مہارت ہے کہ انہوں نے چراغ کی لو کے بجھنے اور شجر کے گرنے کے عمل سے “ہوا” کی منفی قوت کو ایک ویلین کے طور پر پیش کیا ہے۔ اور اس بات کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ہوا ہی چراغ کو گل اور شجر کو زمین بوس کرتی ہے۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ غیر موجود(ہوا) کو معرض موجود (چراغ کا بجھنا اور شجر کا گرنا) میں لانے کے عمل نے شعر کے معنی کو زمین سے آسمان تک پھیلا دیا ہے۔

افتخار عارف کے تیسرے شعر میں ایک مہذب فرد کا شائستہ احتجاج نمایاں۔ مطلب یہ کہ شعر مذکورہ کا متکلم اقتدارعالیہ سے حصول زر کا تمنائی نہیں۔ کیوں رزق برحق پر اس کا ایمان مستحکم ہے۔ اور قرآن کریم میں اللہ پاک بھی اپنے بندوں سے” و اللہ خیر الرازقین” کا وعدہ کرتا ہے۔ اس لیے شاعر پوری تمکنت کے ساتھ قصیدہ سرائی سے انکار کرتا ہے۔ یہاں انکار محض ایک نفی نہیں بلکہ اقتدار کی بیجا تعریف کے خلاف ایک نوع کی انفرادی بغاوت کا اعلانیہ بھی ہے۔ یعنی یہ کہ اندھی قوت سے نبرد آزمائی کی ابتدا ایک فرد سے ضرور ہوتی ہے لیکن بعد میں وہی فرد احتجاج کی اجتماعی شکل اختیار کرلیتا ہے۔

ان تینوں شعروں کے حوالے سے کسی اور بات کا اندازہ ہو یا نہ ہو لیکن یہ بات ضرور معرض ظہور میں آجاتی ہے کہ افتخار عارف کے یہاں صرف ہجرت کی فنی تشکیل موجود نہیں بلکہ ان کی شعری کائنات میں مختلف رنگ و اسلوب کی جلوہ گری موجود ہے۔ خلیل الرحمن اعظمی نے اپنی کتاب “مضامین نو” میں کیا عمدہ بات کہی ہے:

“ایک شاعر کی ہر نظم یا غزل کو کسی ایک پیمانے سے جانچنا غلط ہوگا۔ (ص۔ 35)”

 افتخار عارف کے مذکورہ شعر تین مختلف اسالیب کے حامل ٹھہرتے ہیں اس لیے ان تینوں کو ایک مخصوص قرات کے حوالے سے نہیں سمجھا جاسکتا۔ اور بہ صورت دیگر سمجھنے کی کوشش کی گئی تو شعر مذکور سے وہ معنی قطعی بر آمد نہیں ہوں گے جو ہمیشہ معرض التوا میں ہوتے ہیں جس کے انکشاف اور عدم انکشاف پر دریدا حد سے زیادہ اصرار کرتا ہے۔ ٹی۔ ایس۔ الیٹ کے حوالے سے رافیل فیشے نے لکھا ہے:

“ Eliot observes that there is something in Hamlet which Shakespeare cannot drag into light, contemplate, or manipulate into art”

الیٹ در اصل اپنے مضمون “ہیملیٹ اور اس کے مسائل” میں یہ وضاحت کرتا ہے کہ ہیملیٹ میں شیکسپیربعض چیزیں معرض ظہور میں لانے سے قاصر ہے یا ان کا فنی اظہار ممکن نہیں ہوسکا ہے۔ الیٹ جب یہ بات کہتا تو وہ بالواسطہ طور پر ان معنی کی دریافت پر اصرار کرتا ہے جو ہمیشہ عالم التوا میں ہوتا ہے۔ افتخار عارف کی شاعری کے بارے میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ ان کے یہاں معنی کی تشکیل کا عمل اتنا تہہ دار واقع ہوا ہے کہ اسے ایک روایتی قرات سے نہیں سمجھا جا سکتا۔

اردو تنقید کا ایک اور بڑا مسئلہ کسی شاعر پر کسی مشہور شخصیت کے ذریعے دی گئی سرسری رائے کے اتباع سے متعلق رہا ہے۔ آج سے تقریبا تیس یا پینتیس برس قبل افتخار عارف کی شاعری پر فیض صاحب نے یہ رائے دی تھی کہ ان کے یہاں میر و میرزا سے لے کر فراق و راشد تک کے کئی شعرا کی جھلک نظر آتی ہے۔ فیض صاحب نے افتخار عارف کی شاعری کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا اس کا اتباع ہماری تنقید کو زیب نہیں دیتا کہ اس سے ہمارے قراتی تسلسل میں موانع پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بات یقینی ہے کہ افتخار عارف کی شاعری سے ہم اس وقت تک لطف اندوز نہیں ہوسکتے جب تک کسی یکرخی تنقیدی یا تاثراتی رائے سے بندھے ہوں چاہے وہ تاثراتی رائے فیض صاحب کی ہو یا کسی اور کی۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ تنقیدی رائے کی توثیق متن کی تفہیم میں کوئی مدد نہیں کرتی۔ یہاں کہنا صرف یہ ہے کہ اگر کسی شاعر یا کسی فن پارے پر سابقہ تنقیدی رائے کے اتباع سے کوئی نیا تنقیدی مقدمہ قائم نہیں ہوتا یا اگر اس سے فن پارے میں کسی نئے معنی کا انکشاف ممکن نہیں ہوتا تو ایسی رائے کا اتباع کار فضول سے زیادہ کچھ نہیں۔ فیض صاحب کی جھلک والی رائے پر خوش ہونے کے بجائے اگر اس پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو یقینا افتخار عارف کی شاعری پر ایک نئے ڈسکورس کی ابتدا ہوسکتی ہے۔ اگر ہم فیض صاحب کی اس رائے کو کلیت میں دیکھیں تو صرف افتخار عارف کی ہی نہیں بلکہ خود فیض صاحب کی شاعری بھی ان کی اس تاثراتی رائے کے دائرے میں نظر آتی ہے۔ فیض صاحب تو اتنے باکمال شاعر تھے کہ غزل تو غزل انہوں نے اپنی نظموں میں بھی کلاسیکی رچاو کو باعث افتخار سمجھا۔ یہاں مثال کے طور پر یوں تو متعدد مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں لیکن طوالت کی وجہ سے ان کی نظمیں “منظر” “تنہائی” اور “مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ” ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔ ان تمام نظموں میں لفظیاتی آہنگ کا سلسلہ ولی سے لےکر میر و میرزا کی شعری روایت سے منسلک نظر آتا ہے۔ “منظر” میں لفظ “آہستہ” کی متواتر تکرار (یہ لفظ غالبا نو بار استعمال ہوا ہے) سے فیض صاحب نے دلی کیفیت کوایک پراسرار سرگوشی کے لہجے میں کچھ اس طرح بیان کیا ہے کہ ہم اس کیفیت کی ایک چلتی پھرتی تصویر دیکھنے لگتے ہیں۔ لہذا فیض صاحب نے جو بات افتخار عارف کے بارے میں کہی ہےوہ بات خود ان کی اور اردو کے بہت سارے جدید شعرا کی شاعری پر منطبق ہوتی ہے۔ اس لیے فیض صاحب کی تاثراتی رائے کو تنقید کے زمرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ یہ بات ہم پہلے سے جانتے ہیں کہ کوئی شاعر اس وقت تک جدید یا کسی طرز نو کا موجد نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اپنی شعری آگہی کو کلاسیکی شعری آگہی سے مربوط کرنے پر قادر نہ ہو جائے۔ الیٹ نے اسی شعری عمل کو روایت کی توسیع کہا ہے جس سے انفرادی صلاحیت کو جلا ملتی ہے۔

اس ضمن کا سب سے حیرت انگیز تنقیدی مقدمہ شمس الرحمن قاروقی نے قائم کیا ہے۔ انہوں نے اپنی معرکتہ الآرا کتاب “شعر شور انگیز” کی پہلی جلد میں “غالب کی میری” کے عنوان سے جو تنقیدی بحث کی ہے اس کی نظیر اردو تنقید میں کہیں نہیں ملتی۔ یہاں قاروقی صاحب نے شعری روایت اور شعری آگہی کی بنیاد پر غالب کو طرز میر کا شاعر ثابت کیا ہے۔ یعنی یہ کہ غالب کے یہاں میر پرستی کی ایک زیریں لہر تو ضرور موجود لیکن اس لہر کے اندر جو معنی کی طوفان انگیزی پوشیدہ وہ میر سے قدرے مختلف اور متنوع واقع ہوئی ہے۔ ہر بڑے شاعر کی طرح افتخار عارف کے یہاں بھی کلاسیکی شعری رویت سے اکتساب فیض کی ہنرمندی موجود نظر آتی ہے۔ اس لیے ان کی شاعری میں فیض صاحب کی طرح ہی بعض لوگوں کو کلاسیکی روایت کے کئی رنگ و آہنگ نظر آتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ کہ افتخار عارف کلاسیکی روایت سے اپنی قربت کا وہیں تک مظاہرہ کرتے ہیں جتنا ان کی تخلیقی ذات انہیں اس مظاہرے کی اجازت دیتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں فیض و اکتساب کے نتیجے میں جو تخلیقی فرد اور اس کی معنوی دنیا پیدا ہوتی ہے اس کا رشتہ ماضی کے برخلاف معاصر حسیت سے جڑتا ہے۔ شاید یہی وجہ کہ وہ “کربلا” کے استعارے تک کو اس کی تاریخی معنویت سے منہا کر کے عصر حاضر کی نئی حسیت کا ترجمان بنا دیتے ہیں۔ افتخار عارف کی شاعری میں تخلیقی چشمہ ایک فرد سے رواں ہوتا۔ یہاں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنے کی ہے کہ ان شاعری میں جس تخلیقی فرد سے ہمارا سامنا ہوتا ہےاس کی تربیت کسی خارجی صورت حال کا نتیجہ نہیں بلکہ شاعر کی اپنی کدوکاوش کا فیضان ہے۔ جس کا اظہار خان آرزو کے اس شعر میں بھی نمایاں ہے:

ہر کہ خود تربیت خود نکند حیوان است
 آدم آں است کہ او را پدر و مادر نیست

لہذا کہا جا سکتا ہے کہ افتخار عارف نے اپنے تخلیقی وجود کو جس طرح سجایا اور سنوارا ہے اس کی نظیر ان کے معاصرین میں بہت کم نظر آتی ہے۔

افتخار عارف کا تازہ ترین شعری مجموعہ “باغ گل سرخ ” کے نام سے ابھی حال ہی میں شالع ہوا ہے۔ اس مجموعے کے مطالعے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ افتخار عارف مکمل طور پر اسی مابعدالطبیعیاتی فکر سے بندھے نظر آتے ہیں جو ” مہر دو نیم” اور ” حرف باریاب” میں ایک بڑے میلان کی حیثیت سے موجود ہے:

 یہ سر اٹھائے جو میں جا رہا ہوں جانبِ خلد
مرے لیے مرے آقا نے بات کی ہوئی ہے

کچھ اعتبار اگر ہے تو حرفِ خیر کا ہے
جز اس کے اور سخن جاوداں کوئی نہیں ہے

 اُتاقِ کنگرۂ عرش کے چراغ کی لَو
کسی گلی کے فقیروں کے ساتھ رقص میں ہے


کسے مجال کہ جنبش کرے رضا کے بغیر
جو رقص میں ہے اجازت کے ساتھ رقص میں ہے

 نظر ہو دیکھنے والی تو دیکھ لیتی ہے
زمینِ سنگ میں امکانِ رنگ و بو کیا کیا


سمندر آتے ہی کیسی ہوئی ہے نرم خرام
چٹانیں چیر کے آئی تھی آبجو کیا کیا

 مذکورہ اشعار غزل کے ہیں لیکن ان کی کفیتیں انتشار کے برخلاف اتحاد کی حامل نظر آتی ہیں۔ ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ کیفیت کی یکسانیت یا اتحاد نظم کی بنیادی خوبی ہے۔ اس لیے افتخار عارف کے یہ تمام اشعار اگر تسلسل میں پڑھے جائیں تو اکثر و بیشتر اشعار کی کیفتیں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ایک سی معلوم ہوتی ہیں جس کی تصدیق ان اشعار میں استعمال ہونے والے الفاظ سے ہوتی ہے۔ خلد، آقا، حرف خیر، عرش، چراغ، فقیر، رضا، رنگ و بو، سمندر، چٹان، آب جو وغیرہ الفاظ کی حرکیات سے مابعدالطبیعیات کی ایک پراسرار اور متغیر فضا قائم ہوتی ہے۔ چونکہ یہ تمام الفاظ استعارے واقع ہوئے ہیں اس لیے وہ ہمارے ذہن کو متحرک کرتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ذہنی تحرک معنی کی دلیل تو ہے لیکن تکثیر معنی کی دلیل قطعی نہیں۔ کم و بیش یہی کیفیت افتخار عارف کے مندجئہ ذیل اشعار میں بھی محسوس کی جاسکتی ہے:

مرے قلم، مرے منبر، مرے علم، مری تیغ
ملے ہوئے ہیں حریفوں سے سب کے سب مری جان

غروب ہوتا ہوا آفتاب پلٹا دیں
وہ صاحبانِ تصرف جو اک اشارہ کریں

 اب کوئی آئے کہ نہ آئے، کوئی صف آرا ہو کے نہ ہو
میرا کام اذاں دینا تھا یارو میں نے اذاں دے دی

 مشکلیں آتیں تو نعمت میں بدل جاتی تھیں
میرے اطراف دعاؤں کا حصار ایسا تھا

دور کہیں وہ جاگتی آنکھیں اندھیاروں میں ڈوب گئیں
طاقِ دعا میں ایک دِیا تھا وہ بھی ہوا کی نذر ہوا

     ان اشعار میں استعمال ہونے والے الفاظ قلم، علم، منبر، تیغ، آفتاب، صف، اذان، نعمت، دعا، دیا، طاق، ہوا، وغیرہ ایک مخصوص روحانی فضا کے خلق کنندہ کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ناصر عباس نیر نے “باغ گل سرخ” پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

In Bagh-i-Gul-i-Surkh, too, there are a few fine couplets that show how adroitly Arif composes his devotional poetry.

ناصر عباس نیر کی اس بات سے کہ افتخار عارف کی اس کتاب میں بھی بعض ایسے عمدہ شعر موجود ہیں جن میں ان کے عقیدت مندانہ اظہار نمایاں ہیں، اختلاف ممکن نہیں لیکن جب کوئی یہ کہتا ہے کہ باغ گل سرخ میں عقیدت مندانہ اشعار کی تعداد بہت کم ہے تو پھر اس رائے پر اتفاق ممکن نہیں۔ مجموعی طور پر افتخار عارف کی شاعری اردو کی اہم ترین شاعری میں شمارہوتی ہے۔ ان کی شاعری کی دیگر خوبیاں اپنی جگہ لیکن ایک بڑی خوبی زبان و بیان کی قدرت سے عبارت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاعر اپنے مشکل سے مشکل ترین تجربے کو بڑی آسانی کے ساتھ متشکل کر لیتا ہے جس میں ایک نوع کی قلندرانہ شان بےنیازی پائی جاتی ہے۔ اس لیے افتخار عارف کے یہاں بعض جدید شعرا کے برخلاف ترسیل و ابلاغ کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔  

یہ بھی پڑھیں:


یہ بھی پڑھیں: فیض کی اسلام پسندی: دو ساتھیوں کی گواہی

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply