مایا اور مجنون —- محمد شیراز دستی

0

 ^xix’xvi’v’i’XI#xiii’XXV#xix’xv’XIV^مہامشین نے نوجوان ماہرِ آثاریاتِ خلا سے کہا۔

^viii’V’#iii’i’xiv”XX#xix’xvi’v’i’XI#iii’xv’xiii’xvi’xxi’xx’v’xix’V^ اس کی ماں نے دست بستہ جواب دیا۔

مجنون کو کمپیوٹیز بولنا آتی تو تھی مگر اس کی ماں کو ابھی اس پر اعتماد نہ تھا۔ دراصل مجنون کی پرورش ایک ایسے ماحول میں ہوئی تھی جہاں بڑی سے بڑی غلطی بھی لفظ “معذرت” سے دُھل جاتی تھی۔ لیکن اب وہ کئی سالوں کی خلاگردی کے بعد دنیائے امکان سے واپس دنیائے امشان میں آچکے تھے۔ کہکشاںِ امشان کے ساتویں نظامِ شمسی کی اس ریاضیاتی دنیا میں لغزشِ لفظ و لہجہ تہذیبِ امشان کو خلائے کائنات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مٹانے کا باعث بن سکتی تھی۔ لہٰذا اسے کمپیوٹیز میں بات کرنے کا اذن نہ تھا۔

—x—

ایک سو مہسال قبل مجنون کے باپ غزخ نے بین الشموس ٹرانسپورٹ کی سست رفتاری سے تنگ آ کرایک چارٹرڈ خلاگرد خرید لیا تھا۔ یوں ہر روز کی تیسری شام وہ اپنی بیوی غازہ کے ساتھ کسی کہکشاں کی سیر کو نکل جاتا اور اسی دن کی پہلی رات کے تیسویں پہر ہی پوری کہکشاں کی سیر و سیاحت کر کے واپس گھر پہنچ جاتا۔ کہنے کو تو غزخ و غازہ سیر کو نکلے ہوتے مگر تاریخ ِ امشان کی دو سو بیالیسویں قسط سے ثابت ہے کہ ان کا ہر دورہ دراصل مطالعاتی تھا۔ گھر سے لے کر کہکشاںِ رومان تک وہ ایک دوسرے سے خوب باتیں کرتے۔ مگر جوں ہی خلاگرد کا میٹر نوری سال سے مہانوری سال میں منتقل ہوتا، وہ زبان کو معطل کر دیتے۔ ابّاغزخ چشمے بدل بدل کر شموس کے اُجالوں کو ڈِبوں میں بھرنے لگتا، جب کہ ماں غازہ آثاریاتِ خلا کی تلاش میں دوربینوں کے عدسوں میں کھو جاتی۔ انہی شاموں میں سے ایک میں ماں غازہ کے عدسوں نے ایک بار تعظیمِ تحقیق میں خود کو یوں مرتب کیا کہ سیکڑوں قُواڈرلین مہانوری سال دور اسے آثار کا ایک ایسا خزانہ ملا جو دنیائے امشان کے عقل داروں کے لیے حیرت کا ایک نیا باب تھا۔

ماں غازہ نے جوش میں آکر دوربین ابّا غزخ کو دے دی اور جلدی میں وہ نہ صرف اپنا چشمہ بدلنا بھول گیا بل کہ سر پر صدمہ صافہ یعنی ہیلمٹ بھی نہ رکھا۔ پہلی نظر میں حیرت اس کی آنکھ کا ایک اور زبان کے تین سرکٹ چاٹ گئی۔ اس امید سے کہ اس کے خاوند کی بینائی و گویائی اس کے دماغ میں نصب خودکار نظامِ اصلاح سے ٹھیک ہو جائے گی، ماں غازہ نے دوربین واپس اپنی طرف گھمائی اور رفیقِ کائنات کے اس زیاں سے بے نیاز ہو کر دوبارہ آثارِ خلا کے اس خزانے میں کھو گئی اور وقت کی کئی مسافتیں وہیں بتا دیں۔ اسے یقین سا ہو چلا تھا کہ یہ خزانہ اسی حصہ نازک پر مشتمل ہے جس کے ناپید ہونے کی وجہ سےتحریکِ انسدادِ نفرت سے پہلے تک کہکشاںِ رومان کے لٹریچر میں کہکشاںِ امشان کو کہکشاںِ بد نما کہا جاتا تھا۔ کہکشاںِ امشان نے کہکشاںِ رومان سے اس کے کچھ نمونے عطیہ کرنے کی بارہا درخواست بھی کی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی۔

مگر ماں غازہ کی یہ دریافت اس کی کہکشاں کی مہازمانوں کی تلاش کو انجام آشنا کر سکتی تھی۔ یہ دریافت اس کی کہکشاں کو ترقی میں کائناتِ معلوم میں سب سے ممتازومقدم مقام عطا کر سکتی تھی۔ یہ دریافت اس کی دنیا کے سوالِ تشنگی کا جواب ہو سکتی تھی۔ اور اگر کسی طرح وہ کائناتِ معلوم کی اس جنسِ ناپید کو اپنی دھرتی پر انسٹال کرنے میں کامیاب ہو گئی تو اس کی نسل امر ہو جائے گی۔ جوں جوں اس کے دماغ میں آثار کے اس خزانے کی اہمیت واضح ہوتی گئی توں توں وہ دیوانہ وار اس کے مطالعے میں گم ہوتی گئی۔ اس نے اپنے خلا گرد کی سب سکرینیں اور سارے اسپیکر آن کر دیے اور خلائے وسیع سے آتی ہر آواز، ہر تصویر کو پرکھنے کی کوشش کرنے لگی۔

اس دوران میں ایک دن اس کے ہاں مجنون کی پیدائش ایسے ہوئی جیسے وہ بھی آثارِخلا سے آنے والے شور میں ایک اور آواز کا اضافہ ہو۔ مگر محوِ مطالعہ ہونے کی وجہ سے وہ اسے نہ کوئی نام دے پائی اور نہ ہی حسبِ اصول صبحِ پیدائش کی لسانی چِپ اس کے دماغ میں لگا پائی۔ اسے تو اس بات کی بھی پروا نہ تھی کی ابّا غزخ کا خود کار اصلاح کا نظام ان کے سرکٹ مرمت کرنے میں ناکام رہا تھا، اور اب وہ خلاگرد کے ایک کونے میں گونگا اور بہرہ ہوا پڑا تھا۔  

وہ ایک کھوج میں لگی تھی اور اس آثاراتی کھوج میں اس کے عدسے جوں جوں خلا میں اور آگے بڑھے، اس کی اسکرین پر اُجالا زیادہ سے زیادہ اُجلا ہوتا گیا۔ اور پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس اجنبی روشنی میں قید آوازیں اس کے خلاگرد کے ریڈیو پر واضح ہونے لگیں۔ کہکشاںِ امشان سے لے کر کہکشاںِ سرد تک بولی جانے والی کائناتِ زیریں کی تمام زبانیں اس نے اپنی فلکیاتی لسانیات کی کلاس میں سیکھی تھیں اور پھر جب تنظیمِ امشان نے چِپ منصوبہ شروع کیا تو اس نے اس سے بھی استفادہ کیا۔ مگر جو آوازیں وہ آج سن رہی تھی وہ ان زبانوں سے یکسر مختلف تھیں۔

قریب ایک مہسال کے فلکیاتی لسانیاتی مطالعے کے بعد غازہ نے ان آوازوں کو سات ہزار زبانو ں میں تقسیم کیا اور پھر ان میں سے ایک کو، جس کے بولنے والے ہمیشہ اونچی اونچی آواز میں بات کرتے تھے اور کسی اقبال کو اپنا شاعرِاعظم مانتے تھے، جلدی سے سیکھ لیا۔ یوں اسے معلوم ہوا کہ اس کی آنکھ کے حصار میں جو کہکشاں ہے اس کا نام آکاش گنگا ہے، اس کہکشاں کے جس ذرے سے آوازیں آتی ہیں، اسے زمین کہتے ہیں اور زمین جس شمس سے روشن ہوتی اس کو آفتاب کہا جاتا ہے۔

خلائی آثاریات کا وہ خزانہ جو اب بھی ان آوازوں کے مقام یعنی زمین سے چند ہی نوری سالوں کے فاصلے پر موجود تھا، ماں غازہ کی نئی زبان میں جذبہ انسانیت کہلاتا ہے۔ اس نے اس خزانے کی رفتار، زمین سے فاصلے اور حرکت کی سمت سے طے کیا کہ اس خزانے کا تعلق کبھی آکاش گنگا کے اسی ذرے رہا ہو گا۔

پھرخلا میں آگے سے آگے لپکتی آوازوں کے مطالعے سے اسے معلوم ہوا کہ زمین نامی ذرہ فلکی پر ماضی کی ایک دھندلی سی رات کے اندھیرے میں کسی نے حرص کو سنہری لباس اوڑھا کر اقدار کی صف میں کھڑا کر دیاتھا۔ حرص زمیں واسیوں کے لیے اُم الحادثات ثابت ہوئی اور نتیجتاً وہاں نا خوشگوار واقعات غول در غول اترنے لگے۔

اور چرب زبان حریص ان حادثات کو ترقی کا استعارہ کہتے رہے۔

رفتہ رفتہ حادثاتِ حرص نے اقدار کی صف میں سے جذبہ انسانی نامی قدر کو یہ کہہ کر بے دخل کر دیا کہ یہ جذبہ ہے، قدر نہیں، اور عہدِعقل میں جذبوں کی لو جلانا صفِ اقدار میں پرستشِ نار کو متعارف کرانے کے مترادف تھا۔ یوں جذبہ انسانی کرہ زمیں سے نکل کر خلا کے ملبے میں دھنستا چلا گیا اور پھر ایک دن ماں غازہ کی دوربین میں یہ ملبہ آثاراتِ خلا کے خزانے کی صورت نظر آیا۔ جب کہ دنیائے زمین زدِحادثات میں ہونےکی وجہ سے گرد آلود، زہر آلود، شورآلود اور خون آلود تھی۔

ماں غازہ کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ اگر کسی طرح وہ اس ملبے کا ایک نمونہ اپنے ساتھ لے آئے اور اسے دنیائے امشان میں ایک قدر کے طور پر متعارف کروانے میں کامیاب ہو جائے تو شاید کہکشاںِ امشان میں بھی خوش نما رنگوں کے پھول کھلنے لگیں اوروہ کہکشاںِ رومان کے جیسی یا اس سے بھی بھلی دکھنے لگے۔ مگر کیا ملبے سے لیا گیا نمونہ اس قدر کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے میں معاون ہوگا؟ خلا کی سیکڑوں خزائیں کیا اس خزانے کے اندر سے زندگی کو بجھا نہیں چکی ہوں گی؟

—x—

سالوں بعددنیائے خلا سے دنیائے امشان میں واپس آ کر جب وہ اپنی تحقیق مہا مشین کے آگے پیش کرنے لگی تو یہی وہ سوال تھا جس سے وہ سب سے زیادہ خوف زدہ تھی۔ ابّا غزخ کی زبان پہ گرہ اور آنکھوں پہ پٹی اب بھی بندھی تھی۔ مجنون کمپیوٹیز تو تھوڑی بہت جانتا تھا مگر آدابِ محفلِ امشان سے بے بہرہ تھا۔ اور پھر ماں غازہ کے مطابق آثاریاتِ خلا جیسے موضوع پر بات کرنا ایک ایسے بچے کے بس کی بات بھی نہ تھی جس نےابھی تک نہ تو کوئی خاص کہکشاں دیکھی تھی اور نہ ہی کائناتِ زیریں کی زبانیں سیکھی تھیں۔ بس ایک خلاگرد کے اندرپیدا ہو کر اس میں لگی دوربینوں اور سپیکروں کی مدد سے زوال پذیر ذرہ زمین جیسی مختصر سی دنیا کی کچھ زبانیں اس کا کل علم تھا۔ مجنون کی تخلیقی جستجو ماں غازہ کے مطابق بس اتنی تھی کہ اس نےاپنے لیے مجنون نام چنا تھا اور مجنونِ لیلیٰ کی پیروی میں صحراگرد بن جانے کے اشتیاق سے بچنے کے لیےماں غازہ کے چنے ہوئے شہرِ کھیل کی روشنیوں کو دیکھنے میں وقت بتایا۔ سو، ماں غازہ کی پشیمانی بجا تھی۔ آج اس کی مدد کو وہاں کوئی موجود نہ تھا۔

 اور قسمت کی کرنی دیکھیں کہ اس کی بات مکمل ہوتے ہی ہال میں موجود ہجومِ امشان نے ذرہ زمین کے بے جذبہ انسانوں اور ان کی اونچی اونچی آوازوں میں دل چسپی لینے کے بجائےاس آثاراتی نمونے کے اطلاق کے امکان کا سوال اٹھایا جس کے کھونے سے حادثات اور ہونے سے حیثیت آتی ہے۔ تب ماں غازہ کے پہلو میں بیٹھے مجنون نے ہاتھ اوپر کر کے آہستہ سے پوچھا: “کیا میں بات کر سکتا ہوں؟”

^iii’i’XIV#IX#xix’xvi’v’i’XI^ غازہ نے فوراً اس کے سوال کا کمپیوٹیز میں ترجمہ کیا۔

^xix’xvi’v’i’XI#xiii’XXV#xix’xv’XIV^مہامشین نے نوجوان ماہرِ آثاریاتِ خلا سے کہا۔

^viii’V’#iii’i’xiv”XX#xix’xvi’v’i’XI#iii’xv’xiii’xvi’xxi’xx’v’xix’V^ اس کی ماں نے دست بستہ جواب دیا۔

^xx’xviii’i’xiv’xix’xii’i’xx’v^ مہا مشین نے وقت ضائع کیے بغیر اسے مترجم کا کردار نبھانے کو کہا۔

“ماں غازہ کو یہ بات شاید معلوم نہ ہوگی مگر انہوں نے میری تربیت بچپن ہی سے ایک دانش جوئے آثاریات کے طور پر کی ہے۔ جب جب وہ سپیس واک کے لیے یا کسی کام کے لیے دوربینوں اور ان کی سکرینوں سے دور ہونے لگتیں، مجھے اپنی جگہ پر بیٹھا دیتیں اور میں انہماک کے ساتھ ان کا مطالعہ کرتا۔ یوں تو ذرہ زمیں بے کار سا نظر آتا ہے مگر اس کے ہجومِ مخلوق میں سے میں نے کچھ ایسی آوازیں بھی سنیں جن کی موسیقیت اور معنویت کی مثال ہمیں شاید کہکشاںِ رومان میں بھی نہ ملے۔ مگر ابھی چوں کہ ہم اطلاقِ جذبہ انسانی کو بحث کر رہے ہیں اس لیے میں اپنی توجہ اسی پر ہی مرکوز رکھوں گا۔ “

 ^xx’xviii’i’xiv’xix’xii’i’xx’v^ مہامشین نے ماں غازہ سے اب تک کی بات کو کمپیوٹیز میں ترجمہ کرنے کوکہا۔

غازہ کا ترجمہ سن کرمہامشین کی آنکھیں بنفشی روشنی سے چمک اٹھیں۔

“مہا مشینِ محترم: یہ بات درست ہے کہ مخلوقِ آکاش کنگا من حیث النوع اپنے وجود کی روح یعنی جذبہ انسانیت کھو چکی ہے۔ ” مجنون نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔

“مگر آج بھی ان کے درمیان شاید کچھ لوگ ایسے ہیں جن کا کلام اور کام اس جذبے سے لبریز ہے جس کی تلاش میں ماں غازہ سمیت کہکشاںِ صغیر کے سب لوگ کئی مہازمانوں سے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ذرہ زمیں کی زبانوں میں ایسے لوگوں کو شاعر کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ نہ صرف اپنی روح کو زندہ رکھتے ہیں بل کہ دوسروں سے بھی تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اس جذبہ انسانیت کو پھر سے زندہ کر ڈالیں۔ اپنی بات کو توانا کرنے کے لیے میں ایک مثال دینے کی جسارت کروں گا۔ وقتِ آفتاب کے انیس سو پچانوویں سال کے دسویں مہینے کی سولہویں شام جب ماں غازہ ابّا غزخ کو غسل کرا رہی تھیں تو میں اس دوربین کے پردے پہ نظر گاڑے بیٹھا تھا جس کا فوکس سلاخ نما عمارتوں کا شہر تفریح، نیویارک تھا۔ دراصل ماں غازہ نے یہ دوربین میری تفریح کے لیے لگائی تھی کیوں کہ ان کے نزدیک اس شہر میں ہر وقت ایک کھیل چل رہا ہوتا۔ کاغذ کا کھیل۔ اس میں کھلاڑی کاغذ دے کر چیزیں ڈھوتے رہتے تھے۔ یہ شہرِ تفریح، شہرِ اقبال سے یوں مختلف تھا کہ یہاں کے لوگ زندگی سے لطف اندوزتو ہو رہے تھے لیکن اس سے نبرد آزما نہ تھے۔ مگر اُس شام کو اسی کھیل دار شہر میں کوئی ملین مارچ ہوا جس میں میں نے جذبہ انسانی سے لبریزایک شاعرہ دیکھی۔ اس شاعرہ کا نام تھا مایا اینجلو۔ ۔ ۔ اس کے سامنے لاکھوں لوگ کھڑے تالیاں بجا رہے تھے۔ وہ انہیں اپنی کوئی نظم سنا رہی تھی۔ نظم کیا تھی، شاعرہ کا اپنے ہم نوع ہوم کے لیے ایک پیغام تھا: ‘اپنی دور جاتی ہو روح کو واپس بلاو!’ وہ انہیں اس امکان کا احساس دلا رہی تھی کہ اب بھی ان کے پاس وقت تھا کہ جذبوں کو قدروں سے معانق کر دیں۔”

اس سے پہلے کہ مجنون مزید کچھ کہہ کر اپنی سفارشات پیش کرتا، مہامشین نے فوراً کروڑوں مہانوری سالوں دور کی شاعرہ مایا کو کہکشاںِ امشان لانے کا حکم صادر کر دیا:

^ii’xviii’xiv’VII#xiii’i’xxv’I^


یہ بھی پڑھیں: پرفکشنزم یا کمال پرستی خوبی ہے یا خامی؟ خبیب کیانی

(Visited 33 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply