یونس جاوید کا کڑوا سچ: صرف ایک آنسو — محمد حمید شاہد

6

خوشونت سنگھ کی دلچسپ آپ بیتی کا نام ہے “سچ، محبت اور ذرا سا کینہ”۔ پہلے پہل مجھے اس کتاب کا نام بہت اچھا لگا تھا تاہم کچھ ہی دنوں بعد یہی نام مجھے کھلنے لگا کہ کسی آپ بیتی میں محض اتنا ہی سچ ہوتا ہے جتنا لکھنے والے کو گوارا ہو۔ کہہ لیجئے ذرا سا سچ۔ ہاں کینہ، نفرت اور دوسروں کی قامت کم کرنے کے حیلے زیادہ ہوتے ہیں۔ باقی رہی محبت تو یہ بھی حسب ضرورت ہی ہوتی ہے کہ لکھنے والے کو اس نفرت سے بھی تو نمٹنا ہوتا ہے جس کا شکار وہ اپنی زندگی میں رہا۔ آپ بیتی کی صورت میں بدلہ چکانے کا موقع نکل آیا ہوتا ہے۔ شاید یہی سبب رہا ہوگا کہ مشفق خواجہ نے “سخن در سخن” میں لکھا تھا:

 “آپ بیتی ایک عجیب و غریب صنف ادب ہے جس کا موضوع بظاہر تو لکھنے والے کی اپنی ذات ہوتی ہے لیکن بحث عموماً دوسروں کے کردار سے کی جاتی ہے۔ آپ بیتی کو یادوں اور یادداشتوں کا مجموعہ کہا جاتا ہے لیکن آپ بیتی میں یادوں اور یادداشتوں کی ترمیم شدہ یا حسب منشا صورت ہی نظر آتی ہے۔ حافظہ اول تو کام نہیں کرتا اور اگر کرتا ہے تو مصنف کی مرضی کے مطابق مواد فراہم کرتا ہے۔ “

یہ تمہید میں یوں باندھ بیٹھا ہوں کہ میرے سامنے ایک مختصر سی کتاب پڑی ہے؛ محض ایک سو چالیس صفحات کی کتاب۔ یہ بھی ایک آپ بیتی ہے۔ میں یہ کتاب ابھی ابھی پڑھ کر فارغ ہوا ہوں اور کہنے پر مجبور ہوں کہ یہ کتاب نہیں ایک دہکتا تنور ہے۔ ایسا تنور جسے دہکانے کے لیے مصنف نے ایک اور ادبی شخصیت کےعظمت کے چوبی مینار کو توڑ پھوڑ کر اس تنور میں جھونک دیا ہے۔ یہ کتاب مجھے کسی اور وسیلے سے ملتی تو شاید میں اس پر کچھ نہ لکھتا، ایک طرف رکھ دیتا کہ جس شخصیت کی عظمت کا بت اس میں توڑنے کے جتن ہوئے ہیں میں ان کا زندگی بھر احترام کرتا آیا ہوں۔ میں نے انہیں پڑھا ہے اور ہمیشہ ان کے بارے میں مثبت رائے قائم کی ہے۔ عین آغاز میں کسی آپ بیتی کے بارے میں جو کچھ میں کہہ آیا ہوں اسے سامنے رکھا جائے تو جو کچھ اس کتاب میں کہا گیا ہے اس میں سے بیشتر پر شک لازم ٹھہرتا ہے۔ مگر اس کے باوجود اپنے شک اور یقین کو ایک طرف رکھ کر اگر میں اس کتاب کے کچھ مندرجات مقتبس کرنے جا رہا ہوں تو اس کا سبب یہ ہے کہ مجھ سے مصنف نے کتاب عطا کرتے ہوئے وعدہ لے رکھا ہے کہ میں اس پر اپنا ردعمل ضرور دوں گا۔ میرا پہلا رد عمل تو یہی ہے کہ خدا کرے اس کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ سچ نہ ہو۔  

میں نے ابھی تک یہ تو بتایا ہی نہیں کہ جس کتاب کا ذکر میں کرنے جارہا ہوں وہ کس کی ہے اور کتاب کا نام کیا ہے۔ مصنف سے آپ بخوبی آگاہ ہوں گے۔ لیجئے میں نام لیے دیتا ہوں: یونس جاوید۔ جی جی، وہی پی ٹی وی کی کلاسک ڈارمہ سیریل “اندھیرا اجالا” لکھنے والے یونس جاوید۔ 65 اقساط مشتمل یہ ڈرامہ محض یونس جاوید کی وجہ شہرت نہیں ہے، یہ عرفان کھوسٹ، جمیل فخری، قوی خان، عابد بٹ، نذیر حسینی جیسے معروف اداکاروں کو بھی ایک نئی پہچان دے گیا تھا۔ یونس جاوید نے کئی اور مقبول ڈراموں کے سلسلے دیے جیسے” پت جھڑ”، “رنجش”، “خواب عذاب”، “مٹھی بھر آسمان”، “شہر مراد “، “تاحد نگاہ” اور تیس قسطوں پر مشتمل ڈرامہ سیریل “سل”۔ ان ہی میں ٹیلی فلم” نامہربان لمحہ” اور 70 منٹ سے لیکر 100 منٹ کی طوالت والے ڈراموں “کانچ کا پل”، “دھوپ دیوار”، “رگوں میں اندھیرا”، “ایک محبت کی کہانی”، “عہد وفا”، “دیار عشق” کو بھی شامل کر لیجئے اور معمول کے دورانیے والے “دستک” اور “ایک چہرہ یہ بھی” جیسے ڈرامے بھی۔ یونس جاوید نے کئی پنجابی کھیل بھی لکھے جس میں 39 اقساط پر مشتمل ڈرامہ “کیہ جاناں میں کون؟” ابھی تک ہماری یادداشت میں محفوظ ہے۔

آپ بیتی ایک عجیب و غریب صنف ادب ہے جس کا موضوع بظاہر تو لکھنے والے کی اپنی ذات ہوتی ہے لیکن بحث عموماً دوسروں کے کردار سے کی جاتی ہے۔

یونس جاوید عمدہ فکشن لکھنے والے ہیں اور “آخر شب”، “ستونت سنگھ کا کالا دن”، “کنجری کا پل” نامی ناولوں کے علاوہ ” تیز ہوا کا شور”، “میں ایک زندہ عورت ہوں” اور “آوازیں”جیسی افسانوں کی کتب ان کےکریڈٹ پر ہیں۔ حلقہ ارباب ذوق پر ان کا کام تاریخی نوعیت کا ہے اور خاکے اور آپ بیتی ان کے علاوہ۔ گویا یہ شخص مسلسل قلم رواں رکھے ہوئے ہے۔ جس کتاب کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ یونس جاوید کی زندگی کا ایک باب ہے جس کا پہلے نام “پورٹریٹ” رکھا گیا تھا اور اس نئی اشاعت میں اس کانام “صرف ایک آنسو!” ہو گیا ہے۔

میں نے کہا نا ! میں اس کتاب پر نہیں لکھنا چاہتا تھا مگر یونس جاوید نے کتاب مجھے عطا کرنے کے بعد مجھ سے وعدہ لیا ہے کہ میں اس پر ضرور لکھوں گا۔ باتوں باتوں میں انہوں نے شکایت کی کہ جس شخصیت نے انہیں عمر بھر خون کے آنسو رلائے ہیں سب اس شخصیت کے رعب میں رہے ہیں اور ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وہ ستم جو انہوں نے ڈھائے، وہ کسی کی نظر میں نہیں اورہر کہیں ان (یعنی یونس جاوید) کی قامت کو کوتاہ کرکے دکھایا جاتا رہا ہے۔ ان ہی کے لفظوں میں “مجلس ترقی ادب کا محض ایک کلرک اور کچھ نہیں جب کہ وہ مجلس میں واحد شخص تھے جس نے پی ایچ ڈی کر رکھی تھی۔ “

یونس جاوید کےپی ایچ ڈی تک پڑھے چلے جانے کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ باپ نے بیٹے کو حافظ قرآن بنانے کے لیے مسجد چینیانوالی کوچہ چابک سواراں، اندرون موچی دروازہ ڈلوا دیا تھا۔ قرآن پاک حفظ کیا۔ حافظ ہو کر نماز تراویح میں امامت بھی کی۔ بہت عرصہ مسجد اور باپ کی دکان کا ہو کر رہے مگر آگے پڑھنے کا شوق انہیں بے چین رکھتا تھا۔ چھپ چھپ کر پڑھتے رہے۔ میڑک، ایف اے، بی اے، ایم اےاور پی ایچ ڈی ان سب مراحل کی داستان دلچسپ ہے۔ وہ مجلس ترقی ادب میں ملازم تھےاور تعلیم کی انہی ڈگریوں کے سبب وہاں کے لوگ ان سے کینہ رکھنے لگے تھے۔ جی، یونس جاوید کایہی خیال ہے اور اس کا سبب ان کی نظر میں یہ رہا ہے کہ اس باب میں صدر مجلس سمیت سب سے وہ آگے نکل گئے تھے۔

وہ صدر مجلس جو اس خود نوشت میں سب سے زیادہ نشانے پر رہے ہیں وہ قاسمی صاحب ہیں۔ جی، احمد ندیم قاسمی صاحب؛ اردو ادب کی نامور ترقی پسند شخصیت۔  فنون جیسے شہرہ آفاق ادبی رسالے کے مدیر، شاعر، افسانہ نگار، صحافی اور کالم نگار۔ چوں کہ وہ اس دنیا میں نہیں ہیں لہذا اس خود نوشت میں جو کچھ ہے اسے یونس جاوید کا سچ کہا جا ئے گا جب تک کہ کوئی اور گواہی دینے کو سامنے نہ آئے۔ خیر، یہ کوئی عدالتی مقدمہ تو ہے نہیں، ایک کتاب کا قصہ ہے جو چھپ کر قارئین کی دسترس میں ہے اور یونس جاوید کا کہنا ہے کہ یہی سچ ہے۔ ایک کمزور اور بے وسیلہ آدمی کا سچ جسے ایک بڑے آدمی کی خوشنودی کے لیے ہمیشہ جھٹلایا جاتا رہا۔ لیجئے یونس جاوید کے اس سچ کچھ جھلکیاں :

۔ پی ایچ ڈی کا نوٹیفکیشن ملنے پر یونس جاوید نےقاسمی صاحب کے لیے بطور خاص کیک بنوایا مگر جب کیک لے کر حاضر ہوئے تو قاسمی صاحب نے منصورہ احمد کی موجودگی میں بہت بے زاری کا ردعمل دیا۔ بہ قول یونس جاوید پی ایچ ڈی کرنے سے منصورہ کے راستے میں مشکلات کھڑی ہو گئی تھیں۔

– یونس جاوید لکھتے ہیں کہ شروع میں قاسمی صاحب سٹاف کے ساتھ نرم دل اور نرم خو تھےمگر انیس سو پچھتر کے بعد وہاں ایک خاتون منصورہ حبیب آئیں، جو نام بدل کر منصورہ احمد ہوگئیں۔ وہ برقع پہن کر آئی تھیں جسے سال کے اندر اندر ایک طرف رکھدیا گیااور بہ روایت یونس جاوید قاسمی صاحب کی ناظم والی کرسی پر براجمان ہو گئیں۔ وہ اسے منع نہیں کرتے تھے، انجوائے کرتے اور مسکراتے رہتے تھے۔ وہ مجلس میں کچھ نہ تھیں اور سب کچھ ہو گئی تھیں۔ جو وہ کہتیں قاسمی صاحب وہی کرتے تھے۔

۔ اس خود نوشت میں یہ بھی بتایا گیا ہے منصورہ احمد کے لیے قاسمی صاحب نے یونس جاوید کو مجلس سے نکال باہر کرنے کے کئی جتن کیے تھے۔ چوں کہ یونس جاوید کی تنخواہ بڑھتے بڑھتے قاسمی صاحب سے زیادہ ہونے جا رہی تھی لہذا مجلس کے اخراجات میں کمی کا طریقہ قاسمی صاحب کو یہ سوجھا تھا کہ یونس جاوید مجلس سے نکال باہر کیےجائیں۔ اس کے لیے سمری تیار کروائی گئی۔ یہ الگ بات کہ پروین ملک کے وسیلے سے ایک ایسا سلسلہ بنا کہ ان کا وار خالی گیا تھا۔

۔ قاسمی صاحب کے اعصاب پر منصورہ احمد کے سوار ہونے کے ایک اور واقعے میں پروین شاکر کا نام آتا ہے۔ یہ واقعہ یونس جاوید نے بہت تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ مختصراً یہ کہ بہ قول یونس جاوید قاسمی صاحب سے کوئی ملنے آتا تو وہ اسے کہتے “شعر کی راجدھانی پر اب منصورہ کی حکمرانی ہے” پنجاب یونیورسٹی سے چھ سات لڑکیاں انہیں ملنے آئیں تو بھی انہوں نے یہی کہا:”مجھ سے تو آپ بعد میں مل لیجئے گا پہلے اس عظیم شاعرہ سے ملیں” یہ محفل چل رہی تھی کہ اچانک پروین شاکرآگئیں اور محفل کا رنگ بدل گیا۔ وہ اپنے عمو سے محض چند منٹوں کے لیے ملنے آئی تھیں مگر لڑکیوں کی ساری توجہ اب ادھر تھی۔ پروین شاکر اجازت لے کر جانے لگیں توساری لڑکیاں بھی ساتھ ہولیں اور انہیں رخصت کرکے خود بھی چلی گئیں۔ اس واقعہ کو منصورہ احمد نے اپنی توہین گردانا۔ طیش میں آگ بگولا قاسمی صاحب سے مطالبہ کیا کہ پروین شاکر کواسی وقت خط لکھیں کہ وہ اپنے کیے کی معافی مانگے۔ اور دلچسپ بات یہ کہ قاسمی صاحب نے یہ خط لکھ بھی دیا تھا۔

۔ قاسمی صاحب منصورہ کو خوش کرنے کے کیسے کیسے جتن کیا کرتے تھے اس کا ایک انتہائی تکلیف دہ واقعہ محترمہ جمیلہ ہاشمی کی وفات سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی میت بہاولپور (خانقاہ) لے جائی جا رہی تھی۔ لاہور سے میت کی رخصتی سے پہلے محمد کاظم کی گاڑی پر قاسمی صاحب اور یونس جاوید جمیلہ ہاشمی کی کوٹھی پر پہنچے تھے۔ دفتر سے منصورہ احمد بھی ساتھ ہو لی تھیں مگر وہ راستے میں اپوا کالج کے سامنے اتر گئی تھیں۔ وہاں عائشہ صدیقہ اپنی ماں کی رحلت پر دل گرفتہ تھیں۔ قاسمی صاحب جمیلہ ہاشمی کی میت کے قریب پہنچے توعائشہ صدیقہ اس دکھ میں سہارے کے لیے روتے روتے قاسمی صاحب کی طرف بڑھیں۔ قاسمی صاحب فوراً پیچھے ہٹ گئے۔ کاظم صاحب نے عائشہ کو سہارا دیا۔ ان کے سر پر ہاتھ رکھا اور تسلی دی۔ تکلیف دہ واقعہ اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ جب میت ایمبولیس میں رکھ کر لے جائی جا چکی تو محمد کاظم، قاسمی صاحب اور یونس جاوید واپس ہو لیے تو راستے میں منصورہ کو بھی ساتھ لےلیا گیا۔ قاسمی صاحب منصورہ کو وہاں کی بابت بتاتے رہے اور جب دفتر پہنچ کر گاڑی سے اترے تو باقاعدہ ایکٹ کرکے شوخی سے بتایا کہ کیسے عائشہ روتے ہوئے ان کی طرف بڑھی تھی اور کیسے وہ تیزی سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔ یہاں عین مین یونس جاوید کے الفاظ مقتبس کر رہا ہوں۔

” وہ عجب طرح کی ہنسی کو چہرے پر پھیلا کر منصورہ سے کہنے لگے؛”میں نے سوچا یہ بڈاوا کہیں مجھے دبوچ ہی نہ لے۔ ” (میں بہ اصرار یہ اقرار کرتا ہوں کہ ان کے الفاظ یہی تھے)اس کے بعد وہ کھل کر ہنسے۔ منصورہ کا چہرہ بھی گلنار ہوگیا۔ ۔ ۔ یہ منظر میرے اور کاظم صاحب کے لیے دردناک تھا۔ ”    

۔ اس آپ بیتی میں قاسمی صاحب اور منصورہ کے حوالے سے اور بھی کئی قصے ہیں مگر ایک آخری واقعہ اختصار کے ساتھ مقتبس کیے دیتا ہوں۔ میرے لیے اس واقعے میں انتہا درجے کی اذیت بھری ہوئی ہے۔ قاسمی صاحب کا ایک حوالہ، بلکہ بڑا حوالہ ان کی ترقی پسندی ہے جس کا بنیادی نکتہ نچلے طبقوں کے حقوق کے لیے جدوجہد ہے مگر بہ قول یونس جاوید منصورہ احمد کی خواہش پر انہوں نےایک چپراسی بابا عبدالکریم سے اس لیے کواٹر خالی کروالیا تھا کہ وہ منصورہ کے مہمان کے لیے گھر سے چپاتیاں اور آملیٹ بنوا کر لا سکا تھا۔ اس کے گھر کے افراد کسی شادی میں گئے ہوئے تھے۔ منصورہ نے بابا عبدالکریم سے یہ بھی کہا تھاکہ ابھی کچھ دیر پہلے اس نے بابا کی دس سالہ نواسی صائمہ کو دیکھا ہے اسے بازار روٹیاں لینے بھیج دو۔ بابا کریم سنجیدہ ہو گیاتھا: “ہم بچی کو بازار نہیں بھیجتے کہ شمس کاری بازار کا ماحول ٹھیک نہیں۔” بس یہ سننا تھا کہ منصورہ کا پارہ آسمان پر تھا۔ وہیں سب کے سامنے کہہ دیا “جس مکان میں تم نے قبضہ کر رکھا ہے وہ چالیس ہزار ماہانہ پر بھی نہ ملے۔۔۔ اور تم نافرمانی کا پتھر سامنے رکھ کر کہتے ہو، لو سر پھوڑو۔” یونس جاوید لکھتے ہیں ایسے میں قاسمی صاحب کو منصورہ کی فکر لاحق تھی کہے جاتے تھے: “بیٹی غصہ نہ کرو۔۔۔ تمہارا بی پی شوٹ کر جائے گا۔” اور منصورہ نے پلٹ کر کہا تھا “میں جیوں یا مروں آپ کو کیا۔ آپ میں دم خم ہوتا تو کھڑے کھڑے اس شخص کو نکال باہر کرتے۔” یونس جاوید لکھتے ہیں کہ قاسمی صاحب نے کانپتے ہوئے ہاتھوں کو جوڑ کر کہا تھا “کیوں خود پر ظلم کرتی ہو جو تم کہو گی وہی ہوگا۔”

پھر وہی ہوا جو منصورہ نے چاہا تھا۔ عبدالکریم سے کواٹر خالی کروالیا گیا۔ بابا بیمار تھا اور بیمار ہوا۔ اس کے اندر جینے کی خواہش ختم ہوئی اور وہ مر گیا۔ کہانی یہاں بھی ختم نہیں ہوئی۔ قبرستان تک دفتر کی گاڑی لے جانے پر جو ہنگامہ ہوا وہ بھی کم تکلیف دہ نہیں ہے۔

کئی اور واقعات کی طرح شبنم شکیل کے حوالے سے جو واقعہ کتاب میں لکھا گیا ہے مجھ میں ہمت نہیں ہے کہ اسے یہاں رقم کروں۔ میں نے کتاب پڑھ لی تو یونس جاوید کو فون کیا۔ آپ نے یہ سب کیسے لکھ لیا۔ کہنے لگے بہت کم لکھا ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ مگر آپ کو دیانت داری سے اس پر رد عمل دینا ہوگا۔

لیجئے یونس جاوید میں نے وعدہ پورا کیا۔ آپ کو شکایت رہی تھی کہ آپ کی آواز دب کر رہ گئی ہے۔ اور آپ کا خیال تھا کہ شاید میں بھی کچھ کہہ نہ پاؤں گا۔ آپ کا خیال درست ہے کہ میں اپنی جانب سے اس کتاب پر کچھ نہ کہہ پایا۔ تاہم یونس جاوید! اگر یہ محض بدلہ چکانے کا عمل نہیں ہے اور آپ کے سچ کی تصدیق کے لیے کوئی اور بھی آگے بڑھتا ہے تو جو میں نے کہنا ہے وہ خود بخود متن ہونے لگے گا۔ کچھ واقعات کی بھنک، جو اس کتاب کا حصہ ہیں، قاسمی صاحب کی زندگی میں ہی میرے کانوں میں پڑتی رہی مگر میں سنی سنائی باتوں پر یقین کرنے والا نہیں ہوں اس لیے انہیں لائق اعتنا نہ جانا۔ اب یہ لکھی ہوئی صورت میں پڑھنے کو ملی ہیں۔ ایسے میں یہ خیال رہ رہ کر آرہا ہے کہ سچ یک طرفہ نہیں ہوتا۔ یہ اوروں کی تصدیق کا ہمیشہ محتاج رہتا ہے۔ کوئی اور تصدیق نہ کرے تو یک طرفہ بیان کینے کی ٹوکری میں لڑھک کر تلف ہو جایا کرتا ہے۔ اور ہاں یونس جاوید نے اس کتاب کے دیباچے میں یہ بھی کہہ رکھا ہے:

” میں نے اپنے تئیں، صرف دس فی صد سچ لکھا ہے، نوے فی صد گندگی پر پردہ ڈال دیا ہےکہ غلاظت میرا شیوہ نہیں ہے نہ ہی گندگی سے دوسروں کے لیے حظ کا سامان کیا ہے۔ “

یونس جاوید کی آپ بیتی “صرف ایک آنسو!”دوست پبلی کیشنز اسلام آباد نے شائع کی ہے جس کا سرورق خالد رشید کا بنا ہوا ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

6 تبصرے

  1. اپبیتی صرف ایک شخص کی داستان نہیں ہوتی بلکہ ایک زمانے کا قصہ بھی ہوتا ہے۔ ان ستاروں کی کہانی بھی ہوتی ہے جن سے آنکھیں چمکتی ہیں۔ اکثر پتہ چلنے کی ضرورت ہے کہ زمانہ اور اس میں رہنے والے لوگ کیسے ہیں۔ اس اعتبار سے یونس جاوید صاحب نے یہ کتاب لکھ کر بہت احسان کیا ہے۔ بہت سے بت جن کے گرانے کی ضرورت ہے وہ گرائے ہیں خاص کر احمد ندیم قاسمی جن کا ادب جتنا بھی بڑا ہو لیکن وہ خود ایک چھوٹے بلکہ گھٹیا آدمی تھے۔ میں تصدیق کرتی ہوں کہ والدہ کی وفات پر یہ واقع ہوا جس کا زکر یونس جاوید صاحب نے اپ ی کتاب میں کیا۔ میں ۲۱ سال کی تھی اور اپنی والدہ جمیلہ ہاشمی کو دفنانے کے انتظام کے علاوہ لوگوں سے پرسا بھی لے رہی تھی۔ قادمی صاحب کی چھوٹی سوچ تھی کہ انُکے دماغ میں ایسا خیال آیا جو کہ یونس جاوید صاحب نے کتاب میں لکھا ہے۔ وہ منصورہ احمدُکو ہی صرف خوش کرنا چاہ رہے تھے اور اس کو اپنی محبت اور وفاداری کا یقین دلانا چاہ رہے تھے بلکلے وہ اپُی زات میں بھی چھوٹے آدمی تھے۔ اگلے سال یعنی ۱۹۸۹ میں نے والدہ کی جب برسے کروائی تو سامعین میں یہ بھی اپنے دو خاص حواری یعنی عطالحق قاسمی اور امجد اسلام امجد کے ساتھ موجود تھے۔ جب انوار سجاد کا مکالہ لمبا ہوا تو قاسمی صاحب اور انکے چمچوں نے ہوٹنگ بھی کی جو کہ بہت لوگوں نے دیکھی۔ ان کو خود تکلیف یہ تھی ک انکو بات کرنے کے لئے سٹیج پر مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اور بلایا بھی کیوں جاتا۔ قاسمی صاحب کا شمار ان شرفا میں نہیں ہوتا رھا جن کو کوئی خاتون اپنے گھر پر مدعو کرتی۔ یہ وہ تھے جو کہ اپنی سگی بیٹیوں کو نظرانداز کر کے اور خواتین کے پیچھے لگے رہتے تھے۔ کبھی پروین شاکر کے عمو جان اور کبھی منصورہ احمد کے بابا جان۔ دونوں صورتوں میں دلبر بنانے کا حوصلہ بیٹی بنانے پر مجبور کر دیتا تھا اسی لئے میرے قریب آنے پر وہ گھبرا گئے ہوں گے اور ان کو ضرورت شاید اسلئے پیش آئی منصورہ کو مرچ مسالہ لگا کر قصہ سنانے کی کیونکہ انکے شاید اپنے ل میں چور ہو۔ میری والدہ جمیلہ ہاشمی بھی اور لوگوں کی طرح قاسمی صاحب کی یہ حرکات دیکھتی تھیں جس وجہ سے وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں قاسمی صاحب پر ایک افسانہ لکھ رہی تھیں جس کا عنوان تھا “نیم دختر نیم دلبر” قادمی صاحب اس شہد کی مکھی کے چھتے کی طرح تھے جس پر آ کر وہ خواتین بیٹھتیں تھیں جنُکو آگے کی راہ کی تلاش ہوتی تھی۔ پروین شاکر کو سینچا۔ وہ زیادہ ہوشیار تھیں اسلئے انہوں نے قادمی صاحب دے برگیڈیر صدیق سالک کا سفر جلدی طے کر لیا جن کی مدد دے انہوں نے اپُنا سروس گروپ فارن سروس سے کسٹم بدلوایا۔ منصورہ شاید اتنی قابل نہیں تھیں اسلئے قاسمی صاحب کی کرسی کی ہتھی پر ٹکی رہیں۔ یہ کوئی بد گوئی نہیں بلکہ وہ سچائی ہے جو کہ ادب پڑھنے والوں کی امانت ہے۔ معلوم تو پڑے کے لکھنے والے کا اپنا وزن کتنا ہے۔

  2. عائشہ صدیقہ آپ کا شدید ردعمل پڑھا ۔ یونس جاوید نے جوواقعہ کتاب میں لکھا آپ نے گویا اس کے درست ہونے کی گواہی دے دی ۔ مجھے دکھ ہوا کہ ایسا ہوا۔ اللہ کریم محترمہ جمیلہ ہاشمی کے اپنے ہاں درجات بلند کرے ۔

  3. محترم حمید شاہد صاحب ۔۔ لگتا ہے کہ آپ کے پاس دوسری گواہی آ گئی ۔۔ کہ جمیلہ ہاشمی کی بیٹی کے ساتھ جناب کا سلوک کیسا تھا اور بعد ازاں کیا ہوا ۔۔

  4. آنکهیں کھول دینے کے لیے آپ کا یہ تبصرہ کافی ہے. یہ المیہ ہے کہ ہم جب تک خود پر نہ گزرے اسے حقیقت نہیں جانتے. افسوس بس اس بات کا ہے کہ کاش یونس جاوید صاحب قاسمی صاحب کی زندگی میں اسے لکھ لیتے.

  5. محمّد اسحاق ساقی on

    پتہ نہیں مجھے یہ بات لکھنی چاہیے یا نہیں کیونکہ میں نا شاعر ہوں، نا افسانہ نگار، نا ادیب یا نقّاد- البتہ ایک ٹیکنیکل بندہ ہونے کے باوجود پڑھنے کی حد تک ادب سے مسلسل لگاؤ برقرار ہے- پنجاب یونیورسٹی کے طالبعلمی کے دنوں (1978-80) میں کچھ ابھرتے ہوئے نوجوان شاعروں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے بڑھ کر اچھی خاصی دوستی ہو گئی تھی – قاسمی صاحب کے ادبی قدوقامت کی وجہ سے چھوٹے شہروں سے آئے ہوئے نوجوان شعراء قاسمی صاحب سے ملاقات کو قابلِ فخر سمجھنے کے ساتھ اپنی ترقی کیلئے بھی ضروری سمجھتے تھے – اور “اوراق” میں چھپنے پر “فنون” میں چھپنے کو ترجیح دیتے تھے- ان دوستوں کےساتھ ایک دو دفعہ فنون کے دفتر میں قاسمی صاحب سے شرفِ ملاقات بھی حاصل ہوا- اس زمانہِ طالبعلمی کی یاداشتوں میں یہ تاثّر بھی محفوظ ہے کہ میرے اکثر ادیب دوست قاسمی صاحب کی اس عادت سے بہت شاکی تھے کہ قاسمی صاحب ہر ابھرتی ہوئی خوبصورت شاعرہ کو بیٹی بنا لیتے ہیں جبکہ کسی اچھے خاصے نوجوان شاعر کو گھاس بھی نہیں ڈالتے- مندرجہ بالا تبصرے پڑھ کر وہ بھولی بسری یاد تازہ ہو گئی- قاسمی صاحب کی برادری ان کیلئے ادب میں جو بھی مقام و مرتبہ متعیّن کرے مگر شاید اپنے اس ذہنی پس منظر کی وجہ سے مجھے قاسمی صاحب کی شاعری اور افسانوں نے کبھی بھی کچھ خاص متاثّر نہیں کیا- سوائے چند ایک اشعار کے-

  6. شبیر احمد قادری ، فیصل آباد on

    بہت خوب ، محمد حمید شاہد آپ نے یونس جاوید کی خودنوشت پر لکھتے ہوۓ ، مصنف اور اپنی دکھتی رگوں پر ایسا ہاتھ رکھا کہ آخر تک نہیں اٹھایا ، میں بحیثیت قاری محسوس کرتا ہوں کہ آپ کا ہاتھ میری دکھتی رگ پر بھی تھا ، شخصیت پرستوں کے اس معاشرے میں کیا کچھ اور کیسے محل مسمار ہوتے ہیں ، اندر باہر کے تضادات سے پردے ہٹتے اور سرکتے ہیں تو ایسی ہی خو نوشتیں سطح اوراق کی زینت بنتی ہیں جیسی یونس جاوید کی ہے ، دس فی صد سچ والی خود نوشت ، نوے فی صد کون سامنے لاۓ گا ،
    وہ جو کہتے ہیں دور کے ڈھول سہانے ، مجھے تو اس خود نوشت میں مذکور بعض شخصیتیں ایسی ہی دکھائ دیتی ہیں ، خودنوشت راہ پیا جانے یاں واہ پیا جانے کی ترجمان ہے ، آپ کا تبصرہ ایسا دلپذیر ہے کہ اصل متن پڑھنے اور نئے سر سے نتائج مرتب کرنے کی تحریک دے رہا ہے ۔

Leave A Reply