شوگر کے مریضوں کے مسائل اور تھائیرائیڈ کا کردار (قسط نمبر 1) — جاوید اقبال

0

لبلبہ ہمارے جسم کا اہم عضو ہے جس کا ایک حصہ ایک ہارمون پیدا کرتا ہے جسے انسولین کہتے ہیں۔ انسولین آپ کے جسم میں موجود شَکر کو خلیوں میں جذب کروانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جس کی وجہ سے خلیئے اس شَکر سے توانائی حاصل کرتے ہیں۔

شوگر کے مرض میں دو کام ایک ساتھ ہورہے ہوتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ وقت کے ساتھ ساتھ لبلبہ مطلوبہ مقدار میں انسولین پیدا نہیں کررہا ہوتا اور دوسرا یہ کہ جسم اس انسولین کا مناسب استعمال بھی نہیں کررہا ہوتا۔

شوگر کے مرض کی پیدائش میں تھائیرائیڈ ہارمون کے کردار کے حوالے سے معلومات زیادہ عام نہیں ہیں۔ اس چیز کو اکثر مریض اور معالج دونوں زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ تھائیرائیڈ اور لبلبہ دونوں اینڈو کرائن سسٹم کا حصہ ہیں۔ دونوں سے خارج ہونے والے ہارمون میٹابولزم پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ میٹابولزم ایسا کیمیائی عمل ہے جس کے تحت سیلز غذا کو توانائی میں تبدیل کرتے ہیں۔ شوگر کے مریض شَکر کو جذب کرکے توانائی میں تبدیل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ انسولین شَکر کو خلیوں میں جذب کرنے کے عمل میں مددگار ہوتی ہے۔

اگرچہ خلیوں کو شَکر جذب کرنے کے لیئے انسولین کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ شَکر خلیوں میں کس رفتار سے جذب ہوگی اس بات پر تھائیرائیڈ گلینڈ سے خارج ہونے والے ہارمون ٹی 3 اور ٹی 4 بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ تھائیرائیڈ گلینڈ سے خا رج ہونے والے یہ ہارمون ایک متوازن مقدار میں خارج ہوتے ہیں جس کے ذریعے جسم میں ہونے والے میٹا بولیزم کے عمل کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ اس طرح جسم کے خلیے مناسب مقدار میں خوراک جذب کرتے ہیں اور توانائی پیدا ہوتی ہے جو روز مرہ کے امور سرانجام دینے کے لیئے ضروری ہے۔ اس عمل کو مزید بہتر انداز میں سمجھنے کے لیئے ہم باسل میٹا بالک ریٹ کی مثال سے سمجھتے ہیں۔

باسل میٹا بالک ریٹ، میٹا بولیزم کی اس رفتار کو ظاہر کرتا ہے جب ہم کوئی کام نہیں کررہے ہوتے اس وقت جس رفتار سے ہمارے خلیے خوراک جذب کرکے اتنی انرجی پیدا کرتے ہیں جس سے جسم کے بنیادی افعال یعنی کہ سانس لینا، خون کی جسم میں گردش، مختلف اعضا جیسا کہ دل، جگر، آنکھوں، دماغ اور گردوں کے خود بخود ہونے والے افعال جو کہ ہماری زندگی کو رواں رکھنے کے لیے ضروری ہیں سرانجام پاتے ہیں۔

اگر تھائیرائیڈ گلینڈ معمول سے کم ہارمون پیدا کررہا ہو تو ہمارا باسل میٹا بالک ریٹ کم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے خلیوں کے خوراک استعمال کرنے کا عمل آہستہ ہوجاتا ہے۔ خون میں انسولین کی مطلوبہ مقدار میں موجود ہونے کے با وجود خلیے شکر کو استعمال نہیں کرسکتے۔ یعنی میٹا بالک ریٹ کم ہونے کی وجہ سے خون میں موجود انسولین اور شکر دونوں استعمال نہیں ہوپاتیں۔ خلیوں میں خوراک کے جذب یا استعمال کا عمل صرف انسولین کی موجودگی کی وجہ سے تکمیل تک نہیں پہنچتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ میٹا بولیزم کنٹرول کرنے والے تھائیرائیڈ ہارمون کا بھی مناسب مقدار میں موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ خون میں بڑھی ہوئی شکر کی مقدار اگر زیادہ وقت کے لیے موجود رہے تو لبلبہ کو یہ لگتا ہے کہ اس شکر کے استعمال کے لیے انسولین کی مزید ضرورت ہے۔ لبلبہ مزید انسولین پیدا کرنا شروع کردیتا ہے لیکن خون میں شکر کی مقدار کم نہیں ہوتی اس طرح لبلبہ انسولین پیدا کرتا رہتا ہے لیکن وہ انسولین استعمال نہیں ہوتی اس عمل کو انسولین رزسٹنس کہتے ہیں۔ اس عمل کا نتیجہ لبلبہ کے حد سے زیادہ کام کی صورت میں نکلتا ہے اور اس عمل کے نتیجے میں لبلبہ کی انسولین بننانے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ لبلبہ انسولین بنانے کے قابل نہیں رہتا اور مریض کو انسولین بیرونی طور پر لینا ہوتی ہے۔ انسولین رزسٹنس کی جہاں بہت سی دیگر وجوہات بھی ہو سکتی ہیں وہیں تھائیرائیڈ گلینڈ کی خرابی کے کردار کو زیادہ بیان نہیں کیا جاتا۔

اگر تھائیرائڈ گلینڈ معمول سے زیادہ ہارمون پیدا کر رہا ہو تو اس سے کس نوعیت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اس بارے میں ہم اگلی قسطوں میں بات کریں گے۔ ہم اس حوالے سے بھی بیان کریں گے کہ تھائیرائیڈ کے کم یا زیادہ کام کرنے کے جسم پر مزید کیا اثرات ہوتے ہیں۔ کس طرح ہم میڈیکل ٹیسٹ رپورٹس سے نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔

امید ہے اس ساری کوشش سے تھائیرائیڈ کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوگا اور شوگر کے مریض بہتر طور پر زندگی گذار سکیں گے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply