مغرب کا تاقیامت عالمی اقتدار : جاوید غامدی اور خورشید ندیم کی “علمی” دریافت؟ — ڈاکٹر غلام شبیر

6

جاوید احمد غامدی نے جب شعور کی آنکھ کھولی تو فکر اسلامی کے افق پر مولانا مودودی، غلام احمد پرویز، امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر اسرار احمد، ڈاکٹر فضل الرحمان، ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور دیگر براجمان تھے۔ جب یہ ابر ہائے کرم برس کر چھٹ چکے تو غامدی صاحب طلوع ہوئے اور میدان خالی تھا۔ شیریں دہن تو تھے ہی ادبی ذوق نے فصاحت و بلاغت کی کمک بہم پہنچائی، ذرائع ابلاغ کی ترقی نے ان کے فکری ترسیل کو برق رفتار کردیا اور خوش قسمتی سے مفتی منیب الرحمان اور مفتی نعیم وغیرہ جیسے فکری حریف میسر آگئے جو غامدی صاحب کے دوآتشہ استدلال کے آگے مرغ نیم بسمل کی طرح پھڑپھڑاتے تو ایک دنیا ان مباحث سے لطف اندوز ہوا کرتی اور “وہ کہیں اور سنا کرے کوئی” کا دلفریب منظر بن جایا کرتا تھا۔ نیتوں کا حال خدا کو معلوم ہے تاہم حاسدین کا خیال ہے کہ غامدی صاحب کے نتائج فکر اتفاقاً یا کسی ریاضت کے باوصف عالمی اسٹیبلشمنٹ کے مفادات سے ہم آہنگ ہوئے تو الیکٹرونک میڈیا نے جناب کو دنوں میں فلک بوس کیا۔ شدت پسند عناصر کو یہ عروج راس نہ آیا تو اس نابغہ روزگار ہستی کو ہجرت اولیٰ یعنی ملائیشیا رخت سفر باندھنے پر مجبور کیا گیا۔  جانے وہاں بھی خطرات تھے یا پھر مواقع کم تھے چنانچہ غامدی صاحب ہجرت ثانی یعنی امریکا سدھارنے پر مجبور ہوئے۔ امریکی کہاوت ہے کہ کوئی کسی کو مفت میں لنچ نہیں کرواتا تاہم غامدی صاحب فکری طور پر اتنے بھی غریب نہیں ہیں کہ لنچ کی قیمت ادا نہ کرسکتے ہوں۔ آج کل ڈلاس میں بزم آرا ہیں۔ جیو ٹی وی کے ایک پروگرام میں جب آپ سے سوال کیا گیا کہ اب حالات بہتر ہیں پاکستان واپس کیوں نہیں آجاتے تو فرمایا ہجرت مشکل فیصلہ ہوتا ہے اور جب ایک بار ہو جائے تو فیصلہ بدلنا مشکل تر ہوا کرتا ہے۔

تاہم فکر غامدی کا ایک عمدہ پہلو یہ ہے کہ وہ سیکولر حضرات جو شعائر اسلامی پر تبرا بھیجتے تھے، جوق در جوق ان سے منسلک ہوتے چلے گئے۔ وجاہت مسعود کہتے ہیں خوش قسمت ہوں کہ خورشید ندیم کے عہد میں جی رہا ہوں۔  البتہ بائیں بازو کے کچھ سر پھرے جنہوں نے سوویت یونین کے زوال کے بعد قبلہ نہیں بدلا وہ فکر غامدی میں کیپٹلزم نوازی کی بوباس پاتے ہیں۔ منکہ افغانی اقبال اور ڈاکٹر فضل الرحمان کے مطالعے کیوجہ سے غامدی فکر سے اس وقت سے نامانوس اور تشکیک کا شکار رہا جب ان کا سورج نصف النہار پر تھا اور لوگ جماعت اسلامی اور دیوبندیت کو چھوڑ کر غامدی مکتب فکرکا حصہ بن رہے تھے، اگرچہ کچھ کو “راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے” اب بہت سے برگشتہ بھی ہیں۔ راقم اس وقت انیق احمد کیساتھ اے آر وائی نیوز میں “آغاز” پروگرام کی ٹیم کا حصہ تھا اور رمضان کی لائیو نشریات میں غامدی صاحب اور دیگر جید اسکالرز ایک ایک ہفتے کیلئے ہمارے مہمان ہوا کرتے تھے۔ راقم ان دنوں شاہ ولی اللہ، جمال الدین افغانی اور ڈاکٹر فضل الرحمان کے تقابلی جائزے پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہا تھا۔  ایک بار غامدی صاحب کیساتھ ڈاکٹر اختر سعید صدیقی صاحب مہمان تھے۔ اخترسعید صاحب اڈنبرا سے پی ایچ ڈی ہیں اور دیگر یورپ پلٹ اسلامی مفکرین کے برعکس سیکولراز م کو بطور دین تسلیم نہیں کرتے، اس میں بڑا کردار ڈاکٹر فضل الرحمان کے مطالعے کا ہے۔ ڈاکٹر صدیقی صاحب نے ہماری لائیو نشریات میں ڈنکے کی چوٹ پر کہا تھا کہ فضل الرحمان واحد اسکالر ہیں جنہوں مغرب میں رہتے ہوئے فکر کی اقلیم پر مغرب کی کمر توڑ دی۔ جب ایک بار ان کے استدلال کے آگے غامدی صاحب کی کوئی بن نہ پائی تو غصے سے گھور گھور کر داد طلب آنکھوں سے ہی بلند آہنگ ہونے کی کوشش کرتے مگر اختر سعید صدیقی صاحب شائستگی کا دامن چھوڑے بغیر اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ پروگرام ختم ہوا تو مکتب غامدی کے سنجیدہ اسکالر ڈاکٹر خالد ظہیر نے بذریعہ فون اختر سعید صدیقی کو ان کے استدلال کی نہ صرف داد دی بلکہ غامدی صاحب کے ناروا رویئے پر معذرت بھی کی۔

یہ تحریر غامدی صاحب کی ایک یوٹیوب ویڈیو اور ان کے شاگرد رشید جناب خورشید ندیم کے کالم میں العمران کی آیت نمبر 55 کی تعبیر و توضیح کا جواب ہے۔

غامدی صاحب جب سے امریکا پہنچے ہیں ان کے بیانات میں مزاح کا بھی رنگ آگیا ہے۔ یہ شاید مامون و محفوظ ماحول کی عطا ہے۔  امریکا میں مقیم پاکستانیوں کے ایک پروگرام میں ان سے پوچھا گیا کہ ہماری باری کب آئیگی یعنی مسلمانوں کو کب اقتدار عالم ملے گا۔ غامدی صاحب نے کہا مسلمان اپنی باری لے چکے۔  تقریب میں قہقہے بلند ہوئے اور غامدی صاحب نے قہقہوں کے تھمنے کا داد طلبی کی نیت سے باقاعدہ انتظار کیا۔ سکوت ہوا تو انہوں نے قرآن اور تاریخ کے اوراق پلٹ پلٹ کر دلائل دیئے۔ فرمایا کہ نوح ؑ کے تین بیٹے حام، سام اور  یافث تھے۔ افریقہ حام کی اولاد ہے پہلے انہیں اقتدار عالم دیا گیا، اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں سام کی اولاد کو اقتدار ملا۔ سامی یعنی اہل عرب یا مسلمان اب کبھی بھی اقتدارعالم پر براجمان نہیں ہو سکتے۔ مزید فرمایا کہ اب اقتدارعالم یافث کی اولاد یعنی عیسائی یورپ کو تفویض ہو چکا ہے اور یہ عہد قرب قیامت کا عہد ہے لہٰذا قیامت تک اقتدار اب آل یافث کے پاس رہنا ہے۔ پھر اس موقف کی تصدیق کیلئے ایک آیتہ کریمہ کا حوالہ دیا تلک الایام نداولھا بین الناس۔ یعنی ہم لوگوں کو بالترتیب قطار اور لائن میں رکھ کر اقتدار دیتے ہیں۔ یعنی جو باری لے گیا اس کی پھر باری نہیں آتی۔ لہٰذا مسلمانوں کے پاس اب ایک ہی آپشن ہے کہ وہ عیسائی مغرب کو دعوت اسلام سے مسلمان بنا لیں۔ “فقیہہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا” ذرا استدلال میں cherry picking ملاحظہ ہو یعنی اگر اہل یورپ اسلام قبول کرلیتے ہیں اور اقتدار عالم انہیں کے ہاتھ رہے تو گویا پھر بھی اسے مسلمانوں کی باری نہیں سمجھا جائے گا اسے نسلی بنیاد پر آل یافث کا اقتدار ہی کہا جائے گا۔ مزید کہا کہ میں اہل پاکستان کو بھی یہی مشورہ دیتا ہوں کہ اقتدار وہاں دو تین سو گھرانوں کے پاس ہے لہٰذا سیاسی جدوجہد کے برعکس انہیں چند خاندانوں کو دعوت وتبلیغ سے سدھار لو سب ٹھیک ہو جائے گا۔  منحصر مرنے پر ہو جس کی امید۔۔ ناامیدی اس کی دیکھا چاہئے۔

غامدی صاحب کی اس وڈیو سے اگرچہ رنج ہوا مگر اپنے ریسرچ آرٹیکلز کی مصروفیت آڑے آگئی۔ دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوز کہ خورشید ندیم صاحب کا کالم نظر سے گزرا جس میں انہوں نے (3:55) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ عیسیٰ کے مخالفین یہود تاقیامت عیسائیوں کے رحم و کرم پر ہوں گے، ایک کچوکا لگا مگر صرف نظر کیا۔ چودہ مئی 2021 کو مسئلہ فلسطین پر ایک پرمغز کالم میں موصوف نے اس امر کا اعادہ کیا کہ یہود تاقیات اہل کلیسا کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ گویا استاذ کے موقف پرخط تصدیق کھینچ دیا کہ قیامت تک اقتدار عالم آل یافث یعنی عیسائی یورپ کے پاس رہنا ہے اور یہود کو ان کے رحم و کرم پر جینا ہے۔ یہ پڑھ کر تکلیف ہوئی اور چاہا کہ احباب علم و حلم سے شیئر کروں اور پوچھوں کہ کیا واقعی ایسا ہی ہے۔  استاذوشاگرد کے استدلال کو پڑھنے اور سننے کیلئے طبیعت نوحہ گر ساتھ رکھنے کا تقاضا کرتی ہے۔
رنج طاقت سے سوا ہو تو نہ پیٹوں کیوں سر
ذہن میں خوبی تسلیم و رضا ہے تو سہی

غامدی صاحب اور ان کے شاگرد رشید کا مقدمہ نہ صرف قرآن کے ساتھ کھلواڑ ہے بلکہ تاریخ کے ٹھوس حقائق بھی اس کا ابطال کرتے ہیں۔ پہلے قرآن پر نظر ڈالتے ہیں۔ تلک الایام نداولھا بین الناس کا یہ مطلب لینا کہ ہم لوگوں کو قطار اور لائن میں اقتدار دیتے ہیں اور جس کی باری گزر گئی وہ دوبارہ تاریخ کے اسٹیئرنگ ویل پر براجمان نہیں ہو سکتے اور پھر اس پر ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا کا تڑکا لگانا خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل لیتے ہیں والی بات ہے۔ اور پہلے سے طے شدہ ذہنی اختراع کو سند جواز بخشنے کیلئے آیات الٰہیہ کو تختہ مشق بنانے کی کوشش ہے۔ آیت مذکورہ غزوہ احد کا پس منظر بتاتی ہے کہ جب مسلمانوں کو ذرا زیادہ نقصان ہوا اور تھوڑے حوصلے پست ہونے لگے تو فرمایا گیا کہ یہ تو دن ہیں جو ہم لوگوں کے درمیان ادل بدل کرتے رہتے ہیں آج اگر تمہیں گزند پہنچا ہے تو کل انہوں نے بھی تو میدان بدر میں مار کھائی تھی۔ چونکہ مکتب فراہی شان نزول سے زیادہ نظم القرآن کو فوقیت دیتا ہے جو ہونا بھی چاہئے اسد، مفتی عبدہ، فضل الرحمان اور دیگر جید اسکالرز کی یہی اپروچ ہے، مفتی عبدہ قرآن ہی کو قرآن کی بہترین تفسیر قرار دیتے ہیں اور اسد اسی بات کو اعجازالقرآن قرار دیتے ہیں کہ جہاں قرآن ان کہی کہنے کا فن رکھتا ہے وہاں نظم القرآن پر غور کیا جائے تو تضادات سے پاک ہونا ہی تو اس کا معجزہ عظیم ہے۔ قرن اول کے لوگ بھی کسی مسئلے کا حل انفرادی آیات کے برعکس کلیت سے ابھرنے والے مدعا ئے قرآن کی روشنی میں دیکھنے کے خوگر تھے مگر شان نزول کے واقعات کو جو محفوظ رکھاگیا ہے اس کی غایت یہی تھی کہ اس علم کا کردار قرآن فہمی میں بہت کلیدی ہے۔ تاہم مکتب فراہی و اصلاحی میں قرآن فہمی کیلئے شان نزول کو کم ہی برتا گیا ہے کیونکہ یوں سمجھا جائے تو ایک نظام اخلاق کے قیام کیلئے تحریک برپا کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے نظم القرآن کے اصول پر زہد وتقوٰی کے وہ اصول کشید کیے جا سکتے ہیں جو ایک فرد تیارکریں بھلے وہ زہدو تقویٰ اس نظام اخلاق کے قیام کیلئے بروئے کار نہ آئے جو اس کی غایت اولیٰ ہے۔

آیت مذکورہ میں جو غامدی صاحب نے لوگوں کو خدائے عزوجل کیطرف سے لائن میں بالترتیب اقتدار دینے کا مژدہ سنایا ہے اور جو ایک بارفارغ ہو گیا پھر اس کی باری نہیں آئے گی یہ عربی زبان کے کس قاعدے اور کلیے کے تحت ترجمہ و مفہوم لیا گیا ہے؟  پرویز صاحب اگر ایسا کریں تو رذالت قرارپائے اور کہا جائے کہ یہ عربی ان کے گھر کی تیار کردہ ہے یہی روش اور راہ گزر غامدی صاحب برتیں تو عین روا ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ حام، سام اور  یافث کی اولادوں کو بالترتیب اقتدار تفویض کیے جانے کی تصدیق قرآن کرتا ہے یا قوموں کے عروج و زوال کے قوانین دگر ہیں؟ جن پر ابن خلدون کا گراں قدر کام ہے اور پھر اسپینگلر، ٹوائن بی اور فلسفہ تاریخ کے دیگر ماہرین نے اسے مزید نمو دی ہے۔  قرآن نے اقتدار عالم کے حصول کو قوموں کے کسب اور رحمت الٰہیہ کا امتزاج قرار دیا ہے۔  کوئی کمیونٹی خدا کی ڈارلنگ کمیونٹی نہیں ہے جیسا کہ یہود کا دعویٰ ہے۔ ایمان باللہ اور اعمال صالح یعنی تاریخ کی تعمیروتوسیع انتخاب الٰہیہ کا معیار ازلی ہے جب کوئی کمیونٹی اپنے دامن کو تعمیر کے برعکس اجزائے تخریب سے بھرنا شروع کرتی ہے تاریخ کے اسٹیئرنگ ویل سے اترنا ناگزیر ٹھہرتا ہے اور اس باب میں ولن تجدلسنۃ اللہ تبدیلا کا اطلاق اٹل ہے۔  اسی معیار پر زور دیتے ہوئے رسول عربیﷺ سے کہا گیا ہے کہ اگر اس معیار سے روگردانی کرو گے تو خدا کے مقابلے میں تمہارا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔  پھر پوری اسلامی کمیونٹی سے کہا گیا کہ اگر آپ راہ خدا میں جہد مسلسل سے اغماض برتو گے خدا کیلئے تمہارا وجود ناگزیر نہیں ہے وہ تمہاری جگہ دوسروں کو لائے گا جو تمہاری طرح نہیں ہوں گے(9:39)۔  ہاں اگر آپ لوگ ایمان باللہ یعنی اطلاقی توحید اور عملوالصٰلحٰت یعنی تاریخ کی تعمیروتوسیع کے پروگرام پر کاربند رہو گے اور ناکردہ کاری سے اعراض کو شعار بنائو گے خدا کا وعدہ ہے وہ تمہیں استخلاف فی الار ض سے نوازے گا (24:55)۔ انبیا و اقوام سابق کی مثالوں سے سمجھایا گیا کہ گلشن ہستی کا نگہباں انہیں کو بنایا جاتا ہے جو اس کی زینت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔  جب ابراہیم ؑ آزمائش  کے بیچ کامیاب گزرے تو ہم نے کہا اے ابراہیم ہم تمہیں انسانیت کا امام بنائیں گے پوچھا میری اولاد کا مقدر کیا ہوگا فرمایا تیرے رب کا ظالموں سے کوئی وعدہ نہیں ہے(2:124)۔  یعنی ابراہیم کا منصب امامت ان کا کسب ہے اور جہاں تک ان کی اولاد کا تعلق ہے ان کے باب میں بھی یہی میرٹ روبہ عمل رہے گا اگر انہوں نے ظلم کی راہ اختیار کی تو خدا کا ان سے ایسا کوئی وعدہ نہیں کہ محض اولاد ابراہیم ہونے کے باوصف انہیں دنیا کی امامت دی جائے۔ قرآن نے نوح ؑ سے ابراہیمؑ تک اور کچھ بعد کے سترہ انبیا ورسل کے نام گنوا کر کہا ہے کہ ہم نے انہیں منتخب کیا اور ہدایت بخشی(6:83-86) اور اسی لمحے اگلی آیت میں فرمایا اگر ان سے شرک سرزد ہوتا تو ان کے سارے اعمال صفر ہو جاتے(6:87)۔  اس سے واضح ہوتا ہے کہ اقتدار عالم تو کیا منصب نبوت بھی کسب و عطا کا امتزاج ہوا کرتا ہے۔ جب اہل مکہ نے کہا کہ دو شہروں (مکہ و طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر قرآن کیوں نہیں نازل کیا گیا(43:31)۔  جواب تھا کیا یہ لوگ تیرے رب کی رحمت بانٹتے ہیں (43:32)۔ خدا جانتا ہے کہ منصب نبوت کس کو تفویض کرنا ہے(6:124)۔  اس سے اشارہ ملتا ہے کہ منصب نبوت کیلئے خدا کے ہاں میرٹ کارفرما ہے۔ اور جہاں تک دفتر نبوت کا تعلق ہے سب انبیا برابر ہیں مگر جہاں تک کارکردگی کا تعلق ہے فضلنا بعضکم علیٰ بعض۔ کچھ کو دیگر پر فضیلت کارکردگی کی بنیاد پر بخشی گئی ہے۔ جب انبیائے عظام کا انتخاب اور مقام و مرتبہ محتاج کارکردگی ہے اور جس لمحے روگردانی ہو گی اسی لمحے سب صفر ہو جانے کی وعید ہے پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کسی قوم کا اقتدار عالم غیرمشروط ہو اور یہ فیصلہ کردیا گیا ہو کہ پہلے نسل حام پھر سام اور پھر آخر وقت نسل  یافث تاقیامت اقتدارعالم پر فائز رہے اور وہ بھی جب خدا کے ہاں ذریت یا نسل سے مراد طبعی اولاد کے برعکس نظریاتی پیروکار ہوں۔ مثلاً قرآن کیمطابق جب نوح ؑ نے بیٹے کیلئے دعا کی تو حکم ہوا یہ تیرا ہے ہی نہیں۔  آگے چل کر قرآن نے کہا اور ہم نے نوح ؑ کی ذریت کو بچا لیا تو یہاں ذریت سے مراد نوح ؑ کے نظریاتی پیروان ہیں طبعی ذریت یعنی بیٹے کو تو ہلاک کردیا گیا۔ قرآن کا بیانیہ کارکردگی اور میرٹ کو اقتدار کیلئے ناگزیر قرار دیتا ہے یہی قرین انصاف بھی ہے۔ جبکہ غامدی صاحب کا موقف انصاف سے ماورا دکھائی دیتا ہے۔

غامدی صاحب کے موقف کا تاریخ بھی ابطال کرتی ہے۔ قومیں عمل کی زادراہ لیکر اقتدار پر فائز ہوتی ہیں اور یہی پونجی جب لٹ جاتی ہے زینہ ایام سے عصا ٹیکتے اترنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ جارح قومیں حادثاتی موت مرتی ہیں دیگر طبعی۔ اقتدار نسل کے برعکس کارکردگی کا  رہین ہوتا ہے۔ علی شریعتی لکھتے ہیں کہ جب ابلیس نے کہا کہ مجھے آگ سے بنایا گیا ہے اور آدم کو مٹی سے تو میں اسے کیوں سجدہ کروں یہاں استعارتاً بتایا گیا ہے ابلیس نسل پرستی یعنی رنگ و نسل کو معیار برتری قرار دے رہا ہے جبکہ خالق ازلی نے تخلیقی علم کو معیار فضیلت قرار دیا ہے۔ شریعتی مغربی مرعوبیت یا معذرت خواہی سے کوسوں دور تھا اس نے اپنا مرشد اولیں اقبال کیطرح مغرب کے بجائے سید جمال الدین افغانی کو بنایا تھا جو 1882 میں البرٹ ہال کلکتہ میں چنگھاڑ کر ہندوستان کی محکوم قوموں سے کہہ رہا تھا آزادی اور خودمختاری علم و تحقیق کی رہین ہے اور علم اپنے دارالحکومت بدلتا رہتا ہے کبھی وہ مشرق کو اپنا دارالخلافہ بناتا ہے اور کبھی مغرب کو اپنا صدرمقام بناتا ہے۔ اہل مصر جب بابل ونینوا پر حکمراں بنے تو یہ اہل مصرنہیں تھے بلکہ سائنس اور علم تھا جو بابل و نینوا پہنچا، اسکندراعظم جب مصر ایران، عراق، شام، افغانستان اور ثمرقندو بخارا کو روندتا ہوا بھارت پہنچا تو یہ فتح اہل یونان کے برعکس علم اور سائنس کی فتح تھی، مشرق وسطیٰ سے اٹھنے والے Phoenicians جب برطانیہ، اسپین، پرتگال اور یونان کو اپنی نوآبادیات بناکر حکومت کر رہے تھے تو یہ دراصل علم اور سائنس کی حکمرانی تھی۔  آج اہل یورپ اس کرہ ارض و آب کے چپے چپے پر اپنے اقتدار کا پرچم لہرا رہے ہیں برطانیہ افغانستان تک پہنچ چکا ہے، فرانس نے ٹیونس کو باجگزار بنا لیا ہے، تو یہ اقتدار، یہ جارحیت یہ فتح اہل فرانس اور برطانیہ کی نہیں علم و سائنس کی فتح و کامرانی ہے۔

ظہور اسلام کے وقت دنیا دو قطبی تھی۔ مشرقی دنیا پر ایران کا غلبہ تھا اور مغربی دنیا سلطنت روما کی باجگزار تھی۔  اپنی استعداد و استطاعت بڑھا کر کبھی ایران یونان پر غالب آ جاتا تھا اور کبھی یونان ایران پر غلبہ پالیتا تھا۔  تاریخ کی شہادت ہے کہ کبھی یونان مصر کے زیر تسلط تھا اور پھر اسی مصر کو اسکندراعظم نے سرنگوں کیا۔  قرآن نے کثیر مذہبی دنیا کی غایت اولیٰ اسی کو قرار دیا ہے کہ فاستبقوالخیرات یعنی تمہارے درمیان اپنے دامن کو خیر سے بھرنے کی مسابقت کا ما حو ل رہے ورنہ دنیا کو یک مذہبی کمیونٹی بنانا خدا کیلئے مشکل نہ تھا۔  مگر غامدی صاحب اپنی کمیونٹی کو برگ حشیش تھما کر یہی سندیسہ دے رہے ہیں کہ تمہیں اس مسابقتی دنیا میں لمبی تان کر سونا ہو گا۔ خدا نے اقتدار عالم کا فیصلہ قیامت تک کیلئے آل  یافث یعنی اہل یورپ کے حق میں کر دیا ہے۔  عبداللہ ابن سفاح نے جب سلطنت بنوعباس کی بنیاد ڈالی تو اعلان کیا کہ اب روز محشر تک اقتدار کا فیصلہ بنو عباس کے حق میں ہو چکا ہے جب اجل مسمیٰ پہنچی تو کیا انجام ہوا؟ پھر اقبال کو کہنا پڑا کہ صدیاں بیت گئیں کہ بنوامیہ اور بنو عباس کا اقتدار قصہ پارینا ہوا مگر حسین کا اقتدار آج بھی قائم ہے۔ طاقتیں تو طاقت کے خمار میں قیامت تک اقتدار قائم رکھنے کا دعویٰ کرتی ہیں مگر غامدی صاحب کو کیا سوجھی ہے کہ وہ قیامت تک نسلی بنیاد پر یورپ کے اقتدار عالم کی نوید سنائیں۔  اور بے شک مسلمان کا عقیدہ ہونا چاہئے کہ قیامت سر پر ہے اور جس کے باب میں کفار مکہ نے پوچھا کہ قیامت کب ہے قرآن نے کہا کہ اس کا علم صرف خدا کو ہے غامدی صاحب کس بنیاد پر کہہ رہے ہیں کہ یہ عہد قرب قیامت کا عہد ہے اور اقتدار قیامت تک اب آل یافث کے پاس رہے گا۔  غامدی صاحب ذرا Treaty of Nanking کا مطالعہ کریں جو 1839 میں برطانیہ وفرانس نے چین سے کیا جس کے تحت چین کو برطانیہ اور فرانس سے منشیات خریدنے کا پابند بنایا گیا اور چین کو داخلی کمزوریوں سے یہ معاہدہ من وعن قبول کرنا پڑا تھا۔  آج اکیسویں صدی کا چین کیا وہی چین ہے؟ یا چین دیگر است؟ جو اقتدار عالم کی منزل سے چند فرلانگ دور ہے۔ پال کینیڈی کی Rise and fall of Great Powers کا مطالعہ کریں کیا Ming China پہلے اقتدار عالم کے مزے نہیں لے چکا؟ یہ وہی چین نہیں جو کبھی یورپ کی خانہ جنگی کو فنانس کیا کرتا تھا اور اس کے بحری بیڑے یورپ کے ساحلوں پر براجمان رہتے تھے اور کمپاس ایجاد کرنیوالا چین دنیا کی سب سے پہلی اور بڑی فولادی صنعت کا مالک تھا پھر ناکردہ کاری کا شکار ہو کر زوال کے پاتال تک جا پہنچا۔ اقتدارعالم کی ایک باری کافی نہیں تھی کہ دوبارہ بام عروج پر کیوں پہنچ رہا ہے۔ کہیں نظر بچا کر دوبارہ تو لائن میں نہیں لگ گیا؟ کیا عیسائیت شارلیمان کے دور میں عالمی اقتدار کے مزے نہیں لے چکی؟ دوبارہ عیسائی یورپ کیونکر دنیا کی باگ ڈور سنبھالنے میں کامیاب ہو گیا؟ غامدی صاحب بتائیں کہیں باری کا اصول صرف مسلمانوں کیلئے تو نہیں ہے؟ ایران کیوں ایک ہی ہلے میں فتح ہوگیا اور قسطنطنیہ کی فتح کیلئے طویل مدتی انتظار کرنا پڑا۔ ابن خلدون نے تو اصول بتا ہے کہ جب کسی سلطنت کا دارالحکومت فتح ہو جائے باقی فتح فاتح کیلئے دنوں کا کھیل ہوتا ہے۔ سلطنت ایران کا دارالحکومت جلد فتح ہوگیا باقی میں کتنی دیر لگی؟۔  قسطنطنیہ دور تھا اور سلطنت روما نے سلطنت پارس کے مقابلے میں زیادہ مزاحمت دکھائی۔  1990 میں غامدی صاحب کی نظر شعور کے سامنے سوویت روس ٹوٹا، برضا ورغبت اپنی نوآبادیات کو خیرباد کہہ کر بھاگا معاشی زبوں حالی اور کساد بازاری کا یہ عالم ہو گیا کہ وہاں سائنسدان بھیک مانگنے لگے۔  مگر پیوٹن کی قیادت میں روس کو دوبارہ ابھرنے میں کتنا وقت لگا کہ وہ اولمپک کھیلوں کے میگا ایونٹ کا میزبان بنا۔ پھر مشرق وسطیٰ میں جابجا فوجی چھائونیوں کے مالک امریکا کو شام کے محاذ پر کیا اسی روس نے ہزیمت سے دوچار نہیں کیا؟ دوسری جنگ عظیم میں جرمنی اور جاپان کا کیا حال ہوا تھا کیا وہ دوبارہ اپنی راکھ سے نہیں اٹھے۔ جرمنی تو آل  یافث ہے اٹھ سکتا تھا جاپان کیونکر دوبارہ ابھرا ہے؟ ترکی کیوں عظمت رفتہ کی بحالی کیلئے انگڑائی لے رہا ہے؟

ٹوائن بی نے کہا تھا تہذیبوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تہذیب مغرب پہلی تہذیب ہے جسے اپنا زوال سمجھ آرہا ہے ورنہ سابقہ تہذیبیں اس ادراک سے محروم تھیں کہ وہ روبہ زوال ہیں۔  یوں پہلی بار انسان ان پیرامیٹرز کو سمجھنے کے قابل ہوا ہے جو زوال کے انڈیکیٹرز ہوتے ہیں اور دوران عروج زوال کی بوباس محسوس کی جا سکتی ہے۔  ٹوائن بی کا تہذیبوں کے مطالعے میں بڑا کنٹری بیوشن یہی ہے کہ اس نے سماجی ترقی اور تنزلی کا یہ اصول دریافت کیا کہ قوموں یا تہذیبوں کو چیلنجز کا سامنا رہتا ہے جب تک وہ چیلنجز کو Respond کرتی رہتی ہیں تاریخ کے اسٹیئرنگ ویل پر براجمان رہتی ہیں جب چیلنجز کو Respond کرنا چھوڑتی ہیں تاریخ سے ان کا انخلا بتدریج ناگزیر ہو جاتا ہے۔  ابن خلدون نے قوموں کے عروج وزوال کو کچھ صدیوں اور جنریشنز میں تقسیم کیا تھا کیونکہ اس کے سامنے Primitive civilizations and dynastic rules کا ڈیٹا تھا تاہم ٹوائن بی چونکہ تہذیب جدید کا فرزند تھا اس نے تہذیبوں کے عروج وزوال کو چیلنجز اور ردعمل یعنی Response سے مشروط کیا۔  قرآن نے جوتہذیبوں کے عروج وزوال کے قوانین بتائے ہیں ان سے بھی اسی رمزغریب کا اشارہ ملتا ہے، تاریخ کے ترازو پر تہذیبوں کی کارکردگی کا ذرہ ذرہ تلتا ہے۔  ٹوائن بی نے کہا کہ تاریخ انسانی کی پہلی تہذیب مغربی تہذیب ہے جسے اپنے عروج پر زوال کے انڈیکیٹرز سمجھ میں آ رہے ہیں اسپینگلر نے انہیں اشاریوں کو سمجھتے ہوئے فرسٹ ورلڈوار سے غالباً پہلے Decline of the West” “ لکھی اور کہا ا گرچہ کچھ عرصہ اقتدار عالم مغرب کے پاس رہے گا تاہم یورپ میں خانہ جنگی کے امکانات ہیں اور اس سے طاقت کا محور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو گا۔ اگر زوال کے ان اشاریوں کو قابو میں لایا گیا تو عالمی قیادت کا دورانیہ بڑھ بھی سکتا ہے۔ عالمی جنگوں کی بدولت برطانیہ سے عالمی قیادت امریکا کو منتقل ہوئی۔  تاہم اسپینگلر کا موقف ہے کہ بقا ایک تندرست و توانا کلچر کا مقدر ہوا کرتی ہے جب کلچر تہذیب میں بدلتا ہے تو اسے جمود آ لیتا ہے اور فراق کا گھڑیال بج اٹھتا ہے۔ لہٰذا یورپی کلچر کے تہذیب میں بدلنے کو بانگ و پیغام رحیل سمجھا جائے۔ برٹرینڈرسل نے کہا Rise of the East والی گھڑی آپہنچی ہے اور اہل مشرق کو مشورہ ہے کہ وہ یورپ کی غلطیوں کا اعادہ نہ کریں خاص طور پر مادہ پرستی، شہوانیت اور حرص و ہوس سے سو بار الحذر! لاکھوں ٹن وزنی بحری جہاز کو موڑ کاٹتے کاٹتے ایک gentle curve کے دوران سینکڑوں ناٹیکل مائیلز کا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے تاریخ کا موڑ بھی ایسا ہی ہوتا ہے خود اہل مغرب کے ہاں یہ اقرار زور پکڑ رہا ہے کہ عالمی قیادت کا محور بحراوقیانوس سے بحرالکاہل یعنی یورپ سے ایشیا کیطرف شفٹ ہو رہا ہے۔ مگر غامدی صاحب قیامت تک عالمی اقتدار عیسائی یورپ کے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں۔

جناب خورشیدندیم صاحب بھی اپنے ذوالقدر استاذ کے کھینچے گئے نقشے سے بھلا کیونکر منحرف ہوتے، مسئلہ فلسطین پر اپنے ایک وقیع تجزیے میں سورۃ العمران کی آیت نمبر55 کی تفسیر لکھتے ہیں کہ امرالٰہی میں یہ طے پا چکا ہے کہ یہود تا قیامت عیسائیوں کے رحم وکرم پر رہیں گے۔ جب استاذ نے اقتدار عالم تا قیامت  یافث کی اولاد کو سونپ دیا ہے تو شاگرد یہی کہے گا نا کہ روز قیامت تک یہود عیسائیوں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ ذرا یہ تو بتائیں کہ امریکا میں اقتدار کا فیصلہ اسرائیل میں ہوتا ہے یا اسرائیل میں اقتدار کا فیصلہ امریکا کرتا ہے اقبال نے تو اسرائیل کے قیام سے قبل کہہ دیا تھا کہ “فرنگ کی رگ جاں پنجہ یہود میں ہے”۔ آیت مذکورہ کا ترجمہ ہے اور یاد کرو جب خدا نے کہا اے عیسیٰ میں آپ کو وفات سے ہمکنار کروں گا اور اپنی طرف مقام بلند دوں گا اور کفار کے الزامات سے پاک کروں گا اور تیرے متبعین کو کفار کے مقابلے میں تا روز قیامت افضل و برتر رکھوں گا۔  ڈاکٹر اسد اور عبداللہ یوسف علی کے ہاں اس آیت کی یہی تعبیر ہے مگر خورشید ندیم صاحب اس سے اہل کلیسا کا سیاسی اور فوجی اقتدار لے رہے ہیں جس کے رحم وکرم پر تا قیامت یہود نے رہنا ہے۔ صاحب یہ تو بھول ہی گئے کہ عیسیٰ ؑ کے ہاں نہ تو سیاسی اور فوجی جدوجہد ملتی ہے اور نہ ہی ریاست کا قیام ہے۔ ضیا گوکلپ کا کہنا ہے یہی اسلام اور عیسائیت کے مابین کلیدی فرق ہے کہ عیسائیت نے ریاست کے قیام کو مطمع نظر نہیں بنایا سلطنت روما کے ہاتھوں اذیت اٹھائی مگر اس کیخلاف جدوجہد نہیں کی جبکہ اسلام نے شروع دن سے قیام ریاست کیلئے جدوجہد کی اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ شیخ احمد سرہندی پیغمبرانہ شعور اور شعورولایت کے درمیان ایک خط فاصل کھینچتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پیغمبرانہ شعور کرہ ارضی کی اصلاح وفلاح میں بروئے کار آتا ہے جبکہ شعورولایت کا محورومرکز ولی کی اپنی ذات ہوا کرتی ہے۔ پیغمبر بہ یک وقت پیغمبر بھی ہوتا ہے اور ولی بھی جبکہ ولی صرف ولی ہوتا ہے۔  سرہندی لکھتے ہیں کہ جہاں تک مقام ولایت کا تعلق ہے عیسیٰؑ موسیٰؑ سے بڑے ولی اور بزرگ ہیں جہاں تک مقام نبوت کا تعلق ہے موسیٰ ؑ عیسیٰ ؑ سے عظیم تر ہیں اور میں نے اس مقام مخصوص پر اس فرق کو بچشم سر دیکھا ہے۔ موسیٰؑ کیلئے وہاں وہ عظمت اور جاہ وجلال ہے جو عیسیٰ ؑکو میسر نہیں ہے۔ یہ فرق اس لیے ہے کہ عیسیٰ ؑ کے ہاں کار زمیں کو سنوارنے کی وہ جدوجہد نہیں جو موسیٰ ؑ کے ہاں بدر جہ اتم ہے۔ کار زمیں کی پرداخت سیاسی اور فوجی جدوجہد سے ہوتی ہے۔ جب عیسیٰؑ نے سیاسی اور فوجی جدوجہد کا راستہ چنا ہی نہیں تھا اس لیے جب پیروان عیسیٰ کو ریاست میسر آئی تو وہ تھیوکریسی ٹھہری کیونکہ امور ریاست کو چلانے کیلئے جناب عیسیٰ کے ماڈل میں رہنمائی نہیں ملتی۔

عبداللہ یوسف علی کے ہاں متبعین عیسیٰ سے مراد اہل کلیسا کے برعکس وہ لوگ ہیں جو ان مسلم خوبیوں Muslim virtues کا اتباع کرتے ہیں جو آدم تا محمدًﷺ تمام انبیا کا مشترکہ ورثہ ہیں اور اہل کلیسا چونکہ جناب عیسیٰ کو ابن اللہ کا درجہ دیتے ہیں اس لیے عیسیٰ کے حقیقی متبعین مسلمان ہیں۔ خورشید ندیم صاحب کے موقف کا تاریخ ابطال کرتی ہے۔  اگرآیت مذکورہ کا مفہوم یہی ہے کہ یہودی تا قیامت اہل کلیسا کے رحم وکرم پر ہوں گے تو پھر اس کی کیا توجیہ ہو سکتی ہے کہ مسلم عہد عروج میں یہودی صدیوں تک مسلمانوں کے رحم وکرم پر رہے اور نازی کوڑا برسا تو بھی سلطنت عثمانیہ نے ان کیلئے اپنے دروازے وا رکھے۔  مسلم عہد اسپین کو یہودی قیام اسرائیل سے ملنے والی آزادی و خود مختاری کے باوجود یہودی تاریخ کا سنہرا دور قرار دیتے ہیں۔  یہودیت اسلام اور عیسائیت کیطرح آفاقی مذہب نہیں ہے کیونکہ یہودیت ایک نسلی اقلیتی مذہب ہے اور اس حقیقت کے باوصف بقا کیلئے ہمیشہ اسے کسی سپرپاور کے رحم و کرم پر رہنا ہے۔  مسلمانوں کے عہد عروج میں ان کی بقا اہل اسلام سے وابستہ رہی۔ عیسائی عہد عروج میں یہ عیسائیت کے رحم وکرم پر ہیں جب کنفیوشس چین اقتدار عالم پر براجمان ہو چکا ہو گا تو یہ چین سے اسی طرز کی شراکت داری کو یقینی بنائیں گے۔ خورشید ندیم صاحب ایک تغیر پذیر حقیقت کو بطور ابدی اصول کیوں پیش کر رہے ہیں۔  یہ ہمت تو عبداللہ یوسف علی کو بھی نہ ہوئی تھی جو تقسیم ہند کے برعکس ہندوستان ہر برطانیہ کے دائم اقتدار کے قائل تھے اوربرطانیہ کے اتنے وفادار کہ معاہدہ سیوریز جس میں سلطنت عثمانیہ کے حصے بخرے ہوئے تھے اس میں برطانیہ نے انہیں مسلم رہنما کے طورپر مدعو کیا ہوا تھا۔ مغرب کی نسلی برتری کے ایسے قائل کہ ایڑی چوٹی کا زورلگا کر قرآن کے ذولقرنین کو سکندراعظم ثابت کرنیکی کوشش کی۔ وہ بھی آیت مذکورہ سے ایسا استدلال نہیں پیش کرسکے جو خورشید ندیم صاحب کا ہے۔ نواب خضر حیات ٹوانہ کی یونینسٹ پارٹی اپنے پیوستہ مفادات کی بنیاد پر ہندوستان کیلئے برطانوی اقتدارکو ناگزیر سمجھتی تھی اور ان کے والد بزرگوار نواب ؑعمرحیات ٹوانہ تو برطانوی اقتدار کے استحکام کیلئے برطانوی ہند کے مسلم فوجیوں سے بیت المقدس پر گولیاں چلوا رہے تھے۔  مگر ایک مذہبی اسکالر کو کیونکر زیبا ہے کہ وہ دینی اور عقلی بنیادوں پر مغرب کے تاقیامت عالمی اقتدار کے حق میں دلائل تراشا کیے۔  قرآن نے یہود کیلئے ضربت علیھم الذلہ اور ضربت علیھم المسکنہ کہا ہے اور مذید فرمایا ہے کہ جہاں کہیں بھی ہوں گے ان کی پناہ و بقا کا انحصار خدا کی کسی امان کے تحت اور لوگوں کے ساتھ کسی معاہدے پر ہو گا۔  سید مودودی نے تفسیر میں لکھا ہے کہ ان پر محتاجی اور مفلوکی مسلط کر دی گئی ہے یعنی یہ قیامت تک کسی بڑی طاقت کے سہارے پر رہیں گے (3:110-115)۔  امین احسن اصلاحی کا کہنا ہے کہ یہود پہلے مصر میں فرعونیوں کے ہاتھوں پامال ہوئے، پھر بخت نصر کے ہاتھوں ان کی شامت آئی، پھرٹیٹس رومی نے انہیں تارا ج کیا، پھر عیسائیوں کے ہاتھوں انہیں ذلتیں نصیب ہوئیں، پھر مسلمانوں نے انہیں ذمی بنایا، پھر ہٹلر نے انہیں عذاب سو کا مزہ چکھایا، الا بحبل من اللہ وحبل من الناس تو استثنائی مہلتیں ہیں ورنہ قیامت تک ذلت اور مسکنت ان کا مقدر کر دی گئی ہے۔ پتہ نہیں خورشید ندیم صاحب کس بنیاد پر قرآن کو حوالہ بنا کر یہود کو قیامت تک کیلئے عیسائی مغرب کے عالمی اقتدار کے رحم وکرم پر چھوڑ رہے ہیں۔

یہ مرعوبیت برصغیر کی مسلم فکر میں سرسیداحمد خان کا ورثہ ہے۔ جو انگریز کی غلامی سے اس قدر خوش تھے کہ فرمایا مغل عہد زوال میں ہندوستان کی مثال ایک بیوہ ایسی تھی پھر اسے برطانیہ کی شکل میں شوہر مل گیا۔  برطانیہ میں قیام کے دوران ایک خط میں لکھتے ہیں کہ کیا ڈسپلن اور خوش سلیقگی دیکھنے میں آئی ہے یہاں ہندوستان کے کسی راجہ، تاجر، دکاندار یا اشرافیہ کے فرد کا انگریز سے کیا موازنہ ہے؟

فکرغامدی کے ساختیاتی مطالعے سے احساس ہوتا ہے کہ یہ کسی اورجنل اور تخلیقی مربوط و منظم نظام فکر کے برعکس حقیقی فلسفیانہ استدلال سے کہیں زیادہ ڈرائنگ روم کی آرام دہ کرسی پر بیٹھ کربنا گیا نیم اعتقادی اور نیم منطقی نیم جبری اور نیم اختیاری دلائل اور خیالات کا پیکج ہے۔ اس میں ندی کی طغیانی اور دریا کا شور تو ہے پر ہول سمندر کا سکوت نہیں ہے جو باہم متحارب و متجازب لہروں، کرنٹس اور کراس کرنٹس کا امیں ہوتا ہے اور دیکھنے والے پر ہیبت طاری کرتا ہے۔  اعجاز رحمانی نے کیا خوب کہا ہے کہ
تالاب تو برسات میں ہوجاتے ہیں کم ظرف
باہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتا

سنجیدہ اور حقیقی اسکالر دلیل اور استدلال کے پیچھے چلتا ہے وہ اسے جہاں لے جائے۔ اس روش کا فیض ہے کہ ایسے اسکالرز Terra incognita یعنی نامعلوم منطقوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں جہاں پہلے کبھی بھی کوئی نہ پہنچا ہو یہی دریافت ان اسکالرز کی تخلیق اور کنٹری بیوشن ہوا کرتا ہے۔  غامدی صاحب کے ہاں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے کچھ طے کیے ہوئے ہیں اور دلیل واستدلال کو اس طے شدہ امر کے اثبات کیلئے برتنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ غامدی صاحب کا استدلال قدامت پسندی کے قفس میں بند کبوتروں کیلئے بلی کی سی وحشت برپا کرتا ہے اور انکے خلاف کتابیں اور مضامین رد عمل میں لکھے جاتے ہیں لیکن غامدی صاحب کا استدلال عالمی اسکالرشپ کے معیار کے مطابق اتنا کمزور ہے کہ مغربی جامعات کے کسی سنجیدہ اسکالر کیلئے شاید ایک ریسرچ آرٹیکل کا بھی مواد فراہم نہ کرسکے۔  جس استدلال کی بنیاد Cherry picking ہو عالمی اسکالرشپ اسے کیونکر قبول کر سکتی ہے۔  عہدحاضر کا لمس اور عصری علوم کی ذرا بھی شدھ بدھ رکھنے والا قاری فکرغامدی کے ساختیاتی مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ مغرب ردمذہب سے جن نتائج پر پہنچا ہے حسن اتفاق یا سوئے اتفاق غامدی صاحب نے وہی نتائج مطالعہ قرآن وسنت سے اخذ کیے ہیں۔ بھلا قرآن سیکولرازم کے بولہبی فلسفے کی تائید کرسکتا ہے؟ نیشنلزم بھلا بلال، سلمان فارسی اور صہیب رومی کو امت مسلمہ کا فرد قرار دے سکتا ہے؟ کیپٹلزم ریاست اسلامیہ میں سائل اور محروم کا خاتمہ کرسکتا ہے؟ قرآن کا تصور نفس انسانی فرائیڈ کے تصور نفسیات کی تائید کرتا ہے؟ غامدی صاحب کی فکر کو راقم نے سنجیدہ فکر کے بجائے پیکیج اس لیے کہا ہے کہ موصوف نے ذاتی سوچ سے یا دانش فرنگ کے زیر اثر پہلے یہ طے کیا ہے کہ مذہب ایک نجی معاملہ ہے جو فرد اور خدا کے مابین معاملے کا نام ہے مذہب کا مینڈیٹ یہ ہرگز نہیں ہے کہ وہ ریاست کے معاملات یا سماج کی سیاسی معاشی، تہذیبی اور ثقافتی تشکیل میں کوئی کردار ادا کرے، فرعونیت، قارونیت، بولہبی اور چنگیزیت خواہ دندناتی پھرے اہل مذہب کو دعوت و تبلیغ کا حق ہے تاہم ان سماجی رذالتوں کیخلاف کوئی منظم تحریک اٹھانا خلاف مذہب ہے۔ ایسا کیا تویہ شدت پسندی اورتشدد کے زمرے میں آئے گا۔  خورشید ندیم اہل سیاست کو نواب زادہ نصراللہ کا شعر سناتے ہیں کہ کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں کب کوئی بلا صرف دعائوں سے ٹلی ہے مگر اہل مذہب کو انزار، دعا اور دعوت وتبلیغ کا مشورہ دیتے ہیں۔

غامدی صاحب نے “مذہب ایک نجی معاملہ ہے” کو اپنی فکر کی شاہ کلید بنایا اور پھر مطالعہ قرآن وسنت کے ہر پہلو کو تراش خراش کر اس سے ہم آہنگ کر دکھایا۔ اس باب میں ان کو ریاضت کی داد نہ دینا بخل ہو گا کہ بہت گہرا استدلال نہ سہی عامیانہ ڈرائنگ روم منطق کے ذریعے انہوں نے اپنے نظام فکر کو کمال مہارت سے ظاہری تضادات سے بچالیا ہے خواہ اس کیلئے انہیں کتنا ہی کٹ پیسٹ کیوں نہ کرنا پڑا ہو۔ اس لیے میں غامدی نظام فکر کو ایک خوبصورت پیکیج مانتا ہوں ورنہ اورجنل اسکالر کا فکری ڈھانچہ Non-totalizing ہوا کرتا ہے اس میں آنیوالوں کیلئے دریافت و تخلیق کا ساماں ہوا کرتا ہے۔ شافعی، مالک کے شاگرد ہیں مگر آزادی فکر دیکھئے استاد سے الگ نئے افق وا کیے۔ امام محمد اور شیبانی کو دیکھیں ابوحنیفہ سے اختلاف رائے کا کتنا بڑا سرمایہ چھوڑگئے۔ شاہ ولی اللہ کے مکتب سے کتنے مکتب پھوٹے؟ افغانی سے متاثر ہونیوالوں کا متنوع سرمایہ دیکھیں۔ اقبال، ضیا کوکلپ، شریعتی وغیرہ۔ لیکن مکتب غامدی ایک ایسا پیکیج ہے کہ شاگردان استاذ محترم کی کورانہ توثیق کے سوا کیا کرتے ہیں؟ اس لیے کوئی بھی سوال ہو، فکرومطالعہ کا حامل شخص غامدی صاحب کے بولنے سے پہلے ان کا جواب سمجھ جاتا ہے۔

کسی دوست نے راقم کو بذریعہ فون کہا کہ ڈاکٹر مشتاق صاحب کی فیس بک وال پر دیکھو انہوں ڈاکٹر فضل الرحمان کا مضمون لگایا ہوا ہے جس سے ثابت ہے کہ غامدی صاحب کا زکوٰۃ سے متعلق موقف ڈاکٹر فضل الرحمان کا سرقہ ہے۔ راقم کو تشویش ہوئی کہ زکوٰۃ سے متعلق غامدی صاحب اور ڈاکٹر فضل الرحمان کا موقف ایک نہیں ہو سکتا۔  فضل الرحمان مغرب کی طرز پر اسلام کو نجی معاملہ نہیں سمجھتے وہ اسلامی معاشرے کی تشکیل کیلئے ریاست کے قیام اور سماجی معاشی اور سیاسی اصلاحا ت کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔ ان کے ہاں زکوٰۃ کی یہ تعبیر ملتی ہے کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں عمال بیوروکریسی تھے لہٰذا اسلامی فلاحی ریاست میں زکوٰۃ کے مصارف میں بیوروکریسی کی تنخواہیں شامل ہیں، ریاست صحت، تعلیم اور کمیونیکشز کو زکوٰۃ کے مصارف میں فی سبیل اللہ کے باب میں شامل کر سکتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ یوں وہ ریاستی مشینری کو زکوٰۃ سے چلانا عین اسلامی سمجھتے ہیں اور اڑھائی فیصدی زکوٰۃ کو دائمی اصول نہیں مانتے جیسا کہ عمر رضی اللہ کا بھی یہی موقف تھا یعنی زکوٰۃ کی شرح کو وقتی تقاضوں کے تحت اوپر نیچے کیا جا سکتا ہے۔ یوں غامدی صاحب اگر اس اصول کو مان لیتے ہیں تو ان کے فکرکی عمارت دھڑام سے گر جائے گی۔ خیر کچھ دیر بعد ان کے ایک شاگرد رشید کا موقف فیس بک پر آگیا جس میں مشتاق صاحب کو طنزاً فقیہ شہر کہہ کر مخاطب کیا کہ غامدی صاحب فضل الرحمان کے برعکس زکوٰۃ کی اڑھائی فیصدی شرح کو المعارج کی آیت 35 “والذین فی اموالھم حق معلوم کی بنیا د پر دائمی مانتے ہیں۔  ڈاکٹر اسد نے حق معلوم کا ترجمہ Due amount کیا ہے جبکہ غامدی صاحب حق معلوم کو طے شدہ اڑھائی فیصد قرار دیتے ہیں مبادا یہ ریاستی معاملات کا کلیدی اصول بن جائے۔ جب موسیٰؑ مدائن سے واپس مصر جا رہے ہیں اور انہیں مقام نبوت پر فائز کرنے کیلئے بھی قرآن یہی کہتا ہے کہ اب ہم آپ کو علیٰ قدرمعلوم پاتے ہیں اس لیے منصب نبوت پر فائز کیے دیتے ہیں تو یہاں بھی کیا قدر معلوم سے کوئی عددی قیمت مراد ہے؟ اگر غامدی صاحب زکوٰۃ کے باب میں قدرمعلوم سے اڑھائی فیصدی زکوٰۃ مراد لیتے ہیں تو یہاں پھر موسیٰ ؑ کی مقررہ عمر بتانا ہو گی اور نبوت کا معیار عمر قرار دینا پڑے گا؟

فکرغامدی کے پیکیج میں قرآن وسنت کے کلیدی اصولوں کی ایسی خوبصورت تراش خراش ہے کہ فکرمغرب کے تمام Ruling and Dominant Concepts کی تائید ملتی ہے یوں سیکولر نظام تعلیم کے پروردگان کیلئے انتہائی پرکشش ہے جن کیلئے کینٹول اسمتھ نے کہا ہے کہ ان کا سارا اسلام فکرمغرب سے مستعار ہونے کے باوصف کسی عملی سرگرمی کیلئے جہت نمائی کرنے کے برخلاف شوکیس کی چیز ہے۔ غامدی صاحب کی کانٹ چھانٹ پر مولانا رومی کی ایک حکایت یاد آئی ہے کہ طوفان اور اندھیری کا مارا کوئی شاہین کسی بڑھیا کے جھونپڑے پر آگرا بڑھیا نے شاہین کو پکڑ کر اس کی حالت زار پر بین کیے کہ ہائے تیرے پر کیسے بکھرے الجھے ہیں انہیں قینچی سے کاٹ دیا، ہائے تیرے تو ناخن بھی کسی نے نہیں تراشے، ناخن اتار دیئے اور چونچ کا ٹیڑھ بھی قینچی سے درست کر دیا۔  اب نہ وہ اڑنے کا رہا، نہ شکار پکڑنے کا رہا اور نہ ہی ڈھنگ سے کھا پی سکتا تھا مگر بڑھیا نے اپنے تئیں شاہین سے کمال شفقت کا مظاہرہ کیا۔  غامدی صاحب کے فکری پیکیج میں یہی کچھ نمایاں ہے۔ مسلمان باری لے چکے اب قیامت تک تاریخ کی جہت نمائی کا فریضہ کم از کم مسلمان سرانجام نہیں دے سکتے۔

ڈاکٹر فضل الرحمان لکھتے ہیں کہ بے شک مستشرقین اسلام پر تحقیق جدید کے موجد ہیں تاہم چونکہ اسلام ان کا اپنا مذہب نہیں ہے اس لیے ان کے ہاں میکانکی رویے اور احساس مغائرت کا پایا جان عین فطری ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ مسلم اسکالرز جو اسلام کو مستشرقین اساتذہ یا ان کی تصانیف سے پڑھتے اور سمجھتے ہیں یہ میکانکی رویہ اور احساس مغائرت ان میں بھی در آتا ہے۔  یوں اپنے ہی مذہب کے باب میں احساس کمتری اور تضحیکی رویہ آجاتا ہے۔ غامدی صاحب کے ہاں یہ رویہ نظر آتا ہے اگرچہ ان کے استدلال میں مستشرقین جیسی گہرائی اور گیرائی کا سامان کم ہے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستانی ریاست ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آئی اور بانیان پاکستان کے ہاں اسلام کی تعبیرو تشکیل نو کا ایک واضح ویژن تھا اور پاکستان اپنی پیدائش کے بعد دو دہائیوں میں ورلڈ کلاس ڈاکٹرز، انجینئرز اور سائنسدان پیدا کرنے میں تو کامیاب ہو گیا مگر ایسے ورلڈ کلاس اسکالرز پیدا نہ کر سکا جو اسلام کی تعبیر نو کا بیڑا اٹھاتے، وجہ ریاستی سطح پر بدنیتی اور بے حسی تھی جس نے نظریاتی بندوبست کی تعبیروتشکیل کا مسئلہ مدارس کے نجی شعبے کو تفویض کر دیا۔ کیا کمیونسٹ چین اور روس کمیونزم کی تشریع و تعبیر کو پرائیوٹائز کرنے کا رسک لے سکتے ہیں؟ تعبیر اسلام کا معاملہ عجیب دوئی کا شکار ہوگیا ایک طرف مدارس ہیں جو مبادیات اسلام کا ادراک رکھتے ہیں مگر تاریخی شعور سے بے بہرہ ہیں دوسری طرف سیکولر نظام تعلیم کے پروردگان اسلامی اسکالرز ہیں جو اسلام کی تاریخیت کا ادراک رکھتے ہیں مگر مبادیات سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد اسد تحریک پاکستان کے ہنگام بھارت آئے تھے اتنے پر امید تھے کہ “ایک چکر ہے میرے پائوں میں زنجیر نہیں” کا مزا ج رکھنے والے پائوں توڑ کر یہیں بیٹھ گئے، العرفات رسالہ نکالا جس میں وہ نظریاتی ریاست کے آئینی اور قانونی خط وخال پر لکھنے لگے اور تحریک پاکستان کا دانشورانہ انجن بن گئے اقبال اور قائداعظم نے بھی سر آنکھوں پر بٹھایا۔ انہوں العرفات کے صفحات میں لکھا کہ Islam stands and falls with its ability to shape society and redirect our activities. اسی دوران اسد نے Islam at the Crossroads لکھی اور یہ مقدمہ پیش کیا کہ یا تو ہمیں اپنی تہذیب وثقافت کی نئے عہد کی مقتضیات سے ہم آہنگ تعبیر کرنا ہوگی، زمانہ وسطیٰ کی تعبیر کے لنڈے بازار سے نکل کر علم الٰہیات قرآن وسنت کی روشنی میں مدون کرنا ہوگا جو عصری علوم لمس، اور عہدجدید کے سوالوں کا جواب اپنے دامن میں رکھتا ہو یا پھر ہمیں تہذیب مغرب کی نقالی اور راہگزر کو اپنانا ہوگا جو اپنی حتمیت میں مضرت رساں اور سم قاتل ثابت ہوگا اس کے کچھ مظاہر ہم نے دیکھ لیے اور باقی بھی دیکھ لیں گے۔ تاہم اگر اسلام کی تعبیرو تشکیل کا فریضہ سرانجام دینے میں کوتاہی برتی گئی تو مغربی طرز کی جدیدیت کا ہماری معاشرت میں سرایت کر جانا ناگزیر ہو جائے گا۔ اب جبکہ آزادی کی سات دہائیاں گزر چکی ہیں ریاست پاکستان نے اس بنیادی فریضے سے اغماض برت کر غرب زدگی کی راہ ہموار کی ہے۔ ایسے میں غامدی صاحب کی مغرب زدہ تصور اسلام کی کھپت نہیں ہو گی تو کیا جمال الدین افغانی، اقبال، ڈاکٹر اسد اور ڈاکٹر فضل الرحمان کا بیانیہ فروغ پذیر ہوگا؟

(Visited 1 times, 4 visits today)

Leave a Reply

6 تبصرے

  1. ویسے حیرت کی بات ہے کہ تمام تر ملحدانہ نظریات رکھنے کے باوجود غامدی صاحب اور ان کے گمراہ کن نظریاتی وارثین ابھی تک قیامت پر یقین رکھتےہیں،باقی غامدی صاحب بےشک تیسری ہجرت بھی کر لیں عزرائیل تو وہاں بھی آ جائیں گے، اسلام اور مسلمانوں سے ان کا یہ بُعداصل میں نبی ﷺ سے بغض اور حسد کی وجہ سے ہے، بھلے یہ اس بات کو اپنے منہ سےنہی کہتے لیکن ان کا عمل اسے واضح کردیتاہے، ڈاکٹر صاحب آپ کی کوئی دلیل بھی انھیں قائل نہیں کر سکتی کیونکہ یہ صم بكم عمي فهم لا يرجعون کے مقام پر پہنچ چکے ہیں البتہ میرے جیسے کم علموں کے لیےیہ مضمون یقیناً آپ کے لیے توشہ آخرت بنے گا،
    چلے نہ ایمان اک قدم بھی اگر ترا ہمسفر نہ ٹھہرے
    تـــرا حوالہ دیا نہ جائے تو زنــــدگی معتبر نہ ٹھہرے

  2. امجد جاوید on

    اگر نبوت کسی ہے تو پھر کوئی بھی اسے حاصل کر سکتا ہے ۔آں ختمی مرتبت کے بعد کتنے ہوئے ہیں لیکن امت نے سب کو ٹھکرا دیا

  3. سبحان اللہ بھائی مزا آ گیا پڑھ کر
    غامدی صاحب تو لگتا ھے ایمان کا سودا کرچکے ھیں
    قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ دنیا کے تھوڑے سے فائدے کے لیے یہ ہماری آ یات بیچ دیتے ہیں
    غامدی صاحب فکر ے آ خرت کر لو شاید کہ بخشش ھو جائے
    قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو جس کی سعی کرتا ہے وھی پاتا ہے
    اگر مسلمان ھاتھ پہ ہاتھ دھرے منتظر ے فردا رہے تو ھماری باری نہیں آ ے گی
    دوسرے لفظوں میں پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

Leave A Reply