سوال زندہ، کھٹک باقی— مکتب روایت پہ اعتراضات اور سہیل عمر کی گذارشات

0

مکتب روایت Perennial school of thought، رینے گینوں اور وحدت ادیان کے نظریہ کے حوالے سے جاری حالیہ بحث کے سلسلہ میں جناب احمد جاوید صاحب کی گذشتہ تحریر (لنک: مکتب روایت، وحدت ادیان اور میرا موقف —- احمد جاوید) اور اس سلسلہ کی ادریس آزاد صاحب کی پہلی تحریر(لنک: نومسلم رینے گینوں، مکتب روایت اور وحدت ادیان کے تصور پر اہم سوالات — ادریس آزاد کے جواب میں سہیل عمر صاحب کی یہ تحریر دانش کے قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔


حضراتِ گرامی!
سب سے پہلے تو یہ عرض کرنا لازم ہے کہ میں نہ تو اہل اللہ میں سے ہوں، نہ دانشور، نہ اپنے نہایت محترم برادرِ بزرگ احمد جاوید صاحب کی طرح عرفان و حکمت کا وارث۔ بس ایک اچھا مترجم، مرتب ہوں۔ سرزمینِ تصنیف و تالیف میں میرا گذشتہ تیس پینتیس برس کا سفر اس پر شاہد ہے۔ ’ cut and paste‘ سے ہوتے نہیں جہاں پیدا! ہاں کنفیوشس کا ایک قول سہارا دیتا رہا ہے کہ: ’دانا دو طرح کے ہوتے ہیں؛ وہ جنہیں دانائی اور حکمت میسر ہے اور وہ جو جانتے ہیں کہ دانائی کہاں پائی جاتی ہے‘۔

دوسری بات یہ کہ آپ نے از رہِ عزت افزائی مجھے ’مکتب روایت Perennial school of thought کے نمایندہ دانشور‘ قرار دے دیا۔ آپ ہی کے علمی مباحثہ https://daanish.pk/49903 میں غالبا یہ اجمالاََ بیان ہو چکا ہے کہ دین و دانش کے حلقوں میں Perennialist (آلڈس ہکسلے کی ہم خیالی) اگر گالی نہیں تو کلمہ تحقیر ضرور ہے! میں یہ تہمت قبول کرنے سے معذرت کرتا ہوں۔ نیز اگر آپ مجھ سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ میں شیخ عبدالواحد یحیی Frithjof Schuon Martin Lings S. H. Nasr Rene Guenon صاحبان کے افکار اور محمدحسن عسکری صاحب کے ترجموں کے لیے جواب دہی کروں گا تو بھائی میرے لیے مجاورِ افکار بننے کا یہ منصب کوئی کشش نہیں رکھتا، نہ مجھ میں اتنی ہمت باقی رہ گئی ہے کہ ناواقفانِ حال کے بے پڑھے کے استفسارات کا پھندہ گلے میں ڈال سکوں۔

تیسری اور سب سے ضروری بات یہ کہ دو تین کے سوا ان اربابِ قلم کی ساری کتب پاکستان میں انگریزی میں مقامی ایڈیشن کی صورت میں دستیاب ہیں [لگ بھگ ۲۵۰]۔ جن اصحاب کو اس معاملے سے شغف ہو وہ اصل کتبْ عبارتیں دیکھیں، ہما شما کی رائے زنی پر اعتبار نہ کریں۔ خذ ما صفا و دع ما کدر! پھر اگر کوئی وضاحت درکار ہو تو اصل عبارت سامنے رکھ کر استفسار کریں، بندہ حاضر ہے۔ میں اس سلسلے میں اتنے دھکے، دھچکے کھا چکا ہوں کہ طبیعت اوبھ گئی ہے۔ برسوں ہو گئے سنتے سنتے، “امام غزالی نے کہا ہے”، “شاہ ولی اللہ نے کہا ہے”، “ابن عربی نے کہا ہے”، “اقبال نے کہا ہے”۔ جب اصل عبارت دیکھیے تو سخن فہمیِ عالمِ بالا بلکہ عالِم بالادست معلوم شد۔ ٹھٹھیرے کا کبوتر اب تالیوں سے نہیں اڑتا! آخر کوئی تو وجہ ہے کہ احمد جاوید صاحب ایسا ناقد منہ بھر بھر کے ان کتابوں کی تعریف کرتا ہے جو اسی مکتبہ فکر کے لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں۔ یہاں تک کہ اسلام اپنی نگاہ میں اور صوفی پاتھ آف نالج کے بارے میں ایک جلسے میں میرے سامنے فرمایا کہ اسلام کو پیش کرنے کا یہ ہے صحیح طریقہ۔ کاش ہم نے بھی ایسی کوئی کتاب لکھی ہوتی! احمد جاوید صاحب صحیح فرماتے ہیں کہ کسی شخصیت کے واقعی یا سنے سنائے عیوب کی بنیاد پر اس کے افکار کو ٹھیک سے جانچنے یا قدر و قیمت متعین کرنے کی کوشش ہی نہیں کی جاتی۔ یہی معاملہ Frithjof Schuon سے متعلق مواد کا ہےجس کا بڑا حصہ افسانہ ہے اور ایک ایسے شخص کا ترتیب دیا ہوا سکینڈل جس کی بعض ناجائز فرمائشوں کو ازروئے شرع منع کرنے پر اس نے Schuon کے خلاف کردار کشی کی یہ مہم چلائی جس میں ان کے اہل کے ساتھ ان کی نجی تصاویر چرا کر استعمال کی گئیں۔ اس سکینڈل سے وہ عدالتی چارہ جوئی کے بعد باعزت بری ہوئے۔ مصوری میں Schuon کا ذوقِ عریاں کشی و برہنگی اور اس کی فلسفیانہ بحث ہمیں نہ اس وقت سمجھ آئی نہ آج پلے پڑتی ہے۔ نیز یہ ایک خالص ذاتی چیز تھی جس کا ان کے علمی، فلسفیانہ اور مابعد الطبیعیاتی تحریری کام سے کوئی تعلق نہیں تھا، حتی کہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے مداحوں، معتقدین اور قارئین میں سے ۹۰ فی صد سے زیادہ لوگ ان کی مصوری سے واقف ہی نہیں تھے، نہ آج واقف ہیں۔ ایک شخص کی نجی زندگی کے بارے میں صحیح یا غلط کچھ اطلاعات کی بنیاد پر کیا اس کے سارے قابلِ قدر کام کو اٹھا کر پھینک دیا جانا چاہیئے؟ مان لیجیے کہ ایک صاحب میں کوئی عیب ہے، اور وہ الجہر بالسؤ کے مرتکب بھی نہیں، تو کیا اس سے ان کی فلسفیانہ اور مابعد الطبیعیاتی کاوشوں، علمی خدمات، دفاعِ اسلام اور فلسفہ غرب کی مقاومت میں رقم کی گئی تحریروں کی قدر و قیمت ختم ہو جائے گی؟ اسلام کا جیسا تعارف اور دفاع Understanding Islam یا Islam and the Perennial Philosophy یا فلسفہ غرب پر جیسی تنقید Logic and Transcendence میں کی گئی ہے وہ باطل ہو جائے گی؟ علم کے میدان میں علمی کاوشوں کو علم ودانش کے پیمانوں ہی کی کسوٹی پر پرکھنا چاہیئے۔ اس زاویئے سے دیکھیے تو آج کی علمی دنیا میں کتنےلوگ ان اربابِ قلم کی برابری کر سکتے ہیں!

بہ ایں ہمہ، معاملہ چونکہ احمد جاوید صاحب پر بہتان کا ہے لہذا چند ضروری باتیں عرض کیے دیتا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم کہ احمد جاوید صاحب نے’فیس بک پر چلنے والی اس بحث میں ظاہر ہے کہ جلیل عالی صاحب، ابرار حسین صاحب اور ادریس آزاد صاحب ہی کا مؤقف درست ہے۔ البتہ آزاد صاحب اگر اس قضیے میں میری پوزیشن مجھی سے پوچھ لیتے تو اچھا ہوتا‘ کہ کر کس بحث کی طرف اشارہ کیا ہے! اتنی بات تو آپ کے علمی مباحثہ https://daanish.pk/49903 میں خود عالی صاحب نے کہ دی تھی کہ انہوں نے مذکورہ اربابِ قلم کو خود نہیں پڑھا بلکہ ان کے بارے میں محمدحسن عسکری اور سلیم احمد صاحبان کی تحریروں سے ایک تاثر قائم کیا ہے۔ رہا مسئلہ زیرِ بحث تو اس کے بارے میں احمد جاوید صاحب درست فرماتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ادریس ٓازاد صاحب بھی نہ تو اس قضیے کے ما لہ و ما وعلیہ سے ٓاگاہ ہیں نہ پاکستان میں اس کا تاریخی پس و پیش منظر ان کی نگاہ میں ہے ورنہ احمد جاوید صاحب جیسا متحمل مزاج اور مردِحلیم ان کی تحریر پر [جو بہتان مجھ پر باندھا گیا ہے] کے الفاظ کا اطلاق نہ کرتا۔ مذکورہ اربابِ قلم سےاحمد جاوید صاحب کا اختلاف اور تنقید بھی شاید ادریس ٓازاد صاحب کے علم میں نہیں۔ ۱۹۸۵ سے ۹۵ کے دوران احمد جاوید صاحب میری جو جوتا کاری کرتے رہے اس کے بارے میں بھی انہوں نے ٹھیک لکھا ہے۔ اس عبارت کا اختتام اس فقرے پر ہوا ہے۔ ”سال ڈیڑھ پہلے سہیل عمر صاحب نے میرے سامنے ان تمام چیزوں سے براءت کا اظہار کر دیا جو ہمارے درمیان سنگین اختلاف کا سبب بنیں۔“ تفصیل یوں ہے کہ گفتگو کسی طرح یہاں آ گئی کہ جاوید صاحب نے رنجیدہ ہو کر کہا کہ ”سہیل صاحب آپ نے زندگی میں دو مرتبہ مجھے بہت دکھ دیا، ایک ان عقائد کے سلسلے میں اور۔۔۔۔۔ [یہ اکادمی کے انتظامی مسائل میں سے تھا]۔“ میں نے عرض کیا کہ میں تو بطور مسلمان اپنے لیے رسولِ خداﷺ کو اسی طرح خاتم النبیین اور مدارِ نجات مانتا ہوں جس معنی میں آپ بولتے ہیں، ہاں تکفیرِ غیر مسلمین میں نہیں پڑتا، اس معاملے میں میرا موقف وسعت کا ہے۔ اس پر میرے ممدوح جاوید صاحب نے جس خوشی اور پیار سے مجھے دیکھا، وہ مجھے بھولتی نہیں! پھر کہا کہ تکفیر اور بات ہے، اس سے میں بھی دور رہتا ہوں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ نجات غیر مسلمین ایک مختلف فی مسئلہ ہے اور امام غزالی سے لے کر امین احسن اصلاحی اور غامدی صاحب کی اسلامی فکر کا تجزیہ بتاتا ہے کہ اس پر اندھی تکفیر سے لے کر کفِّ لسان تک ۵ مختلف موقف ہیں: غامدی صاحب تو کافر کا لفظ برتنا تک مناسب نہیں سمجھتے، غیر مسلم کا عنوان دیتے ہیں۔

ایک وضاحت مرحوم سراج منیر کے بارے۔ سراج منیر ہی مجھے ادھر لائے تھے، میرا اور انکا شب و روز کا ساتھ تھا۔ زندگی کے آخری لمحات تک میں ان کا رفیق تھا۔ اسلام آباد سے ان کی میت لے کر لوٹا تھا۔ براءت اور گولڑہ شریف سے ارادت کا تعلق قائم کرنے کے بارے میں انہوں نے کبھی اشارہ بھی نہیں کیا۔ وہ آگے گئے، ہم بھی تیار بیٹھے ہیں، اس پر کیا تبصرہ کریں۔

آخر میں ایک الجھن کا ذکر بھی ضروری ہے۔ جامعہ ازہر کی معاصر تاریخ کے سب سے نیک نام، صاحبِ علم و فضل اور متقی شیخ ِ ازہر، شیخ عبدالحلیم محمود جو جامعہ ازہر کے علاوہ سوغبورن کے تعلیم یافتہ بھی تھے، شیخ عبدالواحد یحیی Rene Guenon کے معتقد اور ان پر کتابوں کے مصنف تھے اور امام غزالی کی کتاب المنقذ من الضلال کی تخریج و تدوین و شرح میں شیخ عبدالواحد یحیی کی کتابوں سے [اصل فرانسیسی میں] عسکری صاحب کی طرح اعتراف کر کے کھلی مدد لیتے رہے۔ موجودہ شیخ ِ ازہر سے پہلے شیخ ِ ازہر، شیخ علی جمعہ، بھی اصل فرانسیسی میں شیخ عبدالواحد یحیی کی کتابوں کے براہِ راست قاری اور ان کے افکار کے ہم سے زیادہ قائل اور شناسا تھے۔ عسکری صاحب نے اردو میں ترجمہ کیا اور چھاپا بھی تو فرانسیسی نقشبندی /شاذلی شیخ مصطفی عبدالعزیز [میشل والساں] کا جوشیخ عبدالواحد یحیی کے پکے مقلد تھے اور ان سے اتنا بھی اختلاف نہیں کرتے تھے جتنا Frithjof Schuon نے کیا۔

الجھن یہ ہے کہ احمد جاوید صاحب نے تو ’اس محبت کو دل سے نکالنے میں اتنا وقت بھی نہ لگایا جتنا پلک جھپکنے میں لگتا ہے‘ لیکن شیخ عبدالحلیم، شیخ علی جمعہ، شیخ مصطفی عبدالعزیز صاحبان نے اپنے ضمیر اور دیانتِ علمی کو کیسے مطمئن کیا ہو گا؟ عسکری صاحب کے کتب خانے میں [اب بیدل لائیبریری] شیخ عبدالواحد یحیی کی فرانسیسی کتابوں کے علاوہ مذکورہ اربابِ قلم کی اس وقت تک کی کتب موجود ہیں، ان پر عسکری صاحب کے مخصوص طرزِ مطالعہ [سطر سطر زیر خط کشیدہ، حاشیے پر تبصرہ] کی چھاپ ہے۔ مفتی شفیع صاحب کے مرید، مولانا تقی عثمانی کے ہمکار، مجدد صاحب کے عاشق، حضرتِ تھانوی اور معارف قرآن کے مترجم، ذہین و فطین محمدحسن عسکری نے اس باطل مواد کی کیا تاویل کی ہو گی؟ فی الوقت میرے پاس اس کا جواب نہیں ہے۔ سوال زندہ، کھٹک باقی!

محمد سہیل عمر

یہ بھی پڑھی: ’روایت‘ کی تفہیم کے مختلف مناہج: محمد عثمان رمزی

ہم کون ہیں؟ —– حسین نصر/ محمد سہیل عمر

 اس سلسہِ تحریر کے جواب میں جناب سجاد میر کا موقف: دبستان روایت: حالیہ بحث اور میرا موقف — سجاد میر‎‎

اس موضوع پہ منعقدہ گفتگو کی وڈیو:

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply