کیا تشدد اور مزاحمت یکساں ہے؟ حماس کے بارے میں لبرل موقف کا تضاد — علی ابونیمہ

0

امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی صومالوی نژاد مسلم رکن کانگرس الہان عمر نے چند روز قبل اپنے ایک ٹوئیٹ میں لکھا کہ ‘ہم نے امریکہ، حماس، اسرائیل، افغانستان اور طالبان کی جانب سے ناقابل تصور ظلم و بربریت دیکھی ہے۔ ہمارے پاس انسانیت کے خلاف جرائم کے تمام متاثرین کے لئے احتساب اور انصاف کا یکساں نظام ہونا چاہیے’۔

اس ٹوئیٹ کے ساتھ انہوں نے جو ویڈیو شئیر کی وہ امریکی ایوان نمائندگان کی ایک کمیٹی کی سماعت کے دوران سیکر ٹری خارجہ انتھونی بلنکن سے ہونے والی انکی گفتگو پر مبنی ہے۔ اس گفتگو میں انہوں نے انتھونی بلنکن کو چیلنج کرتے ہوئے سوالات کئے اور انسانیت کے خلاف جنگی جرائم میں صرف افغان حکومت، طالبان، حماس اور اسرائیلی سیکورٹی فورسز کومورد الزام ٹھہرایا۔ الہان عمر (Ilhan Omar) نے ان جرائم میں امریکہ کے ملوث ہونے کی دانستہ طورپر کوئی بات نہیں کی لیکن بعد ازاں ٹوئیٹ کرتے ہوئے اس میں امریکہ کا نام بھی شامل کر لیا تاکہ عوام کے سامنے اپنی سیاسی ساکھ بچائی جا سکے۔

الہان عمر نے جب انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کے حوالے سے انتھونی بلنکن سےسوالات کئے تو وہ سمجھ رہی تھیں کہ انہوں نے فلسطینیوں کے حق میں بات کی ہے۔ لیکن حماس کے بارے میں انکے اس تبصرہ سے فلسطینی کاز کے بجائے اسرائیل کے اس پراپیگنڈے کو تقویت ملی جس میں کہا جاتا ہے کہ حماس فلسطین کا جنگجو مزاحمتی نمائندہ ہے۔ بدقسمتی سے الہام عمر کی وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے کی یہ حکمت علمی امریکہ میں پائے جانے والے’نام نہادفلسطین حامی’ لبرل سیاستدانوں سے مستعار لی گئی ہے۔ انتھونی بلنکن نے جب دعویٰ کیا کہ فلسطینیوں کو اسرائیل میں عدل و انصاف مہیا ہو سکتا ہے تو وہ اسی لبرل طبقے کی نمائندگی کر رہے تھی جن کی ہر بات میں منافقت اور بے ایمانی عیاں ہوتی ہے۔

الہان عمر نے اپنی انتخابی مہم کے لئے درکار خطیر رقم فلسطین کی حمایت میں کی گئی بیان بیازی کی بنیاد پر جمع کی تھی لیکن الیکشن جیتنے کے بعد وہ فلسطینی حق خود ارادیت کیلئے کی جانے والی مزاحمت اور دفاع کو ‘انسانیت کے خلاف جرائم’ اور اسرائیلی جارحیت اور نوآبادیاتی تشدد کے مترادف قرار دے رہی ہیں۔ یہ منافقانہ غیر جانبداری ظاہر کرنے کا ایک سستا اور آسان نسخہ ہے جسے الہان عمر نے ان سنئیر امریکی سیاستدانوں سے سیکھا جنہوں نےاسے مقامی امریکی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسلم دنیا کی نمائندگی کیلئے میدان میں اتارا ہے۔ یہ امریکی سیاستدان اسرائیل کے نسل پرستانہ اقدامات کو چیلنج کئے بغیر نیتن یاہو پر صرف لفظی تنقید کے وار کرکے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اسرائیل کے خلاف سخت گیر موقف رکھتے ہیں۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ فلسطینی مزاحمتی تحریک، بین الاقوامی سطح پر اپنے تسلیم شدہ حق کا استعمال کرتے ہوئے معمولی ذرائع و اسباب کے ساتھ مزاحمت کر رہی ہے۔ اسکے مقابل اسرائیلی سامراجی و جوہری طاقت جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر لوگوں کو ناحق قتل اور غلام بنانے کیلئے تشدد کا ہر حربہ استعمال کر رہی ہے۔ اسرائیلی مظالم اور فلسطینی مزاحمت کے درمیان اخلاقی طور پر کوئی مماثلت نہیں پائی جاتی لیکن الہان عمر کو یہ سکھایا گیا ہے کہ اس حقیقت کو زبان پر لانے سےسیاسی مفادات حاصل نہیں کئے جا سکتے۔

حماس کی دفاعی اور مزاحمتی کاروائیوں کا اسرائیلی جارحیت کے ساتھ تعداد اور سیاق و سباق کے لحاظ سےموازنہ کرنا مضحکہ خیز ہے لیکن اس سے زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ امریکہ فلسطین کی نمائندگی کے نام پر مسلم سیاستدانوں کو اپنی سیاسی کمپنی میں بھرتی کرکے ان سے فلسطین کے خلاف بیان دلوا رہا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے دنیا بھر میں ہلاکتوں اور تباہی و بربادی کی ایک نئی داستان رقم کی۔ جنوب مشرقی ایشیاء سے لے کرافغانستان، عراق، لیبیا اورگوئٹے مالا تک امریکہ نے جنگی مہم جوئی، بغاوتوں اور مداخلتوں کے ذریعے لاکھوں افراد کو ہلاک کیا لیکن الہان عمر کے ذریعے دانستہ طورپر امریکہ کا نام گول کرکے صرف حماس اور طالبان کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔

حماس کے اندھا دھند راکٹوں کا واویلا:

لبرل سیاستدانوں کی طرف سےاکثر کہا جاتا ہے کہ حماس عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا قصور وار ہے کیونکہ اس نے اسرائیلی شہروں اور اسٹرٹیجک اثاثوں کی طرف اندھا دھند ہزاروں راکٹ فائر کئے۔ دیگر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اسرائیل کو غزہ اور یروشلم میں فلسطینیوں پر حملے اور انکی نسل کشی سے باز رکھنے یا ان اقدامات کی قیمت چکانے کیلئے یہ راکٹ فائر کئے گئے۔ ان راکٹوں کی شکل میں جوابی حملے اس لئے بھی کئے گئے تاکہ غزہ کو فلسطین سے الگ کرنے، فسلطین کے مزید ٹکڑے کرکے کمزور کرنے، زمینوں پر زبردستی قبضے اور یہودی آبادکاری کے مزیدمنصوبوں پر عمل کرنے سے اسرائیل کو باز رکھا جاسکے۔

اس حوالے سے غزہ میں حماس کے رہنما یحیٰ سنوار (Yahya Sinwar) نے ایک حالیہ انٹریو میں کہا کہ فلسطینیوں کی طرف سے میزائلوں کا استعمال خوشی سے نہیں کیا جاتا۔ جب اسرائیل نے اپنے جدید اسلحہ، ہوائی جہازوں، ٹینکوں، توپوں اور میزائل سے یہ واضح کردیا کہ اسکا مقصد ہمارے بچوں اور خواتین کو جان بوجھ کر قتل کرنا ہے تو ہمارے پاس ان راکٹوں کے استعمال کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ اگر ہمارے پاس اسرائیل کے فوجی ٹھکانوں اور تنصیبات کو درست طریقے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہوتی تو ہم ان مقامی ساخت کے راکٹوں کا اندھا دھند استعمال کبھی نہ کرتے۔ ہمارے دفاعی اقدامات کا اسرائیل کے ان جارحانہ اقدامات سے موازنہ کرنا درست عمل نہیں جو ہر قسم کی صلاحیت رکھنے کے باجود عام شہریوں کو نشانہ بناتا رہا۔ جب اسرائیل نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم دفاع کی آخری حد تک جائیں تو ہمارے پاس جو کچھ موجود تھا ہم نے اسے استعمال کیا۔ اگر انہیں فلسطین کے معمولی قسم کے، نشانوں پر فٹ نہ بیٹھنے والے راکٹوں سے مسئلہ ہے تو یہ امریکہ اور یورپی یونین سے کیوں نہیں کہتے کہ جس طرح انہوں نے اسرائیل کو جدید ہتھیاروں سے لیس کیا اسی طرح فلسطین کو بھی کم ازکم ایسے ہتھیاروں سے تولیس کریں جو فوجی تنصیبات کو درست طریقے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

یہ بات درست ہےکہ معمولی قسم کے راکٹ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بجائے عام شہری آبادیوں پر بھی گر سکتے ہیں اور حماس کے راکٹوں سے اسرائیل میں 11 افراد ہلاک ہوئے اور انٹی ٹینک بم چلانے سے ٹینک تباہ ہونےکے بجائے ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہوا لیکن ہلاکتوں کی یہ کم تعداد ظاہر کرتی ہے کہ حماس نے نہ اپنی پوری صلاحیت کا استعمال کیا اور نہ ہی اسکے اقدامات اسرائیل میں کسی بڑی تباہی یا ہلاکتوں کا باعث بنے۔ یہ محض دفاعی مقصد کے حصول کیلئے کم سے کم طاقت کا استعمال تھا۔ لیکن اسکے برعکس اسرائیل نے مزاحمتی تحریک کو بے دردی سے کچلنے کیلئے کئی دنوں تک رات، دن مسلسل بمباری کی اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ بم کسی فوجی ٹھکانے پر گر رہا ہے یا کسی رہائشی عمارت، دفتر، ہسپتال یا کاروباری عمارت پر۔ صرف چند دنوں میں 250 سے زائد بے گناہ فلسطینی شہریوں کو ہلاک کیا گیا جن میں ستر کے قریب بچے بھی شامل تھے۔ ہر انسانی زندگی قیمتی ہوتی ہے لیکن الہان عمر کی طرف سے اسرائیلی نوآبادیاتی تشدد اور فلسطینی مزاحمت کو برابر اور یکساں قرار دینا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔

ظلم کا آغاز ظلم سے ہی ہوتا ہے :

حماس پر الہان عمر کے الزامی بیان کا محرک قابل غور ہے۔ کیا اسکے ذہن میں صرف حالیہ واقعات تھے یاحماس کا ماضی کا کردار بھی شامل تھا ؟ کیا وہ 1980 کے دہائی کے وسط میں ہونے والے ان خود کش حملوں کی طرف اشارہ کرنا چاہتی تھی جو فلسطینیوں نے اسرائیلی قبضے اور مظالم سے تنگ آکر ہر قسم کی بیرونی امداد سے مایوسی کے عالم میں آخری رد عمل کے طورپر کئے تھے؟ لیکن اس طرف اشارہ کرنے سے قبل یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حالات قدرے بہتر ہوتے ہی فلسطینی تنظیموں نے خود ہی اس حربہ کو ترک کر دیا تھا۔ تاہم استعماری جارحیت کے خلاف ہونے والی ہر جدوجہد میں رد عمل لازمی عنصر ہوتا ہے۔ جب مقامی مزاحمت کاروں کےپاس نوآبادیاتی طاقت کو روکنے کا کوئی سامان نہیں ہوتا تو وہ آخری حربہ کے طورپر اسی طرح کے اقدامات اٹھاتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا جسے مغرب نے فلسطینیوں کے قتل عام پر اسرائیلی حمایت کرنے کے صلے میں بزرگ سیاسی رہنما کے طور پر قبول کر لیا تھا اس نے بھی اپنی سوانح عمری (The Long Walk to Freedom) میں ایسے اقدامات اٹھانے کا اعتراف کیا ہے۔

نیلسن منڈیلا لکھتے ہیں کہ ‘مظلوم اپنی خواہش سے کوئی اقدامات نہیں اٹھاتے بلکہ یہ ظالم ہوتا ہے جو جدوجہد کی کسی مخصوص شکل کو اپنائے جانے کے حالات پیدا کرتا ہے۔ جب ظالم قوت، طاقت کابے دریغ استعمال کرتی ہے تو مظلوم کے پاس پرتشدد ردعمل کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہوتا اور یہ آخری حربہ کے طور پر جائز عمل ہوتا ہے۔ اگر فرض کریں یہ ایک ناجائز حربہ ہے تو پہلے ظالم کو اس سے باز آتے ہوئے دستبردار ہونا چاہیے۔ ظالم کے پاس ہر طرح کے ذرائع میں سے استعمال کے انتخاب کی آزادی ہوتی ہے جبکہ مظلوم کے پاس انتخاب کی آزادی نہیں ہوتی اسے جو میسر آئے استعمال کرتا ہے۔

نیلسن منڈیلا نے مزید بتایا کہ ‘ مسلح جدوجہد کے ابتدائی مراحل میں افریقی نیشنل کانگرس ایسے اقدامات کرتی تھی جس سے زیادہ لوگوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ نہ ہو۔ لیکن جب یہ بات واضح ہوگئی کہ ان اقدامات سے سامراجی طاقت کو کوئی بڑانقصان نہیں پہنچ رہا جس سے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں تو ہم اگلے مرحلے یعنی گوریلا جنگ اور دہشت گردی میں داخل ہونے کیلئے تیار ہو گئے’۔

فلسطین میں رہائشی عمارتوں، بازاروں، ہوٹلوں، ہسپتالوں اور کاروباری مراکز پر اسرائیلی بمباری اس لئے نہیں کی گئ کہ خدانخواستہ اسرائیل کو فلسطینی جارحیت سے خطرہ تھا بلکہ یہ اسرائیلی استعماری ہتھکنڈہ تھا جسے صیہونی ریاست کی توسیع کیلئے استعمال کیاجاتا ہے۔ اسکا مقصد یہ ہے کہ فلسطینیو ں پر جنگ مسلط کرکے انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے اورحق خودارادیت سے روکا جائے۔ اگر فلسطینیوں نے اسرائیلی مظالم سے تنگ آکر 1990 کی دہائی میں یا 2000 کی دہائی کے اوائل میں خودکش دھماکے کئے تو وہ کوئی ایسے اقدامات نہیں تھے جن کو الہان عمر مظالم کے نام سے پیش کرے۔ اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ ایک تو اس حکمت عملی کو اب ترک کر دیا گیا، دوسرا وہ دھماکے صرف حماس نے نہیں کئے تھے بلکہ اس میں محمود عباس کی فتح پارٹی اور فلسطینی اتھارٹی بھی شامل تھی جس کے ساتھ گرم جوشی کے تعلقات قائم کرنے کیلئے بلنکن بے چین ہے۔

اس حوالے سے تیسری اہم بات یہ ہے کہ ان دھماکوں کی مخالف قوت اسرائیل کسی بے بسی کا شکار نہیں تھی کہ دنیا میں اسکی بات نہ سنی جائے یا ان کاروائیوں کا انتقام لینے کیلئے اسکے ہاتھ پائوں بندھے ہوں۔ اسرائیل نے ان کاروائیوں کے جواب میں بے شمار لوگوں کو ماورائے عدالت اور غیر قانونی طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا۔ ان میں حماس کے بانی لیڈرشیخ احمد یاسین بھی شامل تھے جو بچپن سے نابینا ہونے کی وجہ سے وہیل چئیر پر تھے۔ انہیں مارنے سے قبل اسرائیل نے انتقامی کاروائیاں کرتے ہوئے مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ہرآنے جانے والے کو بھی ہلاک کیا۔ امریکہ نے آج تک اسرائیل کی کسی ایسی کاروائی کو دہشت گردی قرار نہیں دیا۔

اسرائیل نے 2002 کے بعد فتح رہنما مروان بار گھوتی (Marwan Barghouti) کو جیل بھیجتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ دوسری انتفاضہ میں اسرائیل کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیوں کی رہنمائی کرتا تھا۔ اس کے خلاف ہونے والے ٹرائیل میں واضح طورپر جانبداری نظر آنے پر مروان گھوتی نے اپنے دفاع سے انکار کر دیا تھا لیکن اسکے باوجود اسے پانچ بار عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ سزائیں دینے والے ججوں نے ان دیگر عدالتی فیصلوں کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی جن میں کئی جرائم میں عدم ثبوت کے باعث مروان گھوتی کو بری کر دیا گیا تھا۔ اس دوران امریکہ نے ایسے متعدد قوانین پاس کئے جن میں انسداد دہشت گردی کے نام پر امریکی عدالتوں میں فلسطینیوں پر اسرائیل کے خلاف حماس سے ملتے جلتے الزامات لگا کر انہیں سزائیں دی گئیں۔ لیکن اسکے برعکس امریکہ نے فلسطینیوں کو اسرائیل کے ظلم و ستم سے بچانے کیلئے کبھی کوئی قانون پاس نہیں کیا۔

الہان عمر نے جو کچھ کہا ہے وہ امریکی انتظامیہ کے دل کی ہی آواز ہے۔ امریکہ اب بین الاقوامی فوجداری عدالت میں بھی فلسطینیوں کو انصاف کی فراہمی سے انکار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نام نہاد عالمی برادری کی طرف سے ہر قسم کی فلسطینی مزاحمت خواہ وہ مسلح ہو یا غیر مسلح اسے دہشت گردی سے جوڑ کر اسکی مذمت کی جاتی ہے۔

لبرل سیاستدان جارح کے بجائے وکٹم کوخوش اخلاقی کی تلقین کیوں کرتے ہیں؟

کئی مزاحمتی فلسطینی گروہوں کے درمیان صرف حماس کو جنگلی آنکھوں والے مذہبی جنونی، اپنی موت اور تباہی کو آواز دینے والے اور یہود کے بدترین دشمن قرار دینا مغرب کے لبرل سیاستدانوں کا سب سے آسان سیاسی فارمولا ہے۔ ان کی ایماء پر اسرائیل کا یہ سالہا سال سے پھیلایا ہوا پروپیگنڈا ہے کہ فلسطینی دہشت گرد ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ الہان عمر بھی نہ صرف اس پروپیگنڈے کا شکار ہے بلکہ عملی طور پر اسے فروغ دینے کا حصہ بن رہی ہیں خواہ وہ ذہنی اور ارادی طورپر اسکے لئے تیار ہوں یا نہ ہوں۔

گزشتہ دو دہائیوں سے حماس فلسطینی قومی سیاست کے مرکزی دھارے کی طرف مڑی ہے حالانکہ یہ اخوان المسلمون سے الگ ہونے والی ایک ایسی تنظیم تھی جس نے 1967 کی سرحد کو فلسطینی ریاست کی اساس کے طورپر قبول کیا تھا۔ اس نے کچھ سابقہ دستاویزات میں واضح طور پر اپنے آپ کو ان خیالات سے الگ کیا جو کلاسیکی یورپی انٹی سامیٹک مشہور تھے۔ 2017 میں اس نے اپنے رہنما اصولوں کا جو خاکہ پیش کیا وہ اسکی بدلتی ہوئی پالیسی کا واضح دستاویزی ثبوت ہے۔ اس دستاویز میں کہا گیا کہ ‘حماس تنظیم اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ اسکا تنازعہ صیہونی منصوبے سے ہے نہ کہ یہودیوں کے ساتھ کسی مذہبی دشمنی کی وجہ سے۔ حماس یہودیوں کے خلاف محض انکے یہودی ہونے کی وجہ سے کوئی جدوجہد نہیں کر رہی بلکہ یہ جدوجہد صرف اس لئے ہے کہ اسرائیل فلسطین پر ناجائز طورپر قابض ہے۔ یہ جدوجہد ان صیہونی غاصبوں کے خلاف ہے جو یہودیوں کو فلسطینیوں کی زمینوں پر ناجائز طور پر بسا رہے ہیں اور غیر قانونی نوآبادیاتی منصوبے کو توسیع دے رہے ہیں’۔

اس دستاویز میں اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی مسلح مزاحمت کی توثیق کی گئی ہے لیکن یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوجی کاروائی، قومی و سیاسی اہداف کےحصول کا ذریعہ ہے نہ کہ بذاتہ کوئی مقصد یا ترجیحی اقدام۔ حماس کے لیڈر سنوار (Sinwar) نے اسکی وضاحت اپنے انٹرویو میں اس طرح کی کہ ‘ہم جنگ یا لڑائی نہیں چاہتے کیونکہ اسکی قیمت انسانی جانوں کی شکل میں ادا کرنا پڑتی ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں اور ایک طویل عرصہ سے عوامی اور سیاسی مزاحمت کر رہے ہیں لیکن عالمی برادری اسرائیل کے جرائم اور قتل عام کو عملی طور پر روکنے کے بجائے صرف تماشہ دیکھ رہی ہے اور اسرائیلی جنگی مشینیں ہمارے نوجوانوں کو قتل کئے جارہی ہیں۔ کیا دنیا ہم سے یہ توقع رکھتی ہے کہ ہمارے پیارے مرتے رہیں اور ہم رونے دھونے کے بجائے صرف انہیں دفنانے پر توجہ مرکوز رکھیں؟ کیا خوش اخلاق وکٹم ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ ذبح ہوتے وقت خاموشی سے درد سہا جائے اور شور بھی نہ مچایا جائے؟ حماس پر دہشت گرد ی، خونخواری، بچوں اور عورتوں کو ڈھال کے طورپر استعمال کرنےیا یہود دشمنی کے الزامات لگانا اسرائیلی پروپیگنڈے کا حصہ ہے کیونکہ حماس کی پالیسی اسرائیلی کے نسل پرستانہ نظریات کے خلاف اور توسیعی کاروائیوں سے متصادم ہے۔

امریکہ اور اسرائیل حماس کو کیوں مسترد کرتے ہیں؟

کئی سالوں سے حماس کی قومی، عسکری و سیاسی حکمت عملی دیگر سامراج مخالف حریت پسند تحریکوں مثلاً سن فین (Sinn Fein) یا آئرش ریپلکن آرمی کی طرح سیاسی انداز سے آگے بڑھ رہی ہے۔ برطانیہ کی طرف سے طویل عرصے تک آئرش گرپوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا رہا لیکن پھر انہیں ان مذکرات کا حصہ بھی بنایا گیاجو 1998 کے بیلفاست معاہدے (Belfast Agreement) کے سلسلے میں ہوئے اور بالآخر آئرلینڈ کے شمالی علاقوں میں کئی دہائیوں کے بعد تشدد کا خاتمہ ہوا۔ اگر حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے فوجی مزاحمت جاری رکھی ہوئی ہے تو اسکی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل اور اسکے امریکی و یورپی اسپانسرز نے فلسطینیوں کی طرف سے کی گئی تمام فراخ دلانہ پیش کشوں کو ہمیشہ مسترد کیا ہے۔ حماس نے تو نام نہاد دو ریاستی حل سے بھی اتفاق کر لیا تھا جس میں فلسطینیوں کو اپنے ہی ملک کے صرف 22 فیصد حصے پر فلسطینی ریاست تک محدود کر دیا گیا۔ اسرائیل اس پر بھی خوش نہیں، اسکا اصرار ہے کہ اسے دریائے اردن اور بحیرہ روم کے درمیان تمام زمین پر مستقل قبضہ، کنٹرول اور یہودی بالادستی چاہیے۔

امریکہ حماس کو سخت بے رحمی سے مسترد کرتا ہے اور اس سے کسی قسم کی بات چیت کیلئے تیار نہیں حالانکہ وہ طالبان مزاحمت کاروں سے تو براہ راست مذاکرات کیلئے تیار ہے جن کے ساتھ افغانستان میں بیس سال سے جنگ ہو رہی ہے۔ حماس نے آج تک امریکہ سے براہ راست کوئی جنگ نہیں کی لیکن اسکے باوجود امریکہ ان سے بات چیت کیلئے تیار نہیں۔ گزشتہ برس امریکی ایماء پر اسرائیل اور خلیجی عرب حکومتوں کے درمیان معمول پر لانے والے تعلقات اور معاہدات نے اسرائیل کو موقع فراہم کیا کہ وہ یروشلم میں مزید علاقوں پر قبضے کرکے یہودی آبادیاں بسائے۔ یہی وہ عمل ہے جس نے فلسطینی مزاحمتی گروپوں کو یروشلم میں فلسطینیوں کے دفاع کے سلسلے میں ایک بار پھر عسکری کاروائیاں کرنے پر مجبور کیا۔ امریکہ کی طرف سے فلسطینی گروپوں کی مسلح مزاحمت کو اسرائیلی نوآبادیاتی قبضہ اور جارحیت کے برابر، یکساں، مشابہ، مساوی اور برابر قرار دینے کی کوشش انتہائی قابل مذمت ہے۔

حماس کے خلاف لبرل سیاستدانوں کا یہ عمل بالکل ویسے ہی تعصب پر مبنی ہے جیسے امریکہ میں سیاہ فام لوگ جب اپنے حقوق کیلئے نعرہ لگاتے ہیں کہ ‘ہر جان برابر کی اہمیت رکھتی ہے’ تو ریاستی ادارے نسل پرستانہ پالیسی پر عمل پیرا ہو کر ان پر ہر قسم کا جبر اور تشدد مسلط کرتے ہیں۔ یہ بات تو تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ‘ہر انسانی جان برابر کی اہمیت رکھتی ہے’ لیکن انسانی جان لینے والے ریاستی تشدد اور مظلوموں کی مزاحمت پر برابر کی ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی۔ جرم کی نوعیت، واضح تشخیص اور تاریخی پس منظر جانے بغیر دونوں فریقوں پر یکساں ذمہ داری ڈالنا امن کی طرف بڑھتا ہوا قدم نہیں بلکہ ظلم اور جنگ کے شعلوں کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے۔ فلسطین میں ہر قسم کےتشدد کی اصل وجہ صیہونی نوآبادیاتی توسیع پسندانہ منصوبہ ہے اور اسکا راستہ روکے بغیر عدل، انصاف اور امن کی کوئی امید پوری نہیں ہو سکتی۔

(یہ مضمون علی ابونیمہ (Ali Abunimah) کے ایک انگریزی مضمون ‘It’s time to change liberal discourse about Hamas’ کا ترجمہ ہے جو 10 جون 2021 کو The Electronic Intifada پر شائع ہوا۔ علی ابونیمہ اس ادارے کے ایگزیکٹو ڈاریکٹر ہیں۔ اصل انگریزی مضمون کا لنک درج ذیل ہے۔ ترجمہ: جناب وحید مراد)

https://electronicintifada.net/content/its-time-change-liberal-discourse-about-hamas/33376

مصنف کی دانش ٹی وی انگلش کے ساتھ ایک بھرپور گفتگو کی وڈیو:

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply