موسمی آفتیں: پانچ اہم سوال؟ (تیسرا باب) — بل گیٹس

0

ترجمہ: ناصر فاروق
جب میں نے ’’موسمی تبدیلی‘‘ کے بارے میں سیکھنا شروع کیا تو میرا واسطہ چند ایسے حقائق سے پڑا، جنہیں سمجھنا جوئے شیر لانا تھا۔ اس کی ایک وجہ وہ ہندسے تھے، جو بے شمار تھے، جنہیں تصور میں لانا محال تھا۔ کون جانتا ہے کہ 51ارب ٹن گیس کی شکل صورت کیا ہوسکتی ہے؟ اسے کس صورت سمجھا جائے؟ کیسے شمار کیا جائے؟

ایک اور مسئلہ وہ ڈیٹا تھا جومیں دیکھ رہا تھا۔ یہ بظاہر سیاق و سباق کے بغیر تھا۔ ایک مضمون کہتا ہے کہ ایک یورپی ’’کاربن اخراج‘‘ پروگرام نے فضائیہ کے شعبے میں ایک کروڑ 70 لاکھ ٹن کاربن footprint گھٹادی ہے۔ بظاہر 17ملین ٹن گیس بہت زیادہ لگ رہی ہے، مگرکیا یہ واقعی زیادہ ہے؟ یہ مجموعی سالانہ ’کاربن اخراج‘ کا کتنا فیصد ہے؟ مضمون یہ نہیں بتاتا، اور اس طرح کے مضامین میں اس طرح کی کمی عام ہے؟

اس دوران میں نے اپنے ذہن میں اُن سب باتوں کا فریم ورک تیار کیا جومیں سیکھ رہا تھا۔ اس طرح مجھے کچھ اندازہ ہوا کہ یہاں ’’بہت زیادہ‘‘ اور ’’بہت کم‘‘ کا مطلب کیا ہے، اور کیسے کچھ ’بہت لاگت‘ طلب ہوسکتا ہے۔ اس سے مجھے بڑے زبردست خیالات کی تشکیل میں مدد ملی۔ یہ طریقہ کار مجھے درپیش موضوع کی تفہیم میں مددگار محسوس ہوا۔ میں سب سے پہلے ایک بڑی تصویر بنانا چاہتا تھا، تاکہ سیاق و سباق کی ہر نئی معلومات دائرے میں شامل ہوتی رہے، اور میری یادداشت میں محفوظ ہوتی رہے۔

یوں پانچ بنیادی سوالوں کا فریم ورک تیار ہوگیا۔ اب میں بار بی کیو پارٹی میں موجود رہا ہوں یا کسی توانائی کمپنی سے سرمایہ کاری پرگفتگو میں شریک ہوا ہوں، یہ پانچوں سوال ہر وقت میرے ساتھ ساتھ رہے۔ پانچ سوالوں کا یہ فریم ورک تمہیں ’’موسمی تبدیلی‘‘ کا ایک واضح خاکہ مہیا کرے گا۔

پہلا سوال: ہم کس طرح 51 ارب ٹن کاربن کا شمار کریں؟ اسے کس طرح سمجھیں؟
میں جب کسی گرین ہاؤس گیس کے بارے میں پڑھتا ہوں، فوراً اس کا حساب لگاتا ہوں، اور 51 ارب ٹن گیس سالانہ میں اس کا فیصدی تناسب نکالتا ہوں۔ میرے نزدیک یہ موازنے کا سب سے سیدھا اور صحیح طریقہ ہے۔ مثال کے طور پر ’’کاربن اخراج‘‘ کے کتنے ٹن میں کمی کا مطلب سڑکوں سے دھواں اڑاتی ’’کتنی گاڑیوں‘‘ کی کمی کے مساوی ہے؟ کون جانتا ہے کہ سڑکوں سے کتنی گاڑیاں کم کی جائیں تو ’’موسمی تبدیلی‘‘ کی صحت پرکتنا فرق پڑے گا؟
میری ترجیح یہ ہے کہ ہر چیز کو 51 ارب ٹن گیس میں کمی کا ہدف سامنے رکھ کر دیکھوں۔ وہ پروگرام جو17ملین کاربن گھٹا رہا ہے، اسے 51 ارب ٹن سے تقسیم کیا جائے اور سالانہ فیصدی تناسب نکالا جائے، تو یہ سالانہ اخراج کا 0.03بنتا ہے۔ کیا یہ کوئی بامعنی تناسب ہے؟ اس بات کا انحصاراس سوال کے جواب پر ہے کہ یہ ہندسے اوپر کی جانب جارہے ہیں یا نہیں؟ اگر یہ پروگرام 17کے ہندسے پر ہی رکا رہے گا، تب بے کار ہے۔ بدقسمتی سے کوئی جواب واضح نہیں۔ مگر یہ سوال اہم ہے۔

دوسرا سوال: سیمنٹ کے لیے تمہارا کیا منصوبہ ہے؟
اگر تم مکمل طور پر ’’موسمی تبدیلی‘‘ سے نبرد آزما ہونا چاہتے ہو، اور اس بارے میں کچھ کرنا چاہتے ہو، تو تمہیں ہر اُس چیز اور سرگرمی پر توجہ دینی ہوگی جوانسان کرتے ہیں، اور ’’کاربن اخراج‘‘ کا سبب بنتے ہیں۔ چند چیزیں جیسے بجلی اور گاڑیاں بڑی توجہ حاصل کرتی ہیں، مگر یہ محض سامنے کی سرسری سی چیزیں ہیں۔ ٹرانسپورٹیشن دنیا بھر کے کاربن اخراج کا صرف 16 فیصد ہے۔ جبکہ صرف فولاد اور سیمنٹ کی تیاری کاربن اخراج کے کُل میں 10 فیصد حصہ سالانہ شامل کرتے ہیں۔ اس لیے اب سوال یہ ہے کہ سیمنٹ کے ساتھ کیا کیا جائے؟ یہ ایک یاددہانی ہے کہ اگر تم ’’موسمی تبدیلی‘‘ سے پوری طرح نمٹنا چاہتے ہو تو بجلی اور گاڑیوں سے آگے بڑھ کر سوچنا ہوگا۔ اُن ساری انسانی سرگرمیوں پر دھاوا بولنا ہوگا، جوگرین ہاؤس گیسیں خارج کرتی ہیں۔
ہم انسان جو کچھ کرتے ہیں، اُس میں سب سے زیادہ 31فیصد کاربن اخراج کی وجہ سیمنٹ، فولاد، اور پلاسٹک کی صنعت سازی ہے۔ 27 فیصد کاربن اخراج بجلی کی پیداوار سے ہوتا ہے۔ کاشت کاری اور مویشیوں کی پیداوار اور استعمال کی مد میں 19فیصد کاربن خارج ہوتی ہے۔ طیارے، کارگو شپ، اور ٹرک وغیرہ 16فیصد کاربن فضا میں شامل کرتے ہیں۔ خود کو اور ماحول کو گرم ٹھنڈا رکھنے کے طریقوں میں 7فیصد کاربن استعمال ہوتی ہے۔ تم شاید یہ دیکھ کر حیران ہو کہ بجلی کی پیداوار کاربن اخراج کا محض ایک تہائی سے کچھ زیادہ ہی ہے، حالانکہ ’’موسمی تبدیلی‘‘ پر مضامین کی اکثریت ’بجلی کی پیداوار‘ کوسب سے بڑا مجرم بناکر پیش کرتی ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ خود 27فیصد مسئلہ ہونے کے باوجود، بجلی ’موسمی تبدیلی‘ کے منفی اثرات کا 27فیصد سے زائد حل بھی پیش کرسکتی ہے۔ ہم ہائیڈروکاربن جلانا بند کرسکتے ہیں، اور صاف ستھری بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔ اب ذرا بجلی کی گاڑیوں اور بسوں کے امکان پر غور کرو۔ بجلی سے چلنے والے ہیٹر اور کولنگ سسٹم کو ذہن میں لاؤ۔ ایسی فیکٹریوں کا تصور کرو جو قدرتی گیس کے بجائے بجلی سے چلیں۔ یقیناً clean energy ہمیں صفر کاربن تک نہیں پہنچائے گی، مگر وہاں تک پہنچنے میں بہت مددگار ثابت ہوگی۔

تیسرا سوال: کتنی توانائی ہمیں درکار ہے؟
یہ سوال اکثر بجلی پر لکھے گئے مضامین میں نظر آتا ہے۔ تم پڑھتے ہو کہ ایک نیا پاور پلانٹ 500میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا۔ کیا یہ کافی ہے؟ اور یہ میگا واٹ کیا بلا ہے؟ ایک میگا واٹ کا مطلب دس لاکھ واٹس ہے۔
ایک واٹ joule per second (توانائی کی انتہائی کم مقدار)ہے۔ اسے اس طرح سمجھو: اگر تم کچن کے نلکے میں پانی کے بہاؤ کی پیمائش کررہے ہو، اورشمارکرتے ہو کہ فی سیکنڈ کتنے کپ بھرتے ہیں۔ بجلی یا توانائی کی پیمائش بھی کچھ اسی طرح ہوتی ہے۔ بس یہاں تم پانی کے بجائے بجلی کے بہاؤ کی پیمائش کرو گے۔ واٹس ’’کپ فی سیکنڈ‘‘ کی مانند ہیں۔ ایک واٹ اچھا خاصا چھوٹا ہوتا ہے۔ ایک چھوٹا سا بلب شاید 40واٹ استعمال کرتا ہے۔ ایک ہیئر ڈرائر 1500واٹ توانائی لیتا ہے۔ ایک پاور پلانٹ لاکھوں کروڑوں واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا پاور اسٹیشن Three Gorges Dam چین میں ہے۔ یہ 22 ارب واٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے۔

اب کیونکہ ہندسے بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں، اس لیے شارٹ ہینڈ آسان ہوگیا ہے۔ ایک کلو واٹ کا مطلب1000 واٹ ہے۔ ایک میگا واٹ10 لاکھ واٹ کے مساوی ہوتا ہے۔ ایک گیگا واٹ ایک ارب واٹ کے برابر ہوتا ہے۔ سارا دن اور سارا سال بہت سے گھرانے دوسروں کی نسبت بہت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ نیویارک سٹی 12گیگا واٹ استعمال کرتا ہے۔ ٹوکیو جاپان کا دارالحکومت ہے، اس کی آبادی نیویارک سے زیادہ ہے، یہاں 23گیگا واٹ بجلی صرف کی جاتی ہے۔ مگر یہ ضرورت گرمیوں میں 50گیگا واٹ تک بھی چلی جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایک درمیانے سائز کے شہر کے لیے تمہیں گیگا واٹ بجلی کی پیداوار بہرصورت یقینی بنانی ہوگی۔ بہت سے شہروں کی انتظامیہ اس پیداوار کی اہل ہوتی ہیں، اور بہت سی اہل نہیں ہوتیں۔ جہاں نیوکلیئر پلانٹ ہیں، وہاں چوبیس گھنٹے بجلی کی پیداوار ہوتی ہے۔ مگر یہی کام ہوا اور سورج سے پیدا کی جانے والی توانائی سے ممکن نہیں۔ ہوا ہمیشہ نہیں چلتی۔ سورج ہمیشہ کرنیں نہیں بکھیرتا۔ مذکورہ تناسب سے یہ ذرائع توانائی صرف30 فیصد ضرورت پوری کرسکتے ہیں، یا شاید اس سے بھی کم۔ جبکہ باقی کی ضرورت کے لیے ہمیں دیگر ذرائع توانائی سے مدد لینی ہوگی۔

سوال چار، ہمیں کتنی جگہ درکار ہے؟
توانائی کے کچھ ذرائع زیادہ گنجائش مانگتے ہیں۔ ہمیں اپنے ہدف تک پہنچنے کے لیے کتنی زمین اور پانی درکار ہوگا، یہ جاننا بہت اہم ہے۔ ہمیں اس پر خاص توجہ دینی ہوگی۔ بجلی کی کمیت کا شمار یہاں اہم ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ کتنی زمین (یا پانی اگر آپ سمندر میں ٹربائن نصب کررہے ہیں)پر کون سے ذرائع کتنی بجلی مہیا کرسکتے ہیں۔ اس کی پیمائش واٹس پراسکوئر میٹر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ہم قدرتی ایندھن سے 500-10000واٹس پر اسکوئرمیٹربجلی حاصل کرسکتے ہیں۔ نیوکلئیر توانائی ہمیں 500-1000واٹس پراسکوئر میٹربجلی مہیا کرسکتی ہے۔ شمسی توانائی 5-20واٹس پر اسکوئرمیٹربجلی پیدا کرتی ہے۔ ہائیڈرو پاور (ڈیم)5-50واٹس پر اسکوئرمیٹربجلی بناتا ہے۔ ہوا 1-2واٹس پر اسکوئرمیٹربجلی پیداکرتی ہے۔ لکڑی اور دیگر حیاتیاتی موادسے ایک سے بھی کم واٹ پر اسکوئرمیٹربجلی دستیاب ہوتی ہے۔ غور کیجیے، ہوا کی نسبت شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کی کمیت زیادہ ہے۔ اگر تم شمسی توانائی کے بجائے ہوا سے بجلی پیدا کرنا چاہوگے، توزیادہ زمین درکار ہوگی۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ شمسی توانائی اچھی اور ہوا کی بجلی بُری ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دونوں ذرائع کے اپنے تقاضے اور فوائد ہیں جن پر گفتگوہونی چاہیے۔ اب اگر کوئی تم سے کہے کہ ہوا، سورج، نیوکلئیر وغیرہ سے اتنی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے کہ جتنی ساری دنیا کی ضرورت ہے، توپھر یہ دیکھنا ہوگا کہ ان سب کے لیے کتنی زمین اور گنجائش چاہیے۔

پانچواں سوال، اس سب پر کتنی لاگت آئے گی؟
دنیا جو اتنی گرین ہاؤس گیس خارج کرتی ہے، تو اس کی وجہ موجودہ توانائی ٹیکنولوجیز کا سستا ترین ہونا ہے۔ ہمیں اپنی بہت بڑی ’توانائی معیشت‘ کو’گندگی‘ سے پاک کرنے کے لیے، ٹیکنولوجی کو صفر کاربن کا اہل بنا نا ہوگا، اور اُس کی ایک قیمت ادا کرنی ہوگی۔ کتنی قیمت؟ چند معاملات میں لاگت کا فرق واضح ہے۔ اب اگر ہمارے توانائی کے دونوں صاف اور آلودہ ذرائع موجود ہیں، توہم ان میں موازنہ کرسکتے ہیں۔ اکثر صفر کاربن ذرائع توانائی قدرتی ایندھن کی نسبت بہت مہنگے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے، کہ قدرتی ایندھن سے پہنچنے والے نقصان کی لاگت پر نظر نہیں کی جاتی، اسے شمارنہیں کیا جاتا۔ اس لیے قدرتی ایندھن کے ذرائع اوربھی سستے لگتے ہیں۔ بہت بڑے نقصان کی اس نظر نہ آنے والی لاگت کومیں ”گرین پریمئم“ کہتا ہوں۔
موسمی تبدیلی پر ہر گفتگو کے دوران، گرین پریمئم میرے ذہن میں رہتا ہے۔ اس سے کیا مراد ہے؟ اس کی کوئی ایک صورت نہیں ہے۔ اس کی بہت سی صورتیں ہیں: چند بجلی کی صورت میں ہیں، کئی ایندھن کی شکل میں پائی جاتی ہیں، اورکچھ سیمنٹ وغیر کی صورت میں ملتی ہیں۔ Green Premiumکے حجم کا انحصارمتبادلات میں موازنہ پر ہے کہ آیا تم کس کے بدلے کس ذریعہ کا استعمال کرتے ہو۔ جیسے زیرو کاربن جیٹ فیول اور شمسی توانائی سے پیدا کی جانے والی بجلی کی قیمتیں برابر نہیں ہیں۔ گزشتہ سالوں میں جیٹ فیول کی ریٹیل قیمت $2.22پر گیلن رہی ہے۔ جیٹ طیاروں کے لیے جدید بائیو فیول، کہ جتنا بھی یہ دستیاب ہے، $5.35 پر گیلن ملتا ہے۔ یہاں صفر کاربن فیول کے لیے گرین پریمئم کا مطلب دونوں قیمتوں کا فرق دیکھناہے، جو$3.13بنتا ہے۔ یہ 140فیصد سے زائد ہے۔
چند ایک جگہ، یہ گرین پریمئم منفی بھی ہوسکتا ہے؛ صاف ستھرا ذریعہ توانائی قدرتی ایندھن سے سستا بھی پڑسکتا ہے۔ اس کا انحصارر اس بات پر ہے کہ تم زندگی کہاں بسر کرتے ہو، تم قدرتی گیس کے چولہے کی جگہ الیکٹرک ہیٹ پمپ استعمال کرسکتے ہو۔ آک لینڈمیں اس طرح کا متبادل گھر کو ٹھنڈا اور گرم رکھنے کی لاگت 14 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔ ہوسٹن میں یہ بچت 17فیصد تک ہوجائے گی۔
تم شاید سوچو کہ منفی گرین پریمئم کے ساتھ ایک ٹیکنولوجی پہلے ہی دنیا بھرمیں اپنالی گئی ہے۔ دیکھا جائے تو معاملہ یہی ہے، تاہم اس ٹیکونولوجی کے تعارف اور اس کے اطلاق کے درمیان ایک بُعد ہے۔ ایک بار تم تمام بڑے صفر کاربن امکانات شمارمیں لے آؤ، سنجیدہ متبادلات پرگفتگوکا سلسلہ چل سکتا ہے۔ ہم دنیا کو ہرا بھرا کرنے کے لیے کتنا خرچہ کرسکتے ہیں؟ کیا ہم جدید بائیو فیول خریدنے جارہے ہیں، جوجیٹ فیول جتنا دگنا مہنگا ہے؟ کیا ہم دگنی قیمت میں green cement خرید سکیں گے؟
ویسے جب میں یہ پوچھتا ہوں کہ ہم اس کام میں کتنا پیسہ خرچ کرسکتے ہیں؟ میری اس سے مراد ”ہم“ ساری دنیا ہے۔ یہ محض امریکا یورپ کا معاملہ نہیں ہے۔ ہمیں اسے دھیر ے دھیرے آگے بڑھانا ہے تاکہ سب کاربن فری ہوجائیں۔
میں تسلیم کرتا ہوں کہ گرین پریمئم ایک حرکت پذیر ہدف ہے۔ یہاں تخمینوں پر بہت سے مفروضات ہیں؛ یہاں میں نے بھی وہ مفروضات استعمال کیے ہیں جو مجھے معقول لگے۔ تاہم دیگر باخبر لوگ مختلف مفروضات پیش کرسکتے ہیں۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ گرین ٹیکنولوجی کی قیمت قدرتی ایندھن جتنی کم ہوسکتی ہے یا نہیں، یا اُس کے کچھ قریب بھی پہنچ سکتی ہے یا نہیں۔

مجھے امید ہے گرین پریمئم پر گفتگو کا آغاز ہمیں اُن قیمتوں تک لے جائے گا، جوہمیں صفر کاربن تک پہنچنے میں مدد دیں گی۔ کچھ قیمتیں اتنی بھی زیادہ نہیں کہ جتنا میں نے سوچا تھا۔ میں نے کچھ ایسا حساب کتاب کیا ہے، کہ جس کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ کچھ نہ ہونے سے ہونا بہتر ہے۔ گرین پریمئم اس معاملہ میں فیصلہ سازی آسان کردیتے ہیں۔ یہ ہمارے لیے وقت، توجہ، اورپیسہ کا بہترین استعمال ممکن بناتے ہیں۔ مختلف پریمئم کا جائزہ لے کرہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کون سے ”صفر کاربن“ حل ہم ممکن بناسکتے ہیں، کیونکہ توانائی کے صاف ستھرے متبادلات خاطرخواہ سستے نہیں۔ یہ ہمیں چنداہم سوالوں کے جواب میں مددگار ہوتے ہیں:
ہم صفر کاربن تک پہنچنے کے لیے کون سے ذرائع استعمال کررہے ہیں؟
جواب: وہ ذرائع جوکم گرین پریمئم کے ساتھ ہوں، یا بغیر پریمئم کے ہوں۔ اگر ہم ایسے ذرائع استعمال نہیں کررہے، تو یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ”لاگت“ رکاوٹ نہیں ہے۔ بلکہ رکاوٹ کچھ اور ہے۔ ۔ ۔ جیسے بوسیدہ عوامی پالیسیاں اورکم آگاہی، یہ ہمیں اس سمت آگے بڑھنے سے روک رہی ہیں۔

ہمیں اپنی تحقیق اور لاگت کے لیے کہاں توجہ کرنے کی ضرورت ہے، پہلے سرمایہ کار اور ٹیکنولوجی کے ماہرین موجدین کون ہوسکتے ہیں؟
جواب: جہاں کہیں بھی ہم یہ فیصلہ کرلیں کہ پریمئم بہت زیادہ ہے۔ وہاں ہمیں اضافی خرچہ کرنا ہوگا، اورنئی ٹیکنولوجیز، کمپنیز، اورپراڈکٹس کے لیے رستہ ہموار کرنا ہوگا، تاکہ اشیاء کی لاگت قابل برداشت بنائی جائے۔ وہ ملک جوتحقیق اور ترقی میں آگے ہیں، وہ نئی پراڈکٹس بناسکتے ہیں، ان کی لاگت میں کمی لاسکتے ہیں، اورباقی دنیا کو برآمد کرسکتے ہیں۔ وہ دنیا جو پریمئم ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔
اس طرح کوئی قوم یہ نہیں کہہ سکے گی کہ کاربن کے خاتمہ کی کوششیں یکساں نہیں ہیں۔ بلکہ ہوگا یہ کہ ایسی پراڈکٹس کی پیداوار میں دوڑ لگ جائے گی، اور قوت خریدکے قابل ایسی اشیاء سے بازار بھر جائیں گے، ، جوصفر کاربن تک پہنچنے میں ہماری مدد کریں گے۔
گرین پریمئم کا ایک آخری فائدہ یہ ہے: یہ پیمائش کا ایسا نظام بن سکتا ہے، جو ہم پر ظاہر کرسکتا ہے کہ ”موسمی تبدیلی“ کو روکنے میں ہماری کوششیں کیسی اور کہاں ہیں؟
صفر کاربن تک پہنچنے میں مددگار ممکنہ آلات کی کیا لاگت ہوگی؟ کون سی ایجادات اور جدتیں کتنی اثر انداز ہوسکیں گی؟
گرین پریمئم ان باتوں کا جواب دیتا ہے، صفر تک پہنچنے کی لاگت بتاتا ہے، یہ ایک شعبہ سے دوسرے شعبہ تک الگ الگ حساب کتاب واضح کرتا ہے، اور بتاتا ہے کہ کہاں بہتر ٹیکنولوجی کی ضرورت ہے۔ مگر ایک مسئلہ ہے۔ ہمارے پاس ہر معاملہ میں مساوی گرین متبادل موجود نہیں ہے۔ اب جیسے صفر کاربن سیمنٹ نام کی کوئی شے موجود نہیں ہے۔ اس طرح کی چیزوں میں ہم صاف توانائی کے متبادل کی لاگت کا تعین کیسے کرسکتے ہیں؟
ہم یہ خیالی تجربہ سے سمجھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر”ہم ہوا سے براہ راست کس طرح کاربن کھینچ کر الگ کرسکتے ہیں؟“۔ اس خیال کا ایک نام بھی ہے؛ direct air capture۔ DAC ٹیکنولوجی ڈیوائس ہے جس میں ہم ہوا داخل کریں گے، وہ اس ہوا میں سے کاربن کوجذب کرلے گی اور ہوا صاف ستھری ہوجائے گی، اور تم اُسے ذخیرہ کرسکو گے۔ ڈی اے سی ایک بہت مہنگی اور بڑے پیمانے پر غیر ثابت شدہ ٹیکنولوجی ہے، لیکن اگر یہ بڑے پیمانے پر کام کرگئی، تو یہ ہر جگہ کاربن جذب کرلے گی۔ ڈی اے سی کی ایک فیسلٹی سوئٹزرلینڈ میں آپریٹ کررہی ہے۔
اس طریقہ کار پر کتنا سرمایہ خرچ ہوگا؟ یہ سمجھنے کے لیے ہمیں دو طرح کے ڈیٹا درکار ہوں گے: عالمی اخراج کی مقدار اور اس اخراج کے انجذاب پرلگنے والی لاگت۔ یہ بات ہم جانتے ہیں کہ ہر سال اکاون ارب کاربن اخراج ہوتا ہے۔ اگر ایک ٹن کاربن فضا سے مٹائی جائے، گو کہ اس کی ابھی کوئی مستحکم صورت نہیں بنی، مگریہ کم از کم دوسو ڈالر فی ٹن بنے گی۔ کچھ جدت اور تبدیلی کے ساتھ، میں سمجھتا ہوں کہ سو ڈالر فی ٹن تک کمی کی توقع کی جاسکتی ہے۔
اس کا حساب کچھ یوں بنے گا: 51 ارب ٹن کاربن سالانہ کو100ڈالر سے ضرب دیا جائے، برابر آئے گا 5.1کھرب ڈالر سالانہ۔ دوسرے الفاظ میں، جب تک ہم کاربن خارج کررہے ہیں، DACطریقہ کار پرہر سال 5.1کھرب ڈالرخرچ کیے جائیں گے۔ یہ رقم دنیا کی معیشت کا تقریبا 6 فیصد بنتا ہے۔ یہ بہت بڑا حجم ہے۔ مگر اُس صورتحال سے بہت سستا اور بہتر ہے جودنیا کی معیشت بند کرنے سے ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ ہم کووڈ 19 وبا کے دوران دیکھ چکے ہیں۔
جیسا کہ میں ذکر کرچکا ہوں، ڈی اے سی ٹیکنالوجی ایک خیالی تجربہ ہے، اور یہ ابھی عالمی سطح پرقابل عمل نہیں ہے۔ یہ بالکل واضح نہیں ہے کہ ہم کس طرح اربوں ٹن کاربن کا ذخیرہ محفوظ کرسکتے ہیں۔ ابھی اس کی کوئی عملی صورت موجود نہیں ہے۔ ہر سال پانچ اعشاریہ ایک کھرب ڈالر جمع کرنا بھی سادہ معاملہ نہیں۔ ہر کوئی اپنے حصہ کا سرمایہ دے گا یا نہیں، یا یہ بھی ایک سیاسی لڑائی کی نذر ہوجائے گا!
ہمیں پوری دنیا میں پچاس ہزار ڈی اے سی پلانٹس لگانے کی ضرورت پڑے گی، تاکہ کاربن اخراج پر قابو پایا جاسکے۔ یہ واضح رہے کہ یہ ٹیکنولوجی صرف کاربن پرکام کرتی ہے۔ اس کا میتھین وغیرہ پرکوئی زور نہیں۔ یہ کافی مہنگا سودا ہوگا۔ بہت بہتر یہ ہوگا کہ ہم کاربن اخراج میں کمی لائیں۔

بدقسمتی سے ہم ڈی اے سی سمیت کسی بھی ٹیکنولوجی کی آمد کا انتظار بالکل نہیں کرسکتے۔ ہمیں خود کو محفوظ بنانے کے لیے مسلسل کام کرنا ہوگا۔
پانچ اہم اقدامات کا خلاصہ یہ ہے:
۱۔ ٹنوں اخراج کا اکاون ارب ٹن سے فیصد نکالیں۔
۲۔ یاد رکھیں ہمیں اُن پانچ سرگرمیوں کا متبادل حل ڈھونڈنا ہے جوکاربن اخراج کا سبب ہیں: اشیا سازی، بجلی پیداوار، زرعی سرگرمیاں، ماحول کر گرم ٹھنڈا رکھنا، اورنقل و حرکت
۳۔ کلو واٹ برابر ایک گھر، گیگا واٹ برابرایک عام شہر، سیکڑوں گیگا واٹ برابرایک بڑا امیر ملک
۴۔ یہ سوچنا کہ اپنے کام کے لیے ہمیں کتنی جگہ درکار ہوگی
۵۔ ذہن میں گرین پریمئم رکھنا، اور دیکھنا کہ کس طرح یہ درمیانہ درجے کی آمدنی والے ملک کے لیے قابل برداشت ہوں گے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

اس سلسلہ کا پچھلا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے

اس سلسلہ کا اگلا مضمون اس لنک پہ پڑھیں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply