پوسٹ ماڈرن فیمنزم : ایک تقابلی جائزہ (3) — وحید مراد

0

پوسٹ ماڈرن ازم کاتنقیدی جائزہ:

فیمنزم کے اندر ماڈرن ازم کاظہور فرسٹ ویو کے دوران ہوا۔ اس وقت عورت کےعوامی نوعیت (public sphere) کے حقوق پر زیادہ زور دیا گیا مثلاً تعلیم کا حق، حق رائے دہی، حق ملازمت، سیاسی حقوق اور مساوات وغیرہ۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ ماڈرن ازم کا ورلڈ ویو اصناف کے درمیان مطلق مساوات (absolute equality) کی بات نہیں کرتا بلکہ مرد اور عورت کے درمیان ذیلی نوعیت کے اختلافات کی بات کرتا ہے اس لئے اس ڈسکورس میں عورت کی اس زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کی بات کی گئی جس کا تعلق عوامی سطح سے ہے لیکن انفرادی حقوق کی بات نہیں کی گئی جنکا اطلاق پوسٹ ماڈرن ڈسکورس میں ہوتا ہے۔ پوسٹ ماڈرن فیمنسٹ ورلڈ ویو، ساٹھ اور ستر کی دہائی میں فیمنزم میں شامل ہوا۔ یہ خواتین کی نجی زندگی میں مساوات پر زور دیتا ہےمثلاً صنف، جنسیت، جنسی تعلقات اور سرگرمیاں وغیرہ۔ [i]

پوسٹ ماڈرن فیمنزم کی تحریروں کو عام طورپر ناقابل فہم یا غیر معقول سمجھا جاتا ہے اور یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ یہ کسی مخصوص پڑھی لکھی اشرافیہ کیلئے لکھی جاتی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہےکہ صرف چند ماہرین تعلیم ہی اس میں حصہ لیتے ہیں کیونکہ عام طورپر ان کا اسلوب بہت دقیق اورمشکل اصطلاحات پر مبنی ہوتا ہے جسے عام لوگ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اسکے مقابلے میں فیمنسٹ اسکالر عام فہم سیاسی امور پر زیادہ زور دیتے ہیں۔

کچھ نقادوں کا خیال ہے کہ پوسٹ ماڈرن فیمنزم کی وہ تنقیدی تحریریں جن میں نظریہ لزومیت (essentialism) کو مسترد کیا گیا ہے، پوسٹ ماڈرن فیمنزم کے متبادل اور قابل حل تصورات کے فہم کا فقدان ہے۔ نحوی طورپر دقیق تحریروں کی حیثیت غالب نظم کے پروپیگنڈے سے زیادہ نہیں۔ اس فلسفے میں لسانی طاقت کے ڈھانچے کوتوڑنا محض اسے مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ اس لئے درحقیقت انکی طرف سے نئے معنی پیش کرنے والی تبدیلی کا طریقہ افراتفری سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔

ماہر لسانیات نوم چومسکی کا استدلال ہے کہ پوسٹ ماڈرن ازم بے معنی ہے کیونکہ یہ تجرباتی یا تجزیاتی علم میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتا۔ جب ان ماہرین سے پوچھا جاتا ہے کہ انکی تھیوریز کے اصول کیا ہیں؟ یا وہ کن ثبوتوں پر بنیاد رکھتی ہیں؟ تو اسکے جواب میں جو وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں کیا وہ سب کو پہلے سے معلوم نہیں ہیں؟[ii]

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پوسٹ ماڈرن ازم کی اصطلاح محض ایک لفظی گورکھ دھندا ہے جس کا کوئی مطلب نہیں مثلاً ڈک ہیبج(Dick Hebdige) کہتے ہیں کہ ‘ جب لوگوں کیلئے یہ بات ممکن ہوجاتی ہے کہ وہ کسی کمرے کی سجاوٹ، عمارت کے ڈیزائن، دستاویزی فلم، ویڈیو، ٹی وی کمرشل، فیشن میگزین، تنقیدی جریدے، مابعد الطبیعات پر حملے، عمومی احساس، مایوسی، اضطراب، پیشن گوئی، بیان بازی، ثقافتی، سیاسی اور وجودی بحران، مہابیانیے کی طرف بد اعتقادی، مباحثے کی تشکیل، یکجہتی کے فقدان، ثقافتی معنویت ودرجہ بندی کے خاتمے، جوہری حملوں کی تباہی، یونیورسٹیوں کے زوال، وسیع معاشرتی اور معاشی تبدیلی وغیرہ کے ساتھ ‘پوسٹ’ کا لفظ لگا کر اسے پوسٹ ماڈرن ازم کے طورپر بیان کریں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ہم اسے محض ایک لفظی تکرار(buzzword) کے طورپر استعمال کر رہے ہیں۔ [iii]

بہت سی فلسفیانہ تحریکیں جدیدیت اور مابعدجدیدیت دونوں کو صحت مندانہ وجود کی حیثیت سے رد کرتی ہیں۔ ان میں سے کچھ مابعد جدیدیت کو بنیادی روحانی یا فطری حقائق کی نفی کے طورپر دیکھتے ہیں کیونکہ اسکا سارا زور مادی اور جسمانی خوشی پر ہے جو روحانیت کا صریح رد ہے۔ کچھ نقادمابعد جدیدیدت کے’معروضی سچائی کو ترک کرنے’ کے رجحان کو مسترد کرتے ہوئے ان مہا بیانیوں کی حمایت کرتے ہیں جو سچائی فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔

الیکس کالینیکوس(Alex Callinicos) مابعد جدیدیت کے اسکالرز کو متوسط طبقے کے مایوس انقلابیوں سے موسوم کرتے ہیں اور اسکے خیال میں ان لوگوں کوایک اہم دانشورانہ یا ثقافتی رجحان کے بجائے سیاسی مایوسی اور سماجی نقل و حرکت کی علامت کے طورپر پڑھا جاتا ہے۔ امریکی نقاداور مارکسی سیاسی نظریہ ساز فریڈرک جیمسن(Fredric Jameson) کا مابعد جدیدیت کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ بعد کے دور کےسرمایہ دارانہ نظام کی ثقافتی منطق ہے اور یہ سرمایہ داریت اور عالمگیریت کو فروغ دینے کی خاطر مہابیانیوں سے انکار کرتی ہے۔ یہ انکار، تسلط اور استحصال کے مروجہ تعلقات کا حصہ ہے۔

اسکے مطابق پوسٹ ماڈرن ازم ایک ‘فنون لطیفہ ثقافت Pastiche culture’ ہے جسکی شکل تاریخی حوالے سے’خوش طبع کھیل’ جیسی ہے جس میں اسالیبی جدت (stylistic innovation) ممکن نہیں، اس میں جو کچھ بچا ہے وہ سب کورانہ تقلید ہے جس میں ماسک لگا کر خیالی میوزیم سے صرف آوازیں نکالی جارہی ہیں۔ یہ تخلیقی صلاحیتوں سے عاری صرف حوالہ جات پر مبنی ثقافت ہے۔ بلکہ یہ خود کوئی ثقافت ہی نہیں دیگر ثقافتوں کی مرہون منت اور ملغوبہ ہے۔ اس میں گہرائی کے بجائے صرف سطحیت ہے۔ [iv]

بہت سے نقاد کہتے ہیں کہ پوسٹ ماڈرن صورتحال میں مہابیانیہ(metanarrative) کے کردار پر لائی ٹارڈ (Jean Francois Lyotard) کی تنقید ایک عجیب و غریب حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے۔ لائی ٹارڈ کا ہدف سائنس تھا لیکن انکو خود اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ جب انہوں نے کہا کہ سائنس بہت سے چھوٹے بیانیوں کے مجموعےکی کامیابی پر انحصار کرنے کے بجائے ان مہابیانیوں پر انحصار کرتا ہے جو معاشرتی اور علمی توثیق چاہتے ہیں، تو وہ غلطی پر تھا۔ [v]

1980 کے عشرے کے وسط تک مابعد جدیدیت کی ‘نئی حساسیت’ مایوسی کی ایک صورتحال بن گئی اور لائی ٹارڈ کے مطابق یہ صورتحال مغربی معاشروں میں علمی بحران کا باعث بنی جس میں خدا، مارکسزم، سائنسی ترقی وغیرہ جیسے مہابیانیوں کی طرف ناقابل یقین صورتحال واضح ہے۔ اسٹیون کانر(Steven Conner) کی تجویز ہے کہ لائی ٹارڈ کے تجزیہ کو عصری دنیا میں علمی اور ادارہ جاتی شکل کے تمثیلی رمز (disguised allegory)کے طوپر اور اسکی تشخیص کو محض ایک دانشوارانہ کاوش کے طورپر لیا جاناچاہیے کیونکہ وہ خود بھی اسے ‘بے اختیار دانشوروں کی خودساختہ بہادری'(intellectual’s negative heroism) سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے۔ [vi]

ای ان چیمبرز(Iain Chambers) کے بقول مابعد جدیدت پر ہونے والی بحث کو جزوی طورپر پچھلے مراعات یافتہ ڈومین میں پاپولر کلچر، اسکی جمالیات اورتسکین کے امکانات کی علامات کے طورپر سمجھا جا سکتا ہے۔ نظریاتی اور علمی ڈسکورس کا مقابلہ کلچرل پروڈکشن اور علم کے وسیع، غیر منظم، پاپولر نیٹ ورک کے ذریعہ کیا جاتا ہے جس میں علم کی تعبیر و تشریح اورابلاغ کے دانشورانہ استحقاق کو خطرہ لاحق ہے۔ [vii]

انجیلا میکروبی(Angela Mcrobbie) کا کہنا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کی آواز تاریخی طورپر ماڈرنسٹ طلسماتی مہابیانیہ کے نیچے دب گئی تھی اور اسکے نتیجے میں یہ پدرسری اور سامراج کی شکل اختیار کر گئے۔ یہ دانشوروں کی ایک نئی نسل اور نئی تنظیم ہے جومختلف پوزیشن، نسل، آواز، صنف، طبقہ اور جنسی ترجیح کی نمائندگی کرتی ہے۔ [viii]

مین اسٹریم فیمنزم اور پوسٹ ماڈرن فیمنزم کا اختلاف:

مابعد جدیدیت اور پوسٹ ماڈرن فیمنزم کے حوالے سے ایک خاص بات یہ ہے کہ اس پر زیادہ تر کام فرانسیسی مفکرین نے کیا۔ برطانیہ اور امریکہ کے نسائی ماہرین سیاسی، سماجی وثقافتی اداروں اور پریکٹس کو عورت کے جبر اور استحصال کی وجہ قرار دیتے ہوئےہدف تنقید بناتے ہیں اور مین اسٹریم فیمنسٹ تحریک عورت کو ظلم سے نجات دلانے کیلئے سیاسی جدوجہد، حصول اقتدار اور قانونی اصلاحات کی حکمت عملی اپناتی ہے۔ لیکن فرانسیسی اسکالرز کی اپروچ مختلف ہے اور وہ اس بوژوا منطق و حکمت عملی کو مسترد کرتے ہیں۔ وہ فیمنزم کے حوالے سے اپنے کام کو زبان کے باہمی تعاملات، نفسیاتی و ثقافتی تجزیے اور فلسفیانہ موضوعات تک محدود رکھتے ہوئے ان مابعد الطبیعاتی تصورات اورمسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جو استحصال کرنے والے اداروں اور معاشرتی پریکٹس کے پس منظر میں کارفرما ہیں۔

پوسٹ ماڈرن فیمنسٹ اسکالر جولیا کرسٹیوا کے نزدیک جنسیت اور نسوانیت صرف عورت تک مخصوص نہیں۔ اسکے مطابق تاریخی مراحل کے دوران نسوانی تجربات نفسیاتی طورپر عورت کےلاشعور کا حصہ بن جانے کی وجہ سےعلامتی طورپر صرف اس سے مخصوص ہو گئے ورنہ نسوانیت اور مردانگی میں کوئی ثنائی مخالفت(binary opposition) نہیں پائی جاتی بلکہ یہ دونوں صفات ہر فرد میں بیک وقت تھوڑے فرق کے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ اسکے نزدیک مرد اور عورت کی اصطلاحات مابعد الطبعیاتی نوعیت کی ہیں اس لئے ان میں پایا جانے والا فرق صرف علامتی نوعیت کا ہے۔

جولیاکرسٹیوا، عورت کے’ماں بننے’ والے کردار پر زیادہ زور دیتی ہے اور اسی پر یورپ اور امریکہ کے دیگر نسائی ماہرین کو سب سے زیادہ اعتراض ہے۔ ان کے نزدیک یہ مردانہ تسلط کی نشانی ہے جبکہ کرسٹیوا کے تجزیے میں ماں کا کردار ایک ایسا فریم ورک مہیا کرتا ہے جس میں عورت کی نسوانی خصوصیات کے ساتھ ساتھ مرد و زن کی باہمی شراکت داری اور ایک دوسرے کی اعانت کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے۔ کرسٹیوا کے ‘سماجی، علامتی، اشارتی تجزیےSocio symbolic signifying order ‘میں ماں کے کردار کی اس لئے بھی مرکزی اہمیت ہے کہ ماں کی کوکھ ہی تمام معاشرتی اور سماجی رشتوں کی بنیاد ہے اور ماں کی گود ہی فطرت، حیاتیات، عمرانیات اورثقافت کے درمیان پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ [ix]

کرسٹیوا کے نزدیک جنسی موضوعیت میں زچگی، جنسی استحکام کی نشاندہی کرنے والا ماورائی عمل ہے۔ وہ فرائیڈ کے اس تصور کو مسترد کرتے ہوئے محض ایک وہم قرار دیتی ہے جس کے مطابق زچگی کا کردار مردانہ ‘عضو تناسل کی حسد penis envy’ کو مطمئن کرنے کا عمل یا’محرک مقعد anal drive’ ہے۔ کرسٹیوا کے نزدیک باپ کے کسی بھی قسم کے کردار سے قبل زبان سیکھنے اور سماجی کاری کے عمل کی بنیاد ماں کی گود ہوتی ہے۔ کرسٹیوا کی تجویز ہے کہ ہمیں ماں کے ایک ایسے ماڈل کو اپنانے کی ضرورت ہے جو سماجی رشتوں کے عمل کو مضبوط بناتے ہوئے خواتین کو ایسی شناخت فراہم کر سکے جس میں انہیں ملازمت اور زچگی کے درمیان کسی ایک چیز کے انتخاب کی ضرورت محسوس نہ ہو بلکہ وہ نسل انسانی کی تخلیق(producer of species) اور ثقافت کی تخلیق (producer of culture)کے دونوں کرداروں کو بیک وقت نبھا سکیں۔ [x]

اسکے نزدیک مرد اور عورت کی شناخت اگر ایک دوسرے کے مقابل میں نظر آتی ہے تو اسکی بنیاد محض مابعد الطبعیاتی تصورات کے اختلاف پر ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس ڈھانچے کی داخلیت (internalization)پر نظر رکھیں اور اپنی شناخت کو سماجی علامتی معاہدے(socio symbolic contract) کے اندر تلاش کریں تاکہ ہمیں حملہ آور(attacker) اور شکار(victim) کی صفات ایک ہی وجود کے اندر نظر آئیں۔ [xi]

کرسٹیوا کے بقول آج کی فیمنسٹ تحریک مارکسزم کی طرح طاقت اور انسداد طاقت (power ad counter power)کے ٹریپ میں پھنس چکی ہے۔ یہ ایک طرف آفاقی اور عالمگیر بیانیے کو مسترد کرتی ہے لیکن دوسری طرف خود مرکزی طاقت بننے کی خواہاں ہے۔ بڑے پیمانے پر عوام کو متاثر کرنے والی سیاسی نقل و حرکت سے پائیدار ثقافتی ادارہ جاتی تبدیلی لانا ممکن نہیں اس کے بجائے مائیکروسکوپک انداز کی انفرادی اورمقامی کوششیں زیادہ بارآور اور سود مند ہو سکتی ہیں۔ کسی قائم شدہ معاشرتی نظم کو عالمی سطح پر چیلنج کرنا، اسکے خلاف بغاوت کرنا، اسے شکست دینا یا گرانے کی کوشش کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے کیونکہ بعض اوقات ہم بڑے پیمانے پربرائی کا مقابلہ کرتے ہوئے خود اسکے فروغ کا باعث بن جاتے ہیں۔ [xii]

اختتام ۔ ۔ ۔
اس مضمون کا پہلا حصہ اس لنک پہ    اور   دوسرا حصہ اس لنک پہ پڑھیں


References

[i] Karim, M., Hafiz (2019) “ Modernism and Postmodernism in Feminism: A conceptual study on the developments of its definition, waves and school of thought” Retrieved from https://media.neliti.com/media/publications/322585-modernism-and-postmodernism-in-feminism-a5f539e4.pdf

[ii] Chomsky, Noam (1995) “Postmodernism” discussion at LBBSS, Z-Magazine’s Left On-Line Bulletin Board. Retrieved from http://bactra.org/chomsky-on-postmodernism.html

[iii] Hebdige, Dick (1994) “Postmodernism and the other side” Retrieved from http://www.micheleleigh.net/wp-content/uploads/2015/01/Postmodernism-and-the-Other-Side-by-Hebdige.pdf

[iv] Jr., John Burt Foster (1992) “Reviewed work: Postmodernism, or, The Cultural Logic of Late Capitalism by Fredric Jameson” Retrieved from https://www.jstor.org/stable/44366856?seq=1

[v] “Metanarrative” New world Encyclopedia. Retrieved from https://www.newworldencyclopedia.org/entry/metanarrative

[vi] Conner, Steven (1989) “Postmodernist Culture: an introduction to theories of the contemporary.” Retrieved from https://openlibrary.org/books/OL24754018M/Postmodernist_culture

[vii] Chambers, Iain (2003) “Popular Culture: The Metropolitan Experience” Retrieved from https://books.google.co.in/books?id=XLQ6cN9GUbEC&printsec=frontcover&source=gbs_ge_summary_r&cad=0#v=onepage&q&f=false

[viii] McRobbie, Angela (1994) “Post Modernism and Popular Culture” Retrieved from http://citeseerx.ist.psu.edu/viewdoc/download?doi=10.1.1.468.308&rep=rep1&type=pdf

[ix] Kristeva, Julia (2005) “Motherhood today” Collection. Retrieved from http://www.kristeva.fr/motherhood.html

[x] Kristeva, Julia (2005) “Motherhood today” Collection. Retrieved from http://www.kristeva.fr/motherhood.html

[xi] Crowell, Steven (2010) “Existentialism” Stanford Encyclopedia of Philosophy. Retrieved from https://plato.stanford.edu/entries/existentialism/

[xii] Crowell, Steven (2010) “Existentialism” Stanford Encyclopedia of Philosophy. Retrieved from https://plato.stanford.edu/entries/existentialism/

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply