پوسٹ ماڈرن فیمنزم : ایک تقابلی جائزہ (ا) — وحید مراد

0

پوسٹ ماڈرن فیمنزم، پوسٹ اسٹرکچرل ازم، پوسٹ ماڈرن ازم اور فرنچ فیمنزم کا مجموعہ ہے۔ اسکے صحیح فہم کیلئے وجودیت، ساختیات، پس ساختیات، جدیدیت، پس جدیدیت، پوسٹ ماڈرن نظریہ علم (epistemology)، لبرل فیمنزم اور ریڈیکل فیمنزم کے عمومی تصورات اور پس منظر جانناضروری ہے کیونکہ پوسٹ ماڈرن فیمنزم میں ان سب کا عمل دخل ہے۔

وجودیت(Existentialism):

وجودیت فلسفیانہ انکوائری کی ایک ایسی شکل ہے جو کسی شخص کے سوچنے، محسوس کرنے اور عملی تجربات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئےانسانی وجود کی معنویت، مقصد اور قدر سے متعلق امور کا کھوج لگاتی ہے۔ وجودی فلاسفہ کے مطابق کسی فرد کا نقطہ آغاز ‘وجودی کربthe existential angst’ یا خوف کے احساس پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ ایک طرح سے بے معنی اور مضحکہ خیز دنیا کے مقابلے میں بدنظمی، الجھن یا پریشانی کا سامنا کرنے والی صورتحال ہے۔ سورن کیارکیگارڈ (Soren Kierkegaard) کو عام طورپر پہلا وجودی فلسفی سمجھا جاتا ہے۔ انکی تجویز تھی کہ ہر فرد (نہ کہ معاشرہ اور مذہب) زندگی کو معنی دینے، اسے مکمل جذبات اورمخلصانہ صداقت کے ساتھ گزارنے کا پوری طرح ذمہ دار ہے۔ اس ثقافتی و فلسفیانہ تحریک نے فلسفے کے علاوہ الہیات، آرٹ، ادب اور نفسیات کو بھی متاثر کیا۔ یورپ میں چالیس اور پچاس کے عشرے میں یہ تحریک فلسفی ژان پال سارتر (Jean-Paul Sartre)، سیمون دی بووا (Simone de Beauvoir)، مورس مرلیو پونٹی (Maurice Merleau Ponty) اور البرٹ کیمی (Albert Camus) کے فلسفیانہ کام سے وابستہ ہے۔ [i]

ساختیات (Structuralism):

ساختیات ایک عمومی نظریہ اور منہاج ہے۔ اس کا استدلال ہے کہ انسان کی پیچیدہ ثقافتی زندگی کے عناصر کو صرف وسیع تر نظام تعلقات و تعاملات کے ذریعے ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ ان تعلقات کی ظاہری سطح پر تغیرات (local variations)نظر آتے ہیں لیکن ان کے پس منظر میں قائم تجریدی اسٹرکچر (abstract structure) مستقل قوانین کے پابند ہوتے ہیں۔ یہ اسٹرکچرز انسان کے سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کے ہر کام میں پائے جاتے ہیں اور ان کا اطلاق بشریات، معاشیات، عمرانیات، نفسیات اور ادبی تنقید وغیرہ میں ہوتا ہے۔ ایک فکری تحریک کے طورپرساختیات، وجودیات کی وارث ہے۔ فرانسیسی ماہر بشریات کلاڈ لیوی اسٹراس (Claude Levi Strauss) ساختیات کا پہلا اسکالر ہے، اسکے بعد ماہر لسانیات رومن یاکبسن (Roman Jakobson) اور ماہر نفسیات جاک لاکن (Jaques Lacan) کو ساختیات میں خصوصی دلچسپی تھی۔ [ii]

پس ساختیات(Post-Structuralism)، ساختیات کا رد ہے۔ اگرچہ پس ساختیات کے تمام نقادوں کی تنقید مختلف ہے لیکن ان میں کچھ مشترکہ موضوعات بھی ہیں جن میں ساختیات کی خود پرستی (self sufficiency) کا انکار، ثنائی مخالفت (binary opposition) کی تحقیق، معاشرے کے پہلے سے تعمیر شدہ ڈھانچوں کی نمائندگی اور ترجمانی کرنے والے تصورات پر تنقید شامل ہیں۔ [iii]

جدیدیت(Modernism) :

جدیدیت ایک فلسفیانہ اور ثقافتی تحریک ہے جو انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں مغربی معاشرے میں وسیع تر تبدیلیوں کے نتیجے میں ظاہر ہوئی۔ اس تحریک نے آرٹ، فلسفہ اور سماجی تنظیم کی نئی شکلوں کے تحت تخلیق کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے ابھرتی ہوئی صنعتی دنیاکی عکاسی کی۔ اس میں روایت سےعلیحدگی، دیہی کے بجائے شہری زندگی، ہر شعبہ میں ٹیکنالوجی کا استعمال اور جنگ کی خصوصیات شامل ہیں۔ جدیدیت نے حقیقت پسندی (Realism)، روشن خیالی (Enlightenment) اور مذہبی عقیدے کو مسترد کیا۔ مغرب میں جو لوگ جدیدیت کو معاشرتی ترقی کےطور پر دیکھتے ہیں ان کےخیال میں یہ سائنس، ٹیکنالوجی اور عملی تجربات کے ذریعے نئے ماحول کی تخلیق کرنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔ اس نقطہ نظر سے جدیدیت، تجارت سے لیکر فلسفہ تک، وجود انسانی کے ہر اس پہلو کی حوصلہ افزائی کرتی ہے جسکا مقصد مادی ترقی ہو۔ اس لحاظ سے جدیدیت ایک وسیع ثقافتی، معاشرتی اور سیاسی اقدام کے طورپر سامنے آتی ہے۔ جدیدیت پسند مفکرین میں چارلس ڈارون، فرائیڈ، البرٹ آئن اسٹائن، نٹشے، برگساں، ورجینا وولف، ٹی ایس ایلیٹ اور کئی دیگر شامل ہیں۔ [iv]

مابعد جدیدیت(Postmodernism) :

مابعد جدیدیت ایک وسیع تحریک ہے جو بیسویں صدی میں فلسفہ، فنون لطیفہ، فن تعمیر، معاشیات، لسانیات، فلسفہ سائنس، فیمنسٹ تھیوری اور ادارہ جاتی تنقید کے میدانوں میں جدیدیت سے علیحدگی کی نشاندہی کے طورپر سامنے آئی۔ مابعد جدیدت کی تعریف عام طور پر تشکیک (skepticism) اور جدیدیت سے منسلک مہابیانیہ (grand narratives and ideologies) کے رد کے طورپر کی جاتی ہے۔ اس میں روشن خیالی، عقلیت پسندی اورسیاسی و معاشی طاقت کو برقرار رکھنے والے نظریات کے کردار پر تنقید کی جاتی ہے۔ مابعد جدید مفکرین اکثر علمی دعووں (knowledge claims) اور اقداری نظام(value systems) کو سیاسی، معاشی اور ثقافتی درجہ بندی (hierarchies) و ڈسکورس سے مشروط یا اسکی پیداوار قرار دیتے ہیں۔ اسکی تنقید میں معروضی حقیقت کے آفاقی تصورات، اخلاقیات، سچائی، انسانی فطرت، سائنس، عقلیت، معاشرتی ترقی، خود شعوری و خود پسندی کے رجحانات، علمی واخلاقی اضافیت (epistemological and moral relativism)، تکثیریت (pluralism) اور عدم استحکام (irreverence) شامل ہیں۔ [v]

ساٹھ کے عشرے میں فرانسیسی مورخ اور فلسفی مشیل فوکو (Michel Foucault)، فلسفی یاک ڈریڈا (Jacques Derrida)، مارکسی فلسفی لوئس التھاسر (Louis Althusser) اور ادبی نقاد رولینڈ بارٹس (Roland Barthes) نے ساختیات پر تنقید کی اور پوسٹ اسٹرکچرلسٹ (Post-Structuralists) کہلائے۔ بعد کے اسکالرز میں جیلس ڈیلوز (Gilles Deleuze)، جوڈتھ بٹلر(Judith Butler)، جین برڈل یارڈ (Jean Baudrillard)، جولیا کرسٹیوا (Julia Kristeva)، جرجن ہیبر ماس (Jurgen Habermas) اور ژان فرینسوالائی ٹارڈ (Jean-Francois Lyotard) شامل ہیں جنہوں نے ساختیات اور جدیدیت پر تنقید کی۔

ژان پال سارتر(Jean-Paul Sartre) کا مشہور جملہ ہے کہ ‘وجود جوہر سے پہلے ہےexistence precedes essence’ یعنی جوہر یا چیزوں کے معنی خدا کی طرف سے نہیں دئے گئے بلکہ یہ انسان کی تدبیر ہے۔ کسی حتمی قوت یا معنی کا وجود نہیں ہوتا، ہم خود آگے بڑھ کر چیزوں کو معنی دیتے ہیں۔ سارتر کے اس وجودی نظریہ (existentialist view)کے مطابق ہم چیزوں کو اپنی پسند کے معنی دینے میں آزاد ہیں اور جب ہم اپنی اس ضروری آزادی کو قبول نہیں کرتے تو ہم برے عقیدے (bad faith) سے کام لے رہے ہوتے ہیں۔ سارتر کے ناقدین نے فرد کی زندگی میں معاشرتی توقعات کے حوالے سے سوال اٹھایا کہ کیا واقعی ہم سب کو مکمل آزادی حاصل ہے؟

نظریہ ساختیات (structuralism )کے حامیوں مثلاً کلاڈ لیوی اسٹراس (Claude Levi-Strauss) نے سارتر کے نقطہ نظر پر تنقید کرتے ہوئےکہا کہ زبان کی مجموعی ساخت ہمیں معاشرتی ڈھانچے کے بارے میں بتاتی ہے۔ انسانی تعلقات اور ثقافت کے اصول، بائنری مخالفت (binary oppositions) مثلاً اچھا-برا، مرد-عورت، اوپر-نیچے پر مبنی ہوتے ہیں۔ ان بائنریز (binaries) پر مشتمل زبان سیکھتے وقت، کوئی بھی شخص اس قید سے باہر سوچنے پرآزاد نہیں ہوتا۔

سیمون دی بووا (Simone de Beauvoir) نے اپنی کتاب ‘Second Sex’ میں کہا کہ ‘ہم سب ایک ایسی دنیا میں رہائش پذیر ہیں جس کی تعریف (definition) مردوں کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس میں عورتوں کو’دگرother’ سمجھا جاتا ہےیعنی انہیں مردں کی طرح نارمل نہیں سمجھا جاتا۔ سیمون دی بووا کے مطابق اس معاشرے کی کوئی عورت بھی اپنی آزادی سے اس تعمیر (construction) سے باہر کوئی عمل نہیں کر سکتی۔ [vi]

اسی طرح مشل فوکو (Michel Foucault) نے اپنی کتاب ‘The Order of Things’ میں چین کے انسائکلوپیڈیا کے حوالے سے جانوروں کی مختلف اقسام بیان کرتے ہوئے کہا کہ ‘اس درجہ بندی میں ہماری غیر معمولی توجہ کا اصل مرکز وہ ‘حد’ ہے جس سے آگے ہم سوچ نہیں سکتے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ زمرے (Categories) کب بامعنی اور کب بے معنی ہوتے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس بدلتی ہوئی دنیا میں وقت کے ساتھ کس طرح علم کے ڈھانچے (structure of knowledge) کی معنویت بھی تبدیل ہوتی ہے۔ جدیدیت، ہرچیز کا احاطہ کرتے ہوئے قریب آرہی ہے اورانسان ایسے مٹ جائے گا جیسے سمندر کے کنارے ریت پر بنا ہوا چہرہ مٹ جاتا ہے’۔

سارتر کی انسانیت پسند جدیدیت (humanist modernism) انسان کو مرکزی حیثیت دیتی ہے اور سمجھتی ہے کہ خدا ختم ہو گیا ہے (God is dead) لیکن مشل فوکو اسکے برعکس کہتا ہے کہ انسان ختم ہوگیا (Man is dead)۔ [vii]

یاک ڈریڈا (Jacques Derrida) نے بھی ہر چیز میں لزومیت (essentialism) کو مسترد کیا۔ ڈریڈا کا واحد سچائی (single truth) کو رد کرنے کا نظریہ پوسٹ ماڈرن فیمنزم کی تفہیم کیلئے بہت اہم ہے۔ اسکے نزدیک معنی کے تلاش بے معنی ہے۔ ہمارے لئے سب سے زیادہ آزادی کی بات یہ ہو سکتی ہے ہم اپنے خیالات کو ثنائی مخالفت (binary opposition) مثلاً مرد-عورت، فطرت-ثقافت، تقریر-تحریر وغیرہ سے آزاد کر لیں۔

ڈریڈا کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ‘کچھ بھی متن کے باہر نہیں ہوتاnothing is outside the text’۔ یعنی ہمارے حد علم (epistemology) اورترجمانی کرنے والے نظام فکر (discursive system of representation) سے باہر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ ہم صرف اتنا ہی جان یا سوچ سکتے ہیں جس حد تک نظام فکر میں اسکی نمائندگی کی جا رہی ہو۔

ڈریڈا، ڈی کنسٹرکشن (deconstruction) تھیوری کی وجہ سے مشہور ہےاور یہ اصطلاح اس نے مارٹن ہاڈیگر (Martin Heidegger) سے مستعار لی۔ اس میں کسی روایت کا مطالعہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے اس بنیاد کو معلوم کیا جائے جس پر وہ روایت کھڑی ہے۔ اس نظریہ کے مطابق ‘فرق’ ہمیشہ کسی بھی تھیوری کی تشکیل کے مرکز میں پایا جاتا ہے خواہ وہ کوئی سائنسی ماڈل ہو یا تجزیاتی طریقہ کار۔ کسی بھی ماڈل یا تجزیاتی طریقہ کار کی قائم کی جانے والی بنیادیں قدرتی یا فطری نہیں ہوتیں بلکہ وہ کسی خاص تاریخی تناظر میں انسان کی تشکیل کردہ ہوتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نظریاتی تعمیرات (theoretical constructions) دراصل عملی ہتھیار (pragmatic tools) ہوتے ہیں جو ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ جب ہم کسی ایک طریقےکو اپناتے ہیں تو کسی دوسرے کو ترک کررہے ہوتے ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ترک کئے جانے والا طریقہ، اپنائےجانے والے طریقےجتنا ہی قیمتی ہو۔ اس لئے ہمارے اپنائے جانے والے طریقہ کار کی بنیاد پر پیش کئے جانے والے نظریے کی سچائی (truth) صرف اس حد تک مبنی بر حقیقت ہوگی جس حد تک وہ نظریہ فطرت کا آئینہ دار (mirror image of nature) ہوگا۔

ڈریڈا کی ڈی کنسٹرکشن تھیوری اس ثنائی اختلاف(binary opposition) کا پتہ لگاتی ہے جو کسی بھی نظریہ کے غیر مستحکم مرکز کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح کسی بھی منہاج کے بارے میں ہماری تشکیک میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسکے مطابق اختلافات کو خالص بنیادی حقیقت کے طورپر نہیں لیا جانا چاہیے بلکہ یہ محض تعمیرات (constructions) ہوتی ہیں۔ حتیٰ کہ اس نظریہ کے ماننے والوں کیلئے ‘قدرتیnatural’ بھی فطری کے بجائے تعمیر ہی ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر کچھ نسائی ماہرین جس عمل اور طریقہ کارکو ‘فطری ولادتnatural birth’ کہتے ہیں وہ بھی خواتین کو قائل کرنے کیلئے صرف ایک خالص تجربے کی وضاحت کرتا ہے۔ اس طریقہ کار اورہسپتال میں بچے کی پیدائش کے عمل میں معمولی فرق ہے لیکن دونوں تعمیر شدہ تصورات ہی ہیں۔ دونوں کے فرق کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک میں جدید آلات کا استعمال ہوتا ہے اور دوسرا عمل ان آلات کے بغیر تکمیل پاتا ہے۔ جو نسائی ماہرین قدرتی ولادت کے عمل کو قبول کرتے ہیں وہ فطرت کے بجائے ثقافتی استحقاق کو ثقافت سے ہی تبدیل کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس عمل میں مشکل یہ پیش آتی ہے کہ دونوں تصورات باہم الجھ جاتے ہیں اور بنیادی طورپرکسی ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دی جا سکتی کیونکہ ہر ایک اپنے مقصد کی خدمت بجا لاتا ہے۔ ڈریڈا کی تھیوری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فیمنزم اور پدرسری نظام دونوں یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ ان کا نظریہ فطری بنیادوں پر قائم ہے۔ وہ اسکے قدرتی ہونے کا دعویٰ کریں یاثقافتی ہونے کا۔ ۔ ۔ مگر دونوں تعمیرات ہیں فطری نہیں۔ [viii]

فرانسیسی فلسفی ژان فرینسوالائی ٹارڈ (Jean Francois Lyotard) مابعد جدیدیت کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ وہ اپنی کتاب ‘The Postmodern Condition: A Report on Knowledge ‘ کے تجزیہ میں مابعد جدید معاشرے میں علم کے تصور کو مہابیانیہ (metanarrative) کا اختتام بتاتے ہوئے اسے جدیدیت کی متنازعہ خصوصیت قرار دیتا ہے۔ لائی ٹارڈ کی یہ کتاب دراصل سائنس و ٹیکنالوجی کے اثرات پر ایک رپورٹ ہے جوبہت مقبول ہوئی لیکن بعدازاں لائی ٹارڈ نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ اسے سائنس کے بارے میں مکمل معلومات نہیں تھیں اور اسکی یہ تصنیف کوئی اعلیٰ پایے کا کام نہیں۔

لائی ٹارڈ جن نظریات کو مہابیانیہ قرار دیتے ہوئے ان پر تنقید کرتا ہے ان میں تجزیاتی طریقہ کار یا نظریہ تخفیف (reductionism)، انسانی تاریخ کا نظریہ علت و غایت (teleological notion)، مارکسزم، روشن خیالی، سائنس، کمپوٹر اور مواصلات کی ترقی کو بغیر علمی دلیل کے ثابت شدہ ماننا وغیرہ شامل ہیں۔ پچاس کے عشرے کے آخر میں مغربی یورپ میں مصنوعی ذہانت (artificial intelligence)، مشینی ترجمہ کی تکنیک، مہارتیں اور علامات صنعتی و معاشی ترقی اور اسکے نتیجے میں تشکیل پانے والے پوسٹ ماڈرن کلچر میں مرکزی عناصر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ زبان کی کثرتیت (plurality of language) کے بارے میں مختلف دلائل سامنے آئےاورسائنس میں سچائی کا ہدف سرمایہ یا ریاست کی خدمت، استعداد (efficiency) اور کارکردگی (performativity) سے تبدیل ہو گیا۔ سائنس اب ایسے انتشاری نظریات (chaos theory) پیش کر رہا ہے جو متضاد نتائج (paradoxical results) پیدا کر تےہوئے سائنس کے مہابیانیہ (grand narrative) کو مجروح کرتے ہیں۔ لائی ٹارڈ کی تجویز ہے کہ اس صورتحال میں مہابیانیہ کے استبداد (totalitarianism of grand narratives) کی جگہ ایک دوسرے سے مسابقت کرنے والے چھوٹے بیانیوں کی کثرتیت (plurality of small narratives) کو ترجیح ملنی چاہیے۔ [ix]

اس مضمون کا دوسرا حصہ اس لنک پہ پڑھیں

:References

[i] Crowell, Steven (2010) “Existentialism” Stanford Encyclopedia of Philosophy. Retrieved from https://plato.stanford.edu/entries/existentialism/

[ii] Calhoun, Craig, ed. 2002. “Structuralism.” In Dictionary of the Social Sciences. Oxford: Oxford University Press. Retrieved from https://www.oxfordreference.com/search?q=structuralism&searchBtn=Search&isQuickSearch=true

[iii] Harcourt, Bernard E. (12 March 2007). “An Answer to the Question: “What Is Poststructuralism?” Retrieved from https://chicagounbound.uchicago.edu/cgi/viewcontent.cgi?article=1029&context=public_law_and_legal_theory

[iv] Sherry, Vincent “Introduction: A History of Modernism” Retrieved from https://www.cambridge.org/core/books/cambridge-history-of-modernism/introduction-a-history-of-modernism/EFDF0495ECF5A25A1683D4C8B9167C64/core-reader

[v] Aylesworth, Gary (2015. “Postmodernism” the Stanford Encyclopedia of Philosophy. Retrieved from https://plato.stanford.edu/archives/spr2015/entries/postmodernism

[vi] De Beauvoir, Simone (1972) “The Second Sex” translated by H M Parshley. Retrieved from https://www.marxists.org/reference/subject/ethics/de-beauvoir/2nd-sex/index.htm

[vii] Foucault, Michel (1970) “The Order of Things” Retrieved from https://is.muni.cz/el/1423/jaro2013/SOC911/um/Michel_Foucault_The_Order_of_Things.pdf

[viii] Hansen, Jennifer (2013) “Continental Feminism” Stanford Encyclopedia of Philosophy. Retrieved from https://plato.stanford.edu/archives/spr2015/entries/femapproach-continental

[ix] Anderson, Perry (1998). The Origins of Postmodernity. London/New York: Verso, pp. 24–27. Retrieved from https://www.worldcat.org/title/origins-of-postmodernity/oclc/40048590

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply