ساحر، فراز اور گیت نگار مسرور انور کی شاعری کا ایک تقابلی جائزہ —- انوار احمد

0

فراز کی نظم “پیغام بر” واقعی کمال ہے اور آج کے تناظر میں پوری اترتی ہے۔ فراز کی شاعری ہمیشہ سے میرے دل سے بہت قریب رہی خاص طور سے انکی نظم “محاصرہ” ایک آمر کے دور میں لکھا جانے والا ایک انقلابی پیغام ہے۔ اسی طرح فراز کے بے شمار غزلیں نہ صرف رومان انگیز ہیں بلکہ عہد حاضر کے سماجی دشواریوں۔ طبقاتی جدوجہد اور فکری جمود پر بھی کاری وار کرتی نظر آتی ہیں۔۔۔

فراز کی نظم “پیغام بر” میں پہلے بھی پڑھی چکا تھا اس بار میں نے اسے بار بار پڑھا اور یہ بات بہت دیانتداری سے کہوں گا کہ یہی موضوع اور تقریبا یہی بات اسی زمین میں ساحر برسوں پہلے اپنی کئی نظموں اور غزلوں میں کر چکے تھے۔۔۔

فراز نے اپنی نظم پیغام بر میں ریت کے ٹیلوں اور سایہ ابر گریزاں کی اصطلاح کو اسطرح استعمال کیا۔۔

ریت کے تپتے ہوئے ٹیلوں پہ ایستادہ ہو تم
سایۂ ابرِ رواں کو دیکھتے رہنا تمہارا جزوِ دیں۔۔

اسی موضوع اور انہی اصطلاحات کو ساحر نے کس انداز سے اپنے ایک شعر میں رقم کیا۔۔

” ریگزاروں میں بگولوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔
سایہ ابر گریزاں سے مجھے کیا لینا۔۔۔ ”

فراز نے ” پیغام بر ” میں کہا۔۔۔

من و سلویٰ کے لئے دامن کشا
قحط خوردہ زار و بیمار و حزیں۔

ساحر نے یہی بات برسوں پہلے اسطرح کی تھی۔۔۔
من و سلوی کا زمانہ جا چکا۔۔
بھوک اور آفات کی باتیں کریں۔۔

میرے کہنے کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ میں کسی بھی طور فراز کو ادبی سرقہ کا مرتکب ٹھراتا ہوں۔ اکثر شاعر دوسرے شاعر کے خیالات اور موضوع سے متاثر ہوکر اسی زمین میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ایسا اساتذہ کی شاعری میں بھی ہوا ہے۔ لیکن یہ بات بھی ضرور کہونگا کہ فراز کی بہت سی نظموں اور غزلوں میں ساحر کا رنگ ضرور نظر آتا ہے۔۔

ادبی سرقے کی ایک بڑی مثال فلمی گیت نگار مسرور انور کا مشہور گانا جو فلم دوراہا میں شامل تھا اور اسے مرحوم احمد رشدی نے کیا خوب گانا اور بہت ہٹ بھی ہوا۔ اسکے چند بول کچھ اسطرح تھے۔۔

” جب پیار میں دو دل ملتے ہیں
میں سوچتا ہوں
انکا بھی کہیں میری طرح انجام نہ ہو
انکا بھی جنوں ناکام نہ ہو۔۔”

مسرور انور نے اس گیت میں ساحر کی پوری کی پوری لائن اور مصرعے ہی چھاپ دیئے جو میرے نزدیک یقینا” ادبی خیانت کے زمرے میں آتا ہے۔۔۔
اب دیکھیں ساحر نے اسی خیال کو اپنی ایک طویل نظم “پرچھائیاں ” میں کس خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔۔۔

” سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے ابتک یاد مجھے۔۔
چاہت کے سنہرے خوابوں کا انجام ہے ابتک یاد مجھے۔
آج جب ان پیڑوں کے سائے تلے پھر دو سائے لہرائے ہیں۔
پھر دو دل ملنے آئے ہیں۔
میں سوچ رہا ہوں انکا بھی اپنی ہی طرح انجام نہ ہو۔
ان کا بھی جنوں نا کام نہ ہو۔۔
انکے بھی مقدر میں لکھی۔ ایک خون میں لتھڑی شام نہ ہو۔
سورج کے لہو میں لتھڑی ہوئی وہ شام ہے اب تک یاد مجھے۔۔

ساحر کی نظم ” پرچھائیاں ” اردو ادب اور خاص طور پر ترقی پسند ادب کا سرمایہ ہے جو جنگ عظیم دوئم کے پس منظر میں لکھی گئی ہے جب ہندوستانی جوان گورا فوج میں بھرتی ہو ہو کر بدیس جا رہے تھے۔ ایک ایسے سفر پر جہاں سے واپسی کم کم ہی ہوتی۔ ان گھبرو جوانوں کے جانے کے بعد جو افتاد انکی بستیوں۔کھلیانوں اور سماج پر پڑی اور جب نوخیز بچیوں کی عزت سرعام نیلام ہونے لگی تو حساس شاعر تڑپ اٹھا اور اس نے جنگ اور اسکے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کا جو نقشہ کھینچا وہ امن پسند تحریک کا ترانہ بن گیا۔

پرچھائیاں ایک بے حد دلگداز۔ رومان انگیزی کے ساتھ معاشرتی جبر اور غربت و افلاس۔ قحط اور بےروزگاری کی کچھ اسطرح کی تصویر پیش کرتی ہے کہ پڑھنے والا شاعر کے ساتھ اس کرب میں غیر محسوس طریقے سے از خود شامل ہو جاتا ہے۔۔

ساحر نے ” پرچھائیاں” میں اپنے قلم کو ایک مصور کے برش سے تبدیل کر دیا اور حالات کے کینوس پر ایسی منظر کشی کی کہ پڑھنے اور دیکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔۔۔
ساحر نے جنگ سے پہلے کی منظر کشی کتنی کومل انداز میں کی اور اس میں ہمارے دیہاتی معاشرے کی کیسی عکاسی کی ہے۔ ملاحظہ ہو۔۔۔

وہ لمحے کتنے دلکش تھے۔وہ گھڑیاں کتنی پیاری تھیں۔
وہ سہرے کتنے نازک تھے۔ وہ لڑیاں کتنی پیاری تھیں۔
بستی کی ہر ایک شاداب گلی۔ خوابوں کی جزیرہ تھی گویا۔۔۔۔

اور ساحر کے اس قطع میں رومانویت اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔۔۔

میرے پلنگ پہ بکھری ہوئی کتابوں کو۔
ادائے عجز و کرم سے اٹھارہی ہو تم۔
سہاگ رات جو ڈھولک پہ گائے جاتے ہیں۔
دبے سروں میں وہی گیت گنگنارہی ہو تم۔۔۔

اور پھر اچانک مغرب میں طبل جنگ بج اٹھا، اور دوسری جنگ عظیم اپنی تمام تر ہولناکیوں کے ساتھ دنیا پر مسلط کردی گئی۔ حالات بدلے تو ساحر کی نظم کا منظر نامہ بھی تبدیل ہوا۔۔۔ ساحر کا کمال ہے کہ انہوں نے اپنی نظم کو ایک کہانی کی طرح بیان کیا اور وہ اکثر فلیش بیک میں چلے جاتے ہیں جیسے کوئی اپنے بیتے دنوں کو بس یونہی یاد کرلیتا ہو۔ لیکن فورا” وہ ایک جھری جھری لے کر دوبارہ اسی وحشت و بربریت کے موضوع پر آجاتے ہیں اور پھر ایک ماہر جراح کی طرح حالات کی کچھ ایسی نشتر زنی کرتے ہیں کہ سامراجی قوتوں اور استعمار کا مکروہ چہرہ کھل کر سامنے آجاتا ہے۔۔

جنگ عظیم کے شروع ہوتی ہی پر امن بستیوں پر وحشت اور بربریت کے مہیب سائے لہرانے لگے اسے ساحر نے محسوس کیا اور کس خوبصورتی سے بیان کی۔۔۔

ناگاہ لہکتے کھیتوں سے ٹاپوں کی صدائیں آنے لگیں
بارود کی بوجھل بو لے کر پچھم سے ہوائیں آنے لگیں
تعمیر کے روشن چہرے پر تخریب کا بادل پھیل گیا
ہر گائوں میں وحشت ناچ اٹھی۔ ہر شہر میں جنگل پھیل گیا
خاموش زمیں کے سینوں میں خیموں کی طنابیں گڑنے لگیں
مکھن سی ملائم راہوں پر بوٹوں کی خراشیں پڑنے لگیں
انسان کی قیمت گرنے لگی۔ اجناس کے بھائو چڑھنے لگے
چوپال کی رونق گھٹنے لگی۔ بھرتی کے دفاتر بڑھنے لگے
بستی کے سجیلے شوخ جواں۔ بن بن کے سپاہی جانے لگے
جس راہ سے کم ہی لوٹ سکیں اس راہ پہ راہی
بستی پہ اداسی چھانے لگی میلوں کی بہاریں ختم ہوئیں
آموں کی لچکتی شاخوں سے جھولوں کی قطاریں ختم ہوئیں۔

اور پھر جب جنگ کی وجہ سے معاشی بدحالی نے قحط کی شکل اختیار کرلی تو شاعر نے اپنے خیالات کو ان الفاظ میں بیان کیا۔

دھول اڑنے لگی بازاروں میں۔ بھوک اگنے لگی کھلیانوں میں
ہر چیز دکانوں سے اٹھ کر۔ روپوش ہوئی تہ خانوں میں
بد حال گھروں کی بدحالی۔ بڑھتے بڑھتے جنجال بنی
مہنگائی بڑھ کر کال بنی ساری بستی کنگال بنی
افلاس ذدہ دہقانوں کے۔ ہل بیل بکے۔ کھلیان بکے
جینے کی تمنا کے ہاتھوں جینے کے سب سامان بکے
کچھ بھی نہ رہا جب بکنے کو۔ جسموں کی تجارت ہونے لگی۔ ۔
تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں۔ ۔ ۔

انہی دنوں بنگال میں ” مصنوعی قحط” پڑا ساری اجناس اور پیداوار جنگی محاذوں پر بھیج دی گئیں جس کے نتیجے میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بنے تو ساحر چیخ اٹھا۔

پچاس لاکھ گلے فسردہ گلے سڑے ڈھانچے
نظام زر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔ ۔
خموش ہونٹوں سے۔ دم توڑتی نگاہوں سے
بشر بشر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں۔
یہ شاہراہیں اسی واسطے بنی تھیں کیا۔
کہ ان پہ دیس کی جنتا سسک سسک کے مرے
زمیں نے کیا اسی کارن اناج اگلا تھا
کہ نسل آدم و حوا بلک بلک کے مرے۔ ۔ ۔
ملیں اسی لئیے ریشم کے ڈھیر بنتی ہیں
کہ دختران وطن تار تار کو ترسیں۔ ۔

جنگ کے دوران ساحر نے گھر گھر موت کو ناچتے دیکھا اور کہ اٹھا۔ ۔ ۔ ۔

تمھارے گھر میں قیامت کا شور برپا ہے
محاذ جنگ سے ہرکارہ تار لایا ہے۔
کہ جسکا ذکر تمہیں جاں سے پیارا تھا
وہ بھائی نرغہ دشمن میں کام آیا ہے۔ ۔

شاعر کی محبوبہ بھی زمانے کے ہاتھوں رسوا ہوئی۔ اسکی بھی عصمت بہت سی دوسری دوشیزائوں کی طرح تار تار ہوئی تو اسکے لہجے کی تلخی مزید بڑھی۔ وہ شکوہ کرتا تو کس سے۔ بس اپنی بے بسی پر یہی کہ پایا۔ ۔

تم آرہی ہو سر عام بال بکھرائے
ہزار گونہ ملامت کا بار اٹھائے ہوئے۔ ۔ ۔
ہوس پرست نگاہوں کی چہرہ دستی سے
بدن کی جھینپتی عریانیاں چھپائے ہوئے۔ ۔

لیکن ان تمام آلام کے باوجود شاعر مایوس نہیں ہوا اور آنے والی نسل کے لئیے یوں دعاگو ہوتا ہے۔ ۔

ہمارا پیار حوادث کی تاب لا نہ سکا
مگر انہیں تو مرادوں کی رات مل جائے۔
ہمیں تو کشمکش مرگ بے اماں ہی ملی
انہیں تو جھومتی گاتی حیات مل جائے۔
چلو کہ آج سب ہی پائمال روحوں سے
کہیں کہ اپنے ہر اک زخم کو زباں کر لیں۔
چلو کہ چل کے سیاسی مقامروں سے کہیں
کہ ہم کو جنگ و جدل کے چلن سے نفرت ہے۔
کہو کہ اب کوئی قاتل اگر ادھر آیا
تو ہر قدم پہ زمیں تنگ ہوتی جائیگی۔ ۔
آٹھو کہ آج ہر ایک جنگ جو سے کہ دیں۔
کہ ہم کو کام کی خاطر ملوں کی حاجت ہے۔ ۔
ہمیں کسی کی زمیں چھیننے کا شوق نہیں
ہمیں تو اپنی زمیں پر ہلوں کی حاجت ہے۔ ۔
کہو کہ اب کوئی تاجر ادھر کا رخ نہ کرے
اب اس جگہ کوئی کنواری نہ بیچی جائے گی۔ ۔
یہ کھیت جاگ پڑے، اُٹھ کھڑی ہوئیں فصلیں
اب اِس جگہ کوئی کیاری نہ بیچی جائیگی
ہمارا خون امانت ہے نسلِ نو کے لئے
ہمارے خون پہ لشکر نہ پل سکینگے کبھی۔ ۔

پچھلی جنگ کی تباہکاریوں کو دیکھ چکنے کی بعد ساحر کو ایک انجانے خوف نے آلیا وہ آئندہ لڑی جانے والی جنگ کی ممکنہ ہولناکیوں سے دنیا کو خبردار کرتا ہے۔ ۔

کہو کہ آج بھی ہم سب اگر خموش رہے
تو اِس دمکتے ہوے خاکداں کی خیر نہیں۔

جنوں میں ڈھالی ہوئی ایٹمی بلاوٗں سے
زمیں کی خیر نہیں آسماں کی خیر نہہیں

گزشتہ جنگ میں گھر ہی جلے مگر اِس بار
عجب نہیں کہ یہ تنہائیاں بھی جل جائیں۔

گزشتہ جنگ میں پیکر ہی جلے مگر اِس بار
عجب نہیں کہ یہ پرچھائیاں بھی جل جائیں۔ ۔

تصورات کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں
کبھی گماں کی صورت۔
کبھی یقیں کی صورت کبھی گماں کی طرح۔ ۔ ۔

ساحر۔ فراز اور گیت نگار مسرور انور پر میری یہ تحریر ایک تقابلی مضمون تصور کیا جاسکتا ہے اور اس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ساحر اور فراز اردو ادب کا سرمایہ ہیں جبکہ مسرور انور کا مقام ادب میں کہیں بہت نیچے ہے لیکن انکی فلمی شاعری سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ۔ ۔ ۔

ساحر اور فراز نے بھی فلمی شاعری کی۔ بلکہ یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ سنہ پچاس سے شاید سنہ ستر پچھتر تک ساحر کے گیت ہندوستانی فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ ساحر کی فلمی شاعری بامقصد بھی تھی اور ان کے گیتوں میں ایک پیغام بھی تھا وہ اس لحاظ سے خوش قسمت بھی تھے کہ انکو بہترین موسیقار اور کہانی لکھنے والے ملے اور ان سب کی مشترکہ کاوشوں سے ایسے امر گیت تخلیق ہوئے جو آج بھی ہندوستانی فلموں کی شان ہیں۔۔۔ بدقسمتی سے ہمارے یہاں فلم انڈسٹری زوال پذیر ہوئی اور اسی کے ساتھ فلمی شاعری بھی اور پھر اتنی گری کہ گیت کے نام پر لچر اور بے ہودہ تک بندی جیسے “آ سینے نال لگ جا ٹھاہ کرکے” سن کر بھی کسی کو سمع خراشی کی شکایت نہیں ہوئی۔ ۔ کیا یہی ادبی زوال نہیں۔۔۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply