بغاوت تک، اپنی دھرتی سے محبت کرنے والے کی کہانی — نعیم الرحمٰن

0

عبدالمومن میمن کی مادری زبان سندھی ہے۔ وہ سندھی اور اردو میں تقریباً چالیس کتابیں لکھ چکے ہیں۔ انہوں نے ناول ’’بغاوت تک‘‘ اردو میں ہی لکھاہے، کہتے ہیں۔

’’ہر ایک کتاب کی تکمیل پر عجب سرشاری اور اطمینان کی کیفیت سے مسرور ہوا، اور لمبی میٹھی نیندسویا۔ اس ناول کے مکمل ہونے پربھی سکون و اطمینان حاصل ہوا۔ غبارِخاطرجب کاغذ پر منتقل ہوجاتا ہے تو دلِ بے قرار کو قرار آہی جاتا ہے۔ تاہم مسودہ اشا عت کے لیے بھیجنے سے پہلے آخری مرتبہ تحریر پر ’’آخری نظر‘‘ ڈالنے لگا ہوں تو پہلی مرتبہ نیند اڑتی محسوس ہورہی ہے۔ میر ا اپنا ہر حرف مجھ ہی کو میدانِ عمل کی طرف رجزیہ پکار رہا ہے۔ میدان عمل میں حکمت عملی کے لیے میں نے اقبال کی طرف دیکھا، انہوں نے مجھے اپنے چنداشعا ر میں سمجھایا۔ ’’دنیا میں انسان اب تک قیدِ غلامی میں جکڑا ہوا ہے، موجودہ نظام ناکارہ ہے اور آزادی کے لیے کی جانے والی کاوشیں ہنوز نامکمل ہیں۔‘‘

ناول کے موضوع کے بارے میں عبدالمومن ’’پیش لفظ‘‘ میں لکھتے ہیں۔

’’بیگانگی کتنی خطرناک ہوتی ہے، یہ ناول ان خطرات کے ادراک کے لیے آئینے کی مانند ہے۔ غلامی کتنی زہرناک ہوتی ہے، میں نے کوشش کی ہے کہ تیسری دنیا کے غلاموں کے سامنے غلامی کے بھیانک اثرات اور مضمرات کا ایکسرے رکھ دوں۔ خوف پھیلانے کے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کو غلامی کی ذلت سے نجات کا شعور بخشنے کے لیے۔ ہماری موجودہ نسل جو کچھ بھگت رہی ہے، اگریہ باتیں دلوں میں اتر جائیں تو بعیدنہیں کہ فطرت سے ہم آہنگ تہذیب و اقدار کے فروغ کی راہ میں حائل دیواریں گرا کر اور رکاوٹیں مسمار کرکے عصر جدید کی غلامی کی ہولناکیوں سے آزاد سوسائٹی کی تشکیل عمل میں لانے کے لیے راہ ہموار کی جاسکے۔ ہم اس غلامی کے خلاف شعور اجاگر کرکے نگاہوں میں شک کے زہرکی جگہ امیدویقین کی تابناکی بھرسکتے ہیں۔ دلوں میں کدورت کی جگہ بے لوث محبت کے پھول اگا سکتے ہیں۔ یعنی انسان بن کرجینے کی امنگ جگاسکتے ہیں۔ ہماری اجتماعی زندگی کی گاڑی تیزرفتا ری کے ساتھ ویران گھاٹیوں میں لڑھکتی جارہی ہے۔ سوسائٹی کی اس لائف موٹر کار کو تنزل کے قعرمذلت میں مکمل جا اترنے سے بچانے کے لیے میں نے اس ناول کی صورت میں اپنے تئیں ایک سنگ، زوال کی رفتار کم کرنے کی خاطرحائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ناول میں سماج کے تمام ترمنظر بیان کرنے کا اولین مقصد یہ ہے کہ موجودہ نسل کویہ دکھایا جائے کہ ہمارے اردگرد ہو کیا رہا ہے۔ غلامی اور اس کی تباہناک اثرات کازہرلمحہ لمحہ سوسائٹی کے وجود کو مرگِ انبوہ سے قریب تر کرتے جارہے ہیں، بہ جبروحیلہ غلام بنائے گئے فرزندان زمین کاجینا اس زہرنے حرام کر رکھا ہے، ناول میں زیرِ بحث موضوعات کی تفہیم سے شاید اس ذلت میں بہ جبر دھکیلے گئے لوگوں میں سے کچھ ذہنوں کو تریاق مل جائے، امید کے جگنو اور آزادی کی روشنی مل جائے۔ ایسا ہوا تو محنت وصول! یہی تواس ساری محنت کی منتہا، منشا اور غایت ہے۔ اس سے بڑی بات کیا ہوسکتی ہے کہ بطور مصنف آپ کا پیغام سمجھ لیا جائے۔ آپ کی بات سے کوئی سبق حاصل کرے، آگے بڑھے اور غلامی کی زنجیرکو کاٹنے کا حوصلہ کرے۔‘‘

بنیادی طور پر ناول ’’بغاوت تک‘‘ ایک بےحد حساس اور مضطرب نوجوان لباب کی کہانی ہے جو اپنی دھرتی سے شدید محبت کرتا ہے۔ یہ دھرتی سندھ ہے جس کی قدیم ثقافت کی آگہی کا فخر اسے ورثہ میں ملاہے۔ اس فخرمیں وہ اس کا تعلیم وتربیت سے حاصل ادراک بھی شامل ہے جو والدکے زیرسایہ اسے حاصل ہوا۔ مگرجب وہ عملی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اسے اردگرد منافقت کا ایسا ماحول ملتا ہے جس نے پورے سماج کو آلودہ کیا ہوا ہے۔ وہ سیاست ہوکہ مذہب، فنون کے ادارے ہوںکہ قانون سازی ک، ہرجگہ جھوٹ اور مکاری ظالمانہ حدتک مسلط نظر آتی ہے۔ وہ ان تمام تعلیمات کی دھجیاں بکھرتے ہوئے محسوس کرتا ہے جواس نے حاصل کی ہیں۔ اخلاقی زوال کے اس معاشرے میں لباب پے درپے ایسے تلخ تجربات سے دوچار ہوتا ہے جو اسے اوراس کے ساتھیوں کونئے سماج کی تشکیل کے لیے مجبور کردیتے ہیں۔

ناول کا انتساب، شہید رانی: محترمہ بے نظیر بھٹوکے نام ایک فارسی شعرمیں ہے۔ جس کا مفہوم ہے۔ ’’ہروہ کہ جوظلم کے خلاف احتجاج اور فریاد کی ہمت نہیں رکھتا ہماری صفوں سے چلاجائے کہ جو جان نہ دے وہ ہمارے قبیلے میں سے نہیں ہے۔‘‘

معروف دانشور اور ادیب امجدعلی شاکرنے ناول کا مقدمہ ’’آزادی کی سیڑھیاں‘‘ کے نام سے لکھاہے۔

’’سندھ کی دھرتی بھی کمال کی دھرتی ہے۔ کوئی فاتح بن کر آئے توکبھی قبول نہیں کرتی، محبت کا ارمغان لے کرآئے تو سر آنکھوں پر بٹھا لیتی ہے۔ سندھ کے باسی فاتحین کو اپنے ہیرو بنانے کے بجائے پیارکرنے والے صوفیوں، فقیروں، بھگتوں اور شاعروں کو ہیرو مانتے ہیں اوران کے حوالے سے اپنی پہچان کراتے ہیں۔ شاعر تو ہر خطہ ء ارض میں ہوئے ہیں۔ دنیابھر میں انھیں عزت و احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے، مگر جو عزت سندھ میں شاہ لطیف سائیں اوران کی کتاب ’شاہ جو رسالو‘ کو حاصل ہے، وہ بہت کم شاعروں کو نصیب ہوا ہے۔ سندھ پیارکرنے والوں کو بھی بھولتا نہیں۔ اب تک سندھ میں سات شہزادیوں کے بارے میں شاعری ہوتی تھی، مگر محترمہ بے نظیر جب سردے کر سربلند ہوئیں توسندھ میں آٹھ شہزادیاں شاعری کا موضوع بن گئیں۔ سندھ دھرتی کا پیار کرنے اورمحبت کرتے رہنے کارویہ اس کا گناہ بھی ٹھہرا ہے اور اس کی قوت بھی۔ یہ اب تک اسی جرم کی سزابھگت رہاہے اور اسی قوت کے سہارے زندہ ہے۔ عبدالمومن میمن نے ’’بغاوت تک‘‘ میں سندھ کی تاریخ اور سماج کے تناظر میں ایک کہانی بیان کی ہے۔ اس کہانی کو ناول کا روپ دیا ہے۔ مصنف نے کہانی کو دو سطح پر بیان کیا ہے، ایک انسانی زندگی اورانسانی معا شروں کی تفہیم و تجزیے کا بیان ہے، دوسری سطح پر کہانی ہے۔ دونوں بیان یکے بعد دیگرے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ وادی سندھ کی تہذیب سات ہزارسال پرانی ہے۔ اس تہذیب کے وارث اپنی زمین کی ملکیت سے محروم ہیں۔ ان سے ان کی زبان اور تاریخ چھین لی گئی۔ بتایا گیا کہ یہ آزادی کا ثمر ہے۔ آزادی جانوں کی قربانی تو مانگتی تھی، مگرہماری آزادی ذرامختلف قسم کی ہے۔ یہ زمینوں اور زمانوں کی قربانی مانگتی ہے۔ یہ زبان اور ثقافت کی قربانی مانگتی ہے۔ زیرنظر ناول اس لحاظ سے تاریخی اورسماجی ناول ہے کہ یہ تاریخ اور سماجیات کا شعور دیتا ہے۔ وہ وہ ادب ہی کیا جو سماجی شعورنہ دے سکے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے ناول لکھے تو کالونیل فکر کو پیش کیا، کالونیل کرداروں کو پیش کیا، ابن الوقت اور حجتہ الاسلام دونوں کالونیل کردارہیں دونوں کالونیل فکر کو آگے بڑھاتے ہیں تاکہ امپیریلزم کو آسانی رہے۔ ابن الوقت کا مصنف ماضی کے ادب کو سوختنی سمجھتا ہے، اسی لیے تو وہ ’توبۃ النصوح‘ میں ہمارے قدیم ادب کو جلاتا اور مٹاتا نظر آتا ہے۔ نذیراحمدناول میں ہمارا قدیم ادب جلا چکا تھا، مگر ہمارا سارا ادب اپنی تمام رعنائی اور توانائی کے ساتھ زندہ رہا یہاں تک حاجی ضیاالحق کا دورِ حکومت آیا اور ایک ڈائریکٹو ہمارے تعلیمی اداروں کو جاری کیا گیا۔ جس نے وہی کام کیا جو توبۃ النصوح میں قدیم فارسی اور اردو ادب کو جلا کر راکھ کر دینے والے کا مقصد تھا۔ نذیر احمد کے ناولوں کو ’قوس نزولی‘ کہیں تویہ ناول ’قوس صعودی‘ کی مثال ہے اور یہی اس ناول کا مفہوم بھی ہے، مقصود بھی، یعنی ڈپٹی نذیر احمد کی تحریریں آزادی کی منزل سے نیچے گراف والی والی ہیں تو عبد المومن کایہ ناول آزادی کی منزل کے لیے سیڑھیوں کی مانند ہے۔‘‘

’’بغاوت تک‘‘ کو فضلی سنز نے کریم آفسٹ پیپر پر بہت عمدہ کمپیوٹر کتابت اوردلکش پرنٹنگ میں شائع کیاہے۔ اس بہترین طباعت کے ساتھ ایک سو اڑسٹھ صفحات کی کتاب کی ساڑھے چار سو روپے قیمت بہت مناسب ہے۔ مومن کے ناول میں مارکسی نظریات کے ساتھ ساتھ صوفیانہ مزاج کی جھلک بھی نظرآتی ہے۔ یہ صرف ایک کہانی ہی نہیں ہے بلکہ عمل کی ترغیب بھی دیتی ہے، جس کی ہمارے معاشرے خصوصاً نوجوان نسل کو بہت ضرو رت ہے۔ عبدالمومن کاایک کمال ان کا اردو زبان پر مکمل عبور ہے۔ گو کہ ان کی مادری زبان سندھی ہے پھر بھی اردو زبان کی خوبصورت تراکیب اورلفظوں کی چاشنی ان کی تحریرمیں ہر جگہ جھلکتی ہے۔ یہ ناول آخر میں کچھ سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے جو پڑھنے والے کوخود ہی سوچ بچار کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ عبدالمومن سچائی کی تلاش میں ہیں وہ ایک محب وطن اور نظریاتی نوجوان ہے۔ سندھی ہو نے کے ناطے صوفی منش ہے۔ خدا کرے ان کی تلاش کامیابی سے ہمکنار ہو اور وطنِ عزیزان کے خواب کی تعبیربن جائے۔

لباب کا بچپن تربیت کی سختیوں کے خارزارمیں تلخی حالات کارزق بنا، جب کہ اس کی جوانی کا دور آزادی و فراوانی سے مالامال ہے، ضرورت کی ہرچیز اور سہولت کی ہرشے پردسترس کے باوجود جانے کیوں بعض اوقات بے کیف ساعتوں کی اداس بدلیاں لباب کوبچپن کی سختیوں سے اٹی ہوئی پرآشوب فضا میں دھکیل دیتی ہیں، جب ننھے لباب کی زندگی حالات کی گردش میں قدم قدم آزارجھیل رہی تھی۔ آج جب کہ اس کے دن پھر چکے ہیں اور وہ مشکلات کے گرداب سے نکل آیا ہے، اس کے باوجود کیوں اسے فراوانی اور آرام سے بھرپور حال کی نسبت ماضی کا تلخابہ زیادہ بہتر اور حسین لگتا ہے۔

لباب کی آسودگی کے باوجود ماضی کے مشکل دور کو یاد کرنا اسکی دردمندی اوربے چین فطرت کی دلیل ہے۔ لباب متضاد تصورات اور متصادم خیالات کے سنگم پرحیرت کا مجسمہ بنا کھڑا ہے اور اس کی زندگی کی کشتی، بھنورمیں ہچکولے کھا رہی ہے۔ سماج میں اسے اپنے مزاج کے موافق ماحول میسر نہیں ہے۔ غیرت و حمیت کے فطری تقاضوں کے مطابق زندگی جینے کے لیے اسے اپنے اردگرد کہیں بھی فضاسازگار نظر نہیں آتی۔ حالات میں گھرا لباب یہ بھی سوچتا ہے۔ ’کیایہ میری دھرتی ہے؟ کیا میرے آباواجداد نے سات ہزار برس پہلے اسی تہذیب کی بنیاد رکھی تھی؟ میرے آباء تو نفاق و دو رنگی سے پاک، فقرِ غیور کا سادہ اور سیدھا مزاج رکھتے تھے۔ خودان سے منسوب کرنے والی آج یہ کیسی نسل پرو رش پارہی ہے جس کی بولہوسی اور خودغرضیوں نے دھرتی کی صوفی فطرت کو مکارانہ کوفی خصلتوں سے گدلا کر دیا ہے؟

لباب کی یہ سوچ ہی اس کے کردارکی تشکیل کرتی ہے۔ ناول بنیادی طور پر چار کرداروں کے گرد گھومتا ہے۔ لباب، سیرت، انتہائی حسین قرۃ العین سندھو اورسلیم۔ قرۃ العین ایک انتہائی مشہور اور بااثر پیروں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ جس کے مردوں کو ہر غلط کام کرنے کی آزادی حاصل ہے، لیکن عورتوں کا ہر مسئلہ عزت وغیرت کاسوال بن جاتاہے۔ عینی اپنے خاندان اور اردگرد کے ماحول سے مختلف سوچ رکھتی ہے۔ سوشل میڈیا پروہ سلیم کے خیالات سے بہت زیادہ متاثر ہوجاتی ہے اور دونوں زندگی ساتھ بسر کرنے کافیصلہ کرلیتے ہیں۔ عینی کے خاندان میں کسی لڑکی نے ایسی جرأت نہیں کی اور اگر کی تووہ ماردی گئی۔ عینی اورسلیم بھی چھپتے پھررہے ہیں اس دوران عینی کی ملاقات لباب اورسیرت سے ہوتی ہے۔ جنہیں وہ اپنی کہانی سناتی ہے۔ وہ دونوں عینی اورسلیم کی جان بچانے کے لیے مختلف بااثر افراد سے ملتے ہیں۔ جس میں نت نئے کرداراوران کاپس منظرسامنے آتاہے۔ قرۃ العین جو خود کو سندھو کہلاناپسند کرتی ہے۔ کے بھائی کا مکروہ کردار بھی ایک ایسی عورت کے ذریعے سامنے آتاہے۔ جس کاوہ بھائی بھی دیوانہ ہے۔ وہ عورت اسے عینی اور سلیم سے دور رہنے کو کہتی ہے۔ ناول کا بڑا حصہ لباب اورسیرت کی عینی اورسلیم کی زندگی اپنوں سے بچانے کی کوششوں پر مبنی اور انتہائی دلچسپ ہے۔

بے چین فطرت لباب سندھ کی دھرتی کے انگریزکے بعدمقامی کالے انگریزکی غلامی کے سخت خلاف ہے۔ وہ سوچتا ہے۔

’’مجھے والدین کا سایہ نصیب ہے لیکن بدنصیبی تودیکھئے کہ شدیدخواہش کے باوجودان کے وجودکی برکتوں سے فیض یاب نہیں ہوسکتا۔ میں کسی بھی فرماں بردار اولادکی طرح اپنے والدین کوجی جان سے چاہتاہوں، لیکن میں ان کی خدمت کے فرض سے سبکدوش ہو کرآسودہ ہونے سے قاصرہوں، کیو نکہ میں فکروعمل کی اس روش پرچلنے سے قاصر ہوں، جووالدین نے میرے لیے طے کردی ہے۔ والدین چاہتے تھے میں اس راستے کوترک کردوں، جسے میں نے اپنے شعور کی روشنی میں منتخب کیاہے، میں چونکہ روایتی پامال راستوں کو چھوڑ کرزندگی کا نصب العین اپنی سوچ و فکر سے متعین کیاہے، اس لیے وہ مجھ سے خفاہیں۔ غلام قوم کا ایک باضابطہ غلام فرد اب سمجھ چکاہے کہ اسے اپنی دھرتی کی وراثت کے ساحلِ مراد تک پہنچنے کے لیے ناموافق ماحول کا دریائے شور عبورکرناہے۔ راستہ کٹھن اورپرخطرہے، اس بات کا اسے اچھی طرح علم ہے، مگراسے یہ بھی معلوم ہے کہ حالات کی گھٹن آلود اندھیری سرنگ کے پاراطمینان وسکون کی فضا اورحیاتِ جاوداں کی روشنی اس کی منتظرہے۔‘‘

لباب کے کردارکے یہی مضبوطی ہہے کہ والدین کی محبت بھی اس کے عزم کوکم نہیں کرتی۔ اس کاجنم جس دھرتی پر ہوا ہے سندھوندی کے آب شیریں سے سیراب ہونے والادھرتی کایہ حصہ سرسبزوشاداب، زرخیزاور معدنی ذخائرسے مالامال ہونے کے ساتھ جغرافیائی طورپربحری، بری اورفضائی جہتوں سے مختلف قوموں اور ممالک سے منسلک ہے۔ بین الاقوامی سطح پرتسلیم شدہ جومعدودے چندعظیم اورقدیم تہذیبیں کرہ ارض کی مانگ میں فخر و اعزاز کا سیندور بھرتی ہیں، لباب کاتعلق انھی میں سے ایک قدیم اورعظیم تہذیب کی حامل قوم سے ہے۔ لباب کی قومی سرزمین سے دریافت شدہ آثارِ ماضی، عالمی سطح پرانسان کی تہذیبی و تاریخی نمائندگی میں عالمی سطح پراپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ لباب کے اجداد نے نسلِ انسانی کاکیاکچھ دیا۔ ماضی کاجیتاجاگتا نگارخانہ ہمیں بتاتاہے کہ دنیاکوسب سے پہلے، پہیے کا تصور اسی تہذیب نے دیا۔ یہ پہیا سب سے پہلے بیل گاڑی میں استعمال ہواتھاجس نے محنت کشوں اور باربرداروں کی پشت کو سخت کوش مشقت سے نجات دلانے میں اولین کرداراداکیا۔

اپنی دھرتی کایہ افتخارہی لباب بحال کرناچاہتاہے۔ اس کے اجدادنے سات ہزاربرس پہلے زندگی کی تمدنی ضرووریات بہم پہنچا کر ارتقاکے دوراولین میں ہی تہذیب وتمدن کے شعورسے ہم آہنگ ہونے کاعملی ثبوت دیا۔ روزمرہ کی سماجی ضروریات میں زرعی آلات سے لے کر بحری وبری سواریوں کی ایجادات اس تہذیب سے وابستہ ہونالباب کی قوم کی خداداد ذہانت کی تاریخی شہادت عالم دوام پرثبت ہے۔ لباب کے نزدیک سندھ کی تہذیب یہاں کے صوفیاکے کلام میں اپنی جھلک دکھاتی ہے۔ وہ خاص طورپرشاہ عبدالطیف بھٹائی کامداح ہے جنہوں نے اس دھرتی کی تہذیبی اقدارکوشاعری کے قالب میں ڈھالاہے۔

مصنف استحصالی نظام ہی نہیں، اس کے ہرمعاون کے خلاف ہے۔ ذرایہ دو اقتباس دیکھیں۔

’’المیہ یہ ہے کہ غلام سماجوں میں محراب ومنبر سے خانہ سازروایات کی دھول اڑاکربغاوت سے اس حریت پرورفطری جوہر کو بے اثر اور کند کرنے کی سعی کی جاتی ہے۔ سماج کی ظالمانہ بندشو ںسے آزادی کی بات کرنے والے کے لیے کفر اور الحادکے فتاویٰ کاسامان خداوندان ِ مکتب کے زرق برق عماموں کے پیچوں اوردستارکی تاروںمیں وافرمقدارمیں ہر وقت موجود رہتاہے۔ ہفتہ واراجتماعات میں جبہ پوش واعظ، آزادی کے علم برداروں پرتبراکرکے، انھیں موردِ الزام ٹھہرا کر نظام ظلم کو بےکس لوگوں کے لئے نام نہادقوانین کی زنجیربنانے کاشرعی جواز مہیاکرتے ہیں۔‘‘

’’یہی محنت کش اسمبلیوں اوردیوقامت ستونوں پرکھڑی عدالتوںکی عدل سے خالی شاندارعمارتیں، جیلوں، یونیورسٹیوں، کالجوں، اسکولوں اورسول سیکریٹریٹ کی پرشکوہ بلڈنگیں تعمیرکرنے میں اپنے جسم وجان کی ساری توانائیاں نچوڑدیتے ہیں اورپھرحاصل کیانکلتاہے؟محنت کشو ںکی جفاکشی کے دم سے قائم ہونے والے قانون سازایوان ایسے قوانین بناتے ہیں، جن کے توسط سے غریب محنت کشش کی گردن پرزر پرستوں، جاگیرداروں، صنعت کاروں اورصاحب اقتدارطبقے کے دیگر استحصالی گروہوں کاپنجہ تسلط مزید مضبوط ہوجاتاہے۔ غریب مزدور کا دستِ ہنرسے وجودپانے والی عدالتوں سے ایسے غیرمنصفانہ فیصلے صادر ہوتے ہیں جومحنت کش کی آنکھوں سے تقدیربدلنے کے خواب تک چھین لیتے ہیں۔ جن تعلیمی اداروںکویہ اپنی ہڈیاں گھلاکر وجود کی رونق بخشتے ہیں، ان اداروں میں ان کے بچوں کاداخلہ ہی ممنوع ٹھہرتاہے۔ جب محنت کش لوگ اپنے حقوق کانعرہ بلندکرتے ہیں توانہیں پکڑکران کے ہاتھوں سے تعمیرکردہ جیل میں بندکردیاجاتاہے۔‘‘

غرض عبدالمومن کے مطابق اس استحصال میں تمام طبقات برابرکے شریک ہیں۔

قرۃ العین، لباب اورسیرت سے گفتگومیں اپنے خاندان کی حرکتوں کے بارے میں بتاتی ہے۔

’’میرے اجدادکی شاطرانہ چالوں کے بانی’ شیخ المشائخ‘ کے عرس کی تقریبات کے سلسلے میں ملک میں موجود تمام ’برتر خاندان‘ کے سرکردہ افرادمدعو تھے۔ اس طرح کی دعوتوں میں’بی بیو ں‘ کاحجاب لازمی نہیں ہوتا۔ تقریبات کاایک مقصد یہ بی ہوتاہے کہ ان خودساختہ مقدس خاندانوں کے شہزادے اور شہزادیاں اپنے لیے جیو ن ساتھی کاانتخاب بھی کرسکیں۔ تقریب کے مندوبین اپنی اپنی خانقاہوں کے سجادہ نشین تھے۔ رقص وسرودکی محفلیں عروج پرتھیں۔ چھوٹی خانقاہوں کے سجادہ نشینوں کے آداب سے غلامانہ اطوار جھلک رہے تھے۔ میری نگاہوں کوکسی باغی کردار کی تلاش تھی جس کی چال ڈھال سے آزادی کا احساس جھلکتا ہو۔ لیکن جن گھرانوں کے افرادکو عیش وآسودگی کاتمام ترسامان میسر  ہو تو وہاں بغاوت کاکیاعمل دخل؟ اس لیے میری تلاش تشنہ رہی۔‘‘

اس تقدس ماآب ماحول کے بیان میں ان مقدس لوگوں کے کردارکے تضاد واضح کیے گئے ہیں۔ ایک مکالمہ میں ان بااثر خاندانوں کی سندھ میں آبادکرنے کی سازش کی نشاندہی کی گئی ہے۔

’’سندھ کی موجودہ جغرافیائی صورتِ حال پرایک نظر ڈالو، کشمورسے لے کرکراچی تک مشر ق اورمغرب کے دونوں طرف سندھو دریا کے اِس پاریااُس پارآبادی کے تناسب میں مطلوبہ توازن قائم کرنے کے لیے ایک نام نہاد مقدس قبیلے کے لوگوں کو کس منصوبہ بند انجیئرنگ کے ساتھ بسایا گیا ہے۔ دھرتی ماں کا کوئی گوشہ ان مقدس آبادکاروں سے خالی نہیں چھوڑا گیا زرعی زمینوں سے لے کرسیاسی معاملات میں دخل اندازہونے کے ساتھ ایوانِ اقتدارتک ان کی شراکت، جمہوریت ہو یا آمریت، ہرصورت لازمی ہوتی ہے اور یہ چندخاندان جن کے افراد کاتناسب بہت ہی محدودہے، کروڑوں غریبوں کے بیچ، وسیع زرعی رقبوں کے مالک ہیں۔ آپ غور کریں، یہ لوگ سندھ دھرتی کے پورے وجودپرآکٹوپس کی طرح پنجے گاڑے ہوئے ہیں! مقدس ذا ت کاحقیقی یامصنوعی شجرہ نصب رکھنے والے یہ لوگ ہرآنے والے حکمران کے شانہ بشانہ ہوتے ہیں۔‘‘

’’بغاوت تک‘‘ میں اہل قلم سمیت ہر شعبے کے مفادپرست عناصرکی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ جوبرسراقتدارلوگوں کی چاپلوسی میں ہرحدسے گزر جاتے ہیں اوراپنے طبقے کے افراد کونشانہ بنانے سے بھی گریزنہیں کرتے۔ ایسی میڈم بھی موجود ہیں جواپنے کام نکلوانے کے لیے نسوانی حسن کاہتھیار استعمال کرتی ہیں۔ دردمندی اورحقیقت پسندی کے باوجود کہیں کہیں لباب کاخطاب نمابیانیہ بہت طویل اور بوجھل ہو گیاہے۔ خصوصاً نویں اورگیارہویں باب میں۔ جن میں یہ طوالت بوریت کاباعث بھی بنتی ہے۔

پھر ناول میں پیش کی گئی صورتِ حال پاکستان کے چاروں صوبوں میں موجودہے۔ کمزورطبقات مذہبی، سماجی، جاگیرداری استحصالی گروپس کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ عبدالمومن نے ناول میں سندھ کی تاریخ اورسماج کے تناظر میں کہانی بیان کی ہے، جوان کے نقطہ نظرسے درست ہے۔ وہ مولانا عبیداللہ سندھی کواپنا ہیروقراردیتے ہیں، جو پنجاب کے ضلع سیالکوٹ میں پیداہوئے۔ بھرچونڈی شریف کے حافظ محمد صدیق کے دستِ حق پرست پربیعت ہوئے۔ سندھ کو اپناوطن مان لیااورسندھی زبان بولنے لگے، وہ وطن کی آزادی کے سفرپرنکلے اور چوتھائی صدی ملکوں ملکوں پھرتے رہے۔ مولانا سندھی نے سندھ کے باسیوں کوبتایا، وہ سندھ کو آزادی کی بنیاد بنائیں اور ہندوستان کی آزادی میںشامل ہوں۔ صوبے کوصوبے کی بجائے ریاست کہاجائے اورہندوستان کوریاستھائے متحدہ کی طرح ایک آزاد ملک بنایاجائے۔ 1947ء میں ایک ڈائریکٹو جاری ہوا اورغلام ملک کے شہریوں کو بتایا گیا، وہ آزادملک کے شہری ہیں۔ عجیب بات ہے وہ ایسی آزادی کی زنجیروں میں جکڑے گئے کہ آزادی کامطالبہ بھی نہیں کرسکتے۔ سلیم، لباب سے گفتگومیں عبیداللہ سندھی اورسائیں جی ایم سیدکی مثال پیش کرتاہے۔ یہا ں وہ سندھ کوبقیہ ملک سے الگ کردیتے ہیں اورملک بھرکی استحصالی قوتوں کو یکسرجداکرکے صرف سندھ کامقدمہ پیش کرتے ہیں۔ کہیں کہیں یہ سندھ کی آزادی کی بات بھی محسوس ہوتی ہے۔ ناول کاکردارسوال اٹھاتاہے۔

’’معلوم نہیں سرحدوں کے اتصال کے باوجودہم اپنی پڑوسی اقوام سے سیاسی طور پراتنافاصلہ رکھنے پر کیوں مجبورہیں؟ آخر وہ ہمارے دشمن کیوں کرہوسکتے ہیں۔ سرحد کے اِ س پاریااُس پار، معدودے چند خبیثوں کی خباثت کا تاوان انسانوں کا ہجوم کیوں بھگتے۔ سرحدکی لکیریں دھرتی کے بیٹوںنے تونہیں کھینچی تھیں۔ وہ توبدیسیوں کی ازلی غنڈہ گردی کی شعوری حرکتوں کانتیجہ تھا۔‘‘

مجموعی طورپر’’بغاوت تک‘‘ انتہائی دلچسپ اورقابلِ مطالعہ ناول ہے۔ جس میں استحصال کی کم وبیش ہرشکل کوپیش کیا گیا ہے۔ آخر میں ناول پر چند مختصرتبصرے پیش ہیں۔ مہتاب اکبرراشدی کہتی ہیں۔ ’’میں عبدالمومن کومبارکباددیتی ہوں کہ انہوں نے اپنے اندرکے فلسفی اورادیب کوبالآخر تلاش کرلیاہے۔ اس طرح کی فکراورفلسفہ رکھنے والے لوگ کچھ زیادہ نہیں ملتے۔ ہمیں ان کی قدرکرناچاہیے۔‘‘ غزالہ سیال نے لکھا۔ ’’ناول کی ابتدائی سفرسے دل سے ایک ہی صدانکلتی رہی:آہ! مومن۔۔ اختتام پردل سے بے اختیارنکل گیا واہ! مومن۔‘‘ اکرم کنجاہی کے مطابق۔

’’ہمارے معاشرے کے بدبودارناسوروں کو عبدالمومن میمن نے ناول میں مشاہدات کی صورت میں پیش ہی نہیں کیابلکہ قلم سے نشتر کاکام لیاہے۔ محمدامین مغل کا کہناہے۔ ’’اس کتاب میں مصنف نے صدیوں کی اعلیٰ ترین ثقافت کی حامل قوم کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ ے معاشرہ پردل کھول کرلکھاہے، ان کے گرداب میں پھنسے ہوئے حالات کوموضوع بناتے ہوئے بھی دامن امید ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور ان تمام کواپنی دھرتی کی وراثت کے حصول کے لیے دریائے شورکوعبورکرنے کا مشورہ دیاہے۔‘‘ رکن سندھ اسمبلی رابعہ اظفرنے لکھاہے۔ ’’آج کے دورکی جو تصویرعبدالمومن صاحب نے کھینچی ہے وہ بہت بہترین ہے چاہے وہ ایوانوں میں بیٹھنے والے بڑے بڑے وزراء اورامراء ہوں جواختیارا ت ہونے کے باوجودبھی عوام کے لیے کچھ نہیں کرتے۔‘‘

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply