”می سوزم” سے ”من نیستم” تک کا سفر —- نوشین قمر

0

یہ کہانی ہے ایک زندگی کی۔ ایک ایسے وجود کی جو صدیوں کی گرد اوڑھے سو رہا تھا۔ جسے کئیوں نے جگایا تو سہی مگر ہاتھ تھام کر اس کے اندر نہیں جھانکا۔ یہ جلتے من کے اندر جھانکنے کی کہانی ہے۔ یہ سوہانِ روح کی داستاں ہے۔ اسے قلم کی نوک تک لانے اور پھر صفحے پر اتارنے والے ہاتھ، ذہن کی ہانڈی میں پکتے جملے، کیفیات، مناظر اور واقعات کے بننے والے اقتباسات جانے کن مراحل سے گزرے ہوں گے یہ تو ”جس تن نوں لگدی اے او تن جانڑے”۔ میں نے ان ہاتھوں کو دوہزار تیرہ میں دیکھا تھا۔ پہلی بار انٹرویو کے دن جب انہوں نے مجھ سے اقبال کا شعر سنانے کو کہا تھا اور چپکے چپکے اس دن جب بین الااقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد میں ہمیں خوش آمدید کہنے کو آڈیٹوریم میں وہ سامنے مائیک پر ہم سے مخاطب تھیں ۔ یہ ہاتھ غیر محسوس طریقے سے کب اور کیسے گرتوں کو تھام لیتے ہیں اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ان کا دستِ شفقت استادانہ سے زیادہ دوستانہ ہے۔ کندھے پر عمرو عیار کی ایک زنبیل ہمیشہ ان کے ساتھ رہتی ہے جس میں کتابوں کی ہر شکل و صورت کے خزانے بھرے ہوتے ہیں۔ میرے جیسے نالائق طالب علم جب اور جیسے چاہیں کی بنیاد پر ان سے فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ نہ ہی یہ زنبیل کبھی خالی ہوتی ہے اور نہ ہی اسے دینے والا وجود۔

کتبوں کے درمیان گھومتی کہانیوں پر تبصرہ۔۔اظہر مشتاق - مکالمہمکالمہتاریخ کی گمنام خواتین کی کھوج اور انہیں زندہ و جاوید کرنے کا جنون ان کے قلم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اپنے جیسے ہی وجود کو جاننا، سمجھنا اور انہیں عزت و وقار دے کرانہیں سراہنے اور انسانیت کی صف میں لا کھڑا کرنے کا ہنر حق تعالیٰ نے انہیں دے چھوڑا ہے اور یہ اسے انتہائی خوش اسلوبی سے نبھاتی چلی آرہی ہیں۔ ”می سوزم ” کی یہ کہانی بھی انہی میں سے ایک ہے۔ کتاب کی خبر اپنی ساتھی غزل یعقوب کے وٹس ایپ سٹیٹس سے ملی۔ استاد محترم کو مبارکباد کا پیغام دیا گیا اور کتاب کا پتہ ملتے ہی آڈر بک کروا دیا گیا۔ تیسرے روز کتاب دروازے پر موجود تھی۔ سوانحی ناول، رابعہ خضداری کے عشق کے نام۔ کچھ دیر تو صرف ”می سوزم” ہی کہیں ” می رقصم ہوتا رہا ۔ ساتھ ہی زین العرب کے فارسی اشعار۔ میری عادت ہے کوئی بھی کتاب ہو پہلے اسے الٹا کھولتی ہوں۔ یہاں میری کم علمی اور نالائقی میرا منہ چڑھانے لگی کیوں کہ میری نظر ماخذات پر پڑ چکی تھی۔ ناول کے لیے جن کتب سے استفادہ کیا گیاتھا۔ یہ میرے لیے ایک بالکل نئی بات تھی۔

رابعہ خضداری سے میرا تعارف ان پر لکھی فہمیدہ ریاض صاحبہ کی تحریر سے ہوا تھا۔ جہاں ان کی زندگی کا مختصر واقعہ اور ان کی غزلوں کے تراجم پڑھنے کو ملے۔ اسی واقعے کے شوق میں ایک دو اور تحریریں بھی نظر سے گزریں۔ مگر ایک ہی واقعے کو مختلف حوالوں سے ادل بدل کر بنا کسی ماخذ کے قبول کرنا قدرے مشکل معلوم ہوتا ہے۔ ایسے میں جب ایک ایسی کتاب ہاتھ میں ہو اور جس کے ساتھ ماخذات کا بھی ذکر ہو تو اندھے کو دو آنکھیں مل ہی جاتی ہیں ۔ میں ا ن چیزوں کو دوہرانے سے گریز کروں گی کہ تاریخ اس حوالے سے کیا کہتی ہے۔ علاقے کون سے تھے، کن قبائل کا ذکر آیا، پیٹھ پر وار کرنے کی بجائے سینہ تانے کون کھڑے تھے، جنگیں کیوں ہوئیں، آپسی دشمنیوں نے کتنی زندگیوں کے چراغ گل کیے، مفاد کی خاطر تاریخ کیسے کیسے اپنوں کے سر تن سے جدا کر گئی، وفاداری کیسے تاریخ بدل جاتی ہے، روایات کی بھینٹ چڑھنے والے وجود کیسے امر ہو جاتے ہیں، محبت کی کہانیاں مجازی سے حقیقی کا سفر کیسے طے کر جاتی ہیں اور زمانہ کتنے ہی ادوار گزر جانے کے بعدکیسے کئی ناموں کو زندہ و جاوید رکھ پاتا ہے۔

میرا مسلہ تو یہ ہے کہ لفظ ”شہزادی رابعہ” مجھے پہلی پڑھت میں ”شہزادی رضیہ” معلوم ہوا اور میرے ذہن میں رضیہ سلطانہ کی فلم چلنے لگی۔ سلطان التمش، رکن الدین، معز الدین، جمال الدین / یاقوت، مرزا التونیہ۔ نام، دربار، گونج، فیصلے، رضیہ کی صلاحیتیں اور تخت سنبھال لینا اور پھر ایک غلام سے عشق کی داستاں۔ آنکھیں ملیں، کتاب کو بند کیا۔ بھئی یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی رابعہ بلخی کی مختصر داستاں۔ گڈ مڈ ہونے لگے خیالات۔ چھوڑو، جھٹک دو مشاعرے کی تیاری ہو رہی ہے۔ رضیہ سلطانہ گھوڑا لیے نکلی ہوگی رعایا کی خبر لینے۔ فل حال رابعہ کی کہانی پر توجہ لگاؤ۔ یکسانیت تو کئی واقعات میں ہو سکتی ہے۔ تم انفرادیت تلاشو لڑکی۔ اس انفرادیت کی تلاش میں ان دو سو صفحات پر مشتمل دختر کعب کی زندگی کا سفر شروع کیا۔

 تجسس ہر پلٹتے صفحے کے ساتھ دل چسپی قائم رکھے ہوئے ہے۔ امیر کعب کے لیے عزت بڑھتی ہی جا رہی ہے جو ایک سلطان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا باپ ہے جو جنسی فرق سے بالا تر سوچتا ہے۔ شہزادی کی صلاحیتوں کا چرچا ہر زباں سے سنا جا رہا ہے۔ باپ کا سر فخر سے بلند اور سینہ سرشاری سے چوڑا ہو تا جا رہا ہے۔ صوفی رحمان علی کے الفاظ اس کی شان میں اور اضافہ کرتے ہیں:

”رابعہ بنت کعب نے بچپن سے بلوغت کا زمانہ خلوت میں گزار دیا، اب ان کے جلوت میں آنے کا وقت ہے۔”

 دانشمندوں کے اجلاس میں بیٹی کو ”ذین العرب” کا خطاب عطا ہو چلا۔ گفتگو کا سلسلہ والد کے اس جملے کے ساتھ اختتام پذیر ہواکہ ”ہر عروج کو زوال ہے، سوائے رب ذوالجلال کے ”۔ کچھ ہی لمحوں بعد جب میں اس خوشی سے دوچار اس منظر کے انتظار میں تھی کہ رابعہ کیسے پہلی بار دربار کی زینت بنتی ہیں وہیں حارث کی حسد بھری چھوٹی سوچ سنائی دی ”یہ پردے کے اندر سے بھی تو شریک محفل ہو سکتی ہے”۔ میرا ذائقہ ہی خراب ہو چلا لیکن ساتھ ہی امیر کعب نے منہ میٹھا کر ڈالا کہ رابعہ ان کے پہلو میں تشریف فرما ہوں گی۔ محل کی سازشوں کی بو سنائی دینے لگی۔ جو امیر کعب کے آخری الفا ظ ” رابعہ بنت کعب ” کے ساتھ ابدی نیند سو گئی۔

کبھی سوچا کہ گل رعنا بن کر رابعہ کے ساتھ رہوں، تو کبھی امام خاتون بن جانے کا جی چاہا کیوں کہ امیر کعب تو مجھے بیٹی کے حوالے سے دھوکہ دے کر چند ہی صفحات میں رخصت ہو چلے تھے۔ مگر اس بات کی خوشی تھی کہ بیٹی کی تعلیم و تربیت اور اسے اعتماد جیسی قوت دینے میں انہوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی تھی اور جن کے اشعار کو وہ خدا کی عبادت سمجھتے تھے۔ اگلے صفحات میں وہی تاریخی کہانیوں کی طرح کے مناظر کی سیر ہوتی رہی۔ کئی کردار اپنے دوہرے چہروں کے ساتھ سامنے آئے۔ کئی اندرونی کہانیوں سے پردے اٹھے۔ ہمراز کیسے غداری کر جاتے ہیں اور کن وجوہات کی بنا پر یہ روپ بھی سامنے آئے۔ میری انفرادیت کی تلاش اس وقت تک جاری رہی جب تک رابعہ محویت کے عالم میں رودؔکی سے ہم کلام نہیں ہوئی تھی، ان کی نظر بیکتاش پر نہیں پڑی تھی اور محبت کے معنی ان الفاظ میں میری نظروں سے نہیں گزرے تھے:

”زندگی میں محبت ایک نعمت کی طرح نازل ہوتی ہے۔ یہ گداز اسی کا شاخسانہ ہے۔ محبت کے بڑے وسیع معنی ہیں۔ مخلوق سے عشق کرو، اس کے حال کے محرم بنو، ان کے درد کی دوا بنو۔”

یعنی حقیقی رنگ اپنے جوبن پر رنگ بکھیر رہا تھا۔ اس وقت تک جب تک امام خاتون اس کا ایک دوسرا روپ لے کر سامنے نہ آئی تھیں۔ یک طرفہ محبت کے لیے ہمت کا ہونا اور عشق کی معراج یہ کہ دوسرے کی چاہت کی طلب کے بغیر بھی اسے چاہا جائے۔ قدم کچھ ڈگمگاتے محسوس ہوئے لیکن پھر رابعہ کی ہم کلامی کہ حقیقت صرف ایک ہے جسے دوام حاصل ہے۔ مطلب صاف کہ راستے پراب بھی کوئی موڑ نہیں آیا۔ گل رعنا کا جملہ تڑاخ کر کے اندر اترا جو اس کی ماں کہا کرتی تھی۔ ” ساری جھوک فنا دی ”۔ یہ لفظ فنا رابعہ کو ایک اور تلاش کی جانب لے جا رہا تھا۔ دوسری طرف اسے اپنے سجدوں میں یکسوئی میسر نہیں ہو پا رہی تھی اور اس تبدیلی سے وہ ایک نئی تکلیف میں مبتلا ہو چکی تھی۔ ” بس ایک شخص کے لیے سب کچھ چھوڑنا یہ مشکل کام نہیں۔ ”اسی بھول بھلیوں میں رابعہ کا مضطرب دل ایک مشاعرےمیں برجستہ بول اٹھا:

تیرے لیے میری پکار ایسے ثابت ہو گی جیسے ہجر کے مارے عاشق کی صدا
جب تو درد عشق، زخم ہجر اور اذیت سہنا سمجھے گا
اور جب تو خود عشق میں مبتلا ہو گا تو تجھے میری قدر معلوم ہو گی

دنیا رابعہ کو اپنی جانب کھینچنے کے انوکھے جتن کر رہی تھی۔ جو ایک غلام کی شکل میں اس کے سامنے زندہ وجود لیے آ کھڑی تھی۔ رابعہ کا بارہا اس پر سوچنا اور پھر خدا سے سوال کرنا نئے سوالوں کو جنم دیتا۔ ” کیا انسان لوحِ کائنا ت پر حرف غلط ہے۔ جس کا مٹنا ہی لازم ٹھہرا۔ ” بیکتاش کا رابعہ کی ذات میں ضم ہونا اس کے نزدیک فنا تھی ” میں ” کی فنا۔ رعنا سے وضاحت طلبی پر اسے جواب ملا۔ محبت میں فنا ہی بقا ہے۔ من و تو ایک ہونے سے دوئی نہیں رہتی۔ پھر اک روز مشاعرے میں رابعہ مجذوبانہ کیفیت میں جھومتی عشق کو دونوں جہاں کی زیبائش قرار دیتی ہے جس کی بدولت دونوں دنیاؤں کو پایا جا سکتا ہے۔ یہی جذبات اسے علامہ فیض الحسن سے سوال کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ” محبت کرنا، عشق کرنا رب کی صفات کا ہی پرتو ہے ؟ ”۔ رب جس کو تھام لے اس کو بھٹکنے نہیں دیتا۔ وہ بارہا رب کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اسے قرب کی بھیک مانگتی رہی۔ دنیا کی ہوس سے خوف کھاتی اور بکتاش کی جانب بے اختیار کھچے چلے جانے پرآزاد ہونے کی کوشش میں مبتلا رہتی۔ ایک دن اس سے یوں مخاطب ہوتی ہے کہ:

” بیکتاش کاش تم اس کو سن سکو جو ابھی کہا نہیں گیا۔ کاش وہ دیکھ سکو جو ابھی وقوع پذیر نہیں ہوا۔ میری روح، میرا دل میری زندگی صرف تمہاری ایک نظر پر قربان۔ مگر تم نشانِ منزل تو ہو مگر منزل نہیں۔”

مجھے اس صفحے پر آکر انفرادیت مل چکی تھی یعنی میری تلاش رائیگاں نہیں گئی تھی۔ یہ جملے بھی ہمت، حوصلے، کشف اور کامیابی کی نوید سنا رہے تھے۔ ” بیکتاش تمہاری محبت نے میرے اندر وہ گداز پیدا کیا جس کا مداوا صرف خدا سے لو لگا کر ممکن ہوا۔ اس ذات کا شکر ہے جس نے مجھے ایک ایسے کام کے لیے چُن لیا جو صرف اس کے خاص بندوں کا راستہ ہے۔”

جہاں پہلے صفحے پر لفظ ” شہزادی رابعہ ” مجھے شہزادی رضیہ سلطانہ کی جانب کھینچ کر لے گیا تھا وہیں اختتامی صفحا ت پر شہزادی رابعہ کے یہ جملے:

” رعنا کل بندی خانے، حرم سرائیں سب مقفل کر دو جو اپنی رضا مندی سے محنت مزدوری کر کے محل میں رہنا چاہیں بے شک رہیں، لیکن عیش پرستی کا دور ختم ہوا۔”

مجھے رانی جودھا کی یاد دلا گئے جو اکبر کی بیگم بنی تھیں اور جنہوں نے مغلیہ دور حکومت میں کئی تبدیلیاں کروائیں تھیں جن میں سے ایک حرم کی باندیوں کو غلامی سے آزاد کرنا بھی شامل تھا۔

میری انفرادیت کی تلاش ختم ہوئی جب حارث نے رابعہ کو لکھنے کا انتظام دے کر اسے قید کر دیا۔ اور رابعہ خون کے قلم سے یہ داستاں رقم کر کے امر ہو گئی کہ

”بیکتاش انسان کی کیا بساط کہ وہ ارادہ رکھے، وہی ارادے دلوں میں ڈالتا ہے اور وہی بدلتا ہے۔ جب مجھے تمہارے قریب کیا تو وہ خود نظر سے اوجھل ہو گیا، پھر جب خود جلوہ نما ہوا تو اس کے نور کی روشنی اس قدر تیز تھی کہ تم مجھے دکھائی ہی نہ دیے۔”

ارادے ہی کئی منزلوں کا تعین کروا جاتے ہیں اور یہی ارادے تاریخ کو زندہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے لکھنے والے کو بھی امر کر جاتے ہیں۔ ”می سوزم” اب کتنے رنگ لیے ادب کی تاریخ میں امر ہو گا یہ اسے پڑھ کر ہی پتا لگایا جا سکتا ہے۔ میں نے اس کا صرف ایک رُ خ دیکھا ہے جو رابعہ کی گرج دار آواز میں کہیں سلطنت کے تمام امور سے واقف ہے، جو رشتوں کے اصل معنی سے آشنا ہے، جو بادشاہ اور رعایا کے فرائض جانتی ہے، جو شجاعت، استقامت، بہادری کی ایک زندہ مثال ہے اور جو ”می سوزم” کا رقص کرتی ”من نیستم” کا سفر اس درد کے ساتھ طے کر جاتی ہے جہاں سب فنا ہے۔ کاش یہ ناول ابھی جاری رہتا اسے اتنی جلدی ختم نہیں ہونا چاہیے تھالیکن کیا خبر کون اس کا آخری سرا پکڑ کر ایک نئی داستاں کو جنم دے جو ”من نیستم” سے ”می رقصم” پر مشتمل ہو۔ سب کا بھلا سب کی خیر۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply