’شعرائے چھچھ‘ پر ایک نظر:  ڈاکٹر خاور چودھری

0

تذکرہ نویسی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ مختلف علوم و فنون سے وابستہ شخصیات کے تذکروں کے ساتھ ادبی تذکروں کی ایک قابلِ قدرروایت ہے۔ یونانی، انگریزی، عربی اور فارسی ادبیات کے ساتھ ساتھ ہندی بھاشا کے عالموں کے تذکرے بھی موجود ہیں۔ اُردو ادبیات کی تاریخ کچھ زیادہ قدیم نہیں؛ اس کے باوجود کلاسیکی عہد کے شعرا کے تذکرے ملتے ہیں۔ شروع میں اُردو شعرا کے تذکرے فارسی زبان میں لکھے گئے۔ ماضی کی اس روایت پر نظر دوڑائیں تو بیسیوں تذکرے ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔ ”نکات الشعرا، تذکرہ ریختہ گویاں، مخزنِ نکات، تذکرہء ہندی گویاں، گلشنِ ہند، ریاض الصفحا، گلشنِ بے خار، گلدستہ ء نازنیناں، خوش معرکہ ء زیبا، گلستانِ سخن، گلزارِ ابراہیم، طورِ کلیم اور بزمِ سخن“ کے ناموں سے اُردو اَدب کے طالب علم اچھی طرح واقف ہیں۔ اس سلسلے کی آخری کڑی ”آبِ حیات“ خیال کی جاتی ہے۔

مبیضہ، مسودہ اور مخطوطہ جیسی اصطلاحات سے واقفیت رکھنے والے اچھی طرح جانتے ہیں کہ بیاض کی جدیدصورت کو تذکرہ کہا گیا۔ بیاض محض کلام کی جمع آوری ہے اور تذکرہ میں شاعر کا نام اور مختصر تعارف کی گنجائش رکھی گئی۔ مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب ”آبِ حیات“ تذکرہ اور نقد کے سنگم کانام ہے۔ اس کتاب کو تذکرہ نویسی کی خاتم اور اُردو نقد کی موجد خیال کیاجاتا ہے۔ روایتی تذکروں میں ایک جیسی فضا دکھائی دیتی ہے۔ بعض کے یہاں غلط منسوبات کا سلسلہ بھی ہے۔ کہیںایک ہی طرح کے اشعار کئی کئی شعرا سے منسوب ہیں اور کہیں تعریف و تحسین اور تنقیص میں ذاتی پسند ناپسند کو دخل ہے۔ تذکرہ نگاری کے اس دور میں بیاض سے اگلا مرحلہ یعنی شعرا کا تعارف اور کلام زیادہ نمایاں ہے۔ اس سے متصل دور میں شاعر کے تخلص و تعارف کے ساتھ کلام پر ہلکا پھلکا تبصرہ ملتا ہے۔ ادب کے علما نے تذکرہ کی آخری صورت کو درجہ عطا کیا ہے۔ ”آبِ حیات“ میں نقدونظر کا سلسلہ ذرا وسیع پیمانے پر ہے؛ اس لیے اسے خالصتاً تذکرہ نگاری کے زمرے میں نہیں رکھا جاتا۔ اس خاص تناظر میں دیکھا جائے تو”شعرائے چھچھ “ تذکرہ نگاری کے اوّلین دور یعنی بیاض سے اگلے مرحلے سے مماثل ہے؛ کیوں کہ اس تالیف میں مو ¿لف کی جانب سے شعرا کے کلام پر کوئی بحث موجود نہیں۔

ہمارے دوست ارشد علی ارشد فکشن رائیٹر ہیں اور نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ اُنھوں نے دوایک سال قبل ”شعرائے چھچھ “ کاانتخاب چھاپنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ میرے سامنے مرحوم راشد علی زئی کا کام موجود تھا؛ چناں چہ میں نے ارشدصاحب سے اس کا ذکر بھی کیا مگر اس تعمیری کام کے لیے حوصلہ بھی بڑھایا۔ راشد علی زئی صاحب نے بہ یک وقت کئی منصوبے شروع کر رکھے تھے۔ شعرائے چھچھ کے حوالے سے اُن کا وقیع کام ہے۔ اُنھوں نے گزشتگان و موجودگان کا کلام یک جاکیا مگر اُس کی اشاعت کی نوبت نہ آئی۔ ہمارے ضلع کی اہم ادبی شخصیت پروفیسر سید نصرت بخاری نے ایک ملاقات میں بتایاہے کہ یہ کام اُن کے پاس موجود ہے۔ اگر اہلِ چھچھ یا بخاری صاحب اُس کی اشاعت میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ایک زرّیں کام ہوگا۔ جہاں تک ارشد علی ارشدصاحب کے تذکرے کا تعلق ہے تواسے بھی نعمت سمجھنا چاہیے۔ کیوں کہ نمود ونمائش کے اس دور میں دوسروں کے لیے کام کرنا مشکل ہوا کرتا ہے۔ اُنھوں نے نہ صرف شعرا سے کلام حاصل کیا؛ بل کہ اپنی جیب سے مال لگا کر اوّلین تدکزہ بھی چھاپ دیا۔ اس تذکرے میں اکتیس شعرا کا کلام شامل ہے۔ ان شاعروں میں بعض ادیب قومی منظرنامے کی شناخت رکھتے ہیں اورکچھ تو بین الاقوامی سطح پر قبولیت کے درجے پر ہیں۔ بعض ایسے شاعر ہیں؛ جو اپنی بے نیازی کے باوصف منظر پر نہیںآتے۔ ایسے شاعروں کو یک جا کرکے قاری کے سامنے لانا اورتاریخ میں محفوظ کر دینا بجائے خودلائقِ تحسین ہے۔

بالعموم شعرا روایتی تساہل پسندی، تجاہلِ عارفانہ یا پھربے نیازی کے خوگر ہوتے ہیں۔ اُن سے کوئی چیز نکال لاناجوئے شیر نکالنے سے کم نہیں۔ اس لیے ان اکتیس شعرا کے کلام اور تعارف پر مشتمل یہ کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے۔ عبدالحئی خاکی، پروفیسرملک محمد اعظم خالد، عبدالحمیدخان عابد اور اقبال ساغر اس علاقہ کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ یہ لوگ نمود ونمائش سے جہاں بے نیاز ہیں؛ وہاں اپنے کلام کی اشاعت پر بھی متوجہ نہیں۔ اسی طرح بین الاقوامی سطح کے شاعر نعیم حیدر صاحب اور غزالہ مشعل صاحبہ سے چھچھ کاادبی حلقہ بالعموم ناشناس ہے۔ کچھ اور بھی نئے نام ہیں، جنھیں مقامی سطح پر نہیں جانا جاتا۔ یہ ارشد علی ارشد کا اعزاز ہے کہ اُنھوں نے یہ ہیرے کھوج نکالے اورایک مقام پر اکٹھا کرکے نسلِ نو کے لیے ایک قیمتی متاع بہ طور میراث سنبھال لی۔ اس کتاب کی دوسری اہمیت یہ ہے کہ اگر ان شخصیات پر کل تحقیقی کام کیا جاتا ہے تو بنیادی مواد کی دستیابی یہیں سے ہوجاتی ہے۔

مختلف شعرا کے کلام سے اندازہ ہوا کہ بہت سے پختہ کار شاعر ہیں؛ جنھیں قومی منظرنامے پر فخر کے ساتھ پیش کیاجاسکتا ہے۔ ان کے کلام میں جہاں ماضی کی دانش وبینش کا شاعرانہ اظہار ہے؛وہاں نئے منظر نامے کے مدرکات و ممکنات کو بھی سمویاگیا ہے۔ اسی طرح نئے شاعروں کی جبینیں امکانات سے روشن ہیں۔ تازہ کاری اور ندرت خیالی کے قرینے سے آشنا ان شاعروں کے سامنے نئے جہان ہیں۔ جدید دُنیا میں ابلاغی وسائل کی ارزاں دستیابی ان کے ہنر کو چہاردانگ عالم میں پھیلا اور منوا سکتی ہے۔ اس مخصوص تناظر میں اگر دیکھا جائے تو بھی اس کتاب کی افادیت و اہمیت نمایاں ہوتی ہے۔ نوجوان شاعر احمد عقیل کا نام کتاب میں نظرکار کے طور پرشامل ہونا بھی اہم حوالہ ہے۔ اُن کی نظرثانی سے یقینا نوآموز شاعروں کو فائدہ ہوا ہوگا۔ یہ ایک اچھی روایت ہے۔ تخلیق کار کی اجازت سے تھوڑی بہت تبدیلی ایک مثبت طرز ہے۔

تحقیق ایک نامیاتی عمل ہے۔ ہر آنے والا لمحہ نئے جہان کا دریافت گزار ہے۔ اس لیے اسے جان جوکھوں کا کام کہا گیا۔ یہاں کاتا اور لے دوڑی سے کام نہیں بنتا۔ ایک مستقل تپسیا سے گزرنا ہوتا۔ اس لیے کسی بھی تحقیق یا پھر ایسی تالیفات کو حتمی نہیں سمجھنا چاہیے۔ خود مرتب نے بھی اس امر کا اظہار کیا ہے کہ کہیں کوئی کمی رہ گئی ہو تو اُس کی نشان دہی کردی جائے۔ میں اسی رعایت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہوں گا کہ دوسرے ایڈیشن میں کچھ باتوں کو ضرور درست کرلینا چاہیے۔ ایک تو عبدالحئی خاکی صاحب کا سن ولادت نظر نہیں آیا دوسرا نوازشاہد صاحب کا سن ولادت مجھے درست نہیں معلوم ہوتا۔ وہ مجھ سے کہیں بڑے ہیں اور دی گئی تاریخ کے مطابق مجھ سے چار سال چھوٹے ہو گئے ہیں۔ مجھ پر یہ انکشاف ہوا کہ مرحوم راشد علی زئی صاحب نے بی ایس سی اور ماسٹرز کررکھا تھا؛ حالاں کہ پچیس سالہ طویل رفاقت میں، میں یہ نہ جان سکا۔ اسی طرح توقیر علی زئی کی کتاب ”راستے میں شام“ پروفیسر ڈاکٹر سید اشفاق حسین بخاری صاحب کی مرتبہ ہے اور میرے ادارے “تیسرا رُخ پبلشرز” سے شائع ہوئی ہے؛ جسے راشد علی زئی سے منسوب کردیاگیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر نذر عابد صاحب بین الاقوامی سطح کے ادیب اور بیسیوں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے استاذ ہیں۔ اُن کے تعارف میں لکھا گیا ہے: اعزاز و ایوارڈ کوئی نہیں۔ اگر اُنھوں نے کسرِ نفسی سے کہہ ہی دیاتھا تو اتنے پی ایچ ڈی لوگوں کا استاذ ہونا ہی بہت بڑا اعزاز ہے۔ ایک یونی ورسٹی میں ڈیپارٹمنٹ کا ایچ۔ او۔ ڈی اور کئی جامعات کی اسٹڈی کمیٹیوں کا ممبر کیوں کر اعزازات سے محروم ہوسکتا ہے؟ اس لیے میں اپنے محترم دوست ارشد علی ارشد سے گزارش کروں گا کہ وہ اس کتاب کی جلددوم جب لائیں تو اپنے دیباچے میں ان اُمور کی تصحیح کرلیں۔

’شعرائے چھچھ‘ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ اس کی ایک اہمیت تو اس کی اوّلیت کے باعث ہے اور دوسری موضوع کی وجہ سے۔ کیوں کہ اَب تک علاقہ چھچھ کے اتنے شاعر یک جا کہیں بھی دکھائی نہیں دیتے۔ اس لیے یہ کتاب خصوصاً علاقہ کی ادبی شخصیات کے پاس اور تعلیمی اداروں میں ہونی چاہیے۔ میں سفارش کرتا ہوں کہ تمام مقامی تعلیمی ادارے یہ کتاب حاصل کر کے اپنے کتب خانوں میں محفوظ کریں تاکہ نسلِ نو اپنے ان سپوتوں سے آشنا ہوسکے اور اس میں بھی جذبہ پیدا ہوا۔

کتاب کی طباعت اور کاغذ عمدہ ہے۔ قیمت نہایت مناسب یعنی پانچ سو روپے ہے۔ مصنف سے اس نمبر پر رابطہ کرکے حاصل کی جاسکتی ہے۔ 03315069797

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply