”راگنی کی کھوج” پر تبصرہ‎ — نوشین قمر

0

مورنی کے اندر بھی رقص ہوتا ہو شاید
مورنی بھی نکلی ہو راگنی کی کھوج میں
نوشین قمر

”دنیا سے بڑھ کر کسی کی تلاش” کی یہ کہانی جسےکئی جگہوں پر ”میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے” کئی رنگوں سے رنگی اور کئی پرتوں میں چھپی کہانی ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ کتاب میری محترم استاد، دوست اور ماں جیسی نے لکھی ہے۔ ابتدا میں کچھ تعارف کروانا اس لیے ضروری خیال کرتی ہوں کہ میں نے کیوں اس کتاب کو اس نظر سے دیکھا ہے، یا میرے خیالات کا بیان ایسا کیوں ہے۔ میری ملاقات ان سے پہلی بار ایم۔ اے کے انٹرویو والے دن 2013ء میں ہوئی اور آج کا دن ہے کہ اب تک ان کا پلو تھام رکھا ہے۔ بڑے کہتے ہیں کہ کسی کوسمجھنا یا جاننا ہو تو اس کے ساتھ سفر کرو۔ میرا معاملہ ان کے ساتھ کھانے، پینے، سونے، جاگنے، اٹھنے، بیٹھنے، دیکھنے غرض بہت سے حوالوں سے رہا ہے۔ ان کی شخصیت کے اتار چڑھاؤ، ان کے جذبات کا بدلاؤ، کہی پر ٹک جانا اور اسے کر کے دکھانا، اپنی دلیل اور گفتگو سے اگلے کو اپنی مٹھی میں کر لینا، خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہنا۔ ہمیشہ ایک تشنگی کا عنصر ان کی ذات میں موجود رہا ہے۔ کبھی بہتے دریا کی روانی جیسا تو کبھی خشک صحرا کی پیاس۔ یہ کتاب پڑھتے ہوئے میں نے صرف ان کی زندگی کا سفر طے نہیں کیا بل کہ اپنی زندگی کے اس وقت کو بھی جیا ہے جو کئی جگہوں پر مماثلت رکھتا ہے۔ ان سوالات کے جوابات تلاشے ہیں جن کی دوڑ دھوپ میں ترک کر چکی ہوں۔ حیرت کی ان انتہاؤں سے بھی گزری ہوں کہ ایسا بھی ہے، ایسا بھی ہو سکتا ہے اور ایسا بھی ہو چکا ہے۔ اس کتاب کا علم عالمی کانفرنس میں کتابوں کی رونمائی کے سیشن سے ہوا تھا۔ ایک دو روز بعد ہمارے وٹس ایب گروپ میں تین کتابوں کی تصاویر دکھائی دیں۔ ”راگنی کی کھوج، جیون دھارا، حاضر سائیں”۔ میں جسے ان دنوں کتابیں لینے اور پڑھنے کا جوش چڑھا تھا اکٹھی منگوا ڈالیں جو انتیس دسمبر 2020ء کو موصول ہوئیں۔ ابتدا ”حاضر سائیں” سے ہوئی جو ایک ہی دن میں تمام کر ڈالی۔ پھر جو ”راگنی کی کھوج” کا آلاپ پڑھا تو کئی دن صرف اسی آلاپ میں ڈوبی رہی اور پھر اگلا سفر شروع کیا۔ خبر ملی کہ میڈم ڈین کے عہدے پر فائز ہو چکی ہیں سو مبارک باد کا پیغام لکھا۔ ساتھ ہی شوخا بن کر یہ بھی لکھ ڈالا کہ میں یہ کتاب پڑھ چکی ہوں، یہ پڑھ رہی ہوں اور نانو کی یہ کتاب پڑھنی ہے۔ جھٹ ایک استادانہ جملہ موصول ہوا۔ ”کالیا اپنے تھیسز پر بھی توجہ دے تو بہتر ہے۔” وہ دن اور آج کا دن یہ کتاب ٹھپ کر رکھ دی کہ اب ڈاکٹر بن کر ہی اسے کھولوں گی۔ اللہ اللہ کر کے مقالہ اپنے آخری مراحل کو پہنچا تو اسے جھٹ سے اٹھایا اور مکمل کرنے کی ٹھانی۔ قلم کی کھدبد نے چین نہ لینے دیا۔ لکھو اس کتاب پر لکھو۔ جو سوچ رہی ہو لکھ ڈالو۔ سو لکھ ڈالا۔ منتظر ہوں یک لفظی پیغام ”نالائق” کب موصول ہو۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی رام کتھا سنانا شروع کر دوں مناسب یہی ہے کہ کتاب کی جانب جایا جائے۔

تو یہ کہانی ہے ”دنیا سے بڑھ کر کسی کی تلاش” کی۔ اس کہانی کی مورنی نے اس تلاش کو کیسے جھیلا ہے اور اس کے اندر ہوتےرقص نے اسے کہاں کہاں کی سیر کروائی ہے یہ اس کا ایسا بیان ہے کہ اسے آپ بیتی بھی کہا جا سکتا ہے اور جگ بیتی بھی۔ یہی وہ رقص ہے جو کبھی ایک سُر پہ تھرکتا مفتی جی کے سامنے کسی ضدی بچے کی صورت میں دکھائی دیتا ہے تو کبھی تین سروں کی مالا پہنے بابوں کی تلاش اور ان کی پرکھ کے پیمانے ڈھونڈتا پھرتا ہے۔ کبھی کوئی راگ ان کے اندر سوالات کا ناچ پیدا کر دیتا ہے تو کہیں دھیمے سر ان جوابات کی تلاش پر مایوس کر جاتے ہیں۔ کیا، کیوں اور کیسے پر مشتمل اس داستاں کا نچوڑ ان جملوں پر محیط ہے :

Ragni Ki Khoj Main / راگنی کی کھوج میں by Najeeba Arif”یہ علم و عقل کی رسائی سے باہر کی بات ہے۔ اسے صاحبِ حال ہی کچھ سمجھ سکتا ہے۔” (عبیداللہ درانیؒ)

”ہر شخص کو پتا ہوتا ہے کہ وہ اصل میں کیا ہے۔ خود کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔” (سلیم الرحمان)

ان کے اٹھائے، چبھتے سوال علم و عقل کی رسائی سے پرے ہی تو تھے۔ موجود ہے تو غیر موجود کیا ہے؟ ہے تو کیوں ہے؟ نہ ہوتا تو کیا ہو؟ اور یہی ہونے نہ ہونے کا ڈوبناا انہیں گہرے پانیوں میں ڈبکیاں لگاتا کئی ایسے ملاحوں کے پاس لے گیا جو جانتے تھے کہ مچھلی پروں سے نہیں اپنے وجود سے تیرتی ہے۔ والد کی کئی پرتوں میں چھپی شخصیت، والدہ کی عقلیت پسندی اور معروضیت۔ بچپن کی کشش اور گریز کی قوتیں، جذباتی آسودگی کی تلاش کیا خدا کی تلاش تک لے گئی۔ ”اگر ایسا نہ ہوتا اور میں آسودہ رہتی تو کیا خدا کی تلاش باقی رہتی۔”

شاید نہیں کہ جب دونوں ہاتھ ازل سے بھرے ملیں تو خالی گلاس بھی خالی نہیں لگتا۔ زندگی کے خلا، اس کے اتار چڑھاؤ، اس کا زہریلا پن ہی سوالوں اور تلاش کا موجب بنتا ہے۔ سوال تبھی سر اٹھاتے ہیں جب کہیں تشنگی ہو۔ تلاش کی دوڑ دھوپ کا لطف بھی تبھی لیا جا سکتا ہے اور ”میں اور تو” کی ہمارے ہی ہاتھوں کی لگی گنجلک ڈور کو کھولا جا سکتا ہے۔ اس راہ میں شکلیں بدلے عملی رنگوں کے پیراہن ہمیں مارک دکھاتے ہیں۔ توفیق کی عطا ہو تو سیدھی منزل، کہیں جھول ہو تو بھول بھلیاں۔

اسے اتفاق سمجھا جائے یا من گھڑت کہانی کہ بچپن کے واقعات پڑھتے اور والد والدہ کےساتھ ہونے والے مافوق الفطرت واقعات سنتے ایسا محسوس ہوا کہ یہ واقعات یہ حالات کچھ ہی تبدیلیوں کے فرق کے ساتھ محترمہ نجیبہ عارف پر نہیں نوشین قمر پر گزر چکے ہیں۔ اس چیز کو پڑھنا اسے محسوس کرنا تبھی اثر انگیز ٹھہرتا ہے کہ جب پڑھنے والا بھی ان واقعا ت سے گزر چکا ہو یا کم از کم ان سے نوہو رکھتا ہو۔ جیسے یہ میرے دل میں تھا۔ جیسے یہ میری کہانی تھی۔ جدید دور کا قاری اسے ایک تخلیقی بیانیے کے طور پر تو قبول سکتا ہے لیکن کئی جگہوں پر اسے یہ اصل سے دور کی کہانی محسوس ہوگی کیوں کہ ان پر یقین کرنا انہی کو آئے جو اپنی عملی زندگی میں اسے ہوتا دیکھ چکے ہوں یا جن پر بیت چکی ہو۔

”پدرم سلطان بود”، ”ڈبویا مجھ کو ہونے نے”، ”یہ توہم کا کارخانہ ہے” یہ ابواب ایسے واقعات پر مشتمل ہیں کہ جہاں میں نے اپنی زندگی جی ہے۔ اس شے کو محسوس کیا ہے کہ صرف مجھے ہی ایسے اوٹ پٹانگ خیالات نہیں آتے۔ صرف میں ہی نہیں خدا سے خدا کے وجود پر سوال اٹھاتی، اپنے ہونے کی گواہی مانگتی۔ اس مورنی کو یہ سہولت حاصل رہی کہ انہوں نے چیخ چیخ کر یہ سوال پوچھے، ملاحوں کو کُریدا۔ کم از کم ایک تسلی ضرور رہی ہو گی کہ کوشش تو کی اور میں جو اپنے اندر ہی کسی کونے میں بند یہ سوال اٹھاتی ایسی چیخ کا شکار ہے جو نہ نگلی جاتی ہے نہ اگلی۔ اب شاید اس دور میں آ چکی ہوں کہ جہاں ان کی تلاش ختم ہو چکی ہے۔ کبھی کوئی سوال سر نکالنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے عقلی دلیل دے کر دبا لیتی ہوں۔ یہ میرا کام ہی نہیں ہے۔ لیکن جب مورنی کے والد محترم کے جملے پڑھے تو قدرے سکون ملا، کچھ تسلی ہوئی:

”ڈیوٹیاں ہوتی ہیں پتر لیکن ضروری نہیں کہ انسان کو بتائی بھی جائیں۔ بس، جس سے کام لینا ہوتا ہے اس سے کام لے لیا جاتا ہے۔”

پھر میرے ذہن میں جھماکا ہوا کہ مورنی کے دفتر کی میز پر پڑی جس تصویر کو دیکھ کر کئی بار تم کہیں کھو سی جاتی ہو وہ تمہیں کیوں سنائی دیتی دکھائی دیتی ہے۔ کئی بار ہومیوپیتھی کا ذکر پڑئیوں کے قصے۔ مورنی نے دو تین با ر ایف سیون کی اس جگہ جانے کا بھی کہا لیکن میری لاپرواہیاں مجھے نہ لے جا سکیں۔ جسٹس جواد حسین خواجہ سے ملاقات کا ذکر مجھے لاہور میں ہوئی ان سے ملاقات کی جانب لے گیا۔ انہوں نے میری جانب دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔

”تسی کونڑ او۔ کشمیری او۔ گلگتی او۔ پنجابی او” جی میں سرائیکی ہوں۔

میں نے اس چیز کا ذکر سفر لاہور میں لکھا تھا کہ ان کے اردگردکا اورا انتہائی پر سکون ہے۔ یوں لگا جیسے وہ مجھ سے بات کرنا چاہتے ہوں کچھ کہنا چاہتے ہوں لیکن کہہ نہیں پائے۔ وہ کسی اور دنیا کے تھے۔ جب میری نظر سے مورنی کا ان پر لکھا مضمون گزرا تو حیرت ہوئی اور اب یہ واقعہ پڑھ کر بھی حیراں ہوں۔ کیا واقعی مجھے ان کی دوسری شخصیت کا علم ہو گیا تھا ؟۔ پھر نانو کے حوالے سے آنے والے خواب میں جہاں میں نے انہیں ہرے بھرے کھیتوں میں دیکھا تھا اور صبح آتے ہی مورنی کو یہ سناتے کہا تھا کہ دیکھیے گا نانو جلدی ٹھیک ہو کر گھر واپس آجائیں گی۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد وہ کلثوم انٹرنیشنل سے ڈسچارج ہو گئیں تھیں۔ ایسے اور بھی دو چار ایسے لمحات ہیں جہاں میں چونکی ہوں۔ اس کا حقیقت سے کیا تعلق ہے، اتفاق ہے یا کچھ اور بھی وللہ اعلم۔

ان ابواب میں سے ”پدرم سلطان بود” کے باب میں میری نظر میں بیانیے کے حوالے سے کچھ کمی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی وجہ میرے نزدیک یہ ہے کہ جہاں والد سے سوال جواب کا سلسلہ پیش کیا گیا ہے وہاں سوالات کرنےیا کسی بات اور واقعے کو سننے کے بعد سامع کی موجودگی کو ساتھ ساتھ ہی رہنا چاہیے تھا۔ ایک طویل پیراگراف کے بعد ایک مختصر سا جملہ اس گرفت کو توڑ دیتا ہے اور پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ واقعہ سنتے ہوئے سامع اتنا محو ہو چکا ہے کہ اس میں بولنے کی سکت ہی نہیں رہی۔ لیکن اسے پڑھتے ہوئے اس کی کمی کا احساس مجھے ضرور ہوا ہے۔

دلوں کا چور پکڑ کر انہیں بلیک میل کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔ یہ عنایت پروردگار کسی کسی پر کرتا ہے۔ دلیل، لہجہ، زباں کی چاشنی کیسے گرویدہ بنا لیتی ہے۔ سب غیر محسوس طریقے سے انجام پذیر ہوتا ہے اور سامنے والے کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوتی۔ مفتی جی یہ کام اس مورنی کو یہ کہہ کر سونپ گئےتھےکہ:

”تو دوجیاں تے اثر پا سکدی ایں، موئثر ثابت ہو سکدی ایں۔ بس تو کج کردی نئیں۔ دیکھ نقوش کا حسن پائیدار اثر نہیں رکھتا جو چیز لوگوں کو غلام بنا لیتی ہے وہ ذہنی حسن ہے۔ پرسنیلٹی کی محبت ساری عمر رہتی ہے۔ تو بھی اپنے اندر intellectual attraction پیدا کر۔ اور یاد رکھ خالی مطالعے سے حسن پیدا نہیں ہوتا ڈنک تو لکھنے میں آتا ہے۔”

یہی لکھنے کا ڈنک انہیں کہاں سے کہاں لے گیا۔ جن کا کہنا تھا کہ ”بے رنگ کو رنگنا آسان اور بدرنگ کو رنگنا کارے دارد”۔ وہ الگ بات ہے کہ ان میں جو ست رنگی آئی جسے وہ ہر کامیابی پر رقص کی صورت میں پر وں کو پھیلا کر ہر سو بکھیرتی ہیں وہ درانی صاحب کا لگا وہ ہاتھ تھا جسے وہ سب سے بڑی عطا سمجھ چکی تھیں۔ جن کا فائدے کا پلڑا بھاری ہے، عطائیں زیادہ ہیں اور شکوے کا محل ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ پھر جہاں وہ یہ کہتی ہیں کہ:

”شعوری طور پر کوشش رہتی کہ خود کو مجاز کے طلسم سے آزاد کر کے حقیقت کی دہلیز تک پہنچ جاؤں، لیکن سچ پوچھیں تو مجھے کبھی کامیابی نہ ہوئی۔ مٹی میرے پاؤں جکڑے رکھتی۔”

شاید یہی شعوری کوشش انہیں ان محبت کی لہروں تک رسائی میں آڑے آتی رہی جو وہ محسوس کرنا چاہتی تھیں۔ جنہیں بعد میں پتا چلا کہ تمام امکانات تو خود انسان کے اندر پنہاں ہیں اور اصل حقیقت ہم خود ہیں اور یہاں انہیں چپی لگ گئی۔ جسے قادر نگر کی خوشبو نے توڑ ڈالا۔ اور ایک کچا گولر ان کی یقینی بے یقینی کی کیفیت کے طور دے دیا گیا۔ اگر ان کی سلیٹ صاف ہوتی تو شاید جھٹ سے سب لکھ دیا جاتا لیکن خوش قسمتی بھی یہی کہ سوال جنم لیں تبھی اس کھوج کی تڑپ پچھلی گرد کو مٹا کر ایک نیا جہاں تخلیق کرتی ہے۔ پہلی سیڑھی پہ ہی منزل مل جائے تو ساتویں سیڑھی کیا منہ چڑھانے کو رہ جائے۔ مفتی جی نے جہاں انہیں کہا کہ تیری ” میں ” نئی مکدی۔ وہیں روبینہ قزلباش صاحبہ اس کی ایک اور تصویر دکھا گئیں۔

”ایگو کو قتل کرنا مقصود نہیں اس کا پھیلاؤ مقصود ہے۔ سمٹے تو دل عاشق پھیلےتو زمانہ ہے۔”

ہر کامیابی سمیٹنے والی، رشتوں کے حوالے سے مطمئن، ہر چیز سے آسودہ مورنی پھر بھی یہی کہتی پھرتیں کہ وہ خود کو ضائع کر رہی ہیں۔ عمر ریت کے ذروں کی طرح مٹھیوں سے نکلتی جا رہی ہے۔ کسی کام کو اصل ِ حیات نہ سمجھتیں۔ ہر سنگ میل عبور کرنے کے بعد انہیں ہے لگتا کہ ” یہ راستہ کوئی اور ہے ”۔ یعنی اک نقطے کی تشنگی کا احساس باقی تھا، اک پیاس کا صحرا موجود تھا۔ پڑیاں باندھنے کی خوبصورت نوکری ملی۔ پھر ایک تشنگی باقی رہی کاش اس پڑیوں والے کو دیکھ سکتیں۔ اور پھر یہاں اپنے سفر پر سکھ کا سانس لیتی ہیں کہ

”جن کو دیدار نہیں ہوتا مگر عشق ہوتا ہے”۔ ان کا یہ عشق کئی کام کروا گیا اور کئی کام کروا رہا ہے۔

سلیم الرحمان صاحب کے بقول یہ درانی صاحب کا قول ہے یا انہو ں نے کسی کی بات دہرائی ہے کہ ”تم ہر چیز سے بھاگ سکتے ہو لیکن کیا اپنے آپ سے بھی بھاگ سکو گے؟” یہی اس مورنی نے کیا ہے جو خود سے بھاگ کر خود ہی کی تلاش میں گم رہی۔ کبھی سیدھا راستہ چنا، کہیں ہٹ دھرمی دکھائی، تو کہیں ضد لگا کر بیٹھ گئیں۔ ”کہاں چلے سادھو رے” والی تیل، مرچوں اور ہلدی کی کہانی اس مورنی کی کھوج، قیام اور رقص کی کہانی ہے۔ اس سفر میں وجود کے ریشے کی بتی تو تیار ہے مگر تیل کی کمی ہے۔ مرچیں چکھی ضرور گئی ہیں مگر نگلی نہیں گئیں۔ ہلدی کا رنگ بھی موجود ہے مگر آدھے وجود پر اور آدھے وجود کا یہ پورا رقص ہی اس مورنی کے اس سفر پر نکلنے کی مکمل داستاں ہے۔ پڑھئیے سر دھنیے کہ یہ سات کے ہندسے سے آگے کی کتھا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply