کوہِ زرد —- ڈاکٹر وحیدالرحمن خاں کی نثری نظم

0

گھڑی کی
ٹِک ٹِک کرتی ساعتوں میں
پہاڑ کا دل
بُری طرح دھڑک رہا تھا
سہما ہوا تھا
قیامتِ فردا کا منتظر تھا
آخر وہ لمحہ آہی جاتا ہے
بس ایک جنبشِ ابرو سے
پہاڑ زرد ہو گیا
دھنکی ہوئی اون کی مانند
فرد فرد ہو گیا
پارہ پارہ ہو گیا
سبک سر ہو گیا
اور سارے عالم میں سنائی دینے لگا
ایک غلغلہ بے باک!
مگر اس سے بلند تر تھا
نعرہ تکبیر

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply