“ڈھاڈری” ایک تہذیبی ناول — ڈاکٹر خاور چودھری

0

کہانی کی کہانی انسان کے دورِ اول سے جڑی ہے۔ تخلیقِ آدم انسانی کہانیوں کا نقطہء آغاز ہے تو اس سے قبل دوسری مخلوقات کی کہانیاں بھی موجود ہیں۔ ہزاروں سال پرانی کہانیاں “پنج تنتر” ہوں یا چینی سورماوں کی داستانیں اور ہندوستانی بہادروں، راجوں مہا راجوں کے رس؛ الف لیلہ ہوں یا ہزار داستان، ہر کہیں قصے اور کہانی کا مضبوط حوالہ موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ قصے کہانیاں غیر مرئی اجسام اور مافوق الفطرت حوادث و واقعات سے جڑی ہوئی تھیں۔ ناول کا ظہور اسی داستانی فضا میں ہوتا ہے۔ یہ ناولٹی در اصل انسان کی اپنی کتھا تھی، جو پہلی بار ہیرو اور ولن دونوں روپ میں ظاہر ہوئی۔

اردو ناول نگاری کی ابتدا مقصدی ناولوں سے ہوئی جو بتدریج تاریخی، تہذیبی، نفسیاتی، رومانوی اور علامتی رقبوں کو محیط ہوئی۔ ان بوقلمونیوں نے قاری کے مزاج کو بھی متنوع بنا دیا؛ چناں چہ ہر طرح کا ناول قاری نے اپنے رویے اور رجحان کے مطابق قبول و رد کیا۔ اس تلون مزاجی کے باعث بھی ناول نئے منطقوں کی جانب خرام آمادہ ہوا۔ تراجم ہونے والے ناولوں نے بھی اردو ناول کی تہذیب اور تذہیب میں نمایاں کردار ادا کیا۔ یہ فطری بھی تھا کہ اس ادبی صنف کا تعلق بھی یُورپی ممالک سے تھا؛ پھر اس کے عناصر کی شناخت اور قواعد کی تجسیم بھی وہیں ہوئی تھی۔

اس مخصوص تناظر میں دیکھیں تو “ڈھاڈری” ناول کی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ بہ ظاہر یہ کہانی ایک کردار “بشام” کے گرد گھومتی ہے۔ اس لڑکے کا تعلق بلوچستان کے پسماندہ گاوں ڈھاڈر سے ہے۔ وہ ایک ایسا کھلنڈرا اور بدمزاج شخص ہے جو اپنی دُھن میں ہر اُس تجربے سے گزرنا چاہتا ہے جو اس کے حیطہ ء خیال میں آجاتا ہے۔ بہتے پانیوں کی مخالف سمت تیراکی محض اس لیے کرنا کہ اپنی دھاک بٹھائی جا سکے؛ زندہ سانپوں کو پکڑ کر اپنے ہم جولیوں کو ڈرانا دھمکانا؛ جلتی لالٹین کو اس انداز سے گھمانا کہ وہ ہزار فانوس کا لطف دے۔ نئی نئی دنیاوں کی طرف اپنی حیرت و جستجو کے باعث بلا خوف بڑھنا۔ شہر پڑھنے کے لیے آنا تو اپنی دیہی زندگی کی تاثیریت کو یہاں بھی غالب رکھنا؛ اوچھے دوستوں سے تعلق بنانا؛ پڑھائی کی بجائے سینما کے چکر کاٹنا اور سنوکر کے شوق میں سنوکر کی ٹیبل گھر میں نصب کروا لینا؛ کھیل کے دوران ہلڑ بازی کرنا اور جیتنے والے فریق پر فائر کردینا؛ کالج کی لڑکیوں کا پیچھا ہی نہیں کرنا بل کہ کئی لڑکیوں سے بہ یک وقت بوس و کنار کا تعلق بھی قائم کرلینا۔ ایسے میں ایک کردار کنول کی زندگی برباد کر ڈالنا لیکن اپنے آپ کو کسی بھی کام کا ذمہ دار نہ سمجھنا۔ بشام، جسے بارہا گھریلو مار، ڈانٹ ڈپٹ سمیت پولیس اور اساتذہ کے سخت رویے کا سامنا اسی باعث ہوتا ہے لیکن وہ ہر بار سزا بھگتنے کے بعد ایک ہی سوال اٹھاتا ہے: آخر میں نے کیا ہے کیا ہے جو میرے ساتھ ایسا سلوک ہوا؟ اس نفسیاتی جواز کے باعث وہ اپنے علاوہ ہر شخص کو مجرم خیال کرتا ہے۔ اسے کسی کی تباہی کا احساس تک نہیں ہوتا لیکن یہی گرم رو لڑکا ایک حساس دل بھی رکھتا ہے جو غیر ملکی سیاح کو چھت فراہم کرتا ہے؛ سنبل کے عشق میں گرفتار ہو کر اپنی تعلیم تک ادھوری چھوڑ دیتا ہے؛ ماں کی بیماری پر لرز اٹھتا ہے۔

ناول میں بہت سلیقے کے ساتھ بلوچستان کی تہذیبی و ثقافتی زندگی کو بیان کیا گیا ہے۔ خواتین کے رسم و رواج؛ بچوں کے کھیل؛ مختلف علاقوں کے موسم؛ دوسرے ملکوں کی سرحدوں سے متصل ہونے کی وجہ سے غیر قانونی تجارت؛ اہم خطہ ہونے کے باعث عالمی قوتوں کی حریصانہ نظریں؛ سیاحوں کے رُوپ میں جاسوسوں کی موجودگی کا احساس؛ عدمِ مساوات کے باعث احساسِ محرومی سے پیدا ہونے والے جذبات اور انھیں کچلنے جیسے اقدامات؛ عالموں جنگوں کے اثرات سے بلوچستان کے عامة الناس کی بدلتی ہوئی تہذیبی قدریں؛ مقامی آبادی کا مہم جوئیانہ کردار اور اپنی انا کی تسکین اور مقاصد کی تکمیل کے لیے بلیم گیم کھیلنے کا رجحان اور پھر ان سے پھیلنے والے گمبھیر مسائل کا بیان ناول نگار نے نہایت عمدگی اور بصیرت کے ساتھ کیا ہے۔

مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو ناول جہاں ڈھاڈر کی تاریخ سمیت ایک مخصوص دور کا یاد نگار ہے؛ وہاں تہذیبی زندگی کا بہت دلکش بیان گزار بھی ہے۔ اس ناول کا تیسرا پہلو نفسیاتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک نوجوان بشام کی شخصی زندگی کو محیط ہے لیکن یہی عوامل اور علل بڑے منطقے پر منطبق کیے جا سکتے ہیں۔
ناول کی ایک بڑی خوبی “ورتھ ریڈنگ” ہے۔ ایک بار پڑھنا شروع کریں تو مکمل کر کے چھوڑیں۔

“ڈھاڈری” کا پلاٹ مربوط ہے۔ سارے واقعات متصل اور ایک دوسرے میں پیوست ہیں؛ البتہ اختتامیہ ڈرامائی ہے، جو ناول کو ہزار منطقوں سے کھینچ کر رومان پرور ماحول میں لے آتا ہے۔ جہاں کنول موت کے منھ میں جانے سے قبل محبوب سے ملنا چاہتی ہے۔ محبوب واپڈا کا معمولی ملازم ہے؛ جب کہ کنول ایک بارسوخ کسٹم کلکٹر کی بیٹی۔ دمِ نزع ہے؛ لڑکی کی ماں، بشام کی بیوی عروسہ کو اعتماد میں لے کر اپنی بیٹی کے محبوب کو بلاتی ہے۔ ہسپتال کا خاص کمرہ، جہاں آخری سانسیں گنی جا رہی ہیں۔ ایسے میں کنول اپنے محبوب کا ہاتھ پکڑ کر موت کے منھ میں چلی جاتی ہے۔

میں محمد وسیم شاہد کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ اُنھوں نے اپنی زمین سے جڑے ہوئے مسائل اور خدشات و امکانات کو محبت اور خوش سلیقگی سے پیش کیا۔
ناول کا دیباچہ نامور فکشن رائیٹر ڈاکٹر طاہرہ اقبال صاحبہ نے بہت محبت سے لکھا ہے۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply