موسمی آفتیں: یہ مشکل ہوگا (دوسرا باب) — بل گیٹس

0

ترجمہ: ناصر فاروق

اس باب کا عنوان دیکھ کر پریشان مت ہونا! مجھے امید ہے کہ تم پر یہ واضح ہوچکا ہوگا کہ میں پُر یقین ہوں، ہم ضرور ”صفر کاربن“ تک کا سفر طے کرلیں گے۔ میں کوشش کروں گا کہ واضح کرسکوں، میں ایسا کیوں محسوس کرتا ہوں۔
مگر یہ بات بالکل صاف ہوجانی چاہیے کہ ’موسمی تبدیلی‘ جیسا مسئلہ بغیر اخلاص حل نہ ہوگا۔ اس راہ کی ضرورتوں کو سمجھنا ہوگا۔ رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا۔ ذہن میں اس خیال کے ساتھ کہ ہم حل تلاش کرلیں گے، ہم وہ راستے تیزی سے اختیار کریں گے جوساری توانائی کو قدرتی ایندھن سے پاک کردیں گے۔ پہلے اُن سب سے بڑی رکاوٹوں کا جائزہ لیتے ہیں، جن کا ہمیں سامنا ہے۔

قدرتی ایندھن پانی کی طرح ہے
میں آنجہانی لکھاری ڈیوڈ فوسٹر ویلس کا مداح ہوں (ان دنوں اُن کا ضخیم ناول Infinite Jest بھی پڑھ رہا ہوں)۔ سن 2005 میں Kenyon College کی تقریب میں ویلس نے اپنی مشہور افتتاحی تقریر کی تھی، اس کا آغاز اس کہانی سے کیا تھا: ”دو جوان مچھلیاں ساتھ ساتھ سفر کررہی تھیں، راستے میں ایک سینیئر مچھلی سے اُن کی ملاقات ہوگئی، جو مخالف سمت میں جارہی تھی۔ اُس نے انھیں دیکھ کر ہیلو ہائے کیا اور پوچھا ’پانی کیسا ہے؟‘۔ اُن دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور تعجب سے پوچھا ’یہ پانی کس بلا کا نام ہے؟‘۔ ویلس آگے وضاحت کرتا ہے کہ سب سے واضح اور اہم ترین حقیقت اکثر وہ ہوتی ہے، کہ جسے دیکھنا سب سے مشکل اور جس پر بات کرنا سب سے دشوار ہوتا ہے۔“

قدرتی ایندھن بھی ایسے پانی کی مانند ہے، کہ جس میں ہم زندگی بسر کرتے ہیں مگراُس کا شعور نہیں رکھتے۔ اسے سمجھنے کے لیے روزمرہ کی ضرورتوں اور اشیاء پرنظر کرنے کی ضرورت ہوگی۔

کیا آج صبح تم نے دانت برش کیے تھے؟ یہ برش پلاسٹک سے بنایا جاتا ہے، جسے پیٹرولیم سے تیار کیا جاتا ہے۔ ناشتے میں جوٹوسٹ اور دلیہ تم کھاتے ہو، اُس کی پیداوار میں گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ انہیں ٹریکٹر کے ذریعہ بویا جاتا ہے، جو فولاد سے بنا ہوتا ہے، اورفولاد کی تیاری میں کاربن کا اخراج ہوتا ہے، ٹریکٹر خود بھی گیسولین سے چلتا ہے۔ اگر تم دوپہر کے کھانے میں برگر کھاتے ہو، جیسا کہ میری عادت ہے، اس میں شامل گوشت کی تیاری میں بھی گیس استعمال ہوتی ہے، اور جس جانور کا گوشت ہم استعمال کرتے ہیں، اُس کے فُضلے میں میتھین شامل ہوتی ہے، جسے ہم بہت سے کاموں میں استعمال کرتے ہیں۔ جو کپڑے تم پہنتے ہو، کپاس سے تیار ہوتاہے اور اس کی پیداوار میں بھی کاربن کا اخراج ہوتا ہے۔ پولسٹرجو ایتھی لین سے تیارہوتا ہے، یہ پیٹرولیم سے ہی برآمد ہوتی ہے۔ اگر تم نے ٹشو پیپر استعمال کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ کہیں بہت سے درخت کاٹے گئے ہیں، اور دھواں خارج ہوا ہے۔

اگر تم کسی اپارٹمنٹ کی عمارت میں رہائش پذیر ہو، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہرجانب سے سمینٹ میں گھرے ہوئے ہو۔ اگر لکڑی سے بنے کسی مکان میں رہتے ہو، توظاہر ہے اس کے لیے جنگل کاٹے گئے ہوں گے، یہ کام گیس سے چلنے والی مشین نے کیا ہوگا، جوفولاد اور پلاسٹک سے بنائی گئی ہے۔ اگر تمہارے گھر اور دفتر میں گرمی یا ٹھنڈک کے لیے ائیر کنڈیشنگ کی جارہی ہے، اس کا مطلب ہے کہ بہت سی توانائی ان کاموں پر صرف ہورہی ہے۔ اگر تم کسی پلاسٹک یا دھات کی کرسی پر بیٹھ کر کام کرتے ہو، اس کا مطلب مزید کاربن کا اخراج ہوا۔

یوں، ٹوتھ برش سے عمارتی سامان تک سب کچھ کہیں اور سے ٹرک، ریل، یا جہاز پر منتقل کیا گیا ہے، یہ سب قدرتی ایندھن پرہی چلتے ہیں، اور کاربن خارج کرتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، قدرتی ایندھن ہرطرف ہے، ہم اس میں زندگی بسر کررہے ہیں۔ صرف تیل کی مثال لیجیے: ساری دنیا ایک دن میں چار ارب گیلن استعمال کرتی ہے۔ جب آپ کوئی پیداوار اس عظیم مقدارمیں استعمال کرتے ہیں، توراتوں رات اسے ترک نہیں کرسکتے۔

ایک اور وجہ ہے کہ قدرتی ایندھن کا استعمال ہر جگہ نظر آتا ہے۔ یہ وجہ سستی توانائی ہے۔ جیسا کہ، تیل سافٹ ڈرنک (امریکا یورپ میں) سے بھی سستا ہے۔ جب میں نے یہ بات پہلی بار سنی تواپنے کانوں پر یقین نہ آیا، مگر یہ سچ ہے۔ ایک بیرل 42گیلن تیل پرمشتمل ہوتا ہے، تا دم تحریر فی بیرل تیل 42ڈالر تھا، یعنی فی گیلن ایک ڈالر ہوا۔ جبکہ Costco آٹھ لیٹر سوڈا چھ ڈالر میں بیچتا ہے، یعنی 2.85 فی گیلن۔ خواہ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آبھی جائے، نتیجہ قریب قریب یہی رہے گا۔ دنیا بھر کے لوگ روزانہ چار ارب گیلن وہ پراڈکٹ استعمال کرتے ہیں جو ایک ڈائیٹ کوک سے بھی سستی ہے۔

یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں کہ قدرتی ایندھن سستا ہے!یہ بہت بڑی مقدار میں دستیاب ہے اور آسانی سے ہرجگہ مل جاتا ہے۔ ہم نے دنیا بھر میں بڑی بڑی صنعتیں قائم کی ہیں جوتیل تلاش کرتی ہیں، اُسے صاف کرکے قابل استعمال بناتی ہیں، اور ہر جگہ مہیا کرتی ہیں۔ یہ نئی نئی ایجادات بھی کرتی رہتی ہیں تاکہ قدرتی ایندھن کی کم سے کم توانائی زیادہ سے زیادہ استعمال میں لائی جاسکے۔ اس طرح قدرتی ایندھن کی قیمتیں اس کے نقصانات اوجھل کردیتی ہیں۔ اس مسئلہ کے حل کا خیال ہی سراسیمہ کردینے والا ہے۔ مگر بالکل بے بسی محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس پہلے ہی صاف ستھری توانائی اور اسے از سر نو استعمال کرنے کے کئی ذرائع موجود ہیں۔ ہم حل کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔ اہم کام یہ ہوگا کہ کسی طور صاف ستھری توانائی سستی اور قابل رسائی بنائی جاسکے، تاکہ یہ جدید ٹیکنالوجی سے قدم ملاکر آگے بڑھ سکے۔ اس کے لیے ہمیں اپنی رفتار بڑھانی ہوگی۔

یہ محض امیر دنیا کا مسئلہ نہیں۔ یہ تقریبا ہر جگہ ہے۔ لوگ طویل اور صحت مند زندگی جی رہے ہیں۔ معیار زندگی بلند ہورہا ہے۔ گاڑیوں، سڑکوں، عمارتوں، ریفریجریٹرز، کمپیوٹرز، اور ائیر کنڈیشنرز کی مانگ بڑھتی جارہی ہے۔ اس طرح اُس توانائی کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے، جوان سب میں استعمال ہوتی ہے۔ یوں، فی فرد توانائی کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے اور فی فرد کاربن کا اخراج بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ توانائی کی یہ ضرورت پوری کرنے کے لیے ذرائع پیدا کیے جارہے ہیں۔ ونڈ ٹربائن، سولر پینل، نیوکلئیر پلانٹس، اور بجلی ذخیرہ کرنے کی تنصیبات میں اضافہ کیا جارہا ہے، جو زیادہ سے زیادہ گیسیں خارج کررہے ہیں۔ بات صرف اتنی سی نہیں ہے کہ ہر فرد زیادہ سے زیادہ توانائی صرف کررہا ہے بلکہ افراد کی اپنی تعداد بھی بڑھتی چلی جارہی ہے۔۔ انسانی آبادی صدی کے آخر تک دس ارب ہوجائے گی، اور یہ زیادہ تر اُن شہروں میں بڑھ رہی ہے جوکاربن زدہ (جہاں سب سے زیادہ آلودگی ہے) ہیں۔ شہری آبادی میں اضافہ ہوش ربا ہے۔ 2060 تک ان شہروں میں عمارتوں کی تعداد اور حجم دگنا ہوجائے گا۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ جیسے چالیس سال تک ہرماہ ایک نیا نیویارک شہر آباد کیا جائے۔ یہ بیشتر ترقی پذیر ملکوں چین، بھارت اور نائجیریا میں ہورہا ہے۔

یہ ہر اُس شخص کے لیے اچھی خبر ہے جس کا معیار زندگی بلند ہورہا ہے، مگر یہ اُس موسم کے لیے بُری خبر ہے جس میں ہم سب رہ رہے ہیں۔ سوچیے، تقریبا چالیس فیصد کاربن کا اخراج صرف 16فیصد امیر ترین آبادی کے ہاتھوں ہورہا ہے۔ باقی 84فیصد آبادی جس دن سولہ فیصد کے معیار زندگی پرپہنچے گی، تب کیا ہوگا؟

سن 2050تک توانائی کی عالمی مانگ پچاس فیصد بڑھ جائے گی، اگر دھوئیں کا کاروبار یوں ہی چلتا رہا، توکاربن بھی اسی تناسب سے بڑھ جائے گی۔ اگر یہ دنیا معجزاتی طورپرآج ہی ”صفر کاربن“ تک پہنچ بھی جائے، باقی کی دنیا اسی طرح کاربن خارج کرتی رہے گی۔
ٰ

یہ کوشش غیر عملی اور غیر اخلاقی ہوگی کہ ترقی پذیر دنیا کو معاشی ترقی سے روک دیا جائے۔ ہم یہ توقع نہیں کرسکتے کہ غریب لوگ صرف اس لیے ہمیشہ غریب ہی رہیں، کیونکہ امیر دنیا بہت زیادہ کاربن خارج کرتی ہے، اور اگر ہم ایسا چاہیں بھی توکوئی راہ نہیں نکلتی۔ اس کے بجائے، ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ کم آمدنی والوں کی معاشی مدد کچھ یوں کی جائے کہ ’موسمی بگاڑ‘ پیدا نہ ہو۔

ہمیں صفر تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے زیادہ سے زیادہ صاف ستھری توانائی پیدا کرنی ہوگی، اور کاربن کا اخراج کم سے کم کرنا ہوگا۔ یہ ہمیں جلد سے جلدکرنا ہوگا۔

بد قسمتی سے ہم تاریخ کے غلط رخ پر کھڑے ہیں۔ اگر ماضی کی تبدیلیوں پرنظر کی جائے، ’جلد از جلد‘ والی بات دور از کار معلوم ہوتی ہے۔ ہم آج سے پہلے بھی ایک سے دوسری توانائی کی جانب منتقل ہوئے ہیں۔ اس عمل میں دہائیاں لگتی ہیں۔ اس موضوع پر Vaclav Smil کی کتابیں Energy Transitions: History, Requirements, Prospects اور Energy Myths and Realities بہترین ہیں۔

انسانی تاریخ کے بیشتر ادوار میں، ہم نے توانائی کے لیے اپنے زور بازو پر بھروسہ کیا ہے، مویشیوں اور لکڑیوں کی آگ سے مدد لی ہے۔ سن 1890 تک آدھی دنیا کا بھی قدرتی ایندھن پر انحصار نہ تھا۔ ایشیا اور صحرائے افریقا کے کئی حصے ہیں جہاں آج بھی قدرتی ایندھن کا بطور توانائی استعمال نہ ہونے جیسا ہے۔ تیل نے بھی توانائی کا بڑا حصہ بننے میں بڑا وقت لیا ہے۔ اس کی کمرشل پیداوار 1860 میں جاکر شروع ہوئی ہے۔

قدرتی گیس کا استعمال بھی اسی شرح سے آگے بڑھا۔ سن 1900 میں یہ دنیا کی توانائی کا صرف ایک فیصد تھی۔ ستر برس میں یہ 20 فیصد تک پہنچی۔ جبکہ نیوکلئیر توانائی نسبتا تیز رفتاری سے آگے بڑھی ہے، یہ 27 سال میں 10 فیصد پر پہنچی۔ 1840 سے 1900 تک کوئلہ نے 5 فیصد سے 50 فیصد تک توانائی دنیا کو پہنچائی۔ جبکہ 1930 سے 1990 تک قدرتی گیس 20 فیصد تک گئی۔ مختصرا یہ کہ توانائی کی منتقلی نے ماضی میں طویل وقت لیا ہے۔

صرف تیل کے ذرائع دستیابی ہی مسئلہ نہیں رہے، بلکہ نئی اقسام کی گاڑیوں کے استعمال میں بھی ہمیں وقت لگاہے۔ 1880 میں پہلی بار انٹرنل کمبسشن انجن متعارف کروایا گیا تھا۔ اس سے پہلے کتنے شہری خاندانوں کے پاس گاڑیاں تھیں؟ تیس سے چالیس سال امریکا میں، اور ستر سے اسی سال برطانیہ میں، گاڑیوں کا استعمال عام ہوا۔

اس طرح ہم ماضی میں ایک سے دوسرے ذریعہ توانائی کی جانب بڑھے، ہر نیا ذریعہ توانائی زیادہ سستا اور زیادہ طاقت ور تھا۔ ہم نے لکڑی چھوڑ کرکوئلہ جلانا شروع کیا کیونکہ ایک پاؤنڈ کوئلہ ایک پاؤنڈ لکڑی سے بہت زیادہ حرارت اور روشنی پیدا کررہا تھا۔ امریکا سے نئی مثال لے لیتے ہیں، جہاں بجلی کی پیداوار کے لیے کوئلہ کے بجائے قدرتی گیس استعمال کی جاتی ہے کیونکہ ڈرلنگ کے نئے طریقوں نے اس کا حصول بہت سستا بنادیا ہے۔ یہ ماحولیات کا نہیں معاشیات کا معاملہ ہے۔ جبکہ چند سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ قدرتی گیس کوئلے کی نسبت بہت زیادہ نقصان پہنچاتی ہے۔

غرض، یہ لگتا ہے کہ توانائی کے نئے ذرائع بھی استعمال میں فطری وقت لیں گے۔ ایجادات اور ٹیکنالوجی میں جدت کے بغیر ”صفر کاربن“ تک جلدپہنچنامحال ہوگا۔ ہمیں غیر فطری رفتار سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اس میں پبلک پالیسی اور ٹیکنالوجی کا بڑا الجھاؤ بھی سامنے آئے گا۔

کوئلے کے پلانٹ کمپیوٹر چِپ نہیں ہیں
تم نے شاید ’مور کے قانون‘ کے بارے میں سن رکھا ہو، 1965 میں گورڈن مور نے پیش گوئی کی تھی کہ مائیکرو پراسیسرز ہر دو سال میں اپنی طاقت دگنی کریں گے۔ گورڈن کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی، اور مور کا یہ قانون ایک اہم وجہ ہے اُس ترقی کی، جو سافٹ وئیر صنعت نے کی۔ جوں جوں پراسیسرز طاقتور ہوتے گئے، بہتر سے بہتر سافٹ وئیر سامنے آئے، کمپیوٹرز کی مانگ برھتی چلی گئی، اور ہارڈوئیر کمپنیاں بہتر سے بہتر مشینیں تیار کرتی چلی گئیں، اور یہ سلسلہ ترقی کرتا چلا گیا۔

مور کے قانون نے اپنا کام خوبی سے کیا، اورکمپنیاں نئے رستے ہموار کرتی چلی گئیں۔ نئے ٹرانسسٹرز بنائے گئے، چھوٹے چھوٹے سوئچ کمپیوٹر کو زیادہ سے زیادہ قوت مہیا کرتے گئے، اور اس کا حجم کم سے کم ہوتا چلا گیا۔ ہر چپ میں زیادہ سے زیادہ ٹرانسسٹرز کی گنجائش بنتی رہی۔ آج کی کمپیوٹر چپ میں 1970کی چپ کے مقابلہ میں دس لاکھ زائد ٹرانسسٹرز سماچکے ہیں، یعنی یہ دس لاکھ گنا زیادہ طاقت ور ہوچکی ہے۔

مور کے قانون کی ترقی دیکھتے ہوئے کچھ لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید توانائی کی ترقی میں بھی یہی رفتار عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

کمپیوٹر چپ ایک outlier ہے، کہ جس میں زیادہ سے زیادہ ٹرانسسٹرز سماسکتے ہیں۔ مگر ہمارے پاس ایسا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ گیس کی مقدار دس لاکھ گنا گھٹا کر کارکردگی برقرار رکھی جاسکے۔

یاد کیجیے، جب گاڑی کا پہلا ماڈل Tجسے ہینری فورڈ پراڈکشن نے تیار کیا تھا، ایک گیلن میں 21 میل سفر طے کرتی تھی۔ آج بہترین ہائبرڈ کار ایک گیلن میں 58 میل چل جاتی ہے۔ ایک صدی سے بھی زائد عرصہ میں تیل والی صنعت تین گنا سے کچھ کم ہی ترقی کرسکی ہے۔ سولر پینل بھی دس لاکھ گنا زیادہ کارکردگی کے حامل نہیں ہوسکیں ہیں۔ جب 70 کی دہائی میں کرسٹیلین سیلیکون سولر سیل متعارف کروائے گئے تھے، وہ سورج کی روشنی کا صرف 15 فیصد بجلی میں ڈھال سکے تھے۔ آج وہ 25 فیصد بجلی پیدا کررہے ہیں۔ یہ اچھی کارکردگی ہے مگرمور کے قانون سے بہت دور ہے۔

ٹیکنالوجی توانائی صنعت کوکمپیوٹر صنعت کی سی رفتار سے نہیں بدل سکتی۔ بلاشبہ، توانائی کی صنعت کا حجم بہت بڑا ہے۔ یہ سالانہ پانچ کھرب ڈالربنتا ہے۔ یہ روئے زمین کے سب سے بڑے کاروبار زندگی میں سے ایک ہے۔ ظاہر ہے، کسی بھی بہت بڑی اور پیچیدہ صورتحال کا بدل جانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

جانے انجانے ہم توانائی کی صنعت میں بہت کچھ داؤ پر لگاچکے ہیں۔ اگر تم کوئلے کے ایک پلانٹ پر ایک ارب ڈالر سرمایہ لگاتے ہو، تو اگلے پلانٹ کی تعمیر میں بھی اتنا ہی سرمایہ لگانا پڑے گا۔ تمہارے سرمایہ کاردوست توقع کریں گے کہ یہ پلانٹ کم از کم تیس سال تک منافع کماکر دیتا رہے گا۔

اگر کوئی بہترٹیکنالوجی کے ساتھ تمہارے پاس آبھی جائے، توتم اپنا پرانا پلانٹ بند نہیں کروگے، الا یہ کہ کوئی بہتر مالی پیشکش کردی جائے یا حکومتی دباؤ پڑجائے۔

معاشرہ بھی ”توانائی“ کے کاروبار میں کم ہی کوئی رسک برداشت کرتا ہے۔ اُسے قابل بھروسہ خدمات چاہیئں۔ بجلی کی معیاری اور پائیدار فراہمی جاری رہنی چاہیے۔ آبادیوں کونیوکلئیر پلانٹس اورکوئلے کی آلودگی سے پاک ہونا چاہیے، محفوظ ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے، ہم سب کو قابل بھروسہ اور بے ضرر ذریعہ سے توانائی چاہیے۔

ہمارے قوانین اور رقاعدے قابل عمل نہیں رہے
ٹیکس سے لے کرماحولیات پرہمارے قاعدے قوانین حکومت کی پالیسیوں کے تابع ہیں، اور یہ ریگولیشنز عوام پربھرپور اثرا نداز ہوتے ہیں۔ ہم ”صفر کاربن“ تک نہیں پہنچ سکتے، کہ جب تک یہ قواعد درست نہ کرلیں، اور ہم اس سے ابھی بہت دور ہیں۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ قاعدے قوانین بنائے گئے تھے، موسمی تبدیلیاں اور اس کے اثرات پیش نظر نہ تھے۔ ضابطے بنانے والوں کی نظر دیگر ماحولیاتی مسائل پر تھی، جبکہ آج ہم ان قواعد کے ذریعہ کاربن اخراج کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جو ظاہر ہے ایک ناکام کوشش ہے۔ اس طرح کی کوشش میں بہت سے ضروری پہلونامکمل رہ جاتے ہیں، اور کاربن کا سدباب ممکن نہیں ہوپاتا۔ اس طرح موجود ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کی ضرورتیں قطعی طورپر پوری نہیں ہوتیں۔

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہر نئی حکومت نئی ماحولیاتی ترجیحات کے ساتھ وارد ہوتی ہے، اور بہت سے چلتے ہوئے منصوبے رک جاتے ہیں، اور اُن کی جگہ نئے منصوبے شروع ہوجاتے ہیں۔ جبکہ توانائی کے شعبہ میں جدتیں دہائیوں بعد ہی کوئی مفید نتائج سامنے لاتی ہیں۔ ایک ایک آئڈیے پر کئی سال کام ہوتا ہے تب جاکر کوئی کارنامہ سامنے آتا ہے۔ مگر نت نئی حکومتوں میں دن گن گن کرکام کیے جاتے ہیں، جوپائیدار ثابت نہیں ہوتے۔

لہٰذا، ہماری موجودہ پالسیاں کاربن اخراج کے معاملہ میں بے کار ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم پالیسیاں بدل نہیں سکتے یا انہیں بہتر نہیں بناسکتے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم یہ کرسکتے ہیں، مگر یہ مشکل ضرور ہوگا۔ نئی پالیسی کی تشکیل کئی مراحل سے گزرتی ہے۔ اسے رائے عامہ کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ عدالتی عمل سے گزرنا ہوتا ہے۔ قانونی چیلنج کا جواب دینا ہوتا ہے۔ ان سب مراحل کے بعد ہی یہ پالیسی قابل عمل قرار پاتی ہے۔

بات دراصل یہ ہے کہ ماحولیات کے مسئلہ پرایسا اتفاق رائے نہیں پایا جاتا جیسا کہ شاید آپ سوچ رہے ہیں۔ میں اُن 97فیصد سائنس دانوں کی بات نہیں کررہا، جواتفاق کرتے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں نے ماحولیات کو تباہی کے دہانے پرپہنچادیا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ایک چھوٹا مگر مؤثر طبقہ وہ بھی ہے جوسائنس کا قائل نہیں۔ یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ موسمی تبدیلی پر بہت بڑی سرمایہ کاری ضروری نہیں۔

بہت سے لوگ یہ بھی کہتے ہیں، کہ چلیے مان لیتے ہیں موسم بدل رہا ہے مگر اس تبدیلی کو روکنے یا قابل قبول بنانے کے لیے بہت بڑی سرمایہ کاری کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں دیگر زیادہ اہم کاموں پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے جیسے تعلیم اور صحت۔ اس پر میں یہی کہوں گا کہ اگر ہم ”صفر کاربن“ کی جانب نہ بڑھے، توپھرہماری زندگیوں میں ہی موسمی تباہی آجائے گی۔ اس سے بھی بڑھ کرتباہ کاری کا سامنا پوری ایک نسل کو ہوگا۔ اگر موسمی تبدیلی کو ایک حقیقی خطرہ نہ سمجھا گیا تو یہ اکثر لوگوں کے لیے بہت بُرے حالات پیدا کردے گی۔ یہ صحت اور تعلیم جتنا اہم مسئلہ ہے۔

موسمی تبدیلی پرعالمی اتفاق رائے انتہائی مشکل سے دوچار ہے۔ ہرملک کو ہر مسئلہ پر ہمنوا بنانا بہت مشکل ہے۔ خاص طورپر جب بات ’کاربن اخراج‘ پر قابوپانے کی ہو۔ کوئی بھی اپنے حصہ کی کاربن گھٹانا نہیں چاہتا۔ سب چاہتے ہیں کہ پہلے دوسرے کاربن اخراج کم کریں، پھر وہ بھی کردیں گے۔

یہی وجہ ہے کہ Paris Agreement ایک بہت اہم کامیابی ہے، کہ جس میں 190ملکوں نے 2030 تک تین سے چھ ارب ٹن کاربن گھٹانے کا عہد کیا ہے۔ یہ مجموعی سالانہ اخراج کا بارہ فیصد ہے۔ یہ نقطہ آغاز ہے، مگر اس اعتبار سے خوش آئند ہے کہ عالمی تعاون ”ممکن“ دکھارہا ہے۔ اگرچہ امریکا 2015 میں اس معاہدے سے الگ ہوگیا تھا۔

حاصل کلام یہ ہے کہ ہمیں ایک بڑی کوشش کرنی ہوگی۔ ایسی کوشش جوپہلے کبھی نہ کی گئی ہو۔ سائنس اور انجینئرنگ میں بے مثل کارنامے انجام دینے ہوں گے۔ ہمیں وہ اتفاق رائے قائم کرنا ہوگا، جس کا ابھی کہیں وجود نہیں ہے۔ نئی پبلک پالیسیاں آگے بڑھانی ہوں گی۔

ہرگز مایوس نہ ہوں! ہم یہ کرسکتے ہیں۔ بہت سارے آئڈیاز پر کام ہورہا ہے۔

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیں

اس سلسلہ کی پچھلی تحریر اس لنک پہ ملاحظہ کریں

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply