اعجاز رحیم کا گُلشنِ اسرار — فتح محمد ملک

0

’’گلشنِ اسرار‘‘ کا پہلا رزمیہ محمود شبستری نے آج سے ۶۰۰ سال پیشتر قلمبند کیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ہلاکو خان نے ۱۲۵۸ء میں بغداد فتح کر کے اہلِ دانش کا قتلِ عام کیا تھا اور کتابیں نذرِ آتش کر دی تھیں۔ اخلاقی اور روحانی زوال اپنی انتہا کو جا پہنچا تھا۔ بزدلی نے دلوں میں گھر کر لیا تھا۔ شبستری کے بزرگ ہمعصر شیخ سعدی نے چنگیز اور ہلاکو کی اس غارت گری کے اثرات کو اپنے ایک شعر میں یوں بیان کیا تھا کہ زمین و آسمان چکی کے دو پاٹ ہیں جن کے درمیان خلقِ خدا پستی چلی آ رہی ہے۔ مصائب و آلام کے اس دور میں خراسان کے ایک شخص نے شبستری کو بارہ سوال بھیجے۔ ان سوالوں کے جواب میں شبستری نے مثنوی ’’گلشنِ اسرار‘‘ لکھی۔ دین و دانش اور دل و دنیا کے حقائق و اسرار سے پھوٹنے والے ان سوالات کا جواب شبستری نے یاس و حرماں کی تاریک اندیشی سے اخذ کیا ہے۔ چودہویں صدی سے مقبولِ عام چلی آنے والی اس مثنوی کے زیرِاثر دنیائے مشرق حرکت و عمل سے گریزاں اور یاس و حرماں کی گرفت میں پڑی سسکتی تھی کہ بیسویں صدی میں علامہ اقبال نے’’ گلشنِ راز، جدید‘‘کے عنوان سے اپنی فارسی مثنوی میں شبستری کے مقبولِ عام یاس پرستانہ تصورات کی انتہائی مؤثر انداز میں تردیدکرتے ہوئے اُمید و عمل کی شمع روشن کر دی تھی۔ اقبال کا کہنا ہے کہ شبستری کی اس مثنوی کے زیرِاثر مشرق کی بنسری سے آواز رخصت ہوکر رہ گئی تھی اور یوں:
زِ جانِ خاوراں، سوزِ کہن رفت
دَمش واماندہ و جانِ اُو ز تن رفت

اقبال نے اپنی اس مثنوی میں ہمیں خودی کی تعمیر سے تسخیرِ حیات و کائنات کا انسانی مسلک اپنانے کی راہ دکھائی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ’ہرمکان و لامکاں پر شب خوں‘ مارتے ہوئے مسلسل آگے ہی آگے بڑھتے چلے جائیں:
خودی صیاد و نخچیرش مہ و مہر
اسیرِ بندِ تدبیرش مہ و مہر
٭
خودی را پیکرِ خاکی حجاب است
طلوعِ اُو مثالِ آفتاب است
٭
من از رمزِ اَنَا الحق باز گویم
دِگر با ہند و ایراں باز گویم

اقبال نے گریز کوستیز کاچلن سکھا کر عالمِ مشرق کو ’گلشنِ راز، جدید‘ کی سیر پر آمادہ کیا تھا مگر افسوس کہ آج بھی حکمتِ افرنگ کے زیرِاثر دنیائے مشرق کے حکمران طبقات نے ستیز کی بجائے گریز کی غلامانہ ذہنیت کو اپنا رکھا ہے۔ نتیجہ یہ کہ اعجاز رحیم صاحب نے اکیسویں صدی کے آغازپر ہی ’گلشنِ راز، جدید تر‘ میں ادبیاتِ مشرق میں تیسرا شاہکار تخلیق کر ڈالا ہے۔

‘Garden of Secrets Revisited’ اعجاز رحیم کا پچیسواں مجموعۂ کلام ہے۔ اُن کا چوتھا مجموعۂ کلام ‘In Search of Kashmir’ ہے۔ ہرچند وہ ایک کشمیری نژاد شخص اور شاعر ہیں تاہم وہ اپنے تخلیقی سفر کے آغاز ہی سے کنفیوشیئس اور مہاتمابدھ سے لے کر پیغمبرِ آخرالزماںﷺ تک، سرچشمۂ الہام سے لے کر انسانی علوم کے ارتقائے مسلسل تک گہرے سائنسی اور روحانی تجسس میں منہمک چلے آرہے ہیں۔ اس باب میں وہ الہامی صداقتوں سے لے کر سائنسی تحیّر تک ہر سرچشمۂ علم سے سیراب ہوتے چلے جانے کے خُوگر ہیں۔ مامتا کی تکریم میں نظموں کا ایک یادگار مجموعہ ‘Door, Lock and Key’ بھی اُن کی ایک منفرد تخلیق ہے جو کشمیر کے حُسنِ لازوال اور کشمیریوں کے غیر مختتم مصائب و آلام سے پھوٹی ہے۔ یوں اُن کی یہ کتاب ہمیں بیک وقت اُن کی مادرِ مہرباں اوراُن کی مادرِ وطن کے مصائب و آلام سے روشناس کراتی ہے۔

اعجاز رحیم نے ہمیں’’ گلشنِ راز‘‘ کی سیر و سیاحت کی دعوت ایک ایسے عہد میں دی ہے جس میں ہم اقبال تک پہنچنے والی اور اقبال کے ہاں ایک نیا رنگ و آہنگ اختیار کرتی ہوئی ’شاعری جزویست از پیغمبری‘ کی روایت کے فیضان سے محروم ہو چکے ہیں۔ آج ہماری شاعری حقائق سے پیکار کی بجائے حقائق سے فرار کی راہوں میں بھٹکتی پھر رہی ہے۔ انسان اور کائنات کی سراسر سائنسی تعبیر کے نام پر ہم نے مغرب کا مسلط کردہ مادیت پرستانہ اندازِ فکر و احساس اپنا لیا ہے۔ ہم ایمان کی قوت اور باطن کی روشنی میں مصائب و آلام کامقابلہ کرنے کی بجائے ذات کی نفی اور کائنات کی مادی تعبیر کا مسلک اپنا کر خالقِ کائنات کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔ اقبال کی مثنوی ’’بندگی نامہ‘‘ بھی ’گلشنِ راز جدید‘ کے ساتھ ساتھ ہی شائع ہوئی تھی۔ ایک ہی جلد میں شائع ہونے والی ہر دو مثنویوں کو ایک ساتھ پڑھا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اقبال نے افراد اور اقوام کی غلامانہ ذہنیت کے منفی اثرات و نتائج کو نمایاں کرتے ہوئے اقوامِ مشرق کو آئینہ دکھایا ہے۔

اعجاز رحیم کی یہ طویل رزمیہ انسانی تاریخ کے باطن میں سفر کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہاں سائنس اور تصوف اورعقل اور عشق کے ٹوٹے ہوئے رشتوں کو پھر سے بحال کر دیا گیا ہے۔ اس نظم میں مذاہبِ عالم کے مختلف دبستان اور سائنس و حکمت کے متنوع مکاتبِ فکر کے ارتقائی مراحل کے بیان میںشاعری ساحری ہوکر رہ گئی ہے۔ بُت پرستی سے لے کر خدا پرستی تک انسان کے روحانی ارتقاء کے احوال و مقامات عکس ریز ہیں۔ اقبال نے بھی انسانی ارتقاء کے ابتدائی مراحل میں بُت پرستی کی معنویت کو یوں اُجاگر کیا تھا:
خوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر
مان لیتا کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر؟

نتیجہ یہ کہ ع: ’کہیں معبود تھے پتھر کہیں مسجود شجر‘۔ شجر و ہجر کی پرستش کے اس دور میں بھی وشوا متر کے سے ہندو روحانیت پسندوں کو ’جاوید نامہ’ میں وحدانیت کے ترجمانوں میں ایک بلند مقام پر متمکن دکھایا گیا ہے۔ اعجاز رحیم نے بھی بتوں کی خدائی کے دور میں ‘Five Hindu Saints’ کے روحانی تجسس کی تحسین کا حق ادا کرنے کے ساتھ ساتھ برہمنیت کی انسان دشمن روش کے ردعمل میں بدھ مت کی نمود پر یوں روشنی ڈالی ہے:

Buddhism rose as a reaction
Against the growing indiffernce
Of the Temple and Priesthood
Toward the plight of the downtrodden
Enchained in a frigid system of castes.
Buddha’s reforming genius
Was saddened to see
That the doors of spirituality
Were closed upon teeming multitudes
At the frosty hands of a privileged few.

بابا نانک کی توحید پرستی برہمنیت کے ستم پرور نظام کے خلاف ردّعمل ہی سے پھوٹی اور پروان چڑھی ہے۔ بھگتی اور صوفی شاعروں سے لے کر ٹی ایس ایلیٹ اورعلامہ اقبال تک انقلابی روحانیت کا مسلک نکھرتا، سنورتا اور دلوں میں گھر کرتامحسوس ہوتا ہے۔ پتھر اور غار کے زمانے سے لے کر جدیدیت اور مابعدجدیدیت کے دور تک انسانیت کا ارتقائے مسلسل زیرِ بحث لاتے وقت وہ ہر مرحلہ و مقام پر اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہیں کہ نسلِ انسانی نے خود شناسی اور خداشناسی کی بدولت اشرف المخلوقات کا مرتبہ پایا ہے۔ انسان کی روحانی سرگزشت پر تخلیقی غور و فکر کے دوران وہ ہمیشہ اس حقیقت کو پیشِ نظر رکھتے ہیں کہ انسان کی سائنسی فتوحات اُس کے روحانی تجسس ہی کا ثمر ہیں۔ اقبال کے لفظوں میں:
اِک دانشِ برہانی، اِک دانشِ نورانی
ہے دانشِ نورانی، حیرت کی فراوانی

اسی دانشِ نورانی کی حیرت اعجاز رحیم کو گلشنِ اسرارکی کچی مگربلنددیوار تک لے آتی ہے جہاں محمود شبستری اُن کا خیرمقدم کرتے ہوئے اُنھیں اپنے گلشنِ اسرارمیں لے آتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ چودہویں صدی کا گلشن راز نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے گُل بُوٹوں سے سرسبز و شاداب چمنستانِ راز ہے۔ گلشن بے شک شبستری کا ہے مگر اسرار اعجاز رحیم کے ہیں۔ یہاں دنیا بھر کے جن شاعروں، صوفیوں اور فلسفیوں کو سرگرمِ گفتار دکھایا گیا ہے وہ یا تو شبستری سے صدیو ں پیشتر اسرارِ حیات و کائنات کی جستجو میں جذب رہ چکی تھیں یا صدیوں بعد آئیں اور حیاتِ دوام پا کر ہماری نظروں سے غائب ہو گئی تھیں۔

اعجاز رحیم ایّامِ جاہلیت سے لے کر جدید سائنسی علوم کی روحانی بیگانگی تک کے آدمی نامہ کو اپنی اس رزمیہ کے پہلے باب بعنوان ’’مناجات بحضورِ رسالت مآبﷺ‘‘ میں یوں زبان دیتے ہیں:

In the Holy Prophet’s time
His clarion call to heed the Creator
Was spurned by the likes
Of Abu Jahl and Abu Lahab
Out of personal spite and ethnic rancour
But today’s denials are fuelled
By scientific discoveries and
An ardour for empirical insight.
Today’s demolition squads wield
Technological devices so awe-inspring
They captivate the eye and capture the mind
Almost effortlessly.

اعجاز رحیم دین و دانش، روحانیت اور مادیت کے درمیان اس کشمکش کو ایک نئی مہابھارت قرار دیتے ہیں۔ اُن کے خیال میں اس مہابھارت کی ناکامی کے آثار خالقِ کائنات، کائنات اور انسان کے گہرے اور لافانی رشتوں کی پہچان میں نمایاں ہیں۔ وہ سائنس اور مذہب میں ہم آہنگی سے جہانِ دانش و حکمت کو سرسبز و شاداب بناتے چلے جانے کے تمنائی ہیں۔ اپنے گلشنِ راز، جدید تر، میں وہ خالقِ کائنات اور کائنات کے لافانی ربط و تعلق کو یوں پیش کرتے ہیں کہ جدید سائنسی علوم اَنفُس و آفاق کی تفہیم و تعبیر میں نِت نئی حیرت سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔ اُنھیں یقین ہے کہ سائنس کا یہ دیدۂ حیراں آج نہیں تو کل ضرور خالقِ اکبر کے عرفان کی منزل تک جا پہنچے گا۔

اعجاز رحیم انسان کی سائنسی فتوحات اور روحانی واردات میں تخلیقی ربط کے تمنائی ہیں۔ اُن کا ایمان ہے کہ نسلِ انسانی نے خود شناسی اور خداشناسی کی بدولت اشرف المخلوقات کا رُتبہ پایا ہے۔ وہ پتھر اور غار کے زمانے سے لے کر جدیدیت اور مابعدجدیدیت کے دور تک انسان کے ارتقائے مسلسل پرگہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ اس ارتقاء کی راہوں میں حائل ملوکیت اور مُلائیت کے استبدادی کردار سے بھی خوب واقف ہیں۔ زندگی کے مختلف اور متنوع شعبوں میں نیچرل سائنس کی برق رفتار ترقی پر تحسین و آفرین کے ساتھ ساتھ وہ انسان اور کائنات کے باطن تک سائنسی علوم کی نارسائی پر شکوہ سنج بھی ہیں:

In the eyes of science
Knolwdge springs from a romance
Between Matter and Mind
But in Religions view
It is a love story between
the Human and the Divine

تنوعات کے دھاگوں سے بُنی ہوئی ایک چادرِ وحدت نے ہمارے اس خاکدان کو ڈھانپ رکھا ہے۔ انسان اور رحمان کے مابین عشقِ حقیقی کی اس واردات کی تفہیم و تعبیر ہی سے اعجاز رحیم کے گلشنِ راز میں بہار نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ اُنھوں نے ایک آفاقی اندازِ نظر کے ساتھ قدیم مذاہب سے لے کر عیسائی دُنیا میں مذہب، ادب اور سائنس کے تعامل و تنافر کے تنقیدی تجزیہ کا حق ادا کرنے کے بعد شبستری کے’ گلشنِ راز ‘میں قدم رکھاہے۔ جب اعجاز رحیم حافظ شیرازی کی یاد میں گُم ایک کچی اُونچی دیوار تک پہنچے تو محمود شبستری کو اپنا منتظر پایا۔ شبستری اُن کا خیرمقدم کرتے ہوئے اُنھیں اپنے گلشنِ اسرار میں لے گئے۔ جب اقبال نے شرق و غرب اور شمال و جنوب کی مختلف زبانوں کے عظیم کلاسیکل شعرا کی اس بزمِ ادب و فن سے محظوظ ہوتے ہوئے یہاں سے رُخصت کے لیے پرِپرواز تولے تو شبستری اُنھیں اپنے ہمراہ شاعروں کی ایک راؤنڈٹیبل میں لے گئے جہاں وِلیم بلیک، پی بی شیلے، ٹی ایس ایلیٹ اور محمد اقبال بڑے مزے میں بیٹھے دیر تک اسرارِ حیات و کائنات پر گفتگو میں محو تھے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اعجاز رحیم اس راؤنڈ ٹیبل پر متمکن عظیم شعراء کے فکر و فن کی تحسین کرتے ہوئے اقبال کو عظیم ترین شاعر اورمفکر سمجھتے ہوں:

In Iqbal’s sight when vision disappears
Nations go adrift and people are lost.
His poetry projects
A view of human greatness
Drawing upon the best
Of East and West
Combining Reason and Revelation
Aspiration with Action
And Knowledge with Love.

مزیدیہ کہ:

He equated resistance
To cruelty and oppession
As a religious obligation.
Those who lay claim on God’s love
Should rise and struggle
Against every manner of oppression
Without distinction
Of place, caste or creed.

اعجاز رحیم نے اقبال کے فکر و فن کو ایک آفاقی تناظر میں پیش کرتے ہوئے اُسے ادبیاتِ عالم کا ایک زندہ و تابندہ ستارہ ثابت کر دکھایا ہے۔ جب میں اُن کی رہنمائی میں اس مقام پر پہنچا تو مجھے اقبال یہ کہتے سُنائی دیے:
مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

سچ کہتے ہیں اعجاز رحیم کہ شبِ تاریک کو صبحِ آزادی کا رُوپ بخشنے کے جہادِ اکبر کی ابتداء نادار اور بے نوا خلقِ خدا کو ستم ہائے روزگار سے نجات بخشنے ہی سے عبارت ہے۔

اعجاز رحیم نے اپنی اس رزمیہ نظم میں خالقِ کائنات کے عرفان کے بغیر کائنات کو سمجھنے سمجھانے کی روش کوباطل ٹھہرایا ہے۔ اُن کی نظر میں کائنات کے اسرار کو سِرّ الاسرار(خالقِ کائنات) کے عرفان کے بغیرسمجھا ہی نہیں جاسکتا۔ اعجازرحیم کے اس شاہکار فن پارے کی بدولت اقبال فراموشی کے مروّجہ چلن کی مؤثر تردیدبھی عمل میں آئی ہے اور ایک آفاقی تناظرمیں اقبال کی نئی پہچان بھی طلوع ہوئی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اعجاز رحیم کے گلشنِ اسرار، جدید تر کے اندر ایک جہانِ دیگر رونق افروز ہے اور علامہ اقبال آج تک کے اس جہانِ نو کی حقیقی پہچان ہیں۔ آدمی سے انسان اور انسان سے انسانِ کامل تک کے ارتقائی مراحل کی نئی تفہیم و تعبیر کا اعزاز اقبال ہی کے حصے میں آیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کتاب کا یہ باب اقبال کے عشقِ رسولؐ ہی پر تمام ہوتا ہے:

In Iqbal’s universe
Devotion for the Holy Prophet
Becomes an acknowledgment
Of the unique blend
Of spirituality and earthly wisdom
With which he served
The Divine Creator and His creation
At the same time.

یہ ہے اسلام کا وہ حقیقی دینی مسلک جسے اعجاز رحیم نے اپنی پچیس ابواب پر مشتمل اس نظم میں گرد و غبار سے پاک کر دکھایا ہے۔ آئیے اس مسلک کو اپنا کر اپنی ذاتی اور اجتماعی زندگی جنت نشان بنا دیں!

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply