’’میں جناح کاوارث ہوں‘‘ — ایک ایسا ناول جو نصاب میں شامل ہونا چاہیے — نعیم الرحمٰن

0

محمود ظفر اقبال ہاشمی کا ’’میں جناح کا وارث ہوں‘‘ ایک ایسا ناول ہے، جسے نہ صرف نصاب میں شامل ہونا چاہیے، بلکہ ہمارے تمام ارکان پارلیمنٹ، سماجی کارکنوں اور سیاستدانوں کو بھی پڑھناچاہیے۔ درحقیقت ’’میں جناح کا وارث ہوں‘‘ ایک خیالی لیڈرکی خیالی ریاست کے ہر شعبے میں اصلاحات اور ملک کو آئیڈیل بنانے کی دلچسپ اور حیران کن داستان ہے۔ جسے روایتی یوٹوپیا ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ بے شک یہ سب یوٹوپیاہی ہو لیکن مصنف محمود ظفر اقبال ہاشمی نے بہت دردِدل کے ساتھ ہرشعبہ زندگی میں بہتری کی مثبت تجاویز پیش کی ہیں۔ تعلیم، صحت، معیشت، خواتین اور بچوں کے امور، کھیلوں کی سرگرمیاں اوردیگرشعبہ حیات میں کس طرح کم وسائل کے باوجود بتدریج بہتری لائی جاسکتی ہے، جس میں عوام بھی حکومت کی سنجیدگی دیکھتے ہوئے بھرپور دلچسپی لیں اورمشکلات بھی بخوشی برداشت کریں گے۔ اس صورتحال کو مکمل خیالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بلکہ مصنف نے جس طرح ہرشعبے میں ترقی اور عالمی معیارتک پہنچنے کا طریقہ کاربیان کیا ہے۔ اسے اگر سیاستدان اور بیوروکریسی ایمانداری سے اختیار کریں۔ بے شک ان باتوں پرجوں کا توں عمل نہ کیا جائے، بلکہ ان کاباقاعدہ جائزہ لے کر قابل عمل بنایا جائے۔ لائحہ عمل مصنف نے پیش کردیا ہے۔ اب اسے عملی صورت دینا ہمارے قانون ساز اداروں اور حکمرانوں کا کام ہے۔

محمود ظفراقبال ہاشمی روہی کے سپوت ہیںاوران کاتعلق جنوبی پنجاب کے ضلع رحیم یارخان سے ہے۔ وہ بنیادی طور پر مصور ہیں۔ ایم اے انگلش ادب اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے کیا۔ 1990ء سے سعودی عرب میں ہیومن ریسورس مینجمنٹ کے سینئر کنسلٹنٹ کے طور پر مقیم ہیں اوراس حیثیت میں اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں۔ بطور مصور متعدد انعامات حاصل کرچکے ہیں، انہوں نے چار پراثر اور دل میں اترجانے والے ناول تحریرکیے ہیں۔ جن میں ’’سفید گلاب‘‘، ’’میں جناح کا وارث ہوں‘‘، ’’اندھیرے کے جگنو‘‘ اور ’’قلم قرطاس اورقندیل ‘‘ شامل ہیں۔ اگلے ناول ’’شاخسار‘‘ اور ’’جھیل کاچاند‘‘ اسی سال شائع ہونے والے ہیں۔ محمود ظفر اقبال ہاشمی کے افسانوں کامجموعہ ’’اسی کائنات میں کسی جگہ‘‘ بھی شائع ہوکر مقبولیت حاصل کرچکاہے۔ ان کی تمام تحریریں اور اسلوب محبت، امید، انسانیت، امن اور مقصدیت سے بھرپور ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے آثارِقدیمہ، فنِ خطاطی، چائلڈ لیبر، آٹزم اورقیادت جیسے منفردامور کواپنے ناولوں کا موضوع بنایاہے۔ حال ہی میں ان کی ناول نگاری پر’’محمود ظفر اقبال ہاشمی بحیثیت ناول نگار‘‘کے عنوان سے ایم فِل کامقابلہ بھی لکھا گیا ہے۔ انہوں نے گذشتہ سال راولپنڈی سے نئے پبلشنگ ادارے ’’صریرپبلیکیشنز‘‘کی داغ بیل ڈالی ہے اورچند ہی ماہ میں ادارے نے مختلف موضوعات پر چالیس سے زیادہ بہترین کتب شائع کرکے اپنی منفرد پہچان بنالی ہے۔ ان کی دو ناولز ’’میں جناح کا وارث ہوں‘‘ اور ’’سفید گلاب‘‘ کے نئے ایڈیشنز صریر سے انتہائی دیدہ زیب انداز، بہترین آرٹ پیپرپرشائع کیے گئے ہیں۔

محمود ظفر اقبال ہاشمی کے افسانوں کے مجموعہ’’اسی کائنات میں کسی جگہ‘‘میں ناولٹ’’گل مہراوریوکلپٹس‘‘ شامل ہے۔ یہ دل کو چھولینے والا ناولٹ جنیداورحنین کے لازوال پیارکی انمول کہانی ہے۔ جس میں ناصرف کردارنگاری عروج پر ہے۔ بلکہ کہانی کابے ساختہ پن اورسچائی قاری کواسے مکمل ہونے سے پہلے چھوڑنے نہیں دیتی۔ جنیداورحنین کے علاوہ ایتھنا کا کردار بھی بہترین ہے۔ آٹز م کے موضوع پرکم ازکم اردومیں اس سے عمدہ ناولٹ نہیں لکھاگیا۔ حقیقت تویہ ہے کہ ہم نہ تو آٹزم کے بارے میں جانتے ہیں اورنہ ہی ہمارے ملک میں آٹسٹک بچوں کی تعلیم وتربیت کاادارہ بنانے کا کوئی تصور ہے۔ انعام ظفر ہمارے ملک کے ویژول آرٹسٹ ہیں، جودس برس سے ایک اسکول میں آرٹ تھراپی کے ذریعے آٹزم کا شکار بچوں کو آرٹ کے ذریعے سکھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کاکہناہے کہ آٹسٹک بچے آرٹ کے ذریعے جذبات اور احساسات کو ضابطے میں لانے کے ساتھ زبان اوردیگرہنرسیکھتے ہیں۔ آرٹ تھراپی دوا نہیں، یہ حوصلہ افزائی ان میں اشیا کے ادراک اور اظہار میں آسانی پیداکرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہرآٹسٹک بچہ آرٹ میں دلچسپی رکھتاہو، وہ کہانیاں لکھ سکتا ہے۔ کاش ’’گل مہر اور یوکلپٹس‘‘ کے جنیدکی سوچ کے مطابق ہمارے ملک میں ذہین اورملک وقوم کے لیے کارآمد بچوں کے لیے زیادہ سے زیادہ اسکو ل قائم ہوں اوران کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔ یہی ناولٹ کاپیغام ہے۔ آٹزم کے بارے میں بھرپور معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

اسی طرح محمود ظفراقبال ہاشمی کی ہرتحریرمقصدیت سے بھرپوراورکوئی مثبت پیغام اپنے قاری کودیتی ہے۔ ’’میں جناح کا وارث ہوں‘‘ کا بنیادی موضوع چائلڈلیبرہے۔ ناول کے انتساب میں مصنف نے مثبت اوربھرپورپیغام دیاہے۔

’’اپنے وطنِ عزیزپاکستان کی مٹی کے نام جہاں تقریباً ایک صدی سے کسی دوسرے جناح کاخمیراٹھنے نہیں دیاگیا! پاکستان کے ہونہارنوجوانو ں کے نام، جوپاکستان اورجناح کے سچے اورواحدوارث ہیں! پاکستان کے ان دوکروڑ سے زائد ’چھوٹوں‘ کے نام جنہیں ہمارے’بڑوں‘ کے چھوٹے ذہن نے جنماہے۔ ۔ جنہیں آج بھی ہمارے اسکول بلاتے ہیں!‘‘

پیش لفظ میں محمودظفراقبال ہاشمی بجالکھتے ہیں۔

’’ہراچھی حکومتِ وقت اورعوامی نمائندوں کے لیے یہ ناول کبھی بھی، کسی بھی دورمیں مشعلِ راہ ثابت ہوسکتاہے کہ اس کے پیچھے وطنِ عزیزکی محبت کاپکارنگ ہے۔ اس ناول کا موضوع، ہیئت، ماخذ اور تعارف محض ایک جملے میںبیان کیا جاسکتاہے۔ یہ اپنے وطن ِ عزیزسے میرے بھرپوررومانس کی داستان ہے، پاکستان کے متعلق میری طویل وِش لسٹ اوراپنے پیارے دیس کے لیے دیکھاگیاایک اورخواب جو انشااللہ ایک روز شرمندہ تعبیرضرور ہوگا۔ ’’میں جناح کاوارث ہوں‘‘ پاکستان کابھرپورمقدمہ اوریاد داشت بھی ہے، ایک شکایت اورفریادبھی کہ ہم آزادی کے اتنے برسوں بعد بھی آخر وہاں کیوں نہیں ہیں جہاںہمیں اب تک ہونا چاہیے تھا اورجہاں ہمیں پہنچناہے وہاں پہنچنے کے لیے اپنے سفرکاآغازکہاں سے کیاجائے۔ چونکہ میں پیشے کے اعتبارسے ایک تجربہ کارآرگنائزیشن ڈیولپمنٹ پروفیشنل ہوں اورلیڈرشپ کی تربیت و نشوونما میرے کلیدی فرائض میںشامل ہے سواس سلسلے میں اپنے تمام ترتجربے، فلسفے اور معلومات کوبروئے کارلاتے ہوئے میں اسے پاکستان اورپاکستان کی قیادت کے ساتھ منسلک کرنے کی سعی کی ہے۔ افسوس کے نبی کریمﷺ سے لے کرقائداعظم محمدعلی جناح تک لیڈرشپ کی ان گنت روشن مثالیں موجود ہونے کے باوجودہم نہ توآج تک قیادت کی تعریف کو اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھ پائے اورنہ پاکستان کو دنیا کی بہترین اسلامی فلاحی مملکت میں ڈھالنے کے لیے اپنا قبلہ اور ایکشن پلان طے کرپائے۔ میں نے فکشن کا سہارا لے کر اس ناول میں قیادت کی اصل روح کو اجاگر کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش کی ہے۔ قارئین سے التماس ہے کہ اگرآپ کو پاکستان سے واقعی سچی محبت اوراس کے مستقبل کی فکرہے توناول میں جہاں جہاں آپ کوفکشن نظرنہ آئے ان تمام حصوں کو بطور خاص غورسے پڑھیں کہ تمام مسئلوں کاحل اورآپ سب کے لیے میراپیغام انہی ابواب میں پوشیدہ ہے۔ ناول چائلڈ لیبر کا شکار پاکستان کے دوکروڑ سے زائدبچوں کامقدمہ بھی ہے جواسکول جانے سے محروم ہیں اورآج تک بہت بے دردی سے ہماری قیادت کی نااہلیوں کا ایندھن بنتے رہے ہیں!‘‘

مصنف نے بہت عمدگی سے یہ ثابت کیاہے کہ مقصدیت سے بھرپورناول بھی دلچسپ اورقابلِ مطالعہ ہوسکتے ہیں اور مصنف بخوبی اپناپیغام قاری تک پہنچاسکتاہے۔ ناول کے پہلے باب کاآغازملک کے پندرہ سال سے منتخب وزیراعظم کے قوم سے آخری خصوصی خطاب سے ہوتا ہے اس طویل خطاب میں وزیراعظم گذشتہ پندرہ برسوں میں اپنی اوراپنے ساتھیوں کی مختلف شعبہ جات میں کی گئی اصلاحات، ان کی راہ میں حائل مشکلات اور رکاوٹوںکے باوجودعمل کرنے اوراس کے نتیجے میں ملک میں برپاہونے والے انقلاب کی تفصیلات بیان کرتاہے۔ ناول کے گیارہ ابواب کے پہلے حصے میں یہی خطاب جاری رہتاہے۔ جس میں پندرہ سال قبل اقتدارسنبھالنے کی وقت ملک کی صورت حال اورپھراصلاحات کے نتیجے میں معاشی، معاشرتی اوربین الاقوامی سطح ملک کے بلندمقام اوراس کی مضبوط ہوتی پوزیشن کی بیان کی گئی ہے۔ وزیر اعظم پندرہ سال میں اپنے جانشین تیارکرکے اپنے عہدے سے اس یقین کے ساتھ الگ ہورہے ہیںکہ ان کے جانشین ان سے بہتر انداز میں ترقی کے اس عمل کوجاری رکھیں گے۔ یہ بھی ناول کا ایک پیغام ہے کہ بہترین حکمران کوبھی عوام کے بیزارہونے سے قبل خود جانشین تیارکرکے اقتدار سے دستبردارہوجاناچاہیے۔ جبکہ ہرباب کے دوسرے حصے میں کہانی کے مرکزی کرداروں کی جدوجہدکی داستان بیان کی گئی ہے۔ مصنف نے کہانی بیان کرنے کایہ بہت عمدہ اوردلکش اسلوب اختیار کیا ہے۔

’’نو سالہ محمدوارث ناول کامرکزی کردارہے۔ جوباپ کے انتقال کے بعداپنی ماں اوربڑی بہن کا ہاتھ بٹانے کے لیے ایک پنکچر شاپ میں کام کرتاہے۔ جہاںاسے اپنی عمراورسکت سے زیادہ کئی گنا بھاری پنکچر شدہ ٹائر گریس اوردھول میں اٹے ہاتھوں سے کھولنے اورلگانے پڑتے ہیں۔ جنوری کی برفیلی صبح سویرے اسے سخت گیراستاد دلشاد حسین مکینک سے پہلے آکر دکان کھولنا ہوتی ہے، کیونکہ استاد کا حکم ہے کہ کوئی گاہک ہویانہ ہومگردکان سامنے والی پنکچرشاپ سے پہلے ہی کھلنی چاہیے۔ فارغ ہو کر وارث باہر پڑی کرسی پربیٹھا حسرت بھری نظروں سے ان بچوں کو دیکھتا رہتا جو ڈاروں کی شکل میں اسکول کی طرف رواں دواں تھے۔ ان کے سروں پرماؤں کے محبت بھرے ہاتھوں سے کی ہوئی نفیس کنگھی کی ہوتی، ان کے پھول جیسے جسموں پرسجے عام کپڑوں والے صاف ستھرے یونیفارم اسے دنیا کی خوبصورت ترین پوشاک لگتی ان پر نفاست کی گئی استری اورمحنت سے بنائی کریز سے ماؤں کی والہانہ محبت جھلکتی تھی۔ صبح سویرے اسکول جاتے ہوئے بچوں کو دیکھنا وارث کامحبوب ترین مشغلہ تھا جو کسی پرتکلف ناشتے کی طرح اس کے ناتواں بدن میں ایک پر مشقت دن اوراپنے ظالم استادکی بے رحمانہ مار کاسامناکرنے کے لیے توانائیاں بھر دیا کرتا تھا۔ آنکھوں میں ذہانت کی چمک، کھلی پیشانی میں ابھی سے شکنوں جھلک، ہونٹوں پرہروقت مسکان کی دھنک اورچہرے پر کھیلتی صاف رنگت کی دمک رکھنے والا وہ ایک بیحدخوش شکل بچہ تھاجسے خوابِ خرگوش کی غفلت میں ڈوبی ملکی قیادت، ظالم زمانے اور گھر کے نامساعدحالات نے ملک کی کل آبادی کے ان سوا دو کروڑ چھوٹوں کی فہرست میں شامل کردیاتھاجوچارسے چودہ سال کی عمروں میں اپنے روئی اورمخمل جیسے ہاتھوں کی ملائمت وقت سے بہت پہلے اپنی عمرسے کئی گنا سخت کام کرکے کھو دیتے ہیں۔ وہ چھوٹوں کے اس بڑے قبیلے میں سے ایک تھاجو چائلڈلیبر پر سخت قوانین ہونے کے باوجود ہمارے ملک کی ان گنت فیکٹریوں کو اپنے خون کا ایندھن دیتے ہیں، ہمارے ملک کی لاتعداد دکانوں کا صبح سویرے تالا کھولتے ہیں، ننھے ننھے ہاتھوں سے بڑے بڑے قالین بننے ہیں، کچی بھربھری مٹی جیسے بدن اورہاتھوں سے بھٹوں کی اینٹوں کو پختگی اورسرخی عطاکرتے ہیں، سڑکوں پر خالی پیٹ لیے کچاناریل، چائے، بھٹے اور کھانے کی مختلف اشیاء بیچتے ہیں، جن غباروں کے ساتھ کھیلنے کی ان کی اپنی عمر اور تمنا ہوتی ہے ہے انہی غباروں کو وہ دوسروں کوسستے داموں بیچتے ہیں۔ ، سڑکوں پر ٹریفک کا اشارہ سرخ ہوتے ہی مستعدی کے ساتھ لوگوں کی گاڑیوںکے شیشے صاف کرتے ہیں، گندگی کے غلیظ ڈھیر سے ٹین اورشیشے کی چیزیں اکٹھی کرکے فیکٹریوں کوبیچتے ہیں، اپنی پشت پراٹھائی غربت اور مجبوریوں کی بھاری پوٹلی لادے ہر صبح اپنی اپنی پشت پرخوبصورت بستے سجائے اسکول جاتے بچوں کودیکھ کر کبھی خود سے اور کبھی نجانے کس سے یہ معصوم سوال کرتے ہیں کہ ان ڈاروں میں آخروہ کن وجوہات کی بناپرشامل نہیں ہوسکتے۔‘‘

یہ پورا بیانیہ چائلڈلیبرکی بدترین صورتحال کو اس طرح اجاگر کرتاہے کہ اہلِ دل کی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ اگراس سے چند لوگ بھی متاثرہو کرعملی قدم اٹھائیں، تو ایک چھوٹا موٹا انقلاب برپا ہوسکتاہے۔ وارث، اس کی بڑی بہن نبیلہ اور ماں پر مشتمل یہ مختصر کنبہ اس سڑک کے پچھلے حصے میں واقع ایک غریب محلے میں رہائش پذیرتھا۔ محمود ظفر کی کردار نگاری اور اپنے کرداروں پرگرفت شاندار ہے۔ وارث، نبیلہ، بیرسٹر شمسہ سمیع اللہ، بیرسٹرسمیع اللہ اور عدینہ نور ناول کے پانچ مرکزی کردار ہیں جن کے گرد تمام کہانی گھومتی ہے۔ ان کرداروں کو مصنف نے عمدگی سے تراشا اور بتدریج ڈیولپ کیا ہے۔ ان کی شخصیت کی خامیاں اورخوبیاں اس طرح اجاگر کی گئی ہیں کہ قاری کو کسی مرحلے پر یہ تمام صورتحال مصنوعی نہیں لگتی۔ کردار نگاری سے ہی ناول کو آگے بڑھایا گیاہے۔

شمسہ سمیع اللہ ایک صبح گاڑی میں ہوابھرواتے ہوئے وارث کواسکول جاتے بچوں کومحویت سے دیکھتاپاکربلاتی ہے، اس سے چندسوالا ت کے بعداسے وارث کی ذہانت اورپڑھائی کے شوق کااندازہ ہوتاہے۔ وہ جب اس کمسن بچے کی ابتدائی معلومات پرحیرت ظاہرکرتی ہے تو وہ بتاتاہے کہ یہ سب چیزیں اس کی بڑی بہن نبیلہ نے یادکرائی ہیں۔ شمسہ، وارث کو اپنی گاڑی میں اس کے گھرلے جاتی ہے اوران سے مل کرفیصلہ کرتی ہے کہ وارث اورنبیلہ اس کے تجرباتی اسکول میں پڑھیں گے، یہ فیملی اس کے گھرکی انیکسی میں رہے گی اور ماں گھرکی نگراں ہوگی۔ ناول میں وزیراعظم کا خطاب کہیں کہیں غیرضروری طوالت کاشکاراوربوجھل محسوس ہوتاہے۔ لیکن یہ کہانی کاتقاضہ ہے، اسی خطاب کے ساتھ ناول دو الگ ڈائی منشن میں آگے بڑھتاہے۔ ایک جانب قاری وزیراعظم کے خطاب میں پندرہ برس میں ملک کانقشہ بدلتادیکھتا ہے۔ دوسری جانب وہ وارث اورنبیلہ کے کردارڈیولپ ہوتے جاتے ہیں۔ جن کی ڈیولپمنٹ میں شمسہ اوراس کے شوہرسمیع اللہ کا بھی بھرپور حصہ ہوتاہے۔ شمسہ اپنے تجرباتی اسکول کے ذریعے چائلڈلیبر کے شکار ذہین بچوں کو جناح کا وارث بنانے میں کوشاں ہیں اوراسی مقصد کو پیش نظررکھتے ہوئے وہ وارث اوراس کی فیملی میں وہ اسپارک دیکھتے ہوئے اپنے گھر لے آتی ہے۔ وارث ہاتھ آئے اس انمول موقع کو ضائع نہیں کرتا بلکہ شمسہ سمیع اللہ کی ہدایات کی روشنی میں تعلیمی میدان میں اعلیٰ ترین کارکردگی پیش کرتاہے اور ہرسال پوزیشن کے ساتھ کامیابی حاصل کرتاہے۔ اس کی بہن کی رہنمائی بھی اس کے لیے کارآمدثابت ہوتی ہے۔ ناول میں ایک بڑا جھول ماں کا نبیلہ کی شادی اپنے ان پڑھ بھتیجے سے کرناہے۔ غریب بستی میں رہتے ہوئے یہ شادی نیچرل ہوتی۔ لیکن شمسہ کے بنگلے میں شفٹ ہونے کے بعداوراتنا پڑھ لکھ جانے کے باوجودماں کااس قسم کی شادی پراصرارناول کی مجموعی کہانی اور صورتحال سے میل نہیں کھاتا۔ ہمارے معاشرے میں تو حالات بدلنے پربچپن کے رشتے بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ یہاں کو شوہر کی وفات اور اس کی بیماری کے وقت کوئی رشتہ دار اور بہن کام نہ آئی، نہ ناول میں کہیں بہن کاکوئی ذکرہے۔ جبکہ شمسہ خود بھی اسے بہت سمجھاتی ہے۔ نبیلہ کی فرماں برداری بھی غیرحقیقی نظر آتی ہے۔ اتنا پڑھ لکھ کر بیٹی کا اپنی ماں کے حکم کی بلا جواز تعمیل سمجھ سے بالاتر ہے۔ کسی بدتمیزی کے باوجود بھی بیٹی غلط رشتے پر آواز بلند کرسکتی ہے۔ وارث اگر برطانیہ کی بڑی یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لیے روانگی سے قبل بہن کے گھر جاکر اس کی درگت نہ دیکھتا تو وہ اسی طرح جاہل شوہرکی ماریں کھاتی اور تعلیم کی طعنے سے سنتی رہتی۔ اس تمام قصے میں ماں کا کردار اور اس کا فیصلہ محل نظر اور عمدہ ناول پرایک دھبہ محسوس ہوتاہے۔

وزیراعظم کا طویل خطاب شکیل عادل زادہ کے یادگار ’’سب رنگ ڈائجسٹ‘‘ کی مشہور عالم سلسلہ وارکہانی ’’امبربیل‘‘ کی کہانی کی یاد دلاتا ہے۔ امبربیل کبھی مکمل نہیں ہوئی۔ تاہم اسی کے عشرے کے آغاز میں اس کی شائع ہونے والی آخری قسط میں مرکزی کردار میر جمشید عالم عرف موہن داس کو انگریز ریاست کامہاراجہ بنادیتے ہیں اور وہ ریاست کی ترقی و فلاح کے لیے جو منصوبے شروع کرتا ہے وہ آدابِ حکمرانی کا بہت عمدہ بیان ہے۔ ’’میں جناح کا وارث ہوں‘‘ میں وزیر اعظم کے خطاب میں بھی مختلف شعبوں میں حکومت کی کارکردگی کابیان درست اور ایماندارانہ حکومت کرنے کا طریقہ کار بتایا گیا ہے۔

وزیراعظم کاخطاب کہیں کہیں لیکچر اوربیان بازی محسوس ہوتاہے، لیکن موضوع کے اعتبارسے یہ بے معنی نہیں بلکہ اسی کے ذریعے مصنف عام لوگوں اوراربابِ اختیار کو اپناپیغام دیتے ہیں۔ پہلے باب میں اس خطاب کاآغاز کچھ یوں ہوتاہے۔

’’عظیم پاکستان کے عظیم باسیو! اسلام و علیکم! بحیثیت وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان آج میں آخری بارآپ سب سے خطاب کررہاہوں۔ اپنے پیارے ملک پاکستان اورآپ کی خدمت کے پندرہ مشکلوں، مشقتوں، آزمائشوں اورکامیابیوں سے بھرپور سال آج پورے ہوئے، اللہ تعالیٰ نے مجھے اورہم سب کو سرخرو فرمایا۔ جس مشکل ترین ذمہ داری کابیڑامیں نے پندرہ برس پہلے اٹھایاتھااس کانتیجہ آج آپ سب کے سامنے ہے۔ اس الوداعی طویل تقریر کے دوران ہم ان پندرہ سالوں کے سفر کا مختصرجائزہ بھی لیں گے تاکہ ہماری نئی نسل کوعلم ہوسکے کہ قیادت کسی ملک اورقوم کی تاریخ پر کس طرح اثر انداز ہوا کرتی ہے۔ میں اپنے اقتدار کے تمام ایک سو اسی ماہ کے دوران اپنے انتخابی منشورکے عین مطابق باقاعدگی سے ہر  ماہ کی پہلی تاریخ کو اپنے خطاب میں اپنی ابتدائی ناکامیاں، کڑی آزمائشیں اور بعد کے سالوں میں ملنے والی تمام کامیابیاں آپ کے سامنے انتہائی ایمانداری سے رکھتارہاہوں یہ میرا ایک سو اٹھانوے واں اورآخری خطاب ہے۔ اگرآپ سب کا ساتھ، دعائیں، جدوجہداورمحنت شامل حال نہ ہوتی تو آج ہمارا ملک پاکستان معاشی لحاظ سے دنیا کے دس مضبوط ترین ممالک میں کبھی شامل نہ ہوپاتا۔‘‘

وزیراعظم کے پہلے خطاب کی یہ چندسطریں پندرہ سالہ عوام دوست اقتدارکے مثبت نتائج کااندازہ قاری کوہوجاتاہے۔ ابتدا میں یہ واضح نہیں کہ وزیراعظم کون ہے۔ ہرباب میں ساتھ ساتھ شمسہ سمیع اللہ کی زیرسرپرستی وارث کی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی، ساتھ ہی اضافی سرگرمیو ںکا بیان ہے۔ شمسہ سمیع اللہ ملک میں تعلیمی اور سماجی انقلاب برپا کرنا چاہتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہی وہ تجرباتی اسکول چلارہی ہیں۔ ٹی وی شوزمیں بھی وہ کھل کراپنی رائے پیش کرتی ہیں۔ وارث کووہ اپنے مقاصدمیں کارآمد سمجھتی ہیں اور اسے سیاست میں قدم رکھنے کی تلقین کرتی رہتی ہیں۔ بیرسٹر سمیع اللہ بیوی سے بہت محبت کرنے کے باوجودان کی سرگرمیوں کے خلاف ہیں۔ بیرسٹرصاحب بھی وارث کی اعلیٰ تعلیمی کارکردگی سے متاثر ہوکر اس کی بیرون ملک تعلیم کا انتظام کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ لیکن موجود خطرات کے پیش نظر وارث کے سیاست میں حصہ لینے کے سخت خلاف ہیں۔ انگلینڈ میں تعلیم کے دوران بیرسٹرصاحب اورانکی بیگم کی ہدایت پروارث کاتعلق ان کی بیٹی اوردامادسے استوار ہوتاہے۔ ان کی آزادخیال اور انتہائی حسین بیٹی عدینہ سے وارث کو پہلی ہی نظرمیں پیارہوجاتاہے۔ شمسہ اوراس کے شوہرنے ایک خاص مقصدکے تحت وارث کو بیٹی اورداماد کے گھر جانے کو کہا تھا۔ لیکن عدینہ آزادملک میں اپنے ماں باپ کے کنٹرول سے بھی باہرہے اس لیے وارث پہلی نظرکی محبت کسی کام نہیں آتی۔

وارث بیرسٹرصاحب سے وعدہ کے پیش نظرسیاست سے دور رہتاہے۔ لیکن پھرایک روزاس کی محسن شمسہ کو سڑک پر گولیوں سے بھون دیا جاتاہے اور وارث کو مرحومہ کی وصیت ملتی ہے۔ جس میں وہ لکھتی ہیں۔ ’’وارث بیٹے ہو تو زندگی کبھی عام اندازسے بسرنہ کرنا ورنہ میری روح کو تکلیف ہوگی۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ تم پیدائشی لیڈر ہو۔ اللہ نے تمہیں موقع دیاہے۔ راہنما بننا اورر اہنمائی کرنا دشوار سہی مگراس سے بڑا اعزاز کوئی نہیں۔ تمہیں اللہ تعالیٰ نے پاکستان، انسانیت، اپنے مذہب، اقداروثقافت کی وکالت کیلیے اس دنیامیں بھیجا ہے۔ اس ملک کو ایک خداداد صلاحیتوں کے حامل وکیل نے بنایاتھا۔ اس جیسا باکمال وکیل ہی اس ملک کوپھرسے بچاسکتاہے اوراس کی تعمیر نو کر سکتاہے۔ میں تمہیں وصیت کرتی ہوںکہ تم اس ملک کی خدمت کے لیے سیاست میں قدم رکھنا۔ اس راہ میں جتنی بھی دشواریاں آئیں ان کا مردانہ وارمقابلہ کرنااگرجناح اوراپنی بڑی امی کے سچے وارث ہوتوباطل سے بھی نہ ڈرنانہ ہی کبھی گھبرانا۔ میرے اس دنیاسے جانے کے بعدملک کے اس مشہور ٹی وی چینل اور اخبارمیں میری وصیت کو مشہتر کروانا اور صرف چینل کے مالک اوراخبارکے ایڈیٹران چیف زبیر اکرم ہادی سے ہی رابطہ کرنا۔ انہیں میں وصیت کے بارے میں پہلے ہی بتاچکی ہوں۔ یہ سوچ کرسیاست میں قدم رکھناکہ تم قائد اعظم محمدعلی جناح کے سچے وارث ہو۔ ان کے سچے وارث بن کر قوم کو آواز دو گے تو دیکھ لیناکرپٹ سیاست دانوں سے تنگ آئے ہوئے عوام ایک روز تمہارا ساتھ دینے کو جوق درجوق چلے آئیں گے۔ تب وارث اپنا وعدہ توڑنے پرمجبور ہو جاتاہے۔ بیرسٹر سمیع اللہ شاکر اس سے ہرتعلق ختم کر لیتے ہیں۔

کس طرح وارث نہیں زبیر اکرم ہادی کے تعاون سے قائداعظم محمدعلی جناح پارٹی کے نام سے نئی سیاسی پارٹی الیکشن کمیشن میں رجسٹرکرائی۔ دفتر میں قائداعظم اورعلامہ اقبال کے ساتھ بیرسٹرشمسہ سمیع اللہ کی تصاویر لگائیں اور ان تصاویرکے زیرسایہ نئے سفرکا آغاز کیا۔ پارٹی ویب سائٹ پرپارٹی منشور، تنظیم سازی اور مستقبل کی حکمت عملی تفصیل سے دی گئی۔ ٹی وی انٹرویو میں وارث کہتاہے۔

’’قائداعظم محمدعلی جناح پارٹی مختلف اور منفرد ہے اس کے لیے لوگوں کو  ہمارا منشور، سیاسی نصب العین اور ہمارا سیاسی نعرہ یعنی’میں جناح کا وارث ہوں‘ سمجھناہوگا۔ چونکہ پارٹی کا منشور ملک اور عوام کی ایماندارانہ اورمخلصانہ خدمت کادوسرانام ہے سوہم اگلے برس کے آخر میں ہونے والے بلدیاتی انتخابا ت میں شرکت کے لیے آج اورابھی سے تیاری شروع کررہے ہیں۔ اگلے چندماہ اور برس بہت اہم ہیں۔ میں ملک بھر کا دورہ کروں گا، ایک ایک شہرجاؤں گا اور پارٹی کی تنظیم سازی اور کارکنوں کی تربیت کروں گا۔ وہ بہت پرعزم انداز میں کہتاہے اگر قرارداد پاکستان پیش ہونے کے سات سال بعدمسلمان اپنا علیحدہ وطن حاصل کرسکتے ہیںتوآج سے سات سال میں یہ پارٹی اپنے مقاصدحاصل کیوں نہیں کر سکتی۔‘‘

بالآخر ایک دن

’’وارث سیاہ شیروانی پہنے، سر پر فخر کے ساتھ جناح کیپ سجائے، آنکھوں میں آنسو اور دل میں ان گنت ارادے چھپائے پاکستان کی وزارت عظمیٰ کاحلف اٹھا رہاتھا! پاکستان کی سیاست میں نئی تاریخ رقم ہورہی تھی۔ نیا وزیراعظم کسی سیاسی خانوادے کا چشم وچرا غ نہیںتھا، نہ کسی زمیندار، وڈیرے، گدی نشین یا کاروباری خاندان کا وارث! یہ صرف محمد وارث تھاجس کے نام پرایک معروف سیاسی شخصیت نے ایک بارتبصرہ کرتے ہوئے کہاتھاکہ ایس نام اس ملک میں چوکیداروں کے ہوتے ہیں۔ جواباً بھرپور مسکراہٹ، کمال شائستگی اوربرجستگی کے ساتھ اس نے جواب دیا تھا، ’محترم آپ نے بالکل درست کہا۔ میں اس ملک کاچوکیدار ہی ہوں۔ جناح کے ہرسچے وارث کو سب سے پہلے پاکستان کا چوکیدار ہی ہونا چاہیے۔‘‘

محمد وارث ہی پندرہ سال ملک کا وزیراعظم رہا۔ جس نے ہرماہ قوم سے خطاب میں ایک ماہ کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرنے کی روایت ڈالی۔ ابتدائی مشکل دورکے بعدجب عوام کواپنے وزیر اعظم کی کہی باتوں پریقین ہوا تو انہوں نے کس طرح اس کے ہراقدام کی بھرپور تائید کی اورہرقدم پراس کاساتھ دیا۔ اور پھر وہ دن بھی آیا کہ وہ اپنا مقاصد پورے کرنے کے بعد ملک اپنے جانشین کے حوالے کرکے الوداعی خطاب کے بعد رخصت ہوگیا۔

اس دوران عدینہ سے پاک محبت کا مطلب بھی وارث کے ذریعے مصنف نے بہت خوبصورتی سے بیان کیاہے۔ شوبز اور ایڈورٹائزنگ کی چکاچوندسے متاثرعدینہ ابتدا میں وارث پرایک نظر ڈالنے پر بھی تیارنہیں ہوتی لیکن وہاں ٹھوکر کھانے اور وارث کے خلوص پریقین کے بعد اس کیارویہ اور انجام ہوتاہے۔ یہ بھی ’’میں جناح کاوارث ہوں‘‘ کابہت متاثرکن حصہ ہے۔ بطور وزیر اعظم اپنے پہلے خطاب میں وارث نے پاکستان کو درپیش دس بڑے مسائل کی نشاندہی کی، جو فوری توجہ کے طالب تھے اور جن کے حل کے لیے فوری، وسطی اور دیرپا اقدامات ضروری تھے۔ جن دس بڑے مسائل پرترجیحی اورجنگی بنیادوں پر اس نے کام شروع کیا۔ وہ دہشت گردی، لوڈ شیڈنگ، معیشت، تعلیم، چائلڈ لیبر، صحت، کرپشن، زراعت، شہری نظام اور مسئلہ کشمیرتھے۔ مشکلات اور محدود وسائل کے ساتھ دن رات کس طرح کام کیا۔ اپنے طویل خطا ب میں ایک ایک مسئلہ کے حل کے لیے کوششوں اوران کے نتائج کا بیان ہی ’’میں جناح کاوارث ہوں‘‘ کا نچوڑ ہے اوریہی وہ تفصیلات ہیں جنہیں ہر دردمند شہری، سیاست دان اور قانون سازوں کو جانناضروری ہے۔ جس کے لیے اس ناول کو پاکستان کے نصاب میں شامل کیا جانا چاہیے۔ محمود ظفر اقبال ہاشمی اتنا دلچسپ، پراثر ناول لکھنے پرمبارک بادکے مستحق ہیں۔ اللہ کرے زورقلم اور زیادہ۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply