’جدید لسانیاتی اور اُسلوبیاتی تصورات‘ ایک مطالعہ — ڈاکٹر خاور چودھری 

0

کامل ابلاغ (Communication) انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر زندگی کا ہر تصور ادھورا ہے۔ تاریخ کا کوئی دور ایسا نہیں، جہاں اس کی ضرورت محسوس نہ کی گئی ہو۔ مذہب، اخلاقیات اور ادب سمیت شعبہ ہائے زندگی کے تمام منطقوں میں اس کی اثرپذیری موجود ہے؛ بل کہ یُوں کہنا چاہیے: ان تمام کی نمود و نمو پذیری اسی کے رہینِ منت ہے۔ لہٰذا اس کی اہمیت و افادیت تسلیم شدہ ہے۔ بانیانِ مذہب سے لے کراصلاح کاروں، مبلغوں، فلاسفروں، سائنس دانوں، سیاست دانوں اور ادیبوں کو ہمیشہ سے اس کی ضرورت رہی اوراس ضرورت کا اظہار بھی ان طبقات کی جانب سے ہوتا آیا ہے۔

زبان ایک ایسا وسیلہ ہے، جو ابلاغ کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ تاریخ میں اس حوالے سے کئی مباحث ہیں۔ تخلیقِ آدم کے مباحث اورسامی روایات سے لے کراس خلائی دور تک ہر کہیں اس کی توضیح اور تعامل کا سلسلہ موجود ہے۔ زبان کے نظری مباحث کا بیان یقینا گفتگو کو طویل کردے گا؛لہٰذا اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔

اُسلوب کو بالعموم پیرایہ ءاظہار خیال کیاجاتا ہے۔ بعضوں کے نزدیک فرد کا عمومی اندازِ نگارش اُسلوب ہے اور کچھ کا ماننا یہ ہے کہ لفظ و معنی سے اُسلوب کی تجسیم ہوتی ہے۔ اس تناظر میں بھی کئی مباحث موجود ہیں۔ سوال اُٹھایا گیا: ”خیال پہلے موجود تھا یا لفظ ؟“ اس کے جواب میں استدلال ہے، منطق ہے، نظریات ہیں۔ پھر ان کے متضاد بھی ایک سلسلہ ہے جو ان پر خطِ استرداد کھینچتا ہے۔ اُسلوب کی سائنسی توضیح کے لیے اُسلوبیات کی اصطلاح وضع ہوئی؛بعینہ زبان کی سائنسی وضاحتوں کے لیے لسانیات کی اصطلاح مستعمل ہے۔ اگرچہ اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اُسلوبیات کا دائرہ کار لسانی خدوخال تک محدود ہے لیکن میں اس خیال کا طرف دارہوں کہ اُسلوب ایک مکمل ہیئت ہے؛ بل کہ کامل زندگی ہے۔ جس طرح جسم وجان کی موجودگی، زندگی کا پتا دیتی ہے یا پھر ظرف و مظروف کے تال میل سے ذائقہ تشکیل پاتا ہے؛اسی طرح اُسلوب کی تشکیل ہوتی ہے۔ محض الفاظ کا اُتار چڑھاو پوری صورت واضح نہیں کرسکتا۔ جب تک فکر وخیال ظاہر نہ ہوں یاالفاظ کی معنویت واضح نہ ہو اُسلوب کی شناخت تشنہ کام رہتی ہے۔ الفاظ کے ضمن میں تو بجائے خود یہ نظریہ موجود ہے کہ یہ خیال کے تیسرے درجے پر ہیں۔ کوئی بھی لفظ خیال کی مکمل وضاحت نہیں کرسکتا۔ لفظ بہار، بہار کی کامل وضاحت کیسے کر سکتا ہے؟ بھوک سے بھوک کی حقیقی تصویر کہاں مترشح ہوتی ہے؟ افلاطون کی تعلیمات ذہن میں رکھتے ہوئے اگر کوانٹم تھیوری کی اطلاقی حالتوں کو دیکھیں تو بہت کچھ نیا ظاہر ہوچکا ہے اور پھررشتوں کا تعلق اور اس سے نمایاں ہونے والی تشکیلات کا بھی ایک سلسلہ ہے۔ فزکس اور میٹافزکس کی سائنسی توجیحات و توضیحات نے زبان و اَدب کی پرکھ میں بھی ایک نیا رُخ متعین کیا ہے۔ چناں چہ لسانیات، اُسلوبیات، ساختیات، پسِ ساختیات اور ردِ ساختیات جیسے مباحث انھیں کی تعلق داری سے آگے بڑھتے ہیں۔

ہمارے دوست ڈاکٹر عامر سہیل نے زبان وادب سے جڑے ہوئے اس سائنسی اور نسبتاً خشک موضوع کا انتخاب کیا؛جو بالعموم لطیف طبائع پر گراں گزرتا ہے۔ جہاں تعمیم کی صورت میں ایک سنگلاخ رکاوٹ ہو؛ وہاں تخصیص کی جانب بڑھنا بھی حوصلے کا کام ہے۔ ایسے موضوعات کی طرف عمومی پیش قدمی نہ ہونے کے باعث ایک طرح کا دھڑکا ضرور لگا رہتا ہے۔ پھر تخصیص بھی ایسی، جو ایک نیا دَر وا کرتی ہو تو بات مزید گرانی میں داخل ہوجاتی ہے۔

نظم کالسانی اور اُسلوبی تجزیہ ہمارے یہاں ایک زمانے سے رائج ہے۔ اس میدان میں جمنا کچھ زیادہ مشکل پھر بھی نہیں لیکن نثر کی لسانیاتی اور خصوصاً اُسلوبیاتی تشکیل و تجسیم کی سراغ رسانی ایک تھکا دینے والا کام ہے۔ اسی پرہی موقوف نہیں؛ بل کہ جب کئی زبانوں پر مشتمل نثرکا اُسلوبیاتی تجزیہ مقصود ہو تو بات مزید گنجلک ہوسکتی ہے۔ اَدب کا عام قاری صوتی، صرفی اور نحوی اطلاقیات کی بحث میں اگرپڑ جائے گا تو فن پارے سے حظ اُٹھانا اُس کے لیے ممکن نہ رہے گا۔ صوتیات، لفظیات، نحویات اور معنیات کے مباحث کو ابلاغی ماڈلوں کے تناظر میں بیان کیاگیا ہو تو مزید پیچیدگی وارد ہوجاتی ہے۔ جملوں کی ساخت اور اس کے پسِ پردہ محرکات و تعمیلات کا گورکھ دھندہ قاری کی حسیات کو بوجھل کردیتا ہے۔ وہ تو مکمل شکل سے ہی لطف کیش ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے۔ دل چسپ امر یہ ہے کہ عامر سہیل نے ان مشکل مباحث کو اتنے سادہ اور شستہ پیرائے میں بیان کیا ہے کہ عام پڑھنے والوں کے لیے بھی کشش پیدا ہوگئی ہے۔ لفظ و خیال کی تقدیم وتاخیر کی بحثوں سے بچتے ہوئے وہ فن کار کی ان جہتوں پربھی داد دیے بنا نہیں رہتا۔

قراة العین حیدر کا عمومی اندازِ نگارش اُن کے عہد سے لے کر اَب تک کے ہر فکشن رائیٹر سے جدا اور عمیق ہے؛ خصوصاً ان کا ناول ’آگ کا دریا‘ لسانیاتی و اُسلوبیاتی سطح پر ایک مشکل شے ہے۔ سنسکرت سے ہندی، ہندی سے اُردو؛ پھر عربی، فارسی اور انگریزی زبانوں کی باریکیوں اور خوش رنگیوں کو تجزیے کی سان پر لانا بجائے خود توجہ خیز ہے۔ ڈاکٹر عامر سہیل نے اس ریاضیاتی اور سائنسی کام کو اپنے اُسلوب کی چاشنی سے اس قابل ضرور کردیا ہے کہ پڑھنا بے لطف نہیں رہتا اور عام قاری بھی حصہ بہ قدرجثہ وصول کرلیتا ہے۔

’جدید لسانیاتی اور اُسلوبیاتی تصورات‘ میں جہاں اُنھوں نے ان قدیم وجدیدنظریات کو پیش کیا؛وہاں انھیں نقد کے فن سے بھی گزارا۔ نقد ونظر کا بنیادی فریضہ بھی یہی ہے۔ محض نظریات کی پیش کاری اوراندھی تقلید، جدید دُنیاوں تک نہیں لے جاسکتی۔ نقد، تنقیص سے الگ چیز ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں تنقیص کو نقد خیال کیاجاتا ہے۔ اس کتاب میں نقد کا حق ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چوں کہ یہاں فکری وفنی مباحث کے’ادبی نقد‘ کی بجائے ’اُسلوبیاتی نقد‘ کا سلسلہ ہے تو ایک طرح سے استحسان کی صورت بھی پیدا ہوگئی۔ میں اپنی قرا ¿ت تک کہہ سکتا ہوں کہ یہ نقدِ جمال کے دائرے میں داخل ہوگئی ہے۔

پانچ ابواب پر مشتمل اس کتاب کا پہلا باب زبان کی مبادیات اوراسلوبیاتی نقدونظر کو محیط ہے۔ دوسرے باب میں مصنفہ کے صوتیاتی نظام اور اس کی رمزیت کاجائزہ لیا گیا ہے۔ تیسراباب صرفیات کے مباحث اور اس کی اطلاقی حالتوں کے بیان پر منحصر ہے۔ چوتھے باب میں نحویاتی تعبیرات و انسلاکات سے فن پاروں کا تجزیہ کیا گیا ہے اور آخری باب لفظیاتی، معنیاتی دنیا کی لغوی اور مجازی تعبیرات کا احاطہ کیاگیا ہے۔ ان مباحث نے ایک طرح سے قرةالعین حیدر کی لسانیاتی و اُسلوبیاتی گنجلکوں اور مشکل پسندیوں کو آسان بھی کردیا ہے۔ دوسری جانب اَدب کے طالب علموں کو نثری لسانیات و اُسلوبیات کے وسیلے سے ایک نئی راہ بھی دکھائی ہے۔ میں سمجھتا ہوں اس کتاب کی ایک مکتبی حیثیت بھی ہے۔ خصوصاً نثر کی یُوں تعبیر و تفہیم اگر کوئی کرناچاہے گا تو یہ کتاب اُسے ایسی زمین فراہم کرے گی؛ جہاں وہ قدم جما کر مزید مشکل منزلیں سرکرسکے گا۔ کیوں کہ کتاب اُردو کے بنیادی قواعد وانشا کے اُصولوں کو جہاں ایک مقام پر آشکار کرتی ہے؛ وہاں دوسری زبانوں کی گرامر سے بھی روشناس کراجاتی ہے اورسب سے اہم بات یہ کہ جدیدلسانیاتی و اُسلوبیاتی مباحث کو سمیٹتی ہے۔ ان تناظرات سے کتاب کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔

کتاب کی طباعت عمدہ، کاغذ دیدہ زیب، کتابت خوش رنگ اور پیش کش پُرکشش ہے۔ جس کے لیے پبلشرز قابلِ داد ہیں۔ برائے رابطہ: مثال پبلشرز، رحیم سینٹر، پریس مارکیٹ، فیصل آباد۔
فون 03006668284۔ قیمت1000روپے۔ صفحات292بڑا سائز۔

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply