اینٹی سمیٹک Anti-semitic بیانیہ: اسرائیل کے مجرمانہ افعال کو چھپانے کی کوشش — وحید مراد

1

سامی عداوت و تعصب (اینٹی سمیٹزم۔ Antisemitism) کیا ہے؟

دنیا میں پائی جانے والی نسل انسانی حضرت نوحؑ کےتین بیٹوں سام، حام اور یافث کی اولاد میں سے ہے۔ اہل حبش حام کی اولاد، اہل ترک یافث کی اولاد اور اہل عرب و عجم و یہود، سام کی اولاد میں سے ہیں۔ سام کی مناسبت سے سامی مذاہب (عربوں، آشوریوں اور یہودیوں کے مذاہب)، سامی زبانیں اور سامی ثقافت کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ حضرت ابراہیمؑ بھی سامی النسل تھے اس لئے ان کی نسل میں پائے جانے والے مذاہب یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام بھی سامی مذاہب کہلاتے ہیں۔

سامی مخالفت و تعصب (اینٹی سمیٹزمAntisemitism) کی اصطلاح سے ایک غلط تاثر ابھرتا ہے کہ یہ تمام سامی مذاہب، زبانوں یا سامی ثقافت کے خلاف تعصب پر مبنی رویہ ہے لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ اس اصطلاح کا مطلب صرف یہودیوں کے خلاف عداوت اورتعصب ہے۔ یہ یہود کے خلاف پائی جانے والی انفرادی نفرت سے لیکر اجتماعی و منظم دشمنی اور فوجی حملوں تک محیط ہے۔ یہود سے عداوت کی بنیاد پر کئے جانے والے فوجی حملوں کی تاریخ پرنظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں مسلمانوں کا کوئی کردار شامل نہیں، یہ سب حملے عیسائی اقوام یا دیگر غیر مسلم اقوام نے کئے۔

یہود پر ان منظم حملوں میں 1096 کا رائنلینڈ کا قتل عام، 1290 میں انگلینڈ سے یہودیوں کا اخراج، 1348 سے لیکر 1351 تک یورپ میں یہودیوں پر ہونے والے حملے، 1391 میں ہسپانوی یہودیوں کا قتل عام، 1492 میں یہودیوں کی اسپین سے دربدری، 1648 میں یوکرین سے دربدری، 1657میں یہود کا قتل عام، 1821 سے 1906 کے درمیان روس میں قتل عام، 1894 سے 1906 کے دوران فرانس میں یہود پر ظلم و ستم، دوسری جنگ عظیم میں جرمنی میں ہولوکاسٹ اور یہود مخالف سویت پالیسیاں شامل ہیں۔

اینٹی سمیٹزم(Antisemitism) کی وجوہات :

جرمن سوشیالوجسٹ (Rene Konig)، فرانسیسی رائٹر (Bernard Lazare)، ویسٹ ورجینا یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر (Willian Brustein) اور امریکہ کے رومن کیتھولک مورخ (Edward Flannery) کے مطابق عیسائی ممالک اور معاشروں میں یہود کے خلاف پائی جانے والی نفرت کے کئی حوالے اور وجوہات ہیں۔ ان میں سب سے اہم حوالہ مذہبی ہے۔ عیسائیوں میں یہود کو حضرت عیسیؑ کا قاتل سمجھا جاتا ہے۔

یہود سے نفرت کی دوسری وجہ انکا معاشی پس منظر ہے۔ وہ دولت، کرنسی اور بیکنگ کا کاروبار کرتے ہیں اور سود خور مشہور ہیں۔ ایک طرف انکی شہرت پیسہ بچاکر رکھنے والے کنجوس، لالچی اور بخیل کے طورپر ہے اور دوسری طرف اپنے مقاصد کی تکمیل کی خاطر لوگوں کو خریدنے اور مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے بچایا ہوا پیسہ پانی کی طرح بہانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ ان پر عالمی معاشی کساد بازاری اورپیسے کی بنیاد پر انسانیت کا استحصال کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس کی تفصیلات صیہونی لیڈروں کے ‘پروٹوکولز’ اور دیگر کئی کتابوں میں ملتی ہیں۔ وہ خود محنت نہیں کرتے لیکن منافع اور مادیت کے زور پر دوسروں کی محنت کا استحصال کرتے ہیں۔ وہ دنیا کی معیشت، عالمی مالیاتی اداروں، اسٹاک مارکیٹ اور قرضوں کے ذریعے کاروبار پر غلبہ حاصل کرکے دنیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ انہیں معاشرتی اور سماجی طور پر کمتر، فحش اور غیر مہذب سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان میں جنونیت، پوشیدہ اعمال و حرکات اور غیر معقولیت کے خصائص پائے جاتے ہیں۔ انکے نزدیک غیر یہودی کو دھوکہ دینا جائز ہے اس لئے انہیں ہوشیار، فریب دینے والے اور ہیرپھیر کرنے والے بھی کہا جاتا ہے۔

چوتھی وجہ یہ ہے کہ یہودی خود نسل پرست ہیں اور دیگر نسل پرست گروہ ان سے نفرت کرتے ہیں۔ انہیں میزبان قوم سے غداری اوربے وفائی کرنے کا الزام دیا جاتا ہے۔

پانچویں وجہ یہ ہے کہ یہودی عام طورپر حکومتوں اور سلطنتوں کے خلاف سازشوں، تخریبی کاروائیوں اور انقلابات وغیرہ میں ملوث رہے ہیں اس لئے ان پر دوہری وفاداری کا الزام لگایا جاتا ہے۔

چھٹی وجہ یہ ہے کہ وہ دوسری اقوام کے اخلاق اور تہذیب کو مجروح کرنے کیلئے لوگوں کواخلاقی برائیوں کی طرف مائل کرتے ہیں۔ ان پر کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کا تخلیق کار ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔ جب وہ اپنی انفرادیت کا انتہائی شکل میں اظہار کرتے ہیں تو ان پر بے بنیاد شہری (rootless cosmopolitans)، سخت گیر (hardened) اور جارح (chauvinists) کےالزامات لگتے ہیں اور جب وہ اپنی انفرادیت کو پوشیدہ رکھتے ہوئے سازشیں کرتے ہیں تو ان پر (fifth-columnists) کا الزام لگتا ہے۔

مسلمانوں میں پائی جانے والی یہود دشمنی کی وجہ:

جب اسپین میں یہود کے قتل عام کے بعد انہیں ملک بدر کیا گیا تو انکا جہاز کئی ممالک کی بندر گاہوں پر اجازت نہ ملنے کی وجہ سے گھومتا رہا اوربالآخراستنبول میں لنگرانداز ہوا۔ عثمانی خلیفہ بایزید دوم نے انکا خیر مقدم کیا اور انہیں الگ شہر بسانے کی اجازت دی۔ خلیفہ بایزید اور اسکے بعد ہر سلطان نے یہودیوں کو شاہی طبیب مقرر کیا، انہیں سلطنت کے اندر تجارت اور بلا روک ٹوک آباد ہونے کی اجازت دی۔ فلسطین میں ابتدائی طور پر بسنے اور زمینیں خریدنے والے وہی یہودی تھے جنہیں سلطان بایزید نے سلطنت عثمانیہ میں پناہ دی تھی۔ بعد ازاں انہی یہودیوں نے برطانیہ سے مل کر یورپ کے دیگر یہودیوں کو یہاں لا کر بسایا، سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازشیں کرکے اسے کمزور کیا اور اسرائیلی ریاست کیلئے راستہ ہموار کیا۔

اسلام کے ابتدائی دور میں بھی مدینہ اور خیبر سے یہودیوں کا انخلا ہوا تھا لیکن اسکی بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ اسلامی ریاست کے خلاف جاسوسی اور ریشہ دوانیوں میں ملوث تھے لیکن بعد کے ادوار میں ریاست اسرائیل کے قیام تک مسلمانوں میں یہودیوں کے خلاف منظم کاروائی کے کوئی آثار نہیں ملتے۔ مسلم حکمرانوں نے ہمیشہ یہود کی مدد کی لیکن اسکے جواب میں جب انہوں نے سلطنت عثمانیہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اسرائیلی ریاست کی بنیاد رکھی اور فلسطینیوں کو زمینوں سے بے دخل کرتے ہوئے انکا قتل عام کیا تو مسلم معاشروں میں یہود کے خلاف نفرت ضرور پیدا ہوئی۔ مسلمانوں میں یہود کے خلاف پائی جانے والی یہ نفرت، اس عداوت کا عشر و عشیر بھی نہیں جو یورپ اورعیسائی اقوام میں پائی جاتی ہے۔

مورخ برنارڈ لیوس(Bernard Lewis) اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اینٹی سیمٹزم کی تین ویوز تھیں۔ پہلی دو ویوز مذہبی اور نسلی عداوت پر مبنی تھیں۔ پہلی ویو کا آغاز اس وقت ہوا جب یہودیوں نے حضرت عیسیؑ کو مسترد کیا۔ دوسری ویو یورپ میں نسلی منافرت کی شکل میں اس وقت سامنے آئی جب اسپین میں یہودیوں کو زبردستی عیسائی بنانے کی کوشش کی گئی اور یہ سلسلہ جرمنی میں ہولوکاسٹ تک پھیلا ہوا ہے۔ تیسری ویو کا آغاز فلسطین کی سرزمین پر اسرائیلی ریاست کے قیام کے ساتھ ہوا جس میں یہودیوں نے فلسطینیوں کو انکی زمینوں سےبے دخل کیا، ان پر جنگیں مسلط کیں اورانہیں دیگر علاقوں میں پناہ گزین ہونے پر مجبور کیا۔ اس سے قبل مسلمانوں میں یہود کے خلاف نفرت نہیں پائی جاتی تھی۔ وہ دیگر اقوام کی نسبت یہود کا زیادہ احترام کرتے تھے۔ [1]

آج کا مغرب اور خاص طورپر امریکہ، یہود کو یہ باور کراتا ہے کہ عیسائی معاشروں میں یہود کے خلاف پائی جانے والی نفرت مذہبی منافرت کا حصہ تھی۔ آج کا مغرب مذہب کوچھوڑ چکا ہے اس لئے مذہب کی بنیاد پر پائی جانی والی نفرتیں تاریخ اور ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔ آج کی مغربی اقوام یہود کی محافظ اور دوست ہیں۔ اب ان سے نفرت کرنے والے صرف مسلم معاشرے ہیں جو معاشی اور مادی ترقی میں ان سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے حسد کرتے ہیں۔ اس طرح کے خیالات پیش کرنے والے مصنفین میں (Gustavo Perednik, Ruth Wisse, Pierre-Andre Taguieff, Abba Eban, Earl Raab, Robert Wistrich) وغیرہ شامل ہیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پر یہود دشمنی و تعصب کے الزامات:

اقوام عالم میں پائی جانے والی یہود دشمنی کی تاریخ، وجوہات اور آج کے دور میں مسلمانوں پریہ لیبل لگانے کا پس منظر جاننے کے بعد یہ بات آسانی سےسمجھ میں آجاتی ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جب سی این این کی اینکر بیانا گولڈریگا(Bianna Golodryga) کو انٹرویو دیتے ہوئے اسرائیل کیلئے ‘ڈیپ پاکٹس’ کی اصطلاح استعمال کی تو خاتون ناراض کیوں ہوگئیں؟ جب شاہ محمود نے کہا کہ میڈیا میں اسرائیل کا اثر و رسوخ و تعلقات ہیں، انکو بہت زیادہ کوریج دی جاتی ہے اور وہ میڈیا کو کنٹرول کرتے ہیں توسی این این کی اینکر پرسن نے کیوں کہا کہ مجھے آپ کی یہ بات بری لگی کہ آپ اسرائیل کے میڈیا سے قریبی تعلقات کا الزام لگاتے ہوئے یہود دشمنی پر مبنی (anti-Semitic) بیان دے رہے ہیں؟ اس پر شاہ محمود نے کہا کہ دنیا کا اس بارے میں تو یہی خیال ہے۔ اگر آپ کو اس سے اتفاق نہیں تو آپ اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے متوازن کوریج بھی کر سکتے ہیں۔ کیا ٹینک و توپ حملوں، فضائی حملوں اورراکٹ حملوں کا دفاع کیا جا سکتا ہے؟ اسرائیل کی طرف سے فلسطین پر مسلط کردہ جنگ کا حل سیز فائر کے علاوہ کیا ہے؟

واشنگٹن میں پاکستانی نژاد تجزیہ کار عزیز یونس نے اس حوالے سے اپنے ایک ٹوئیٹ میں کہا کہ شاہ محمود قریشی کا یہود مخالف بیان قابل مذمت ہے۔ فلسطین کے اصولی موقف کے ساتھ کھڑے ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ یہود مخالف سازشی نظریات کو فروغ دیں۔ یہ کہنا کہ انکی گہری جیبیں ہیں اور انہوں نے میڈیا کو خریدا ہوا ہے اسے یہود مخالف گالی تصور کیا جاتا ہے۔ عزیز یونس کا کہنا تھا کہ یہ ایسے ہی ہےجیسے کسی مغربی ملک کا کوئی وزیر پاکستانیوں کے بارے میں کہےکہ ‘یہ خودکش بمباروں کو تربیت دیتے ہیں’۔ یہ بیان اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے کے مترادف ہوگا یعنی اسلاموفوبیا کے زمرے میں آئے گا۔ ایک صحافی اور اینکر مہدی حسن نے اپنے ٹوئیٹ میں لکھا کہ ‘کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ شاہ محمود کابیان اسرائیل مخالف ہے نہ کہ یہود مخالف لیکن یہ بات واضح ہے کہ اگر آپ اسرائیل پر گہری جیبیں ہونے اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کا الزام لگاتے ہیں تو یہ یہود مخالف بات ہی ہے۔ وجاہت مسعود نے’ہم سب’ پر ایک مضمون میں لکھا کہ یہود مخالف بیان پر شاہ محمود قریشی سفارتی میدان میں فیل ہوگئے۔

ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ جب وہ لوگ ہمارے پیغمبر اسلامﷺ اور اسلام کی توہین کرتے ہیں اور فریڈم آف چوائس کے تحت اسلاموفوبیا کے فروغ کا باعث بنتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں لیکن جب ہم مغربی میڈیا پر اسرائیل کی گہری جیبوں کی نشاندہی کرتے ہیں تو وہ ہم پر انٹی سیمیٹک ہونے کا الزام لگا تےہیں۔ ہمارےفلسطینی بھائیوں کا قتل عام ہو رہا ہو اور ہمیں انکے تحفظ کیلئے بولنے کا حق بھی نہ دیا جائے یہ کہاں کا انصاف ہے؟ ہم اس جھوٹے بیانیے کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمیں اسکے ذریعے بلیک میل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ مغرب کی وہ تاریخ جس میں یہود پر حملے کئے جاتے رہے، اس کا بوجھ ہمارے کندھوں پر لادنے کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟۔ اینٹی سیمیٹک کا الزام جھوٹا اور شرمناک ہے۔ ایڈوائزر نیشنل سیکورٹی معید یوسف نے شیریں مزاری کے بیان کی حمایت میں لکھا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ ہم معذرت خواہانہ رویہ ترک کرکے صحیح بات کے ساتھ کھڑے ہوں اور مغرب کے منافقانہ رویے کی مذمت کریں۔

اس بات سے قطع نظر کہ شاہ محمود قریشی نے فلسطین کے دفاع میں مضبوط موقف اختیار کیا یا کمزور، وہ سی این این کی اینکر پرسن کا صحیح طورپر دفاع کر سکے یا نہیں، سفارتی میدان میں جھنڈے گاڑھ کر آئے یا فیل ہوکر، سوال یہ ہے کہ آخر انہوں نے ایسا کونسا لفظ یا جملہ استعمال کیا جس سے یہود دشمنی یا تعصب ظاہر ہوتا ہے؟ لبرل اور سیکولر حلقوں کے صحافی اور دانشور جو مغرب کی ہاں میں ہاں ملاکرشاہ محمود پر یہود دشمنی کا الزام لگاتے ہوئے دلیل دے رہے ہیں کہ اس طرح تو وہ بھی ہمیں دہشت گردی کا الزام دے سکتے ہیں تو کیا انہوں نے کبھی مغرب کو اسی طرح جواب دیا جس طرح وہ شاہ محمود کو دے رہے ہیں؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر شاہ محمود قریشی نے اپنے کسی لفظ یا جملے سے یہود دشمنی اور تعصب کا اظہارنہیں کیا اور انکے انٹرویو کے بعد ڈاکٹر شیریں مزاری اور معید یوسف نے بہت بہتر انداز میں اسکا دفاع کر لیا تھا تو وزارت خارجہ کو یہ معذرت خواہانہ موقف کرتے ہوئے وضاحتی بیان کیوں دینا پڑا کہ فریڈم آف ایکسپریشن کے تحت ہر کسی کو اپنی بات کہنے کا حق ہے۔ شاہ محمود نے انٹی سیمٹک ریمارکس نہیں دئے بلکہ انکو ٹوسٹ کرتے ہوئے انٹی سیمٹک قرار دیا گیا۔

شاہ محمود قریشی کی طرف سے استعمال کی گئی اصطلاح کو اگرکسی بھی انگریزی لغت یا انسائیکلوپیڈیا میں دیکھیں تو ڈیپ پاکٹس(Deep Pockets) کا مطلب ‘ بہت دولت مند، غیر محدود فنڈز کا مالک’ ہی ملے گا اس سےکہیں بھی یہود دشمنی یا تعصب کا کوئی پہلو ظاہر نہیں ہوتا۔ آئرلینڈ میں اس سے مراد وہ متمول بزنس مین ہوتا ہے جو کسی پب میں شراب پینے کے بعد گلاس کے ساتھ کھیلتے ہوئے اسے فرش پر گرا کر توڑ دیتا ہے۔ امریکہ میں یہ عوامی اصطلاح (slang term) بڑی کمپنیز، اداروں یا امیر افراد(مثلا بل گیٹس وغیرہ)کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ شارٹ آرمز اینڈ ڈیپ پاکٹس(Short Arms and deep Pockets) کا مطلب ایسا کنجوس آدمی ہوتا ہے جو پیسے جوڑ کر رکھتا ہے اور کسی خاص مقصد کے علاوہ عام طورپر خرچ نہیں کرتا۔ قانون اور کاروبار میں اس سے مراد عام طورپر ‘بڑی یا موٹی آسامی’ لیا جاتا ہے اور کسی کاروباری معاملے کا ذمہ دار کسی چھوٹے شخص(ریٹیلر وغیرہ) کو ٹھہرانے کے بجائے اسکے پروڈیوسر یا ہول سیلر کو ٹھہرایا جاتا ہے کیونکہ اسکے پاس ادائیگی، دفاع کرنے یا انشورنس کیلئے زیادہ معاشی طاقت ہوتی ہے۔

لبرل و سیکولر صحافی مغربی میڈیا کی نفرت انگیز اصطلاحات کا جواب کب دیں گے؟

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ ہمارے لبرل اور سیکولر حلقوں کے صحافیوں اور دانشوروں کا آسان نشانہ بھی صرف پاکستان اور اسلام ہوتے ہیں کیونکہ دونوں کو عالمی سیاست میں لاوارث سمجھا جاتا ہے۔ سی این این کی اینکر پرسن کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے تو شاہ محمود پر فوراً الزام دہرا دیا گیا کہ یہود دشمنی اور تعصب پر مبنی الفاظ استعمال کئے گئے لیکن عالمی میڈیا ہر روز اسلام کے حوالے سے جو نازیبا اور توہین آمیز اصطلاحات استعمال کرتا ہے، کسی صحافی اور دانشور کو جرات نہیں ہوئی کہ اس عمل کو بھی’اسلام دشمنی’ قراردے۔

امریکہ کے زیر قیادت وار آن ٹیرر کےدوران پوری دنیا میں میڈیا کے ذریعے یہ گمراہ کن تصور پھیلایا گیا کہ امت مسلمہ ایک باغی جماعت ہے۔ مسلمان ہونے کا لازمی مطلب عسکریت پسند یا دہشت گرد ہوتا ہے کیونکہ مذہب اسلام دہشت گردی کی نمائندگی کرتا ہے۔ مغرب کے ماس میڈیا ڈسکورس میں اسلام اور مسلمانوں کے حوالے سے عوام کی ایک خاص طرح کی ذہن سازی کی گئی اورامت مسلمہ کو دہشت گرد جماعت ثابت کرنے کیلئے اسلامی اصطلاحات کی من مانی تعبیر و تشریح کی گئی لیکن لبرل و سیکولرپاکستانی صحافیوں اور دانشوروں نے مغربی میڈیا سے کبھی نہیں پوچھاکہ آپ ‘مسلم دشمنی اور تعصب’ کے مرتکب کیوں ہو رہے ہیں؟

ایک تحقیق کے مطابق آسٹریلیا کے صرف ایک مشہور اخبار’دی ایج’ کے سال بھر (2016-2017) کے اداریوں میں مسلمانوں کے خلاف جس نفرت کا اظہار کیا گیا اتنی نفرت شاید مسلمانوں نے چودہ صدیوں کے طویل عرصے میں بھی اپنے مخالفین سےنہیں کی ہوگی۔ اس اخبار کے اداریے ‘ اسلامی ریاست پر ہتھوڑا چلایا جائے’ میں جو نفرت انگیز اصطلاحات استعمال کی گئیں وہ درج ذیل ہیں:

اسلامی شیطانی ریاست، نام نہاد خلافت، جہادی جعلی دعوے، اسلامی ریاست کے جنگجو، جہادی بھرتی، ناقابل برداشت جہادی، بنیاد پرست اسلامی طریقے، مذہبی غلامی، نام نہاد مذہبی آدرش، اسلامی خوف، عالمی اسلامی غم و غصہ، غیر منصفانہ متحرک لوگ، عالمی غم و غصے کے امین، مشتبہ اسلامی برادری، خونخوار اسلامی لاشیں، نفرت انگیز اسلامی مبلغین، اسلامی جہادی امیگرنٹ، ہولناک اسلای تبلیغی نفرت، انسانی حقوق کے دشمن، عالمی اسلامی بحران، خود ساختہ مسلم ائمہ، جہادی ملاوں کا ٹولہ، بنیاد پرست پیغام رساں، مذہبی دعووں کے برے اعمال، مجرمانہ اسلامی عقیدے، ہجوم مسلم، فریب خوردہ مسلم، جنونی بوڑھے مسلمان، قرون وسطیٰ کے باسی، بدنظمی کے اسلامی مراکز(مساجد)، موت کے اسلامی گلے، آبائی اسلام پسند گروہ، بھڑک اٹھنے والے مسلم جہادی، اسلامی بھرتی زون، اسلامی شورش پسند، جنونی بندوق بردار، اسلامی جہادی لعنت وغیرہ۔ کسی صحافی اور دانشور نے انکے جواب میں آج تک کوئی بیان، ٹوئیٹ یا مضمون شائع نہیں کیا۔ اسکی تفصیلات ہمارے مضمون’ مغربی ذرائع ابلاغ : اسلامی اصطلاحات کی متعصبانہ کوریج ‘ میں ملاحظہ فرمائیں۔

جہاں تک بات ہے شاہ محمود قریشی کی استعمال کردہ اصطلاحات کی تو انہوں نے محض اسرائیل کی پالیسی پر تنقید کرنے کی کوشش کی لیکن آج کے دور میں اگر کسی بھی معاملے میں اسرائیلی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے، اسرائیلی ریاست کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف بات کی جائے، کسی کمزور قوم کے خلاف اسرائیل کے سازشی کردار کو بے نقاب کیا جائے یا ہولوکاسٹ سے انکار کیا جائے تو ایسا کرنے والے پر یہود دشمنی اور تعصب کا لیبل لگایا جاتا ہے۔

یہود دشمنی کا جدید نظریہ اور نوم چومسکی کی رائے:

عیسائی اقوام سے یہود دشمنی کا لیبل ہٹاکر مسلم اقوام پر لگانے کی خاطر امریکہ اور اسرائیل نے ‘اینٹی سیمٹزم’ کے پرانے تاریخی تصور کو بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں نئی شکل دے دی۔ اب اسے انٹی سیمٹزم کے بجائے صیہونیت مخالف(Anti-Zionism) اور اسرائیل مخالف(Anti-Israeli Government) کا نام دیا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت کی تمام ظالمانہ کاروائیوں، فلسطینیوں پر وحشیانہ حملوں، انکی زمینوں سے بے دخلی اور قبضے وغیرہ کو اس نظریہ کے پیچھے چھیاپا جائے اور اسرائیل کے درست ہونے کا جواز پیدا کیا جائے۔

2014 میں جب نوم چومسکی سے سوال کیا گیا کہ کیا اسرائیل دشمنی ہی اینٹی سیمٹزم ہے؟ تو اسکے جواب میں نوم چومسکی نے کہا کہ

‘ دراصل یہ کام بنیادی طور پراقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ابا ایبان(Abba Eban) نے سرانجام دیا۔ اس نے امریکی یہودی کمیونٹی کے سامنے دو امور پر عمل کرنے کی تجاویز پیش کیں۔ پہلا یہ کہ ہر اس تنقید کو اینٹی سیمٹزم قرار دیا جائے جو اسرائیلی حکومت کے کسی بھی عمل یا پالیسی کے خلاف ہو۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ اگر یہ تنقید یہودی کمیونٹی کے اندر سے کسی فرد کی جانب سے کی گئی ہو تو اسے نفسیاتی اور ذہنی مریض قرار دیا جائے اور اسکے لئے مثال کے طور پر ایک میرا نام(نوم چومسکی)اور دوسرا آئی ایف اسٹون(I.F.Stone) کا نام پیش کیا۔ چنانچہ ہمارے لئے یہ طے کیا گیا کہ ہمیں ذہنی و نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے اور غیر یہودی نقادوں کیلئے طے کیا گیا کہ ان پر اینٹی سیمٹک ہونے کا الزام لگا کر انکی کردار کشی اور مذمت کی جائے۔ اس صورتحال میں اسرائیل کے پروپیگنڈہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب وہ اینٹی سیمٹزم کا الزام لگاتے ہیں تو اسکا مطلب واقعی یہود دشمنی نہیں ہوتا اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اسرائیلی ریاست و حکومت کے مجرمانہ افعال کو تنقید کا نشانہ نہ بنایا جائے‘۔ [2]

سرمایہ داریت، بزنس، ٹریڈ اور گلوبلائزیشن مخالفت کو بھی یہود مخالفت کا نام دیا جاتا ہے؟

دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کی پھیلی ہوئی ملٹی نیشنل کمپنیوں، عالمی مالیاتی اداروں، کاروبار و تجارتی اداروں میں انوسٹ کیا گیا سرمایہ زیادہ تر یہودیوں کا ہے اوران اداروں کی پشت پناہی و تحفظ کرنے والی اصل ریاست امریکہ ہے اس لئے امریکہ و اسرائیل کی طرف سے انٹی سیمٹزم کو اب ‘انٹی سرمایہ داریت’، ‘انٹی گلوبلائزیشن’ اور ‘اینٹی بزنس اینڈ ٹریڈ’ بھی تصور کیا جاتا ہے۔ امریکہ نے 2004 میں انٹی سمیٹزم کے چار بڑے ماخذات کی نشاندہی کی جو درج ذیل ہیں:

٭ روایتی یہود دشمنی جس میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہودی کمیونٹی دنیا بھر کی ریاستوں، حکومتوں، میڈیا، عالمی بزنس اور مالیاتی اداروں کو کنٹرول کرتی ہے۔

٭ ریاست و حکومت اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف تنقید۔

٭ اسرائیل کی طرف سے عرب مسلم علاقوں پر قبضے اور حملوں کے خلاف مسلم عوام میں پایا جانے والا غصہ اور نفرت۔

٭ امریکی ریاست اور گلوبلائزیشن کے خلاف تنقید جو بالواسطہ طورپر اسرائیل کے خلاف تنقید ہوتی ہے۔ [3]

امریکی اسکالر مارک اسٹراس(Mark Strauss) کا کہنا ہے کہ جس چیز کو انٹی گلوبلائزیشن کہا جاتا ہے وہ ایک ایسا رد عمل ہے جس نے متعدد سیاسی عناصر کو اس موقف پر متحد و یکجا کر دیا ہے۔ اس میں دائیں بازو اور بائیں بازو کے لاتعداد گروہ شامل ہیں جنکا ایک مشترکہ مقصد ہے جسکے تحت یہ عالمی تجارت، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر بین الاقوامی تجارتی اداروں کے خلاف محاذ کھڑاکرتے ہیں اور اس مشترکہ مقصد کے پیش نظر انہیں انٹی گلوبلائز کہا جاتا ہے۔ اسٹراس کا استدلال ہے کہ انٹی گلوبلائزیشن تحریک بذاتہ انٹی سیمٹک نہیں لیکن یہ ان سارے معاملات میں یہودی سازش کو اس طرح تلاش کرتی ہے کہ یہ اپنی وسعت میں انٹی سیمٹک نظر آتی ہے۔ [4]

ہبریو یونیورسٹی، یروشلم میں یہودی تاریخ کےپروفیسر رابرٹ وسٹریچ(Robert Wistrich) کا کہنا ہے کہ ‘عالمگریریت کے مخالفین نے ایک ایسے گروہ کو جنم دیا ہے جو بنیادی طوپر امریکہ مخالف، سرمایہ دار مخالف، اور یہود دشمن ہیں’۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ جب عالمی معیشت نے ترقی کی تو اس عمل میں پیچھے رہ جانے والوں میں عرب اور مسلم معاشرے شامل تھے جو حسد کرنے کی بنیاد پر عالمی معیشت اور ترقی کے سب سے بڑے مخالف ہیں اور انکی اس مخالفت کا شکار اسرائیل اور یہودی بھی ہوتے ہیں۔ [5]

حرف آخر:

اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کی ‘ڈیپ پاکٹس’ ہیں اور انہوں نے مل کر پیسے کے بل بوتے پر عالمی سیاست میں ایسا جال پھیلا رکھا ہے کہ آپ امریکہ کی وار آن ٹیرر کے تحت اسلامی ملکوں پر چڑھائی کے خلاف بات کریں یا اسرائیلی جارحیت اورغزہ پر وحشیانہ بمباری کے خلاف۔ اسرائیل کی طرف سے فلسطین کی زمینوں پر قبضے کے خلاف تنقید کریں یا عالمی سیاسی اداروں کے کردار پر۔ ورلڈ بینک، آئی ایم ایف اور سرمایہ دارانہ نظام کی طرف سے کمزور اقوام کا استحصال کرنے کے خلاف آواز اٹھائیں یاعالمی تجارتی پابندیوں اور گلوبلائزیشن کے خلاف۔ عالمی میڈیا کے متعصبانہ اور بکے ہوئے کردار پرسوال اٹھائیں یا اسلاموفوبیا پر، ہر صورت میں آپ پر اینٹی سیمٹزم کے الزامات لگنے ہیں۔ جب الزامات ہی لگنے ہی تو خوف اور پرواہ کس بات کی؟ معذرت خواہانہ انداز اپنانے کے بجائے امریکہ، اسرائیل اور مغرب کے منافقانہ رویے کی کھل کر مذمت کریں اور اسکے ساتھ واضح کرتے رہیں کہ ہمارا یہ حق ہے کہ ہم مغربی میڈیا پر اسرائیل کی گہری جیبوں کی نشاندہی کریں۔ مغرب یہود دشمنی کا تاریخی اور شرمناک بوجھ ہمارے کندھوں پر لادنے کی کوشش نہ کرے، ہم اسرائیل اور امریکہ کے تمام جھوٹے الزامات مسترد کرتے ہیں۔ ہمیں نہ بلیک میل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہم بلیک میل ہونگے۔

یہ بھی دیکھیں:

https://www.youtube.com/watch?v=cq7xIrm2j-w&t=604s

References:

[1] Lewis, Bernard “The New Anti-Semitism” Retrieved from https://web.archive.org/web/20110908010822/http://hnn.us/blogs/entries/21832.html

[2] Noam Chomsky at United Nations: It would be nice if the United States lived up to international law. Retrieved from https://www.democracynow.org/2014/11/27/noam_chomsky_at_united_nations_it

[3] U.S. Department of State (2005)” Report on Global Anti-emitism” Retrieved from https://2009-2017.state.gov/j/drl/rls/40258.htm

[4] Strauss, Mark (2003) “Antiglobalism’s Jewish Problem” Retrieved from https://yaleglobal.yale.edu/content/antiglobalisms-jewish-problem

[5] Interview with Robert Wistrich. Retrieved from https://www.jcpa.org/phas/phas-25.htm

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. محمد ارسلان صابر خان on

    ہمارے فاضل دوست محترم جناب وحید مراد کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ محض ایک مضنون نگار ہی نہیں بلکہ ایک اعلیٰ درجہ کے محقق و بلند پایہ نقاد ہیں۔ آپ کے تمام تر مضامین اعلی درجہ کی تحقیق اور ٹھوس دلائل سے مزین ہیں۔ زیر نظر تحقیقی مقالہ میں وحید مراد صاحب نے اینٹی سمائٹزم کی بھاری بھرکم اصطلاح کی حقیقت کو بیشمار ڈکشنریوں اور سینکڑوں کتب و جرائد کے اقتباسات بمع حوالہ جات کے اس عمدگی سے واضح کیا ہے کہ اس مبہم اصطلاح میں اب کسی قسم کا ابہام باقی نہیں رہا۔ انہوں نے تاریخی طور پر اس اصطلاح کی ارتقاء پذیر صورتوں کا کمال خوبی کے ساتھ زمان و مکان کی بدلتی حدود کے مطابق جائزہ لیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح بےشرمی اور ڈھٹائی سے مغرب نے محض اسلام دشمنی میں۔اینٹی سمائٹزم کی اصطاح کو مسلمانوں پر چسپاں کرکے یہود و صیہونیت نوازی کا حق ادا کیا۔ مزید برآں معروف محقق نوم چومسکی کے حوالہ سے یہ انکشاف بھی کیا کہ موجودہ دور میں یہ اصطلاح ہر اس حق پسند شخص پر تھوپی جائے گی جو اسرائیلی ظالمانہ پالیسیوں پر تنقید کرے گا۔ وحید مراد صاحب کا یہ تحقیقی مضمون بھی سابقہ مضامین کی طرح اپنے موضوع پر مستقل ریفرنس کی حیثیت رکھتا ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی محترم۔وحید مراد صاحب کو اسی طرح عمدگی, شائستگی, مدلل اور باحوالہ مزید بھی نت نئے موضوعات پر علمی و تحقیق مضامین۔سپرد قلم کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔آمین

Leave A Reply