علامہ اقبال کا تاریخی بیان، مسئلہ فلسطین پر

0

مجھے نہایت افسوس ہے کہ میں اس جلسۂ عام میں جو مسلمانان لاہور آج فلسطین رپورٹ کےخلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی غرض سے منعقد کر رہے ہیں، شمولیت سے قاصر ہوں۔ لیکن میں مسلمانوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ عربوں کے ساتھ جو نا انصافی برتی گئی ہے مجھے اس کا ایسا ہی شدید احساس ہے جیسا مشرقِ قریب کی صورتِ حال سے واقف کسی شخص کو ہوسکتا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ اہل برطانیہ کو اب بھی اس وعدہ کے ایفاء پر مائل کیا جاسکتا ہے جو انگلستان کی طرف سے عربوں سے کیا گیا تھا۔ مجھے مسرت ہے کہ برطانوی پارلیمنٹ نے اپنی ایک تازہ بحث میں ملک معظم کی حکومت کے فیصلہ پر نظر ثانی کرتے ہوئے مسلمۂ تقسیم فلسطین کو غیر منفصل چھوڑ دیا ہے۔

Allama Iqbal Poetry کلام علامہ محمد اقبال: (Zarb-e-Kaleem-175) Daam-e-Tehzeeb

یہ فیصلہ مسلمانان عالم کو ایک موقع بہم پہنچاتا ہے کہ وہ پوری قوت کے ساتھ اس امر کا اعلان کریں کہ وہ مسئلہ جس کاحل برطانوی سیاست دان تلاش کررہے ہیں۔ محض قضیہ فلسطین ہی نہیں بلکہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا شدید اثر تمام دنیائے اسلام پر ہوگا۔

مسلہ ٔ فلسطین کو اگر اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے تو فلسطین ایک خالص اسلامی مسئلہ ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو فلسطین میں مسئلہ یہود کا تو ۱۳ صدیاں ہوئیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یروشلم میں داخلہ سے قبل خاتمہ ہوچکا تھا۔

Allama Iqbal Poetry کلام علامہ محمد اقبال: (Zarb-e-Kaleem-179) Sham-o-Falesteenفلسطین سے یہودیوں کا جبری اخراج کبھی بھی عمل میں نہیں آیا بلکہ بقول پروفیسر ہوکنگ یہود اپنی مرضی اور ارادہ سےا س ملک سے باہر پھیل گئے اور ان کے مقدس صحائف کا غالب حصّہ فلسطین سے باہر ہی مرتب ومدوّن ہوا۔ مسلہء فلسطین کبھی بھی عیسائیوں کا مسئلہ نہیں رہا۔ زمانہ حال کے تاریخی انکشافات نے ”پیٹردی ہرمٹ“ کی ہستی ہی کو محلِ اشتباہ قرار دے دیا ہے۔ بالفرض اگر یہ اعتراف بھی کرلیا جائے کہ حروبِ صلیبیہ فلسطین کو عیسائیوں کا مسئلہ بنانے کی کوشش تھیں تو اس کوشش کو صلاح الدین کی فتوحات نے ناکام بنادیا۔ لہذا میں فلسطین کو خالص اسلامی مسئلہ سمجھتا ہوں مشرقِ قریب کے اسلامی ممالک سے متعلق برطانوی سامراج ادارے کبھی بھی اس طرح بے نقاب نہ ہوئے تھے جیسے رائل کمیشن کی رپورٹ نے انہیں رسوا کردیاہے۔ فلسطین میں یہود کے لیے ایک قومی وطن کا قیام تو محض ایک حیلہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برطانوی امیریلزم مسلمانوں کےمقاماتِ مقدسہ میں مستقل انتداب اور سیادت کی شکل میں اپنے ایک مقام کی متلاشی ہے۔ بقول ایک ممبر پارلیمنٹ کے یہ ایک خطرناک تجربہ ہے اور اس سے برطانوی مسئلہ کا بحیرۂ روم کا حل میسّر نہیں آتا۔ برطانوی مدبرین کوجاننا چاہیے کہ برطانوی امپریلزم کی مشکلات کا حل تلاش کرتے کرتے وہ برطانوی امپریلزم کی مشکلات کا حل تلاش کرتے کرتے وہ برطانوی امپریلزم کے لیے ایک مصیبت برپا کررہے ہیں۔ ارض ِ مقدس بشمول مسجد عمر کی مارشل لاء کی دھمکی کے ماتحت جس کے ساتھ ساتھ عربوں کی مروت و سخاوت کا قصیدہ بھی پڑھاگیا ہے فروخت برطانوی سیاست کا کارنامہ نہیں ہوسکتا بلکہ اُس کےتدبر کا ماتم ہے۔

May be an image of 6 peopleیہودیوں کوزرخیززمین اور عربوں کے لیے کچھ نقدی اور پتھریلی اور بنجر زمین کا عطیہ کوئی سیاسی دانائی نہیں۔ یہ تو برطانوی تدبّر کی شان سے گرا ہوا ایک نہایت ہی کمینہ سودا ہے جو اس نامور قوم کےلیے باعثِ ندامت ہے جس کےنام عربوں سے آزادی اور اتحاد کے قطعی وعدے کئے گئے تھے۔

میرے لیے ناممکن ہے کہ اس مختصر بیان میں فلسطین رپورٹ کی تفاصیل سے اور ان تازہ تاریخی حالات سے جن کی بنا پر یہ معرض ظہور میں آئی بحث کرسکوں۔

یہ رپورٹ مسلمانان ایشیا کےلیے بڑی بڑی عبرتوں کی سرمایہ دار ہے۔ تجربہ نے اس امر کو بہ تکرار واضح کردیا ہے کہ مشرقِ قریب کےاسلامی ممالک کی سیاسی وحدت و استحکام عربوں اور ترکوں کے فوری اتحادِ مکرر پر موقوف ہے۔ ترکوں کو دنیائے اسلام سے علیحدہ کردینے کی حکمت عملی ابھی تک جاری رہے گا۔ گاہے گاہے اب بھی یہ صدا بلند ہوتی ہےکہ ترک تارکِ اسلام ہو رہے ہیں۔ ترکوں پراس سے بڑا بہتان نہیں باندھا جاسکتا۔ ا س شرارت آمیز پراپیگنڈے کا شکار وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو تاریخ تصورات فقہ ِ اسلامی سے نابلد ہیں۔ مسئلہ فلسطین کے امکانات ممکن ہے مسلمانوں کو اس متحدہ انگریزی فرانسیسی ادارہ جسے جمیعۃ الاقوام کا پُرشکوہ لقب دیا گیا ہے کی رکنیت کی حیثیت پر غور کرنے پر مجبور کریں اور ایک ایشیائی جمیعۃ الاقوام کے قیام وترتیب پر مجبور ہوں۔ عربوں کو جن کا شعور مذہبی ظہور اسلام کا موجب بنا جس نے مختلف اقوام ایشیا کو ایک حیرت انگیز کامیابی کےساتھ متحد کر دکھایا۔ ترکوں سے ان کی مصیبت کے زمانہ میں غدّاری کے نتائج سے غافل نہ رہنا چاہیے۔ عربوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وہ اُن غریب بادشاہوں پر خواہ کتنے طاقتور کیوں نہ ہوں مسلہءفلسطین پر ایک آزادانہ اور ایماندارانہ فیصلہ سےقاصر ہیں اور اعتماد نہ کرنا چاہیے۔ عربوں کا فیصلہ پورے غور وخوض کے بعد ایک آزاد فیصلہ ہونا چاہیے جس کے لیے انہیں مسئلہ زیر بحث کے تمام پہلوؤں پر پوری ضروری معلومات میسّر ہونی چاہتیں۔

موجودہ زمانہ ایشیا کی غیر عربی اسلامی سلطنتوں کے لیے بھی ایک ابتلاوآزمائش کا دور ہے۔ کیونکہ تنسیخ خلافت کے بعد مذہبی اور سیاسی نوعیت کا یہ پہلا بین الاقوامی مسئلہ ہے جو تاریخی قوتیں اُن کے سامنے لارہی ہیں۔

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply