سیکولرازم اور سیکولرائزیشن :  ہوزے کاسانوا کی نظر سے (1) — اطہر وقار

0
ہوزے کاسانوا José Casanova (پیدائش 1951، سپین) جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں مذہبی سوشیالوجی کے پروفیسر ہیں، لیکن ان کی علمیت کا خاص میدان سیکولرائزیشن، سیکولر سٹڈیز اور گلوبلائزیشن کے مطالعہ جات ہیں۔ وہ برکلےسینڑ آف ریلجن، پیس اور ورلڈ افیرز میں سنئیر فیلو بھی ہیں۔ 2017 میں یو ایس لائبریری آف کانگریس میں، نارتھ کی ثقافتوں سے منسوب، آنرایبل کولیج Kludge چیئر سے انہیں ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں نوازا گیا۔

Public religions in the modern world : Casanova, José : Free Download, Borrow, and Streaming : Internet Archiveہوزے کاسانوا کئی کتب کے مصنف ہیں، ان کی نہایت اہم کتاب Public Religions in Modern world ہے جو 1994 میں شائع ہوئی، اس کا ترجمہ کئی زبانوں میں کیا جا چکا ہے، اور کئی جامعات میں اسٹینڈرڈ نصاب کا حصہ ہے۔

یہ کتاب (پبلک ریلجنز ان ماڈرن ورلڈ) اس لحاظ سے اہم کتاب ہے کہ اس نے مذہب کے سماجیاتی مطالعہ کرنے کا آہنگ یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ حالانکہ جب یہ شایع ہوئی، اس دور میں مذہب مخالف اور مذہبی تہذیبوں کے خلاف تعصبات کا چلن تھا جیسا کہ برینڈ لیوس کی کتاب، Rage of Muslims, ہنٹنگٹن کی کتاب “تہذیبوں کے ٹکڑاؤ” اور 9/11 کے بعد، نظر آتا ہے۔ لیکن ہوزے کاسانوا نے ماڈرنٹی کے مختلف مغربی تناظرات پیش کیے، اور سمجھایا کہ ماڈرنٹی اور سیکولرائزیشن بھی اپنی اطلاقی مفہوم میں کئی جہات رکھتیں ہیں اور مختلف مغربی ممالک میں ان کا اطلاق مختلف انداز سے ہوتا ہے۔ ان مباحث میں کاسانوا نے انسانی سماج کی اجتماعی زندگیوں میں مذہب کے رول کے نئے زاویے پیش کیے جس کی وجہ سے مغربی ممالک میں بھی سیاست میں مذہب کے استعمال و شرکت کے نئے امکانات پیدا ہوئے، اور اکادمیہ میں پولیٹیکل سائنس میں مذہبی حوالے پھر سے نئی معنویت پانے لگے۔

کاسانوا کے طرف سے سامنے آنے والے “پبلک ریلجن” کے تھیسز نے ہیومنٹیز ڈیپارٹمنٹ میں سیکولرائزیشن سے جڑی بحث پر بھی دوررس اثرات مرتب کیے، اس لیے پچھلے تین عشروں سے ایسا شاید پہلی بار ممکن ہو رہا ہے کہ سیکولر، سیکولرازم اور سیکولرائزیشن کے تصورات کی تجزیاتی وضاحت، سیکولرائزیشن کے پروسس اور پیٹرن کے کیفیاتی تجربے کا مطالعہ، اس کی ادارتی پرداخت، سیکولرازم کی آئینی ڈھانچے میں ترسیل اور مادی اخلاقیات اور اخلاقی اقدار میں، ان کے اثرات کا محققانہ مطالعہ کیا گیا ہے۔ مثلاً کاسانوا نے سیکولریٹی کے سماجی مطالعہ جات میں باریک بینی سے واضح کیا ہے کہ جس طرح سیکولرازم کو واحد متبادل تصور حقیقت Reality کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے اور سیکولرائزیشن کے پروسس اور تھیسز کو ایک فطری ارتقاء کے ساتھ ملحق کیا جاتا ہے وہ ایک مصنوعی پیوند کاری ہے۔ اور اسی وجہ سے مغرب میں سیکولرازم اور سیکولرائزیشن کے تنقیدی مطالعہ جات کرنے کی ضرورت کی طرف توجہ مرکوز نہیں ہوتی اور اس قسم کے تنقیدی مطالعہ جات کی گنجائش پیدا نہیں ہوتی۔

Rethinking Secularism: Calhoun, Craig, Juergensmeyer, Mark, VanAntwerpen, Jonathan: 9780199796687: Amazon.com: Booksکاسانوا نے امریکی سیکولرازم کو کٹر اور مذہب مخالف فرانسیسی Laicization (مذہب کا سیاسی اور پبلک اجتماعی معاملات سے علیحدگی کا انتہا پسندانہ تعبیرات پر مبنی سیکولرازم) سے علیحدہ کیا ہے، اور اس کی درجہ بندی نہایت عالمانہ انداز سے پیش کی ہوں جیسے Self sufficient Secularism اور سیکولرازم کی نیچرلائزیشن کا نظریہ، وہ واقعتاً انہی کا ہی خاصہ ہے۔ اس لیے بلاشبہ کہا جا سکتا ہے کہ ہوزے کاسانوا کا مذہب کے سماجیاتی مطالعہ، سوشل سائنسز میں کلاسیک درجے کا کام ہے۔ اس کے علاوہ ان کے کئی مضامین سیکولرازم اور سیکولرائزیشن کے حوالے سے مختلف مستند کتب کی زینت بھی بنتے رہے ہیں مثلاً Rethinking Secularism کتاب میں، ان کے مضمون کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ جوشے کاسانوا کے کئی لیکچرز اور مباحث یو ٹیوب پر بھی موجود ہیں جہاں طلال اسد، چارلس ٹیلر اور جورجین ہیبر ماس کے ساتھ ان کے مکالمے نہایت فکر انگیز ہیں۔

ہوزے کاسانوا کا کام وقیع، جامع، اور فکریاتی و اطلاقی محاسن سے بھرپور ہے کیونکہ اس میں سیکولریٹی کی بحیثیت علمیاتی قدر، سیکولرازم بحیثیت نظریہ اور سیکولرائزیشن بحیثیت تاریخی پروسس، الگ الگ بھرپور وضاحت اور درجہ بندی موجود ہے، لیکن اس درجہ بندی کے باوجود ان تینوں مظاہر کے باہمی ربط اور تعاملات پر سیر حاصل گفتگو بھی کی گئی ہے۔ یوں درجہ بندی اور تعاملات کے محاسن، ایک جگہ اکٹھے ہونے سے بہت سی الجھنوں کی وضاحت ہو جاتی ہے جو کہ عصر حاضر میں، مختلف سماجیاتی پیچیدگیوں کی وجہ سے عام طور پر سمجھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

یہاں ہوزے کاسانوا کے افکار سے آگاہی کے لیے ایک سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے جو کہ ان کے بیشتر شایع شدہ افکار کے مطالعے سے ماخوذ، تشریحی نوعیت کا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہوزے کاسانوا کی فکری گہرائی کو بیان کرنے کے لیے کئی کتب اور مقالہ جات درکار ہیں۔ درج ذیل مضمون اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے، اس سلسلہ مضامین کا اگلا مضمون، قارئین جلد دانش پہ ملاحظہ کرسکیں گے)


عصر حاضر میں سیکولر، سیکولرازم اور سیکولرائزیشن سے متعلقہ بحثیں نہایت پیچیدہ نوعیت کی ہو چکیں ہیں، کیونکہ تقریباً ہر سماج میں ان اصطلاحات کا مفہوم لغوی، اصطلاحی اور اطلاقی مفہوم میں مختلف لیا جاتا ہے۔ فرانسیسی سیکولرازم اور سیکولرائزیشن، امریکی اور برطانوی سیکولرازم و سیکولرائزیشن سے مختلف ہے اور اسی طرح سے مختلف یورپی ممالک میں ان اصطلاحات کا مفہوم مختلف لیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ایشیائی اور مسلم ممالک میں بھی ان اصطلاحات کا مفہوم اور استعمال مختلف ہوتا ہے، مثلاً بعض راسخ العقیدہ مسلمانوں کے نزدیک سیکولرازم اور سیکولرائزیشن، مقامی مذاہب کو کنٹرول اور اجتماعی زندگی سے بیدخل کرنے کا ایک مذہب دشمن نظریہ اور طریقہ کار ہے، جبکہ مسلم معاشروں میں کچھ لبرل اور تجدد پسند طبقات کے نزدیک سیکولرازم اور سیکولرائزیشن وہ کنجیاں ہیں جس سے لوگوں کے بند دماغ کھولے جا سکتے ہیں یا پھر عملی طور پر کثرتیت pluralistic سماج قائم کیا جا سکتا ہے اور مذہبی رواداری اور برداشت قائم کرنے کا دوسرا نام، سیکولریٹی کے لیے فضا ہموار کرنا اور سیکولرائزیشن کے پروسس کو جاری و ساری رکھنا ہے۔

Global Religious and Secular Dynamics | Events

José Casanova

ایسی صورتحال میں ضروری ہے کہ اس الجھاؤ کو سلجھانے کی، کسی قدر کوشش کر لی جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس سیکولرازم اور سیکولرائزیشن کے پروسس کی بحیثیت نظریہ و تاریخی عمل سمجھنے کے لیے درکار مواد۔ بیشتر صورتوں میں۔ مغربی و مسیحی تناظر میں دستیاب ہے اور اسےبارے میں عالمانہ گفتگو کرنے والے اہل علم حضرات بھی مغربی ہیں اور مسیحی مذہبی تھیالوجی و علمیت کے تناظر میں ہیں۔ اگرچہ غیر مغربی معاشروں نے مغربی کالونائزیشن اور دیگر وجوہات کی وجہ سے سیکولرازم اور سیکولرائزیشن کے پروسس کو اختیار کیا ہے اس لیے ہم ان ابحاث کو مسلم سماج میں ان اصطلاحات کے مفہوم کے تناظر میں بالکل غیر متعلق قرار نہیں دے سکتے۔

لہذا بہتر ہو گا کہ مغرب میں چوٹی کے ماہرین سماجیات اور فلاسفرز کے سیکولرازم اور سیکولرائزیشن پر خیالات و نظریات کو جان لیا جائے تا کہ مقامی سطح پر ان موضوعات پر گفتگو کرنا آسان و مفید ہو جائے۔ اس سیاق میں اس لیے کاسانوا José Casanova کے سیکولرازم اور سیکولرائزیشن پر افکار کا جائزہ پیش خدمت ہے۔

کاسانوا کے سیکولر، سیکولرازم اور سیکولرائزیشن پر خیالات جاننے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنے اندر تجزیہ کرنے کی ایسی صلاحیت پیدا کر لیں جس کے تحت ہم “سیکولر یا سیکولریٹی” کو ایک جدید مرکزی علمیاتی قدر، “سیکولرازم” کو بحیثیت نظریہ اور تصور جہاں اور “سیکولرائزیشن” کو دنیا کی جدید تاریخی پروسس و سرگرمی کے طور پر دیکھنے، پرکھنے اور قبول کرنے کے قابل ہوسکیں۔ بلاشبہ یہ تینوں اصطلاحات آپس میں متعلقہ اور باہم مربوط ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ اصطلاحات علمیاتی و علمی سطح پر اور سماجی، ثقافتی و سیاسی سطحوں پر بھی اور سیاق و سباق میں مختلف ڈھب اور تناظر میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس لئے کاسانوا بھی ان تین اصطلاحات کو مختلف النوعیت حقیقتوں کی حیثیت سے پیش کرنے کے بجائے، تین متحد الوجود، مظاہر سے جڑے تصورات کی وضاحت کرتے ہوئے کی ہے۔

کاسانوا، ری تھنکنگ سیکولرازم کتاب کے مضمون میں اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں:

“The secular has become the central modern category – theological – philosophical, legal – political, and cultural anthropological – to construct, codify, grasp. and experience a realm or reality differentiate from” the religious “phenomenologically, one can explore the different types of “secularities” as they. are codified, institutionalised. and experienced in various modern “religiosities” and “spiritualities”. It should be obvious that “the religious” and “the secular” are always and every where. mutually constituted.”

“کسی تناظر میں سیکولر یا سیکولریٹی ایک ایسی جدید اہم اور مرکزی اصطلاح ہے اور ایک تھیالوجیکل، فلاسفیکل، قانونی و سیاسی اور سماجی و ثقافتی کیٹگری ہے، جو نفسی و اجتماعی معاملات میں ایسی قدر و محور بن جاتی ہے جس کے گرد ایک ایسا “مصنوعی تصور حقیقت” تخلیق، تعمیر، کوڈیفائی کیا جا سکے، جسے بحیثیت نظریہ و عملی اطلاقی تجربے کی حیثیت سے “مذہبی تصور حقیقت یا Reality” کے بالمقابل استوار کیا جاسکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اطلاقی طور پر اپنے ارد گرد مختلف قسم کی “سیکولریٹیز” کو دیکھتے ہیں جنہیں مختلف جدیدیت خوردہ پس منظر میں، سماجیاتی و قانونی زبان میں ڈھالا جاتا ہے، اداریاتی صورتیں دی جاتیں ہیں اور اس کی امداد کے لئے اطلاقی راہیں بھی ہموار کیں جاتیں ہیں اور صرف اس پر بس نہیں بلکہ اسے مذہبی علمیت کے اطلاقی دائرہ کار کے متوازی تصور حقیقت کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے۔ اور ضرورت کے تحت جدید تصور مذہبیت اور روحانیت کی کانٹ چھانٹ (مذہبی تھیالوجی کی ریفرمیشن) کے ذریعے سے کرتے ہوئے، مروجہ سیکولریٹی کے ساتھ (باسہولت تعاملات کے راستے) پیدا کرتے ہوئے کی جاتی ہے۔”
(Rethinking Secularism, p55)

کاسانوا کا ماننا ہے کہ “بے مذہب اور سیکولر” باہم مدغم اصطلاحات ہیں۔ جہاں مذہب کا ذکر آئے گا وہاں سیکولریٹی کا ذکر بھی آئے گا یا جہاں سیکولریٹی کا نام لیا جائے گا وہاں پس منظر میں مذہب خودبخود متعلقہ ہو جائے گا۔ لیکن کیونکہ ماڈرنٹی کے تحت سماجی علوم میں مذہب کی سائنسی تفہیم پر زیادہ توجہ مرکوز رہی ہے اس لیے سیکولر اور سیکولریٹی کی ساخت و ہیئت گری، اور اس اصطلاح اور تصور کی سماجی و تاریخی حوالوں پر زیادہ توجہ مرکوز نہیں کی جا سکی، اس لیے خود مغرب میں سیکولر سٹڈیز اب ہونا شروع ہوئی ہیں۔

کاسانوا کے نزدیک سیکولرازم کے مفہوم کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے:

“Secularism refers more broadly to a whole range of modern secular world views and ideologies which may be consciously held and explicitly elaborated into philosophies of history and normative ideological state projects, into projects of modernity and cultural programs, or, alternatively, it may be viewed as an epistemic knowledge regime that may be held unreflexively or be assumed phenomenologically as the taken for granted normal structure of reality, as a modern doxa or an “unthought.”

“وسیع ترین سطح پر جدید سیکولر تصور حقیقت اور نظریات کے ایسے مجموعہ کا نام ہے جسے جدید انسان نے شعوری طور پر ایک طرف مختلف تاریخی فلاسفیز کی صورت میں فروغ دیا اور باقی رکھا ہے۔ مزید یہ کہ سیکولرازم کا اظہاریہ، مختلف نظریات کے تحت نہ صرف ریاستی ڈھانچوں اور ہیئتوں کی ترتیب، ارتکاز اور انصرام میں نظر آتا ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سیکولرازم کی پیش کاری, ماڈرنٹی کے تحت سامنے لانے والے سماجی پروجیکٹس اور پروگرامات کے ذریعے بھی ہوتی ہے، جس کے تحت اسے انسانی زندگی کے لیے ایک ایسی علمیاتی فطری حالت کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ جو اپنے مظہری اور اطلاقی دائرے میں “لاشعور unthought” کا عین ہو یا متبادل ہو، یعنی بالفاظ دیگر سیکولرازم، ایسا ماڈرن doxa فطری بہاؤ اور نمو ہے، جس کی طرف ہم سب نے گویا بہنا ہی ہے۔”
(Rethinking secularism chapter۔ 2 ,page 56)

کاسانوا کا یہ بھی ماننا ہے کہ ماڈرن سیکولرازم مختلف تاریخی ہیئتوں میں ہمارے سامنے آتا ہے اور مذہب اور نظام سیاست و ریاست کے مختلف ماڈلز ہمارے سامنے قائم یا پیش کرتا ہے، گویا نظری و فکری طور پر سائنس، فلسفے، مذہبی علمیت کے حوالے سے ذہنی و نفسی امتیازی حالتیں پیدا کرتا ہے اور عملی و اطلاقی طور پر قانون، اخلاقیات اور مذہب کے حوالے سے امتیازی ہیئتیں پیدا کرتا ہے۔

اس کے بعد کاسانوا کے نزدیک سیکولرائزیشن ایک تاریخی پروسس ہے جو کہ سیکولرازم بحیثیت نظریہ سے الگ پہچان رکھتا ہے، انہوں نے پبلک ریلجن ان ماڈرن ورلڈ اور ری تھنکنگ سیکولرازم میں اس پروسس کی وضاحت کچھ یوں کی ہے:

“Secularization, by contrast, usually refers to actual or alleged empirical historical patterns of transformation and differentiation of “the religious” (ecclesiastical institutions and churches) and “the secular” (state, economy, science, art, entertainment, health and welfare etc.) institutional spheres from early. modern to contemporary societies. Within the social sciences, particularly within sociology, a general theory of Secularization was developed that conceptualized these at first modern European and later increasingly globalized historical transformations as part and parcel of a general teleological human and societal development from the primitive sacred to modern secular.”

“سیکولرائزیشن، سیکولر اور سیکولرازم کے برعکس ایک نظری یا حقیقی تجربی تبدیلیوں و بدلاؤ کا ایسا پیٹرن ہے جو تاریخی تسلسل کے ساتھ جاری و ساری ہے اور مذہبی علمیت و شعائر اور سیکولر اداراتی ڈھانچوں مثلاً ریاست، معیشت، سائنس، آرٹ، تفریح، صحت و بہبود کے مابین تفریقی امتیازات قائم کرتا ہے۔ بالخصوص سماجی سائنس میں، سیکولرائزیشن کی ایک عمومی تھیوری ترتیب دی جا چکی ہے جسے پہلے شرمندہ تعبیر جدید یورپ میں کیا گیا، اور یہ مانا گیا ہے کہ جسے دنیا کے باقی حصوں میں بھی، انسانی تاریخی عمل کے ذریعے سے، مذہبی انسان سے سیکولر انسان بننے کے سفر میں، انسانی و سماجی ترقی و خوشحالی کے حصول کے لئے چار و ناچار اپنانا ہوتا ہے۔”
(Rethinking Secularism, p,54-55)

چنانچہ کاسانوا کے نزدیک، جدید دنیا میں مذہب کے زوال اور پرائیویٹائزیشن، سیکولرائزیشن کے تھیسز کا بنیادی مقدمہ اور ماڈرنٹی کے تحت پنپنے کا فطری راستہ بن کر رہ گیا ہے۔ اگرچہ پچھلے پندرہ سالوں میں اس مقدمے پر کافی تنقیدی کام بھی ہونے لگے ہیں لیکن ابھی بھی اس موقف کا سٹیس کو قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سماجیاتی علمیت اور سوشیالوجی میں، سیکولرائزیشن کو ماڈرنائزیشن کے بنیادی پروسس میں اور ماڈرن معاشروں میں اداراتی سٹرکچرل اور اس کے مختلف جزوی شعبہ جات میں، مذہب و مذہبیت سے امیتاز و فرق پیدا کرنے کے لحاظ سے بنیادی عامل کے طور پر سمجھا اور اختیار کیا جاتا ہے۔

اس سلسلہ کا دوسرا مضمون اس لنک پہ پڑھیں۔

یہ بھی پڑھیں: چارلس ٹیلر کی کتاب Secular Age اور ہمارے سیکولرلائز صنم خانے -------- اطہر وقار

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply