حالیہ اسرائیلی جارحیت اور عالمی برادری کا کردار : ایک جائزہ — وحید مراد

0

1948 میں ناجائز صیہونی ریاست کے قیام سے لیکر آج تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب معصوم فلسطینیوں کو انکی زمینوں اور گھروں سے بے دخل نہ کیا گیا ہو، مزاحمت کرنے پر انکی جانیں نہ لی گئی ہوں یاان پر نئے سے نئے انداز میں ظلم و ستم کے پہاڑ نہ توڑے گئے ہوں۔ حالیہ اسرائیلی جارحیت 2014 کے بعد سے ہونے والی کاروائیوں میں سے شدید ترین ہے اور اس کا آغاز 13 اپریل یکم رمضان کو اس وقت ہوا جب صیہونی پولیس نے فلسطینی نمازیوں کو دمشق دروازے کے باہر معمول کے مطابق شام کے افطاری اور نماز تراویح کے اجتماعات سے روکنے کی کوشش کی اور فلسطینی مظاہرین نے مزاحمت کرتے ہوئے احتجاج کیا۔

22 اپریل کوصہیونی لیڈر شپ نےفلسطینی اجتماع کے مقابلے میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ‘عرب دہشت گرد مردہ باد’ کے نعرے لگائے۔ اس ہجوم کی اطلاع ملتے ہی فلسطینی عوام دمشق دروازے کے قریب جمع ہو گئی اور اسرائیلی پولیس نے علاقے کو سیل کرتے ہوئے فلسطینیوں کی پیش قدمی روک دی۔ کچھ فلسطینیوں نے پولیس کی کارروائی میں خلل ڈالنے کے لیے کچرے کے ڈبوں کو آگ لگائی اور ایک یہودی کو تھپڑ مارا جسکی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسرائیل کے دائیں بازو کے سیاست دانوں نے پولیس سے سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے واٹر کینن استعمال کرتے ہوئے 100 فلسطینیوں کو زخمی اور 50 سے زائد افراد کو گرفتار کیا۔ اگلے رو ز یہ سلسلہ عارضی طورپر تھم گیا۔

7 مئی کو اسرائیلی پولیس کی جارحیت کا نیا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب شیخ جراح کے علاقے سے فلسطینی خاندانوں کی ممکنہ بےدخلی اور یہودی آبادکاروں کی ملکیت کا دعوی سامنے آیا۔ اسرائیلی انتظامیہ کو خوف تھا کہ اس پر شدید احتجاج ہوگا چنانچہ جب آخری جمعہ کی عبادت کے لیے ستر ہزار فلسطینی جمع ہوئے تو اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر تالے لگا دیے۔ نمازی ایک گھنٹے تک پھنسے رہے۔ تالے کھلتے ہی تنگ آئے ہوئے لوگوں نے پتھرائو کیا، بوتلیں پھینکیں اور اسکے جواب میں اسرائیلی پولیس نےربڑ کی گولیوں اور دستی بموں سے 200 سے زائدفلسطینیوں کو زخمی کیا۔ اگلے روز اسرائیلی پولیس مسجد اقصیٰ میں جوتوں سمیت داخل ہوئی جس کے بعد دوبارہ جھڑپ ہوئی اور مزید 53 فلسطینی زخمی ہوئے اور زخمیوں کی کل تعداد 250 سے بڑھ گئی۔

10 مئی کو اسرائیلی پولیس نے ایک بار پھر فلسطینی مظاہرین پر سٹن گرینیڈ داغے اور انہوں نے جواب میں پتھراؤ کیا۔ اس روز 305 فلسطینی زخمی ہوئے۔ اس جھڑپ کے باعث اسرائیل کی عدالت عظمیٰ میں شیخ جراح کی بےدخلی کے حکم کے خلاف اپیل کی سماعت بھی ملتوی کر دی گئی۔ 11مئی کواسرائیلی وحشیانہ حملوں میں اس وقت تیزی آئی جب اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر فضائی حملہ کیا۔ جنگی طیاروں نے غزہ میں 150 اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان میں ایک 13 منزلہ رہائشی عمارت بھی شامل تھی جو زمین بوس ہو گئیں۔ اسرائیلی کاروائیوں میں دس بچوں سمیت 28 فلسطینیوں کی ہلاکت اور 150 سے زیادہ کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی۔ مغربی کنارے اور بیت المقدس کے گرد اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں 700 سے زیادہ فلسطینی زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں حماس کی جانب سے بھی تل ابیب پر راکٹ پھینکے گئے۔

12مئی (چاند رات) غزہ کے رہائشیوں کے لئے مشکل ترین رات تھی۔ اسرائیل کے فضائی حملوں میں حماس کے ایک سنئیر کمانڈر کی ہلاکت کے ساتھ غزہ میں کئی منزلہ عمارت کی تباہی کے بعد بے شمار ہلاکتیں ہوئیں۔ اسکے جواب میں حماس نے اسرائیل پر راکٹ فائر کئے جن میں سے زیادہ تر کو ناکام بنا دیا گیا۔ اسرائیل نے اپنے اہداف میں دفاتر، بینک اور حماس کی بحری تنصیبات کو بھی شامل کر لیا۔ 13 مئی کی صبح جب فلسطینی عید کی نماز کی تیاریاں کر رہے تھے غزہ پر فضائی بمباری کے ذریعےشہر کے بیچ میں واقع ایک چھ منزلہ عمارت تباہ کر دی گئی۔ ان واقعات میں 580 افراد زخمی ہوئے، ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے۔ جمعرات کی رات تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 103 تھی جس میں 27 بچے شامل تھے۔

اسرائیلی بمباری 14 مئی کو بھی جاری رہی اور اس صبح کو ہونے والے دھماکوں نے غزہ شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسرائیل کے ممکنہ زمینی حملے کے پیش نظر لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کراسکولوں کی عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ 15 مئی کو غزہ شہر کے مغربی حصے میں ایک پناہ گزین کیمپ پر اسرائیل کے حملے میں آٹھ بچے اور دو خواتین ہلاک ہوئیں اور حماس کی جوابی کاوائی سے اسرائیل میں دس ہلاکتیں ہوئیں۔ اسرائیل نے غزہ میں ایک کثیر المنزلہ عمارت کو فضائی حملے میں تباہ کر دیا جس میں بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ اور امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے دفاتر کے علاوہ کئی دیگر مقامی، بین الاقوامی دفاتر اور رہائشی اپارٹمنٹس موجود تھے۔

16 مئی کو ہونےے والی بمباری میں مزید تین فلسطینی ہلاک ہوئے۔ اس بمباری میں پچاس طیاروں نے حصہ لیا اور بمباری کا سلسلہ اگلی صبح تک جاری رہا۔ 17 اور 18 مئی کے حملوں سے مرکزی شاہراہیں تباہ اور پانی و بجلی کا نظام منقطع ہوگیا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق انہوں نے 35 اہداف کو نشانہ بنایا اور حماس کی 15 کلومیٹر سے زیادہ طویل سرنگوں کے نیٹ ورک کو بھی تباہ کر دیا۔ غزہ پر فضائیہ، توپ خانے اور ٹینکوں سے آٹھ دن کی مسلسل بمباری سے 217 افراد ہلاک ہو ئے۔ مرنے والوں میں 63 بچے، 36 خواتین اور 16 بزرگ بھی شامل ہیں۔ اس بمباری سے اب تک 1500 سے زائد افراد زخمی اورساٹھ ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں جنہیں پانی اور غذائی قلت کا سامنا ہے۔ بمباری سے اسلامی یونیورسٹی کی چھ منزلہ عمارت، غزہ کی واحد کرونا ٹسٹنگ لیب، چھ دیگر ہسپتال، نو پرائمری ہیلتھ کئیر سینٹرز، واٹر پلانٹس اورقطری ہلال احمر کے دفتر سمیت 450 عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ عمارتوں کے ملبے سے لاشوں اور زخمی افرد کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج ان سب افراد کو جنگجو قرار دے رہی ہے لیکن حماس، ریڈ کراس اور دیگر اداروں کے مطابق ان میں سے اکثر عام شہری ہیں۔

اسرائیل کی داخلی صورتحال:

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے 11 مئی کوفوجی سربراہان سے ملاقات کے بعد غزہ پر حملوں کی شدت اور تعداد بڑھانے کا فیصلہ کیا تھا۔ حماس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ‘ان پر ایسے حملے کیے جائیں گے جن کی انھیں توقع بھی نہیں ہو گی’۔ اسرائیل میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حکومت سازی میں ناکامی سے ملک میں اندرونی سیاسی تعطل طول پکڑ گیا اور اب دو برسوں میں پانچویں عام انتخابات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ نتن یاہو کی حکومت مسلمانوں پر سختیاں کر کے اگلے الیکشن میں سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے اکثریت حاصل کرنا چاہتی ہے۔

اسرائیلی فوجی کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کورنیکس کے مطابق غزہ کی پٹی پر حملے میں 7000 انفنٹری اور بکتر بند فوجیوں سمیت 160 جہاز، ٹینک اور آرٹلری نے حصہ لیا۔ انہوں نے غزہ میں 600 سے زیادہ بار اپنے اہداف کو نشانہ بنایا۔ 2014 کے بعد سے ہونے والی یہ شدید ترین لڑائی ہے اور نتن یاہو کے مطابق اس میں ’مزید وقت لگ سکتا ہے’۔ اسرائیل کے اندر بھی یہودی اور اسرائیلی عرب ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گنٹز نے سیکورٹی فورسز کو داخلی امن کنٹرول کرنے کا حکم دیا۔ یروشلم، حیفا، تمارا اور لُد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور 400 سے زائد گرفتاریں ہوئیں۔

پولیس کے ترجمان مائیکی روزن فیلڈ کے مطابق ملک کے مختلف شہروں میں جس قسم کا نسلی تشدد ہو ا یہ کئی عشروں سے دیکھنے میں نہیں آیا۔ اسرائیل کی آبادی میں 21 فیصد ایسے لوگ ہیں جو اسرائیلی عرب کہلاتے ہیں۔ انہوں نے 1948 کی جنگ میں ہجرت نہیں کی اور بعد ازاں انہیں اسرائیلی شہریت دے دی گئی تاہم انکا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سلوک روا رکھا جاتا ہے اور انھیں قانونی، ادارہ جاتی اور سماجی تعصبات کا سامنا رہتا ہے۔ ان اسرائیلی عربوں کی 80 فیصد تعداد مسلمان ہے۔

اسرائیل کی داخلی صورتحال پر امریکی سیکریٹری خارجہ انتھونی بلنکن نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کا سفر نہ کریں۔ برٹش ائیرویز، دبئی، ورجن اور لفتھانسا سمیت کئی بین الاقوامی ائیر لائنز نے اسرائیل کے لیے اپنی پروازیں بھی منسوخ کر دیں۔

دنیا بھر میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور صیہونی فوج کی مذمت:

فلسطینی صدر محمود عباس نے حالیہ بدامنی کے لیے اسرائیلی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا اور اسرائیل کے سینکڑوں عرب شہریوں نے بھی فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے کئے اور اسرائیلی کارروائی کو ’دہشت گردی‘ قرار دیا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کے ممبر موشے راز نے بھی بیت المقدس سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی مذمت کی اور اسے ناانصافی قرار دیا۔ موشے راز کا تعلق بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹک میرٹز پارٹی سے ہے اور اسرائیلی پارلیمنٹ میں انکی 6 نشستیں ہیں۔

دنیا بھر کے سوشل میڈیا صارفین نے بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیلی پولیس کی حالیہ کارروائیوں کا نوٹس لے۔ عرب ریاستوں کی نمائندہ تنظیم عرب لیگ کے سربراہ أبو الغيط نے غزہ پر اسرائیلی فضائی حملے کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔ اسرائیلی اقدامات کی مذمت کرتے وقت خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کو کافی شرمندگی اٹھانا پڑی جن سے حال ہی میں امن معاہدے اور سفارتی تعلقات قائم کرتے وقت اسرائیل نے فلسطین پر حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ان امن معاہدوں کو ابھی ایک سال بھی نہیں گزرا کہ اسرائیل نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے فلسطین پر وحشیانہ حملے شروع کر دئے۔

متحدہ عرب امارت، بحرین، مراکش، تیونس، مصر، قطر، ملائیشیا، سوڈان، ترکی، پاکستان، لبنان، ایران، سعودی عرب، روس، چین، تیونس، بوسنیا و ہرزیگووینا، وینزویلا، میکسیکو، اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی، یورپی یونین، ایمنسٹی انٹر نیشنل نے اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ پاکستان میں ایدھی فائونڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے اعلان کیا کہ انکا ادارہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کی مدد کیلئے امدادی ٹیمیں بھیج رہا ہے۔

ترکی نے اسرائیلی بربریت پر ایکشن لیتے ہوئے جون میں ہونے والی توانائی کانفرنس میں اسرائیلی وزیر توانائی کا دعوت نامہ احتجاجاً منسوخ کر دیا۔ ترک صدر طیب اردگان نے اسرائیل کو قانون، انصاف اور ضمیر سے ماورا ایک غیر قانونی و دہشت گرد ریاست قرار دیا۔ انہوں نے مسلم ممالک کے سربراہان، او آئی سی، عالمی برادری، پوپ فرانسس اورقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ فلسطینیوں کےقتل عام پر اسرائیل کے خلاف پابندیاں عائد کروائیں۔

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالی باف نے پارلیمان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسجد اقصی کی توہین کو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسلامی و دیگر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں سے ”صہیونی ریاست کے جرائم” کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ یوم قدس کے موقع پر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں اسرائیل کی جابر و دہشت گرد حکومت کے خلاف جنگ کرنا ہر ایک شخص کی ذمہ داری قرار دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسرائیلی فوج نےمسجدالاقصیٰ میں بہت ظلم کیا اور پاکستان ان اسرائیلی مظالم کی بھرپورمذمت کرتا ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد محمدبن سلمان سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام مسلمان ممالک کومسئلہ فلسطین اور اسلاموفوبیا پریکجاہو کرمقابلہ کرنا پڑے گا کیونکہ ایک ملک کچھ نہیں کرسکتا۔ عمران خان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو فون کرکے اسرائیل کی طرف سے انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے میں پاکستان کی کوششوں اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم عمران خان، ترک صدر طیب اردوان اور شاہ سلمان نے اسرائیلی حملے رکوانے کےلئے اقوام متحدہ اور اوآئی سی میں ملکر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

سعودی وزارت خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل کو اس جارحیت کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ نیویارک میں اسلامی تعاون تنظیم کی میٹنگ میں سعودی مندوب نے کہا کہ ان کا ملک بیت المقدس سے فلسطینی باشندوں کو طاقت کے ذریعے بے دخل کرنے کی اسرائیلی منصوبہ بندی کو یکسر مسترد کرتا ہے اور مشرقی بیت المقدس کو آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی کوششوں میں فلسطینیوں کی حمایت کرے گا۔ سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ صورتحال کشیدہ ہونے پر اسرائیل کا احتساب کرے۔

روس کے وزیر خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی سرگرمیاں روکی جائیں۔ روسی صدر ولادیمر پوٹن نے 14 مئی کو متنبہ کیا تھا کہ حالیہ تنائو روسی سیکورٹی کیلئے براہ راست ایک خطرہ ہے۔ انڈین ایلچی ٹی ایس ترمورتی نے کہا کہ یروشلم اور غزہ مین جاری تشدد کے متعلق انڈیا کو تشویش لاحق ہے، انڈیا فلسطینیوں کے جائز مطالبے کی حمایت کرتا ہے اور دو قومی نظریہ کے تحت حل کیلئے پرعزم ہے۔ انڈین سفیر نے کہا کہ انڈیا ہر طرح کے تشدد کی مذمت کرتا ہے اور فوری طورپر تنائو ختم کرنے کی اپیل کرتا ہے۔

16 مئی کو اسلامی ممالک کی تنظیم(او آئی سی) کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اجلاس کے بعد جاری کردہ بیان میں اسرائیل کو خبردار کیا گیا کہ جان بوجھ کر فلسطین پر حملے کرکے عالم اسلام کے مذہبی احساسات کو بھڑکانے کی اسرائیلی کوششوں کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہونگے۔ اسرائیلی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ بین الاقوامی امن و سلامتی کیلئے براہ راست خطرہ ہے۔ بین الاقوامی برادری سے اسرائیل کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اور مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل فلسطینی انفراسٹرکچر تباہ کرنے کے نقصانات کا ازالہ کرے۔

فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہونے والے احتجاج:

14 مئی کو دنیا کے کئی ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے جن میں پاکستان، بنگلہ دیش، اردن، عراق، لبنان، کوسوو، ترکی، جرمنی، فرانس، آسٹریلیا، برطانیہ، اسپین اور کینیڈا شامل ہیں۔ ترک دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی سفارت خانے کے باہر فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کیا۔ لبنان کے دارالحکومت میں تقریباً 2 ہزار افراد نےاحتجاج کے دوران مسجد الاقصیٰ اور بیت المقدس میں اسرائیلی قابض فوجیوں کی کارروائیوں پر اسرائیلی سفیر کی بے دخلی کا مطالبہ کیا۔ پاکستان میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے اور مظاہرین نے فلسطین کے حق میں نعرے بازی کی اور مقررین نے اسرائیل اور امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ صرف مذمتی بیان جاری کرنے کے بجائے فلسطینیوں کی مدد کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔

جرمنی میں مظاہرین کی جانب سے اسرائیلی پرچم نذرِ آتش کیے جانے کے بعد چانسلر اینگلا مرکل کے ترجمان نے تنبیہہ کی کہ یہودیوں سے نفرت پر مبنی مظاہروں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ آسٹریلیا میں اسرائیل کے خلاف مظاہروں کے دوران ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا جس نے اسرائیلی پرچم کو نذرآتش کیا تھا۔ اس کے بعد آسٹریلوی وزیر اعظم سکاٹ موریسن نے کہا کہ آسٹریلوی شہری اس کشیدہ صورتحال سے اپنے آپ کو دور رکھیں۔ اتوار 16 مئی کو کینیڈا میں دو مظاہرے ہوئے جس میں ایک اسرائیل کے خلاف اور دوسرا اسرائیل کے حق میں تھا۔ دونوں مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد پولیس نے آنسو گیس استعمال کرکے مظاہرین کو منتشر کر دیا۔ اس دوران کنیڈا کے بعض سیاسی حلقوں نے جسٹن ٹروڈو سے مطالبہ کیا کہ کینیڈا کی جانب سے اسرائیل کو ہتھیاروں کی فروخت روکی جائے۔

14 مئی کو فرانس کے صدر میکرون نے نیتن یاہو کو ٹیلی فون کرکے اسرائیلی دفاع کی پالیسی پر کاربند رہتے ہوئے تمام کاروائیاں کرنے کی حمایت کی۔ پیرس میں طے شدہ ایک احتجاجی مظاہرے پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی گئی کہ اس سے پرتشدد جھڑپوں کا خطرہ ہے اسکے باوجود فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا گیا جس پر پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کرتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر ایک 23 سالہ نوجوان محمد نے کہا: ‘آپ چاہتے ہیں کہ میں اپنے لوگوں سے اظہارِ یکجہتی نہ کروں جبکہ میرے گاؤں پر مسلسل بمباری ہورہی ہے؟’۔

15 مئی کولندن میں ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے ہائیڈ پارک سے گزر کر اسرائیلی سفارت خانے کی جانب مارچ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ مظاہرین فلسطین کی آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے برطانوی حکومت سے مطالبہ کرتے رہے کہ فلسطینی افراد سے اسرائیل کے وحشیانہ سلوک کو روکنے کے لیے فوری اقدام کی ضرورت ہے۔ سپین کے شہر میڈرڈ میں بھی ہزاروں لوگ فلسطینیوں کے حق میں سڑکوں پر نکل آئے۔ تقریباً ڈھائی ہزار کے قریب نوجوانوں نے فلسطینی پرچم لپیٹ کر شہر کے مرکز کی جانب مارچ کیا۔ مظاہرین اس موقع پر نعرے لگا رہے تھے کہ ‘یہ جنگ نہیں بلکہ نسل کُشی ہے’۔

اسرائیل کی حمایت کرنے والے ممالک اور طاقتیں:

اسرائیلی حملوں کے آغاز پریورپی یونین کےخارجہ امور کے ترجمان پیٹر سٹانو نے کہا کہ تشدد اور اشتعال انگیزی ناقابلِ قبول ہے اور اس کے تمام مجرموں کو جوابدہ ہونا چاہیے، اس لیے اسرائیلی حکام موجودہ کشیدگی کو دور کرنے کے لیے فوری کاروائی کریں اور اشتعال انگیز اقدامات سے اجتناب کریں۔ اسی طرح جرمنی، فرانس، اٹلی اور برطانیہ نے بھی غیر قانونی یہودی آباکاری کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ امریکہ نے بھی ابتدا میں کہا کہ ‘امریکا کو یروشلیم میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش ہے۔ تشدد کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا اور رمضان کے آخری ایام میں اس طرح کی خون ریزی بہت ہی پریشان کن ہے۔ مشرقی یروشلم سے لوگوں کو زبردستی گھروں سے نکالنے، یہود آبادکاری کی سرگرمی، مکانوں کی مسماری اوردہشت گردی کی کارروائیوں سے گریز کیا جائے’۔

16 مئی کو نیتن یاہو نے جب اسرائیل کی حمایت کرنے والے 25ممالک کا شکریہ ادا کیا تو واضح ہو گیا کہ کون بظاہر اسرائیل کے خلاف بیان دے رہا تھا لیکن درپردہ اسرائیلی جارحانہ اقدامات کی حمایت کر رہا تھا۔ ان ممالک میں امریکہ، البانیہ، آسٹریلیا، آسٹریا، برازیل، کینیڈا، کولمبیا، قبرص، جارجیا، جرمنی، ہنگری، اٹلی، سووینیا اور یوکرین جیسے نمایاں ممالک کے نام شامل تھے۔ ان ممالک نے اسرائیل کے اس موقف کی حمایت کی کہ حماس عسکریت پسند تنظیم ہے لیکن اسرائیل ایک پرامن ملک ہوتے ہوئے صرف اپنے ملک کا دفاع کر رہا ہے۔

اسرائیلی حمایت میں امریکہ سب سے آگے رہا اور صدر جو بائیڈن اور انکے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بارہا اسرائیلی کاروائیوں کی حمایت کی۔ انہوں نے اسے حق دفاع قرار دیتے ہوئےاسرائیلی موقف کی حمایت کی اور یہ بھی کہا کہ حماس ایک دہشگرد گروہ ہے جو عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی امریکی صدر جو بائیڈن نے 12 مئی کواسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے گفتگو کے بعد کہا تھا ‘مجھے امید ہے کہ یہ معاملہ جلد از جلد ختم ہو جائے گا تاہم اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے’۔

وائٹ ہاؤس ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے بھی کہا تھا کہ اسرائیل کا یہ جائز حق ہے کہ وہ حماس کے راکٹ حملوں سے اپنا دفاع کرے امریکا اسرائیل کے حق دفاع کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نےحماس اور دوسرے گروہوں کے راکٹ حملوں کی مذمت بھی کی۔ انہوں نےکہا کہ اسرائیل کی سلامتی کے حوالے سے جوبائیڈن کی طرف سے حمایت میں کمی نہیں ہوگی۔

امریکی کانگریس کے اراکین بشمول فلسطینی نژاد راشدہ طلیب اور الہان عمرنے اس تنازعے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کی ’غیر مشروط حمایت‘ پر امریکی حکومتی پالیسی پرسوال اٹھایا اور سخت تنقید کی لیکن امریکی صدر پر اسکا کوئی اثر نہیں ہوا۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق صدر جو بائیڈن نے اسرائیل کو درست نشانے پر مار کرنے والے 73 کروڑ پچاس لاکھ ڈاکر مالیت کےہتھیار فروخت کئے۔ اور یہ فروخت 5 مئی کو اسرائیل فلسطین تنازعے سے ایک ہفتہ پہلے کی گئی۔ اب یہ خبر منظر عام پر آنے کے بعد جو بائیڈن کے ڈیموکریٹس ساتھی بھی اسلحے کی اس فروخت پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان میں سے خارجہ امور کی کمیٹی میں شامل ایک ڈیموکریٹ نے کہا کہ ‘اسرائیل پر فائر بندی کا دبائو ڈالے بغیر ان اسمارٹ بموں کی فروخت کی اجازت مزید تباہی کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے’۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکی ساختہ اسلحہ کی معصوم فلسطینیوں پر بارش ہو رہی ہے اور امریکہ نے مزید بچے مارنے کیلئے اسرائیل کو 735 ملین ڈالر کے جدید میزائل بھی فراہم کردئے۔

اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل امریکہ کے سامنے بے بس:

اسرائیلی حملوں کے آغاز پراقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا تھا کہ انھیں غزہ میں جاری تشدد پر گہری تشویش ہے اسرائیل کو کسی بھی قسم کی بے دخلی کے اقدامات کا ارادہ ملتوی کرنا چاہیے اور مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر پابندی لگانی چاہیے۔ 10 مئی بروز پیر کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سلامتی کونسل کا اجلا س ہوا تھا لیکن امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو عوامی بیان جاری کرنےسے روک دیا۔ امریکا کو اس بات پر تشویش تھی کہ کونسل کا بیان اس وقت معاملات کو سنگین بنا سکتا ہے جب واشنگٹن فریقین کے ساتھ بیک ڈور سفارت کاری میں مصروف ہے۔ سلامتی کونسل کا اجلاس دوبارہ جمعہ کے روز بلانے کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن امریکہ نے یہ اجلاس بھی موخر کروادیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اجلاس ایک ہفتے کے بعد بلایا جائے اس سے سفارکاری کو مزید موقع ملے گا۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے ژانگ جون نے ٹویٹ کیا کہ یہ اجلاس اب اتوار کی صبح دس بجے ہوگا۔ چین نے کہا کہ اسے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں کشیدگی بڑھنے پر سخت تشویش ہے۔ اقوام متحدہ میں ناروے کے مشن نے ٹویٹ کیا کہ اتوار کے اجلاس کی تجویز ناروے، تیونس اور چین نے پیش کی تھی۔

16مئی بروز اتوار کو سلامتی کونسل کے 15 ارکان کا اجلاس ہوا جس میں تمام ممالک نے دونوں فریقوں سے مطالبہ کیا کہ تنائو ختم کریں اور اس بات کو تسلیم کیا کہ اسرائیل اس تنازع میں طاقتور پوزیشن پر ہے۔ چین، تیونس اور ناروے نے اجلاس کا مشترکہ بیان تیار کیا جس میں غزہ بحران پر شدید تنقید اور مشرقی بیت المقدس سے فلسطینیوں کی ممکنہ بے دخلی پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ لیکن امریکہ نے تیسری بار بھی یہ بیان جاری کرنے سے رکوا دیا۔ امریکہ کے نمائندہ نے اس موقع پر کہا کہ امریکہ صرف اس وقت معاونت فراہم کرے گا جب دونوں فریقین سیز فائر کی طرف بڑھتے ہیں اسکے جواب میں چین کے وزیر خارجہ نے امریکہ سے منصفانہ موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل کی حمایت سے کشیدگی میں کمی کیلئے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔ فلسطین کے وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ جب بھی اسرائیل کو پتہ چلتا ہے کہ کوئی غیر ملکی رہنما اسکی حمایت کر رہا ہے تو وہ مزید خاندانوں کوقتل کر دیتا ہے۔

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے اتوار کو سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد کہا کہ انہیں بہت افسوس ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کو اس تشدد کے خلاف کھل کر بات کرنے کی اجازت نہیں دے رہا۔ بہت افسوس کی بات ہے کہ امریکہ کی وجہ سے سلامتی کونسل بیک آواز بولنے کے قابل نہیں۔ امریکہ کو چاہیےکہ اپنی ذمہ داریاں نبھائے۔ عالمی برادری کو مزید کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

وینزویلا کے نائب وزیر خارجہ اور یورپ کےامور کے نائب وزیر یووان گل نے مسجد اقصی اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے امریکہ اور یورپی ممالک کا نام لئے بغیر طنز کرتے ہوئے کہا کہ جب کسی ملک میں جمہوریت جیسی آئیڈیالوجی پر حملہ ہوتا ہے تو یہ لوگ خود کو انسانی حقوق کے محافظ سمجھتے ہوئے اس ملک کو اپنا دشمن قرار دیتے ہیں لیکن اب اسرائیل توانسانوں کی نسل کشی کر رہا ہے لیکن یہ لوگ بیان بازی سے زیادہ کوئی اقدامات نہیں کرنا چاہتے۔

وینزویلا کے نائب وزیرخارجہ نے جو بات کی وہ حقیقت پر مبنی ہے کہ عالمی طاقتیں زبانی طورپر فلسطینیوں کے حق میں بیانات دیتی ہیں لیکن عملی طورپر اسرائیل کی حمایت جاری رکھتی ہیں۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل امریکہ کے سامنے اس طرح بے بس اور خاموش ہے جیسے گھر کی خادمہ مالک کے سامنے باآواز بلند بات نہیں کر سکتی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے تمام ارکان کو غزہ میں جاری تشدد پر گہری تشویش ہے لیکن اب تک ہونے والے سلامتی کونسل کے تینوں اجلاس امریکہ کا مشترکہ بیان امریکہ نے جاری نہیں ہو نے دیا۔ مسلم حکمرانوں کا رویہ بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں۔ اتنی بھاگ دوڑ کے بعد اوآئی سی کا اجلاس بلایا گیا لیکن اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں اسرائیل کی مذمت کے علاوہ کسی عملی قدم کی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی۔

او آئی سی کے زبانی اقدامات:

او آئی سی کے اجلاس کا تقاضا تھا کہ اسکے ذریعےاسرائیل کو وارننگ دی جاتی کہ وہ فوری طورپر فلسطینی علاقے خالی کرے ورنہ مسلم امہ کے ساتھ جنگ کیلئے تیار ہو جائے لیکن اس اجلاس سے صرف یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ پہلے تمام مسلم حکمران انفرادی طورپر اسرائیل کی مذمت کر رہے تھے اب اجلاس کے بعد اجتماعی طورپر مذمت کر رہے ہیں۔ اس اجلاس میں نہ مسلم ممالک کے درمیان کسی مشترکہ دفاعی معاہدے کی بات کی گئی اورنہ ہی اس بات پر اتفاق ہوا کہ ایک مسلم ملک کے خلاف جنگ کو پوری امت مسلمہ کے خلاف جنگ تصور کیا جائے گا۔ او آئی سی کے ذریعے یورپی یونین کو ناموس رسالت اور اسلاموفوبیاکے حوالے سے پیغام دیا جا سکتا تھا اور اس پر زور ڈالا جا سکتا تھا کہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہوں لیکن اس سلسلے میں عمران خان کی کوششوں کو او آئی سی کے بیان میں کہیں جگہ نہیں دی گئی۔

اوآئی سی کے اجلاس کے ذریعے عالمی برادری کے سامنے ان حقائق کو بھی دہرایا نہیں گیا کہ اسرائیل، فلسطینیوں کے خلاف اپنے وحشیانہ حملوں کو دفاع کا نام دیتا ہے لیکن فلسطین ایک ایسی ریاست ہے جس کو اپنے دفاع کا اختیار ہی حاصل نہیں اور نہ ہی اسکے پاس سرحدوں کے دفاع کیلئے کوئی سیکورٹی فورس یا فوج ہے ایسی صورتحال میں فلسطین کے خلاف دفاع کی دلیل اس زیادہ کچھ نہیں جو بھیڑیا، بھیڑ کے بچے پر حملہ کرتے وقت اسکی آنکھیں لال کیوں ہیں؟ کی دلیل دیتا ہے۔ غزہ عملی طورپر اسرائیل کے قبضے میں ہے کیونکہ اسکی سیکورٹی کا کنٹرول اسرائیل کے پاس ہے اس لئے اپنے مقبوضہ علاقے کے خلاف دفاع کی دلیل بے معنی ہے۔

اوآئی سی کےاجلاس میں اسرائیل کے دفاعی موقف کی اس غلط فہمی کو بھی دور نہیں کیا گیا کہ اپنے دفاع میں توازن کا مطلب آنکھ کے بدلے آنکھ، راکٹ کے بدلے راکٹ یا کسی جانی نقصان کے بدلے جانی نقصان نہیں ہوتا۔ بین الاقوامی قانون میں بدلے کے لئے طاقت کے استعمال کی کوئی جگہ نہیں۔ ضروری نہیں کہ رد عمل کیلئے زیادہ فوجی طاقت کا استعمال کیا جائے، کم طاقت کے استعمال سے بھی اپنا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی مسلح تصادم کا قانون صرف ان حالات پر لاگو ہوتا ہے جب صرف ایک فریق نے طاقت کا سہارا لیا ہو اور دوسرا ابھی پر امن ہو تو اسے محدود طاقت کے جوابی استعمال کا حق ہوتا ہے۔ اس قانون میں ایسی جارحانہ کاروائیوں جن میں شہریوں کا قتل عام، رہائشی عمارتوںکی تباہی، قیدیوں کا قتل وغیرہ کی اجازت نہیں۔

فلسطینی ریاست کے پاس نہ کوئی سیکورٹی فورس ہے نہ فوج اور نہ حملے روکنے کی کوئی ٹیکنالوجی اس لئے فلسطین پر ہونے والا ہر حملہ جارحیت کے زمرے میں آتا ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف کے ایک فیصلے کے مطابق کسی جائز ہدف پر بھی اس صورت میں حملہ نہیں کیا جا سکتا اگر اس کے نتیجے میں عام شہریوںکو ہونے ولا نقصان مخصوص فوجی فوائد سے غیر متناسب ہو۔ مشرقی یروشلم کو اسرائیل نے اپنی سرزمین سے منسلک کر رکھا ہے اور اس پر مکمل طورپر اسرائیل کا قبضہ ہے ایسی صورت میں وہاں کیا جانے والا ہر حملہ ایک طرح سے اپنے شہریوں پر مذہبی، نسلی تعصب کی بنا پر کیا جانے ولا حملہ تصور ہوتا ہے۔

اوآئی سی کے اجلاس اور سلامتی کونسل کے اجلاس میں صرف اتنا فرق تھا کہ سلامتی کونسل کا مشترکہ بیان رکوا کر اسرائیل کو موقع فراہم کیا گیا کہ وہ اپنے دفاع کے نام پر غزہ کے انفراسٹرکچر کو تباہ و برباد کردے تاکہ زندہ بچ جانے والے فلسطینی اگلے کئی سالوں تک مزاحمت کا سوچ بھی نہ سکیں۔ اسکے مقابلے میں اوآئی سی کے اجلاس میں مشترکہ بیان جاری کرکے فسلطینیوں کیلئے زبانی ہمدردی و دعائوں اور اسرائیل کیلئے بددعائوں اور مذمتوں کا اظہار کیا گیا۔ کوئی اقدامات اٹھائے بغیر صرف بیانات کا اجراءبھی سلامتی کونسل جیسا عمل ہی ہے کیونکہ اس طرح اسرائیل اپنے وحشیانہ حملے جاری رکھے گا اور فلسطینی ظلم کا شکار ہوتے رہیں گے۔ اہم موقع ہاتھ سے گنوانے کے بعد مسلم ممالک کے حکمران اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے ہونے والے اجلاس سے توقعات لگائے بیٹھے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ جو کام او آئی سی اور سلامتی کونسل کے اجلاس میں نہیں ہوسکا وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پایہ تکمیل تک کیسےپہنچ جائے گا؟

یہ بھی دیکھئے:

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply