طنز ومزاح کا بحرِ بے کراں : ڈاکٹر اشفاق احمد ورک — مظفر حسن بلوچ کے قلم سے

0

والد صاحب جب اپنے علمی اور ادبی بیگ کے ساتھ گھر لوٹتے تھے تو میں اس بیگ کی جامہ تلاشی ضرور لیتا تھا۔ اس تاریخی اور تہذیبی بیگ میں سے کبھی ضیاء الحسن کا “بارِ مسلسل” برآمد ہوتا اور کبھی سعود عثمانی کے ست رنگی “قوس” کے رنگ میرے ہاتھوں میں بکھر جاتے۔ اسی بیگ میں سے اشفاق احمد ورک کی “قلمی دشمنی” میرے ہاتھ لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دشمنی “ذاتیات” کی سرحد تک جا پہنچی۔ اشفاق احمد ورک کی علمی و ادبی شخصیت کا بنیادی حوالہ خاکہ نگاری ہے۔ خاکوں کے حوالے سے ان کا پہلا مجموعہ “قلمی دشمنی” کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔

اشفاق احمد ورک نے اپنی کسی ہم جماعت کی وساطت سے اپنے خاکے ممتاز مفتی کی خدمت میں پیش کیے اور فلیپ لکھنے کی درخواست کی۔ مفتی صاحب نے ان خاکوں کا تجزیاتی مطالعہ کرنے کے بعد موصوفہ سے کہا کہ یہ خاکے جس ذات_ شریف نے لکھے ہیں اس کا اتا پتا (پوسٹل ایڈرس) دو اور تم درمیان سے نکل جاؤ۔ چند دنوں کے بعد اشفاق احمد ورک کو ممتاز مفتی کا خط آیا۔ جلی حروف میں لکھے ہوئے پہلے ہی خط میں نامہ نگار ممتاز مفتی کی بے تکلفی کا انداز قابل_ داد ہے:

اشفاق احمد ورک!  تم جو کوئی بھی ہو۔ سن لو!
تمہاری حس_ ظرافت بہت اچھی ہے۔ تمہارے بے تکلف اور دل چسپ خاکے دیکھ کر تمہارے ساتھ ایک کنسرننگ (وابستگی) پیدا ہو گئی ہے اور یہ کنسرننگ بڑی کتی چیز ہے۔ تم ایک بڑے لکھاری ہو اور یاد رکھو ! تمہیں چھوٹی بات کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔”

“قلمی دشمنی” میں زیادہ تر خاکے ان کے کلاس فیلوز اور ہوسٹل فیلوز کے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے اشفاق احمد ورک کی حوصلہ شکنی بھی کی کہ خاکے تو مشاہیر کے ہوتے ہیں اور تمہارے دوست تو تمہاری طرح بے نام و نشان ہیں۔ ان کو تو ان کے محلے میں کوئ نہیں جانتا۔ مشاہیر کے حوالے سے خامہ فرسائی کی ہوتی تو شاید پزیرائی بھی مل جاتی اور سر ورق پر ان مشاہیر کی رنگین تصاویر دیکھ کر شائقین _ ادب بھی اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور ہوکر یہ نسخہء اکسیر خریدنے پر مجبور ہو جاتے لیکن اب تو کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اشفاق احمد ورک نے مایوسی کے عالم میں ممتاز مفتی سے ان عوامی خدشات کا اظہار کیا۔ مفتی صاحب نے اشفاق احمد ورک کی ڈھارس بندھائی اور فرمایا:
“تمہارے بے تکلف دوستوں کے بے تکلف خاکے دیکھ کر میرا دل کرتا ہے کہ کاش میں بھی تمہارا دوست ہوتا”

وقت نے ثابت کر دیا کہ اشفاق احمد ورک نے اپنے بے تکلف دوستوں کے حوالے سے جو “خاکہ گردی” کی ہے آج اسی کو پذیرائی مل رہی ہے:
جنھیں لکھ کے “اشفاق” پچھتا رہے ہو
وہی شعر ہیں کام کر جانے والے

شاعرِ مشرق کی طرح اشفاق احمد ورک بھی وجودِ زن کو کائنات کی رنگینی اور رعنائی کا باعث سمجھتے ہیں۔ ان کی خوش بیانی اور فطری شوخی نے پروین شاکر، زیبا بختیار اور مادھوری ڈکشٹ کے حوالے سے بھی دل چسپ اور خوب صورت “خاکہ زنی” کی ہے۔ زیبا بختیار کا خاکہ “زیبا با اختیار” کے عنوان سے لکھا ہے جو اس منفرد اور خوبرو اداکارہ کی جاذبِ نظر شخصیت کی طرح پر کشش ہے۔ زیبا بختیار کا یہ خاکہ بہت سے رسالوں اور اخباروں کی زیب و زینت بنتا ہوا زیبا بختیار تک بھی پہنچ گیا۔ ایک طویل عرصے کے بعد ایف _ سی کالج کی کسی تقریب میں زیبا بختیار بھی تشریف لائیں۔ کسی یار_ مہربان نے ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کا تعارف کراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ میڈم یہی وہ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ہیں جنہوں نے آپ کو بھی نہیں بخشا۔ زیبا ترین اداکارہ زیبا بختیار اس اچانک اور پہلی ملاقات پر بے اختیار ہو کر وارفتگی اور محبت سے ملیں اور دیر تک اس خاکے کی تعریف کرتی رہیں۔ زیبا نے کہا کہ آپ سے خوب صورت ملاقات اس تقریب کا حاصل ہے۔ آج بھی ڈاکٹر اشفاق احمد ورک اس پزیرائی اور تقریب _ پذیرائی کو یاد کرتے ہوئے جھوم اٹھتے ہیں۔

مصنف: مظفر بلوچ

پروین شاکر خوب صورت شاعری اور جاذبِ نظر شخصیت کی وجہ سے ادبی اور عوامی حلقوں میں ہمیشہ مقبول رہی ہیں۔ ان کی شہرت اور ناموری کا گراف ہر دور میں سوۓ افلاک ہی رہا ہے۔ اشفاق احمد ورک نے پروین شاکر کا خاکہ بھی قلم بند کیا۔ “خوشبو والی شاعرہ” کے عنوان سے لکھے گئے اس خاکے کی خوشبو نے قارئین کو مسحور کر دیا۔ انور مسعود نے اس خاکے کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا کہ اس خاکے میں شامل بعض جملے بہت تیکھے ہیں اور نظر ثانی کے محتاج ہیں۔ اشفاق احمد ورک نے اس خاکے کے حوالے سے ممتاز مفتی سے بھی راۓ لی اور انور مسعود کے تحفظات سے بھی آگاہ کیا۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ انور مسعود مزاحیہ شاعر ہے۔ خاکہ نگاری چیزے دگر است۔ خاکہ نگاری ساگو دانے کی کھیر نہیں ہے یہ تو ایسی چٹ پٹی ڈش ہے کہ جسے لکھتے ہوئے قلم کے منہ میں بھی پانی آ جاتا ہے۔

ممتاز مفتی مرحوم نے بھی اشفاق احمد ورک کے بعد “شہزادی” کے عنوان سے خوشبو والی “پینو” کا خاکہ سپردِ قلم کیا۔ اس خاکے میں مفتی صاحب نے جگہ جگہ اشفاق احمد ورک کے جملے کوٹ کیے اور یہ کہہ کر اشفاق احمد ورک کو بھی خراج تحسین پیش کیا کہ اشفاق احمد ورک جو ایک بڑا مزاح نگار ہے پروین شاکر کے بارے میں یہ لکھتا ہے۔۔۔۔

ممتاز مفتی جیسے خاکہ نگار نے جس اشفاق احمد ورک کے بارے میں بڑے خاکہ نگار ہونے کا فتویٰ دے رکھا ہو وہاں ہم جیسے اظہارِ رائے کے “مرتکب” نہیں ہو سکتے۔

تخلیق تو جذبات اور احساسات کے فطری بہاؤ کا نام ہے اور اشفاق احمد ورک کے ہاں قلم سے سیاہی نہیں، رس ٹپکتا ہے۔ یہ رسیلی، چٹ پٹی اور ذائقے دار تحریر قاری کی حس_ لطافت کی تسکین کا سامان کرتی ہے۔ زندگی کی یکسانیت سے تنگ اور بور ہو جانے والے مریضوں کی انتہائی نگہداشت کے لیے ان کو ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کے “ہنسپتال” میں شفٹ کر دیا جاتا ہے جہاں زنانہ اور مردانہ وارڈ کے ساتھ ساتھ جنرل وارڈ کی سہولت بھی موجود ہے۔

اشفاق احمد ورک خاکہ نگاری کا بحر _ بیکراں ہے۔ جب سمندر میں طوفان آتا ہے تو بپھری ہوئی منہ زور، باغی اور سرکش لہریں ٹائ ٹینک اور خس و خاشاک میں کوئ امتیاز نہیں کرتیں۔

اشفاق احمد ورک کے قلمی بہاؤ کی زد میں جو بھی آتا ہے اس کو ایک مرتبہ خدا ضرور یاد آ جاتا ہے لیکن وہ دل ہی دل میں یہ دعا بھی مانگ رہا ہوتا ہے:
مری کشتی کو اے طوفاں یونہی زیر و زبر رکھنا

اشفاق احمد ورک نے اپنا خاکہ لکھ کر اپنا ہی گریبان چاک کر دیا ہے۔ اس نے تو اپنے عیبوں کو بھی اپنے چہرے پر سجا لیا ہے اور یہ وہ ہنر ہے جو ہر ایک کو نہیں آتا۔ من و تو کا فرق ورک شاپ میں روا رکھا جاتا ہے، اشفاق احمد ورک کی قلمی دنیا میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

اشفاق احمد ورک نے “اردو نثر میں طنزو مزاح” کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ _ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس من پسند موضوعِ تحقیق کی تکمیل کے لیے انہوں نے ملک بھر کی لائبریریوں سے استفادہ کیا۔ انڈو پاک کی کتب پڑھ ڈالیں اور تخلیقی زبان میں مقالہ سپردِ قلم کیا۔ مقالے کے نگران ڈاکٹر تحسین فراقی تھے۔ پروفیسر فتح محمد ملک وائیوا (viva) کے لیے اسلام آباد سے تشریف لائے اور ورک صاحب کو داد و تحسین سے نوازتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہوئی ہے کہ آپ نے یبوست زدہ روایتی انداز میں مقالہ نہیں لکھا بلکہ تخلیقی انداز میں اور زندہ زبان میں قلم بند کیا ہے۔ میں آپ کو پی ایچ _ ڈی کی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

2004 میں یہ مقالہ کتابی صورت میں بھی شائع ہو گیا۔ اشفاق احمد ورک نے اس کا ایک نسخہ مشفق خواجہ کو بھی پیش کیا۔ مشفق خواجہ مرحوم کا کراچی سے خط آیا اور انہوں نے اشفاق احمد ورک کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اشفاق احمد ورک ! تم نے مقالہ ہی نہیں لکھا بلکہ مقالہ لکھنے والوں کے لیے مثال قائم کی ہے۔ مجتبیٰ حسین کو اشفاق احمد ورک بھارت کا مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں۔ حیدر آباد (دکن) سے انہوں نے فون کر کے مبارک باد دی اور کہا کہ میں نے آپ کا کام دیکھا ہے اور میری خواہش ہے کہ آپ کا پی ایچ۔ ڈی کا تحقیقی مقالہ کتابی صورت میں ایجوکیشن پبلشنگ ہاوس دہلی سے بھی شائع ہو۔

مشتاق احمد یوسفی نے اشفاق احمد ورک کے حوالے سے کہیں لکھا ہے کہ ان کی حس_ مزاح تیز اور انداز تیکھا ہے۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد نے یوسفی کے مضامین کا انتخاب شائع کرنے کے لیے مشتاق احمد یوسفی صاحب سے اجازت طلب کی تو یوسفی صاحب کہنے لگے کہ یہ کیا فضولیات ہے۔ کتاب کتاب ہوتی ہے، یہ انتخاب کیا بلا ہے۔ ان دنوں انعام الحق جاوید صاحب نیشنل بک فاؤنڈیشن کے چئیرمن تھے۔ انہوں نے کہا کہ عدیم الفرصتی کا دور دورہ ہے۔ اگر پانچ کتابوں کا انتخاب ہو جائے تو مزے کی بات ہو۔ یوسفی صاحب نے پوچھا کہ انتخاب کون کرے گا ؟ انعام الحق جاوید نے کہا کہ میں کروں گا یا پھر اشفاق احمد ورک کرے گا۔ یوسفی صاحب کہنے لگے کہ تم زحمت نہ کرو، اشفاق احمد ورک ہی انتخاب کرے گا۔ مشتاق احمد یوسفی کے منتخب مضامین کا انتخاب بھی اشفاق احمد ورک کے ذوق و شوق کا مظہر ہے۔ اس انتخاب کا نام بھی اشفاق احمد ورک کا تجویز کردہ ہے۔ یہ انتخاب ” عالم میں انتخاب ” کے نام سے 2019 میں شائع ہوا۔ افسوس صد افسوس کہ مشتاق احمد یوسفی “عالم میں انتخاب ” کی اشاعت سے ایک سال قبل ہی اس عالم _ فانی سے کوچ کر گئے۔

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی علمی اور ادبی شخصیت کا بنیادی حوالہ تو طنز و مزاح ہے لیکن ان کا ذوق و شوق اسی صنفِ سخن تک محدود نہیں ہے۔ ڈاکٹر صاحب کثیر الجہات اور جامع الحیثیات قسم کی طلسماتی شخصیت کے حامل ہیں۔ اب تک ان کی بیسیوں کتب منظر عام پر آ چکی ہیں۔ سنتے آۓ ہیں کہ دشمنی انسان کو جوان، چاک و چوبند اور تازہ دم رکھتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی ادبی فتوحات کو دیکھتے ہوئے ہمارا دل بھی یہی کہتا ہے کہ میاں ! دشمنی والے فارمولے کو اپنا منشور بنا لو تو شاید کوئی بقا کی صورت نکل آۓ۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کے ادبی سفر کا آغاز “قلمی دشمنی” سے ہوا اور اسی جذبے سے سرشار ہو کر انہوں نے دنیائے ادب میں قابلِ رشک معرکے سر انجام دیے۔ طنز و مزاح کے علاوہ تحقیق و تنقید، کالم نگاری اور سفر نامہ نگاری میں بھی کامیابیوں اور کامرانیوں کے جھنڈے گاڑے۔ “جو اماں ملی تو کہاں ملی” ان کا سفر نامہ حجاز ہے۔ اسلوب میں وہی شگفتگی، تازگی اور شائستگی ہے جو ان کی بنیادی شناخت بن چکی ہے۔ “زاویے” ڈاکٹر صاحب کے تحقیقی و تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔ یہ مضامین بھی ڈاکٹر صاحب کی تنقیدی بصیرت اور تجزیاتی صلاحیت کے آئینہ دار ہیں۔

اشفاق احمد ورک نے عمرہ بھی کر رکھا ہے اور اس ایمان افروز سفر کی روداد ان کے مقبول سفر نامے “جو اماں ملی تو کہاں ملی” میں دل چسپ انداز میں موجود ہے۔ مجذوب خیالی نے یہ سفر نامہ بصد شوق اور بہ صد عجز و نیاز پڑھا اور کہنے لگے:

“صد شکر کہ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے حج کی سعادت حاصل نہیں کی۔ وہ جب شیطان کو کنکریاں مارتے تو شیطان نے کہنا تھا کہ ڈاکٹر صاحب میں آپ کی مزاح نگاری کا فین ہی نہیں، یونس فین بھی ہوں اور آپ کی سنگ زنی سے بھی مجھے گدگدی محسوس ہو رہی ہے”

اشفاق احمد ورک نے دوستوں کے ساتھ ساتھ اپنے اساتذہ کے خاکے بھی قلم بند کیے ہیں۔ اوری اینٹل کالج کے اساتذہ کرام کے خاکوں میں حد _ ادب کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے۔ ان خاکوں میں شوخی کے ساتھ ساتھ شرارت کا رنگ بھی موجود ہے۔ خاکہ نگاری کے فطری اسلوب کو مد_ نظر رکھتے ہوئے چھیڑ چھاڑ کے ساتھ ساتھ داد و تحسین( فراقی ) سے بھی خوب نوازا گیا ہے۔ ان کی خاکہ نگاری کا اسلوب اتنا دل کش اور پر کشش ہے کہ بارہا پڑھنے کے باوجود دل نہیں بھرتا۔ تبسم زیر_ لب کے ساتھ ساتھ بے ساختہ قہقہوں کی آمد و رفت بھی مسلسل جاری و ساری رہتی ہے۔ جب ہم مجرد اور آزاد زندگی گزار رہے تھے تو ان کے خاکوں پر با آواز بلند قہقہے لگاتے۔ اب صورت حال مختلف ہے کہ ان کے خاکے پڑھ کر قہقہے لگاتے ہیں تو ارشاد ہوتا ہے:
“یہ لطیفوں کی کتاب کالج میں پڑھا کریں تو بہتر ہے ”

اور ہم یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں:
“ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے”

مشہور _ زمانہ مزاحیہ شاعر انور مسعود شاعری کے علاوہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ تھے اور راول پنڈی کے کسی کالج میں فارسی پڑھایا کرتے تھے۔ پرنسپل صاحب نے ایک دن سٹاف میٹنگ میں انور مسعود سے کہا کہ پروفیسر صاحب میں اکثر کالج میں راؤنڈ کرتا ہوں اور میں نے کبھی آپ کی کلاس میں بچوں کو نارمل حالت میں نہیں دیکھا۔ کبھی تو بچے فلک شگاف قہقہے لگا رہے ہوتے ہیں اور کبھی زاروقطار رو رہے ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک مزاحیہ شاعر نہیں ہیں اس لیے ان کی کلاس فرطِ جذبات سے بے قابو تو نہیں ہوتی لیکن کلاس روم کا ماحول بہت شگفتہ اور دوستانہ ہوتا ہے۔ اشفاق احمد ورک ہر دل عزیز اور مقبول استاد ہیں۔ لیکچر کے دوران ظرافت اور خوش مزاجی کے پھول مسلسل جھڑتے رہتے ہیں اور طلبہ اس دل خوش کن ماحول میں گھر سے زیادہ اپنائیت محسوس کرتے ہیں۔

ایک طالبہ کا نام وفا تھا اور وہ ہمیشہ وفا کے بعد ہمزہ لگاتی تھی۔ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے بارہا سمجھایا کہ وفا کے بعد ہمزہ نہیں آتا لیکن اس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی تھی اور وہ باوفا لڑکی وفاداری کے تقاضوں کو مسلسل نبھاتی ہی چلی جا رہی تھی۔ امتحان کے دوران میں جب وہ جوابی کاپی پر اپنا نام لکھنے لگی تو استاد محترم کی نصیحت اور فضیحت یاد آ گئی۔ اس نے استاد محترم سے شرارت کے انداز میں پوچھا : سر وفا کے بعد ہمزہ…..؟

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک نے برجستہ کہا: پتر ! حمزہ تیرے بندے دا ناں وی ہویا تے فیر وی نئیں پانا ” بعض طلبہ و طالبات تو ایف_ سی کالج میں داخلہ ہی اس لیے لیتے ہیں کہ یہاں اشفاق احمد ورک صاحب کی شگفتہ مزاجی سے فیض یاب ہونے کے مواقع میسر آئیں گے۔

ایم _ فل اردو میں داخلے کے لیے انٹرویوز ہو رہے تھے۔ اتفاق سے ڈاکٹر اشفاق ورک صاحب اس دن رخصت پر تھے۔ انٹرویو پینل میں دیگر اساتذہ کرام موجود تھے۔ ایک طالبہ سے سوال کیا گیا کہ آپ ایف _ سی کالج ہی سے ایم – فل کیوں کرنا چاہتی ہیں۔ لاہور میں تو اور بھی بہت سے ادارے موجود ہیں۔ اس نیک بخت نے کسی لمبی چوڑی تمہید کی ضرورت محسوس نہیں کی اور دو ٹوک انداز میں کہا:

” یہاں ڈاکٹر اشفاق احمد ورک پڑھاتے ہیں۔”

اس پینل میں شامل کسی استاد نے پوچھا کہ آپ ان کو پہلے سے جانتی ہیں؟وہ کہنے لگی کہ میں نے آج تک ان کو نہیں دیکھا، ان کی تصویر بھی نہیں دیکھی، ان کی عمر کا بھی کوئی اندازہ نہیں ہے لیکن میں نے ان کی بہت تعریف سنی ہے۔ ایف _ سی کالج کی روایت ہے کہ یہاں طلبہ و طالبات اپنے استاد کا انتخاب خود کرتے ہیں۔ جب طلبہ و طالبات کی مطلوبہ تعداد پوری ہو جائے تو کورس بلاک ہو جاتا ہے اور باقی بچوں کو کسی دوسرے استاد کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اشفاق احمد ورک کو اس حوالے سے بھی اعزاز _ فضیلت حاصل ہے کہ اس کی کلاسسز سب سے پہلے بلاک ہو جاتی ہیں اور “ہاؤس فل” کا بورڈ لگ جاتا ہے۔ قبول_ عام اور شہرت_ دوام کے اس دربار میں شہنشاہ _ ظرافت ڈاکٹر اشفاق احمد ورک برس ہا برس سے مسند نشین ہیں۔

کسی بھی تعلیمی ادارے کی پہچان اور شناخت اس کے اساتذہ کے دم قدم سے ہوتی ہے اور ایف _ سی کالج لاہور کے شعبہ اردو کا بنیادی حوالہ ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ہے۔

ڈاکٹر علی محمد خاں کراچی گئے۔ ان دنوں جیو ٹی وی پر “بزبان یوسفی” کے عنوان سے ایک پروگرام چلتا تھا اور اس کے پروڈیوسر ڈاکٹر علی محمد خاں کے قریبی عزیز تھے۔ ان کے توسط سے ڈاکٹر علی محمد خاں صاحب کی ملاقات مشتاق احمد یوسفی صاحب سے ہوئی۔ دوران _ گفتگو یوسفی صاحب نے پوچھا کہ آپ لاہور میں کس کالج میں پروفیسر ہیں؟ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ میں ایف _ سی کالج میں شعبہ اردو کے ساتھ منسلک ہوں۔ یوسفی صاحب فرمانے لگے کہ اچھا ! وہی ایف – سی کالج جہاں اشفاق احمد ورک صاحب پڑھاتے ہیں۔

اشفاق احمد ورک کی تخلیقات میں بیس کتابیں اور دو بچے شامل ہیں۔ قدرت کی اس تقسیم پر ڈاکٹر صاحب کو کسی قسم کا کوئی گلہ یا شکوہ نہیں ہے۔ اشفاق احمد ورک راضی بہ رضا رہنے والے درویش _ خدا مست ہیں۔ تسلیم و رضا کا پیکر ہیں لیکن اللہ کی رحمت سے نا امید کبھی نہیں ہوتے۔ توکل علی اللہ کرنے والے گھاٹے میں نہیں رہتے۔ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ اب تو ہمارا ایمان بھی اس بات پر پختہ ہو گیا ہے کہ خدا جب دیتا ہے تو واقعی چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب ستاون اٹھاون سال کی عمر میں جب کہ ان کی ریٹائرمنٹ بالکل قریب ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے نوازا ہے اور ڈاکٹر صاحب کی دو تازہ کتب طباعت اور اشاعت کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے اشفاق احمد ورک نے مونچھوں کے ساتھ ساتھ فرنچ کٹ ڈاڑھی بھی رکھی ہوئی ہے۔ مزاح نگاری کی طرح یہ فرنچ کٹ ڈاڑھی بھی ان کی شخصیت کے ساتھ میچ کر گئی ہے لیکن بھابھی محترمہ ان کی اس تشکیل _ نو کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کرتی رہتی ہیں اور یہ فرنچ کٹ ڈاڑھی مسلسل ساختیاتی تنقید کی زد میں رہتی ہے۔ بھابی محترمہ امور _ خانہ داری بھی خوش اسلوبی کے ساتھ سر انجام دیتی ہیں اور اشفاق احمد ورک کی مستقل اور مسلسل نگرانی پر بھی مامور ہیں۔

کالم نگاری کو لوگ دنیوی مفادات کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں لیکن عشق کے دیہات سے آۓ ہوئے اس سادہ لوح نے اس طرف بھی توجہ نہیں کی۔ اگر وہ چاہتا تو شہرِ خرد کے چیدہ اور چنیدہ مکانوں سے کچھ خواب چرا سکتا تھا لیکن اس کی خوددار طبیعت نے گوارا نہیں کیا۔

مزاح نگاری غموں، دکھوں اور محرومیوں کی دھیمی آنچ پر پک کر تیار ہوتی ہے۔ بظاہر ہنسنے اور ہنسانے والے مزاح نگار کا باطن اپنی نا آسودہ اور نامکمل زندگی کے ساتھ ساتھ معاشرے کی ناہمواریوں اور کج رویوں پر ماتم کناں ہوتا ہے لیکن اس کا ظاہر قہقہوں سے سرشار ہوا کرتا ہے۔ مزاح نگاری کے پس _ پردہ ایک دیوار_ گریہ تسلسل کے ساتھ چلتی رہتی ہے جسے حساس دل رکھنے والے ہی محسوس کر سکتے ہیں۔ والد کی ناگہانی موت کی وجہ سے اشفاق احمد ورک کی حساسیت بڑھتی ہی چلی گئی اور شاید یہی حساسیت ان کو مزاح نگاری کی طرف کھینچ لائی۔

اشفاق احمد ورک نے عمر عزیز کی تین بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ ان کے والد محترم ایک حادثاتی موت کا شکار ہو گئے۔ ان کے ہاتھ میں ایک زنگ خوردہ رائفل تھی جس کا ٹائیگر دست _ اجل نے دبا دیا اور یوں ان کے والد دیکھتے ہی دیکھتے راہی ملک عدم ہو گئے۔ اللہ مرحوم و مغفور کے درجات بلند فرمائے۔ اشفاق احمد ورک کی زندگی کے اس الم ناک حادثے نے ان کو باپ جیسی چھتنار ہستی کی چھاؤں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم کر دیا۔ وقت انسان کا سب سے بڑا استاد ہے۔ اشفاق احمد ورک نے زندگی کی تلخیوں سے وہ سب کچھ بھی قبل از وقت سیکھ لیا جو راحتوں اور بے فکریوں میں عمر بھر نہیں سیکھا جا سکتا۔ قدرت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ آج وہی رائفل مزاح نگار اشفاق احمد ورک کے ہاتھ میں ہے جس کا نشانہ خطا بھی نہیں جاتا اور جس کا نشانہ بننے والے مرتے نہیں بلکہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتے ہیں۔ اشفاق احمد ورک ہنسا ہنسا کر مار ڈالنے کے فن سے بخوبی آشنا ہے۔

اشفاق احمد ورک کا قول ہے کہ اس کا تعلق کسی سکول آف تھاٹ(school of thought) سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تو سکول آف ٹاٹ ( ٹاٹ اسکول ) سے ہے۔ شیخوپورہ کے مضافاتی گاؤں سے تعلق رکھنے والے اشفاق احمد ورک نے جس پرائمری اسکول سے تعلیم حاصل کی وہ آج بھی چار دیواری سے محروم ہے۔ ٹاٹ اسکول سے پڑھنے والے فرش نشین آج علمی، ادبی اور دنیاوی حوالوں سے عزت، شہرت اور منصب کے تخت پر جلوہ افروز ہیں۔ اشفاق احمد ورک ایک انٹر نیشنل یونیورسٹی میں اکیسویں گریڈ کے پروفیسر ہیں اور لاہور کے پوش علاقے میں عالی شان بنگلے کے مالک ہیں۔

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی والدہ ماجدہ دیہات سے تعلق رکھنے والی سادہ لوح خاتون تھیں اور لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں رہنا پسند نہیں کرتی تھیں۔ اشفاق احمد ورک ان کی منت سماجت کرکے لاہور لے آتے۔ ان دنوں اشفاق ورک کراۓ کے مکان میں رہتے تھے۔ ایک دن ماں جی لاہور آئیں اور کچھ دن قیام کے بعد بیٹے سے کہنے لگیں کہ اب مجھے گاؤں چھوڑ آؤ۔ مجھے اپنا گھر یاد آ رہا ہے۔ بیٹے نے کہا کہ ماں جی یہ بھی تو آپ ہی کا گھر ہے۔ ماں جی کہنے لگیں: پتر! کراۓ دے گھراں اچ رہنا کوئ چنگی گل نئیں ہوندی، کرایے داراں دی دنیا اچ کوئی عزت نئیں ہوندی۔۔۔۔”

اشفاق احمد ورک نے ہنستے ہوئے ماں جی سے کہا:
ماں جی ! مزاح نگار تو میں ہوں اور اٹکھیلیاں آپ کو سوجھ رہی ہیں”

ڈاکٹر اشفاق احمد ورک ” ظرافت منزل ” کے مکین ہیں۔ گھر کی پیشانی پر “ھذا من فضل ربی” کی نمائشی سند کی بجائے ” ظرافت منزل ” تحریر ہے۔ میں ان کے نیاز حاصل کرنے کی غرض سے ان کے در _ دولت پر حاضر ہوا تو گھر کی نمبر پلیٹ پر نظر پڑی۔ 345۔ میں یہ سوچ کر آگے بڑھنے لگا کہ یہ تو ٹیلی نار کمپنی کا فرنچائز آفس ہے لیکن پھر ظرافت منزل اور ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کی نیم پلیٹ پر نظر پڑی تو زیر _ لب مسکرا دیا کہ ڈاکٹر صاحب کی عملی زندگی میں بھی ظرافت کا رنگ غالب ہے۔ شاعر _ مشرق علامہ اقبال سے عقیدت کی ادنی مثال تو یہی ہے کہ علامہ اقبال ٹاؤن میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ہمساۓ ہیں۔ معروف موٹی ویشنل سپیکر قاسم علی شاہ کا دفتر تو بالکل قریب ہے۔ فرق یہی ہے کہ شاہ جی کے دفتر کے سامنے سے گزرتے ہوئے راہ گیر کو اپنے مستقبل کے حوالے سے بچے کھچے امکانات بھی معدوم ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، تاریک رات اور بھی تاریک ہو جاتی ہے لیکن ظرافت منزل کے سامنے سے گزرتے ہوئے ہونٹوں پر ایک بے ساختہ مسکراہٹ از خود نمودار ہو جاتی ہے۔

ان کی ” قلمی دشمنی” میں دوستی کا رنگ ہے
دوستوں کی جان ہیں اشفاق احمد ورک بھی
بذلہ سنجی میں نہیں ہے آپ کا ثانی کوئی
محفلوں کی شان ہیں اشفاق احمد ورک بھی
رنج و غم کو مسکرا کر ٹال دیتے ہیں سدا
زندہ دل انسان ہیں اشفاق احمد ورک بھی

 

یہ بھی پڑھیں: بزرگی بہ شکل است: سعود عثمانی ———– ڈاکٹر اشفاق احمد ورک

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply