درد کی گولی —— جنید جاذب کا افسانچہ

0

’مائی گاڈ۔۔۔‘ اس پر جیسے آسمانی بجلی گر گئی۔ روہانسی ہو کر بولی ’پلیز کہہ دو کہ تم مذاق کر رہے تھے‘

’نہیں یہ سچائی ہے بے بی‘ اس کے لہجے میں مایوسی کے باوجود متانت موجود تھی۔

’میں ملنے آتی ہوں، اگلے ہفتے‘

’او کے‘

’تم پلیز اپنا دھیان رکھو۔۔ اور ہاں دوائی لیتے رہو، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لَو یُو۔۔۔ امُااا۔ سی یو نیکسٹ ویک‘

’او، سوری۔۔ میں بھول گیا بتانا۔۔۔ اگلے ہفتے تو مجھے کِیمو کے لئے ٹاٹا میموریل جانا ہے۔۔۔ تم اس سے پہلے آ جاو، یا۔۔۔‘

’او آئی سی۔۔۔ بٹ میری ایمرجنسی ڈیوٹی چل رہی ہے اس ہفتے۔۔۔‘

’او کے۔ نو اِشو۔ تم میرے واپس آنے کے بعد آجانا۔۔۔ بٹ آنا ضرور بے بی۔۔۔ ٹیک کیئر آف یور جاب فار ناو‘

’سو سوِیٹ آف یو، مائی جان۔۔۔ تم واپس آجاو پھر ملتے ہیں، جم کےملتے ہیں۔۔۔ گیٹ ویل سُون، لَو یُو۔ اُمماااا!‘

’لَو یُو ٹُو‘

ایک ماہ بعدجب وہ اسے ملنے آئی تو وہ نئی جگہ منتقل ہو چکا تھا

’واو۔۔۔ وٹ آ بیوٹی فُل پلیس دِ س اِز۔۔۔۔ اِزنٹ اِٹ‘

’یس۔ اِٹ اِز۔۔۔ اچھا کیا لو گے۔۔۔ اور ہاں یہ کون ہیں؟ ان کا تم نے تعارف ہی نہیں کروایا؟؟‘

’اوہ۔۔۔ میں بھی نا کتنی بھلکڑ ہوں۔۔۔ ہی اِز مائی نیو فرینڈ‘

’نائس ٹُو میِٹ یُو‘ اس نے استقبالیہ انداز میں ہاتھ بڑھایا

’سَیم ہیَئر‘ دو طرفہ مسکراہٹ بکھر گئی۔

’ڈئیر، مجھے ڈر تھا کہیں میں امتحان بھرے اس مشکل وقت میں تمھاراساتھ دینے میں کمزور نہ پڑ جاوں، اکیلی نہ پڑ جاوں۔۔۔ بٹ ڈونٹ ورّی، اب ہم دونوں تمھارے ساتھ ہیں۔۔۔ یُو نِیڈ ناٹ فیِل آلون۔ تم ہارو گے نہیں اس بیماری کو ہراؤ گے۔۔۔ وی ہیو ٹُو وِن، اینڈ وی وِل‘

اسے اچانک یاد آیا کہ اس روز کی درد کی گولی لینا وہ بھول ہی گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مقبول اور جارحانہ فیمنزم : عورتوں کی خوشیوں کا قاتل ----------- وحید مراد
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply