وادئِ سینا پہ فروزاں برقیے اور خوف سے شکست کھاتی طاقت — سید ذکی

0

حالیہ فلسطین-اسرائیل واقعات پر مغربی میڈیا کا دعوی ہے کہ اسرائیل پر مارے گئے راکٹوں کی تعداد ایک ہزار تھی جو زیادہ تر روک لئے گئے. مگر وہ یہ بتانے سے کتراتا ہے کہ اسرائیلی آئر ڈیفنس شیلڈ کو ایک راکٹ روکنا چالیس ہزار ڈالر میں پڑتا ہے، جی ہاں چند ہزار روپے کا سادہ سا ایک راکٹ چالیس ہزار ڈالر میں رکتا ہے۔

پھر اس راکٹوں کی پوچھاڑ میں سے ایک دو راکٹ لازمی آر پار ہو جاتے ہیں اور اسرائیلیوں پر قیامت بن کر ٹوٹتے ہیں، یہ اس ایئر ڈیفنس سسٹم کی کمزوری ہے اور حماس اس سے بخوبی واقف۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ زخم بہت گہرا لگا ہے۔

ہزار میں سے چند گولڈن راکٹ اسرائیلی عمارتوں پر نہیں انکی روحوں پر لگے ہیں اور روح کے زخم بہت گہرے ہوتے ہیں، بھرا نہیں کرتے۔ اسرائیلی اہنے شہریوں کو تحفظ کا احساس دلانے کیلیے مسلسل اربوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں کہ ان کا خوف کم ہو اور اعتماد بحال رہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ریاستیں خوف کی حالت میں قائم نہیں رہ سکتیں۔

Israel's Iron Dome missile shield swats Gaza rockets from the sky | Metro Newsمگر مرض بڑھ رہا ہے اور ناقابل شکست ہونے کی متھ Myth ٹوٹ رہی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق بہت سے متمول اسرائیلی خاندان یورپ و امریکہ منتقل ہوچکے یا اسکی تیاری کر رہے ہیں اور جوانوں اور بوڑھوں کی ایک بڑی تعداد نفسیاتی امراض کا شکار۔

 یہ دراصل نفسیات اور اعصاب کی جنگ بھی ہے. اسلحہ سے زیادہ ایمان اور عقیدہ کا امتحان۔

اسرائیلی حکومت اور مغربی میڈیا پروپیگنڈے کے زریعہ لاکھ یہ یقین دلانے کی کوشش کریں کہ حماس کا حملہ ناکام ریا ہے مگر ٹی وہ سکرینوں اور سوشل میڈیا پر نمودار ہونے والی لاکھوں تصویروں میں صیہونی ریاست کے شہریوں کے چہروں پر لپٹا خوف اور ڈر صاف دیکھا جاسکتا ہے اور بتاتا ہے کہ ان کا کتنا نقصان ہوا ہے. اعتماد اور یقین کا نقصان۔

سجے سجائے پرآسائش گھروں اور ان کے آرام دہ بیڈرومز سے پرسکون نیند روٹھ چکی اور چین رخصت ہوچکا اور قلعہ نما محفوظ گھر ریت کی دیوار بن چکے جو تیزی سے خوف اور بے یقینی کی دبیز چادر میں لپٹتے چلے جارہے ہیں۔

وہ اچھی طرح جان رہے ہیں کہ مضبوط ائر ڈیفنس سسٹم کے باوجود چند گولڈن راکٹ جب چاہیں انکے چہروں سے ہنسی نوچ سکتے ہیں اور پرسکون زندگی کا انکا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

اسرائیل اور اسکے پشتیبان جانتے ہیں کہ یہ کتنا مہنگا سودا ہے اور اسکی مستقل قیمت کیا ہے۔ آخر ایک خوف میں جینے والی ریاست کب تکَ زندہ رہ سکتی ہے۔

مانا کہ مسجد اقصی کا فرش معصوم فلسطینیوں کے خون سے سرخ ہے، مغرب ناجائز ریاست کی پشت پر کھڑا ہے اور امریکہ اسرائیل کے خلاف آنیوالی ہر قرارداد کو ویٹو کرریا ہے، مگر وہ اس خوف اور بے یقینی کو ہر گز ختم نہیں کرسکتے جو مسلسل بڑھ رہی ہے۔

پھر قران کہتا ہے “وقل جا الحق وزھق الباطل؛ انا لباطل کان زھوق” کہدو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا اور باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔
پھر فرمایا گیا وہ (یہودی) زمین ہر اپنی تدبیریں کرریے ہیں اور اللہ اہنی تدبیر کر ریا ہے. وہ اہنی چالیں چل رہے ہیں اور اللہ اپنی چال چل رہا ہے.

بھلا اللہ کے مقابلہ میں بھی کسی اور کی تدبیر کا میاب ہوسکتی ہے! نہیں، ہرگز نہیں۔ پھر مایوسی کس بات کی اور یہ اداسی کیوں۔

Intact Seeker Section From An Iron Dome Tamir Interceptor Fell Into Gaza مانا کہ فلسطینی تنہا یہ جنگ لڑ رہے ہیں اور بے سروسامان، مگر یہی انکی طاقت ہے کہ ان کے پاس کھونے کو کچھ نہیں اور فتح کا امکان روشن. جبکہ انکا دشمن شیشہ کے گھر میں بیٹھا ہے۔

ادھر ادھر دیکھنے کے بجائے پھر کیوں نہ نظر آسمانوں پر رکھی جائے. کوئی دن جاتا ہے کہ آسمانوں سے فیصلے اترنا شروع ہونگے اور منطر بدل جائیگا کہ فتح آسمان والے کا وعدہ پے جو لوح قلم پر لکھ دیا گیا۔

 آئیں آنسو پونچھ ڈالیں اور فیصلے کا انتظار کریں، بس دو گھڑی انتظار۔

یہ بھی دیکھیں:

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply