شمیم حنفی : ایک اہم نقاد —– معراج رعنا

0

اردو تنقید کو جن نقادوں نے ثروت مند بنایا ان میں ایک بے حد اہم نام شمیم حنفی کا ہے۔ یوں تو ان کی ادبی زندگی کےمتعدد گوشے ہیں۔ وہ ایک بہترین شاعر، ڈرامہ نگار اور ایک عمدہ مترجم تھے۔ لیکن لیکن ان کی ادبی شناخت کا سب سے مضبوط حوالہ ان کی تنقید ہے۔ “جدیدیت کی فلسفیانہ اساس” “نئی شعری روایت” اور “غزل کا نیا منظر نامہ” ان کی نمائندہ تنقیدی تصانیف ہیں۔ ان کتابوں کے غائر مطالعے سے جہاں ایک طرف اردو تنقید کی بتدریج بدلتی ہوئی صورت حال کا اندازہ ہوتا ہے وہیں دوسری طرف ان کے تنقیدی تصورات و طریق کار کو بھی سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔ یعنی یہ کہ مذکورہ کتابوں سے شمیم حنفی کے تنقیدی موقف پوری طرح واضح ہوتے ہیں۔

معراج رعنا

ان کی کتاب جدیدیت کی فلسفیانہ اساس محض اس لیے اہمیت کی حامل نہیں ٹھہرتی کہ اس میں وجودی فلسفے پر استوار تنقید کی مثبت کارکردگی پر مدلل گفتگو کی گئی ہے بلکہ یہاں یہ سمجھایا گیا ہے کہ ادب کی تخلیق میں وجودی یا کوئی بھی فلسفہ کیسے اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ چونکہ شمیم حنفی بھی اسی عہد کے پروردہ تھے جسے جدیدیت کا عہد کہا جاتا ہے تاہم ان کے یہاں ابتدا سے آخیر تک کی بیشتر تنقیدی تحریروں میں جدیدیت سے متعلق ہر جھوٹے بڑے مسائل کو سلجھانے کی سعی موجود نظر آتی ہے۔ لیکن وہ دوسرے جدیدیت پسند نقادوں کی طرح ایک مخصوص نظریے سے بندھے نظر نہیں آتے۔ وہ بین العلومی مطالعے کے حامی تھے اس لیے ان کے یہاں ہر اچھے اور سچے ادب کی قدر و منزلت نمایاں تھی چایے وہ ادب ترقی پسند یا مابعد جدید نقطئہ نظر سے ہی کیوں نہ لکھا گیا ہو۔ یہ بات ہم سب جانتے ہیں کہ ادبی تنقید اور نقاد کے کاموں میں ایک بنیادی کام کسی فن پارے کی اقداری اہمیت نمایاں کرنے کے ساتھ ساتھ باذوق قاری کو پیدا کرنا ہوتا۔ اور یہ کام تنقید اس وقت انچام دے سکتی ہے جب وہ کسی متھ یا مفروضے کو رد کرتی نظر آتی ہو۔

شمیم حنفی کے تنقیدی شعور میں یہ بات ایک پختہ عقیدے کے طور پر موجود تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ وہ اردو کے کسی بھی فن پارے کو اس کے اثباتی رویے کے ساتھ قبول نہیں کرتے تھے جس طرح اس کو قبول کرنے کی روایت ہمارے یہاں موجود تھی۔ مطلب یہ کہ شمیم حنفی کسی فن پارے پر اپنی تنقیدی کارروائی شکوک کی بنہاد پر استوار کرتے تھے تاکہ اس فن پارے کو آزادانہ طور پر پڑھا اور سمجھا جا سکے۔ ان کے اس طریق کار کی ایک عمدہ مثال ان کا وہ مضمون ہے جو انھوں نے پریم چند کے افسانے “کفن” پر لکھا تھا۔ یہ مضمون غالبا ان کی کتاب “افسانے کے پانچ رنگ” میں شامل ہے۔ عام طور پر پریم چند کی کہانی کفن کو بڑی کہانی سمجھا جاتا ہے۔ شمیم حنفی نے اس کہانی کی عظمت پر یوں تو براہ راست کوئی سوال قائم نہیں کیا ہے لیکن ان کے اس مضمون سے وہ سارے دعوے اپنی دلیلوں سے عاری ہو جاتے ہیں جن کی بنیاد پر کفن کی عظمت متعین کی گئی تھی۔ مطلب یہ کہ اس کہانی کے متعلق بے ضمیری اور بے حسی کی جتنی دلیلیں دی گئی تھیں وہ شمیم حنفی کے اس مضمون میں بکھر جاتی ہیں۔ شمیم حنفی کی تنقید کی ایک بنیادی خوبی ثقافتی انسلاک کی ہے۔ ان کے یہاں کسی فن پارے کو اس کے ثقافتی سیاق و سباق میں دیکھنے کا رویہ شدید طور موجود نظر آتا ہے۔

ایک بڑے نقاد کی ایک بڑی خوبی اس عمیق مطالعہ اور اس کا حافظہ ہوتا ہے۔ مجھے یہاں یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ شمیم حنفی کے یہاں یہ دونوں چہزیں وافر مقدار میں موجود تھیں جسے ان کی تقریر اور تحریر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شمیم حنفی-- کچھ باتیں کچھ یادیں --------- عزیز ابن الحسن
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply