حسن منظر کا ناول ’’حبس‘‘ : ایک توانا مزاحمتی آواز —- نجیبہ عارف

0

حسن منظر کا ناول ’’حبس‘‘ ۲۰۱۶ میں کراچی کے معروف ادارے شہرزاد سے شائع ہوا۔ حسن منظر ادبی دنیا کے لیے کوئی نیا نام نہیں ہے۔ اس سے پہلے اور بعد میں بھی ان کے کئی ناول شائع ہو کر معروف ہو چکے ہیں۔ ان کے ادبی سفر کا آغاز ۱۹۸۲ میں افسانوں کے مجموعے ’’رہائی‘‘ کی اشاعت سے ہوا۔ اب تک ان کے افسانوں کے سات مجموعے اور آٹھ ناول چھپ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے لکھے گئے افسانوں کے مجموعے، تراجم اور مضامین بھی شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی کئی کتابوں کو اعلیٰ ادبی ایوارڈ بھی مل چکے ہیں۔ ان کی مجموعی ادبی خدمات کے پیش نظر بھی کئی اعلیٰ ادبی و علمی انعات و اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان کے ناولوں انسان اے انسان، دھنی بخش کے بیٹے، العاصفہ، وبا اور اے فلک نا انصاف! کا تذکرہ ادبی حلقوں میں ہوتا رہا ہے لیکن عجیب بات ہے کہ ’’حبس‘‘ کی اشاعت کے بعد اس کا کوئی ذکر نہیں ہوا۔ خود میں نے ۲۰۲۰ سے پہلے اسے پڑھا تھا نہ اس کے بارے میں کچھ سنا تھا۔ یہ تو حسن منظر صاحب کی مہربانی تھی کہ اپنی نئی کتابوں کے ساتھ انھوں نے ایک نسخہ حبس کا بھی ارسال کر دیا۔ میں نے بھی جب یہ کتاب پڑھی تو حیران رہ گئی اور بار بار یہ خیال ذہن میں ابھرتا رہا کہ ایسی کتاب اب تک گم نام کیوں رہی؟ پھر غور کرنے پر اس کی وجہ بھی کچھ نہ کچھ سمجھ میں آنے لگی۔ یہ وجہ اس ناول کے بارے میں جانے بغیر نہیں سمجھی یا سمجھائی جاسکتی۔

اگر یہ کہا جائے کہ حبس کا موضوع مسٔلۂ فلسطین ہے تو غلط تو نہیں ہو گا مگر کافی بھی نہیں ہوگا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ حبس کا مرکزی کردار ایرئیل شیرون (Ariel Sharon: ۲۶ فروری، ۱۹۲۸۔ ۱۱ جنوری، ۲۰۱۴) ہے تو اس سے اختلاف نہیں لیکن یہ کہنا سراسر ناانصافی ہوگی کہ مصنف کا مطمح نظر ایرئیل شیرون کی شخصیت کی تصویر کشی ہے۔ ۳۶۷ صفحات پر مشتمل اس ناول میں ایرئیل شیرون کی زندگی کے ان آخری آٹھ سالوں کا بیان ہے، جو اس نے دماغ کی شریان پھٹنے کے بعد فالج اور بے ہوشی کے عالم میں ہسپتال کے بستر پر گزارے۔ ایرئیل شیرون اسرائیل کا پہلا وزیرِ دفاع اور گیارھواں وزیر اعظم تھا۔ اس سے پہلے وہ اسرائیل کی فوج میں مختلف خدمات سرانجام دیتا ہوا جنرل کے عہدے تک پہنچا تھا۔ فوجی کی حیثیت سے اس کی وجہ شہرت وہ سفاک اور ظالمانہ فوجی آپریشن تھے جن کے ذریعے فلسطینیوں کو ان کی آبائی زمینوں اور گھروں سے بے دخل کیا گیا اور ان کی بستیوں کی بستیاں اجاڑ کر ایک نیا ملک تعمیر کیا گیا۔ شیرون اس غاصبانہ قبضے کے نتیجے میں قائم ہونے والی مملکت کے معماروں میں سے نمایاں ترین ہے۔ حسن منظر ناول سے پہلے تمہید کے عنوان سے شیرون کا تعارف کرواتے ہوئے لکھتے ہیں:

باریک سرخ بالوں اور بھوری آنکھوں والا، خدا کا منکر، لیکن یہودی روسی ماں باپ کا بیٹا ہے۔ اسے اس کے دوست ایرک کہتے ہیں اور پیٹھ پیچھے، اپنے پرائے سب کے لیے وہ بُل ڈوزر ہے۔ اس سے بہتر ثانوی نام اس جسامت کے آدمی کے لیے، جس کی خُو بلڈنگوں کو ڈھانے اور ہنستی، بے خبر آبادیوں کو کچل ڈالنے کی تھی، دوسرا نہیں ہو سکتا تھا۔ اس کی الٹی آنکھ، تھوڑی الٹی طرف ملتفت تھی اور دیکھنے والوں کو اس میں بھی اس کی شخصیت کا اک پہلو نظر آتا تھا۔

Ariel Sharon | Biography, Military Career, Politics, & Facts | Britannicaفوج سے ریٹائر منٹ کے بعد اس نے سیاست میں قدم رکھا اور وزیر دفاع سمیت مختلف عہدوں پر فائز رہنے کے بعد بالآخر ۲۰۰۱ میں اسرائیل کا وزیر اعظم بن گیا۔ فوجی اور سیاست دان دونوں حیثیتوں میں اس کے نمایاں ترین کارناموں میں، صابرہ اور شتیلہ کے کیمپوں میں فلسطینیوں کا قتل عام، غزہ اور مغربی کنارے سے فلسطینی بستیوں کا انہدام اور ان کی جگہ اسرائیلی شہروں کا قیام شامل ہیں۔ سرکاری تفتیشی اداروں نے اسے کئی بار ان واقعات کا مرکزی ملزم قرار دیا اور اسے اس کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی مگر سوائے اس کے کہ اسے عرب دنیا سےقصاب اور قاتل کے القابات سے نوازا جائے، کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے، اس سے امید کی جارہی تھی کہ وہ فلسطینی علاقوں پر مکمل قبضہ حاصل کر کے اس ’’فتنے‘‘ کو ہمیشہ کےلیے اسرائیل کے حق میں ختم کر دے گا لیکن ۱۸ دسمبر ۲۰۰۵ کو، جب اس کی عمر ۷۷ سال تھی، اسرائیل میں ضرب المثل بلکہ نشانۂ تمسخر بن جانے والی پُر خوری اور شراب نوشی کے نتیجے میں اس پر فالج کا حملہ ہوا۔ ڈاکٹروں نے اسے ہسپتال میں داخل کر لیا مگر وہ حالت سنبھلتے ہی ڈاکٹروں کی تنبیہ کو نظر انداز کرتا ہوا اگلے الیکشن کی تیاری کے لیے سیاسی اکھاڑے میں اتر آیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ۱۷ دن بعد اس کے دماغ کی شریان پھٹ گئی اور وہ طویل بے ہوشی (کوما) کا شکار ہوگیا۔ یہ بے ہوشی آٹھ سال تک جاری رہی۔ اس دوران کئی تدبیریں کی گئیں؛ کئی آپریشن کیے گئے اور جدید ترین مشینوں کے ذریعے اسے کوما سے نکالنے کی کوشش کی گئی، اس کے جسم کو ایسی مشینوں سے جوڑ دیاگیا جو اس کی دماغی لہروں کا ہلکے سے ہلکا ارتعاش بھی ریکارڈ کر سکتی تھیں تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ اس کی سمعی، بصری اور تکلمی حسیات میں زندگی کی کوئی رمق باقی ہے یا نہیں، مگر کوئی کوشش کامیاب نہ ہو سکی اور بالآخر گیارہ جنوی، ۲۰۱۴ کو شیرون کی زندگی کا خاتمہ ہو گیا۔

حسن منظر نے اپنے ناول میں بے ہوشی اور غفلت کے ان آٹھ برسوں کے دوران شیرون کے فکر و تخیل کی لرزشوں کو پیش کیا ہے ؛اس کی سوچیں، اس کے اندیشے، اس کی اذیتیں اور وہ سب باتیں جو اس کے ذہن میں کلبلا رہی تھیں۔ انھوں نے شیرون کو اس کے ہسپتال کے کمرے میں، اس کے بستر کے ساتھ کھڑے ہو کر نہیں، اس کے ذہن کے اندر اتر کر دیکھا ہے۔ اس کے دماغی عمل کی تصویر اتارنے اور اس کے خیالات کو پڑھنے کی جدید ترین طبی کوششوں سے الگ یہ ایک ایسی کہانی ہے جسے حقیقت ثابت نہیں کیا جاسکتا لیکن اس کے باوجود یہ ان ٹھوس مادی حقائق پر مشتمل ہے جو گزشتہ صدی کے دوران ارضِ فلسطین پر مسلط رہے اور جنھیں کوئی بھی دیکھ اور جان سکتا ہے۔ یوں یہ ناول حقیقت اور فینتاسی کا ایک حیران کن امتزاج ہے۔

ماریو برگس یوسا (Mario Vargas Llosa) نے ایک نوجوان ناول نگار کے نام خطوط لکھتے ہوئے ناول کے جن اجزا کا ذکر کیا تھا ان میں سے ایک سطح حقیقت ہے۔ حقیقت کی سطحیں ان گنت ہوتی ہیں اور زندگی کی طرح ناول میں بھی کسی نہ کسی طور کارفرما ہوتی ہیں مگر عام طور پر اسے دو عمومی اقسام میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ ایک سطح تو وہ ہوتی ہے جو کائنات کے جانے پہچانے تجربے پر بنیاد رکھتی ہے اور جسے ادراک و شعور کے دائرے میں لا کر اس کی شنا خت کی جا سکتی ہے۔ دوسری سطح وہ ہے جو اس حسی، عمومی تجربے سے ماورا اور سراسر انفرادی نوعیت کی ہوتی ہے۔ عام طور پر فکشن حقیقت کی ان دونوں سطحوں سے معاملہ کرتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض اوقات ایک دوسرے پر غالب آتی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اگر فکشن حقیقت کی دوسری سطح سے عاری ہو تو وہ اچھا تو ہو سکتا ہے، عظیم نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حقیقت کی جانی پہچانی، صورت کو پیش کرنا اور قابلِ توجہ بنا دینا بھی ایک عمدہ کام ہے لیکن حقیقت کی اس سطح کو ایک عام انسان فکشن پڑھے بغیر بھی چھو سکتا ہے، اسے محسوس کر سکتا ہے، جی سکتا ہے۔ البتہ، جب فکشن نگار کائنات کی عام نظر آنے والی تصویر کو اپنے تخیل کی پرواز اور اپنی بصیرت کی رنگ آمیزی سے ایک ایسی صورت میں پیش کرتا ہے جو پڑھنے والےپرحقیقت کی ایک ناموجود مگر امکانی صورت حال واضح کر دیتی ہے تو فکشن کا اثر اور دائرۂ کار وسیع تر ہو جاتے ہیں اور اس میں ایک ایسا ترفع پیدا ہوجاتا ہےجو سادہ حقیقت نگاری سے بہت آگے کی چیز ہے۔ حسن منظر نے اس ناول میں اسی ترکیب کا استعمال کیا ہے۔ بظاہر فینتاسی محسوس ہونے والے طریقۂ کار کے استعمال سے تاریخ کے ٹھوس حقائق کا چہرہ پیش کر دیا ہے۔ بظاہر ایک شخص کے خیالات و محسوسات کی بازگشت ہے مگر حقیقت میں دو قوموں کے تصادم و پیکار کی کہانی ہے۔ یہ تصادم کئی صدیوں بلکہ ہزاریوں پر پھیلا ہوا ہے۔ اس میں کئی اساطیری حوالے ہیں، کئی تاریخی دستاویزات ہیں، کئی تاریخی اور نیم تاریخی قصے ہیں اور حقائق کو دیکھنے کے کئی ایسے زاویے ہیں جو بالکل واضح ہونے کے باوجود عام دیکھنے والی آنکھ سے پوشیدہ رہتے ہیں۔

ناول کا راوی اور مرکزی کردار خود ایرئیل شیرون ہے جو اپنے ہسپتالی بستر پر لیٹا، اپنے خیالات و محسوسات بیان کرتا ہے۔ وہ اپنے اردگرد کی صورت حال کو دیکھتا، سمجھتا اور سنتا ہے اور اس پر اپنی حد تک ردعمل بھی دیتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ نرسیں اور ڈاکٹر اس کے کمرے میں آکر اس کے بارے میں اپنی رائے کا بے باکانہ اظہار کرتے ہیں، اس کی موجودگی کو نظر انداز کرتے ہوئے معاشقے چلاتے ہیں، ایک دوسرے کو اپنی اپنی کہانیاں سناتے اور اپنے سیاسی و تاریخی تجزیے پیش کرتے ہیں۔ وہ شیرون کو زندہ سمجھتے ہوئے بھی جمادات و نباتات کی طرح غیر متعلق اور غیر اہم خیال کرتے ہیں۔ ایسے میں وہ صرف اپنے آپ سے مخاطب ہو سکتا ہے۔ اپنے بچپن کی محرومیاں، والدین کی اہانت اور بے بسی، یکے بعد دیگرےدو بیویوں کے ساتھ گزرنے والی زندگی کے اتارچڑھاؤ، اولاد کی تربیت اور اس میں رہ گئی دراڑیں، پیشہ ورانہ زندگی اور اس کے فیصلے، ترجیحات اور تمنائیں، سیاسی منصوبے اور پالیسیاں، ماضی، حال اور مستقبل کو دیکھنے کا اس کا ذاتی زاویۂ نظر، یہ سب باتیں کسی واضح ترتیب یا منصوبہ بندی کے بغیر، خیال کی رو کے ساتھ بہتی ہوئی اس کے ذہن سے ٹکراتی ہیں اور قاری کے سامنے اس کی زندگی کی مختلف جہتیں کھولتی جاتی ہیں۔ اس طرح مرکزی کردار سے جڑے ہوئے کئی ضمنی کردار بیانیے میں ابھرتے ہیں اور کسی تصویری معمے کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کی طرح آپس میں جڑ کر ایک بڑے منظر نامے کو مکمل کرنے میں حصہ لیتے ہیں۔ فلسطینی نوجوان جو انجینئرنگ کا طالب علم تھا اور محض ایک شبہے کی بنا پر اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے کے بعد بالآخر خودکش حملے میں جان دینے پر آمادہ ہوا، سفید فام یہودی عورت جو اشکے نازی ہونے کے باوجود شیرون کے صیہونی ایجنڈے سے شاکی تھی، امریکی لڑکی جو اس یقین سے بل ڈوزر کے سامنے کھڑی ہو گئی تھی کہ اس کی قومیت سے خائف ہو کر بل ڈوزر رک جائے گا مگر صیہونیت کی کرشنگ مشین میں کچلی گئی تھی اور امریکہ بہادر خاموش رہا تھا۔ یہ اور ایسے کتنے ہی کردار اس ناول کے صفحوں پر بکھرے ہوئے ملتے ہیں جن کے چھوٹے بڑے تجربے مل کر ایک بڑے تجربے کا جزو بنتے ہیں جسے صیہونیت کہتے ہیں۔

شیرون کے علاوہ اس ناول کا دوسرا اہم کردار کچھ آوازوں کا ہے۔ یہ وہ آوازیں ہیں جو شیرون نہ چاہتے ہوئے بھی سننے پر مجبور ہے۔ ان آوازوں کا منبع و مرکز نامعلوم ہے۔ کبھی یہ ماورائی معلوم ہوتی ہیں تو کبھی جیتے جاگتے انسانوں کا نام اوڑھ کر آتی ہیں، جیسے مقتول و مقہور فلسطینیوں کی آوازیں، تاریخی کرداروں کی آوازیں اور سب سے بڑھ کر وہ آوازیں جن کا تعلق حیات بعد الموت سے ہے اور جو اسے اس کے اعمال کا آئینہ دکھاتیں اور اس کی حقیقت پیش کرتی ہیں۔ پورے ناول کی مکالماتی بنت انہی آوازوں کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ یہ آوازیں یک طرفہ نہیں بلکہ دو طرفہ مکالمے کی صورت میں سامنے آتی ہیں۔ ناول کا بیشتر بیانیہ انہی آوازوں اور شیرون کے درمیان مکالمے اور شیرون کی خود کلامی پر مبنی ہے۔ ان آوازوں کو محض ایک وہم یا خیال قرار دینے کے بجائے ناول نگار نے ان کے حقیقی ہونے کا التباس بڑی کامیابی سے قائم کیا ہے۔

ڈاکٹر ریوبین نرس شونا سے: ’اس کا ای ای جی پیٹرن عجیب ہے۔ بے ہوش ہے لیکن لگتا ہے ہم جو بات بھی کرتے ہیں، سُن رہا ہے۔ بلکہ کچھ اور بھی، اپنی اور کسی دوسرے کی۔ کبھی لگتا ہے، کئی آوازیں ایک ساتھ سُن رہا ہے۔‘
ڈاکٹر ڈیلبرٹ مان: ’اور کبھی ان آوازوں سے گفتگو کر رہا ہے۔ This electro encephalogram is a beauty. ہمارا بلڈوزر اپنے خیالات کو بھی سن لیتا ہے۔
ریوبین: ’اچھا مذاق ہے۔ اعضا بیکار ہیں، نہ بولتا ہے، نہ سنتا ہے لیکن مکمل ہشیار ہے اور ہم اس کے دماغ کی موت کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس طرح تو یہ ہم سب کو مار کر مرے گا۔‘
ڈاکٹر جیکب: ’کچھ کہ سکتے ہو، آوازیں کس قسم کی ہیں؟‘
ریوبین: عورتوں کی، مردوں، کی، بچوں کی—سب کی سب عربی میں اور میری عربی اتنی اچھی نہیں ہے۔
۔ ۔ ۔ شونا تمھاری عربی اچھی ہے، دیکھو ای ای جی کی لائنیں کیاکہتی ہیں؟‘
شونا: ’بلڈوزر سوچ رہا ہے: مکان اور بڑی عمارتیں گر رہی ہیں۔ باغ اور کھیت بلڈوزر کے نیچے آ کر — میرا مطلب ہے لوہے کا بلڈوزر، یہ گوشت کا تودہ نہیں— کے نیچے آکر pancake بنتے جا رہے ہیں۔
ٹھہرو، اب بلڈوزر کے خیالات میں ارتباط ہے۔ ‘

اگرچہ ناول کابنیادی موضوع بیسویں صدی میں فلسطین کی سرزمین پر ہزاروں سال سے بسنے والے انسانوں کو اس سرزمین سے بزور بے دخل کرنے اور کھیتوں، کھلیانوں اور گھروں اور سکولوں پر ہی نہیں، اس کے باسیوں کے جیتے جاگتے اجسام پر بھی بل ڈوزر چلا کر اپنے شہر تعمیر کرنے کی ڈھٹائی اور انسانیت کے نام نہاد علم برداروں کی اس معاملے میں اسرائیل کی حوصلہ افزائی اور سرپرستی ہے لیکن در حقیقت یہ تاریخ کے ایک طویل باب کے بازگشت بھی ہے۔ آل فرعون اور آلِ یعقوب کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کس قلب ماہیت سے گزری کہ یہاں تک آتے آتے ظالم و مظلوم کے کردار بدل کر رہ گئے۔ اشکے نازی، یعنی سفید فام یہودیوں کا نسلی تفاخر، غیر یہودیوں ہی کو نہیں، بلکہ اسپین اور پرتگال سے نکل کر افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں جا بسنے والے یہودیوں کو بھی حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور اسرائیل کو محض سفید فام یہودیوں کی وراثت سمجھنے پر مصر ہے۔ تاہم فکری اعتبار سےیہ بات بہت اہم ہےکہ ناول میں کہیں بھی یہودی اور صیہونی بیانیے کو خلط ملط نہیں کیا گیا اور واضح طور پر یہودیوں کو من حیث القوم صیہونی ایجنڈے سے الگ تھلگ اور نفور دکھایا گیا ہے۔ صیہونیت کے عزائم اور پس پردہ استعماری طاقتوں کی طرف اشارے ہی نہیں بلکہ کھل کر ان کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایرئیل شیرون کو، جس نے ہٹلر سے کہیں بڑھ کر مظلوم اور بے یار و مددگار فلسطینی قوم کو اپنے مظالم کا نشانہ بنایا اور حق و ناحق کی تمیز کھو کر گھٹنوں چلتے بچوں تک کو خرگوشوں کی طرح شکار کر کے سب سے بڑا دہشت گرد ہونے کا ثبوت دیا، مغربی دنیا کے جمہوریت اور انسانیت کے نام لیواؤں نے کیسے اپنی سرپرستی اور حمایت سے نواز رکھا تھا؟ یہی نہیں، اقوام متحدہ میں کوئی ملک یہ سوال نہیں اٹھا سکتا کہ آخر دنیا کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ جرمن قوم اچانک یہودیوں کی دشمن کیسے بن گئی اور کیوں چن چن کر یہودیوں کو مارنے لگی؟ صرف جرمنی ہی نہیں، روس، فرانس، اسپین، اٹلی، برطانیہ سب ہی ممالک سے یہودیوں کو کیوں ملک بدر کیا گیا؟جیسے کوئی کوئی یہ سوال اٹھائے گا، امریکہ اسے ویٹو کر دے گا۔ غور کرنے کی بات ہے کہ کیوں مغربی دنیا، جو جانوروں تک کے حقوق کے لیے بے چین ہو جاتی ہے، کئی عشروں سے فلسطینیوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر خاموش ہے۔

مختلف آوازوں کی مدد سے تعمیر ہونے والا یہ بیانیہ تاریخ اور عصری صورت حال کو ساتھ ساتھ لے کر چلتا ہے اور ایسے سوال اٹھاتا ہے جو انسانی ضمیر پر تازیانے کی طرح لگتے ہیں اور جنھیں پوچھنے کی یہ مردہ عالمی ضمیر اجازت تک نہیں دیتا۔ موضوع کے اعتبار سے یہ ناول ایک انتہائی جرأت آمیز آواز کی صورت ابھرتا ہے۔ ایسی آواز جسے سن کر افراد ہی نہیں اقوام بھی کان لپیٹ کر پڑے رہنے میں عافیت سمجھتی ہیں۔ لیکن اس ناول کی اہمیت صرف اس کے موضوع ہی میں نہیں، اس کی تعمیر اور ساخت میں بھی ہے۔ یہ کوئی عام لطف انگیز کتاب نہیں جسے سونے سے پہلےبستر پر لیٹ کر اطمینان سے پڑھا جاسکے اور اس کے موضوع اور فن سے لذت کشید کی جا سکے۔ جیمز جوائس کے یولی سس (Ulysses) کی طرح اس کتاب کو شروع کرکے ختم کرنا آسان کام نہیں۔ تاریخ، تہذیب، فلسفے، سیاست، فلم اور آرٹ کے سیکڑوں حوالے، زمان و مکاں کی تیز آہنگ زقندیں، بیانیے کے اندر محذوف حقائق کی طرف ان گنت اشارے اور احساس کی نازک سطحوں پر ہلکی اور بھاری مسلسل دستکیں کتاب کے رواں دواں مطالعے کو جگہ جگہ روک دیتی ہیں۔ حالانکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ ناول کا تقریباً پورا بیانیہ مکالماتی ہے۔ یہ مکالمہ کئی دنیاؤں اور کئی زمانوں میں بیک وقت ہوتا نظر آتا ہے۔ خارجی دنیا میں بھی اور داخلی دنیا میں بھی۔ وقتِ موجود میں بھی اور رفتہ و آئندہ میں بھی۔ اس مکالمے میں اساطیری حوالے ہیں، کہانیاں اور نظمیں ہیں، لوریاں اور گیت ہیں، نوحے اور کراہیں ہیں۔ ایسے مکالمے میں شامل رہنا اور اسے اپنے حیطۂ ادراک سے باہر نہ نکلنے دینا ایک مسلسل جدوجہد کا متقاضی ہے۔

اس جد و جہد میں اضافہ کرنے والا ایک اور عنصر املا کے معاملے میں کچھ اجتہادی کاوشیں ہیں۔ حسن منظر صاحب املا میں کچھ بنیادی نوعیت کی تبدیلیاں شعوری طور پر رائج کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اردو بولنے والے انگریزی کے ان الفاظ کو درست تلفظ سے ادا کریں جو اردو املا کی وجہ سے عوام میں نادرست طور پر ادا ہوتے ہیں۔ ناول کے آغاز میں وہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اس تحریر میں اردو میں مستعمل انگریزی الفاظ مثل college, doctor, lawn, ball, coffee اور hall کو اس طرح اردو رسم الخط میں لکھا گیا ہے جس طرح چراغ کی لَو، دریا کی مَوج اور عورتوں کی اے نَوج کو لکھا جاتا ہے۔ کون سی کانفرنس کہنے اور لکھنے میں غور کریں تو پتا چلتا ہے ایک ہی آواز کو دو طرح ادا کیا جاتا ہے۔ ہندی میں اس دشواری سے بچنے کے لیے یہ کام الف کی علامت پر ایک ہلال جیسا نشان بنا کر کر لیا جاتاہے تاکہ عام پڑھنے والے معالج کو ڈَوکٹر، تعلیم گاہ کو کَولج اور ایک کھیل کو فٹ بَول پڑھے۔

لیکن ڈَوکٹر، بَول، رَوکٹ، برَوڈ کاسٹنگ جیسے الفاظ کا یہ املا پڑھنے والے کو اجنبی محسوس ہوتا ہے اور جانے پہچانے الفاظ بھی نامانوس معلوم ہونے لگتے ہیں۔ جس طرح ہر لفظ کی ایک آواز ہوتی ہے اسی طرح اس کی ایک صورت بھی ہوتی ہے جو ایک مدت تک زیر استعمال رہنے کے بعد زبان کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس صورت میں اصلاح ِ زبان کے نیک جذبے سے کی جانے والی ترمیم کو بھی عام ہونے میں ایک مدت درکار ہوتی ہے۔ خود میرا خیال یہ ہے کہ چوں کہ اردو میں اعراب کا استعمال رائج نہیں ہے اس لیے واو لین (ایسی واو جس سے پہلے آنے والے حرف پر زبر آئے یعنی ماقبل مفتوح جیسے پَودا، غَور، حَوض) کا تلفظ کم از کم ہم پنجابیوں کے ہاں تو پہلے ہی درست نہیں ہوتا اور ہمارے بچے اکثرواو لین کو واو مجہول (ایسی واو جو صرف اپنے سے پہلے حرف کی آواز کو آگے بڑھائے جیسے روٹی، شور، روزہ، سوچ)کے طور پر بولتے ہیں۔ جیسے کَون، قَوم، اَور، فَوج کے بجائے کون، قوم، اور، فوج بروزنِ بول۔ خدشہ ہے کہ اب اگر انگریزی الفاظ کے درست تلفظ کی ادائی کے لیے املا تبدیل کیا جائے تو ڈَوکٹر بگڑ کر ڈوکٹر (بر وزنِ تول کر) نہ ہو جائے۔ یعنی تلفظ تو ایک اور طریقے سے سہی، مگر غلط ہی رہے، ساتھ ساتھ املا بھی ہاتھ سے جائے۔

اس جملۂ معترضہ سے قطع نظر، اس ناول میں بہت اثر انگیز اور توجہ گیر نثر ملتی ہے۔ بعض جملے تو ایسے ہیں جو اپنے مفہوم کی وسعت اور طرز ادا کی طرفگی کے باعث ضرب المثل کی طرح یاد رہ جانے والے ہیں۔ مثال کے طور پر:

دنیا کےہر آباد علاقے کی زمین کا اوپری حصہ اس کے بسنے والوں اور اسے بسانے والوں کے جسم کی مٹی کا ہوتا ہے۔

مجموعی طور پر ناول کی پوری فضا ایک ایسے حزن و ملال اور رنج و الم کی زائیدہ ہے جس میں زخم ہی زخم ہیں مگرعجیب بات یہ ہے کہ آخری رنگ شکست اور پسپائی کا نہیں، حوصلہ مندی اور جدوجہد کے جاری رہنے کا استعارہ ہے۔ روشنی کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو، اندھیروں پر بھاری پڑتی ہے۔ ظلم، ناانصافی، تعصب، خود پرستی اور خود غرضی کے اندھیرے کے خلاف بولا گیا ایک لفظ بھی روشنی پیدا کرتا ہے۔ ’’حبس‘‘ ایسی ہی روشنی کی علامت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ترجمہ داری خراب کاری ------- عزیز ابن الحسن
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply