لڑکیاں کہانیاں —– محمد حمید شاہد

0

مجھے اپنی بات ایک عشق کے قصے سے شروع کرنی ہے۔ عشق کایہ قصہ قدرے زیادہ پراناہے، جی جہانگیرکی بادشاہی کا زمانہ تھا۔ اور اس قصے میں جس عاشق کا نام آتا ہے، اس کانام افضل پانی پتی تھا۔ اچھا بھلا زاہد متقی اور معلم پیشہ، مگر ہوا یوں کہ ایک ہندو حسینہ کو دیکھا اور اس پرمر مٹا۔ اسے ایسی لگی کہ دل کے ہاتھوں حالت جنوں میں پہنچ گیا۔ کہتے ہیں اس نے گھر بار چھوڑا اور دیوانوں کی طرح اپنی معشوق کے گلی کے پھیرے لینے لگا۔ لڑکی کے گھر والوں کو افضل کو اس حرکت پر بہت طیش آیا، اسے روکا، کہ ادھر کا رُخ نہ کرے مگر وہ کہاں رکنے والا تھا۔ بدنامی ہو رہی تھی، مزید بدنامی سے بچنے کے لیے انہوں نے لڑکی کو ہی متھرا بھیج دیا۔ افضل پانی پتی کو خبر ہوئی تو وہ بھی متھرا پہنچ گیا۔ کبھی اس گلی کبھی اس گلی دھونڈتے پھرا۔ آخر ایک روز سامنا ہو گیا لپک کر راہ روک کھڑا ہوگیا، داڑھی بڑھی ہوئی بالوں میں سفیدی اتر آئی تھی۔ لڑکی نے طیش میں آکر کہا ’’تمہاری داڑھی سفید ہو گئی مگر شرم نہیں آتی تجھے‘‘۔ عاشق نے ادبداکر راہ چھوڑی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔ وہ واپس ہوا اور آتے ہی داڑھی منڈوائی، اپنامذہب ترک کیا گوپال نام اختیار کیا اور ایک مندر میں پچاری ہو کر بیٹھ رہا۔ سارے براہمنی علوم سیکھے اور جس گرو سے سیکھے تھے اس کے مرنے کے بعد گوپال اس کی جگہ پر گرو ہو گیا۔ یہیں سے عشق کی اس کہانی میں ایک موڑ آتا ہے۔ اس مندر میں سال میں ایک مرتبہ عورتیں پوجا کو آتی تھیں، اسی موقع پرعاشق کی نظر اپنی معشوق پر پڑی۔ وہ گرو کی قدم بوسی کے لیے جھکی ہوئی تھی جب کہ گرو کوئی اور نہیں اس کا اپنا عاشق تھا۔ عاشق کا دل سینے سے اچھلا اور حلقوم میں آرہا۔ محبوبہ کا ہاتھ تھام لیا۔ محبوبہ کے لیے اب انکار کے سارے راستے بند تھے۔

یہ سچا عاشق وہی افضل پانی پتی ہے جس نے بارہ ماسے کی روایت میں’’بکٹ کہانی‘‘ لکھی تھی۔ ساری بکٹ کہانی ایک عورت کی زبان سے ہے۔ عورت جو افضل کی اپنی محبوبہ تھی۔
گئی برسات رُت، نکھرا فلک سب
نمی دانم کہ ساجن گھر پھریں کب
۔ ۔
لکھو تعویذ پی آوے ہمارا
وگرنہ جائے ہے جیوڑا ہمارا

اس قصے کی زبان ایسی ہے کہ اس سے اردو کے ابتدائی زمانے کے نقوش بنتے نظر آتے ہیں۔ تاہم اس عشق کے قصے سے جو بات میں نے اخذ کی وہ یہ ہے کہ ایسے زمانے میں کہ جب عورت خود قصہ نہ لکھ رہی تھی وہ اپنے مرد کو اپنا درد لکھ لینے کا قرینہ سکھا رہی تھی۔ یا پھر ایسا ہے کہ کہ عورت کے من میں یہ بات بٹھا دی گئی تھی کہ وہ اپنے بارے میں سچ لکھ نہیں سکتی، یہ کام مر د کا ہے، سو وہی لکھے گا اور مرد ہی عورت کی ہڈ بیتی لکھتا رہا۔

مرد نے عورت کو یا تو عاشق ہو کر لکھا یا پہیلی سمجھ کر یا پھر اسے ناداں سمجھ کر اس کے لیے اصلاحی تحریروں کے ڈھیر لگادیے۔ ’’ مراۃ العروس‘‘، ’’ توبتہ النصوح‘‘، ’’ رویائے صادقہ‘‘، ’’ فسانہ مبتلا ‘‘ غرض جو بھی لکھا جارہا تھا عورت کو راہ راست پرلانے کے لیے لکھا جارہا تھا۔ پھر یوں ہوا کہ عباسی بیگم اور نذر سجاد جیسی لکھنے والیاں اپنے اپنے حصے کا سچ لکھنے کے لیے خود افسانے کی دنیا کی طرف نکل آئیں۔ رشید جہاں تک آتے آتے نقشہ بالکل نہ سہی بڑی حد تک بدل گیا کہ اب اس کا احساس ہونے لگا تھا کہ عورت ہی اپنے آپ کو بہتر طور پر بیان کر سکتی تھی۔ جی میں نے بڑی حد تک کے الفاظ یوں لکھے ہیں کہ مظلوم عورت کے ساتھ کھڑے ہو جانے والے ادیبوں میں سے کئی اب بھی سمجھتے تھے کہ عورت اپنے حوالے سے بڑا سچ نہیں لکھ سکتی، عورت کااپنے بارے میں بڑا سچ نہ لکھ سکنے کی بات منٹو نے کہی تھی۔ مگر عین منٹو ہی کے زمانے میں عظیم بیگ چغتائی کے رشتے کی بہن عصمت چغتائی سامنے آتی ہیں اور منٹو کے کہے کو غلط ثابت کرتی ہیں۔ عصمت چغتائی کا پہلا اَفسانہ ’’کافر‘‘ 1938ء کے ’’ساقی‘‘ میں شائع ہوا تھا۔ اُس کے اَفسانوں میں جنس نگاری کے ذریعے نہ صرف معاشرتی اقدار کو کچوکے لگائے گئے، فرد کو معاشرتی جکڑ بندیوں کے خلاف بغاوت پر بھی اُکسایا گیا۔ وہ شروع ہی سے عورت کی نفسیات کو بنیاد بنا کر لکھنے کی طرف مائل تھیں۔ ان کے افسانوں ’’چوتھی کا جوڑا‘‘، ’’ننھی کی نانی‘‘، ’’’لحاف‘‘اور’’جڑیں‘‘ کو کسی طور بھلایا نہیں جا سکے گا۔

اردو دنیا میں ممتاز شیریں ایک ہی ہیں۔ فکشن کی تنقید کابڑا نام۔ واقعہ یہ ہے کہ اُنہوں نے لائقِ اِعتنا اَفسانے بھی لکھے۔ ممتاز شیریں کا پہلا اَفسانہ ’’انگڑائی‘‘ تھا جو ’’ساقی‘‘ میں 1944ء میں چھپا تھا۔ حیاتِ انسانی کے بارے میں اُن کا اپنا ایک وژن تھا اور یہ اُن کے ہاں اَفسانہ لکھتے ہوئے حاوی رہتا تھا۔

’’اور دونوں ننھوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا جیسے کڑی نظروں سے کہہ رہا ہو تمہیں کیا حق تھا اپنا الگ وجود بنانے کا‘ مجھی میں رہتے‘اتنے سے تو ہو۔ اور چھوٹے کی نظروں نے گویا جواب دیا تھا‘ کیا پڑی تھی کہ میں بالکل الگ ہو کر بھی تم میں رہوں‘ اپنی آزادی کھو دوں‘ ہم الگ الگ اور آزاد ہیں۔‘‘  (بھارتیہ ناٹیہ/ممتاز شیریں)

قرۃُ العین حیدر کا ذِکر تو اَب اُردو ناول کے باب کا روشن حِصّہ ہوگیا ہے تاہم اُردو اَفسانے میں بھی ان کے کام کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اُن کا بنیادی مسئلہ اِظہار ذَات اور آتشِ رفتہ کا سُراغ رہا۔ خیال کا تہذیبی تاریخ میں دور تک آزاد نہ بہاؤ‘ اور مسلسل اِضطراب اُن کے ہاں اَفسانے کی تعمیر کے لوازم بن گئے تھے۔ محمود ہاشمی نے تو قرۃُ العین حیدر کے اَفسانوں کے پہلے مجموعے ’’ستاروں سے آگے‘‘ کو جدید اَفسانے کا نقطہ آغاز کہہ رکھا ہے اور اِس کاغالباً سبب یہ ہے کہ ان کے ہاں اِس کتاب میں کردار کہانی کی لگی بندھی ڈگر توڑنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اَب زِندگی تاریک سرنگ میں، اور ایک ہی سیدھ میں چلتے رہنے کا نام نہ تھی۔ باطنی اِحساس اور لاشعور سے شعور تک کو اَپنے ہالے میں لے لینے والا اُجالا راستے روشن کرتا زندگی کا قرینہ تھا۔ قرۃُ العین حیدرتقسیم سے پہلے ہی اَفسانہ نگاری کی طرف راغب ہو چکی تھی۔ انہوں نے’’ستاروں سے آگے‘‘ کے علاوہ ’’شیشے کے گھر‘‘، ’’پت جھڑ کی آواز‘‘، ’’روشنی کی رفتار‘‘اور’’جگنوئوں کی دنیا ‘‘ جیسے اَفسانوں کے کئی مجموعے دِیے ہیں۔ اُن کے ہاں کہانی کاپلاٹ بہت زِیادہ نظر اَنداز نہیں ہوتا تاہم مواد بہت اَہم ہوجاتا ہے۔ ’’پت جھڑ کی آواز‘‘، ’’ہاؤسنگ سوسائٹی اور ’’کارسن‘‘میں قرۃُ العین حیدر کے تخلیقی عمل کی بنیادوں اور طریقہ کار کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔

جیلانی بانو جب اِدھر اِسلام آباد آئی تھیں تو ایک گفتگو کے دوران اِس بات پر بہت برہم تھیں کہ بات اُردواَفسانے کی ہورہی ہو تو دَرمیان میں مختلف دہائیاں اور تحریکیں آجاتی ہیں اچھا اَفسانہ لکھنے والے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ جیلانی بانو نے زندگی کو جس طرح دیکھا، اَپنے اَفسانوں میں اسی طرح پیش کرنے کی کوشش کی اور انہوں نے شہرت کے حصول کے لیے ’’سیلی ہوئی آتش بازی‘‘ نہیں چلائی تاہم ان کی نثر کو محض سادہ بیانی تک محدود نہیں سمجھنا چاہیئے۔ بلاشبہ کہانی کا دَامن وہ مضبوطی سے گرفت میں رکھتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ کہانی کے بیانیے اور ڈھنگ میں حسبِ ضرورت تبدیلیاں بھی کرتی جاتی ہیں۔ موضوعات کے تنوع کے ساتھ یہ تبدیلیاں اُن کی کہانیوں کی تاثیر اکثر اوقات بڑھاتی رہی ہیں۔

بانو قدسیہ اَفسانہ لکھتے ہوئے اپنے شوہر اشفاق احمد سے بالکل مختلف ہوتی رہی ہیں اور اِس کی عمدہ مثال، کلو‘‘ اور ’’انتر ہوت اُداسی‘‘ جیسے باکمال اَفسانے ہیں۔ ہمارے ہاں کی مغرب روایات کی دلدادہ عورتوں کی طرح بے جڑ آزادی ان کا مسئلہ نہیں ہے۔ زمین اور روایت کی خوشبو اُن کے لفظ لفظ میں گندھی ہوئی ہے مگر یوں کہ اس میں سے تازگی کی مہک بھی لطف دے جاتی ہے۔

’’جس وقت میرا دائیاں پیر سیڑھی کی آخری ٹیک پر تھا اور میرا بایاں پاؤں زمین سے سوا چھ انچ اونچا تھا‘ کسی نے پیچھے سے میرا چونڈا پکڑ لیا۔ میرا جسم تو پہلے ہی زینہ اترنے سے ہانپ رہا تھا‘ اسے زمین پر گرتے دیر نہ لگی مجھے یوں لگا جیسے گرتے ہی میری کنپٹی سے ہلکی سی خون کی دھار نکلنے لگی ہے۔

’’اس وقت آدھی رات کو تو کہاں سے آرہی ہے ما ں؟۔ ۔ ۔ بول‘ بتا۔ ۔ ۔ اور دوسری منزل میں تیرا کیا کام تھا اس وقت؟‘‘

میں چپ رہی۔ جوان بیٹے کو میں کیا بتاتی کہ بیٹوں کو پالنے میں ماؤں کو کیا کچھ کر گزرنا پڑتا ہے۔‘‘ (انتر ہوت اداسی/بانو قدسیہ)

اَفسانہ نگار خدیجہ مستور نے رومانی حسیت کے اَفسانے لکھے اور ترقی پسندوں کا اِتباع بھی کیا۔ سیاسی چالبازیوں سے نفرت‘ جنسی گھٹن اور طبقاتی تقسیم بھی اُن کے اَفسانوں کے موضوعات رَہے ہیں۔ تقسیم کے بعد شائع ہونے والے ہاجرہ مسرور کے اَفسانوں کے مجموعے ’’چند روز اور‘‘ میں اُن کے موضوعات وسیع ہو جاتے ہیں۔ اگلے مجموعے’’تھکے ہارے‘‘ میں کشادگی کا اِحساس اور بڑھ جاتا ہے۔ ’’ہینڈ پمپ‘‘، ’’دَس نمبری‘‘، ’’تلاش گمشدہ‘‘وغیرہ جیسے اَفسانے اُس کی قابلِ قدر تخلیقات میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ ان ہی کی بہن ہاجرہ مسرورکے اَفسانے ’’تیسری منزل‘‘ کو ممتاز شیریں نے’’Breakfast at Tiffinis‘‘ قرار دیا تھا۔ ممتاز شیریں کا یہاں موازنہ دِلچسپ یوں لگا کہ ’’Breakfast at Tiffinis‘‘ پڑھ کر ممتاز شیریں کی پسلی پھڑک اُٹھی تھی اور لگ بھگ ایسی ہی کیفیت سے وہ ’’تیسری منزل‘‘ پڑھنے پرگزری تھیں۔ ہاجرہ مسرور1944ء تک اَدبی حلقوں میں معروف ہو چکی تھیں۔ اُن کے اَفسانوں کا پہلامجموعہ ’’چرکے‘‘ کے عنوان سے 1944ء میں چھپا تھا۔ اُنہوں نے ہمارے خاندانی نظام‘ عورت مرد کے تعلق، باہمی رشتوں اور سماجی ماحول کے کمزور گوشوں پر بڑی مؤثر گرفت کی ہے۔ کرداروں کی تعمیر میں نفسیاتی حوالوں کو مدنظر رکھااور اپنے افسانوں کے ذریعے بہت سی باتیں کہنا چاہی ہیں اور لطف یہ کہ اَپنی فنی گرفت کوبھی ڈھیلا نہیں پڑنے دیا۔

اختر جمال نے پہلا اَفسانہ ’’پیاسی دھرتی‘‘ کے نام سے لکھااُس وقت اُن کی عمر محض تیرہ برس تھی تاہم ان کے اَفسانوں کا پہلا مجموعہ ’’اُنگلیاں فگار اَپنی‘‘1971ء میں ان کے اکلوتے ناول ’’پھول اور بارود‘‘(مطبوعہ 1967ء) کے بعد منظر عام پر آسکا تھا۔ اُن کے اَفسانوں کے دو اور مجموعے ’’زرد پتوں کابَن‘‘ اور’’سمجھوتہ ایکسپریس‘‘ بالترتیب 1981ء اور1990ء میں آئے۔ اختر جمال کے سامنے ایک تو وُہ اِنسان ہے جو ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے اور دوسری طرف وہ اِنسان جو سسک سسک کر زندگی گزار رہا ہے۔ اُنہیں اِس بات پر تعجب ہوتا ہے کہ اِنسان مہذب ہوکر بھی اَپنی نفرت کے شعلوں کو بجھا نہیں سکا ہے۔ ’’پسِ دِیوارِ زِنداں‘‘، ’’تحفہ‘‘، ’’کرزَن ہال‘‘ اور وراثت‘‘ جیسے اَفسانے ان کی سادہ بیانی اور کھرے جذبوں کے اِظہار کے عمدہ نمونے ہیں۔

خالدہ حسین کا شمار اُن اَفسانہ نگاروں میں کیا ہی نہیں جاسکتا جو اَپنے اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے مظاہر زندگی کے ملائم اور چکنے حصوں پر پھسلتے اور پھیلتے رہتے ہیں اور نہ ہی یہ اُن لوگوں میں سے ہیں جو تلخ زندگی کے خارجی نوکیلے اور کھردرے حصوں پر ہی سر کو پھوڑلینے کو تخلیقت گردانتے ہیں۔ خالدہ حسین کا مُعامِلہ یہ رہا کہ وہ مادی تفہیم سے آگے نکل جاتیں اور زِندگی کے ہر مظہر کے باطن اور خارج میں جاری واقعے کی ہر لہر کی روح پر دستک دے آتیں۔ وہ مسلسل اِس کوشش میں رہتیں کہ تہہ میں اُتریں اور نظر آنے یا محسوس ہونے والے کی ماہیت اور اَصل کو پالیں۔ خالدہ حسین کے اَفسانوں کا پہلا مجموعہ ’’پہچان‘‘ 1981ء میں شائع ہوا تھا۔ ’’دروازہ‘‘ کی اِشاعت کے بعد اُن کے اَفسانے پر قبولیت اور پہچان کا دروازہ کھل چکا تھا۔ انہوں نے اپنی موت سے کچھ دن پہلے مجھے کہا تھا کہ ان کے نئے افسانوں کا مجموعہ مرتب کرکے اس کا دیباچہ لکھ دوں۔ یہ میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔ ان کا یہ آخری مجموعہ ‘‘جینے کی پابندی‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ ان کے ہاں دید اور نادید کا معاملہ زندگی کے بھید کیسے کھولتا ہے، اسے ان کے افسانے ’’سلسلہ‘‘ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

’’ہاں سب کچھ پنکی کے لیے گردش میں تھا۔ مگرخود اس کے لیے ہر شے جامد اور بے جان تھی۔ کوئی کسی کی دید میں شامل نہیں ہو سکتا۔ کوئی کسی کے حال کا ساجھی نہیں ہو سکتا۔ سب اپنے اپنے دائرے میں تیرتے ہیں۔ تو پھر ہر ایک کی حقیقت الگ ہے۔ اس وقت بھی اس نے سپاٹ بے داغ چھت کو نگاہوں سے چاروں کھونٹ کھنگال ڈالا۔ اَب وہاں پر کچھ بھی نہ تھا۔ ہوتا بھی تو وہ صرف اس کے لیے تھا۔ وحید کے لیے‘ کسی کے لیے بھی نہ تھا۔ چنانچہ وہ کھیلتے چھپتے حروف‘ وہ ابجد صرف اس کی دید تھے۔

اس نے فیصلہ کیا کہ اب وہ کسی سے بات نہ کرے گی۔ اور وُہ اِسی طرح دَبے پاؤں‘وقت بے وقت چلے آتے۔ خالی شفاف پس منظر میں۔ جُوں جُوں وہ اَپنی نگاہ فاصلے پر مَرکُوز کرتی چلی جاتی‘ان کا حجم بڑھتا چلا جاتا۔ ان کی گولائیاں اور مخروطی لکیریں کسی پختہ ہاتھ کی کاریگری تھی۔ وہ کیا کہتے تھے۔ ایک لرزش سر سے ہوتی پاؤں کے انگوٹھے تک پھیل جاتی۔ صرف میں۔ میں ہی کیوں۔ اور پھر یہ بھی تو نہیں کہ اصل میں شے کیا ہوتی ہے اور ہمیں کیا نظر آتی ہے۔‘‘ (سلسلہ/خالدہ حسین)

عذرا اَصغر نے پہلا اَفسانہ 1962ء میں لکھا تھا۔ اُن کاناول ’’دِل کے رِشتے‘‘1970ء میں چھپا جب کہ اُن کے اَفسانوں کا پہلا مجموعہ ’’پَت جھڑ کا آخری پتہ‘‘ 1980ء میں منظر عام پر آیا۔ ’’بیسویں صدی کی لڑکی‘‘ اور ’’تنہا بر گد کا درخت‘‘ اُن کے دُوسرے قابل توجہ افسانوں کے مجموعے ہیں۔ محبت اور اُس کے دَھنک جتنے رَنگ عذرا کی کہانیوں کی بنیاد کہے جاسکتے ہیں۔ رشتے اور تعلق کا ایک گہرا تہذیبی حوالہ اُن کی نثر میں بھی ایک اِضافی لطف کا سامان بہم کرتا ہے۔ ’’کرچیاں‘‘، ’’اوڑھنی میں جگنو‘‘، ’’سہارا‘‘، ’’بے کفن‘‘، ’’اِشارہ اور نفسیات‘‘اور ’’پہلا پتھر‘‘ جیسے اَفسانوں میں عذرا اِنسانی رِشتوں اور تعلق کی پیچیدگیوں میں گُم ہوتی ہوئی اعلیٰ اِنسانی اقدار کو تلاش کرتی نظر آتی ہے۔

اب آئیںزاہدہ حنا کی طرف جو لکھتے ہوئے اپنے عصر کو منہا نہیں کرتیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک سچے فن کار کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ عصری آشوب کو اپنے وجود کا حصہ بنالیا کرتا ہے۔ کم ہمت فن کار اپنے اندر اتنی قوت نہیں رکھتے کہ اس آشوب کو تخلیقی جوہر میں بدل جانے دیں لہٰذا وہ حال سے بدک کر ہمیشہ ماضی کے دھندلکوں ہی میں گم رہتے ہیں۔ زاہدہ حنا کے نزدیک محض ماضی کو لکھ دینا ہی فکشن نہیں ہے وہ اسے رواں عصر کے ساتھ جوڑ دیتی ہیں اور حال کا حصہ بنا کر مستقبل میں سوالات اور امکانات کی صورت اچھال دیتی ہیں۔ اپنی جڑوں سے جڑت اور اپنے عصر سے آگہی نے ان کی نثر کو بھی پُر از معنی بنادیا ہے۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’قیدی سانس لیتا ہے‘‘ 1983ء میں شائع ہوا تھا تاہم جب ان کا دوسرا معروف مجموعہ ’’راہ میں اجل ہے‘‘1993 میں آیاتو فکشن کا سنجیدہ قاری پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔

’’امریکی بمباری کے خلاف کول کٹا‘ شما کیجئے گا‘ مجھے یاد نہیں رہا کہ کلکتہ‘بمبئی اور مدراس کے نام سن کا غصہ آجاتا ہے۔ ہاں تو جب کلکتہ کی سڑکوں پر لاکھ لوگوں کا جلوس نکلا تو میں بھی اس میں گئی تھی‘ ٹیلی وژن پر میری جھلک دیکھ کر آپ بہت خوش ہوئی تھیں اور جلوس میں نہ جانے پر آپ نے بھیا اور ششمتا کو طعنے دیئے تھے۔ پھر جب ریلیف روک کے لیے کابل کے اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی طرف سے ڈاکٹروں کی مانگ آئی اور میں نے والینٹئر کیا تو یہ صرف آپ تھیں جنہوں نے آشیرواد دی تھی‘ورنہ گھر میں تو سب ناراض تھے۔ ماتا کا غصے سے برا حال تھا۔‘‘ (کُم کُم بہت آرام سے ہے/زاہدہ حنا)

سیدہ حنا کو کہانی کے ٹھوس پن سے وفا داری نبھانا اچھا لگتا ہے۔ واقعے کے ساتھ ساتھ چلنا اور اسے یوں لکھنا کہ اس میں کوئی الجھن نہ آئے۔ زندگی جیسی ہے‘ اُسے ویسا ہی لکھ دینا‘ سادگی اور سہولت کے ساتھ بہت مشکل ہو جاتا ہے اور پھر اس کا اہتمام بھی کہ کہیں ترسیل کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ تو یوں ہے کہ ایسے میں فکشن بنے نہ بنے کہانی بن جاتی ہے۔ سیدہ حنا جیسی لکھنے والیاں کبھی جُھوٹ لکھ ہی نہیں سکتیں اور میں یہ اِس کے باوصف کہہ رہا ہوں کہُ اس کی کہانیوں کے مجموعے کا نام تھا ’’جُھوٹی کہانیاں‘‘۔ ’’پتھر کی نسل‘‘ سیدہ حنا کے ایک اور مجموعے کا نام ہے۔ ’’تھپڑ‘‘، ’’انہونی‘‘، ’’رقصِ شرر اور ’’ہزار پایہ‘‘ جیسے افسانوں کو پڑھ کر اَندازہ ہوتا ہے کہ اُن کا قلم حقیقت کے مقابل ہوتے ہوئے کتنا سفاک ہو جاتا ہے۔

نیلو فر اقبال کے اَفسانوں کا مجموعہ ’’گھنٹی‘‘ 1996ء میں منظر عام پر آیا۔ انہوں نے پہلا اَفسانہ ’’بگلا‘‘ لکھا اور کرنل محمد خان کے توسط سے ’’نیرنگ خیال‘‘ میں چھپوایا تھا لیکن کتاب مرتب کرتے ہوئے ’’بگلا‘‘ سمیت 1979ء سے 1981ء کے دوران چھپنے والے سارے افسانوں میں سے صرف ایک کا انتخاب کیا‘ اور وہ ہے ’’گھوڑا گاڑی‘‘۔ نیلوفر کی اَفسانہ نگار کی حیثیت سے شناخت اس کے معروف افسانوں’’گھنٹی‘‘، ’’آنٹی‘‘ اور برف‘‘ کے بعد ہوئی۔ یہ وہ اَفسانے ہیں جو ٹھوس حقیقت نگاری اور سادہ بیانیے کے باوصف نہ صرف لائق توجہ ہوگئے ہیں بلکہ نئے انسان کی حسیات سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ سادہ کاری کا سلیقہ ان کے پاس ہے۔ کہیں کہیں وہ لطیف طنز کا استعمال اس خوبی سے کرتی ہے کہ مَتن جاگ اٹھتا ہے۔ نئی زندگی قابل قدرتہذیبی اور خاندانی روایات کو کس طرح نابود کر رہی ہے۔ ‘‘ سرخ دھبے‘‘ تک آتے آتے وہ عالمی سیاسی صورت حال کو بھی موضوع بنا لیتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ سامراج چاہے اندورنی ہو یا عالمی کیسے انسان ہی کو مرنے مارنے پر تیار ہوجاتا ہے۔ ’’کھوٹا سکہ‘‘ کا بگا جنگ میں مارا گیا ہے‘مگر شہید نہیں ہے‘ کیوں؟‘ کتوں کااِ نچارج یعنی’’برف‘‘ کا شیر علی کتوں سے کم تر ہوگیاہے‘کیسے؟ ’’گھنٹی‘‘ کے رشید کا باپ اوپر والی منزل پر گھنٹی بجا کر بلائے بغیر مر گیا تھا‘ کیوں؟ ’’حساب‘‘ کی اولاد اپنی بوڑھی ماں کو حساب دینے پر مجبور کر دیتی ہے‘کس لیے؟‘ نیلوفر کے افسانوں میں ان سوالوں کا جواب تلاشتے تلاشتے‘ دُکھ کی ایسی فصل کاشت کر دی گئی ہے جسے بہ ہر طور ہر پڑھنے والے کو کاٹناہے۔

نیلم احمد بشر نے اپنے سیدھے مگر کھرے بیانیے کے وسیلے سے قاری کو متوجہ کیا۔ حوازادی کو وہ مختلف سماجی اور معاشی صورت احوال میں رکھ کر دیکھتی اور پرکھتی ہیں۔ نئے عہد کی نئی عورت کے مسائل ان کا بنیادی مسئلہ بنتے ہیں تاہم اِن مسائل کا اُن کے ہاں براہ راست بیان نہیں ہوتا بلکہ نسائی نفسیات اور جذبوں کواُچھال اُچھال کر چلنے والے بیانیے کے وسیلے سے وہ اسے کہانی کے اندر سمولیتی ہیں۔ عورت جس کی عمر ڈَھل رہی ہے۔ عورت جو نظر انداز ہو رہی ہے اور عورت جو تقسیم ہو کر رہ گئی ہے‘ ان کی کتاب ’’گلابوں والی گلی‘‘ اور دوسرے افسانوں میں ایک سلیقے سے آگئی ہے۔ یہ بھی واقعہ ہے کہ اُنہوں نے محض عورت کے مسائل اور نسائی جذبوں سے وابستہ موضوعات تک خود کومحدود نہیں رکھا اور اس کاا ندازہ ’’خوب صورت شہر کارہنے والا‘‘ کے اِس اِقتباس سے لگایا جاسکتا ہے۔

’’ایک آوارہ کتا اس کے بالکل قریب آکر چاؤں چاؤں کرنے لگا۔ کمبخت کی شکل و صورت پر ہی پھٹکار برس رہی تھی۔ عبدالشکور نے اسے ایک ڈھیلا کھینچ مارا اور دُم دبا کر بھاگ گیا۔

’’سالا کتا‘‘ وہ بڑبڑایا اور چین چڑھا کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ رَنگ برنگے متعفن کوڑے پر نظر نہ ڈالنے کی بھر پور کوشش کے باوجود اس کی نظر نہ جانے کس طرح اُس پھولی ہوئی کُتّے کی لاش پر جا ٹکی‘جس پر لاتعداد مکھّیاں بھنبھنا رہی تھیں۔

’’سالا کتا‘‘ اُس کے الفاظ نے اُس کے لبوں پر ہی دم توڑ دیا اور وہ خاموش ہوگیا۔ پھر نہ جانے اُس کے دِل میں کیا آئی۔ اَپنی جیب سے تروتازہ‘ مہکتا خوب صورت لہورنگ گلاب کا پھول نکالا‘مردے کی لاش پر احترام سے رکھااور تیز تیز پیڈل مارتا اپنی ڈیوٹی پر چل دیا۔‘‘ (خُوب صُورَت شہر کارہنے والا/نیلم احمد بشیر)

فرحت پروین کا کہنا ہے کہ انہوں نے پہلی کہانی ’’سکنک‘‘ لکھی اور احمد ندیم قاسمی کو بھیج دی‘جو فنون میں چھپ گئی۔ احمد ندیم قاسمی کا کہنا ہے کہ شدید حسیت‘ گہری انسانی ہمدردی‘ ہمہ گیر قوت مُشاہدہ فرحت پروین کے افسانوں میں مجسم ہوگئے ہیں۔ قاسمی صاحب نے فرحت پروین کو اَفسانے کی بیانیہ روایت سے جوڑا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ ’’سکنک‘‘ علامت بن گئی ہے‘ جو بتاتی ہے کہ ’’خوشبودار‘‘ لوگ معاشرے میں اپنے اندر کے ’سکنک‘سے کتنا تعفن پھیلا رہے ہیں۔ فرحت پروین کے افسانوں کاپہلا مجموعہ ’’منجمد‘‘جون 1997ء میں شائع ہوا تھا اور اسی نام کے اَفسانے نے کتاب چھپنے سے پہلے ہی سب کو اس کی جانب متوجہ کر دیا تھا۔ مجھے تو اس اَفسانے کی ماں اور بیٹی‘جو چودہ چودہ سال کی عمر میں مائیں بن گئی تھیں‘ اس مغربی ثقافت کی علامت لگی ہیں جس کی چوندھ میں مشرقی معاشرہ اپنی تہذیبی اقدار کو لائق اعتنا نہ جان کر خاندانی نظام کو مختصر کرتا چلا جارہا ہے۔ کہانی لکھتے ہوئے وہ جس طرح جملہ جملہ آگے بڑھتی ہیں‘ اورواقعہ آہستہ آہستہ کہانی میں کھولتی ہیں‘ وہ کہانی میں تجسس کا عنصر بڑھاتا ہے۔

طاہرہ اقبال نے اپنے فکشن میں دیہات نگاری کی روایت میں ایک نیا ذائقہ دیا ہے۔ ’’ریخت‘‘، ’’تپسیا‘‘ اور ’’دیسوں میں‘‘ میں جیسے اَفسانے قاری کو اپنی گرفت سے نکلنے نہیں دیتے۔ بہت سے اَفسانہ نگاروں نے دیہات کو یوں لکھا ہے کہ اس میں ایک بھید سا بھر گیا ہے۔ کچھ نے اس کے کھردرے پن کو نمایاں کیا۔ اور کچھ کے ہاں یہی دیہات کھرے پن اور سچائی کی علامت ہو گیا ہے۔ طاہر ہ کا دیہی ماحول‘ کہنہ روایات‘طبقاتی جبر اور مفادات کی کش مکش کی روداد پڑھنے والااس صورت حال سے بوکھلاتا ضرور ہے مگر ساتھ ہی ساتھ بغاوت کو تیار بھی ہو جاتا ہے۔ طاہرہ کے ہاں دیہی ماحول وہاں کی لفظیات سے بنتا ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں معنی کے مربوط بہاؤ کے ساتھ ساتھ مقامی لفظوں کے نامانوس صوتی آہنگ سے ایک نیا ذائقہ بناتی ہیں۔

’’سڑک کے بیچوں بیچ تھرکتی پھڑکتی گلزاری وچولن کے لال پراندے کے سنہرے پھندے کالی شلوار کے تیرے پر جھومر ڈالتے تھے اور چست لباس میں گھٹی ہر ہر نس لمبے لمبے سانس چھوڑتی تھی۔

’’استانی سمجھئے جی استانی نئے نئے جوان ہوتے چھوکروں کی پہلی استانی‘‘

آدو نے منھ کھول کھول کر متعدد قہقہے اندر ہی اندر بہائے جیسے ہر مٹک پٹک میں وہ نئی نئی جگتیں طراز کرتی چلی جارہی ہو۔‘‘ (وچولن/طاہرہ اقبال)

شہناز شورو کی کہانیوں کا محور انہدام کی طرف مائل سماجی اقدار ہیں۔ ’’لوگ‘ لفظ اور انا‘‘ اور’’زوال دُکھ‘‘ جیسے اہم مجموعوں کی اشاعت کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے قاری کو متوجہ کر لیا تھا۔ وہ روایات‘ جو معاشرے میں کسی سبب ایمان کا سا درجہ پالیتی ہیں وہ شہناز شورو کے قلم کی زد پررہتی ہیں۔ یہ وہ روایات ہیں جو عورت کو کم تر بنا کر اس کی شخصی آزادی پر قدغن لگاتی ہیں۔ وہ کہانی لکھتے ہوئے اس کے معنی کے بہاؤ میں تندی لانے کا ہنر بھی جانتی ہے اس کے لیے وہ جملوں کی ساخت کو روایتی نہیں رہنے دیتی۔

’’کچھ دور ہی زیر تعمیر عمارت تھی جو‘ اب بالکل خالی تھی۔ مزدور سرشام ہی جا چکے تھے۔ کمل حیرانی سے اس جگہ کو دیکھ رہا تھا۔
’’یہ کون سا گھر ہے؟‘‘ کمل نے اس سے پوچھا۔
دین محمد کچھ نہ بولا۔ چوکنا ہوکر نیفے سے چھرا نکالا۔
’’دکھاؤ دکھاؤ‘‘ کمل کی آنکھوں میں نرالی چمک پیدا ہو گئی۔
’’دکھاؤ مجھے بابا۔ ۔ ۔ دکھاؤ بابامجھے۔ ‘‘۔ ۔ ۔ وہ ایک دم ہٹیلا بن گیا۔ دین محمد نے چھرے والا ہاتھ پیچھے کیا۔ ضد میں آکر زور سے کمل نے چھرے پر ہاتھ مارا۔ نرم صحتمند ہتھیلی لہو سے رنگ گئی۔ ’’بابا!‘‘۔ ۔ ۔ کمل چیخا۔

’’جانی، جانی۔ ۔ ۔ کمل میرا بچّہ‘‘ دین محمد کی آنکھوں میں سویا ہوا سمندر موجیں مارنے لگا۔‘‘ (لااِکراہ فی الدین/شہناز شورو)

سید عفراء بخاری نے اپنی اَفسانہ نگاری کا آغاز 1959ء میں کیا اور 1979ء تک تسلسل سے لکھا اس عرصے میں ان کے افسانوں کے مجموعے ’’فاصلے‘‘(1964ء) ’’نجات‘‘(1998ء) اور’’ریت میں پاؤں‘‘ (2003ء) ہیں۔ انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں‘ خاندانی تنازعات‘ سماجی اونچ نیچ‘بھوک‘چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور بڑے بڑے دُکھ‘ عفراء کے ہاں تخلیقی عمل کو تحریک دیتے رہے ہیں۔ ان کا بیانیہ سادہ رواں ہے اور احساس شدید جب کہ واقعہ اپنی پوری جزئیات اور جذبوں کے لوازمات کے ساتھ آتا ہے۔

فکشن نگار فردوس حیدر کا انتقال بھی حال ہی میں ہوا ہے۔ ان کے افسانوں کی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ اُن کے ہاں کہانی کہتے ہوئے کہیں بھی پسپائی یا مخمصے کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ صاف صاف دکھتا ہے کہ انہیں جو کہنا ہوتا تھا‘ کہہ دیاکرتی تھیں۔ یہ رہن سہن اور رشتوں ناطوں کا مُعامِلہ ہو یا‘ عصری سیاسی اور سماجی صورت حال۔ تاہم بات کہہ ڈالنے میں بھی ان کے ہاں ایک سلیقہ اور توازن پایا جاتا ہے اور اسی توازن اور سلیقے سے کہیں کہیں دانش کی مہک بھی پھوٹنے لگتی ہے۔ فردوس حیدر کے اس قرینے نے ان کی کہانی کو لائق اعتنا بنا دیا تھا۔

’’عورت کو چھوتے ہی اُس کے بدن کے اندر بھوک اُگ آئی۔
’’کیا تمہیں بھوک لگی ہے؟‘‘ اُس نے پیار سے عورت کو دیکھا۔
عورت نے اَثبات میں سر ہلایا۔ وُہ اُس کا ہاتھ تھامے اَپنے گھر میں داخل ہوا۔ گھر کا ٹوٹا ہوا دروازہ ویسے ہی ہل رہا تھاجیسے وہ چھوڑ گیا تھا۔
’’عورت پاؤں کی جوتی ہے۔ ‘‘ باپو کی آواز آنگن میں پھیلی ہوئی تھی۔
’’مرد کتا ہے۔ ‘‘ ماں کی آواز بھی ہوا میں معلق تھی۔
دونوں کچے آنگن کی مٹی اوڑھے ایک دوسرے کے قدموں میں سر رکھے سو رہے تھے۔‘‘ (پتھر کی تلاش میں/فردوس حیدر)

عطیہ سید نے ’’شہر ہول‘‘ کے افسانوں میں زندگی کو بہ انداز دگر دیکھا ہے‘ اپنا مقام اور مکان بدل کر۔ وہاں سے جہاں تہذیبی مظاہر بدل جاتے ہیں‘ زندگی کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ مادہ بہت اہم ہو جاتا ہے اور روح کے کوئی معنی نہیں ہوتے۔ رشتے ضرورتوں کے ساتھ مشروط ہو جاتے ہیں۔ عطیہ سید کے کردار کبھی تو گندے نالے کے ساتھ ساتھ چلتے نظر آتے ہیں اور کبھی کھلی شاہراہ پر۔ وہ کبھی امریکہ میں ہوتے ہیں اور کبھی اٹلی اور روم میں‘اور یوں منظر بدل جانے سے ان کی کہانی کا لحن بھی بدل جاتا ہے۔

شاعرہ فہمیدہ ریاض فکشن کی طرف متوجہ ہوئیں تو اس میدان میں بھی ہماری پوری توجہ کھینچ لی۔ کہانی کو پوری جزئیات اور جذبوں کے ساتھ لکھنا اور پورے ماحول کو ساتھ لے کر چلنا فہمیدہ کو اچھا لگتا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے وہ بسا اوقات کہانی کو آپ بیتی یا یادنگاری کے قریب لے جاتی ہیں۔ مجھے ان کا افسانہ ’’جھنوں کو چٹھی ملی‘‘ ایسے شاہکار افسانوں میں سے ایک لگتا ہے جنہیں سہولت سے بھلایا نہیں جا سکتا۔

1937 ء میں ساہیوال میں پیدا ہونے والی ناول نگار اور اَفسانہ نگار فرخندہ لودھی نے اُردو اور پنجابی‘ دونوں زبانوں میں اَفسانے لکھے۔ ’’شہر کے لوگ‘‘، ’’آر سی‘‘ اور ’’خوابوں کے کھیت‘‘ اُن کے اُردو افسانوں کے مجموعے ہیں۔ سادہ اور رواں بیانیہ میں سماجی اور معاشرتی سطح پر فرد کی زندگی میں نمایاں ہونے والے ابھاروں پر ان کی گہری نظر ہے۔ تعلق اور رشتوں کے بیان سے وہ ان ابھاروں کو اپنی کہانیوں میں نشان زد کرتی جاتی ہے۔ نعیمہ ضیا الدین کے افسانوں میں ان لوگوں کی زندگی در آئی ہے جو تلاش معاش میں اپنی زمینیں چھوڑ کر نئی معاشرت میں شناخت کے دُکھ جھیل رہے ہیں۔ اجنبی تہذیبی اور ثقافتی ریلے میں اپناسب کچھ بہتا چلا جارہاہے۔ نعیمہ کے افسانوں میں نئی معاشرت میں ڈھلنے والوں کی زندگی عجب طرح کے دوغلے پن کا شکار نظر آتی ہے۔ راست بیانیے اور جزئیات کو ساتھ لے کر چلنے والی ان کی کہانی کا بنیادی وصف تجربے اور مشاہدے کی سچائی اور کھرا پن ہے۔ عذرا عباس کا بیانیہ بہت مضبوط اور فکری دھارا بہت واضح ہے۔ انہوں نے اپنی نظموں کی طرح اپنے افسانوں میں میل ڈامینینٹڈ سوسائٹی کے تناظر میں عورت اور اس کے اندر ہونے والی توڑ پھوڑ کو پورے قرینے اور شدت سے لکھا ہے۔

شاعرہ فاطمہ حسن بھی اَفسانے لکھتی ہیں۔ انہوں نے چھوٹی چھوٹی کہانیوں کو احساس اور فکر کی بنیاد پر تراشا ہے۔ عورت کا دکھ ان کا بنیادی موضوع ہے۔ ان کے افسانوں کی کتاب شائع ہو چکی ہے۔ محسنہ جیلانی کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’عذاب بے زبانی کا‘‘ 1988 میں جبکہ دوسرا مجموعہ ’’بکھرے ہوئے لوگ‘‘ 2003ء میں مشفق خواجہ کے دیباچے کے ساتھ شائع ہوا۔ اس دوسرے مجموعے میں ان کے چودہ اَفسانے شامل ہیں۔ علی گڑھ کے ایک اَدبی گھرانے میں پیدا ہونے والی محسنہ کو اَفسانے میں روایت کا بہت پاس ہے۔ حقیقت نگاری کا وہ اسلوب جہاں بیانیہ دبیز ہونے کی بجائے اپنے معنی اُچھالتا چلا جاتا ہے انہیں بہت مرغوب ہے تاہم وہ اپنے تخیل سے اس میں گہرے رنگوں کا اضافہ کرتی جاتی ہے۔ صفیہ صدیقی کے افسانوں کا پہلا مجموعہ’’پہلی نسل کا گناہ‘‘ 1990 ء میں شائع ہوا تھا۔ اب تک ان کے افسانوں کے تین مجموعے چھپ چکے ہیں۔ زندگی کی ٹھوس حقیقتیں ان کی کہانیوں میں اپنی پوری جزئیات کے ساتھ آگئی ہیں۔ مشرقی اور تہذیبی زندگی کے بیان نے اس کے اَفسانے کے بیانیے کی تہذیب میں بھی سادگی اور دھیمے پن کو رکھ دیا ہے۔ ’آسیب مبرم‘‘ والی نگہت سلیم سیدھے اور سپاٹ بیانیے والی کہانی نہیں لکھتیں کہ زندگی اس کے نزدیک زیادہ گھمبیر ہے۔ اس کے متعدد اَفسانے چھپ چکے ہیں۔ علامت کو انسان کے باطنی کرب یا پھر نفسیاتی الجھنوں کی تظہیر کے لیے کامیابی سے استعمال کرتی ہے۔ بشری اعجاز کی سماجی حقیقت نگاری ان کے اپنے سچے اور کھرے مشاہدے اور تجربے کی دین ہے۔ انہوں نے ’’می‘ مامااورمالا‘‘ جیسے افسانوں کے ذریعے توجہ حاصل کی۔ شبانہ حبیب اور فرخندہ شمیم دونوں کا تعلق ٹیلی وژن سے ہے۔ تاہم لطف یہ ہے کہ دونوں کے کہانی لکھنے کا انداز بالکل الگ ہوجاتا ہے۔ شبانہ حبیب کے ہاں کہانی کی باطنی جہت زیادہ اہم ہوتی ہے جب کہ فرخندہ سماجی اور سیاسی تناظر کو گرفت میں لینے کا چلن رکھتی ہے۔ فرخندہ کے افسانوں کا مجموعہ چھپ چکا ہے۔

حمیدہ معین رضوی کی عورت نے دو تہذیبوں کے بیچ زندگی بسر کی‘ اور اس کے دکھ جھیلے ہیں۔ ’’مردہ لمحوں کے زندہ صنم‘‘ اور ’’اجلی زمین میلا آسمان‘‘ کی کہانیوں کی زبان اور بیان سماجی حقیقت نگاری کے چلن کو اختیار کیے ہوئے ہے۔ لبابہ عباس کے افسانوں کے مجموعے بھی چھپ چکے ہیں عورت کو لکھنا اس کی خوبیوں اور خامیوں سمیت‘ اور وہ بھی چھوٹی چھوٹی کہانیوں میں انہیں بہت بھاتا ہے۔ شاعرہ عابدہ تقی کے افسانوں کا مجموعہ ’’دوسرا فرشتہ‘‘ بھی آچکا ہے۔ نئے عہد کی عورت اپنے تہذیبی ماضی کے ساتھ کیسے جڑ کر آگے بڑھ سکتی ہے۔ یہ سوال اور اس جیسے کئی اور سوالات ان کے ہاں نمایاں ہوگئے ہیں۔ ‘‘Yes Your Excellency’’ ان کا نہایت قابل توجہ اَفسانہ ہے۔

شمع خالد نے بھی سادہ بیانی کو شعار کیا اور ٹھیٹھ واقعے پر انحصار کرتی کہانی کو خوبی سے لکھا ہے۔ ان کی کہانیاں احساس اور تخیل سے کہیں زیادہ مشاہدے کو روبہ کار لاتی ہیں۔ ان کے افسانوں کے مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔ امریکہ میں مقیم اور انگریزی میں ایم اے کرنے والی آصفہ نشاط نے اُردو میں شاعری کی اور ’’بونسائی‘‘ اور’’صفحہ سات کالم چار‘‘ جیسی خوب صورت کہانیاں بھی دی ہیں۔ اِختصاران کی کہانیوں میں ایک وصف کی صورت ظاہر ہوا ہے۔ غازیہ شاہد کے افسانوں کا مجموعہ ’’برف کی کرچیاں‘‘2000ء میں شائع ہوا تھا۔ ٹھوس واقعے کو اپنی بصیرت سے برت کر وہ اسے کہانی کی شکل دیتی ہیں۔ ماحول کو پوری طرح اجال کر اوراس کے اندر اپنے کرداروں کو ’’جہاں دیکھا‘جیسا دیکھا‘‘ کے اصول پر متحرک رکھتے ہوئے۔ اسی سے ان کی نثر کے تیور بنتے ہیں۔ افشاں عباسی نے بھی قابلِ مطالعہ کہانیاں لکھی ہیں۔ اُن کی کتابوں ’’رنگ خوشبو کانٹے‘‘ اور ’’کانٹوں کا سفر‘‘ کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے۔ وہ محض عورت کو نہیں لکھتی اس کے اِنسانی وجود کے اندر سے اُمنڈتی خوشبو کو بھی لکھ لیتی ہیں۔ رخسانہ صولت کے اَفسانے’’گیلے حروف‘‘ کی صورت تھے جن میں لطیف جذبے آنسو بن جاتے ہیں۔ انہیں عورت کی زندگی اور اس کی نارسائیاں لکھنے پر تحریک دیتی رہی ہیں۔ ناول نگار بشری رحمن کے اَفسانے بھی کم اہم نہیں ہیں اور اس بات سے وہ سارے لوگ آگاہ ہیں جنہوں نے ’’پشیمان‘‘ ’’عشق عشق‘‘ اور’’قلم کہانیاں‘‘ کو پڑھ رکھا ہے۔ انہوں نے صاف ستھرے بیانیے والی کہانیوں میں سماجی زندگی کی کشمکش کو موضوع بنایا ہے۔

رضیہ فصیح احمد کو ابن انشا نے ایک بار لکھا تھا کہ’اُن کے اَفسانوں میں ’’ایک بات‘‘ ہوتی ہے۔ ‘ رضیہ فصیح احمد نے اس سے یہ مطلب اخذ کیا تھا کہ شاید ابن انشا کا اشارہ ان کے افسانوں میں موجود فکر کی زیریں لہر کی طرف تھا۔ تاہم افسانوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر اَفسانے کی بات ہر ایک تک پہنچانے کی للک میں رضیہ ڈیپ اسٹریکچر تعمیر نہیں کرتیں بلکہ فوری طور پر ترسیل ہو جانے والے معنی پر توجہ مرکوز رکھتی ہے۔ رضیہ کے افسانوں کے مجموعے ’’دوپاٹن کے بیچ‘‘، ’’بارش کا آخری قطرہ‘‘، ’’نقاب پوش‘‘، ’’کالی برف‘‘ اور ’’بے سمت مسافر‘‘ کے علاوہ ’’ورثہ‘‘ پڑھے جانے کے لائق ہیں۔ فرحین چوہدری جب شہابہ گیلانی تھی تو اوپر تلے افسانوں کے تین مجموعے دیے ان کا تازہ مجموعہ بھی شائع ہو چکا ہے۔ کہانی کی واقعاتی اور اس کی علامتی سطح دونوں کی طرف راغب ہیں۔ زندگی کے نادریافت علاقوں پر لکھنا اور ان علاقوں کو دریافت کرنا جو سچ یا جُھوٹ کے درمیانی علاقے میں پڑتے ہیں فرحین چوہدری کو مرغوب رہے ہیں۔ ثریا شہاب اور ارجمند شاہین نے بھی اَفسانہ نگاری کو تخلیقی اظہار کا ذریعہ بنایا۔ دونوں کا تعلق نیوز ریڈنگ کے شعبہ سے رہا۔ تاہم کہانی کی طرف دونوں سنجیدگی سے متوجہ ہوئیں۔ اور اپنی کہانیوں کے مجموعے بھی دیے۔ دونوں سادہ بیانی کی طرف راغب ہیں اور عورت کو لکھ کر عورت ہونے کا حق ادا کررہی ہیں۔ ڈاکٹر کوثر جمال کے افسانوں کا مجموعہ ’’جہانِ دگر‘‘ 2006ء میں شائع ہواتھا۔ اِس مجموعے میں شامل اُن کی قابل توجہ کہانیوں میں’’اچھی لڑکی‘ بری لڑکی‘‘، ’’ساتواں منطقہ‘‘، ’’بو‘‘ اور ’’گواہی‘‘ کو شمار کیا جاسکتا ہے۔ کوثر کے افسانوں میں سامنے کا ماحول تلخ اور گہری معنویت سے روشن ہو جاتا ہے۔ ’’ڈوبتی ہوئی پہچان‘‘ حسانہ انیس کاپہلا اور آخری مجموعہ ثابت ہوا۔ مسلم عظیم آبادی کی بیٹی حسانہ 1939 میں پیدا ہوئی افسانے اور تنقید لکھی کینسر کے مرض نے افسانوں کا مجموعہ چھپنے سے پہلے ہی چل بسی۔ موت کے بعد شائع ہونے والی ان کی کتاب میں گیارہ افسانے شامل ہیں۔ برتی ہوئی زندگی کو احساس کی شدت کے ساتھ لکھنے سے اس کا اسلوب بنا تھا۔ اَفسانہ ’’ممتا‘‘ میں زندگی جس طرح سنگین ہو جاتی ہے جس طرح ایک ماں موت سے دو چار ہوکر زندگی پرآدمی کا اعتبار متزلزل کر دیتی ہے‘ اس کی وجہ سے سعیدہ گزدر یاد آتی ہے۔ سعیدہ کے اَفسانے بھی اب اُردو ادب کا حصہ ہیں۔

موجودہ منظر نامے میں نیا خون مسلسل داخل ہو رہا ہے۔ آمنہ مفتی، منزہ احتشام گوندل، لبابہ عباس، عابدہ تقی، حمیرہ اشفاق، رابعہ الربا سے لے کر فاطمہ عثمان، فارحہ ارشد، مایا مریم اور سیمیں درانی تک فکشن لکھنے والیوں کی ایک قطار ہے جو اپنے افسانوں کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ تو یوں ہم دیکھ سکتے ہیں کہ لمحہ موجود تک آتے آتے عورت نے اپنے حوالے سے سارا سچ لکھنے کا اختیار مر د سے نہ صرف چھین لیا ہے اپنے سچ کو فکشن میں پوری ہمت اور حوصلے کے ساتھ ساتھ تخلیقی قرینے سے بیان کرنے کی ایک تاریخ بھی مرتب کر لی ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔
tariqafaq-favاس تاریخ میں اپنا نام رقم کروانے کی تاہنگ رکھنے والیوں کے منتخب افسانوں کا تازہ پراگا میرے سامنے ہے۔ اس انتخاب میں ابصار فاطمہ، سمیرا ناز، صفیہ شاہد، فاطمہ عثمان، فرحین خالد، معافیہ شیخ اور ثروت نجیب کے پینتیس افسانے شامل ہیں۔ میں نے ان افسانوں کو توجہ سے پڑھا ہے اور یہ بات میرے لیے اطمینان بخش ہے کہ ہر افسانہ نگار نے اپنے لکھنے کا ڈھنگ اپنے وجود کے حسی تجربے اور اپنی شخصیت سے کشید کیا ہے۔ ہر ایک کی زندگی کا دائرہ مختلف ہے، لہٰذا جہاں سے انہوں نے اپنے کرداروں کودیکھا ہے وہ زاویہ بھی مختلف ہو گیا ہے۔ کسی کے ہاں ماجرے کا عنصر غالب رہتا ہے کوئی احساس کی آنچ اونچی رکھتا ہے، کہیں موضوع اہم ہو گیا ہے اور کہیں اس صورت حال کا بیان جس میں کرداروں کو زندگی کرنے کے لیے پھینک دیا گیا ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ابصار فاطمہ کے ہاں ماجرے کا عنصر نمایاں ہے۔ زبان سادہ اور رواں دواں ہے تاہم کہانی جہاں سے روایت ہوتی ہے، وہاں رواں وقت کی الجھنیں ہیں اور سطر سطر میں عصری حسیت بیانیے کو آج کے عہد سے ریلے ونٹ کردیتا ہے۔ جب فلاحی تنظیم سے وابستہ کردار ان کی کہانی کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کی مشکلات کو نشان زد کیا جاتا ہے تو اچانک ایسی صورتحال کے مقابل ہونا پڑتا ہے کہ اس باب کی ساری کوششیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں اور یوں لگتا ہے کہ یہاں کچھ بھی بدلا نہیں جا سکے گا۔ ڈبل ایم اے مجید اور مجید کی بیٹی رخشندہ کی کہانی اس قضیے کی مثال ہے۔ وہ ایک چھ سالہ بچی کانکاح روکنے چلا تھا مگر رخشندہ کے پیٹ کے درد اور ابکائیوں کے سبب تین نکاحوں کا اہتمام کرنے پر راضی ہو گیا تھا۔ گلی سے باہر نکل کر سڑک پر چادریں بیچنے والی عورت ہو، مخصوص ایام میں گھر سے باہر جنگلے میں دھکیل دی جانے والی عورت یا پھر مذہب تبدیلی پر مجبور کی جانے والی لڑکیاں، سب اپنی جیسی عورتوں کی تڑپتی سسکتی زندگی کا نوحہ ہو جاتی ہیں۔ ابصار فاطمہ لکھتے ہوئے پہلے سے طے کر لیتی ہیں کہ انہیں اپنی کہانی کو کہاں لے جاکر ایک خاص مفہوم کی ترسیل کرنی ہے یوں ہر کہانی کی کسی نہ کسی مسئلے کی تفہیم کا دریچہ بھی وا کررہی ہوتی ہے۔

سمیرا ناز اپنے افسانوں میں سامنے کے منظر نامے کو چھیل کر اس کے اندر اترتی ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کے افسانوں میں وہ شدید احساس بھی متن ہوا ہے جوجھلینے والے کو یوں لگتا تھا جیسے اس کا دم لے کر ٹلے گا۔ ہاتھ نچاتی عورتیں اور فریب دیتے چہروں والے مرد دونوں ان کی کہانی میں آتے ہیں اور اپنے اپنے حصے کا ماجرا کہہ کا زندگی کا کوئی نہ کوئی بھید کھول کر رکھ دیتے ہیں۔ ذرا اس کہانی کو دیکھئے جس میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے اور ساتھ ہی گائوں کے ایک ایک فرد کے ہاں بے حسی بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ سمیرا ناز نے اس کہانی کو چست بنانے کے لیے ٹکڑوں میں لکھا ہے۔ ان کے ہاں موضوعات کے تنوع کے ساتھ ساتھ منظر نگاری کا جو قرینہ ہے وہ لائق توجہ ہے کہ پڑھتے ہوئے ہر منظر آنکھوں سے سامنے گھوم گھوم سا جاتا ہے۔

صفیہ شاہد کے ہاں، اُن کا فکشن کا مطالعہ بھی کسی حد تک بولتا اور ان کے افسانے کو نئی جہت دیتا نظر آتا ہے۔ بے چاری انار کلی میں انار کلی کا کردار ہویا کہانی کے کرداروں کا حقیقی جنم اور کسی کہانی کا منھ زور کردار ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی کی تعبیر محض مشاہدے سے اخذ نہیں کی جا سکتی، اسے لکھے جا چکے یا لکھے جانے کو تیار فکشن کی بصیرت سے بھی اخذ کیا جاسکتا ہے۔ ان کے ہاں آج کی اس عورت کی مکاری بھی ہے جس نے اپنا پورا بدن سیاہ عبائے، سیاہ دستانوں اور سیاہ موزوں میں یوں چھپایا ہوا ہے جیسے اس سے زیادہ دیندار اور پارسا کوئی اور نہیں ہے مگرجو موبائل کی مدھر دھن پر خود بھی ننگی ہو جاتی ہے اورکف اڑاتے چیختے چلاتے، نئی نسل پررشتوں اور دینی تقدس کو پامال کرنے تہمت لگانے والے اپنے شوہر طیب صاحب کو بھی ننگا کر دیتی ہے۔ محبت کے وعدے نہ نبھا پانے والے اس شکست خودرہ مرد کی بزدلی بھی ان کی کہانیوں میں ہے جو خون کے رشتوں کے سامنے نہ بول سکتا تھا اور خود لہو میں نہا گیا تھا۔

عام طور پرکسی افسانے میں کہانی اور موضوع کا رشتہ دو طرح سے قائم ہوتے دیکھا گیا ہے۔ یہ دونوں لگ بھگ متضاد صورتیں بھی ہیں۔ یعنی موضوع سے بے نیاز ہو کر یا موضوع کو دھیان میں رکھ کر۔ لکھنے والا کسی کردار یا احساس کو نبھائے چل رہا ہوتا ہے مگر افسانہ مکمل ہونے پریوں مرتب ہونے والے متن سے کوئی ایک یا ایک سے زیادہ موضوعات پھوٹ نکلتے ہیں گویا لکھنے والے کا دھیان ان موضوعات کی طرف نہ تھا مگر یہ کہانی کی عطا ہو گئے۔ کہیں کہیں افسانہ نگار کو کوئی موضوع ستانے لگتا ہے، وہ اپنے موضوع کا ایک ہالہ سا بناتا ہے اور اپنے کرداروں کے لیے ایک ماحول ڈھال کر انہیں اس ماحول میں رواں کر دیتا ہے۔ فاطمہ عثمان نے اپنے لیے عام طور پر دوسرا قرینہ چنا ہے تاہم جب وہ کسی کردار کو مرکز مان کر کہانی لکھتی ہیں تو پھوپھی جان جیسا جاندار کردار متشکل ہو جاتا ہے۔ بلاوجہ اپنے ملک کے قصیدے پڑھنے والی اور انگریز سے شدید نفرت کرنے والی پھوپھی کا کردار ایسا ہے کہ افسانہ پڑھ کر الگ ہونے پر بھی آپ کی یادداشت میں تازہ رہتا ہے۔ بے فیض مذہبیت کی کہانی ہو یا اس عورت کی جو بیٹیاں پیدا کرنے کے طعنے سنتی ہے اور ایک حادثے کے بعد یہ ثابت کردیتی ہے کہ بیٹا پیدا کرنے کی صلاحیت اس کے شوہر میں نہ تھی۔ ان کہانیوں کے ساتھ اس ڈرائیور کی کہانی کو بھی شامل کر لیجئے جس نے ایک موم سی گڑیا کو مسل کر مرد ذات کو مردود بنا ڈالا تھا، ان سب کہانیوں میں موضوع مرکز میں رہتا ہے۔ چار کہانیوں کی ایک کہانی ’’مجرا‘‘ میں بھی موضوع اہم ہے اور کہانی کی ٹریٹمنٹ بھی کہ یہاں مختلف کہانیاں ایک موضوع سے جڑ کر اس میں نیا پن پیدا کررہی ہیں۔

فرحین خالد کی کہانی اوبر کھابڑ راستوں سے چل کر یوں مکمل ہوتی ہے کہ ان کی فکریات کی لہریں متن کے تانے بانے بنی جا رہی ہوتی ہیں تاہم وہ کہیں کہیں جملے کی ساخت ایسی رکھتی ہیں کہ وہاں حیرت کا عنصر پیدا ہوتا ہے اور تازگی کی ایک پھوار سی پڑنے لگتی ہے۔ مثلا دیکھئے ’’درزنداں نہ کھلا‘‘ کی پہلی سطرمیں ہی مہذب دنیا کے فکری اور نظریاتی اعتبار سے اس آزاد باشندے کی بات ہو رہی ہے جس نے آکاش پر پھیلی سنہری کہکشائوں کا سراغ لگا لیا ہے اور وقت کے حصار سے نکلنا چاہتا ہے۔ دوسری اور تیسری سطر میں وہ روایت اور مذہب کی طلسماتی بیڑیوں میں جکڑے ہوئوں کا ذکر کرتی ہیں اور ان دونوں سے جڑے اپنے فکری قضیے کو نشان زد کرنے کے بعد وہ ایک ایسی بیٹی کی کہانی لکھتی ہیں جو اپنی ستم زدہ نحیف ماں کی بہ ظاہر قاتل ہے اور عمر قید کاٹ کر پھر سے’’ایک باوقار موت‘‘ کا سامان کرنے کے بعد اعتراف جرم کے لیے تھانے جارہی ہے۔ ٹیکسٹیشن شپ میں ایک چھ سالہ بچے کی ماں جو آٹھ سالہ ازدواجی ایکس ہول کے کرب کو بھلا نہیں پائی تھی سائبر دنیا کی ورچوئل محبت کے نئے تجربے سے گزرتی ہے تو اس کے اندر سے وہی پرانی عورت نکل آتی ہے جو مرد کو رشتوں میں بندھا اور ان سے وفا کرتا دیکھنا چاہتی ہے۔ ’’ڈبل ایکس ایل‘‘ افسانے کے آغاز میں جسمانی ساخت کو عار بنانے والوں کو موضوع بنایا گیا ہے جبکہ افسانے کا اختتام مذہبیت کی آڑ میں جنسی درندگی پر ضرب لگانے سے ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر وہ کرداروں کی نفسیاتی جہت کو گرفت میں لیتی ہے اور ان سماجی پھوڑوں پر نشتر چلاتی ہیں کہ فکری اور نظریاتی سطح پر اندر سے متعفن مواد سے بھرے ہوتے ہیں۔

سب کی طرح معافیہ شیخ کے اس مجموعے میں پانچ افسانے شامل ہیں۔ ’’دیواریں‘‘، ’’رقص‘‘، ’’تکون میں قید لڑکی، ‘‘خط اور انتظار‘‘ اور ’’کوزہ گر کا گلدان‘‘۔ یہ سب افسانے زیادہ طویل نہیں ہیں۔ پہلا افسانہ خود کلامی کی تیکنیک میں ہے، ایک بوڑھے اور متروک ہو جانے والے شخص کی خود کلامی جس کے لیے پتھر کا زمانہ لوٹ آیا ہے۔ افسانہ ’’رقص‘‘ کا راوی کہانی سے باہر کہیں بیٹھا سب نظارہ کر رہا ہے، فٹ پاتھ سے اٹھا کر تھیٹر میں لائی جانے والی اس لڑکی کا نظارہ بھی جس کی بھوک اور بدن، دونوں ایک ساتھ رقص کر رہے تھے۔ تیسرے افسانے میں محبت کی تکون کی کہانی سنانے والی ایک تتلی ہے۔ محبت کی اس کہانی میں موڑ آتا ہے، ویسا ہی موڑ جیسا ہر محبت کی کہانی میں ہوتا ہے۔ اگرچہ لڑکی اپنے محبوب کی باتوں کی دیوانی ہے مگریہاں لڑکا بات کرتے ہوئے چڑنے لگا ہے کہ اس میں اس کا قیمتی وقت ضائع ہو جاتا ہے۔ چوتھے افسانے میں چار خط مل کر ایک کہانی بناتے ہیں۔ جی، پچپن سالہ ’جوان لڑکی‘ کی کہانی جو خط پوسٹ نہیں کرتی تھی اپنے باپ کی قبر کی تختی کے پاس رکھ کر ایک ضدی بچی کی طرح روتی آنسو بہاتی قبرستان سے نکل آیا کرتی تھی۔ معافیہ کی آخری کہانی میں باپ بھی ہے اور ماں بھی مگر کہانی کے اندر ایک اور کہانی ہے جو ماں کی ڈائری میں تھی۔ نامکمل کہانی جسے ایک بیٹی مکمل کرتی ہے۔ معافیہ کے ہاں کہانی چاہے جتنی بھی تلخ ہو اس کا بیانیہ خواب کا سا ماحول بنا دیتا ہے جیسے کہیں نہ کہیں کچھ ہو رہا ہوتا ہے اور شاید کچھ ہو نہیں رہا ہوتا بس کچھ دھندلے سے نقوش ہوتے ہیں جو احساس کے کینوس پر ابھرتے چلے جاتے ہیں۔

اس انتخاب کی آخری اردو افسانہ نگار ثروت نجیب کا تعلق کابل، افغانستان سے ہے۔ ہے نا دلچسپ بات !۔ جو نثر ثروت نجیب نے لکھی ہے اس کا اپنا لطف ہے مثلاً دیکھئے ’’ایلے سارینا‘‘ افسانے کے یہ جملے’’جام سے مرتعش آواز گونجتے گونجتے ایک اپسرائی شبیہہ میں ڈھل گئی۔ شاخہ ِ گل کی طرح لچکیلی، خوش گِل و خوش گلو، کبودی آنکھوں والی، زیبا ترین یونانی ناک، مرسل کی پنکھڑیوں جیسے نفیس لب، جام ساعت نما جیسا اندام، کولہوں سے نیچے تک لہراتی تیرہ زلفیں۔۔۔۔‘‘ یہ نثر اس مجموعے کے سب افسانوں سے مختلف ہے اور پھر اسے لکھنے والی نے اسے بہت قرینے سے لکھا ہے۔ کہاں جملہ توڑنا ہے کہ قاری سانس لے کرکہاں آگے بڑھے گا، کہاں چھوٹا جملہ ہوگا اور کہاں طویل کہ کہانی اپنا ایک ردھم بنائے، یہ سب قرینے یہاں دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ کہانی اردو میں سہی مگر ہمیں ایک مختلف ماحول میں لے جاتی ہے اطالیہ میں جہاں گھروں کی لٹکتی بیلوں سے سجی بالکونیاں ہیں اور ان بالکونیوں میں موجود حسینائیں جو منظر میں شاندار رنگ گھول رہی ہیں۔ کہانی کے مطابق فیشن پرستوں اور مہاجروں کی جنت اطالیہ۔ دراصل یہ کہانی تاجک نانا کے آرٹسٹ مزاج نواسے ایلے کی ہے اور اس کے اطالوی باپ سے الگ ہو جانے والی ماں حماسہ کی بھی۔ اسی کہانی میں کندھار، پکتیا اور ہرات آتے ہیں اور امریکیوں کی بے رحم بمباری کا ذکر بھی۔ یہیں اس کہانی میں ایک اور کہانی کی گرہ لگائی جاتی ہے؛ سلطان شیشہ باز اور سارینا کے علاوہ شیشے کے ایک جام کی المناک کہانی کی گرہ۔ افسانہ ’’خاک و آتش‘‘ میں نفرت، دشمنی، نخوت اور جنگ کی آگ ہے۔ وہ لکھتی ہیں ’’ طاقت کی اونچی چوٹی سے ایک سنگ لڑھکتا ہے تو سب اس کے ساتھ لڑھکنے لگتے ہیں۔ ‘‘ ثروت کو کردار سازی کا ہنر آتا ہے اوروہ جانتی ہیں کہ کسی سیٹنگ کے اندرانہیں کیسے رواں کرنا ہے۔ انہیں اپنی بات کہنے اور کہانی کو انجام تک فوراً لے جانے کی جلدی نہیں ہوتی۔ وہ ٹھہر ٹھہرکر واقعات کا تانا بانا بنتی ہیں اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں کہانی اور ہمارے تجسس کو آگے بڑھائے چلی جاتی ہیں۔

آخر میں مجھے یہی کہنا ہے کہ ابصار فاطمہ، سمیرا ناز، صفیہ شاہد، فاطمہ عثمان، فرحین خالد، معافیہ شیخ اور ثروت نجیب کے یہ پینتیس افسانے دراصل ہماری اپنی دنیا پر کھلنے والے پینتیس دریچے ہیں۔ جی، ایسے دریچے کہ ہر بار ایک مختلف منظر ہم پر کھلتا ہے۔ ان مناظر کو کترنوں کی صورت جوڑ کرزمینی گلوب پر بسنے والے نئے انسان کی جو تصویر بنائی جا سکتی ہے۔ ان افسانوں کی نمایاں ترین بات یہ ہے کہ ان میں بدلتے ہوئے وقت کو گرفت میں لیا گیا ہے۔ بدلتے ہوئے اس وقت میں عورت اور مرد دونوں بدلے ہیں تاہم مجھے یوں لگتا ہے عورت کا وجود اس میں سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ سائبر ایج میں عورت کویوں بدلنا پڑا ہے کہ اب وہ گھر میں پڑی ہوئی شے نہیں رہی یکلخت ’’مارکیٹ کوموڈیٹی‘‘ ہو گئی ہے۔ اب اس کی صلاحیتوں سے لے کر اس کی نزاکتوں تک سب ایک ’’پراڈکٹ ‘‘کی صورت قیمت پاتے ہیں۔ اگرچہ ہمارا سماج ابھی دوسری انتہا تک نہیں پہنچا مگر یہاں کی عورت ان دو انتہائوں کے بیچ کہیں ہے۔ پہلے اگر اس کا استحصال سماجی روایات کے نام پر ہوتا تھا تو اب آزادی کے نام نہاد تقاضوں کی نہاد پر ہورہا ہے۔ کل اگر رشتوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی عورت سسک رہی تھی تو آج انہی رشتوں کے لطف کے عنقا ہونے پر تنہائی کی اذیت کے مقابل ہورہی ہے۔ ان افسانوں میں جہاں معاشی استحصال کے لیے تیار کی جانے والی عورت کی جانب توجہ دلائی گئی ہے وہیں اس جدید انسانی صورت حال کو بھی گرفت میں لیا گیا ہے جو جنگ اور دراندازی کو قومی سطح پر وتیرا کیے ہوئے ہے۔ عالمی سطح پر اس طرز عمل نے فرد کی نفسیات کو بھی بدل ڈالا ہے۔ آج کا فرد محبت کے جذبوں کو روند کچل کر آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ اسے اپنے مفادات عزیز ہیں اور اس راہ میں آڑ ہو جانے والی ساری اقدار کو روند ڈالنے میں اسے کوئی عار نہیں ہے۔ منڈی اور سرمائے سے مات کھانے والا فرد، انسان کیسے رہتا کہ یہ تو آدمی بھی نہیں رہا ہے۔ خیر یہ سب مسائل کہانیوں میں یوں نہیں آئے ہیں جیسے میں نے بیان کر دیے ہیں۔ ہر کہانی نے اپنی بات اپنے قرینے سے کہی ہے اور خوب کہی ہے۔ امید کی جانی چاہیے اس مجموعے کی تمام افسانہ نگار خواتین فکشن کے تخلیقی عمل سے اس ذوق و شوق سے وابستہ رہیں گی۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ بھی یقین رکھا جانا چاہیے کہ آنے والے وقت میں ان کے قلم سے ایسے فن پارے ضرور نکلیں گے جو فکشن کی تاریخ کا حصہ ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: فیمنزم کا جنسی انقلاب : بچائو کی تدابیر---شائستگی اور پاکیزگی
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply