پاپولر فیمنزم: فیشن و میوزک کے نام پر جنسی بدمعاشی اور دنگل —- وحید مراد

0

عام خیال ہے کہ فنون لطیفہ انسان کے احساسات پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ ان سے اضطراب اورافسردگی میں کمی اور پیار، لطف و طمانیت کے خوشگوار احساسات میں اضافہ ہوتا ہے۔ مجسمہ سازی، مصوری، شاعری، رقص اور موسیقی کو ماورائی طاقت اور ان فنون کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرنے والے فنکاروں کو سب سے اعلیٰ انسان تصور کیا جاتا ہے۔ ان فنون لطیفہ میں موسیقی کا مقام اور مرتبہ سب سے بلند ہے۔

ارسطو کا خیال تھا کہ موسیقی لطیف جذبات ابھار کر روح کو پاک کرتی ہے اس لئے یونانی طبیبوں نے مریضوں کیلئے آلات موسیقی استعمال کرنے کی کوشش کی۔ آج بھی کچھ لوگوںکا ماننا ہے کہ موسیقی سے کئی بیماریوںکا علاج ہو سکتا ہے۔ لیکن کسی ہسپتال میں علاج کی غرض سے موسیقی کا کوئی شعبہ نظر نہیں آتا ہاں البتہ ہسپتالوں کے ذہنی و نفسیاتی وارڈز میں بستروں پر پڑے ہوئے فنکار، مصور، شاعر، مجسمہ ساز اور موسیقار ضرور نظر آتے ہیں۔ معلوم نہیں عام معاشرتی معیارات سے ہٹ کر سوچنے، مشاعروں میں بآواز بلند شاعری پڑھنے، اونچے سروں میں گانے، ریاض کرنے، رقص کیلئے بہت زور لگانے سے انکی صحت خراب ہوتی ہے یا کثرت مے نوشی و دیگر منشیات کے استعمال سے؟

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کسی چیز سے انسان کو لطف حاصل ہو تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ واقعتاً مفید بھی ہے۔ جیسے شراب اور منشیات سے انسان کو وقتی سرور حاصل ہوتا ہے مگر یہ چیزیں انسان کی صحت کیلئے نقصان دہ ہیں۔ موسیقی میں انسان ایسا کھو جاتا ہے کہ اسے اپنے حقوق و فرائض تک کا خیال نہیں رہتا۔ موسیقی سے شہوانی جذبات بڑھتے ہیں اور جنسی جرائم و تشدد کی طرف میلان میں اضافہ ہوتا ہے۔ ڈرائیونگ کے دوران موسیقی سننے والوں کی اکثریت حادثات کا شکار ہوتی ہے۔ کنیڈا میں نیوروسائنس پر کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوعمر افراد میں سماعت کی خرابی کے زیادہ تر امراض بلند آواز میں موسیقی سننے کے باعث پیدا ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ایک اور تحقیق کے مطابق پاپ اور راک میوزک گانے اور پسند کرنے والے سب سے کم تخلیقی ذہانت کے حامل ہوتے ہیں۔ [1]

جنسی بدمعاشی اور غنڈہ گردی پر مبنی پنک کلچر (Punk sub culture):

موسیقی روح کی غذا ہو یا قلب و ذہن کا روگ لیکن ایک بات واضح ہے کہ آجکل کی موسیقی کی آواز ہتھوڑے کی طرح کانوں پر برستی ہے۔ امریکہ اور یورپ میں اسے پنک کلچر (Punk sub culture) کا نام دیا جاتا ہے۔ اس کلچر کی نمائندگی کرنے والےمیوزیکل بینڈز انتہائی اونچے سروں میں گٹار و ڈرم بجاتے ہیں اور اسکے ساتھ چیخ چیخ کر گاتے ہیں۔ عام سننے والے کو اس شور میں کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا گایا اور بجایا جا رہا ہے۔

پنک کلچر کا آغاز 1970 کے عشرے کے وسط میں برطانیہ میں ہوا۔ بعد ازاں نوے کی دہائی میں یہ ایک تحریک کی شکل میں امریکہ میں نمودار ہوا۔ یہ کلچر یورپ کی مختلف فلسفیانہ، سیاسی، ادبی، فنکارانہ اور میوزیکل تحریکوں کے اثرات لئے ہوئے ہے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ اور امریکہ کے نوجوانوں میں مقبول ثقافتوں کا ملاپ اور مکسچر ہے۔ [2]

پنک(Punk) اصطلاح کا استعمال موجودہ دور کے میوزک میں ہوتا ہے لیکن اس کی ایک طویل تاریخ ہے۔ شروع میں اس سے مراد ایک ایسا فرد لیا جاتا تھا جو معاشرے کے عام معیار سے منحرف، بدنام زمانہ اور باغی ہو۔ شیکسپئیر کے دور میں اس سے مراد ‘طوائف لڑکی’ تھی بعد میں اسکا مفہوم مرد جسم فروشوں تک وسیع ہوگیا۔ Punk اور Queer دونوں ہم جنس پرستی کے حلقے میں استعمال ہونے والی مترادف اصطلاحات ہیں۔ شروع کے دور میں ایسے لوگوں پر جب معاشرے کی طرف سے روک ٹوک ہوتی تھی تو یہ غیر منظم طور پر بے ہنگم سا شور مچاتے یا گالیاں دیتےتھے لیکن آج کے دور میں اس غل غپاڑے کو بینڈز کی شکل دے دی گئی۔ اب یہ لوگ اپنی ہم جنس پرستانہ حرکات پر قائم رہتے ہوئے میوزک اور گانوں کے ذریعے جشن مناتے اوراپنے خلاف معاشرتی اقدار اور اخلاقی دبائو کو مسترد کرتے ہوئے آزادی اور بغاوت کا اعلان کرتے ہیں۔

2017 میں اس موضوع پر ایک ڈاکومینٹری بنانے والی پینی آرکیڈ(Penny Arcade) کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستوں کی بدمعاش تحریک(Queercore) اور دنگل گرل(Riot Grrl) کی تحریک اٹھانےوالے کوئی عام دبنے والے لوگ نہیں تھے۔ وہ اپنے دور کے مہا شیطان(deviants)، بے لگام( losers)اور انتہائی پاگل لوگ( freak )تھے۔ [3]

 فیمنزم کی تیسری ویو، پنک کلچر اور زین (Zine):

فیمنزم کی دوسری ویو کی کچھ سرکردہ خواتین رہنما جنسی آزادی کے خلاف تھیں۔ وہ جنسی ابتذال کے بجائے ضبط وشائستگی پر زور دیتیں اورنسوانی انفرادیت ابھارنےکے بجائے اجتماعی حقوق کی بات کرتیں۔ انکا خیال تھا کہ عریانی، فحاشی اور جنس کا آزادانہ اظہار مردانہ بالادستی اور روایتی پاور اسٹرکچر کو تقویت فراہم کرتا ہے اور اس سے عورتوں کے خلاف استحصال اورجنسی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن تیسری ویو کے نوجوان نسائی پسندوں نےاس خیال کو مسترد کرتے ہوئے جنسی کشش و جاذبیت کو عورت کی آزادی، خودمختاری اور ایمپاورمنٹ کے حق میں استعمال کرنا شروع کر دیا۔

نوجوان فیمنسٹ خواتین کا موقف تھا کہ لباس، فیشن، میوزک اور مختلف جنسی سرگرمیوں کے ذریعے آزادی کا اظہار خواتین کو زیادہ با اختیار، پراعتماد اور مضبوط بناتا ہے۔ چنانچہ جب تیسری ویو کے فیمنزم میں انفرادی آزادی وجنسی اضطراب کے نظریات میوزیکل شوز اور ویڈیوز کے ذریعے پیش کئے گئے تو وہ پنک سب کلچر کہلایا۔ گالیوں، کوسنوں، بکواسات اور شورشرابے کے اونچے سروں پر مبنی گانوں اور پنک سین کےآغاز کے بعد سے لیکر انٹرنیٹ کی دریافت تک یہ فیمنسٹ سیاست کا مقبول ذریعہ رہا۔ یہ کلچر پسند کرنے والوں کو بھی عوام(masses) کے بجائے جنسی بدمعاش اور آوارہ لوگ (hoi polloi) کہا جاتا ہے۔

اس کلچر میں گانے اور رقص کرنے والے میک اپ، کاسمیٹکس اور فیشن کا حد سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ خواتین مردانہ لباس میں بھی نظر آتیں ہیں۔ گانے اور ڈانس کے دوران اشتعال انگیز ٹی شرٹس، پھٹی ہوئی جینز، لیدر جیکٹس اور رنگ برنگے بیلٹ پہنے جاتے ہیں۔ بالوں کے مختلف رنگ، اسٹائیل اور اسپائکس بنائے جاتے ہیں۔ بعض اوقات مرد اور عورتیں سب اپنے سر گنجے کر الیتے یا آدھے سر کے بال کٹوا کر بقیہ ویسے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ شرٹس پر بڑی بڑی بیہودہ تصاویر، مختلف جگہوں سے سوراخ اور اسکرٹس کے آگے، پیچھے چیرے لگے ہوتے ہیں۔ ہیوی جنگی جوتوں کے ساتھ برہنہ جسم کے مختلف حصوں پرٹیٹوز اور زیورات میں بڑے بڑے زنجیر پہنے جاتے ہیں۔ اسکے پرفارمرز خود ہی گانے لکھتے، گاتے اور ڈانس کرتے ہیں۔ پنک لٹریچر شائع کرنے کیلئے انکے اپنے طرز کے پمفلٹ، میگزین اور چھاپے خانے ہوتے ہیں۔ [4]

اس طرح کے فیمنسٹ لٹریچر کو پنک زین(Punk Zine) کہا جاتا ہے۔ اس لٹریچر کی اشاعت عموماً محدود پیمانے پر پمفلٹ کی شکل میں ہوتی تھی اور اس میں معاشرے کے عام معیار سے ہٹی ہوئی باغی خواتین کےذاتی تجربات پر مبنی کہانیاں، تصاویر، پیغامات وغیرہ شامل ہوتے۔ [5] ستر کی دہائی میں یہ اصطلاح ‘پنک راک سرکٹ Punk rock circuit’ کیلئے مشہور ہو گئی۔ نوے کی دہائی میں پاپولر فیمنسٹ کلچر نے یہ سلسلہ مزید آگے بڑھایا اور اس میں کیتھلین ہنا (Kathleen Hanna) جیسے فنکار شامل ہوئے جنہوں نے اولمپیا، واشنگٹن سے ‘جنسی فساد اوراودھم مچانے والی لڑکیوں کی تحریک’ کا آغاز کیا۔ کیتھلین ہنا، نوے کی دہائی کے مشہور فیمنسٹ پنک بینڈ (Bikini Kill) کی فرنٹ وومن کے طور پر مشہور ہوئی اور اسکا نہایت بے شرمی پر مبنی گانا ‘میں چاہوں تو اپنا جسم بیچ سکتی ہوں I can sell my body if I wanna’ فیمنسٹ حلقوں میں بہت مقبول ہوا۔ [6]

جنسی دنگل اور اودھم مچانے والی لڑکیاں(Riot Grrl):

غل غپاڑہ اور دنگا فساد مچانے والی فیمنسٹ لڑکیوں کی تحریک (girl riot movement) کا آغاز اولمپیا، واشنگٹن سے ہوا۔ [7] یہ ایک ایسی ثقافتی تحریک ہے جو فیمنسٹ نظریات اور پنک میوزک کو ملا کر سیاست میں استعمال کرتی ہے۔ فیمنزم کی تھرڈ ویو، فورتھ ویو پنک میوزک اور انڈی راک(Indie rock)کا تعلق بھی اسی تحریک سے ہے۔ اس کا مقصد خواتین کو ایسے مواقع فراہم کرنا ہے کہ وہ مردوں کی طرح اپنی جنسی خواہشات، غصہ اورجارحانہ جذبات کا اظہار کر سکیں۔ انکے مشہور بینڈز میں Bikini Kill، Bratmobile، Heavens to Betsy، Huggy Bear اورPussy Riotشامل ہیں۔ [8]

ویسے تو ان میں سے ہر بینڈ کا نام اور گانے بیہودگی پر مبنی ہوتے ہیں لیکن دنگل گرل تحریک کے بانی بینڈ Bikini Kill کا نام سب سے زیادہ بیہودہ تصور کی عکاسی کرتا ہے۔ اس اصطلاح کا مطلب ہے کہ دنگل گرلز کے جنسی اعضاءایسے ہیں کہ زیر جامہ پہننے والے ڈریسز مثلاً چولی، انڈوئیر وغیرہ انہیں ڈھانپنے سے قاصر ہیں۔ ان اعضاء میں جنسی جذبات کا ایسا تلاطم موجزن ہے کہ لباس کے ذریعے اسے جتنا بھی روکنے کی کوشش کی جائے وہ اس رکاوٹ سے چھلک کر ظاہر ہوتا ہے۔ اس اصطلاح کے ذریعے عام خواتین کو پیغام دیا جاتا ہے کہ جب لباس، جنسی اعضاء اور جذبات کو چھپانے اور روکنے سے قاصر ہے تو اسے پہننے کی ضرورت کیاہے؟ اسےغرق کرو اوراسکے بغیر اپنے جذبات کا اظہار کرو۔ اس پیغام پر خود عمل کرکے دکھانے کیلئے اس بینڈ کی سرکردہ پرفارمر کیتھلین ہنا (Kathleen Hanna) بے لباس ہو کر اسٹیج پر ڈانس کرتی ہے۔ [9]

اس تحریک کا آغاز اس طرح ہوا کہ 1990 میں اولمپیا، واشنگٹن میں فیمنسٹ خواتین کے ایک گروپ نے اپنی میٹنگ میں اس بات پر غور کیا کہ جنسی تعصب (سیکسزم) سے نبٹنے کیلئے اسکے مختلف ریوں کو پنک سین(punk scene) میں کیسے فلمایا جائے؟چنانچہ یہ طے پایا کہ ایسے معاشرے جہاں خواتین کے عام معیار سے ہٹے ہوئے باغی رویوں کو قبول نہیں کیا جاتا وہاں میوزیکل رد عمل کے ذریعے جنسی فساد، غل غپاڑہ اور اودھم مچایاجانا چاہیے۔ چنانچہ اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے Riot Grrl تحریک کا آغاز ہوا اور اس کے مختلف میوزیکل بینڈز نے مخالف نظریات کو رد کرنے کیلئے میوزک، ڈانس اور فیشن کا بھرپور استعمال کیا۔ بعد ازاں اس تحریک کے ایک پاپ بینڈ (Spice Girls)نے ‘نسوانی طاقت Girl Power’ اور ‘Support Girl Love’ کے نعرہےدیے جو دنیا بھر کی لڑکیوں میں مقبول ہوئے۔ یہ نعرے اسکول وکالج جانے والی لڑکیوں کے بیگ، اسٹیشنری پائوچ اور دیگر اشیاء پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ آج بھی اس تحریک کا ایک مشہور بینڈ (Pussy Riot) انہی نعروں کو آگے بڑھا رہا ہے۔ [10]

دنگل گرل کا اثر، عام فیمنسٹ نظریات سے زیادہ دور رس ہے۔ اس تحریک نے اپنے ممبران میں کئی ایسے مشترکہ رویے پیدا کئے جو معاشرے کی اوسط خواتین کے معیارات کے مطابق نہیں تھے۔ یہ رویے ان گانے اور ڈانس کرنے والوں کے انتہائی مختصر لباس میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ انکے سرکردہ بینڈز کی خواتین صرف چولی(bra) پہن کر پرفارم کرتی ہیں اور اپنے جسم پر طوائف(Slut) جیسے الفاظ بھی لکھتی ہیں۔ دنگل گرل تحریک کسی حدود و قیود کو نہیں مانتی۔ اسکی پرفارمرز اسکول جانے والی بچیوں کے اسکرٹ، بیبی ڈول سوٹ یا فلالین شرٹس پہن کر بھی ڈانس کرتی ہیں۔ فیمنسٹ تحریک کے اندر’ دنگل گرل’ کی اہمیت یہ ہے کہ اس گروپ نے نوجوان خواتین کو معاشرے سے بغاوت کے نئے نئے طریقے سکھائے اور انہیں بتایا کہ جنسی رویوں کے کھلے عام اظہار سے اپنی انفرادیت اور ایمپاورمنٹ کا لوہا کیسے منوایا جاتا ہے۔ [11]

تیس سال قبل دنگل گرلز تحریک کا آغاز ایک چھوٹے سے نعرے ‘ لڑکیاں پیچھے کیوں ہیں وہ بھی آگے بڑھ کر بدمعاشی کریں(Girls to the front)’ سے ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے دنیا بھر کی فیمنسٹ لڑکیوں کو ایک پلیٹ پر جمع کر دیا۔ دنگل گرل موومنٹ کا سارا کام فیمنسٹ پنک میوزک، زینز پر منحصر تھا اور معاشرے کے بارے میں انکا رویہ ‘بھاڑ میں جائوfuck you’ پر مبنی تھا۔ اس لئے فیمنسٹ حلقوں کے باہر اسے زیادہ مقبولیت حاصل نہ ہوسکی اور کچھ عرصہ بعد یہ تحریک دب گئی لیکن انٹرنیٹ اورسوشل میڈیا آنے کے بعد اسے نئی زندگی ملی۔ اس وقت پچاس سے زائد بینڈز یوٹیوب، سوشل میڈیا، ٹک ٹاک پر اپنےبیہودہ میوزک و گانوں کی وجہ سے مقبول ہیں اوردنگل گرل تحریک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ یہ تحریک نسائی حقوں کے ساتھ ایل جی بی ٹی کمیونٹی اور ٹرانجینڈرز میں بھی مقبول ہے۔ [12]

دنگل گرلز کی طرح ہم جنس پرستوں کی الگ ثقافتی تحریک بھی ہے جسے (Queercore) کا نام دیاجاتا ہے۔ اسکاآغاز اسی کے عشرے کے وسط میں ہوا۔ یہ بھی پنک سب کلچر کی ایک شاخ ہے۔ یہ تحریک ایل جی بی ٹی کمیونٹی کا عام معاشرے سے عدم اطمینان اور عدم قبولیت کے خلاف موسیقی، لٹریچر اور فلم کے ذریعے اظہار ہے۔ اس تحریک کے بھی دنگل گرل کی طرح کئی میوزیکل بینڈ ہیں جو اپنے نظریات کی تبلیغ میوزک اور ڈانس کے ذریعے کرتے ہیں۔ [13]

ہم جنس پرست فیشن ڈیزائنرز عوام سے کس گناہ کا بدلہ لینا چاہتے ہیں؟

فیمنسٹ تحریک ہو، دنگل گرلز یا ہم جنس پرستوں کی تحریک سب نے شاعری، لٹریچر، فلم، ڈرامہ، مصوری اور لباس کو سیاست و احتجاج کی بھینٹ چڑھایا ہے۔ لباس جسکا بنیادی مقصد جسم کو قدرتی حالات، موسم، حشرات الارض کے کاٹنے، پودوں اور درو دیوار کی خراشوں سے بچانے کے ساتھ ستر چھپانا تھا اسے فیشن کےنام پر تار تار کر دیا گیا۔ پہلے لباس پہننے والا معاشرتی اقدار کے مطابق لباس پہن کر مہذب اور خوبصورت نظر آتا تھا، اب ان معاشرتی اقدار اور اصولوں سے بغاوت کے لئے لباس اور فیشن کا استعمال کیا جاتا ہے۔ لباس اور فیشن کو سیاسی و صنفی نظریات کے فروغ اور تبلیغ کیلئے ایسی علامت بنا دیا گیا جو اب صرف فیمنسٹ اقدار، نظریات، رویوں اور شناخت کی نمائندگی کرتی ہے۔ جن اشیاء کو خواتین بننے سنورنے اور خاوند کو خوش کرنے کیلئے استعمال کرتی تھیں فیمنزم انہیں مردوں سے نفرت کیلئے استعمال کررہاہے۔ مردوں سے نفرت ابھارنے کی خاطر لزبئین نسائی پسندوں نے عجیب فیشن کے جوتے، بیگی ٹرائوزر(baggy trousers) اورسوٹ پہننا شروع کئے۔ مردوں کو چڑانے کیلئے اپنی ٹانگوں اور جسم کے غیر ضروری بال کاٹنا حرام قرار دیا، سر کے بال مردوں کی طرح کٹوا کر چھوٹے کئے اور ڈانگریاں پہن کر گھومنے کا فیشن اپنایا۔

جنگ عظیم دوم کے زمانے میں جب مرد جنگ میں مصروف تھے تو فیمنسٹ ڈیزائنرز نے وومن سپورٹ وئیرز(sportswear) ڈیزائن کئے لیکن جنگ کے اختتام پر عورتوں نے پروفیشنل لائف میں ہی رہنا پسند کیا تو انکے اسکرٹس  کو مختصر کرکے  اس میں بکرم (crinolines)کا استعمال کیا گیا تاکہ کام کرنے والی خواتین گھریلو عورتوں کی نسبت زیادہ اسمارٹ نظر آئیں۔ ساٹھ کے عشرے میں سیکنڈ ویو فیمنزم کے آغاز پر جب نوجوان خواتین میں جسمانی حسن کو نمایاں اور جنسی اعضا ظاہر کرنے کی خواہش بیدار ہوئی تو منی اسکرٹ (miniskirt)ایجاد کی گئی۔ ستر کی دہائی میں مردوں اور عورتوں کے لباس میں موجود فرق کو ختم کیا گیا اور ایسے پاور سوٹس ایجاد ہوئے جو مرد اور عورت دونوں پہن سکتے تھے۔ اسکے بعد مردانہ طرز کےپینٹ سوٹ خواتین کی طاقت، مساوات اور حقوق نسواں کی علامت بن گئے۔ آج کل فیمنسٹ خواتین ایسی شرٹس پہنتی ہیں جن پر وومن ایمپاورمنٹ اور خودمختاری کے نعرے درج ہوتے ہیں۔ [14]

فیمنزم کی طرح ایل جی بی ٹی کمیونٹی بھی ایسا لباس، فیشن، اشارے اورعلامات استعمال کرتی ہے جس سے گاہکوں اور آپس میں ایک دوسرے  کو واضح پہچان ہو سکے۔ انکے ہاں گلابی رنگ(pinky ring) پہننے، ابرو کمان کی طرح بنانے اور جینز کی بیک پاکٹ میں کئی رنگوں کا رومال نما پرچم (Bandanas) لٹکانے کا ایک خاص مطلب اور مقصد ہوتا ہے۔ [15]

بیسویں صدی کے سب بڑے فیشن ڈیزائنر گے اور ہم جنس پرست تھے اور آج بھی فیشن انڈسٹری میں انہی کا سکہ چلتا ہے۔ ان میں کرسچن ڈائر(Christian Dior)، کرسٹوبل بالنسیاگا(Cristobal balenciaga)، ییوس سینٹ لارینٹ(Yves Saint Laurent)، نارمن ہارٹینل (Norman Hartnell)، ہلسٹن(Halston)، روڈی گرنریچ(Rudi Gernreich)، کیلون کلین(Calvin Klein)، اور گیانی ورسیسے(Gianni Versace) بھی شامل ہیں۔ ان ڈیزانرز نے گے اور ہم جنس پرستوں کے کلبوں میں اپنائے جانی والی ہر حرکت، رویے، خیال اورسوچ کو عام لوگوں کے ڈریسز اور فیشن میں شامل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ ان فیشن  ڈیزائنرز کےپیچھے سرمایہ دارانہ نظام کی بڑی بڑی کمپنیاں اور صنعتیں موجود ہیں جو زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کیلئے انہیں اشتہارات، میگزینز، فلم، ٹی وی،سوشل میڈیا اور ہرجگہ پروموٹ کرتی ہیں۔

صرف کپڑے ہی نہیں ہم جنس پرستوں کے ہئیر اسٹائیل، بھینس کے انداز کی سائکلنگ شارٹس(Buffalo Style Cycling Shorts)، فلائٹ جیکٹس(flight jackets)، اسکرٹ(skirts)، ٹوپیاں(hats)، مضحکہ خیز جنگی جوتے(combat boots) اور پرفیومزبھی عام لوگوں میں متعارف کروائے گئے۔ عام لوگ جو ان  پرکشش اشیاء و علامات کے ساتھ جڑے ہوئے مذموم صنفی نظریات سے  واقف نہیں ہوتے  وہ  انہیں  اعلیٰ معیار اورفیشن کی اشیاء  سمجھ کر خریدتے، اپناتے  اور استعمال کرتے ہیں۔ اس دام میں اب  صرف خواتین کو ہی نہیں نوجوانوں، بچوں اور  بوڑھوں کو بھی پھانسا جا چکا ہے۔ معاشرے کے روایتی اور مذہبی طبقات کی طرف سے ہم جنس پرستوں، گے و لزبئین کی روک ٹوک کا بدلہ لینے کی خاطر ان فیشن ڈیزائنر نے فیشن کے نام پر یہ بیہودہ لباس دنیا بھر کے انسانوں کو  پہنا دئے۔ [16]

References:

[1] Roberts, Larry (2016) “Evidence of hearing damage in teens” Retrieved from https://www.eurekalert.org/pub_releases/2016-06/mu-eoh060316.php

[2] Cook, Paul (2005) “The birth of Punk” Retrieved from https://web.archive.org/web/20060427073129/http://enjoyment.independent.co.uk/music/features/article324977.ece

[3] Brown, Jayna (2020) “Queer As Punk: A guide to LGBQIA + Punk” Retrieved from https://www.npr.org/2020/06/15/876087623/queer-as-punk-a-guide-to-lgbtqia-punk

[4] Moran, Ian, P. (2010) “Punk: The Do-It-Yourself Subculture” Retrieved from https://repository.wcsu.edu/cgi/viewcontent.cgi?article=1074&context=ssj

[5] Heller, Jason (2013) “With Zines, the 90s punk scene had a living history” Retrieved from https://archive.ph/20131101201643/http://mobile.avclub.com/articles/with-zines-the-90s-punk-scene-had-a-living-history,104206/?mobile=true

[6] “Zine Activism: No-Filter Feminism” Retrieved from https://westportlibrary.libguides.com/zines

[7] Feliciano, Stevie (2013) “The Riot Grrl Movement” Hudson Park Library Retrieved from https://www.nypl.org/blog/2013/06/19/riot-grrrl-movement

[8] “Riot Girls: still relevant 20 years on” Retrieved from The Guardian https://www.theguardian.com/music/2011/jan/20/riot-girl-20-years-anniversary

[9] Urban Dictionary “Bikini Kill’ Retrieved from https://www.urbandictionary.com/define.php?term=bikini%20kill

[10] Feliciano, Stevie (2013) “The Riot Grrrl Movement” New York Public Library. Retrieved from https://www.nypl.org/blog/2013/06/19/riot-grrrl-movement

[11] Jiji, Tamara (2021) “Before Girl Power was Popular the Riot Grrls Made it Punk” Retrieved from https://www.lofficielusa.com/pop-culture/riot-grrrl-movement-history-punk-feminism

[12] Rtishchev, Sasha (2020) “ The Life, Death, and Rebirth of Riot Grrl in a Moderen Era” Retrieved from https://www.purenowhere.com/blog/2020/6/14/riot-grrrl

[13] Villarreal, Daniel (2021) “Queercore: A Dirty History of the LGBTQ Movement that spits on respectable Gays” Retrieved from https://hornet.com/stories/queercore-history/

[14] WEBB Ali (2020) “The Evolution of Feminist Style” Retrieved from https://www.crfashionbook.com/culture/a22736609/feminist-style-evolution-history/

[15] CEESANDO (2014) “Tomboy Femme Fridays: The Gay Scent & Queer Signifiers” Retrieved from https://www.dapperq.com/2014/09/tomboy-femme-fridays-the-gay-scent-queer-signifiers/

[16] “Fashion And Homosexuality” Encyclopedia.com. Retrieved from https://www.encyclopedia.com/fashion/encyclopedias-almanacs-transcripts-and-maps/fashion-and-homosexuality

(Visited 1 times, 1 visits today)

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply