ہمدم _ دیرینہ: ڈاکٹر بابر نسیم آسی کا خاکہ، مظفر حسن بلوچ کے قلم سے

0

مشہور کہاوت ہے: “پڑھو فارسی بیچو تیل”۔ یہ کہاوت ایسے ہنر مند اور اہلِ کمال کے حوالے سے بولی جاتی ہے جو آشفتہ حالی اور بد حالی میں زندگی کے دن پورے کر رہے ہوں، جن کو روزی روٹی کمانے کے لیے کوئی ادنٰی پیشہ اختیار کرنا پڑے اور زمانے میں کوئی ان کا قدر دان یا قدر شناس نہ ہو۔ ہم نے تو کسی فارسی پڑھنے والے یا پڑھانے والے کو تیل بیچتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ جن لوگوں نے فارسی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اسی زبان کی تدریس کو اپنا پیشہ بنا لیا تو وہ عزیزِ جہاں ٹھہرے۔

ہم اسی الجھن میں گرفتار تھے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ فارسی پڑھنے والے تو بیسویں اور اکیسویں گریڈ کے جھولے جھول رہے ہیں اور یہ تیل بیچنے والی کہاوت کیسی کہنہ اور فرسودہ ہے۔ آخر کار مجذوب خیالی نے ہمیں اس الجھن سے نکالا۔ کہنے لگے: “تیل سے مراد سرسوں کا تیل نہیں ہے بلکہ پٹرول ہے۔ پٹرول بیچنے والی کمپنیاں کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتیں۔ یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں کبھی خسارے میں نہیں رہتیں۔ پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے حوالے سے سارا ملک بھی پہیہ جام ہڑتال کر دے اور دست بہ بد دعا ہو جاۓ یہ قیمتیں آسمان کی بلندیوں سے اترنا کسرِ شان سمجھتی ہیں۔”

میں گورنمنٹ کالج لاہور میں بی۔ اے کا طالب علم تھا اور پروفیسر شکیل اسلم فارسی (اختیاری) پڑھایا کرتے تھے۔ پروفیسر شکیل اسلم صاحب اسمِ با مسمی ہیں۔ ہم فارسی اختیار کرنے والے سات یا آٹھ طالب علم تھے اور اس بات پر متفق بھی تھے:

” خود را ( اختیار ) کردہ علاج نیست”

مختصر سی کلاس میں ہم سب بہت جلد گھل مل گئے۔ فارسی کے اس مختصر ترین گروپ میں سفیر حیدر نقوی، مصطفیٰ زیدی، سید اسد شاہ بخاری، خالد نذیر وٹو، بابر نسیم آسی اور مظفر حسن بلوچ شامل تھے۔ بابر نسیم آسی کو میں مدت مدید تک بابر نسیم “عاصی” ہی سمجھتا رہا. میں اکثر سوچتا کہ بے شک انسان خطا کا پتلا ہے اور زندگی میں گناہ کس سے سر زد نہیں ہوتے لیکن ان کا برملا اظہار اور اعتراف چہ معنی دارد؟ خیر میں لباسِ پارسائی میں عاصی کو ایسے ہی دیکھا کرتا تھے جیسے ایک متقی، پرہیز گاری کے زعم میں گناہ گاروں کو چشم_ نخوت سے دیکھا کرتا ہے۔

آخر ایک دن میں نے عاصی میاں سے پوچھ ہی لیا کہ تمہارا نام ایسا کیوں ہے؟
کہنے لگا “جناب! یہ عاصی (گناہ گار) نہیں ہے بلکہ آسی (پر امید) ہے۔ بس اسی دن سے آسی کے سارے گناہ دھل گئے اور میری پارسائی دھری کی دھری رہ گئی۔

گورنمنٹ کالج لاہور میں ہم مجلسِ اقبال اور مجلس صوفی تبسم کے تنقیدی اجلاس میں باقاعدہ شرکت کرتے۔ صدیق اعوان ہمارے سینئر تھے۔ الیاس محمود نظامی، اورنگ زیب نیازی، عزیر احسن، شاذان دانش اور حافظ بلال فاروق بھی ان ادبی مجالس میں باقاعدگی سے شرکت کرتے۔

بابر نسیم آسی تھے تو بی_ اے کے طالب علم لیکن کہیں سے بھی، کسی بھی کالج کے طالب علم نہیں لگتے تھے۔ دبلے پتلے، کم زور اور دھان پان سے ہوتے تھے۔ بالکل ایسا ہی محسوس ہوتا تھا جیسے کسی اسکول کا ساتویں آٹھویں کا طالب علم گورنمنٹ کالج لاہور میں شرارتیں کرنے آ گیا ہے۔ اس دور میں گورنمنٹ کالج لاہور اور سلیم ماڈل ہائی اسکول یا سینٹرل ماڈل سکول کا یونیفارم بھی ملتا جلتا تھا یعنی یونیفارم کے حوالے سے یونیفارم پالیسی ہوتی تھی۔ اکثر اوقات یوں بھی ہوتا کہ موصوف واپسی پر گھر جانے کے لیے کالج کے اردو بازار والے گیٹ سے نکلتے تو سامنے ہی کسی خاتون سے ٹاکرا ہو جاتا۔ وہ اس بظاہر کم سن آسی کو اسکول کا طالب علم سمجھ کر استفسار کرتیں کہ بیٹا اسکول میں چھٹی ہو گئی ہے یا بھاگ کر آ گئے ہو؟ اور آسی صاحب معصویت سے فرماتے کہ ماں جی میں اسکول میں نہیں، گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا ہوں اور وہ خاتون آسی صاحب کے سراپے پر ایک نظر ڈالتے ہوئے انگشت بدنداں اپنے بچوں کو لینے کے لیے اسکول کی طرف بڑھ جاتیں۔

ایک مرتبہ آسی صاحب کالج آنے کے لیے بس میں تین والی سیٹ پر تنِ تنہا براجمان تھے۔ اگلے سٹاپ پر ایک طالبہ بس میں سوار ہوئی اور بلا تکلف اور بلا جھجک آسی صاحب کے ساتھ بیٹھ گئی۔ کچھ ہی دیر بعد اگلے سٹاپ پر ایک اور طالبہ بھی سوار ہو گئی اور ایک سیٹ کی گنجائش دیکھ کر پہلی طالبہ سے کہا کہ آپ ذرا ساتھ ہو جائیں تاکہ میری جگہ بھی بن سکے۔ آسی صاحب سرکتے سرکتے کھڑکی کے قریب اور دونوں طالبات سرکتے سرکتے آسی صاحب کے عن قریب ہو گئیں۔ اب پہلی طالبہ نے گفتگو کا آغاز کیا اور پوچھا کہ آپ کون سے اسکول میں پڑھتے ہیں؟ موصوف کہنے لگے کہ میں گورنمنٹ کالج لاہور میں پڑھتا ہوں۔ یہ جواب سن کر وہ پری چہرہ کچھ فاصلے پر ہو گئی۔ آسی صاحب کے چہرے پر یاس کے بادل چھانے لگے اور وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگے۔ کچھ دیر بعد اسی نازنیں نے ہمت جمع کر کے دوسرا سوال بھی داغ دیا : آپ کون سی کلاس میں پڑھتے ہیں؟ اب آسی صاحب نے اپنے فائل فولڈر میں سے فارسی کی بی-اے کی کتاب نکال کر اس کی گود میں رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا: میں بی اے کا طالب علم ہوں۔ بس پھر اس کے بعد تو آس کا آخری پنچھی بھی کھڑکی کے راستے باہر نکلا اور اڑتے اڑتے دور افق پار چلا گیا اور آسی صاحب دیر تک اسے دیکھ دیکھ کر ہاتھ ہلاتے رہے۔

آسی صاحب دوستوں کے ساتھ ساتھ ایم – اے فارسی کی طالبات میں بھی بہت مقبول تھے۔ قبول _ عام کے اس مرتبے پر فائز ہونے کی وجہ ان کی من موہنی شخصیت اور شیریں بیانی تھی۔

بی۔ اے کے بعد آسی صاحب نے اسی تاریخی درس گاہ میں ایم اے فارسی میں داخلہ لے لیا اور ہم نے ان کے حق میں دعائے خیر کرتے ہوئے گورنمنٹ کالج لاہور کو خیر باد کہہ دیا:

بابر نسیم آسی
پر چھائے کیوں اداسی
جب اس کےگرد پھولوں
سے لوگ رہ رہے ہیں
جب اس کے گرد ہر سو
نغمے بکھر رہے ہیں
یا رب ! رہے ہمیشہ
راحت میں اپنا آسی

بابر نسیم آسی نے ایم – اے فارسی میں داخلہ لیا تو گھر والوں نے شدید مخالفت کی لیکن آسی صاحب ڈٹے رہے کہ میں اپنا روشن مستقبل فارسی ہی میں دیکھتا ہوں۔ ان کے والد صاحب نے کہا : ” جان _ پدر ! اتنی خود غرضی بھی اچھی نہیں ہوتی کہ اپنے روشن مستقبل کی خاطر فارسی زبان و ادب کے روشن تر مستقبل کو داؤ پر لگا دیا جائے”

دراصل آسی صاحب کے والد محترم کی خواہش تھی کہ وہ ایم – اے اکنامکس کرے لیکن آسی بھی اپنی ضد پر اڑا رہا اور آخر کار گھر والوں نے ہار مان لی اور ضدی بچہ جیت گیا۔

دوسری طرف میرے والد صاحب نے لاکھ کوشش کی کہ میں ایم – اے فارسی میں داخلہ لے لوں لیکن میں نے سوچا کہ اوری اینٹل کالج لاہور میں فارسی اور اردو کے سب اساتذہ والد صاحب کے دوست احباب ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر میری شامت _ اعمال یقینی ہے۔ گھر سے گھر تک کے معاملات میں بچت کی کوئ صورت دور دور تک نظر نہیں آتی تھی۔

میں نے بھی راہ _ فرار اختیار کرتے ہوئے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں ایم- اے ایجوکیشن میں داخلہ لے لیا اور بعد ازاں ایم- اے اردو کر لیا۔ آسی صاحب ایک دن گھر تشریف لائے تو والد صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ والد صاحب نے پوچھا کہ بیٹا کیا کر رہے ہو ؟ آسی صاحب کہنے لگے کہ گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم – اے فارسی کر رہا ہوں۔ والد صاحب بہت خوش ہوئے اور مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ تم نے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے۔ اسلاف کے علمی و ادبی سلسلے کو آگے بڑھاؤ گے اور لیکچر شپ تو فوراً ہی مل جائے گی۔ آسی صاحب اس حوصلہ افزائی پر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ سر ! آپ پہلے شخص ہیں جنہوں نے میری حوصلہ افزائی کی ہے اور یہ شاباش میرے لیے اس حبس آلود فضا میں باد صبا کا ایسا جھونکا ہے جس نے مجھے سرشار کر دیا ہے۔

ایم۔ اے اردو کرنے کے بعد میں اردو کا لیکچرار ہو گیا اور میری پوسٹنگ ضلع لیہ کی تحصیل چوبارہ میں ہو گئی۔ یہ تحصیل بھی کیا تھی ایک بے آب و گیاہ صحرا تھا اور ہم اس صحرا میں کڑوا کسیلا پانی پی کر تشنگانِ علم کو اپنی شیریں بیانی سے سیراب کرنے کی کوشش میں مشغول و منہمک ہو گئے۔ ادھر آسی صاحب گورنمنٹ کالج لاہور میں فارسی زبان و ادبیات کے ساتھ منسلک ہو گئے۔

ما و بابر ہم سبق بودیم در دیوان _ عشق
او بہ جی _ سی رفت و ما در صحرا ہا رسوا شدیم

2003 میں گورنمنٹ کالج لاہور کے شعبہ فارسی نے ڈاکٹر ظہیر صدیقی مرحوم کی سربراہی میں ایک اہم علمی پراجیکٹ کا آغاز کیا جس کا مقصد فارسی زبان کی ضخیم لغت ” لغت نامہ دھخدا ” کی مناسب تلخیص کے ساتھ ساتھ اس کو اُردو کے قالب میں ڈھالنا تھا۔ مدیران میں ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی اور ڈاکٹر خضر نوشاہی شامل تھے۔ اس علمی پراجیکٹ میں معاون مدیر کے طور پر بابر نسیم آسی کا تقرر بھی ہو گیا۔ اس تحقیقی پراجیکٹ کے ساتھ ساتھ کچھ تدریسی ذمہ داری بھی تھی۔ ان دنوں پروفیسر انور وڑائچ شعبہ فارسی کے چئیرمین تھے۔ ایک دن ایک پروفیسر صاحب رخصت پر تھے تو وڑائچ صاحب نے آسی صاحب سے کہا کہ آج آپ کلاس دیکھ لیں۔ سلم سمارٹ اور بظاہر کم سن بابر نسیم آسی ہاتھ میں حاضری رجسٹر لے کر کلاس روم میں داخل ہوئے تو طلبہ بھی حیران رہ گئے کہ اب ہمارے ہم عمر ہمیں فارسی پڑھایا کریں گے۔ آسی صاحب نے کہا کہ آج آپ کے پروفیسر صاحب رخصت پر ہیں اور میں تو بس ایک دن کے لیے آپ کا مہمان ہوں۔ بچوں کے پاس فارسی کی کتاب بھی نہیں تھی اور پڑھنے کا بھی کوئی موڈ نہیں تھا۔ وہ کہنے لگے سر گپ شپ کریں۔ آسی صاحب نے گپ شپ کے دروان دریافت کیا کہ ویسے آج کیا پڑھنا تھا۔ ایک طالب علم کے پاس فارسی کی گائیڈ تھی اس نے دیکھ کر بتا دیا کہ امیر خسرو کی غزل پڑھنی ہے

خبرم رسید امشب کہ نگار خواہی آمد

آسی صاحب کو یہ غزل ازبر تھی۔ انہوں نے تختہ سیاہ صاف کیا اور چاک سے اس غزل کے پانچ اشعار لکھ دیے۔ گپ شپ کے فطری ماحول میں انہوں نے یہ غزل بھی پڑھا دی اور لیکچر کا دورانیہ بھی اختتام پذیر ہو گیا۔ اب آسی صاحب تو رخصت ہوئے اور کچھ ہی دیر بعد ساری کلاس صدر شعبہ فارسی پروفیسر انور وڑائچ کے حضور حاضر ہوئی اور کہا کہ ہم نے تو انہی پروفیسر صاحب سے پڑھنا ہے جو آج ہمیں پڑھانے آۓ تھے۔ انور وڑائچ صاحب نے ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی صاحب کو یہ واقعہ سنایا اور آسی صاحب کی غیر موجودگی میں اس کو داد و تحسین سے بھی خوب نوازا۔

ایک ہی لیکچر میں ساری کلاس کو اپنا گرویدہ بنا لینے کا فن ہر کس و ناکس کو نہیں آتا اور آسی صاحب خیر سے اس فن_ تخریب میں ید_ طولی رکھتے ہیں۔

ایسا ہی ایک دل چسپ واقعہ ان دنوں پیش آیا جب آسی صاحب ایم۔ اے کرنے کے بعد فراغت سے بچنے کے لیے ایک اکیڈمی میں فارسی پڑھاتے تھے۔ پنجابی پڑھانے والے استاد محترم اپنے آپ کو “باباۓ پنجابی” کہتے تھے اور یہی گمان کرتے تھے کہ پنجاب بھر میں کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو ان کی طرح پنجابی پڑھا سکے۔ موصوف کی شامت _ اعمال کیا آئی کہ ایک دن موصوف نے اکیڈمی سے چھٹی کر لی اور آسی صاحب کو ان کی کلاس میں بھیج دیا گیا۔ آسی صاحب نے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ساری کلاس کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور سب بچے پرنسپل کے پاس پہنچ گئے کہ ہم نے آسی صاحب ہی سے پنجابی پڑھنی ہے۔ اگلے دن باباۓ پنجابی نے آسی صاحب سے کہا: “جناب ! باباۓ پنجابی وی تسی او تے باباۓ فارسی وی تسی او لیکن تواڈی مہربانی اے میرے رزق تے لت نہ مارو”

آسی صاحب نے ایم- اے فارسی میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی اور یونیورسٹی نے انہیں رول آف آنر کے اعزاز سے نوازا تھا۔

2005 میں آسی صاحب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے شعبہ فارسی میں لیکچرار ہو گئے اور جنوری 2018 میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے لگے۔

تدریس آسی صاحب کا پیشہ ہی نہیں عشق بھی ہے۔ اگر کسی انسان کا ذوق و شوق ہی اس کا پیشہ بن جائے تو اس سے زیادہ خوش بختی کیا ہو سکتی ہے اور بابر نسیم آسی کا شمار اس حوالے سے خوش نصیب لوگوں میں ہوتا ہے۔ اس کا شمار ایسے اساتذہ میں ہوتا ہے جو تلامذہ میں بہت مقبول ہوتے ہیں۔

ہماری روز مرہ مجلسی زندگی میں بعض لوگوں کا طرز کلام ” از دل خیزد بر دل ریزر raser ” کی ذیل میں آتا ہے۔

گفتگو کا قرینہ اور سلیقہ بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے۔

آسی صاحب خوش لباس، خوش گفتار اور خوش مزاج انسان ہیں جن کی صحبت میں طویل نشست بھی مختصر سی لگتی ہے۔ مادری اور فادری زبان پنجابی ہے اور زیادہ تر اسی زبان میں گفتگو کرتے ہیں۔ تقریر کے فن اور اس فن کے اسرار و رموز سے آشنا ہیں۔ وہ “از دل خیزد بر دل ریزد ” کا چلتا پھرتا نمونہ بلکہ نمونہ کلام ہیں۔ ڈاکٹر بابر نسیم آسی صاحب کا در _ دولت ہمارے دانش کدے سے چند قدم کی دوری پر ہے اس لیے وہ چہل قدمی سے دامن بچاتے ہوئے اپنی کار میں آتے ہیں اور یوم سبت کو بزم پیر مغاں میں خاص طور پر رونق افروز ہوتے ہیں۔ شعبہ فارسی میں سید بادشاہ ( ڈاکٹر سید عنصر اظہر ) اور ڈاکٹر آسی لیپ ٹاپ کھول کر اور سر جوڑ کر تحقیقی گتھیوں کو سلجھانے کی مقدور بھر کوشش کرتے ہیں لیکن پھر اسی دوران میں فرقہ طعامیہ کے سرکردہ لیڈر پروفیسر ناصر کھوکھر اپنی کابینہ کے ساتھ دخل در معقولات ہو جاتے ہیں اور امور تحقیق معرضِ التوا کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہمارے کالج میں ڈاکٹر بابر نسیم آسی صاحب کا آنا جانا لگا ہی رہتا ہے۔ کچھ لوگ تو اس غلط فہمی میں بھی مبتلا ہیں کہ موصوف اسی کالج میں پروفیسر ہیں۔ ایک دن ایک پروفیسر صاحب ڈاکٹر آسی سے مخاطب ہو کر کہنے لگے:
“جناب! تواڈیاں موجاں لگیاں ہویاں نیں۔ اپنی مرضی نال آندے جاندے او صرف ہفتے نوں آندے او سانوں تے روز آناں پیندا اے۔۔۔۔

ڈاکٹر آسی نے پروفیسر موصوف کو ٹوکتے ہوئے ارشاد فرمایا:
” جناب ایکسلیریٹر پر سے پیر ہٹائیں اور بریک پر پیر رکھیں۔ کالج کیڈر اور یونیورسٹی کیڈر کے ابدی اور ازلی حفظ _ مراتب کو ملحوظِ خاطر رکھ کر بات کریں۔ میں آپ کے کالج میں پروفیسر نہیں ہوں بلکہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہوں ”

آسی صاحب نے کھیل کود کی عمر میں خود بھی پی ایچ – ڈی کر لی اور اب دوست احباب کو بھی مسلسل ترغیب دیتے رہتے ہیں۔ سید عنصر اظہر صاحب کا زبردستی داخلہ کرایا اور جب تک وہ ڈاکٹر نہیں ہو گئے آسی صاحب کو بھی چین نہیں آیا۔ پروفیسر نعیم گھمن صاحب بھی آسی صاحب کے لطف و کرم کی بدولت پی ایچ – ڈی کی تکمیل کی طرف تیزی سے گام زن ہیں۔

مجھے بھی مسلسل ترغیب دلاتے رہتے ہیں اور میں انہیں یہ پیروڈی سنا کر ٹال دیتا ہوں:

جانتا ہوں ثواب _انکریمنٹ
پر طبیعت ادھر نہیں آتی

آسی صاحب کہتے ہیں کہ یار ڈاکٹریٹ کر لو، فل پروفیسر ہو جاؤ گے۔ میں آسی صاحب سے یہی کہتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب ! پنتالیس سال کی عمر میں فل پروفیسر ہو کر آپ نے پندرہ سال تک ریٹائرمنٹ کا انتظار ہی تو کرنا ہے۔ میں بھی ٹہل قدمی کرتے ہوئے اپنی منزل مقصود تک پہنچ ہی جاؤں گا

ہمدمِ دیرینہ بابر نسیم آسی یاروں کا یار ہے۔ انسان دوست ہے اور خدمت خلق اس کا شعار ہے۔ وہ اس حقیقت سے آشنا ہے:
“ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد”

دوستوں کی دامے درمے قدمے سخنے ہر حوالے سے مدد کرتا ہے۔ پروفیسر عبد الاحد خاں صاحب کے لور ٹرانسپلانٹ کا آپریشن ہوا تو خون کی اشد ضرورت تھی اور آسی صاحب نے اپنے شاگردوں اور دوستوں کی مدد سے فوری طور پر اس کا انتظام کر دیا۔ آسی صاحب عملی زندگی میں بہت فعال ہیں۔ چاک و چوبند اور ہر وقت کسی نئے محاذ کے لیے کمر بستہ رہنے والے آسی کو ہم نے کبھی چین سے بیٹھے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ آتش زیر _ پا کی چلتی پھرتی تصویر ہے۔

وہ اس حقیقت سے آشنا ہے کہ جمود، موت کا دوسرا نام ہے:

موجیم کہ آسودگی ما عدم ماست
ما زندہ ازانیم کہ آرام نگیریم

وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں بلڈ ڈونر سوسائٹی کے ایڈوائزر بھی ہیں۔ انہوں نے اس سوسائٹی کو فعال کرنے میں بھر پور کردار ادا کیا۔ (ASA) اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے بنیاد گزاران میں شامل ہیں اور اس کے جنرل سیکرٹری اور نائب صدر بھی رہ چکے ہیں۔ سیکرٹری پراکٹوریل بورڈ اور ڈپٹی چیف پراکٹر جیسے انتظامی عہدوں پر بھی فائز رہے۔

بابر نسیم آسی بلا کا جملے باز ہے اور اس عقیدے پر کاربند ہے کہ بندہ ضائع ہوتا ہے تو ہو جاۓ لیکن جملہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ ایک مرتبہ ریفریشر کورس کے سلسلے میں ایران گئے۔ ڈاکٹر فوزیہ افتخار نے آسی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: بابر ! آپ نے فلاں لڑکی کو مبارک باد دے دی ہے جو فلاں کالج میں لیکچرار ہو گئ ہے “۔ وہ معصومہ بھی اسی قافلے میں شامل تھی اور بابر صاحب کی طرف سے مبارک باد کی منتظر تھی۔ آسی صاحب نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: “سانوں کی اے کالج آلے آپے ای بھگتن گے”۔ اس برجستگی پر محفل کشت زعفران بن گئی اور وہ معصومہ بھی آسی سے خفا ہو گئی۔

اسی طرح ایران سے ایک اعزازی پروفیسر ڈاکٹر عباس کی منش آۓ۔ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں فارسی گفتاری پڑھایا کرتے تھے۔ جو لوگ ایم۔ اے کر چکے تھے ان کے لیے سپیشل کلاس لگائ گئی تھی۔ ایک خاتون جہلم سے آئ ہوئیں تھیں۔ پہلا دن تھا اور طلبہ و طالبات اپنا تعارف کرا رہے تھے۔ وہ خاتون کہنے لگیں کہ میں جہلم سے ہوں۔ ایرانی ڈاکٹر نے کہا کہ بلیک بورڈ پر لکھ کر بتاؤ۔ خیر اس نے لکھ دیا لیکن ڈاکٹر صاحب کو سمجھ نہیں آیا اور انھوں نے آسی صاحب سے استفسار کیا۔

آسی صاحب گویا ہوئے: “این میمے ضمیری اے” یعنی جہلم میں میم ضمیر کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ ڈاکٹر عباس کی منش تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے۔

بابر نسیم آسی کا شعری ذوق قابلِ داد ہے۔ اچھا شعر دیکھتے ہی یا سنتے ہی یاد ہو جاتا ہے۔ شعروں کے انتخاب نے صرف غالب ہی کو رسوا نہیں کیا تھا، بابر نسیم آسی کو بھی رسوا کر دیا ہے۔ حافظہ تو بلا کا ہے۔ اقبال اور کلام_ اقبال کے عاشق_ صادق ہیں۔ نظموں کی نظمیں حفظ ہیں۔ اردو اور فارسی کے بلا مبالغہ ہزاروں اشعار یاد ہیں اور وہ ان خوب صورت اشعار کو موقع کی مناسبت سے سنا کر محفل کو لوٹ لینے کا فن جانتے ہیں۔ تضمین کاری اور پیروڈی میں تو مہارت حاصل ہے۔ اشعار کی پیروڈی کر کے دوست احباب کو “اخراجِ تحسین” سے نوازتے رہتے ہیں۔ خود بھی دوستوں سے ہنسی مذاق اور چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں اور یاروں کی نوک جھونک سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ایک دن شعبہ فارسی میں بیٹھے ہوئے تھے تو میں نے فارسی کا ایک مصرع پڑھا:

“خموشی معنی دارد کہ در گفتن نمی آید ”
کہنے لگے بلوچ صاحب کیا خوب صورت مصرع ہے۔ واہ! واہ ! سبحان اللہ !!

پورا شعر سنائیں۔ میں نے کہا بس ایک مصرع ہی یاد ہے۔ پھر پروفیسر عبد الاحد خاں صاحب سے کہنے لگے کہ دیکھو میں تمہارے ڈیپارٹمنٹ (فارسی ڈیپارٹمنٹ) میں بیٹھا ہوا ہوں اور فارسی کے اشعار اردو والوں سے سننے پڑ رہے ہیں۔ اپنی نہیں تو میری عزت کا ہی کچھ خیال کر لو۔ ذوقِ شعر و سخن کے ساتھ ساتھ ذوق _ طعام بھی قابل _ رشک ہے۔ فرقہ طعامیہ کے مستقل اور فعال رکن ہیں۔ میزبانی کے فرائض خوش دلی اور خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے ہیں۔ خود بھی دوستوں کو شکم سیری کے لیے مسلسل مدعو کرتے ہیں اور دوستوں کی دعوت کو بھی کبھی رد نہیں کرتے۔

فرقہ طعامیہ کی ان روحانی اور وجدانی محافل کا انعقاد کبھی تو اقبال اکادمی کے محترم فہیم ارشد کے ہاں ہوتا ہے اور کبھی پروفیسر ناصر کھوکھر صاحب میزبانی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ ان محفلوں میں سید عنصر اظہر، بابر نسیم آسی، فہیم ارشد (اقبال اکادمی)، پروفیسر ناصر کھوکھر، پروفیسر نعیم گھمن، پروفیسر وقاص اکبر اور پروفیسر خضر حیات باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں۔ کبھی کبھار گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے ڈاکٹر حافظ محمد نعیم اور ڈاکٹر سفیر حیدر بھی رونق افروز ہوتے ہیں۔ میں اپنی اکیڈمی کی مصروفیات کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکتا تو ناراض ہو جاتے ہیں اور فون کر کے شکوہ کرتے ہیں کہ آج کی تقریب کا میزبان میں ہوں اور ہمدم _ دیرینہ کی شرکت کے بغیر یہ تقریب ادھوری رہ گئی ہے۔ زندہ دل، یار باش، عالی ظرف اور محفل آرا بابر نسیم آسی جان _ محفل بھی ہے اور شان _ محفل بھی۔

بابر نسیم آسی نے ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی صاحب کی زیر نگرانی ایم- فل اور پی ایچ -ڈی کے مقالہ جات قلم بند کیے۔ ڈاکٹر مظہر محمودشیرانی صاحب آسی کے لیے والد کا درجہ رکھتے تھے بلکہ آسی کے نزدیک تو ان کا مقام و مرتبہ حقیقی والد سے بھی بلند تر ہے۔ آسی نے شیرانی صاحب کی وفات پر ” ما پدر گم کردہ ایم ” کے عنوان سے جو خاکہ لکھا ہے وہ بھی چیزے دگر ہے۔ خاکہ کیا ہے آب رواں ہے جس کی لہروں پر محبت کے گلاب اور عقیدت کے کنول تیر رہے ہیں۔ میں نے چشم _ نم سے یہ خاکہ پڑھا اور آسی کو فون پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا :

“بے نشانوں کو منزلوں کا نشان دینے والے معتبر محقق اور معروف خاکہ نگار مظہر محمود شیرانی مرحوم و مغفور کو زمانہ کیسے فراموش کر سکتا ہے۔ ان کی علمی، ادبی، تہذیبی اور انسانی عظمت تو مسلمہ ہے لیکن “ما پدر گم کردہ ایم” والے خاکے نے آج تمہیں بھی امر کر دیا ہے:

نام _ نیک _ رفتگاں ضائع مکن
تا بماند نام _ نیکت برقرار

ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی مرحوم اولاد نرینہ کی نعمت سے محروم تھے۔ انہوں نے بابر نسیم آسی کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ ان کی امیدوں کا محور و مرکز آسی ہی تھا۔ مرحوم ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی کا یاد گار قطع بابر نسیم آسی سے بے لوث اور اٹوٹ محبتوں کا مظہر ہے:

زہر _ غم صبح و شام پیتا ہوں
زخم دل کے مدام سیتا ہوں
کوئ بابر نسیم سے کہہ دے
میں تمہیں دیکھ دیکھ جیتا ہوں

ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی صاحب نے ڈاکٹر وحید قریشی مرحوم کی زیر نگرانی پی ایچ- ڈی کا مقالہ لکھا تھا۔ ڈاکٹر وحید قریشی مرحوم بھی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی تشریف لاتے تھے اور آسی صاحب دونوں اکابرین کی صحبتوں سے شاد کام ہوتے تھے۔ ڈاکٹر وحید قریشی صاحب بیمار پڑے تو حمید لطیف ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا۔ خون کی ضرورت پڑی تو دھان پان سے بابر آسی نے اپنے دادا استاد کو خون کا عطیہ کیا۔ جب ڈاکٹر وحید قریشی صحت یاب ہو کر کالج آۓ تو آسی سے کہنے لگے:

“یار ! آسی جدوں دا تیرا خون مینوں لگیا اے، میرا پٹھے پٹھے کم کرن نوں جی کردا اے۔۔۔۔”

ڈاکٹر وحید قریشی مرحوم عظیم الجثہ اور بھاری بھرکم شخصیت کے حامل تھے۔ عمر کے آخری حصے میں ان کا جسم ڈھل گیا تھا اور ان کے پیٹ میں گرہیں پڑ جاتی تھیں۔ اگر ہنستے ہوئے پیٹ میں بل پڑ جاتا تو باقاعدہ آسی صاحب وہ بل تلاش کر کے نکالتے۔ آسی کی غیر موجودگی میں تو ڈھنڈیا مچ جاتی تھی اور ڈاکٹر وحید قریشی صاحب کہتے : اس منڈے نوں لب کے لیاؤ، آسی نوں بلاؤ، کتھے چلا گیا اے آسی۔۔۔۔۔۔

قدرت کی ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ خون دینے کا معاملہ ہو یا پیٹ کے بل نکالنے کا مرحلہ، بھاری بھرکم اور لحیم شحیم ڈاکٹر وحید قریشی مرحوم کی امیدوں کا مرکز و محور دھان پان سا آسی ہی ہوتا تھا۔

منحصر ” آسی” پہ ہو جس کی امید
نا امیدی اس کی دیکھا چاہیے

یہ بھی پڑھیں: لزبئین فیمنزم : مردوں کے ساتھ زبان کا بھی دشمن؟ 
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply