ہست ونیست اور تخلیق ِکائنات کے رَمز —- مجیب الحق حقّی

0

یہ کائنات، انسان اور خالق ہمارے فکر کے میدان ہیں۔ انسان کے فلاسفے اور تفکّرات انہی دائروں میں گردش کرتے ہیں۔ انسان کے مخمصے اور کائنات کے راز انسان کی سوچ کی محدودیت کی دین ہیں۔ انسان کے لیے سب سے پریشان کن سوالات میں ایک یہی ہے کہ کائنات سے پہلے کیا تھا۔ کائنات نیست سے کیسے وارد ہوگئی۔ یعنی انسان کی عقل یہ بات ہضم نہیں کرپارہی کہ “کچھ نہ ہونے” میں سے یا خالی جگہ (نیست) میں سے ایک بڑی کائنات کیسے ظاہر ہوسکتی ہے۔

کیا ہم تخلیق ِ کائنات کی عظیم عمل انگیزی کو سمجھ سکتے ہیں؟
کیا ہم جان سکتے ہیں کہ قبل کائنات کیا تھا؟
کیا ہم نیست کی حقیقت جان سکتے ہیں؟
کیا کائنات خود بن سکتی ہے؟

آئیں ہم اپنے چھوٹے ذہن سے ایک بڑی بات کی تہہ تک پہنچنے کی ایک سعی کرتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ:

کائنات کیسے بنی ہوگی؟
کائنات کے ظہورکی وجہ تسمیہ کیا ہو سکتی ہے؟
اگر کائنات تخلیق ہے تو تخلیق کے رمز کیا ہیں؟

اس کاوش میں ہم جدید سائنسی نظریات اور قرآن سے رہنمائی بھی لیں گے۔

یہ واضح رہے کہ یہ کوئی سائنسی تشریح نہیں ہے بلکہ سائنس کے اہم مفروضات کے حوالے سے حقیقت کی تلاش میں ایک قلمی کاوش۔

اگر ہم آج سے پیچھے کی طرف علمی پیش قدمی کریں تو ہمارے قدم کائنات کی ابتدا پر جاکر ٹھہر جائیں گے کیونکہ اس سے آگے ہمارے لیے ایک اندھیرایا ایک دیوار ہے۔ یہی وہ مقام ہے جو انسان کے لیے کائنات کی ابتدا ہے اور اس دیوار کے پیچھے انسان کے علم اور تدبّر کے مطابق نیست ہے۔ ہم اس مقام سے ماضی کے کسی مظہر کو اپنے علم کی گرفت میں فی الوقت نہیں لے پائے اس لیے ہم نہیں جانتے کہ کائنات کیسے بنی۔ انسان اپنے تجربات اور مشاہدات کے تئیں اس نظریئے یعنی نیست کے ہست میں خود بخود تبدیل ہونے کو منطقی تسلیم نہیں کرتا کیونکہ انسان ابھی تک اس کی کسی علمی بنیاد سے نہ صرف بے بہرہ ہے بلکہ کسی لا یعنی فلسفے کی بنیاد پر ایک بامعنی تخلیق بھی بعید از قیاس ہے۔ سو ال یہی ہے کہ علم سے لبریز کائنات جو ہمارے علم کے بموجب علم کی بنیاد پر وجود میں آئی اس میں علم کی بنیاد پر یہ سقم کیوں ہے؟ دوسرے لفظوں میںاس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ کائنات کا فلسفہ ¿ تخلیق بھی بامعنی ہوا جو کہ نیست سے ہست ہے۔ بظاہر اس کی توضیح یہی ہو سکتی ہے کہ فی الوقت غالباً انسان کاعلم مطلوب بلندی سے محروم ہے یا اس کے علوم کسی دھوکے میں قید ہیں۔

اس بحث میں پیش قدمی سے قبل ضروری ہوگا کہ ہم جانیں کہ نیست کیا ہے؟

ہماری لغت ہمارے تصوّرات کی طابع ہے اور کسی بھی لفظ کی تعبیر و تشریح ہمارے تجربات کی روشنی میں مرتّب ہوتی ہیں اور یہ کوئی اچھنبے کی بات بھی نہیں۔ نیست کا لفظ جن معنوں میں ہم استعمال کرتے ہیں وہ روز مرّہ کے تجربات کی روشنی میں ہی اخذ کیا گیا ہے۔ نیست کے معنی کے دو پہلو ہیں ایک طبعی یا عوامی اور دوسرا علمی۔ نیست عام بول چال میں ایک خالی جگہ کی نشاندہی کرتی ہے جبکہ سائنس کے مطابق نیست کو تشکیل نہیں دیا جاسکتا کیونکہ کائنات میں ہر جگہ کوئی فیلڈ، توانائیاں اور ارتعاشات ہیں۔ کو نٹم میکینکس کے مطابق کائنات میں خالی جگہ نام کی کوئی چیز نہیںبلکہ ایک پرفیکٹ ویکیوم یا معیاری خلاءبھی اپنے اندر پارٹیکلز اور اینٹی پارٹیکلز کا جواربھاٹا رکھتا ہے جو آناً فاناً ظاہر اور معدوم ہوتے رہتے ہیں۔ گویاسائنسی ٓلات کے تئیں بھی یہ ممکن نہیں کہ لا شئے کو تشکیل دیں۔ گویا جسے ہم نیست کہتے سمجھتے ہیں حقیقت میں وہ کائنات میں اجنبی ہے وہ مظہر ہماری طبعی کائنات کا حصّہ نہیں بلکہ حقیقتاً بالائے کائنات یا بالائے ازل کا ایک مظہر ہوا جس کی ساخت، خصوصیات اورلوازمات کے بارے میں ہمارا علم صفر ہے

کائنات کی پیدائش کے حوالے سے جدید سائنس میں نئے نئے مفروضات آتے رہتے ہیں لیکن وہ اس نکتے پر تو پہنچ چکی ہے کہ کائنات ہمیشہ سے نہیں بلکہ تقریباً تیرہ ارب سال پہلے نیست سے اچانک ظاہر ہوئی۔ ہمارے لیے اس دور کے قابل ترین سائنسدان اسٹیون ہاکنگ کا ایک معنی خیز جملہ اس پُراسرار تخلیق کے بارے میں مثبت رہنمائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب دی گرینڈ ڈیزائن میں لکھا کہ ©، © کیونکہ کشش ثقل جیسا قانون موجودہے اس لیے کائنات خود کو نیست سے نہ صرف پیدا کرسکتی ہے بلکہ کرےگی!

“Because there is a law such as gravity, the universe can and will create itself from nothing. …,”
an extract from The Grand Design. Stephen Hawking

جب اسٹیو ن ہاکنگ جیسا قد آور اور غیر متنازعہ سائنسداں تخلیق پر ایک اہم بنیادی بات کہتا ہے تو یہ مستند سائنسی ہوئی۔ یہ ایک بلیغ بیانیہ ہے جس پر غور اور بحث ضروری ہے۔ اوّل اس ابہام کو ہی دور کرنا ہے کہ کوئی بھی قانون نیست میں کیونکر موجود ہوسکتا ہے! یہ بات مدّ نظر رہے کہ ہاکنگ کی نظر میں قانونِ کشش ثقل کی موجودگی ایک ضرورت ہے جو کائنات کے طبعی نظم اور فزکس کے کسی کلّیے کے بموجب لازمی ہوگا لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ جب ہم کائنات کے وجودسے قبل کسی منفی وقت میں جاپہنچے تو وہاں ہماری دنیا کے کسی طبعی کلّیہ کے لاگو ہونے کا کیا جواز ہے کیونکہ سارے طبعی قوانین تو بگ بینگ کے ساتھ ظاہر ہوئے۔ ظاہر یہی ہوا کہ یہ تو ہمارا سوچنے اور سمجھنے کا مخصوص طبعی سانچہ ہے جو بحث سمیٹنے اورنتائج اخذ کرنے میں ایک خاص ڈائریکشن میں فطرتاً آگے بڑھتا ہے اور اسی بنا پر ہاکنگ نے نیست میں کسی قانون کا ہونا منطقی اور سائنسی سمجھا۔ لیکن کیونکہ تخلیق کا عمل ایک ایسے مظہر میں ہوا جس کا ہمیں علم ہی نہیں تو ہم یہ بات وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ وہاں ایسا ہی ہوا ہوگا۔ انسان بگ بینگ پر اپنے علم کی سرحد پر ہے جہاں اسے اپنی کائنات اچانک ظاہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے لیکن اس لمحے سے پہلے کیا ہوا، کس نظم کے تحت ہوا وہ تو محض قیاس آرائیاں اور مفروضات ہی ہیں جن میں کسی کا سائنسی حقیقت بننا ابھی باقی ہے۔ ہاکنگ نے نیست میں کشش ثقل کی موجودگی کا جو نظریہ دیا یقیناً اس کی کوئی سائنسی توجیہہ ہوگی لیکن منطقی طور پر لایعنی ہے کیونکہ خالی جگہ یا نیست میں تو کوئی قانون بھی نہیں ہوگا اگر ہوا تو وہ نیست نہیں۔ مزید یہ کہ نیست وہ برتر مظہر ہوا جہاں ہست یعنی کائنات میں لاگو ہونے والے قوانین وضع ہوئے تو وہ مظہر کائنات کے قوانین کا طابع کیونکر ہو گا؟ لیکن یہ بات ہاکنگ کے ذہن میں موجود کسی ابہام اور مخمصے کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ جس کی بنا پر وہ یہ بات کہنے پر مجبور ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی تحقیق کا کوئی ایسا نتیجہ سامنے آیا ہو جس میں ابہام یا الجھاﺅ ہو مگرجس کے اظہار سے اسے مفر بھی نہیں تھا۔ اہم بات یہ ہے کہ اپنے علم کی بنیاد پر ماہر طبعیات نیست میں کائنات کو بنتے دیکھتا ہے لیکن اس کا علم بتاتا ہے کہ وہاں” کچھ اور “بھی ہونا علمی ضرورت ہے۔ وہ “کچھ اور”اور کیا ہوسکتا ہے؟

سوچنے والوں کے لیے یہ بھی ایک نکتہ ہے!

کائنات کے مشاہدے کے لیے ہمارے پاس دو زاویے ہیں ایک کائنات کے اندر اور دوسرا باہرسے۔ ماہر طبعیات محض موجود طبعی لوازمات سے ہی کائنات کا مشاہدہ کرکے علم حاصل کرتا ہے اور اس کی تشریح کرتا ہے جبکہ کائنات کے خالق کا خطاب المعروف قرآن کائنات کے تذکرے میں دونوں رخوں کے رنگ رکھتاہے۔

یاد رہے کہ علم کے حصول میں بھی انسان کے حواس لامحدود نہیں بلکہ ایک محدود یت میں فعّال ہوتے ہیں۔ یہاں یہ بات منطقی نظر آتی ہے کہ نیست سے ہست ہونا انہونی اور غیر علمی نہیں بلکہ کوئی اچھوتی علمی بنیاد رکھتا ہے جسے اسٹیون ہاکنگ پوری طرح سمجھ نہیں پایا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ سائنسداں کا یہ مشاہدہ کائنات کے اندر سے ہے اوروہ کائنات سے باہر کے بارے میں اپنے علم اور تصوّرات کے امتزاج سے اخذکردہ ایک نظریہ بیان کر تا ہے جبکہ ہمیں کائنات سے قبل اور نیست کے قوانین کا علم نہیں۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ُ تخلیقی عمل کی علمی ساخت کیا ہے اور ازل میں کون سے سسٹم فنکشنل ہیں۔ ہاں، مگر ہمیں یہاں تخلیق کی عمل انگیزی پر غور کا ایک علمی زاویہ ملا جس کی بنیاد پر ہمیں نیست کی سائنسی تشریح کی روشنی میں کائنات کی تخلیق کو نئے رنگ میںسمجھنا نسبتاً آسان ہوسکتا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ نیست اپنے حقیقی مقام یعنی بالائے ازل کے مظہرمیں کیا اور کیسے رنگ رکھتا ہوگا۔ اس کی پراپرٹیز کیا ہو سکتی ہیں۔ وہاں کچھ ہونا ایک سائنسی ضرورت ہے تو وہ ویسا ہی کیوں ہو کہ جیسا ایک سائنسدان فرض کرتا ہے، ویسا کیوں نہ ہو جیسا وحی میں بتایا گیا! گویایہ تو ہم نہیں جان پائے کہ تخلیق ِ کائنات سے قبل کیا تھا لیکن اپنے علم کی روشنی میں ایک مفروضہ بنا سکتے ہیں کہ وہاں کیا ہوسکتا تھا۔ مثلاً یہی کہ نیست ایک ایسا اجنبی مظہر ہے جہاں تخلیق کے بھاری وسائل ہوں۔ اس مظہر میں نہ جانے کتنے سسٹم ہوں جو ہمارے علم کی گرفت میں فی الوقت نہیں آسکتے لیکن وہ تمام سسٹم شئے کی تخلیق کے عوامل اور وسائل سے لیس ہوں؟

کیا ہم کسی منطقی بنیاد پر مندرجہ بالا مفروضے کو رد کر سکتے ہیں؟

یہاں اس بحث سے محض یہ ثابت کرنا ہے کہ انسان بہت سے جامد خیالات کا اسیر ہوجاتا ہے جو ہم کو نئے تصورات کو قبول کرنے میں مانع ہوتے ہیں جبکہ ایسا ہونا عین ممکن ہوتا ہے۔ یہی وہ بات ہوسکتی ہے جو نیست سے ہست کے نظریئے کو فی الوقت ایک عقلی اور پھر علمی بنیاد دے سکے۔ یعنی تشکیل ِ کائنات سے قبل نیست کے مظہر میں ماورا ءِ شئے یعنی پیرا تھنگز موجود تھیں جو کسی امر اور کمانڈ کے ذریعے اشیا ء میں تبدیل ہوئیں۔ نیست میں کوئی بڑا پروگرام کسی اشارے یا کمانڈ پر چل پڑنے کو تیّار تھا۔ اس پھیلتی کائنات کے باہر کوئی اچھوتاہائی ٹیک مظہر ہے جو کائنات کے ادنیٰ سے ادنیٰ پارٹیکل اور بڑے سے بڑے ستارے پر گرفت رکھے ہوئے ہے۔ ہم جسے نیچر یا قدرت کہتے ہیں وہ اس ہائی ٹیک مظہر کا ایک ٹول ہوسکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے اور کائنات کا مستند طبعی قانون ہے کہ بغیر کمانڈ اینڈ کنٹرول کوئی کام خود نہیں ہوتا۔ آپ اسے کائنات کا جبلّی وصف بھی کہہ سکتے ہیںجس سے کائنات خود بھی مستثنیٰ نہیں ہوسکتی۔

ہمارا مذکورہ بالا منظر نامہ عین عقلی اور عملی ہے بشرطیکہ ہم اپنے جامد تصورات اور نظریات کے خول کو توڑدیں۔ اکثر لوگ مذہب کو ایک فرسودہ روایت سمجھ کر مسترد کرتے ہیں لیکن اسلام اُسی ہائی ٹیک نظم کا ایک حصہ ہے جو زمین پر موجود انسانوں کو اس ذات کی طرف متوجّہ کرتا ہے جو ہماری سوچ کے دائروں سے باہر مقیم ہے۔ یہاں قرآن تخلیق کائنات سے قبل کی روداد ہماری سمجھ کے پیرایوں میں بتاتا ہے کہ خالق نے ایک سسٹم تخلیق کیا جس میں ایک معیّن وقت لگا اور پھر ایک اشارے یا کمانڈ “کُن”پر وہ چل پڑا۔ یعنی لا شئے میں ایک نظم بنا جس میں ایسے مظاہر تخلیق ہوئے جن کا ہمیں ادراک نہیں لیکن ان میں ایسا رمزتھا اور ہے جہاں لاشئے شئے بن کر اور انسان کے حواس سے منطبق ہوکر انسان کے لیے ظاہر ہوجاتی ہیں جیسا کہ کائنات کی ابتدا میں ہوا اور اب بھی شاید ایسا ہوتا ہو۔ انسان اس میکینزم کو نہیں جان پارہا اس لیے لاشئے یعنی نیست سے تشکیل ِشئے کا یہ مبدا انسان کے حواس کے لیے ایک پردہ بنا اور اَزل کہلایا۔ اسی طرح وجود جو ہمارے لیے ایک طبعی حقیقت ہے مگر” لا شئے ” یا نیست کے حوالے سے ایک دھوکہ بھی ہوسکتا کہ جس سے خلاصی موت پر ہی ہوگی۔ موت کے وقت نئے حقائق آشکارا ہو سکتے ہیں جیسا کہ رواں وقت معدوم ہوجائے اور انسان کہے کہ شاید چند ثانیے دنیا میں گزارآیا۔ مفروضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان وجود کے غبّارے میں قید ہے اور ایک وقت یہ غبارہ معدوم ہوجائے گا اور اس کے ساتھ وجود کے تصورات بھی۔ جن دوستوں کو تخلیق ِ کائنات کے پیچیدہ مظہر کی جستجو ہے وہ اس زاویے سے غور کریں کیونکہ غور ہی فکر کے دریچے وا کرتا اور پزل کو حل کرتا ہے۔ بس یہ جان لیں کہ ایک سپر سائنس ہماری سائنس پر حاوی ہے۔ اس سپر سائنس کو نیچر اور قدرت کہنا خود فریبی ہے کیونکہ آپ کے پاس نیچر کے طریقہ کار کے حوالے سے اٹھنے والے اہم بنیادی سوالات کے جوابات نہیں۔

انسان وجود کے منشور سے ہر چیز کو پرکھتا ہے اس لیے جس چیز کا وجود اس کی نظر میں مشکوک ہو تو انسان اسے نہیں مانتا۔ یہی معاملہ خالق ِ کائنات کی ذات کی قبولیت کا ہے۔ لیکن جو انسان ازل سے قبل کسی مظہر کو نہیں سمجھ پایا وہ بھلا ازل کے خالق کو کیا جان پائے؟ قبل ِازل ایک بھول بھلیّاں ہے جس میں ہر دور کا فلسفی سر کھپاتا دنیا سے گذر جاتا ہے۔ ازل کے پرے کیا ہے، کیا نظم ہیں اور وہاں کی حقیقتیں کیا ہیں وہ مادّی مظاہر میں قید انسان مادّی علم کے توسّط سے شاید نہ جان پائے۔

یہ نکتہ ضرور مدّ نظر رہے کہ خیال کی پرواز دماغ کی ساخت کے اجزائے ترکیبی کی جبلّت اور خمیر کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ایک مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹ کے خیالات کا مبدا اور اس کا خمیر دھات اور بجلی سے کشیدہ ہے جبکہ انسان کی فکر کی اساس خلیاتی اور برقی ہے۔ یعنی دونوں اپنے اپنے خالق کی ذات اور قوّتِ تخلیق سے ہم آہنگ جبلّت سے محروم ہیں اور اسی لئے نہ روبوٹ اپنے خالق کو جان پاتا ہے اور نہ ہی انسان کسی طبعی، علمی اور سائنسی رنگ میں۔ جہاں عقل مفلوج ہوجاتی ہے وہیں پر وجدان انسان کو راہ دکھاتا ہے اور غیب پر ایمان قلب و ذہن کو مطمئن کرتا ہے۔ یہی دین فطرت کی نشانی ہے۔

کیا اس ذات باری کی قوّت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جس نے کہہ دیا کہ دنیا ایک کھیل تماشہ ہے؟

جس نے کہہ دیا کہ ہم نے کائنات بنائی اور ہم ہی اسے پھیلارہے ہیں!
جس نے فرمادیا کہ وہ انسان کے دلوں کا حال جانتا ہے،
جس نے کہا کہ میں نے تم کو پیدا کیا، کان، آنکھ اور دل بنائے، لیکن تم شکر نہیں کرتے۔
جس نے ہر انسان کو الگ شکل اور الگ آواز دی!
کیا انسان اس سوفٹ ویئر کی گرد کو بھی پہنچ پایا جو کائنات میں بے مثال توازن کو قائم رکھے ہے؟

اس نے کہا، کہ تم زمین و آسمان کی تخلیق میں غور کیوں نہیں کرتے۔ یہاں ہم نے غور ہی کیا کہ کائنات کی ابتدا کیسے ہوئی،

ٓآپ بھی کچھ اور غور کریں!

کیونکہ یہ بھی کہہ دیا کہ جنّت(ابد) وہ جگہ جو نہ کسی آنکھ نے دیکھی، نہ کسی کان نے سنی اور نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال تک گذرا۔

انفس و آفاق میںنہ ختم ہوتے علم کے انبار اور موت کے بعد کے اندیشے دعوت ِغور و فکر دیتے ہیں۔
جان لیجئے کہ ہم ایک کھیل تماشے کے کھلاڑی ہیں، لیکن یہ کھیل بہت سنجیدہ ہے۔ آگ اور پھول کا کھیل!
یہ من چلے کا سودا ہے، کھٹّا بھی ہے اور میٹھا بھی ! پسند ہماری!

بس یہ جان لیں کہ، ،

اللہ کو ماننے کے لیے ہر تعصّب سے پاک ایک کھلے اور کشادہ مائنڈ سیٹ کی ضرورت ہے۔
اللہ کو جان لو مان لو اور جھک جاﺅ کہ،
کہیں موت کے بعد کی انجانی حقیقتیں حیران و پریشان نہ کردیں۔

وما علینا الّا البلاغ

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply