درویش مین : ڈاکٹر عرفان پاشا کا خاکہ — مظفر حسن بلوچ کے قلم سے

0

ماسٹر اللہ رکھا کا تعلق شیخو پورہ کے نواح میں واقع ایک گاؤں گوپی رائے سے ہے۔ ستر سال اور دس جوان جہان بچوں کے والد بزرگوار ہونے کے باوجود “سترے بہترے” نہیں ہوۓ۔ زندگی سے بھر پور اور جواں ہمت بزرگ_خوش خصال ہیں۔ وہ بھی کیا دن تھے کہ جب محدود وسائل اور کم آمدنی کے باوجود اولاد_نرینہ یا غیر نرینہ کی تفریق کے بغیر اولاد کو نعمت_مترقبہ سمجھا جاتا تھا۔ “کم بچے خوش حال گھرانہ” اور “بچے دو ہی اچھے” کے ہوش ربا نعروں کی گونج نے ابھی شہری حدود سے نکل کر دیہات کی سرحد عبور نہیں کی تھی۔ لوگوں کا اعتقاد اور اعتماد قائم تھا کہ ہر آنے والا اپنا رزق لے کر آتا ہے۔ فارغ البالی کا دور دورہ تھا اور خلق_خدا حرص و ہوس کے دام میں گرفتار نہیں ہوئ تھی۔ گھر کے آنگن میں چڑیوں کی تعداد اور بچوں کی تعداد میں انیس بیس کا فرق ہوا کرتا تھا۔

ماسٹر اللہ رکھا شیخو پورہ کے نواح میں واقع ایک گاؤں “تھابل” میں اسکول ہیڈماسٹر تھے۔ اپنے فرائض منصبی دیانت داری سے سر انجام دینے اور رزق حلال کمانے کا ثمر قدرت نے اس خوب صورتی سے عطا کیا کہ دنیا عش عش کر اٹھی۔ ماسٹر صاحب کے تین بچے پی ایچ_ڈی، چار بچے ایم_فل اور باقی ماندہ تین بچے بھی ایم_اے ہیں۔ دس بچوں پر مشتمل اس علمی و ادبی گھرانے کے پاس گیارہ اکیڈیمک گولڈ میڈل ہیں۔ ماسٹر صاحب کی دختر_نیک اختر میمونہ سحر نے اوری اینٹل کالج، لاہور سے ایم_اردو کیا اور پہلی پوزیشن حاصل کی۔ پاشا فیملی کی اس دختر_نیک اختر نے پانچ گولڈ میڈل حاصل کر کے جامعہ پنجاب کا ایک سو چھبیس سالہ ریکارڈ پاش پاش کر دیا۔ والد بزرگوار کے نقش_قدم پر چلتے ہوئے چھ بہن بھائی شعبہء تدریس سے وابستہ ہیں۔

کثیر العیال ماسٹر صاحب کے دس بچوں کی اکیڈمک اور پیشہ ورانہ فتوحات کے پیش نظر ہم بلا خوف_تردید کم از کم دس مرتبہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں:
این خانہ ہمہ آفتاب است
دس بچوں کی اس فلکی، آسمانی اور نزولی ترتیب میں ڈاکٹر عرفان پاشا کا تیسرا نمبر ہے۔

میں 22 جولائی 2014 کو گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز، لاہور سے باہمی تبادلہ کے بعد گورنمنٹ شالا مار کالج لاہور آگیا اور پروفیسر رانا حسین ناہر خاں صاحب نے اسلامیہ کالج سول لائنز میں میرا منصب سنبھال لیا۔ گورنمنٹ شالا مار کالج، لاہور کو “کالجوں کی جنت” بھی کہا جاتا ہے۔ اسی زمینی، زمانی اور مکانی جنت میں میری ملاقات عرفان پاشا سے ہوئی جو ان دنوں اردو کا لیکچرار تھا۔ شعبہء اردو کے صدر نشیں پروفیسر عبدالرحمن بٹ صاحب تھے اور مجھے اس کالج میں تبادلے سے پہلے بارہا ڈرا چکے تھے کہ ادھر مت آنا، شعبہء اردو کالج انتظامیہ کی ہٹ لسٹ پر ہے اور ہمیشہ زیر_عتاب رہتا ہے۔ میں فیصلہ کر چکا تھا اور رانا ناہر بھی زندگی میں سکون کا متلاشی تھا۔ خیر شعبہ اردو عرفان پاشا کے قہقہوں سے گونجتا رہتا اور ہم لوگ اس کے لطیفوں اور جگتوں سے بہت محظوظ ہوتے۔ جملہ باز اور جگت طراز، عرفان پاشا سے کوئی بھی محفوظ نہیں تھا۔ کیا ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ اور کیا ٹیل آف دی ڈیپارٹمنٹ سب نشانے پر ہوتے تھے۔ پروفیسر عبدالاحد خان، پروفیسر عمران تبسم اور پروفیسر ناصر کھوکھر تو پاشا صاحب کی مرغوب و محبوب ہستیاں تھیں کہ جن کے ہوتے ہوئے باقی ماندہ لوگوں میں احساس تحفظ موجود رہتا تھا کہ پاشا کی توپوں کا رخ ہماری طرف نہیں ہو گا۔

عرفان پاشا سب کی آنکھوں کا تارا اور شعبہ ء اردو کا مرکز و محور تھا اور جس دن ڈیپارٹمنٹ میں سکوت طاری ہوتا تو اس کا مطلب یہی ہوتا کہ پاشا آج چھٹی پر ہے۔ زندگی اور زندہ دلی سے بھر پور عرفان پاشا اعلیٰ ظرف بھی ہے اور وسیع القلب بھی۔ وہ اگر دوستوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا تو دوستوں کے ردعمل سے لطف اندوز بھی ہوتا۔ یار دوست بھی جوابی حملہ کرتے اور وہ قہقہوں سے ان کے جملوں اور جگتوں کا استقبال کرتا۔ عمران تبسم کی چاۓ دوستی، سگریٹ نوشی، مجرد زندگی اور سکھوں سے علاقائی نسبت پر جو لطیفے، جملے اور جگتیں گھڑی جاتیں ان کے لیے بھی ایک دفتر درکار ہے۔

عرفان پاشا کا تعلق اساتذہ کی اس نسل سے ہے جو اپنے تلامذہ کی تہذیبی، ادبی اور فکری آبیاری کرنے میں ہمیشہ مشغول و منہمک رہتے ہیں۔ کلاس روم میں نظم و ضبط کے قائل ہیں اور کسی کو موبائل فون استعمال نہیں کرنے دیتے۔ پہلے دن ہی کلاس روم کے آداب کے حوالے سے بھر پور لیکچر دے دیا جاتا اور اس کے بعد بھی اگر کوئی طالب علم موبائل فون استعمال کرتا تو اس کا فون کلاس روم سے باہر پھینک دیا جاتا جو بعض اوقات لیکچر ختم ہونے کے بعد دستیاب بھی ہو جاتا لیکن اس حالت میں کہ ڈمی کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ باقاعدہ ہوم ورک بھی دیا جاتا اور جو تلامذہ مسلسل کام چوری اور تساہل پسندی کا مظاہرہ کرتے انہیں کلاس روم سے نکال دیا جاتا۔ ایک دن درجن بھر طلباء کالج میں مٹر گشت کر رہے تھے اور پرنسپل صاحب راؤنڈ پر تھے، انہوں نے ڈانٹا ڈپٹا تو بچوں نے کہا کہ سر پاشا نے کلاس سے نکال دیا ہے۔ پرنسپل صاحب بہ نفسِ نفیس تشریف لائے اور پاشا صاحب سے کہا کہ ان کو بٹھا لیں۔ پاشا نے کہا کہ سر انہیں سزا کے طور پر نکالا گیا ہے۔ پرنسپل صاحب نے کہا کہ آپ کلاس روم میں ہی سزا دے دیں لیکن باہر مت نکالیں۔ اس کے جواب میں پاشا صاحب نے کہا کہ آپ مجھے سزا کی اجازت مرحمت فرما دیں اور میں ویڈیو بنا لیتا ہوں تاکہ سند رہے اور بہ وقت ضرورت کام آۓ۔

کالج انتظامیہ سے ان کے تعلقات ہمیشہ کشیدہ ہی رہے۔ پروفیسر ماجد وزیر صاحب کی دل سے عزت کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ ماجد صاحب ایک ذمہ دار استاد اور شریف النفس انسان ہیں لیکن پاشا کالج میں کسی بھی مخصوص ٹولے کی کسی بھی طرح کی اجارہ داری کے سخت خلاف تھا۔ اس کا نقطہء نظر یہ تھا کہ اجارہ داری کسی کی بھی ہو، باعث_ تخریب ہے۔ اس ضمن میں کیا اتحاد اساتذہ اور کیا تحریک اساتذہ دونوں کی انتہا پسندی اور شدت پسندی پر شکوہ کناں رہتے۔ پی پی ایل اے کے الیکشن ہوئے تو کالج کی سطح پرجوائنٹ سیکرٹری کی سیٹ پر تحریک اساتذہ کی طرف سے الیکشن لڑا۔ ماجد وزیر صاحب سے سر راہ ملاقات ہوئی تو انہوں نے محبت سے شکوہ کیا جسے ہنس کر ٹال دیا۔ اسی الیکشن مہم کے سلسلے میں ایک دن تحریک اساتذہ کے اصاغر و اکابر کالج تشریف لائے۔ ان میں سے ایک صاحب ایسے بھی تھے جن سے پاشا صاحب کی نہیں بنتی تھی۔ شعبہ ء اردو میں صرف صدر شعبہ ء اردو پروفیسر عبد الرحمن بٹ صاحب موجود تھے یا پاشا صاحب۔ بٹ صاحب نے پہلے تو آنکھوں سے اشارہ کیا، پھر کچھ خفی اور جلی اشارے بھی کیے اور آخر میں حکم بھی دے دیا کہ اٹھویار! چاۓ بنادو لیکن پاشا صاحب نے مہمان نوازی کے جملہ آداب کو بالائے طاق رکھا اور لیپ ٹاپ کھول کر اپنے کسی تحقیقی مضمون کی نوک پلک سنوارتے رہے۔ مہمان دشمنی اور بد تہذیبی کا عملی مظاہرہ دیکھ کر بٹ صاحب نے چاۓ اپنے ہاتھوں سے تیار کی اور سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ پاشا دائیں یا بائیں بازو کی قید سے آزاد ایسا مرد درویش ہے جو حق و صداقت اور انسانی قدروں کا امین ہے۔ چاپلوس، کاسہ لیس اور خوشامدی ٹولے کا ازلی و ابدی دشمن عرفان پاشا منافقت کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اس کے ہاں غلطی کی معافی ضرور ہے لیکن سازش کی کوئی معافی نہیں۔

سگریٹ نوشی نہیں کرتا لیکن اگر کوئی دوست مسلسل سگریٹ پی رہا ہو تو اس کی اجازت کے بغیر اس کے پیکٹ سے سگریٹ نکال کر سلگا لیتا ہے اور سگریٹ کے دبیز دھوئیں کے گولے بنا بنا کر اسی یار_مہربان کے منہ پر مارتا رہتا ہے۔

عرفان پاشا کی شخصیت میں ہزاربشری کمزوریاں اور کجیاں سہی لیکن وہ منافق نہیں ہے۔ جیسا ہے ویسا ہی نظر بھی آتا ہے۔ جو کرتا نہیں، اس کی تلقین اور نصیحت بھی نہیں کرتا۔ ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ عرفان پاشا کسی کو نماز، روزے یا عبادات کی تلقین کر رہا ہو۔

دو ٹوک انداز گفتگو جس میں ابہام کا شائبہ تک موجود نہیں ہوتا۔ اگر کوئی اجنبی موصوف کے طرزِ کلام کا مشاہدہ کر لے تو یہی سمجھتا ہے کہ اچھی خاصی ڈانٹ پلانے کے بعد اب اپنا آخری اور حتمی فیصلہ سنایا جا رہا ہے۔

لباس صاف ستھرا اور استری شدہ، مصنوعی آرائش کے قائل نہیں ہیں۔ جو دل کیا، زیب تن کر لیا۔ کبھی پینٹ کوٹ کبھی شلوار قمیض، کبھی پتلون شرٹ اور کبھی جینز کے ساتھ کرتا بھی پہن لیا کرتے۔ تراش خراش کے حوالے سے بھی من موجی ہیں کبھی کلین شیو، کبھی مونچھیں اور کبھی فرنچ کٹ ڈاڑھی۔ فرنچ کٹ داڑھی کے ساتھ جب جینز اور کرتے میں ملبوس ہوتے تو ایسا لگتا جیسے ایک ماڈل کی طرح “پاشا فیبرکس” کے ملبوسات کی نمائش کر رہے ہیں۔ وجیہہ اور صبیح، عرفان پاشا ہر لباس اور ہر انداز میں منفرد دکھائی دیتا۔

سیاہ ماتمی لباس میں تو صنعت تضاد کا چلتا پھرتا نمونہ لگتا ہے کہ با آواز بلند اور کسی توقف کے بغیر قہقہے لگا رہا ہے جن کی تانیں مسلسل بلندی کی طرف مائل ہیں۔

سید بادشاہ، پروفیسر سید عنصر علی چیف پراکٹر تھے۔ ایک دن ڈیوٹی پر تھے تو محسوس کیا کہ کچھ اساتذہ پراکٹوریل ڈیوٹی سے غیر حاضر ہیں۔ ان کی لسٹ بنا کر پرنسپل صاحب کے حضور پیش کر دی۔ اس لسٹ میں پاشا صاحب کا نام بھی شامل تھا۔ پرنسپل صاحب نے بلایا تو ان کے دفتر چلے گئے اور کہا کہ میں اور پروفیسر اکرم صاحب( جغرافیہ والے) تو راؤنڈ پر تھے۔ آپ تحقیق کر سکتے ہیں۔ پھر سیدھے سید بادشاہ کے کمرے میں آ کر ان سے شکوہ کیا کہ ہم دو لوگوں کے علاوہ سب لوگ ڈیوٹی نہیں کرتے، اپنے آپ کو اپ گریڈ کرنے کے لیے دوسروں کو ڈی گریڈ کرنا شرفاء کا شیوہ نہیں ہے۔ بس پھر تو روز ہی عنصر صاحب کے کمرے میں جا بیٹھتے اور کہتے کہ میں تو حاضر ہوں اب باقی لوگوں کو بلائیں اور میرے ساتھ کریں تاکہ ہم مل کر ڈیوٹی کریں ورنہ میں بھی یہاں بیٹھا ہوں۔ آخر کار دونوں میں تلخ کلامی ہو گئ۔ آپ سے تم، تم سے تو ہونے لگی تو دوستوں نے سمجھایا کہ خیال کرو اور درگزر فرماؤ۔ یہ پراکٹوریل معرکہ لسانی تشکیل کا عمدہ نمونہ تھا جس میں اردو، پنجابی، فارسی اور انگلش میں حریفین کو داد سخن سے خوب خوب نوازا گیا۔

پروفیسر اکرام خالد صاحب سے گستاخانہ حد تک چھیڑ چھاڑ بھی کرتا رہتا اور اس کار_خیر میں کبھی کبھی میں بھی شریک ہو جاتا۔ پروفیسر اکرام خالد صاحب جب زچ ہو جاتے تو کہتے : جدوں پاشا تے بلوچ رل جاندے نیں تے گڑ بڑ ہو جاندی اے، کلیاں کلیاں آیا کرو”

ان تمام گستاخیوں کے باوجود عرفان پاشا کالج میں علمی، ادبی اور فکری رہنمائی کے لیے پروفیسر اکرام خالد صاحب ہی سے رجوع کرتا تھا۔ عرفان پاشا ایم اے اردو کو” میروغالب کا خصوصی مطالعہ” کا پرچہ پڑھایا کرتا تھا۔ جب اس کی ایجوکیشن یونیورسٹی میں سیلیکشن ہو گئی تو دو چار دنوں بعد ایم اے اردو کے بچے کچھ بجھے بجھے دکھائی دیے۔ میں نے بچوں سے پوچھا کہ خیر تو ہے؟ کیا ہوا ہے؟ کہنے لگے کہ سر اردو ڈیپارٹمنٹ کا ہیرا چلا گیا ہے۔

پاشا صاحب خوش گفتار، خوب رو، خوش خط اور خوش نویس انسان ہیں۔

شعبہء فارسی میں ان کے ہاتھ سے خط_نستعلیق میں لکھا ہوا غالب کا یہ مصرع ان کی یاد دلاتا رہتا ہے:
فارسی بیں تا ببینی نقش ہاۓ رنگ رنگ

اس زمانے میں فارسی اور اردو ڈیپارٹمنٹ ساتھ ساتھ ہی ہوتے تھے۔ میں نے از رہ تفنن کہا کہ اس شعر کا دوسرا مصرع شعبہ اردو کی نذر کر دیں
بگذر از مجموعہ اردو کہ بے رنگ من است
ہنس کر کہنے لگے کہ اپنی سبکی کا خدشہ ہے ورنہ لکھنے میں تو کوئی مضائقہ نہیں۔

مجھے کم و بیش دو سال عرفان پاشا کی بزم آرائیوں سے براہِ راست فیض یاب ہونے کی سعادت حاصل رہی۔ 2016 میں ڈاکٹر عرفان پاشا کی یونیورسٹی آف ایجوکیشن، ٹاؤن شپ کیمپس میں بہ طور لیکچرار اردو سیلیکشن ہو گئ۔ اس کے جانے کے بعد بولتا ہوا چمن خاموش ہو گیا اور شعبہ اردو کی رونقوں ماند پڑ گئیں۔

22جون سال کا طویل ترین دن ہوتا ہے اور یہی تاریخی دن اس کی تاریخ_پیدئش ہے۔ عرفان پاشا نے شاعر_مشرق کی پیدائش کے ٹھیک سو سال بعد اپنی آمد کے ساتھ ہی حیات بخش پیغام دے دیا کہ اب نرگس کو اپنی بے نوری پر رونے کے لیے ہزاروں سال کی ضرورت نہیں ہے، اس کا صد سالہ گریہ ہی قبول و مقبول ہو گیا ہے۔ عرفان پاشا اپنے ننھیالی گاؤں گوپی رائے (جسے عرف عام میں گوپے راہ کہا جاتا ہے اور ایک پنجابی کہاوت میں اس گائوں کا نام بھی آتا ہے) میں پیدا ہوا۔ اس کے والد صاحب ساتھ والے گاؤں تھابل کے سرکاری اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ والد صاحب شادی کے بعد اپنے سسرالی گاؤں میں قیام پذیر ہو گئے تھے۔ یہ گاؤں تب بجلی جیسی نعمت سے محروم تھا اس لیے رات کے وقت لالٹین کی روشنی میں بھی تعلیم و تربیت کا سلسلہ جاری رہتا۔ معاملہ فہم والدہ صاحبہ نے ڈسپلن میں سختی کے باعث تیر کی طرح سیدھا کیا تووالد صاحب کی علمی تربیت نے بچوں میں کسب_کمال کا ذوق و شوق پیدا کر دیا تھا جس نے اگلی منازل میں کامیابیوں کے لیے راستہ ہموار کردیا۔ عرفان پاشا کا ہاتھ پکڑ کر تختی پر لکھنا سکھایا۔ خوش خطی کا اولین سبق دیا اور اپنے ہاتھوں سے قلم تراش تراش کر اس طفل_مکتب کی بنیادی تراش خراش کی۔ عرفان پاشا آج بھی ماضی کی انہی گلیوں میں جا نکلتا ہے جہاں ٹاٹ پر بیٹھ کر، تختی کو گود میں رکھ کر خوش نویسی کیا کرتا تھا۔ 1985 میں اس خاندان نے گاؤں سے ہجرت کرکےشیخوپورہ شہر میں سکونت اختیار کر لی۔ بڑی بہن نے پانچ جماعتیں پاس کر لی تھیں اور گاؤں میں کوئ مڈل یا ہائی اسکول نہیں تھا۔ ماسٹر صاحب نے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کے لیے گاؤں کو خیر باد کہہ دیا۔ خاندان میں کوئ لڑکی پانچ جماعتوں سے آگے نہیں بڑھ سکی تھی اور لڑکیوں کے شہر جا کر پڑھنے کو خاندانی روایت سے بغاوت تصور کیا جاتا تھا۔ عرفان پاشا نے تیسری کلاس میں شیخوپورہ کے اسکول میں داخلہ لے لیا۔ اسی اسکول سے اس نے پرائمری کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ یہ اسکول ایم سی پرائمری سکول محلہ چوڑی گراں شیخوپورہ ہے جسے عرف_عام میں کھوتی سکول بھی کہا جاتا ہے۔ عرفان پاشا کی طلسماتی شخصیت میں اس کی اپنی ریاضت کے علاوہ اس سکول کا بھی مثالی کردار رہا ہے۔ ۔ خاندان کے مذہبی پس منظر اور بچوں کی کثرت کے پیشِ نظر ماسٹر صاحب کے دل میں یہ خیال دامن گیر ہوا کہ عرفان پاشا کی فکر_رسا کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا جائے۔ اسی دینی اور مذہبی جذبے کی شدت سے مغلوب ہو کر عرفان پاشا کو قریبی مدرسے میں داخل کرا دیا گیا۔ یہ ایک اقامتی ادارہ تھا جہاں پانچ سال سے لے کر پچاس سال کی عمر تک کے طالب علم موجود تھے۔ عرفان پاشا تو ڈے اسکالر تھا اس لیے نمازعصر کے بعد گھر آ جاتا تھا لیکن اقامتی طلباء رات کو ایک بڑے سے ہال میں صفوں پر دراز اور نیم دراز ہو جاتے تھے۔ عمروں کے تفاوت سے بے نیاز بندہ و صاحب و محتاج و غنی ان صفوں پر صف آراء رہتے تھے۔ ان روحانی مجالس کی علت مشائخ سے معمور “روح پرور داستانوں” سے عرفان پاشا کا جی اچاٹ ہو گیا اور دو یا تین سال کے بعد اس مدرسے کو خیر باد کہہ کر براہ راست ساتویں کلاس میں داخلہ لے لیا۔ گورنمنٹ ہائی اسکول شیخو پورہ سے میٹرک کا امتحان پاس کر کے گورنمنٹ کالج، شیخوپورہ میں داخلہ لے لیا۔ ایف ایس سی میں دل نہ لگا تو پرائیوٹ امیدوار کی حیثیت سے ایف اے کر لیا۔ میکینکل انجینئرنگ کی تین سالہ اپرنٹس شپ بھی کی۔

2001میں گورنمنٹ اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ لاہور سے ایم اے انگریزی میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 2001_2003 میں ایف سی کالج لاہور میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا اور پہلی پوزیشن حاصل کی اور سر شیخ عبد القادر گولڈ میڈل کے حق دار قرار پاۓ۔

2001 میں عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا۔ روز نامہ “دن” میں بہ طور سب ایڈیٹر کام کیا۔ روز نامہ خبریں اور نواۓ وقت سے منسلک رہے لیکن مزاج میں درویشی کا رنگ بھی غالب تھا۔ پیشہ ورانہ صحافت کے دوران میں ایک بڑے میڈیا گروپ کی انتظامیہ سے کسی ایشو پر نقطہ نظر کا اختلاف ہو گیا۔ بات بڑھی تو سرمایہ دار نے محنت کش کو طعنہ دیا کہ تمہاری یہ شان و شوکت اور گھن گرج ہماری دین ہے۔ اسی دن یہ مرد درویش، سرمایہ دار کی رعونت اور اس کے درہم و دینار پر خاک ڈالتا ہوا، استعفیٰ دے کر گھر آ بیٹھا۔

2005 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کی پر زور سفارش کے بعد اردو کا لیکچرار ہو گیا اور پہلی پوسٹنگ گورنمنٹ کالج نارنگ منڈی میں ہوئی۔ کسی دور میں پروفیسر ڈاکٹر معراج نیر زیدی وہاں بہ طور پرنسپل بھی رہے چکے تھے۔ انہوں نے ایک کالج میگزین “نو رنگ” بھی نکالا تھا۔ وہ اس کا صرف ایک شمارہ نکال پائے تھے اور اس کے بعد دس بارہ سال تک یہ ادبی سلسلہ معطل ہی رہا۔ اس سلسلے کو عرفان پاشا نے آگے بڑھایا اور اس کا دوسرا شمارہ بارہ سال کے بعد منظرِ عام پر آیا۔

2008-2006 کے تعلیمی سیشن میں ایجوکیشن یونیورسٹی، لاہور سے ایم فل کیا اور ڈاکٹر تبسم کاشمیری صاحب کی زیر نگرانی” اردو ادب کی تاریخ کے مآخذات” پر تحقیقی اور تنقیدی مقالہ سپردِ قلم کیا۔ اسی تحقیقی اور تاریخی مقالے کے سلسلے میں ایک بار استاذ الاساتذہ ڈاکٹر وحید قریشی صاحب سے انٹرویو لینے ان کے دولت کدے پر جا پہنچے۔ ان کے ہمراہ ان کے استاد محترم پروفیسر ڈاکٹر ریاض قدیر کے علاوہ پروفیسر غلام صابر بھی تھے۔ ان دنوں پاشا صاحب کلین شیو تھے، لمبی لمبی زلفیں رخساروں کو گدگدا رہی تھیں۔ رہی سہی کسر سرخ رنگ کی شرٹ نے پوری کر دی۔ پاشا صاحب کچھ دیر تو خاموشی سے ادبی بزرگوں کی گفتگو سماعت فرماتے رہے اور جب لب کشا ہوۓ تو ڈاکٹر وحید قریشی صاحب نے اپنے مخصوص پنجابی لب و لہجے میں کہا: اے بولیا اے تے پتا چلیا اے کہ منڈا اے، میں تے ایہنوں ہن تیکر کڑی سمجھدا رہیاں”۔ اسی یونیورسٹی سے بعد ازاں پی ایچ ڈی بھی کر لی جو 2015 میں تمام تر مراحل کے بعد تکمیل پذیر ہوئی۔ “اردو ادب پر عالم گیریت کے اثرات” کے موضوع پر پروفیسر ڈاکٹر وحید الرحمن خان صاحب کی زیر نگرانی مقالہ لکھا۔ ڈاکٹر وحید الرحمن خان کی زیر نگرانی ڈاکٹریٹ کرنے والا پہلا اور چہیتا شاگرد عرفان پاشا ہی ہے۔

اس کی ادبی شخصیت میں نکھار اور وقار پیدا کرنے میں اس کے اساتذہ اکرام ڈاکٹر ریاض قدیرصاحب اور ڈاکٹر تبسم کاشمیری صاحب کی محنت_شاقہ بھی شامل ہے۔

ڈاکٹر عرفان پاشا نے ایف_ایم ریڈیو پر بہ طور RJ (RADIO JOCKEY) بھی خدمات سر انجام دیں۔ یہ پاکستان کا واحد مکمل طور پر پنجابی زبان کا چینل ہے جس میں پاشا صاحب نے نو سال تک پروگرام کیا۔ یہ دو گھنٹے کا ہفتہ وار پروگرام ہوتا تھا۔ ریڈیو کا یہ تجربہ خاصا خوش گوار رہا لیکن بعد ازاں اس سلسلے کو بھی خیر باد کہہ دیا گیا۔

کے سیشن میں آئی_ای_آر جامعہ پنجاب سے ایم اے بھی کر لیا۔ ELTL 2017-2015میں خانہ فرہنگ ایران سے فن_مصوری اور اور اقبال اکادمی سےفارسی گفتاری کے کورسز بھی کر رکھے ہیں۔ پروفیسر محمد اکرم صاحب شالا مار کالج میں صدر شعبہ ء اردو رہے ہیں اور حال ہی میں ریٹائر ہوئے ہیں۔ وہ بصارت سے محروم ہیں اور انہوں نے نابینا طالب علموں کے لیے لٹریریا ڈاٹ کام کے نام سے ایک ویب سائٹ بھی بنا رکھی ہے جس میں مختلف متون کی ریکارڈنگ اپ لوڈ کی جاتی ہے۔ پاشا صاحب کا ریڈیو سے بھی تعلق رہا ہے اس لیے اکرم صاحب نے ان کی صوتی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے بہت سی کتب ریکارڈ کرا کر اپ لوڈ کر دیں۔ دنیا بھر میں بہت سے نابینا حضرات اردو کی ان کتب سے بھر پور استفادہ کرتے ہیں۔

پاشا صاحب کو اس کے اہل خانہ اور دوست احباب شادی کرنے کا کہتے تو وہ ٹال مٹول کر جاتا۔ کہاں یہ آزادیاں اور کہاں ازدواجی زندگی کی الجھنیں اور پابندیاں؟

آخر کار پاشا صاحب نے گھر والوں کی ضد اور مسلسل تقاضوں کے پیش نظر ہامی بھرلی۔ ماموں کی بیٹی کے ساتھ نسبت طے ہو گئی۔ شادی کارڈ بھی چھپ گئے تو کسی بد خواہ نے پاشا کے سسرالیوں کو جا کر کہہ دیا کہ پاشا تو پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کے دو بچے بھی ہیں۔ اس نے نا صرف شر انگیزی کی بلکہ پاشا کی ایک عدد “بیوی” اور دو بچوں سے ان لوگوں کی ملاقات بھی کرا دی۔ لو جی اب شادی کا معاملہ پھر کھٹائی میں پڑ گیا۔ بعد ازاں 16 ستمبر 2017 میں کہیں دوسری جگہ پاشا صاحب اپنی پہلی شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ ان کا سسرال لاہور میں ہیں۔ رفیقہ حیات نے نفسیات میں بی ایس کر رکھا ہے اور گھریلو امور کے علاوہ پاشا کی نگرانی پر بھی مامور ہیں۔

پاشا کی تخلیقات میں دو کتابیں اور دو بچے شامل ہیں۔ افسانوں کا مجموعہ ” لاگ لگاؤ” 2012ء میں شائع ہوا جس پر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، لیہ کیمپس سے ریحانہ رمضان نے پروفیسر مہر اختر وہاب کی زیر نگرانی ایم اے اردو کی سطح پر مقالہ بھی لکھا ہے۔ پاشا کے والد صاحب ان کی کتاب لاگ لگاؤ کی اشاعت پر بہت خوش ہوئے اور افسانوں کے اس مجموعے کا ذوق و شوق سے مطالعہ کرنے لگے۔ جوں جوں ورق گردانی کرتے گئے، توں توں ان کا پارا چڑھتا گیا اور آخر کار انہوں نے اس افسانوی مجموعے پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: “پتر! اے بے ہودہ افسانے لکھدے ہوۓ تینوں شرم وی نئ آئی”۔ ان کی دوسری کتاب تحقیق کے موضوع پر ہے جو دراصل ان کا ایم فل کا مقالہ تھا۔ “ادبی تاریخ کے مآخذات” کے عنوان سے یہ کتاب شائع ہوئی۔

ماہ نامہ “نمود_حرف” ڈاکٹر تبسم کاشمیری صاحب کی زیر سرپرستی شائع ہوتا ہے۔ اس کے مدیر عمران پاشا ہیں۔ مدیران اعزازی میں عرفان پاشا کا نام بھی لیا جاتا ہے۔ یہ ماہ نامہ، تین چار مہینے کے تعطل کے بعد باقاعدگی اور تواتر کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔ جب بھی پرانی تاریخوں کا تازہ شمارہ آتا ہے تو پاشا صاحب دوستوں کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اور قلمی تعاون کے ساتھ ساتھ مالی تعاون کی بھی فرمائش کرتے ہیں۔ دوست احباب بھی دامے، درمے، قدمے، سخنے ان کی معاونت کرتے رہتے ہیں۔ ایک دن مجذوب خیالی صاحب کہنے لگے: پاشا صاحب اپنے رسالے کی خوب صورتی کے ساتھ ساتھ اس کے معیار پر بھی بھر پور توجہ دیا کرو۔ اس میں شامل بعض تحقیقی مضامین غیر معیاری بھی ہوتے ہیں اور اگر ان میں سے حوالوں کے گچھے کو نکال دیا جائے تو کباڑیا مفت لینے سے بھی انکار کر دے۔

ڈاکٹر عرفان پاشا آج کل ایجوکیشن یونیورسٹی، فیصل آباد میں اردو کے لیکچرار ہیں۔ اب تک نو دس ایم فل کی سطح کے مقالہ جات کی نگرانی بھی فرما چکے ہیں۔

انہی تعلیمی اور ادبی فتوحات کے پیش نظر میں عرفان پاشا کو علم و عرفان پاشا کہتا ہوں۔ جب پروفیسر نعیم گھمن حاصل پور سے تبادلہ کرا کر گورنمنٹ شالا مار کالج لاہور آیا تو شعبہ ء اردو کے پروفیسر محمد اعظم صاحب ریٹائرمنٹ کے قریب تھے۔ انہوں نے نعیم گھمن کو نصیحت آمیز وصیت کی کہ عرفان پاشا سے بچ کر رہنا، تمہارے کھیلنے, کھانے کے دن ہیں اور یہ تمہیں پڑھنے لکھنے پر لگا دے گا۔ اوریہی ہوا کہ اب گھمن پی ایچ ڈی کی چکی پیس رہا ہے۔

عرفان پاشا نے بھی اپنے دوستوں کو فراموش نہیں کیا اور کبھی کبھار پرانی یادوں کو تازہ تر کرنے کے لیے شالا مار کالج آجاتا ہے۔ تین چار ماہ پہلے طوفانی دورہ کیا تو گرما گرم تازہ سموسے بھی لے آیا۔ دوستوں نے کہا کہ اس تکلف کی کیا ضرورت تھی؟ کہنے لگا کہ مجھے تم لوگوں سے مہمان نوازی کی کوئ امید نہیں ہے، اسی لیے تو تکلف کیا ہے۔ ڈاکٹر جعفر علی کہنے لگے کہ پاشا کل بھی خوب صورت تھا اور آج بھی خوب صورت ہے۔

عرفان پاشا کی دل آویز اور من موہنی شخصیت کو اگر ایک مصرعے میں سمو دیا جائے تو کہا جا سکتا ہے:

خوب صورت آدمی ہے اس سے ملنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پدر سری نظام : فیمنزم کا فرضی دشمن
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply