اوئی اللہ والی مستورات — تمدن کی بجھتی شمعوں کا ذکر — غزالہ خالد

0

اردو زبان کی خوبصورتی ہی یہ ہے کہ اس نے مختلف زبانوں کے الفاظ کو اپنے اندر اس طرح سمویا ہوا ہے کہ اس کے حسن میں چار چاند لگ گئے ہیں۔

اردو زبان کا دلچسپ حصہ اس کے محاورے ہیں ہر محاورے کا کوئی نہ کوئی تاریخی پس منظر ضرور ہوتا ہے اور یہ محاورے ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں بلکہ ان کی باقاعدہ کتب بھی ہیں جن میں ان محاوروں کو محفوظ کیا گیا ہے “فرہنگ آصفیہ” میں صرف آنکھوں پر تین سو چالیس محاورے ہیں۔ محاورے میں صورتحال کے تحت ایک مختصر جملے میں بہت کچھ کہہ دیا جاتا ہے اور سمجھنے والے بات کی گہرائی کو سمجھ بھی جاتے ہیں۔

مصنفہ

آجکل کیونکہ اردو زبان کا مستقبل انگریزی کی وجہ سے سخت خطرے میں ہے اس لئے جہاں اردو کے ضخیم الفاظ عام بول چال سے غائب ہورہے ہیں وہیں محاوروں کا استعمال بھی برائے نام رہ گیا ہے کیونکہ انگلش میڈیم بچوں کے سامنے اگر ہم
اپنا رکھ، پرایا چکھ
بدن پر نہ لتہ، پان کھائیں البتہ
یا “جہاں دیکھی تری، وہیں بچھائی دریقسم کے محاورے بولیں توان کو اسکا مطلب خاک بھی سمجھ میں نہیں آئے گا۔

محققین نے اردو زبان پر کافی تحقیق کی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں تحقیقی مقالات موجود ہیں محاورے تو خاصے فصیح و بلیغ قسم کی چیز ہیں ان پر بات کرنا مجھ جیسے کم علموں کے بس کی بات نہیں۔

میرا آج کا موضوع وہ مزیدار، چٹ پٹے اور منفرد الفاظ ہیں جو اردو بولنے والے گھرانوں کی بڑی بوڑھیاں اپنی گفتگو کے دوران استعمال کرتی تھیں اور یہ الفاظ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہتے تھے ان میں سے کچھ الفاظ تو ایسے بھی ہیں جو اردو لغت میں بھی نہیں ملیں گے آج بھی وہ معمر مستورات جو بفضل خدا حیات ہیں استعمال کرتی دکھائی دیتی ہیں لیکن یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ وہ آخری نسل ہے جو یہ مزیدار اور چٹ پٹے الفاظ بول رہی ہے کیونکہ ان کے بعد آنے والی نسل جس میں ہم بھی شامل ہیں ان الفاظ کو اپنی گفتگو میں شامل نہیں کریں گے اور لگتا یہی ہے کہ آہستہ آہستہ ان الفاظ کا وجود ختم ہوتا چلا جائے گا اور ایک دن ہم سب ان الفاظ کو بھول چکے ہونگے۔

یہ الفاظ ایسےعجیب لیکن بامعنی لگتے ہیں کہ جیسے دریا کو کوزے میں بند کردیا گیا ہو ان خواتین میں بناوٹ یا تکلف نہیں ہوتا تھا سادگی کے ساتھ ایک ادھ لفظ سے جملے کا کام لے لیتی تھیں سونے پر سہاگا کہنے والی کا لہجہ اور وہ تاثرات ہوتے تھے جو پوری کہانی اگلے بندے تک تفصیل کے ساتھ ایک لفظ میں پہنچ جاتی تھی مثلاً کسی کی شادی پر بتانا کہ ” نین مٹکا” ہوا تھا کافی تھا، کسی لڑکی کو “اچھال چھکا” کہا اور لوگ پوری تفصیل خود بخود سمجھ جاتے تھے، کسی کی بہو کو ” آفت کی پڑیا” کہنے کے بعد مزید تفصیل کی گنجائش ہی کہاں رہتی تھی۔

کالا منہ” کہنا کوسنے کے کام آتا تھا اور ” خدا کی مار ” بد دعا کا کام دیتی تھی اور ” کم بخت” تو تکیہ کلام ہوتا تھا کیونکہ اس کا استعمال سب سے زیادہ کیا جاتا تھا۔

اوئی اللہ” حیرت، شرم، ڈر، خوف سب موقعوں پر کام آجاتا تھا بلکہ کبھی کبھی تو جب حیرت، شرم، ڈر اور خوف کی صورتحال حد سے بڑھ جاتی تو ” اللہ” کہنے کا تکلف بھی نہیں کیا جاتا صرف زوردار “اوئی” سے کام نکال لیا جاتا ہمارے ننھیال میں جب کوئی تقریب ہوتی اور معمر خواتین جمع ہوتیں تو میرا ایک کزن مذاقا کہتا کہ ” آج تو بہت ساری “اوئیاں ” ایک ساتھ جمع ہیں” کیونکہ ہر تھوڑی دیر میں کسی نہ کسی طرف سے ایک زوردار” اوئی” سننے کو ملتی رہتی۔

اسی طرح ادھر جیٹھانی ” چھپن چھری”اور دیورانی “چپ سیاکہلائی اور ادھر لوگ سمجھ جاتے کہ کیا چل رہا ہے۔

ساس یا نند کو ” کٹنی” اور میاں کو ” جورو کا غلام” سنتے ہی لوگوں کو مزید کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں رہتی تھی اور سارے گھریلو حالات خود بخود عیاں ہو جاتے تھے۔

یہ الفاظ اپنے معانی کے اعتبار سے مکمل اور معنی خیز ہوتے تھے۔ ایک لفظ سے جملے کا نہیں بلکہ پوری کہانی کا کام لے لیا جاتا تھا ” آ ئے ہائے ” ایک مخصوص جھٹک کے ساتھ کہنا افسوس کا اور دوسری جھٹک کے ساتھ کہنا حیرت کا اظہار ہوتا تھا۔

جھاڑو پھرا ” کوئی ناپسندیدہ انسان بھی ہوسکتا تھا اور وہ بے جان شے بھی جو آپ کے اشاروں پر چلنے سے انکار کر دے۔

نگوڑے اور نگوڑی” بھی بہت استعمال ہوتا تھا جس کا مطلب شاید فالتو، بےکار یا کبھی کبھی بیچارہ بھی ہوتا تھا۔

رشتے طے کرتے ہوئے جب دو خاندان ایک دوسرے کےبارے میں معلومات کرواتے ہیں اس وقت بھی خاندانوں کی پوری تفصیل ایک ادھ لفظ میں چہرے اور ہاتھوں کے اشاروں سے ایسی دے دیجاتی تھی کہ پھر کچھ اور پوچھنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہتی تھی مثلاً اگر پوچھا جاتا کہ فلاں خاندان کیسا ہے؟ تو جواب ملتا ” کھاؤ چاٹو” لوگ ہیں اور کھاؤ چاٹو کہتے وقت زبان سے ہتھیلی چاٹنے کا اشارہ ضرور کیا جاتا اسی طرح جب کسی خاندان کے لئے کہا جاتا کہ ایسے ہی ہیں ” ڈنڈیلی” تو ڈنڈا گھمانے کا اشارہ بھی ساتھ ہی ہوتا بس اب سمجھنے والے سمجھ جاتے کہ کھاؤ چاٹو غیر ذمےدار اور مفت خورے قسم کے لوگ ہیں اور” ڈنڈیلی “ہر وقت لڑنے بھڑنے اور مار کٹائی کو تیار بیٹھے ہیں۔اس طرح کم از کم الفاظ میں پورے خاندان کی معلومات مل جاتی اور کافی آسانی ہوجاتی۔

بیٹے، بھائی اور خصوصاً میاں کے ناپسندیدہ دوست ” لٹھومڑے” کہلاتے، ویسے دیکھا جائے تو میاں کے ناپسندیدہ دوستوں کے لئے اس سے بہتر نام کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔

تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں آنے والے لوگ کیونکہ مختلف علاقوں سے آکر یہاں آباد ہوئے اس لئے ہر خاندان کے بول چال کے الفاظ دوسرے علاقے سے آنے والے خاندان سے کچھ الگ بھی ہوتے تھے میری شادی کے بعد اپنے سسرال کے کچھ مستوراتی الفاظ مجھے بہت دلچسپ لگے پہلے پہل تو ان کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا تھا لیکن پھر متواتر مشاہدے سے معانی و مطلب بھی خوب آگئے ان الفاظ میں سب سے مزے کا لفظ ” منڈی کٹا” لگتا جو عام طور پر بے ایمان، چالاک، تاڑو اور ٹھرکی مردوں کو کہا جاتا لیکن کبھی غصے میں بے جان چیزوں کو بھی کہہ دیا جاتا، دوسرا لفظ ” قافل غارت” تھا جو زہر کی پڑیا، چھپن چھری ٹائپ یا نہایت تیز طرار خواتین کے لئے استعمال ہوتا میرا خیال ہے کہ یہ لفظ اصل میں ” قابل غارت” ہوگا جو کثرت استعمال سے قافل غارت میں تبدیل ہوگیا تھا۔ ایک اور دلچسپ لفظ ” غضب کا گولہ ” بھی سننے کو ملا ویسے تو گولہ مذکر ہوتا ہے اور ” غضب کا گولہ” لقب بھی یقینا مذکر کو دیا جا سکتا تھا لیکن کیا کریں کہ آج تک جتنے بھی غضب کے گولے” دیکھے مؤنث ہی دیکھے شاید اس کی وجہ ان کے اپنے افعال ہونگے۔

اسی طرح جلن، کڑھن تو سنا ہی تھا ” تڑ پن” پہلی بار سنا اور مان لیا کہ حاسدوں کو جلن کڑھن نہیں واقعی ” تڑپن” ہی ہوتی ہے اور جلنے کڑھنے والوں کے لئے اس سے بہتر لفظ ایجاد نہ ہوا ہوگا۔

ان الفاظ کی بے ساختگی اور بے تکلفی واقعی انمول ہے، سادہ سی بات میں گہرے معنی خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں اب تو انگریزی کے “او شٹ” قسم کے عامیانہ الفاظ عام بول چال کا حصہ بنتے جا رہے ہیں اور ہم کچھ نہیں کر سکتے بلکہ افسوس تو یہ ہے کہ با تکلف مہمانوں کی آمد پر ہم اپنی بزرگ مستورات کو بھی آرڈر دے دیتے ہیں کہ مہمانوں کے سامنے زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں اپنے چٹکلے، ٹونے ٹوٹکے اور پرانے واقعات اپنے پاس رکھیں۔

مجھے خوشی ہوگی اگر آپ لوگ بھی اپنے بزرگوں کے بے ساختہ بولنے والے مزیدار اور چٹ پٹے الفاظ کامنٹ میں بتائیں گے۔

ہمارے بزرگ ہمارا سرمایہ اور ہوا کے رخ پر رکھے چراغ ہیں کون جانے کب بجھ جائیں پھر ہم یاد کرینگے کہ اس با تکلف، با ادب، با ملاحظہ، نگاہ رو برو والی فضا میں کوئی تو ایسا ہو جو اپنی سادہ معصوم اور بے ساختہ گفتگو سے ماحول کو یکدم بدل کر رکھ دے۔ اللہ میرے والدین اور میرے قارئین کے بزرگوں کا سایہ تا دیر سلامت رکھے آمین۔

آخر میں یہی کہوں گی کہ
جام کی طرح سنبھالو ان کو
پھول کی طرح سجالو ان کو
یہ تمدن کی ہیں بجھتی شمعیں
اپنی راہوں میں جلا لو ان کو

یہ بھی پڑھیں: پدر سری نظام : فیمنزم کا فرضی دشمن
(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply