حفظِ ماتبسم ——- وحید الرحمن خان

0

جانِ عزیز! واقعہ نرم ہے۔ کہانی دل چسپ ہے۔ داستان پُرلطف ہے۔ حکایت لذیذ ہے۔ قصہ کوتاہ، ایک دفعہ کا ذکر ہے۔

احباب ہر ماہ کسی شام جمع ہوتے ہیں۔ تھوڑی سی دل لگی اور دماغ سوزی کرتے ہیں، تھوڑی سی شکم مستی اور چہل قدمی کرتے ہیں اور آخر میں بہت ساری تصویری سازی۔ موبائل کیمرے کا نام میں نے ”آلہئ تصویر“ رکھا ہوا ہے۔ تصویر سازی زابر سعید، محمد عاصم اور غفور احمد کرتے ہیں۔ ہدایت کاری کا فریضہ میں انجام دیتا ہوں اور احباب سے گزارش کرتاہوں: تین تین کے Couple بنا لیں۔

ترکِ شیرازی درمش بلگر کے ساتھ تصویر کھنچوانا خوشی کی بات سہی مگر ”اجتماعِ ضدین“ کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ خیر، اب وہ ’کانِ حسن‘ میں واپس جا چکے ہیں اور ان کی حسین یاد سے ہمارے دل آباد رہتے ہیں۔

عام طور پر تقریب کی نوعیت  غیر رسمی ہوتی ہے،مگر ایک بار اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز۔ طے پایا کہ سرگشتہئ خمارِ رسوم و قیود ہونے میں کوئی حرج نہیں، اپریل کا مہینہ ہے، رسمِ دنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے، چناں چہ مصورِ اقبال، اسلم کمال سے گزارش کی گئی کہ مانا کہ آپ نے مہ رخوں کے واسطے مصوری سیکھی ہے لیکن کچھ حق نیازمندوں کا بھی بنتا ہے، صلہ رحمی فرمایئے اور ”تصاویرِ مصور، بزبانِ مصور“ کا مضمون باندھیے، کچھ تو کہیے کہ لوگ کہتے ہیں۔

یہ درخواست کچھ اس رقت سے کی گئی کہ اسلم کمال نے دل میں سوچا کہ درخواست گزار اگرچہ مصوری کے فن سے نابلد ہے، کور ذوق ہے لیکن اس کا جذبہ صادق ہے اور ’جذبہ صادق‘ ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں ___ وہ تقریب میں شرکت پر آمادہ ہو گئے۔

وہ اپنے ساتھ ایک کیلنڈر لائے تھے جسے ”اوراقِ مصور“ کہنا چاہیے۔ یہ بارہ اوراق پر مشتمل تھا اور ہر ورق پر، ہر مہینے کی مناسبت سے اقبال کے ایک شعر کو تصویر کے پردے میں بیان کیا گیا تھا۔ اقبال کی شاعری ہو، اسلم کمال کی مصوری ہو اور پھر بیان بھی ان کا اپنا ہی ہو تو لطف سہ بالا ہو جاتا ہے۔ انہوں نے ’ماہ بہ ماہ،شعر بہ شعر، ورق بہ ورق‘ اظہارِ خیال کیا۔ (ارے، مجھ میں تو قرۃ العین طاہرہ کی روح حلول کر گئی ہے)

تقریب کے ایک مہمانِ خاص ممتاز محقق اکرام چغتائی صاحب تھے جنہیں دیکھ کر اقبال کا ایک مصرع قدرے تصرف کے ساتھ یاد آتا ہے:
”وجودِ آدم خاکی“ سے انجم سہمے جاتے ہیں

اُدھر آسمان پر انجم سہمے جاتے تھے اور اِدھر زمین پر اسلم کمال ”ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں“ کی مصورانہ تفسیر بیان کرتے ہوئے خود بھی ستاروں سے آگے نکل گئے تھے۔ کچھ دیر تو اکرام چغتائی ”ہمہ تن گوشت“ ہو کر ’کلامِ مصور‘ سنتے رہے، پھر وہ ایک آدھ جماہی لیتے ہیں، ایک دوبار پہلو بدلتے ہیں اور آخر جب ان کا دل درد سے بھر آیا تو مصور سے دریافت کیا:
”کون سا مہینہ چل رہا ہے۔؟“
اس نالے کا جواب آتا ہے:
”آپ نواں ہی سمجھیں۔“
جواب اتنا برجستہ تھا کہ آسمان پر سہمے ہوئے انجم بھی مسکرانے لگتے ہیں۔ زمین پر اس وقت جو ستارے خنداں تھے ان میں قائم جعفری، نجیب جمال، شفاعت یار خان، محمد عالم خان، خالد ہمایوں، کاشف منظور، آصف انصاری اور اعجاز الحق شامل تھے۔

(Visited 1 times, 3 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply